Atish Ishq Mein Sulaghte Rafta Rafta By Rj Readelle50178 Last updated: 22 August 2025
Rate this Novel
Atish Ishq Mein Sulaghte Rafta Rafta
By Rj
”میں رمیض عالم درانی۔۔۔اپنے پورے ہوش و حواس میں تمھیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔“ درشتگی سے بولتا وہ اگلے ہی پل طلاق کے سائن شدہ پیپرز اسکے منہ پر اچھال چکا تھا۔ ہلکے نارنجی رنگ آسمان کی بلندیوں کو چھوتا پی۔آئی۔اے کا جہاز۔۔۔جہاں اپنی رواں رفتار کے ساتھ راہ میں حائل ہوتے بادلوں کو اندھا دھند چیڑتا چلا جارہا تھا۔۔۔وہیں گزشتہ رات کا منظرتیزی سے ذہن کے سیاہ پردے پر لہراتا اسے سختی سے مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگیا۔ ”ت۔۔تم۔۔۔؟؟؟“ جواباً وہ ساکت نگاہوں سے اسکا ضبط سے لال چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔ فقط چند پل لگے تھے اسکی حیرت میں خوشگواریت کو گھلنے میں۔ ”تم سچ بول رہے ہو ناں رومی۔۔۔؟؟؟و۔۔ویٹ آ سیکنڈ ہاں۔۔۔اوہ۔۔اوہ مائے گاڈ۔۔۔۔“ فٹافٹ سے پیپرز کو جھک کر اٹھاتی وہ اپنی تسلی ہونے پر شدت سے کھلکھلائی۔ چوبیس سو گھنٹے اسکی محبت میں دم بھرنے والا وہ شخص یوں ایک جھٹکے میں اسکی بے جا من مانیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دے گا۔۔یہ تو اس نے اپنے وہم و گمان میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ جبکہ۔۔۔اسکے خوبصورت چہرے پر بکھری مسکراہٹیں مقابل کو سخت ترین اذیت سے دوچارکرتی چلی گئیں۔ بند آنکھوں کو مزید میچتے ہوئے جہاں اسنے اپنا سر پیچھے سیٹ پر ہولے سے پٹخا تھا۔۔وہیں یادوں کے بھنور میں ہنوز ڈانواں ڈول ہوتے ہوئے اس کا دل نئےسرے سے جلنے لگا۔ ”یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں تمھاری محبت میں شدت سے پاگل تھا پھر بھی۔۔۔پھربھی تم نے ایک غیرمرد کی خاطر اپنے شوہر سے بےوفائی کی۔۔۔اپنی خودغرضی تلے ہمارے مضبوط رشتے کو پوری طرح سے بکھیر کے رکھ دیا تم نے روز۔۔۔۔کس لیے۔۔؟؟صرف اسی لیے ناں کہ وہ مجھ سے ذیادہ دولتمند تھا۔۔۔۔؟؟؟“ یک دم سے اسکے قریب آتا وہ سرد لہجے میں پھنکارا۔۔۔۔ سرسراتا انداز صاف شکایت کرتا ہوا ہی تو تھا۔ پیپرز سے نگاہیں اٹھا کر اسکی لہورنگ آنکھوں میں جھانکتی روزینہ کی ریڑھ کی ہڈی میں بےاختیار سرد سنساہٹ سی دوڑگئی۔ ”مت بھولو رومی کہ یہ میری زندگی ہے اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی خاصی قابلیت ہے مجھ میں۔۔۔یہ تمھارا پاکستان نہیں ہے جہاں مرد عورتوں پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرکے انکا جینا حرام کرتے پھریں گے۔۔۔یہ امریکہ ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔یہاں عورتوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔۔۔اور میں یہ حق ضائع کرنے کی بجائے اچھے سے استعمال میں لانا چاہتی ہوں۔۔۔سنا تم نے۔۔۔؟؟؟“ سنبھل کر اس بار خالصتاً انگریزی میں بولتی وہ حددرجہ تلخ ہوئی۔۔۔۔تو اسکی اس قدر سنگدلی پر اب کہ اسکا خود کا ضبط بھی ٹوٹنے لگا۔ معاً پشت پر ٹکے ہاتھوں میں سے ایک کو۔۔۔قدرے پھرتی سے اسکی نازک کمر کے گرد کستا وہ اگلے ہی پل اسے شدت سے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔ جھٹکے سے اسکے مضبوط سینے سے لگتی روزینہ کی دھڑکنیں اسکے سخت لمس پر بےہنگم ہوئیں۔ وجود میں دھنستی انگلیوں پر بھی اس نے خود کو چھڑوانے کی رتی بھر کوشش نہیں کی تھی۔ اس دوران طلاق کے پیپرز ہنوز اسکی گرفت میں تھے۔ ”میں تمھیں وفا کی دیوی سمجھتا رہا روز لیکن صد افسوس تم تو دولت کی خالص پجارن نکلی۔۔۔ایسی پجارن جو معصوم جانوں کو نوچ کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔۔۔۔“ دھیمی سلگتی آواز اس
کی سماعتوں میں گھولتا وہ اب کہ دوسرا بازو بھی اسکے گرد مضبوطی سے حمائل کرگیا
