No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
آج خلافِ معمول،،،سرمئی رنگ بادلوں نے وسیع آسمان کی شفاف شام کو گہرے اندھیروں میں سمو لیا تھا۔۔۔اس دوران تندہی سے چلتی ہوائیں کسی بھی وقت بارش کے قطروں میں بھیگنے کو بےتاب تھیں۔
معاً وہ اپنے کسرتی وجود میں طیش کی آگ سمیٹے ہوئے۔۔۔دبے قدموں گھر کے اندر داخل ہوا۔۔۔۔
اپنے پیچھے اچھے سے دروازہ لاک کرتے ہوئے۔۔۔اُس کا تڑپتا دل ضبط کی ساری حدیں توڑنے کو بار بار اکسا رہا تھا۔۔۔۔
”آپ جیسے غیرت مند مرد کے لیے حیا وقاص جیسی بدکردار عورت بالکل بھی سوٹ ایبل نہیں ہے بھائی۔۔۔میں تو حسنہ وقاص کو طلاق کی صورت اُس کے کیے کی سزا دے چکا۔۔۔اب آپ کی باری ہے۔۔۔میرامخلص مشورہ مانیے اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے اپنی عزت۔۔اپنی مردانگی کو مزید داغدار ہونے سے بچالیجیے۔۔۔آپ سےقطعی مخلص نہیں ہے وہ انفیکٹ آپ کی شفاف محبتوں کو ڈیزرو کرنے کے قابل ہی نہیں ہے وہ بھائی۔۔۔۔“ سماعتوں میں شدت سے اترتا زہر رمیض عالم درانی کی ابھری رگوں میں دوڑتا ہوا فشار خون بڑھا گیا تھا۔۔۔
کاش۔۔۔کاش کہ زیدان عالم درانی اُسے پِک کرنے کی غرض سے کبھی ائیرپورٹ نہ آیا ہوتا۔۔۔
یوں تلخ حقیقتوں کا بدترین انکشاف اُس پر نہ کیا ہوتا۔۔۔
اُس کا اطمینان۔۔اُس کی مسکراہٹ۔۔اُس کا سکون تباہ نہ کیا ہوتا۔۔۔۔
اے کاششش۔۔۔!!!!
تپا سینہ مسلتے ہوئے اُس نے بےاختیار اپنی سرخ آنکھیں جھپکائیں۔
”حسنہ وقاص لاکھ مکار۔۔لاکھ جھوٹی سہی۔۔۔مگر جاتے جاتے ایک بات تو وہ سچ کہہ گئی ہے بھائی۔۔۔آپ کی بیوی آج بھی اپنی پہلی محبت میں خود کا سکون تلاشتی ہے۔۔۔میرے اتنے گریز کے باوجود بھی وہ آپ کی موجودگی میں مجھے حاصل کرنے کے لیے پاگل ہے۔۔۔یہ۔۔۔یہ میرے نام پر لکھی گئی عشقیہ غزلیں اُس کا جنون واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔۔۔۔۔“ اتنا پُر یقین لہجہ۔۔۔اتنی قابلِ دید جرات۔۔۔۔
معاً بجلی کی بھڑکتی گونج نے ٹھنڈی بارش کے موٹے موٹے قطروں کو شدت سے برسایا تھا۔۔۔۔مگر جانیلوا سوچوں کی زد میں آتا وہ تو مزید جل اٹھا تھا۔۔۔۔
”اپنی غلیظ زبان کو لگام دوں زیدان عالم درانی۔۔۔اگر تم میرے بھائی نہ ہوتے تو خدا قسم اِتنی بڑی جرات پر اب تک میں تمھارا منہ توڑ چکا ہوتا۔۔۔میں جانتا ہوں۔۔میرا دل جانتا ہے کہ میری بیوی بے وفا نہیں ہے۔۔۔اور میرے لیے محض میرا یقین ہی کافی ہے۔۔۔۔“ اُن عشقیہ شعر و شاعری سے بھرے صفحات کو دیکھے بنا ہی۔۔اُن پر لعنت بھیجتا ہوا وہ کیسے غضب ناک ہوکر مقابل کا گریبان دبوچ گیا تھا ناں۔۔۔۔
مگر پھر پھی۔۔۔پھر بھی زیدان عالم درانی کا اطمینان ہنوز تھا۔۔۔
دل ڈوباتی آنکھوں کی وہ فتح یاب سی چمک ہنوز تھی۔۔۔
اگلے ہی پل رئیل پریگنینسی رپوٹ جلتی نگاہوں کے سامنے لاتے ہوئے،،،رمیض عالم درانی کو اپنے بھائی کے سفاکی سے ہلتے لب یاد آئے تھے۔
”حیا وقاص آپ کے ہونے والے بچے کی قاتلہ بھی رہ چکی ہے بھائی۔۔۔اِس سے ذیادہ بےوفائی کی انتہا اور کیا ہوگی بھلا۔۔۔۔؟؟؟لیکن اگر پھر بھی یقین نہیں آتا تو جاکر بذاتِ خود اپنی بیوی سے پوچھ لیجیے۔۔۔خدا قسم انکار نہیں کرے گی وہ۔۔۔نہ اِس سچ سے کہ وہ آپکے بچے کی ماں بننے والی تھی۔۔۔اور نہ ہی اِس سچ سے کہ اب آپ کا بچہ مر چکا ہے۔۔۔۔“ ناقابلِ برداشت لفظوں کا بھاری طمانچہ ہی تو رکھ کر مارا تھا اُس نے منہ پر۔۔۔۔کہ جلن رمیض عالم درانی کے انگ انگ تک اتر چکی تھی۔
یہ انکشاف دردناک تھا۔۔۔۔
حقیقتاً اذیت ناک تھا۔۔۔۔
پختہ یقین کی دھچیاں بکھرنے کو کافی۔۔۔۔
خاموشیوں میں ڈوبے لاؤنج کے بیچ و بیچ رکتے ہوئے رمیض عالم درانی نے بےاختیار ایک ہاتھ میں تھاما ہوا ”شیف آف دی ائیر“ ایوارڈ پوری قوت سے کھینچ کر سامنے دیوار پر لگی ایل۔ای۔ڈی میں دے مارا۔۔۔تو اِس دل دہلاتے شور پر کچی نیند سے جاگتی حیا قدرے گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
پھرلرزتے ہاتھوں سے سائیڈ ٹیبل پر پڑے واز کو اٹھاتی ہوئی ڈوبتے دل کے سنگ اپنے کمرے سے باہر کی جانب لپکی۔
بجلی کی پُرشور کڑک سے تو وہ پہلے ہی تنہائی میں قدرے خائف سی تھی۔۔۔۔
تو کیا زیدان عالم درانی ایک بار پھر سے گھر میں زبردستی گھس آیا تھا۔۔۔۔؟؟؟؟
معاً زوروں سے کڑکتی ہوئی بجلی کی گہری گونج کے سنگ۔۔۔دونوں کی ہی سرخ نم۔۔آنکھیں ایک دوسرے کو ٹھٹھک کر دیکھتے ہوئے ساکت ہوئیں۔
اِس دوران جہاں ایک کا دل آنے والی آفت سے قدرے انجان،،،تیزی سے دھڑک اٹھا تھا۔۔۔وہیں دوسرے کی بھاری دھڑکنوں میں شدت سے گہری کڑواہٹ گھلتی چلی گئی۔
”رمیض۔۔۔۔!!!“ پنکھڑی لبوں کو جنبش دیتی حیا اگلے ہی پل واز پرے پھینکتی ہوئی بھاگ کر اس کے چوڑے سینے سے آ لگی تھی۔۔۔
زیدان کی جگہ اُسے دیکھ کر ایک فطری سا سکون ہی تو پھیلا تھا اُس کے نازک لرزتے وجود میں۔۔۔۔
اس احساس سے قدرے لاپرواہ کہ مقابل اُسے گرمجوشی سے حصار میں لینے کی بجائے اپنے ہاتھ پشت پر باندھے ہنوز ساکت کھڑا تھا۔۔۔
”کہاں چلے گئے تھے آپ مجھے تنہا چھوڑ کر۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟کتنی بےسکون تھی میں آپ کے بغیر۔۔۔کتنی۔۔کتنی کمزور۔۔۔کتنا ڈرگئی تھی میں۔۔۔میری خاطر فوری واپس کیوں نہیں لوٹ آئے آپ۔۔؟؟؟کیوں۔۔۔۔؟؟؟“ بھیگے شکوؤں کا آغاز کرتی ہوئی وہ اُس کی گرے شرٹ مٹھیوں میں دبوچے بھگوتی چلی جارہی تھی۔۔۔
جبکہ اس قدر اداکاری پر سختی سے مٹھیاں کستے ہوئے رمیض کا ضبط پل پل جواب دینے لگا۔۔۔۔
”جواب دیجیے ناں اب خاموش کیوں ہیں۔۔۔۔؟؟؟بتائیے مجھے۔۔۔؟؟؟آپکے ایک ایک پل کا حساب چاہیے مجھے رمیض عالم درانی۔۔۔کہاں گزرے۔۔۔؟؟کیسے گزرے۔۔۔؟؟؟کس کے ساتھ گزرے۔۔۔؟؟؟“ معاً تندہی سے سر اٹھا کر اُس کے سختی سے بھینچے لبوں کو دیکھتی ہوئی وہ دبا دبا سا چیخی۔۔۔۔تو شدت سے خراب ہوچکے دماغ کے سنگ رمیض عالم درانی کی ناگوار تیوریاں گہری ہوتی چلی گئیں۔
یہ بھیگا ہوا معصوم سا چہرہ کیا اُس کے بچے کو مارتے ہوئے بھی ایسے ہی اذیت سے پُر تھا۔۔۔۔؟؟؟
یا پھر روزینہ کی مانند ہنستا مسکراتا ہوا شاطرترین۔۔۔۔؟؟؟
باہر برستی بارش تیز ہوچکی تھی۔۔۔۔
”کیا ہوا۔۔۔؟؟آپ۔۔۔آپ ایسے عجیب طریقے سے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے۔۔۔؟؟؟“ معاً اُسے کی نم انگارہ نگاہوں میں چونک کر دیکھتے ہوئے حیا کو وحشت سی محسوس ہوئی۔۔۔جو اب اُس کے اندر ابلتے طوفان کی صاف عکاسی کرنے لگی تھیں۔۔۔
”دیکھ رہا ہوں کہ آخر ایسا بھی کیا ہے تم میں جو میں تم سے اندھی محبت کرنے پر مجبور ہوچکا تھا۔۔۔۔اِس قدر اندھی محبت کہ باشعور ہونے کے باوجود بھی تمھاری سیاہ حقیقت کو اپنی کھلی نگاہوں سے پرکھنے کے قابل ہی نہیں رہ سکا۔۔۔۔۔۔“ اُسکا نازک لرزتا وجود سر تا پیر حقارت سے دیکھتےہوئے رمیض عالم درانی کا مدھم سلگتا لہجہ اپنے اندر ضبط کے ساتھ ساتھ پچھتاوے بھی سمیٹے ہوئے تھا۔
نتیجتاً ایک قدم پیچھے ہوتی وہ بھنویں سکیڑے قدرے ناسمجھی سے اُسے دیکھنے لگی۔
توقع کے برعکس وہ بولا بھی تھا تو کیا۔۔۔۔؟؟؟
”ی۔۔یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔کیسی سیاہ حقیقت۔۔۔۔؟؟؟“ اپنے سارے شکوے فی الوقت پسِ پشت ڈال کر نم پلکیں جھپکاتی ہوئی وہ قدرے بےچینی سے پوچھ رہی تھی۔
”میرا ہونے والا بچہ کیسا ہے حیا وقاص۔۔۔؟؟؟تم نے تو مجھے یہ گڈ نیوز بتائی ہی نہیں کہ تم ماں۔۔۔ہونہہ۔۔۔اور میں باپ بننے والا ہوں۔۔۔!!!“ بڑی مشکلوں سے طنزیہ لہجے میں پوچھتے ہوئے جہاں وہ ہاتھ میں دبوچی پریگنینسی رپوٹ فائل پل میں اُس کے سامنے پیش کرگیا تھا۔۔۔
وہیں حیرت سے اپنی اجڑی کوکھ کو چھوتے ہوئے حیا کی رنگت شدت سے متغیر ہوئی۔
کار ایکسیڈنٹ کے سبب ہونے والے مِس کیرج کا درد ایک بار پھرسے اُسے اپنے پورے وجود میں پھیل کر سمٹتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
جبکہ اُس کے تاثرات سمیت،،،کوکھ پر رکھے جانے والے کپکپاتے ہاتھ کو دیکھ رمیض عالم درانی نے قدرے اذیت سے جلتی آنکھیں پل بھر کو میچ کر کھولیں۔۔۔
”یا پھر بننے والا تھا۔۔۔؟؟مگر تمھاری بےحیائی اور بےوفائی نے اُس ننھی سی جان کو اِس دنیا میں آنے سے پہلے ہی ابارشن کے تھرو مار گرایا۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟؟“ گالوں پر پھسلتےآنسوؤں پر ضبط کا گہرا سانس لیتی وہ سنگین حادثے کی بابت بتانے ہی والی تھی۔۔۔جب اچانک رپوٹ فائل منہ پر مارتا ہوا وہ درشتگی سے اُس کے بھیگے گال دبوچ گیا۔
حیا نے پھٹی پھٹی دھندلائی آنکھوں میں بےیقینی بھرکر مقابل کا سخت چہرہ دیکھا۔۔۔جو اِس پل اشتعال کی بھٹی میں تمتما رہا تھا۔باہر بجلی پھر سے کڑکی تھی۔
”ر۔۔رمیض۔۔۔یہ کک۔۔کیسی گھٹیا بات کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟پلیز ہوش کریں۔۔۔بھلا میں اپنی ہی کوکھ کیوں اجاڑوں گی۔۔۔؟؟“ بند ہوتے دل کے ساتھ دبا دبا سا چیختے ہوئے اُس نے بےاختیار مقابل کی سفاک گرفت سے رہائی چاہی تھی۔۔۔جو اب بڑی ہی بےرحمی سے اُس کی نازک کمر کو بھی جکڑ چکا تھا۔
”ششششش۔۔۔اِدھر اُدھر کی فضول بکواس نہیں۔۔۔مجھے بس ایک آخری بار تمھارے منہ سے تمھاری غلیظ ترین اصلیت سننی ہے بیوی۔۔۔فقط ایک آخری بار۔۔۔“ اُس کے سسکتے ہوئے پنکھڑی لبوں کو انگوٹھے تلے سختی سے مسلتا ہوا وہ گہری بدگمانیوں میں شدت سے بپھر رہا تھا۔
بڑھتی اذیت پر سہم چکی حیا کا دم گھٹنے لگا۔
مقابل کی غیرمتوقع ستم ظریفی پر آنسو بھل بھل بہہ رہے تھے۔
”ڈیڑھ ہفتہ۔۔۔محض ڈیڑھ ہفتے کے لیے ہی گیا تھا ناں میں کوکنگ کاپیٹیشن کی غرض سے ترکی۔۔ہہمم۔۔۔!!!تو پھر بتاؤ۔۔۔بتاؤ کہ۔۔۔میرے پیچھے تمھیں میرے چھوٹے بھائی میں آخر ایسا کیا نظر آگیا۔۔۔؟؟پرانی محبت کی ایسی کونسی چنگاری نے تمھارے پورے بدن میں آگ لگا دی کہ میری اولاد کو اپنے وجود میں رکھنا بھی تم سے گوارا نہیں ہوا۔۔۔؟؟؟“ اُس کے سرخ چہرے پر زہر اگلتے ہوئے جہاں رمیض عالم درانی کی سفاک آواز بلند سے بلند ترین ہوئی تھی۔۔۔۔وہیں اِس بدترین تہمت پر سائیں سائیں کرتے دماغ کے ساتھ بےاختیار حیا وقاص کا لرزتا ہاتھ اٹھا۔۔اور مقابل کے رخسار کو پوری شدت سے تپا کر رکھ گیا۔
”تڑااااااخ۔۔۔۔۔!!!!“ تھپڑ کی گونج سے کہیں ذیادہ زوروں سے کڑکتی ہوئی بجلی کی وحشت تھی۔
اُس کی غیرمتوقع جرات پر حیرت تلے رمیض کی گرفت بےاختیار ڈھیلی ہوئی۔۔ تو اُسے تنفر سے پرے جھٹکتی ہوئی وہ خود کتنے ہی قدم پیچھے ہٹی۔۔۔۔پھر لرزتی ہوئی شہادت کی انگلی تندہی سے اُس کی جانب اٹھائی۔
”میں سوچتی تھی کہ ساری دنیا کی کڑواہٹیں،،،الزام تراشیاں،،،منفی رویے ایک طرف۔۔۔۔اور آپ کا اعتبار ایک طرف۔۔۔کوئی مجھ پر یقین کرے نہ کرے۔۔۔مگر آپ۔۔آخری حد تک اعتبار کرکے میری ذات کو معتبر کرتے رہیں گے۔۔۔لیکن افسوس رمیض عالم درانی۔۔۔صد افسوس کہ آج آپ نے مجھے غلط ثابت کردیا۔۔۔ارے مجھے تو میری ہی نظروں سے نیچے گرادیا۔۔۔اس قدر گھٹیا۔۔۔اس قدر غلیظ سوچ رکھتے ہیں آپ میرے بارے میں؟؟شرم سے ڈوب مرئیے۔۔۔۔۔“ بھیگتے ہوئے لہجے میں شدتوں سے غراتی ہوئی وہ ٹوٹ رہی تھی۔۔۔بکھر رہی تھی۔۔۔۔
مگر خونی نگاہوں سے شفاف فرش کو مٹھیاں بھینچ کر گھورتا ہوا وہ رتی بھر بھی شرمندہ نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
اور ہوتا بھی کیونکر۔۔۔۔؟؟؟
بدگمانیوں کی انتہا کو چھوتا سفاک ہی تو ہوچکا تھا وہ اس سمے۔۔۔۔!!!
معاً رمیض نے نگاہیں اٹھا کر خطرناک تیوروں سے حیا کو دیکھا۔۔۔
”چلو آج میں تمھیں اپنی زندگی کے کچھ انٹرسٹنگ فیکٹس بتاتا ہوں۔۔۔۔۔“ بالوں میں ہاتھ چلا کر بڑے ضبط سے بولتا ہوا وہ قدم قدم اُسکی جانب بڑھنے لگا تھا۔۔۔
جواباً وحشتوں سے اُس کی جانب تکتی حیا کی سانسیں اُسی کے انداز میں پیچھے ہٹتے ہوئے خشک سی پڑنے لگیں۔۔۔
وہ بگڑ چکا تھا۔۔۔۔
”میں نے اپنی پہلی بیوی سے بےپناہ محبت کی مگر بدلے میں وہ مجھ سے بےوفائی کرگئی۔۔۔دوسری بیوی زندگی میں آئی تو اُسے عشق کی آخری حدوں تک چاہا۔۔۔مگر افسوس کہ وہ اُس سے بھی بڑھ کر بےوفا نکلی۔۔۔“ تمسخر زدہ لہجے میں ہنس کر بتاتا وہ اندر ہی اندر پاگل ہورہا تھا۔
”میں بےوفا نہیں ہوں۔۔۔۔“ جواباً نفی میں سر جھٹکتی وہ ہلکان ہوتی چیخی تھی۔۔۔
”میری پہلی بیوی نے میری پیٹھ پیچھے ایک غیرمرد سے ناجائز تعلقات بنائے۔۔۔ پھر انہی گھٹیا تعلقات کی آڑ میں میرا ہونے والا بچہ مار گرایا۔۔۔“ مسلسل اُس کی جانب بڑھتا ہوا وہ اب بھی اندر کا زہر اگلنے سے باز نہیں آرہا تھا۔۔۔جب اِس گہرے انکشاف پر چونکتی حیا بےدھیانی میں اگلے ہی پل پیر مُڑنے پر جھٹکے سے زمین بوس ہوئی۔۔۔
”میری دوسری بیوی نے بھی میری پیٹھ پیچھے میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ عشق لڑایا۔۔۔اور پھر اُسی ناحق عشق کی آڑ میں کوکھ میں پلنے والے میرے ۔۔۔میرے بےگناہ بچے کا بےدردی سے قتل کردیا۔۔۔آااہ۔۔۔۔“ چبا چبا کر بتاتے ہوئے جہاں بھیگا سیال رمیض عالم درانی کے تپے رخساروں پر لڑھکا تھا۔۔۔وہیں ہتھیلیوں کے بل پیچھے کو کھسکتی ہوئی حیا کمرے کی دیوار سے جالگی۔۔۔۔
”خدا کے لیے چپ ہوجائیں۔۔۔چپ ہوجائیں اب۔۔قتل نہیں تھا وہ۔۔۔انجانے میں ہونے والا ایکسیڈنٹ تھا میرا۔۔۔۔ابارشن نہیں تھا،،،مِس کیرج ہوا تھا میرا۔۔۔۔۔۔۔۔“ اِس ناقابل برداشت تہمت پر گہری سانسوں میں سماعتوں کو مسلتی ہوئی وہ تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔۔۔۔
”تہمت نہیں حقیقت ہے یہ۔۔۔تمھاری بدترین حقیقت۔۔۔“ قریب ترین آکر اُس پر حددرجہ جھکتا ہوا وہ۔۔۔ اپنے چیختے تیوروں سے حیا کو سسک کر گھٹنوں میں منہ چھپانے پر مجبور کرچکا تھا۔
”ہو تو تم دونوں عورتیں ایک سی بدکار۔۔۔لیکن سب سے بڑا فرق جانتی ہو کیا ہے۔۔۔؟؟ساری سیاہ حقیقتیں کھل کر سامنے آنے پر بھی روزینہ بڑی کانفیڈینس تھی۔۔اپنی ڈھٹائی میں بےحد مضبوط۔۔مگر تم۔۔۔تم تو اپنی بار میں انکاری ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی سہمی۔۔ڈری ہوئی سی لگ رہی ہو مجھے حیا وقاص۔۔وائے۔۔۔۔؟؟؟“ معاً پنجوں کے بل بیٹھتے ہوئے رمیض نے کھلے بالوں سے دبوچ کر اُس کا بھیگا چہرہ جھٹکے سے اوپر اٹھایا۔۔۔۔تو حیا بے ساختہ دبا دبا سا چیخ پڑی۔
مقابل کے خوف سے پھٹتی دھڑکنیں رک رک کر چل رہی تھیں۔۔۔۔
”پ۔۔پلیز میرے قریب مت آؤ۔۔۔تم اپنے ہوش مکمل گنوا بیٹھے ہو پاگل ہوچکے ہو۔۔۔دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔“ اُس کی بھڑکتی ہوئی گرم سانسوں تلے اپنا بھیگا گال جھلستا ہوا محسوس کرتی وہ قدرے ہکلا کر بولی۔۔۔۔تو اُس کے گریز پر اشتعال سے فرش پر مکا مارتا ہوا وہ ضد سے اُس کے آخری حد تک قریب ہوا۔۔۔۔
”کیوں بیوی؟؟؟ شرم آرہی ہے میری قربتوں کو برداشت کرتے ہوئے۔۔۔؟؟؟یا پھر تم میرے چھوٹے بھائی کی نزدیکیوں کی اس قدر عادی ہو چکی ہو کہ اب میرا ساتھ بھی قدرے ناگوار گزرنے لگا ہے تم پر۔۔۔؟؟؟ہہمم۔۔۔؟؟؟خیر وجہ جو بھی ہو۔۔۔میں تو تمھارےقریب آؤں گا حیا وقاص۔۔بےحد قریب۔۔۔روک سکتی ہو تو روک لو۔۔۔۔“ بہتےآنسوؤں پر قدرے حقارت سے اپنے لب سرسراتا ہوا وہ رفتہ رفتہ اُس کی جان ہی تو نکال رہا تھا۔۔۔
کھنچے بالوں کے سبب ہوتی اذیت ہنوز برداشت کرتی حیا نے سختی سے آنکھیں میچ کر کھولیں۔۔۔۔
باہر کا طوفان تھمتا جارہا تھا۔۔۔لیکن اندر کا اُسی قدر شدتیں اختیار کررہا تھا۔
”اِن جھوٹے بہتانوں سے میری روح کو اتنا چھلنی مت کرو رمیض عالم درانی کہ بعد میں پچھتاوے تمھارا مقدر بن جائیں۔۔اور وفا کی کیا بات کرتے ہو۔۔ہاں۔۔؟؟اپنی سابقہ بیوی کی قربتوں سے آشنا ہوکر وہ تو تم خود نہیں نبھا سکے۔۔۔کمزور النفس انسان ٹھہرے تم بھی۔۔۔۔۔۔“ پوری حقیقتوں سے بےخبر۔۔۔اب کی بار پھنکارنے کی جرات کرتی حیا اُس کے پہلے سے ہی بپھرے تن بدن کو مزید بھڑکانے کی حماقت کر چکی تھی۔۔۔
رمیض نے بےاختیار اُس کے بالوں پر اپنی گرفت ڈھیلی کی۔۔۔
تو یعنی روزینہ نے اپنا بےباک مقصد پورا نہ ہونے کا بدلہ یوں اُس کی بیوی کو پیٹھ پیچھے ورغلا کرنکالا تھا۔۔۔۔!!!
یا پھر وہ خود ہی اِس جھوٹ کو لے کر شدتوں سے بدظن ہونا چاہتی تھی۔۔۔؟؟؟تاکہ جلد ہی اُس کی ذات کو نشانہ بنا کر خلاصی پا سکے۔۔۔۔
ہولے سے سراثبات میں ہلاتے ہوئے پل میں اُس کے ضبط کی آخری طنابیں بھی چھوٹتی چلی گئیں۔۔۔۔
”میرے مقدر میں پچھتاوے ہی اچھے حیا وقاص۔۔۔۔۔!!!“ معاً رمیض نے سماعت میں بھاری پھنکار گھولتے ہوئے۔۔اپنے ہاتھ کی دکھتی ہوئی سرخ پشت سے اُس کی پسینے سے نم شہہ رگ کو سہلایا۔۔۔تو اُس کے لرزہ طاری کرتے لمس پر حیا نے نم آنکھیں پھیلا کر اُسکی جانب دیکھا۔
”کک۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔۔؟؟؟؟“ سسک کر پوچھتی وہ بےساختہ اُس کی مردانہ کلائی کو تھام چکی تھی۔
لیکن اس کے باوجود بھی اُس کی مضبوط انگلیاں ہنوز سرسراتی ہوئی اس کے نازک وجود میں سنسناہٹ پھیلانے کا سبب بن رہی تھیں۔۔۔
”مطلب یہ کہ۔۔۔اپنی سابقہ بےوفا بیوی کو تو میں اُس وقت گلا گھونٹ کر مار نہیں پایا تھا ناں۔۔۔مگر اب۔۔۔اب یہ نازک گلا دبا کر آج میں حقیقی معنوں میں قاتل بنوں گا حیا وقاص۔۔۔تمھارا قاتل۔۔۔۔۔“ قطیعت بھرے لہجے میں غرا کر کہتے ہی جہاں رمیض عالم درانی نے۔۔حددرجہ ڈر چکی حیا کی لرزتی پشت جھٹکے سے اپنے کشادہ سینے سے لگائی تھی۔۔۔وہیں اُس کا مضبوط بازو سختی سے اپنی گردن کے گرد کستا ہوا محسوس کرتی حیا اذیت تلے چیخی۔۔۔۔
معاً باہر دروازے پر دستک ہوئی تھی۔۔۔جسے قدرے بےبہرہ،،،ٹوٹتے دلوں کے سنگ دونوں کے ہی آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گالوں پر بہہ رہے تھے۔۔۔۔
”ر۔۔رمیض۔۔۔۔مت۔۔کرو۔۔یہ۔۔پلیز۔۔۔چھوڑ۔۔۔۔چھوڑدو۔۔۔مجھے۔۔۔آااہ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔۔۔“ سانس لینے کی کوششوں میں ہلکان وہ کانپتے ہاتھ پیر مارتی ہوئی پل پل بوکھلا رہی تھی۔۔۔
”حیا وقاص آپ کے ہونے والے بچے کی قاتلہ ہے۔۔۔اس سے ذیادہ بےوفائی کی انتہا اور کیا ہوگی بھلا۔۔۔۔؟؟؟“ معاً رمیض کی سنسناتی سماعتوں میں تمسخر اڑاتی ہوئی مردانہ آواز چیخی تو۔۔۔کسرتی وجود میں پھیلی اذیت شدت اختیار کرتی چلی گئی۔۔۔
بےاختیار بند ہوتے دل کے ساتھ اپنی گرفت مزید سخت کرتا وہ پاگل ہی تو ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
اس قدر پاگل کہ حقیقت کو جاننے پرکھنے قبول کرنے کی رتی بھر بھی صلاحیت اُس میں نہیں بچی تھی۔۔۔
اور وجہ زیدان عالم درانی کی طرف سے دکھائے گئے وہ پختہ ثبوت تھے جو بلاشبہ آدھے سچ کو پوری تباہی بنانے کے لیے کافی تھے۔
دستک ہنوز ہورہی تھی۔۔۔۔
”م۔۔میں مر جاؤں گی۔۔۔۔۔ر۔۔رمیض۔۔۔۔؟؟؟؟“ احتجاجاً رمیض کے سرخ بھیگتے رخساروں کو نوچنے کی ناکام کوششوں میں حیا تڑپ رہی تھی۔۔تلملا رہی تھی۔۔۔سانسوں میں پھیلتی گھٹن بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
مگر اپنی جل رہی نم آنکھیں سختی سے بھینچتا ہوا۔۔وہ اُس کی سسکیوں۔۔آہوں۔۔۔اذیتوں سے بےبہرہ ہونے کی ناکام کوششوں میں اپنے بھیگے لبوں کو سختی سے اُس کے بالوں پر جما گیا تھا۔۔۔
بھلا کون کہہ سکتا تھا؟؟کہ اِس پل وہ سفاک ہوچکا شخص حیا وقاص کے لیے حددرجہ دیوانہ تھا۔۔۔۔
اُسی لمحے عاجز آچکے عالم صاحب نے مجبوراً ساتھ لائی ڈبلی کیٹ چابیوں کو استعمال میں لاتے ہوئے دروازہ کھولا۔۔۔پھر آگے بڑھنے پر سامنے کا دل دہلاتا منظر ملاحظہ کرتے ہوئے قدرے بوکھلا کر فوری اُن کی جانب لپکے۔۔۔۔
”میں نے تم سے کہا تھا۔۔۔صاف صاف کہا تھا کہ مجھ سے کبھی بےوفائی مت کرنا۔۔۔۔ایک مرد سب کچھ برداشت کرسکتا ہے۔۔۔لیکن عورت کی بےوفائی قطعاً برداشت نہیں کرسکتا حیا وقاص۔۔۔۔مجھ جیسا بےرحم مرد تو بالکل بھی۔۔۔۔“ گہرے۔۔ بکھرے لہجے میں بولتا ہوا جہاں وہ خود بھی رفتہ رفتہ ختم ہورہا تھا۔۔۔وہیں حلق میں اٹکتی سانسوں کے سبب باہر کو اُبلتی بھیگی آنکھوں سے حیا نے بمشکل،،،بوکھلا چکے عالم صاحب کو تیزی سے اپنے قریب ترین آتے دیکھا۔۔۔
”رمیض۔۔۔۔!!!رمیض چھوڑو اِسے یہ کیا ذلالت کررہے ہو تم پاگل ہو گئے ہو کیا۔۔۔۔۔؟؟؟میں کہتا ہوں چھوڑو بچی کو۔۔۔رمیضضضضض۔۔۔۔!!!“ اگلے ہی پل بیچ میں آکر زبردستی چھڑوانے کی کوششوں میں وہ سختی سے دہاڑے۔۔۔۔تو نتیجتاً دہاڑ روکنے کو سختی سے اپنے لب بھینچتا وہ جھٹکے سے حیا کو چھوڑنے پر مجبور ہوا تھا۔۔۔
کیونکہ مقابل حکم دینے والا اُس کا اپنا باپ تھا۔۔۔۔
دکھتا حلق مسل کرشدتوں سے کھانستی ہوئی وہ قدرے سہم کر اُس سے دور ہوئی۔۔۔تو عالم صاحب نے قہر بار نگاہ اپنے بیٹے پر ڈالتے ہوئے نرمی سے حیا کو سنبھال کر کھڑا کرتے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔
”ہوچکا ہوں میں پاگل بابا۔۔۔ہوچکا ہوں کیونکہ۔۔یہ۔۔۔یہ بےوفا عورت میرے ہونے والے بچے کی قاتلہ ہے۔۔۔۔“ تلملا کر کھڑا ہوتا وہ شہادت کی انگلی اٹھائے ہنوز اُسے موردِالزام ٹھہرا رہا تھا۔۔۔
اس دوران آنسو تپے گال پر بےدردی سے لڑھکے تھے۔۔۔
جب اتنے بڑے انکشاف پر عالم صاحب نے کچھ حیرت سے اپنے ساتھ لگی حیا کو نفی میں سرہلاتے ہوئے دیکھا۔
”نن۔۔نہیں تایا ابو۔۔۔۔ا۔۔ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔م۔۔میرا یقین کریں۔۔۔میں۔۔میں اِس گناہ کی روادار نہیں ہوں۔۔۔سراسر الزام ہے یہ مجھ پر۔۔۔خدا کے لیے مجھے اپنے ساتھ لے چلیں میرا دم گھٹ رہا ہے اب یہاں۔۔۔۔۔“ گہرے گہرے سانسوں میں سسکتی ہوئی وہ اُنھیں لب بھینچنے پر ہی تو مجبور کر چکی تھی۔۔۔
اُس کی جانب حقارت زدہ نگاہوں سے دیکھتے رمیض نے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں۔۔۔۔جو اب اُسے دیکھنے سے بھی گھبرا رہی تھی۔۔۔
”تم تو آج ہی ترکی سے واپس لوٹے ہو ناں۔۔۔۔!!!تو پھر تمھارے ذہن میں یہ خناس کب اور کس جاہل نے بھردیا۔۔ہاں؟؟؟جس کا پاس رہ کر ہمیں بھی معلوم نہیں ہوسکا۔۔۔تمھیں ورغلانے کی کوشش میں جھوٹ بھی تو ہوسکتا ہے یہ۔۔۔۔!!!“ عالم صاحب نے قدرے برہمی سے پوچھتے ہوئے بےاختیار حیا کا ساتھ دیا۔۔۔تو رمیض نے سرخ نم چہرے پر بڑے ضبط سے ہاتھ پھیرکر گہرا سانس بھرا۔
اس دوران پیشانی کی ناگوار تیوریاں گہری ہوئی تھیں۔۔۔۔
”زیدان۔۔۔۔!!!زیدان نے بذاتِ خود ثبوتوں کے ساتھ ایک ایک بات واضح کی ہے مجھ پر بابا۔۔۔اور اس میں جھوٹ کی رتی بھر بھی گنجائش شامل نہیں ہے۔۔۔مگر اِس فریبی عورت کے پاس۔۔۔منہ زبانی نفی کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔“ بڑے اعتماد سے ٹھہر ٹھہر کر باور کرواتے ہوئے وہ سر کے بال جکڑتا نئے سرے سے سلگنے لگا۔۔۔تو جہاں عالم صاحب،،،زیدان کے نام پر ٹھٹھکتے خاصے پریشان ہوئے تھے۔۔۔وہیں حیا کی دھڑکنیں فنا ہونے کو ہوئیں۔۔۔۔
”اس سے پہلے ڈیم شیور میں تمھاری طلاق کرواؤں گا۔۔۔پھر تمھاری بانجھ بہن کی پیشانی پر طلاق کا داغ سجاؤں گا۔۔۔اور عدت کے دن پورے ہوتے ہی ساری زندگی کے لیے تمھیں اپنے نام کرلوں گا۔۔۔کیسا لگا میرا پلین۔۔۔؟؟؟“ سماعتوں میں گھلتا ہوا زہر حقیقتاً بہت کچھ سمجھانے کو کافی تھا۔۔۔۔
سرخ ہورہی گردن کو بےتابی سے مسلتے ہوئے حیا کی شفاف فرش پر جمی جلتی نگاہیں تیزی سے دھندلانے لگیں۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں سب کچھ ویسا ہی تو ہورہا تھا جیسا زیدان عالم درانی چاہتا تھا۔۔۔
پوشیدہ تلخ حقیقتوں کو پلوں میں پرکھتی ہوئی وہ چاہ کر بھی اُس حد تک نہیں پہنچ پائی تھی۔۔۔جس حد تک وہ سفاک شخص حقیقتاً گِر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
”آپ۔۔۔آپ پلیز اِسے میرے حوالے کر جائیں بابا۔۔۔۔۔“ معاً ایک بار پھر سے اپنا آپا کھوتا وہ تندہی سے حیا کو بازو سے دبوچنے کی غرض سے قریب ترین آیا تھا۔۔جب عالم صاحب بروقت ہاتھ اٹھا کر اُسے نرمی سے دو قدم پیچھے دھکیلنے پر مجبور کرگئے۔۔۔۔
اس دوران حیا قدرے سہم کر نچلا لب کچلتی ہوئی مزید اپنے آپ میں سمٹی۔۔۔۔
آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر بہتے گال بھگو رہے تھے۔۔۔
”بس کردو اب برخوردار۔۔۔سن چکا ہوں میں تمھاری ساری روداد۔۔۔۔فی الحال اِس سنگین معاملے کو میری خاطر بعد کے لیے اٹھا رکھو۔۔۔۔کیونکہ میں ابھی اور اِسی وقت اپنے ساتھ حیا کو یہاں سے لے کر جارہا ہوں۔۔۔وقاص ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کل سے ہی ہاسپیٹلائزڈ ہے اِس لیے اِس کا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے۔۔۔۔۔“ حالات کی مناسبت سے قدرے سنجیدگی کے ساتھ بہترین فیصلہ لیتے ہوئے عالم صاحب مزید وہاں رکے نہیں تھے۔۔۔
بلکہ حیا کو شدت کا جھٹکا دیتے ہوئے پلٹے۔۔۔پھر اُس کے سنگ وہاں سے نکلتے چلے گئے۔۔
پیچھے سرتاپیر بےبس ہوچکے رمیض عالم درانی نے بڑے ضبط سے مٹھیاں کستے ہوئے اُن دونوں کو انگارہ نگاہوں سے پلوں میں اوجھل ہوتے دیکھا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل اندرونی اذیت سے چیختا ہوا وہ سرعام لاؤنج کی توڑ پھوڑ شروع کرچکا تھا۔۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں شدتوں سے چاہنے کے باوجود بھی وہ زخمی شیر نہ تو پہلے حقیقی معنوں میں وائفی کِلر بن پایا تھا۔۔۔۔
اور نہ ہی اب۔۔۔۔!!!
بار بار کی بےوفائیوں کا ڈسا کیسا ادھورا ترین شخص تھا ناں وہ۔۔۔۔۔!!
افففف۔۔۔۔!!!
”مجھ کو نہ درد نہ زخم
نہ وقت نے مارا
جسے زندگی کہا تھا
اُسی ایک شخص نے مارا
وہ جو نہ مشکلوں
نہ حالاتوں سے ہارا
ہے عشق نام جس کا
اُسی ایک لفظ نے مارا۔۔۔“
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”اپنے صاحب کو بلاؤ۔۔۔۔کہو زلیخا عالم درانی ملنے کے لیے آئی ہے۔۔۔۔“ وہ رکھائی سے گویا ہوئی تو اُس کو گہرے نیلے سوٹ میں سر تا پیر۔۔بغور تکتی ملازمہ بخوشی سر اثبات میں ہلاگئی۔
”ج۔۔جی۔۔۔جی ضرور محترمہ۔۔۔ابھی بلاکر لائی میں اُنھیں۔۔۔۔“ ہاتھ مسل کر کہتی ہوئی وہ تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
پیچھے زلیخا نے بمشکل دل کی دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے اِس بڑے سے شاندار ہال کی جانب غلافی نگاہ دوڑائی تھی۔
کون کہہ سکتا تھا کہ غریبی کا ڈھونگ رچانے والا حقیقتاً اتنا امیر نکل آئے گا۔۔۔۔!!!
کچھ پل مزید گزرے تھے جب وہ بھاگتا ہوا بےیقینی سے اُس کے مقابل آ کر رکا تھا۔۔۔
زلیخا نے پلکیں جھپکا کر اُسے بغور دیکھا۔سیاہ شرٹ ٹراؤزر کے رف سے حلیے میں مدھم ہوتی چوٹیں ہنوز تھیں۔۔۔
”زلیخا۔۔۔!!!تم۔۔۔تم آگئیں۔۔مجھے معلوم تھا۔۔معلوم تھا کہ تم بھی میرے بغیر جی نہیں سکتیں۔۔۔۔۔“ مسکراتی نگاہوں سے اُس کا ایک ایک نقش ازبر کرتا وہ بےتابانہ اُس کے قریب ترین آنے کو ہوا تھا۔۔۔۔جب بےاختیار ہاتھ اٹھا کر اُسے وہیں پر روکتی زلیخا خود کتنے ہی قدم پیچھے ہٹتی چلی گئی۔
”دور۔۔۔!!!دور رہ کر بات کرو۔۔۔۔وہم پالنا اچھی بات ہےلیکن اگر اوقات سے بڑے وہم پالے جائیں تو بڑے خسارے کا سبب بنتے ہیں فائق درید عرف کیفی۔۔۔اچھے سے جان لو کہ میں یہاں تمھاری تڑپ میں ہرگز نہیں آئی ہوں۔۔۔۔۔“ سردترین لہجے میں قدرے بیگانگی سے جتاتی ہوئی وہ فائق کے لبوں سے مسکراہٹ نوچ گئی تھی۔
نتیجتاً وہ ضبط سے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔۔۔
پھڑپھڑاتا دل پھر سے رفتہ رفتہ ویران ہونے لگا تھا۔۔۔
”تو پھر کیوں آئی ہو۔۔۔۔؟؟؟یہ دیکھنے کے لیے کہ میں تمھاری جدائی کا روگ پالے ہوئے بھی ہوں کہ نہیں۔۔۔؟؟؟“ مندمل ہوتے زخموں کے سنگ وہ بڑے تاسف سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
لہجے میں بھرم ٹوٹنے کی چبھن واضح تھی۔۔۔جسے محسوس کرتی وہ پل بھر کو تمسخر سے مسکرائی۔
”نہیں۔۔۔بلکہ تمھیں یہ بتانے کے لیے یہاں آئی ہوں کہ۔۔۔آئی ایم پریگنینٹ۔۔تمھارے بچے کی ماں بننے والی ہوں میں مسڑ فائق درید۔۔۔۔“ قدرے ٹھہرٹھہر کر بتاتی ہوئی زلیخا مقابل کو کتنی ہی پلوں کے لیے اِس خوشگوار حقیقت تلے سن کرگئی تھی۔۔۔۔
”م۔۔میرا بچہ۔۔۔۔تم ماں۔۔۔یعنی کہ میں۔۔۔میں باپ بننے والا ہوں۔۔۔یا میرے خدا۔۔۔اتنی بڑی گڈنیوززز۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔“ خود کو یقین دلانے کی کوشش میں گہری مسکراہٹ کے سنگ،،،سرخ ہوتی نگاہوں میں نمی بھی لوٹ آئی تھی۔۔۔
بےاختیار زلیخا نے گہرا سانس لیتے ہوئے خود کو آنے والے لمحوں کی بابت بمشکل رضا مند کیا۔۔۔۔
”ذیادہ خوش نے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں۔۔۔۔۔کیونکہ میرے ابارشن کروانے کے بعد یہ گڈنیوز تمھارے لیے ماتم کے ساماں میں بدلنے والی ہے۔۔۔۔بہتر ہے خود کے جذبات پر ابھی سے قابو پالو۔۔۔۔“ اُسے سخت اذیت سے دوچار کرنے کو وہ سینے پر بازو باندھتی ہوئی بڑے اعتماد سے صاف جھوٹ بول گئی تھی۔۔۔
جبکہ فائق کا دماغ اُس کی صاف بکواس پر بھک سے اڑا۔۔۔
”ت۔۔تم ایک ماں ہوکر میری اولاد کو مارو گی۔۔۔؟؟؟ہاؤ ڈئیر یو ڈیمٹ۔۔۔ایسی بکواسیات سوچنے کی ہمت بھی کیسے ہوئی تمھاری۔۔ہااااں۔۔؟؟؟“ حیرت سے بآوازِ بلند پوچھتا ہوا وہ تیزی سے زلیخا کے قریب آکر اُسے براہ راست بالوں سے دبوچ گیا تھا۔۔۔۔
زلیخا کی دھڑکنیں اُس کے خطرناک تیور قریب سے تکتے ہوئے پل بھر کو لرزیں۔۔۔۔
ضبط کے باوجود بھی غلافی آنکھیں بھیگتی چلی گئی تھیں۔
”ہاں ماردوں گی۔۔۔۔ماردوں گی میں کیونکہ یہ ہمارے بیچ عشق محبت کی نہیں۔۔۔۔بلکہ دھوکے۔۔فریب۔۔نفرت۔۔اور گہرے انتقام کی نشانی ہے۔۔۔اور زلیخا عالم درانی ایسی نشانیاں کبھی اپنے وجود میں پالنے کی قائل نہیں رہی۔۔۔اور نہ ہی آگے کبھی ہوگی۔۔۔۔یہاں میں اپنا ابارشن کرواؤں گی۔۔۔وہاں تم مجھے طلاق دو گے۔۔۔اور پھر یہ قصہ ہمیشہ کے لیے یہی پر ختم۔۔۔۔!!!“ بظاہر بےخوفی سے پھنکار کر بولتی ہوئی وہ دوبدو بولی۔
معاً فائق اُس کی سفاکی پر مشتعیل ہوکر۔۔۔اُسے پیچھے صوفے پر دھکیل گیا۔پھر صوفے کی پست پر دائیں بائیں ہاتھ رکھتا ہوا اُس پر حدردجہ جھکا۔۔۔تو ضبط کی شدت سے زلیخا کا تنا چہرہ سرخ پڑا۔
”ابھی تمہی نے کہا تھا ناں کہ اگر اوقات سے بڑے وہم پالے جائیں تو بڑے خسارے کا سبب بنتے ہیں۔۔۔تو تم بھی میری یہ بات اچھے سے ذہن نشین کرلو زلیخا عالم درانی۔۔۔سچی محبت کرتا ہوں میں تم سے۔۔۔اس لیے ہمارا یہ قصہ تو کبھی ختم نہیں کرنے دوں گا میں تمھیں۔۔۔ایسے تو قطعاً نہیں۔۔۔۔“ تیوری چڑھائے چبا چبا کر قطعیت بھرے لہجے میں جتاتا ہوا وہ بڑے ضبط سے اُس کی تپی گالوں پر لڑھکتے آنسو دیکھ رہا تھا۔
”یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کون اپنی باتوں پر کھڑا اترتا ہے۔۔۔۔“ چوڑے سینے پر ہتھیلیاں جماکر پوری شدت سے اُسے پیچھے دھکیلتی زلیخا اب بھی اُسے اندر تک جلانے سے باز نہیں آئی تھی۔
معاً قدم قدم پیچھے ہوتا ہوا جہاں وہ اپنے کسرتی بازؤ اُس کے سامنے پھیلا گیا تھا۔۔۔وہیں اِس بنگلے میں بڑی مشکلوں چھپ چھپا کرگھسا وہ نقاب پوش کھلی کھڑکی کے قریب آکھڑا ہوا۔۔۔۔پھر بڑی آہستگی سے اپنی لوڈ کی ہوئی پسٹل سرے پر ٹکائی۔۔۔
گینگسٹرز کی اِن دشمنیوں میں اپنوں کی انتقاماً جان لینا۔۔۔یقیناً اُس سفاک شخص کے نزدیک ایک عام سی بات تھی۔۔۔
اور ویسے بھی درید راحت کے اِس جیتے جاگتے بیٹے کا تو معلوم ہی اب پڑا تھا۔۔۔۔
”کیا۔۔؟؟کیا چاہیے کیا تمھیں مجھ سے۔۔۔؟؟؟اِس محبت کی بھاری قیمت اگر میں اپنی جان دے کر چکاؤں تو ہی تم اپنی ہٹ دھڑمی چھوڑو گی کیا۔۔۔۔؟؟؟“ جلتی آنکھیں جھپکا کر پوچھتے ہوئے اُس کا بھاری لب ولہجہ پل بھر کے لیے بھیگاہٹ کی زد میں آیا تھا۔۔۔
زلیخا اپنی ڈوبتی دھڑکنوں پر ضبط کرتی صوفے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”اِس بچے کا ابارشن کروانے کے فوری بعد طلاق چاہیے مجھے تم سے فائق درید۔۔۔۔بنا کسی دیری کے۔۔۔ بس اتنا ہی۔۔۔۔“ بےتاثر لہجے میں ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتی ہوئی۔۔جہاں وہ اپنی نام نہاد سنگدلی سے مقابل کا دل حقیقی معنوں میں چیڑ گئی تھی۔۔۔وہیں کھلی کھڑکی کے پار کھڑے اُس نقاب پوش شخص نے درست نشانہ لیتے ہی سفاکی سے ٹریگر دبا دیا۔۔۔
”ٹھااااا۔۔اا۔۔۔ہ۔۔۔۔۔“ صاف نفی میں سرہلاتا ہوا فائق ایک قدم اُس کی جانب بڑھا ہی تھا۔۔جب اچانک تیز رفتار گولی اُس کے کسرتی وجود کو جھٹکا دیتی ہوئی دل سے ذرا نیچے کو گھستی چلی گئی۔
کنگ ہوتی زلیخا عالم درانی نے نم آنکھیں پھاڑ کر۔۔اُسے قدرے اذیت سے بہتے خون پر ہاتھ جماتے دیکھا تھا۔
”ن۔۔نہ ہی تو میری آنے والی اولاد کا کوئی ابارشن ہوگا۔۔۔ا۔۔اور نہ ہی میں تمھیں۔ط۔طلاق دوں گا۔۔۔! مجھے تمھارا کا ا۔۔ایک بار پھر سے بیوہ ہونا منظور ہے زلیخا عالم درانی م۔۔مگر میرے ہاتھوں طلاق یافتہ ہونا قط۔۔قطعی منظور نہیں ہے۔۔۔۔“ سرخ انگارہ چہرے کے ساتھ گھٹتی سانسوں میں بمشکل اپنی بات پوری کرتا ہوا وہ پورے قد سے زمین بوس ہوا تھا۔۔۔
اِس دوران چل چکی گولی کی آواز پر۔۔۔محتاط ہوچکے گارڈز کے دوڑتے قدموں کی چاپ سنتا ہوا وہ نقاب پوش پھرتیوں سے وہاں سے فرار چکا تھا۔۔۔
”فاااائق۔۔۔۔!!!!“ معاً ہوش میں آتی زلیخا پھٹتے دل کے ساتھ چیختی ہوئی اُس کی جانب لپکی۔
اُس کا نڈھال خون آلود ہوتا وجود۔۔شدت سے کانپتی بانہوں میں سمیٹتے ہوئے وہ۔۔۔مقابل کے خشک لبوں پر ہولے سے مسکراہٹ ہی تو بکھیر چکی تھی۔۔۔۔
”ی۔۔یہ تمھیں کیا ہوگیا ہے فائق۔۔۔پلیز ہوش کرو۔۔۔اپنے حواس مت کھونا۔۔۔جلدی آؤ یہاااااں پر۔۔۔۔“ اُس کے خون آلود سینے پر لرزتا ہاتھ رکھتی وہ بہتے آنسوؤں کے سنگ اُسکی فکر میں چیختی قدرے ہلکان ہوچکی تھی۔
اِس دوران گارڈز بھاگ کر اندر آئے تھے جبکہ کچھ باقی کی راہداریوں میں پھیل چکے تھے۔
”آپ کی۔۔ب۔۔بددعا لگ گئی ہے مجھے زلیخا۔۔۔یہی۔۔یہی چاہتی تھیں ناں آپ۔۔۔؟؟؟“ پل پل مدھم پڑتی سانسوں کے بیچ وہ اُس کے ہاتھ پر اپنا خون آلود ہاتھ رکھتا اٹک اٹک کر مشکلوں سے بول پا رہا تھا۔
آنسو ٹوٹ کر پسینے سے بھیگتی کنپٹیوں پر پھسلے۔۔۔
”ن۔۔نہیں۔۔۔تمھیں مرتا ہوا دیکھنا تو کبھی نہیں چاہتی تھی میں۔۔۔۔اور نہ ہی آگے کبھی چاہوں گی۔۔۔۔“ شدتوں سے نفی میں سرہلاتی زلیخا۔۔۔سسک کر کہتی تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔۔۔۔
گارڈز آس پاس آکرکھڑے ہوتے حددرجہ پریشان ہوچکے تھے۔۔۔
”آ۔۔آپ کی طرف سے۔۔ملنے والی نفرت۔۔بیگانگی۔۔جدائی میرے لیے۔۔م۔۔موت کے ہی تو مترادف ہے۔۔ز۔۔زل۔۔۔۔“ انتہا کی اذیت تلے گم ہوتے حواسوں میں۔۔اب فائق درید کی سانسیں بھی ٹوٹنے لگی تھی۔۔۔
تو جہاں گارڈز جلدی سے اپنے باس کو احتیاطاً اٹھاتے ہوئے فوری باہر کی جانب بھاگ کر لپکے تھے۔۔۔
وہیں اپنی تمام تر ناراضگی فراموش کیے زلیخا بھی ۔۔۔ہچکیوں پر قابو پاتی ہوئی انہی کے پیچھے تیزی سے لپکی تھی۔۔۔
