No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
”سنو تم امریکن بی بی۔۔۔آخر کب تک اپنے چچا کی گزارے لائق سیلری پر پلتی رہو گی ہاں۔۔۔۔؟؟؟یہاں ایک سو ایک سے ذیادہ نائٹ کلبز ہیں۔۔۔کہا بھی ہے کہ کسی بھی ایک میں جاب شروع کردو۔۔۔خود بھی کھاؤ ساتھ ہمیں بھی کھلاؤ۔۔۔جوان ہو۔۔خوبصورت ہو۔۔مردوں کو منٹوں میں اپنی جانب قائل کرنے کے قابل ہو۔۔۔تم پر تو کوئی بھی مر مٹے گا۔۔۔پھر میری بات مان کیوں نہیں لیتی تم۔۔۔؟؟“ رات کی بےوقت بھوک کے سبب وہ اِس پل کچن میں ہی بیٹھ کر،،،نرم پھلکے کے ساتھ تلے ہوئے بھاپ اڑاتے کباب کھارہی تھی۔۔۔جب اچانک وہاں آتی حرم بیگم نے آتے ہی اُسے ٹوٹی پھوٹی قابلِ سمجھ انگریزی بول کر کوسنا شروع کردیا۔
روزینہ نے ضبط سے لب بھینچ کر ہاتھ میں پکڑا پھلکا پلیٹ میں پٹخا۔پھر تندہی سے کھڑی ہوتی اپنی چچی کے مقابل آئی۔
وہ مقابل کھڑی اُس لالچی۔۔بے لحاظ عورت سے حقیقتاً تنگ آچکی تھی۔
ترکی آنے کے بعد روزینہ نے اپنے ساتھ لائی ہوئی ساری جمع پونجی چند باتوں میں آکر اپنے چچا جان کے حوالے کردی تھی۔۔۔
جنھیں وہ اپنا کاروبار وسیع کرنے کے چکر میں بڑے ہی آرام سے برباد کرچکے تھے۔
”ایکسکیوزمی۔۔۔بہت اکڑ رہی ہیں ناں آپ اِس گزارے لائق سیلری کو لے کر۔۔اور خاصی تکلیف بھی ہے میرے یہاں رہنے سے۔۔لیکن فکر نہیں کریں۔۔۔بس کچھ دن اور۔۔۔کچھ دن اور میرا وجود یہاں برداشت کرلیں۔۔کیونکہ بہت جلد میں آپ کا یہ کرائے کا مکان چھوڑ کر اپنے رئیس شوہر کے ساتھ پاکستان شفٹ ہوجاؤں گی۔۔۔۔نائٹ کلبز اور مرد رجھانے کی گھٹیا جاب آپ ہی کو مبارک ہو۔۔۔“ بڑے اعتماد سے شستہ انگریزی میں دو ٹوک جواب دیتی ہوئی وہ مزید وہاں رکی نہیں تھی۔۔بلکہ دھکا دینے والے انداز میں حرم بیگم کو اپنے سامنے سے پیچھے ہٹاتی کچن سے نکلتی چلی گئی۔۔۔
”ارے اگر اتنی ہی معصوم اور صاف ساوتری ہوتو پھر گھر بیٹھے میرے شاہو کو اپنے چنگل میں کیوں پھانس لیا تم نے بدلحاظ ڈائن۔۔۔بڑی آئی رئیس شوہر کے ساتھ پاکستان شفٹ ہونے والی۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔“ اپنے آوارہ عیاش بیٹے کی بابت روزینہ کے کردار پر کھل کے چوٹ کرتی ہوئی حرم بیگم پیچھے سے چلا کر رہ گئی تھی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
سرمئی سڑک پر تیز رفتاری سے دوڑتی ہوئی سیاہ رنگ گاڑی اِس وقت کراچی ائیرپورٹ کو قدرے پیچھے چھوڑ آئی تھی۔۔۔
شفاف شیشے کے پار بھاگتے دوڑتے مناظرکو کھوئے کھوئے انداز میں تکتے ہوئے حیا نے گہرا سانس بھرا۔
آج رمیض عالم درانی کی ترکی کی فلائٹ تھی۔۔۔اور کچھ دیر پہلے ہی وہ اُسے نم نگاہوں سے اوجھل ہوتا دیکھ،،، وقاص صاحب کے سنگ واپس پلٹ آئی تھی۔
مگر جانے سے پہلے وہ قدرے محبت سے اُس کے مومل ہاتھ تھام کر جلد ہی اپنے واپس لوٹ آنے کا دلاسہ دینا قطعی نہیں بھولا تھا۔
بےاختیار حیا نے اپنا سر شیشے سے ٹکاتے ہوئے غلافی آنکھیں موند لیں۔
دل دھڑکاتی یادیں پل میں دماغ کے سیاہ پردے پر بکھری تھیں۔
”رمیضضضض۔۔۔۔۔۔۔!!!“ گاڑی ڈرائیو کرتے سمے۔۔۔۔رمیض عالم درانی جہاں موقع ملتے ہی حیا کی سرخ گال پر سلگتا ہوا لمس چھوڑ کر پل میں سیدھا ہوا تھا۔۔۔۔وہیں اِس گہری بےباکی پر حیرت سے آنکھیں پھیلاتی وہ بےساختہ دبا دبا سا چیخ پڑی۔۔
ایسے میں پچھلی نشست پر۔۔۔اپنے دھیان میں شیشے کے پار دیکھتے وقاص صاحب قدرے ٹھٹھک کر اُن کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
”ک۔۔کیا ہوا بیٹا۔۔۔سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔؟؟؟“ اُنھوں نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔تو شرمندگی سے نچلا لب کچلتے ہوئے حیا کی زبان تالو سے جا چپکی۔
وہ تو پہلے ہی سے اپنے شوہر کی پوشیدہ چھیڑ خانیوں پر سانس روکے بیٹھی تھی۔۔۔۔جو بیک ویو مرر سے اپنے سسر کا دھیان رکھتے ہوئے کبھی کلائی دبا کر چھوڑ دیتا تھا۔۔تو کبھی سرخ گال کو انگلیوں کی پشت سے چھو کر اُس کے دل کی دھڑکنیں تیز کر ڈالتا تھا۔۔۔
مزید چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کو مسل کر مدھم سا کھینچ لینا تو جیسے اُس کے سفر کا پسندیدہ مشغلہ رہا تھا۔
اُس کے حسین چہرے کی اڑی اڑی رنگت دیکھتے ہوئے رمیض نے لب بھینچ کر اپنی دلکش مسکراہٹ دبائی۔
”جواب دو حیا۔۔۔چچا جان تم سے کچھ پوچھ رہے ہیں۔۔۔؟؟ایوری تھینگ از فائن۔۔۔؟؟؟“ اُس کی جانب میٹھی نگاہوں سے دیکھ کر آنکھ دباتا وہ کتنی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ناں۔۔۔
جواباً نازک مٹھیاں بھینچتی ہوئی وہ اُسے غصے میں صحیح سے گھور بھی نہیں پائی تھی۔۔۔
ہاں وہ مانتی تھی کہ مقابل نے اُس کی خاطر سگریٹ نوشی بالکل ہی ترک کردی تھی۔۔۔مگر اس کے نتیجے میں اُس کی منمانیاں بھی تو کتنی بڑھتی چلی گئی تھی ناں۔۔۔
”ک۔۔کچھ بھی نہیں ہوا بابا۔۔۔بالکل ٹھیک ہوں میں۔۔۔۔“ معاً اُن کی جانب چہرہ پھیر کر کہتی وہ بڑی مشکلوں سے مسکرائی۔
”تو پھر ایسے بلاوجہ چیخ کیوں پڑی تھیں تم چندا۔۔۔؟؟تمھاری طبیعت تو درست ہے ناں۔۔۔؟؟؟“ وقاص صاحب کے سادگی سے پوچھنے پر جہاں حیا کا رنگ شدت سے متغیر ہوا تھا۔۔۔وہیں اسٹیرنگ بائیں جانب موڑتے ہوئے رمیض کے لب دھیرے سے ہنسے۔
اُس کے ہاتھوں وہ بیچاری برا پھنسی تھی۔۔۔۔
”بلاوجہ نہیں چیخی تھی بابا۔۔۔و۔۔وہ۔۔مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں نے ابھی ابھی گاڑی میں چھپکلی کا بچہ دیکھا ہے۔۔۔ہاں۔۔۔“ سوچ سمجھ کر جواب دیتی حیا بڑا ہی بچگانہ بہانہ بناگئی تھی۔
وقاص صاحب نے ناچاہتے ہوئے بھی تائید میں دھیرے سے سر ہلادیا۔۔۔تو رمیض نے کچھ حیرت سے بھنویں اچکا کر اُسے دیکھا۔
”غلط دیکھا ہے بیوی۔۔میری گاڑی ہر لحاظ سے چھپکلی پروف ہے۔۔۔اس لیے ماں یا بچے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔“ اُسے مزید چھیڑنے کو برجستہ جواب دیتے ہوئے جہاں رمیض نے استہزائیہ کندھے اچکائے تھے۔۔۔وہیں اپنا سارا ضبط کھوتی حیا نے۔۔بےاختیار اُس کی مدھم بالوں والی سفید کلائی پر زوروں کی چٹکی بھری۔
”اوووہ شِٹ۔۔۔۔۔۔۔۔“ شدت سے اٹھتی جلن پر بےساختہ بآوازِ بلند غراتا ہوا۔۔۔وہ ایک بار پھر سے شیشے کے پار دیکھتے وقاص صاحب کا دھیان اپنی جانب مبذول کروا گیا تھا۔
اس دوران گاڑی کا بیلنس پل بھر کو ڈگمگا کر فوری درست ہوا تھا۔
”کیا۔۔کیا ہوا رمیض بیٹا تم ٹھیک تو ہو۔۔۔؟؟ایسے چلائے کیوں۔۔۔۔؟؟؟“ اب کی بار وقاص صاحب کے بےچین سوال سے لطف لینے کی باری حیا وقاص کی تھی۔
رمیض نے ضبط سے لب بھینچ کر اُس کو گھورا۔۔۔تو برابری پر آنکھ مارتے ہوئے حیا کی دل دھڑکاتی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔۔
”و۔۔وہ چچا جان۔۔۔مجھے بھی اب ایسا لگنے لگا ہے جیسے میری گاڑی میں واقعی چھپکلی کا شریر بچہ گھس آیا ہے۔۔۔۔۔“ ٹھہرٹھہر کر دھیمے لہجے میں اپنی صفائی دیتا ہوا۔۔رمیض عالم درانی اُسے پنکھڑی لبوں پر ہاتھ جما کر اپنی کھلکھلاہٹ روکنے پر مجبور کر چکا تھا۔۔۔
معاً ایک جھٹکے سے سڑک کے کنارے رکتی گاڑی پر جہاں قدرے چونک کر مسکراتی نگاہیں کھولتی حیا،،،اپنی دلفریب یادوں سے باہر نکلی تھی۔۔۔وہیں پچھلا ٹائر یکلخت پنکچر ہوجانے کے سبب وقاص صاحب بھی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکلے۔۔۔
یکدم ہوتی عجیب سی بے چینی کے سبب حیا نے گہرا سانس بھرتے ہوئے اپنی طرف کا شیشہ نیچے کیا تھا۔
”صدقہ دے دو صاحب۔۔۔رب تمھارا۔۔تمھارے بچوں کا بھلا کرے گا صاحب۔۔۔ساری آفتیں تمھارے سر سے ٹال دے گا۔۔۔۔“ معاً پاس سے دوڑ کر گزرتی عورت نے کسی آدمی سے بےتابانہ صدقہ مانگتے ہوئے حیا کی توجہ شدت سے اپنی جانب کھینچی۔۔۔تو بےاختیار حیا کا ہاتھ ڈیش بورڈ پر پڑے اپنے وائٹ ہینڈ بیگ پر پڑا۔
ارادہ کرنے کے باوجود بھی وہ آج صبح مصروفیات کی وجہ سے صدقہ و خیرات نہیں کرپائی تھی۔۔۔جبھی اچھا موقع جان کر پانچ سو کے دو نوٹ تھامتی ہوئی گاڑی سے باہر نکل آئی۔
متلاشی نگاہیں دہرانے پر صدقہ مانگتی وہ عورت اُسے سڑک کے اُس پار آدمی کے پاس کھڑی ہوئی نظرآئی تھی۔۔۔جبکہ اِس دوران وقاص صاحب سارا معاملہ سمجھنے کے بعد،پوری قوت لگاتے ہوئے گاڑی کی ڈگی سے ایکسٹرا ٹائر کو باہر نکال چکے تھے۔
”سنو۔۔۔رکو۔۔۔مجھے بھی تمھیں صدقہ دینا ہے۔۔۔بات سنو میری۔۔۔۔۔۔“ وہ عورت پیسے لیتی اب آگے جانے کو تھی،جب حیا بےاختیار اُس کی جانب لپکتی ہوئی روڈ کراس کرنے کی ہمت کرگئی۔
پشت پر ابھرتی نسوانی پکار پر جہاں مانگتی ہوئی عورت فوراً پیچھے پلٹی تھی۔۔۔وہیں تیز رفتاری سے اسی جانب آتی سفید رنگ گاڑی،آدھی سڑک بآسانی پار کر چکی حیا کو جانتے بوجھتے ٹکڑ مارتی ہوئی پلوں میں آگے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔۔
نتیجتاً وہ چیختی ہوئی زوروں سے منہ کے بل شفاف سڑک پر گری تھی۔۔۔
پانچ سو کے نوٹ بھی گرفت سے نکل کر دور سڑک پر جا گرے۔۔۔
معاً ٹائر بدلتے وقاص صاحب نے پلٹ کر یہ دل دہلاتا منظر دیکھا۔۔۔تو حیرت سے سینے پر ہاتھ جماتے ہوئے فوری حیا کی جانب دوڑے۔۔۔۔
ایسے میں صدقہ مانگتی وہ عورت بھی آس پاس سے آتے لوگوں کے ہمراہ جلدی سے اُس کی جانب لپکی تھی۔
”آااااااہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔آااہ۔۔۔ہ۔۔۔۔بب۔با۔۔با۔۔۔۔۔۔“ پیٹ میں اٹھتی گہری تکلیف حیا کے پورے وجود میں پھیلتی ہوئی اُسے شدت سے تڑپنے پر مجبور کرگئی تھی۔
گھٹنے الگ چھل چکے تھے۔
”حیاااا۔۔۔۔میری بچی۔۔۔۔ی۔۔۔یہ یہ کیا ہوگیا ہے تمھارے ساتھ۔۔۔یا رب مدد فرما۔۔۔۔۔۔“ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنی بچی کا ناساز وجود سنبھالنے کی کوشش میں وقاص صاحب کی آواز بھیگتی چلی گئی۔
ہوچکے مِس کیرج کے سبب خون بہنے لگا تھا۔
اِ س دوران اطراف میں اکھٹی ہوتی انجان لوگوں کی بھیڑ کے سبب اِس سائڈ کی ٹریفک پلوں میں جام ہونے لگی تھی۔
”بب۔۔بابا۔۔۔۔م۔۔مم۔۔میرا۔۔۔۔بچ۔۔بچہ۔۔۔۔۔!!!!“ معاً بہتے آنسوؤں میں۔۔دھیرے دھیرے سے حواس گنواتی حیا وقاص کے لرزتے لب،،،آہستگی سے پھڑپھڑاتے ہوئے بےدم ہوتے چلے گئے۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”تمھیں اچھے سے معلوم ہے ناں کہ تمھارے چھوٹے بھائی کا شدید قسم کا ایکسیڈنٹ ہوچکا ہے۔۔۔میں نے تم سے وہاں آنے کو کہا بھی تھا لیکن پھر بھی تم اُس کا حال احوال پوچھنے نہیں آئے۔۔۔کیوں۔۔۔۔؟؟؟؟“ موبائل فون کے اسپیکر سے ابھرتی ہوئی درید صاحب کی آواز میں خاصا غصہ گھلا ہوا تھا۔
چئیر پر بیٹھے فائق نے ضبط بھری نگاہ اپنے مقابل سہمے کھڑے حمزہ کے چہرے پر ڈالی۔۔۔جو اِس وقت اُس کے شاندار۔۔بڑے سے گھر میں پول ایریا والی سائیڈ پر موجود تھا۔
بےاختیار ننھی سی کلائی پر گرفت مزید مضبوط کرتا وہ سرد مہری سے مسکرایا۔
”کیونکہ مجھے سوتیلے بھائی کی پرواہ کرنا رتی بھربھی گوارا نہیں ہے بابا۔۔۔انفیکٹ میں اُسے اپنا بھائی مانتا ہی نہیں ہوں۔۔۔آپ اِسے میری نفرت کی انتہا سمجھیں یا پھر خود کی ہوئی نافرمانی۔۔۔۔مگر میں اُس شخص کی عیادت کو قطعی نہیں آؤں گا جس کے دل میں میری مرحوم ماں کے لیے عزت نہ ہو۔۔۔۔اب رکھتا ہوں فون۔۔۔۔خدا حافظ بابا۔۔۔۔۔۔“ اطمینان سے ٹھہر ٹھہر کر بولتا ہوا وہ اگلے ہی پل تمسخر اڑاتے انداز میں کال کاٹ گیا تھا،،،اِس بات سے قدرے آگاہ کہ دوسری طرف اُس کا تپ چکا باپ اُسے ٹھیک ٹھاک کوسنا شروع ہوچکا تھا۔۔۔۔
معاً فون سائیڈ پڑے سٹول پر رکھتا کیفی حمزہ کی جانب پوری طرح سے متوجہ ہوا۔۔۔تو تھرتھراتے دل کے ساتھ وہ بچہ مزید گھبراگیا۔
”ڈ۔۔ڈیڈا مجھے نہیں سیکھنی کوئی بھی سوئمنگ۔۔پلیز۔۔۔مجھے گھر واپس چھوڑ آئیں ناں۔۔آئی ایم سکئیرڈ۔۔۔۔۔“ خود کے ساتھ ہونے والے سلوک کی بابت سوچتا ہوا وہ اٹک اٹک کر منت کررہا تھا۔
جواباً کیفی نے سر ہلاتے ہوئے اُس کی ننھی کلائی چھوڑ کر براہ راست کندھوں سے تھاما۔
”سکئیرڈ۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟لیکن تم اُس وقت کیوں نہیں ڈرے مائے بیڈ بوائے جب اپنی مومی سے میرے خلاف کھلم کھلا بکواس کررہے تھے۔۔ہوں۔۔۔؟؟؟“ دانت پیس کر پوچھتے ہوئے اُس کے تاثرات ایکدم سے سخت ہوئے تھے۔
خوف سے اُس کی سرخ گھورتی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے حمزہ کا حلق خشک ہوا۔
وہ ایک بار پھر سے جن کازاما کے خطرناک تیور اختیار کرچکا تھا۔
”س۔۔سوری ڈیڈا۔۔۔سو سوری۔۔۔ناؤ آئی پرامس۔۔آپ کے بارے میں،میں کسی کو بھی،،ک۔۔کچھ بھی برا نہیں بولوں گا۔۔۔پکا والا پرامس ڈیڈا۔۔۔۔۔“ اپنے کندھوں پر اُس کی سخت ہوتی گرفت محسوس کرتا وہ شدتوں سے ملتجی ہوا۔
خوف سے پھیلی ہوئی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔
جواباً کیفی نے آنکھیں میچ کر سر جھکایا۔
”تمھیں ڈرنا چاہیے تھا حمزہ۔۔۔۔میرے قہر سے بچنے کے لیے آفکورس تمھیں ڈرنا چاہیے تھا یار۔۔۔۔“ دھیمے سلگتے لہجے میں بولتا ہوا جہاں وہ ایکدم سے اٹھ کر اُس کے وجود کو کمر سے جکڑ ے اٹھا گیا تھا،،،وہیں فق ہوچکی رنگت کے ساتھ حمزہ نے خود کو تیزی سے سوئمنگ پول کی جانب بڑھتے دیکھا۔
معاً سورج کی گہری کرنوں تلے۔۔۔ کیفی نے بےدردی سے اُس کا مچلتا وجود ٹھہرے پانی میں پٹخ کر گہرا ارتعاش برپا کیا تھا۔۔۔۔
”آاااا۔۔۔ا۔۔ہ۔۔۔۔۔۔۔۔“ چھپاک کی آواز سے کہیں ذیادہ حمزہ کے حلق سے پھوٹتی بآواز بلند چیخ تھی۔۔
اگلے ہی پل اُسے جھٹکے سے ابھر کر بھیگا چہرہ پانی سے باہر نکالتے دیکھ۔۔۔کیفی سفاکی سے مسکراتا ہوا کنارے پر پنجوں کے بل بیٹھا۔
سیاہ رنگ بنیان میں کسرتی مسلز مزید واضح ہونے لگے تھے۔
بلاشبہ اُس کے ننھے وجود کے مقابلے میں پول کا یہ شفاف پانی کافی گہرا تھا۔
”با۔۔ہر۔۔۔باہر نکالیں۔۔۔مومی۔۔۔مومیییییی۔۔۔۔۔!!!“ گھٹتی سانسوں میں شدتوں سے ہاتھ پیر مارتا ہوا وہ پھر سے ڈوبنے کو ہوا تھا۔۔۔جب اچانک فائق خود بھی اطمینان سے پانی میں کود گیا۔۔۔۔
پھر سرعت سے حمزہ تک پہنچتے ہوئے،،اُسےکھینچ کر بآسانی پانی سے باہر نکال لایا۔
”ڈیڈا کے بوائے نے سیکھ لی سوئمنگ۔۔۔؟؟یا ابھی مزید سیکھاؤں۔۔۔؟؟؟“ گیلے کپڑوں میں شدتوں سے لرزتے حمزہ کو،،،نرمی سے چئیر پر بیٹھاتے ہوئے فائق نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دھیرے سے ہنستے ہوئے پوچھا۔۔۔تو وہ سسک کر گہرے گہرے سانس بھرتا ہوا تیزی سے سر نفی میں ہلاگیا۔
غلافی آنکھوں میں وحشت ہی وحشت تھی۔
”ن۔۔نہیں ڈیڈا۔۔۔نو۔۔نو۔۔نو میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا آپ کے بارے میں۔۔نو کمپلین۔۔۔کچھ برا نہیں بولوں گا ڈیڈا۔۔۔پن۔۔پنکی پرامس۔۔۔۔۔“ بھیگے فق گالوں پر ہاتھ جماتا وہ رو رو کر وہی ایک بات دُہرا رہا تھا۔۔جو کیفی حقیقتاً اُس کے معصوم دل و دماغ میں بیٹھانا چاہتا تھا۔۔۔
”گڈ۔۔۔ویری گڈ۔۔۔دیٹس لائک مائے بریو بوائے۔۔۔۔“ بےاختیار حمزہ کی بھیگی پیشانی کو مسکرا کر چومتا ہوا جہاں وہ اگلے ہی پل سٹول پر موبائل فون کے پاس پڑے سفید ٹاول کو تھامتا اُسے سر چہرے سے پونچھنے لگا تھا۔۔۔۔
وہیں کیفی کے مجبور کرنے پر وہاں آتی حسنہ وقاص یہ منظر دیکھتی ہوئی قدرے حیرت تلےٹھٹھکی۔
پھر معاملے کی سنگینی سمجھنے کی کوشش میں مشتعیل ہوتی تیزی سے اُن دونوں کی جانب لپکی۔
بھلا وہ حمزہ کو اپنے گھر کیوں لے آیا تھا۔۔۔؟؟؟
”ی۔۔یہ کیا کررہے ہو تم اِس معصوم بچے کے ساتھ۔۔۔؟؟؟یہ اتنا ڈرا سہما۔۔۔بھیگا ہوا کیوں ہے۔۔۔؟؟؟رکو۔۔۔!سوئمنگ کے بہانے یہاں لاکر کہیں تم اِسے مارنے کی کوشش تو نہیں کررہے تھے۔۔۔؟؟؟“ قریب آکر دونوں کو چونکاتی وہ قدرے چیخ کر پوچھ رہی تھی۔
جبکہ کچھ حد تک سنبھل چکے حمزہ کی ہمت ہی نہیں رہی تھی مقابل کے خلاف کچھ بھی بولنے کی۔۔۔
آخرکو بولتا بھی کیسے۔۔۔؟؟؟
فائق درید نامی ڈر انگ انگ میں جو گھل چکا تھا۔۔۔۔
معاً ماتھے پر تیوری چڑھا کر کھڑا ہوتا فائق تندہی سے حسنہ کی جانب پلٹا۔
پیلے رنگ سوٹ میں اُسے سر تا پیر دیکھتے ہوئے سرخ آنکھیں چمک سی اٹھی تھیں۔
”ارے واہ۔۔۔تمھارے نزدیک میری ہمہ وقت موجودگی تو تمھیں مزید سمجھدار بنا گئی ہےسوئیٹ ہارٹ۔۔۔۔آفکورس مارنا چاہتا تھا ۔۔۔مگر مار نہیں پایا۔۔۔وہ کیا ہے ناں۔۔۔ڈیڈا جو ہوں میں اِس معصوم بچے کا۔۔۔۔“ بھیگے ہوئے کسرتی سینے پر بازو باندھ کر طنزیہ لہجے میں کہتا ہوا وہ قدم قدم اُس کی جانب بڑھنے لگا تھا۔
جواباً ڈوبتے دل کے ساتھ اُسی کے انداز میں پیچھے ہٹتی حسنہ کو اُس کی ڈھٹائی پر ابال سا چڑھنے لگا۔
غضب کی حماقت کی تھی مقابل نے۔۔۔
”یُوچیپ۔۔ گھٹیا۔۔بےوقوف انسان۔۔۔اپنے اِس گندے کھیل میں ایک بےقصور بچے کو شامل کرکے آخر تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو۔۔۔ہاں۔۔؟؟تمھارے عشق میں اندھی ہوئی اِس کی ماں کو۔۔۔اگر اسی کے ذریعے ساری اصلیت کا پتا چل گیا تو؟؟؟؟سب برباد ہوجائے گا۔۔۔سب کچھ۔۔۔۔۔“ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قدرے غصے سے غراتی ہوئی وہ لرز ہی تو اٹھی تھی۔۔۔
اُس کے سلگنے پر کیفی کو لطف سا آنے لگا۔
”تمھارے معاملے میں چیپ ہوسکتا ہوں گھٹیا ہوسکتا ہوں۔۔مگر بےوقوف نہیں جانِ من۔۔۔اگر ہوتا تو حمزہ کو اپنے اِس گندے کھیل میں قطعی شامل نہ کرتا۔۔۔۔“ سوئمنگ پول کے دہانے پر پہنچتی وہ قدرے وحشت سے رکی تھی۔۔۔جب یکدم نازک کمر سے دبوچ کر قریب ترین کرتا وہ اُس کے خائف چہرے پر پھنکارا۔
حمزہ نے بےسکونی سے پلکیں جھپکاکر اُن دونوں کی نزدیکی کو دیکھا تھا۔
”م۔۔مطلب۔۔۔۔؟؟؟“ کیفی کی سیاہ بنیان کو سینے سے دبوچے۔۔۔وہ نم آنکھوں کے ساتھ صاف الجھی۔
”مطلب یہ کہ۔۔۔وہ بچہ پہلے دن سے ہی ہماری اصلیت سے واقف ہوچکا تھا۔۔۔سو تمھارے ساتھ ساتھ اُسے بھی اپنے رعب تلے لانا بڑا لازم تھا میرے لیے ڈارلنگ۔۔۔دیٹس اِٹ۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی سے پیشانی تا ٹھوڑی تک لکیر کھینچ کر کہتے ہوئے۔۔فائق درید نے جہاں اگلے ہی پل اُس کے نازک وجود کو پوری قوت سے خود سے پرے دھکیلا تھا۔۔۔
وہیں شدت سے اپنا توازن کھوتی حسنہ وقاص حلق کے بل چیختی ہوئی سیدھا پانی کی گہرائیوں میں جا گری۔۔۔
ایسے میں ہاتھوں میں تھامے سفید رنگ ٹاول پر ننھی سی گرفت بےاختیار سخت کرتے ہوئے۔۔۔ حمزہ کی نم غلافی نگاہیں ایک بار پھرخوف سے پھیلتی چلی گئیں۔۔۔
