Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode 30


ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 30
لاسٹ ایپیسوڈ

باسط اور ہانیہ کے نکاح کی تقریب اپنے عروج پر تھی شیرازی ہاؤس کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا مظفر شیرازی کے تیسرے پوتے کے نکاح کی دھوم ہر ٹی وی چینل پر ہو رہی تھی
یہ رشتہ باذل کی حتمی رائے سے طے پایا تھا باذل نے اپنا خیال مظفر صاحب سے کہا تو وہ خاصے خوش ہوئے اور پھر پہلی مرتبہ شیرازی ہاؤس میں ہونے والے فیصلے میں باہم بیٹھ کر گھر کی تمام خواتین سے مشورہ لیا گیا جس پر تمام خواتین نے حیرت کا اظہار کیا چچی جان کی تو باقاعدہ آنکھیں نم ہو گئیں انہوں نے کب سوچا تھا کہ اس طرح اتنے مان سے باذل ان سے ان کی بیٹی کا ہاتھ باسط کے لیے مانگے گا سرشاری سے رشتہ قبول کر لیا گیا اور نکاح کی تاریخ رکھ دی گئی
معصومہ کو جب معلوم ہوا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی جبکہ باسط اور ہانیہ سے باذل نے خود ہی ان کی مرضی پوچھی جس پر باسط کی تو مسکراہٹ ہی کنٹرول نہیں ہو رہی تھی بلاشبہ وہ اپنی خوشی باذل سے چھپا نہیں سکا جبکہ ہانیہ نے سر کو جھکا کر اپنی مرضی ظاہر کر دی
نکاح کی ساعتیں قریب آئیں تو ہانیہ کو دلہن کے روپ میں سجا کر لایا گیا
سرخ لہنگے میں اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ وہ باسط کے بلکل سامنے بیٹھی ہوئی تھی ایک پل کو دونوں کی نگاہیں ملیں تو دونوں کی دھڑکن تیز ہوئی ہانیہ نے فوراً نگاہیں جھکا لیں جبکہ باسط ابھی بھی مسلسل ہانیہ کے خوبصورت سراپے کو اپنی نگاہوں کے حصار میں لیے ہوا تھا

” چھوٹے ۔۔ ابھی نکاح نہیں ہوا ۔۔ اپنے بے قابو جذبات کو قابو میں رکھو ۔۔ اور نگاہیں بھی کنٹرول رکھو ۔۔!”
باسط کی بےقراری قائم کی نگاہوں سے مخفی نہیں تھی مسکراہٹ دباتا وہ باسط کو آنکھیں دیکھاتا لفظ چبا کر بولا تھا جبکہ پاس کھڑے باذل کی زیرک نگاہیں اپنے بھائی پر ہی تھیں وہ مطمئن تھا کہ باسط ، ہانیہ کو پسند کرتا ہے باسط کی پسندیدگی اس کی نگاہوں سے جھلکتی تھی اپنے فیصلے پہ اسے مزید سکون ہوا تھا

” بھائی ایک فیور ہی دے دیں ۔۔ !”
باسط قائم کے کاندھے پر بازو حمائل کرتا رازداری سے گویا ہوا جبکہ قائم نے نا سمجھی سے باسط کی آنکھوں میں دیکھا اور سوالیہ انداز میں بھویں اچکائیں

” باذل بھائی سے سفارش کر کے نکاح کے بعد رخصتی بھی کروا دیں ۔۔ “
چہرے پر بلا کی معصومیت سجائے انداز میں التجاء لیے باسط بولا

” کس خوشی میں ۔۔ ؟ “
باسط کے بھوری آنکھوں میں شرارت دیکھ کر قائم نے سخت انداز میں گھورا اور مصنوعی غصے میں بولا

” اب صبر نہیں ہو رہا بھائی ۔۔ “
باسط کی ذومعنی بات پر قائم نے بنا کسی لحاظ کے ایک مکہ باسط کی کمر میں جڑا جبکہ باسط کی گہری مسکراہٹ قہقہے میں بدل گئی

” کیا بات ہے دیور جی ۔۔ آج تو آپ کے قہقہے ہی کنٹرول نہیں ہو رہے ۔۔ اس قدر خوشی ۔۔ ماشااللہ ۔۔”
باسط کا قہقہہ سن کر بہت سے لوگ اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے جبکہ معصومہ اپنا بھرا بھرا وجود دوپٹے سے ڈھانپی قائم اور باسط کی جانب آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی پہنچی اور شرارت سے بولی

” ارے بھابھی آپ کے شریف و معصوم دیور کی خوشی کو چار چاند تب لگیں جب آپ ہی باذل بھائی کو آج ہی رخصتی پر راضی کر لیں ۔۔ “
قائم کے ساتھ دال نہ گلتی دیکھ کر باسط نے معصومہ کا رخ کیا جبکہ قائم نے معصومہ کو مسکرا کر دیکھا

” یہی خوشخبری دینے آئی ہوں میں کہ ہانیہ شیرازی کی رخصتی آج ہی باسط شیرازی سے طے پائی ہے۔۔ “
معصومہ خوش دلی سے کہتی باسط کو حیران کرگئی

” رئیلی بھابھی ۔۔؟؟”
باسط نے یقین دہانی چاہی

” ہاں ۔۔ ود یوئر برادر سب کا یہی ڈسیین ہے ۔۔ “
معصومہ مزید باسط کی معلومات میں اضافہ کرتی چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے بولی جبکہ باسط تو خوشی سے اچھل پڑا مگر اس سے پہلے وہ اپنی خوشی کا اظہار کرتا باذل مولوی صاحب اور مظفر صاحب کے ہمراہ ان سب کے قریب آیا

” باسط بیٹھ جاؤ نکاح شروع ہونے والا ہے ۔۔ “
باذل روعب دار انداز میں باسط کو حکم دیتا اب معصومہ کو ہانیہ کے پاس جانے کا اشارہ کیا تو معصومہ ، باذل کا اشارہ سمجھتی اثبات میں سر ہلاتی ہانیہ کی جانب بڑھ گئی
نکاح کے بعد باسط اور ہانیہ ایک ساتھ اسٹیج پر موجود تھے ان کے پاس ماہین اور معصومہ محو گفتگو تھیں جبکہ قائم اور باذل چہروں پر مسکراہٹ سجائے قریب ہی کھڑے تھے باذل کی گہری نگاہیں پے در پے معصومہ کو اپنے وجود پر محسوس ہو رہیں تھی جب نگاہیں ملتی تو دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیتے
دادا جان ، دادی جان کے ہمراہ اسٹیج پر تشریف لائے تقریباً ہر کوئی ہی اسٹیج کی جانب ہی متوجہ تھا مظفر صاحب نے ہانیہ کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر اسے دعائیں دی

” سب کچھ کتنا بدل گیا ہے نا ۔۔ “
معصومہ نے اپنے برابر کھڑے باذل کو آہستگی سے مخاطب کیا جو دادا جان کو خوش دلی سے مسکراتا دیکھ رہا تھا اور معصومہ کی سرگوشی پر چونکا

” for example ..?”
باذل نے اس کاہاتھ نرمی سے اپنی گرفت میں لیتے ہوئے پوچھا

” مثلاً دادا جان ۔۔ کتنا بدل گئے ہیں نا ۔۔ اور شیرازی ہاؤس کے اصول بھی ۔۔ “
معصومہ نے نگاہیں سامنے رکھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا باذل نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا جہاں مظفر صاحب اب ماہین اور قائم کو مسکرا پر کسی بات کا جواب دے رہے تھے

” میں نے کہا تھا نا جاناں خدا نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ “
باذل نے اب نگاہیں معصومہ پر رکھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا جبکہ معصومہ نے سامنے دیکھتے ہوئے پہلے اثبات میں سر ہلایا پھر باذل کا بازو تھام کر اسے سامنے متوجہ کیا جہاں مظفر صاحب زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی بیٹی ( نوشین صاحبہ ) کو سینے سے لگائے ان کی پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دے رہے تھے یہ منظر وہاں موجود ہر شخص کو اشکبار کر رہا تھا اپنے تمام گھر والوں کو ایک ساتھ خوش دیکھ کر باذل کے دل کے ہر گوشے میں سکون اتر رہا تھا جب اس کی نگاہ آنکھوں میں ویرانی لیے کھڑی شیرین صاحبہ پر پڑی ان کا اکیلا پن دیکھ کر باذل تڑپ گیا خودبخود باذل کے قدم ان کی جانب بڑھے

” امّی ۔۔!”
شیرین صاحبہ کو پکارتا وہ انکی جانب بڑھا جبکہ سالوں سے یہ لفظ سننے کو ترستی شیرین صاحبہ کے دل میں سالوں کی آس پوری ہوئی تھی وہ محبت پاش نگاہوں سے باذل کو دیکھنے لگیں جو ان کے پاس آ کر ان کا ہاتھ تھامے اپنے لبوں سے لگارہا تھا

” آج مجھے ماں کہہ کر تم نے ساری زندگی کی میری اذیت اور تڑپ ختم کر دی باذل ۔۔”
نم آنکھوں سمیت باذل کی کشادہ پیشانی کا بوسہ دیتے ہوئے شیرین صاحبہ نے مامتا بھرے انداز میں کہا جبکہ باذل نے آنکھوں میں آئی نمی چھپانے کے لیے فوراً پلکیں جھپکی معصومہ پہلی مرتبہ باذل کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر خود بھی رو پڑی

” میں نے کہا تھا نا باذل شیرازی میری بہن کے لیے بہترین ہمفسر ثابت ہوگا ۔!!۔”
قائم کی دھیمی آواز پر معصومہ نے نم آنکھوں سے اپنے قریب کھڑے قائم کو دیکھا جو اب معصومہ کو سینے سے لگا رہا تھا

” ٹھیک کہا تھا نا میں نے ۔۔ ؟”
معصومہ کے ہنوز خاموش سامنے کھڑے باذل اور شیرین صاحبہ کو دیکھتے ہوئے دوبارہ پوچھا تو معصومہ نے مسکرا کر سر کو جنبش دی اور آنکھیں صاف کرتی مسکرا کر بولی

” آپ نے صحیح کہا تھا بھیا ۔۔ “

” Beautiful ladies and cutest girls and and charming gentlemen please listen to me ..!”
اس قدر اداسی اور خوشی کے ملے جلے لمحات میں باسط کی شرارت بھری بلند آواز نے تمام مہمانوں سمیت شیرازی ہاؤس کے مکینوں کو اپنی جانب متوجہ کیا

” پلیز آج کے لیے اتنے ہی ایموشنز بہت ہیں ۔۔ میں اپنی شادی کی مووی میں اپنے بچوں کو کیا کیا بتاؤں گا یہ سب دیکھا کر ۔۔ تھوڑا رحم کریں مجھ دلہا پر آج شادی ہے میری ۔۔ “
اپنے بالوں کو شرارت سے کھجاتا باسط خاصی بلند آواز میں بولا کہ وہاں موجود ہر ذی روح کھلکھلا کر ہنسنے لگا ماحول پر چھائی اداسی مانند پڑنے لگی ہر نم آنکھ مسکرا اٹھی

” بس آخری بات میں کہنا چاہتا ہوں اپنے سب بچوں سے اگر میرے باسط پُتر کی اجازت ہو تو ۔۔؟”
مظفر صاحب کی آواز پر سب ان کی جانب متوجہ ہوئے

” ارے دادا جان میں تو مزاق کر رہا تھا ۔۔ آپ کو اجازت کی ضرورت نہیں ۔۔ “
باسط سر کو تھوڑا خم دے کر بولا

” بس آج اپنے بچوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے چھوٹے ہو کر مجھے زندگی کی خوبصورتی سے روشناس کروایا ۔۔
مظفر صاحب قائم اور باذل کو دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھے
” میرے بچوں نے مجھے بتایا کہ رشتوں کو بے جا سختی سے باندھ کر محض انہیں تکلیف دی جاتی ہے ۔۔
اب مظفر صاحب نے معصومہ کی جانب دیکھا

” میں اپنی بیوی ، اپنی بیٹی اور بہوؤں سے معافی مانگتا ہوں بہت ذیادتیاں کیں ہیں میں نے ۔۔ “
شکست زدہ لہجے اور پیشمانی و ندامت سے کہتے ہوئے مظفر صاحب کی آنکھیں پرنم ہوئیں تھیں

” مرشد صاحب ۔۔ رخصتی کا وقت ہو گیا ہے ۔۔ اور میرے پوتے کا مزید امتحان مت لیں ۔۔ رحم کریں اس پہ ۔۔ “
اس مرتبہ دادی جان نے ماحول کی اداسی کو ہلکے پھلکے مزاق کے ساتھ ختم کیا جبکہ ایک مرتبہ پھر سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھری باسط نے باقاعدہ قہقہہ لگایا جبکہ ہانیہ شرم و حیا کے باعث سرخ ہوتی خود میں سمٹ گئی

ہانیہ کو باسط کے کمرے میں لانے کے بعد سب ہنسی مزاق میں مشغول تھے جب باذل ہاتھ میں فروٹس کی پلیٹ تھامے معصومہ کے قریب آیا

” جاناں کچھ کھا لو تم نے کچھ نہیں کھایا ۔۔ !”

” کھلایا تو تھا اتنا آپ نے ۔ اب اور نہیں پلیز ۔۔ ! پہلے ہی کھلا کھلا کر موٹا کردیا ہے آپ نے “
معصومہ منہ بسورتی بولی تھی جبکہ اس کی بات پر سب ہنسنے لگے تھے جبکہ باذل نے اسے گھورا مگر معصومہ ، باذل کی گھوری کو کسی خاطر میں نہ لائی

” اچھا تم تھک گئی ہو گی چلو روم میں آرام کرو چل کر”
باذل اس بار التجائیہ انداز میں بولا تھا صبح سے نکاح کی تیاریوں میں معصومہ لگی ہوئی تھی یقیناً اب تھک گئی ہوگی باذل اس کا خیال کرتا بولا مگر اس سے پہلے معصومہ کچھ کہتی باذل کا موبائل بجا تھا اور وہ کال یس کرتا سیل فون کان سے لگائے باہر چلا گیا اس بار معصومہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی باذل کے پیچھے ہو لی
باذل جب کال کاٹتا مڑا تو سامنے معصومہ کو دیکھ کر ٹھٹھکا

” وہ مجھے ایک ضروری کام سے ابھی جانا ہوگا ۔۔ آئی ہوپ یو کین انڈرسٹینڈ ۔۔ !”
بغیر تمہید باندھے باذل نے اصل بات بتا دی

“افکورس آئی کین انڈرسٹینڈ ۔۔ آپ بے فکر ہو کر اپنے مشن پر جائیں میں اپنا اور ہمارے بےبی کا بہت خیال رکھوں گی ۔۔ “
معصومہ اپنے دل کی حالت پر قابو پاتی بولی جو باذل کی لمحہ بھر دوری پر آمادہ نہ تھا یقیناً ایک فوجی اور سیکرٹ آفیسر کی بیوی ان مشکلات سے گزرتی تھی معصومہ اپنے دل کو مضبوط کر چکی تھی بلاشبہ اسے باذل کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بننا تھا

” تھینک یو جاناں ۔۔”
معصومہ کو سینے سے لگاتا باذل دھیمی آواز میں بولا

” بٹ جلدی آئیے گا ۔۔ بےبی کو اپنے بابا کا بہت ویٹ رہے گا ۔۔ “
معصومہ ، باذل کے سینے سے سر اٹھاتی حکمیہ انداز سے بولی

” اور بےبی کی ماما کو ۔۔ ؟ “
باذل اپنے بھورے بالوں میں انگلیاں پھرتا آنکھیں سکیڑ کر بولا

” ہممم چلیں اب خیریت سے جائیں اور خیریت سے آئیں ۔۔”
باذل کی بات نظر انداز کرتی معصومہ دعا دیتی بولی اور پھر باذل کو بھیج کر وہ خود بھی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔

//////////////////////////////

سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے اب محض باسط اور ہانیہ کمرے میں اکیلے تھے باسط صد شکر کرتا کمرا لاکڈ کرتا شیروانی کا اوپر کا بٹن کھولتا بیڈ پر سمٹی بیٹھی ہانیہ کی جانب بڑھا

” ہاں جی تو کیسا لگا تیسرا خطاب ۔۔ آئی مین آنے والے بےبی کی چچی بننے کا عہدہ بہت مبارک ہو سویٹ ہارٹ ۔۔ “
دھڑم سے بیڈ پر گرتے ہوئے باسط نے ہنستے ہوئے کہا

” تم ایک نمبر کے فضول آدمی ہو اتنی جلد بازی دیکھانے کی کیا ضرورت تھی سب کیا سوچتے ہوں ۔ “
ہانیہ مصنوعی غصے سے بولتی آخر میں باسط کو ایک ہلکا سا مکہ مارتی بولی

” ظلم دلہن سب یہی سوچتے ہوں گے کہ ہانیہ کتنی لکی ہے جسے اتنا رومینٹک پلس ہینڈسم ہزبنڈ ملا ہے ۔۔ “
باسط فرضی کالر جھاڑتا بولا جبکہ ہانیہ اس بار مسکرا اٹھی

” یہ ہوئی نا نئی نویلی دلہنوں والی بات ۔ “
ہانیہ کے شرما کر مسکرانے پر باسط اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا

” آئی لو یو ہانیہ ۔۔ پتہ نہیں کب سے ۔ شاید جب پہلی بار تمہیں دیکھا تب سے ۔ “
ہانیہ کو اپنے قریب کرتے ہوئے باسط نے اس کے کان میں سرگوشی کی پہلی بار باسط کی قربت اس کا لمس محسوس کرتی ہانیہ کا وجود لرز اٹھا اور وہ آنکھیں سختی سے میچ گئی

” صرف اتنا کہوں گا کہ میرا ساتھ تمہیں عزت ، محبت اور تحفظ دے گا ۔ “
اپنی محبت کی پہلی مہر ہانیہ کی پیشانی پر ثبت کرتا باسط یقین دلاتا بولا

” سچ کہہ رہے ہو نا ۔۔ ؟”
مرد پر پہلی بار اعتبار کرتی ہانیہ لہجے میں ڈر لیے بولی

” میرا ساتھ جلد ہی تمہارے سارے ڈر دور کر دے گا یہ باسط شیرازی کا وعدہ ہے اپنی بیوی سے ۔۔”
ہانیہ کے چہرے کو دیکھتا باسط خمار آلود انداز میں گویا ہوا

” اجازت ہے ۔ ؟”
پھر اس سرگوشی کے ساتھ کمرے میں موجود روشنی گل ہوئی

//////////////////////////////

” یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔ ؟”
آج کافی دیر طبیعت بوجھل ہونے کے باوجود ماہین نے کچن میں کھڑے ہو کر قائم کی پسند کے کھانے بنائے تھے قائم کی اس قدر بے لوث محبت اور عزت و مان کا جواب دینا تو ماہین کو نہیں آتا تھا مگر وہ چھوٹی موٹی کوششیں کرتی رہتی تھی جس سے وہ قائم کو اپنی محبت کا احساس باخوبی دلاتی رہتی تھی ان چند ماہ میں وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت اور قربت کے اس قدر عادی ہو گئے تھے کہ چند پل دوری بھی ان دونوں کو جان لیوا لگتی تھی ابھی ماہین کچن سے تھک کر اپنے کمرے میں لیٹی ہی تھی آکر کہ اپنے بہت قریب قائم کی موجودگی کا احساس پا کر آنکھیں وا کیں تو قائم اپنے ہاتھوں سے اس کے سفید و سرخ پیروں کو نرمی سے دبا رہا تھا قائم کی اس حرکت پر ماہین اچھل ہی پڑی تھی مگر قائم نے اسے دوبارہ بیڈ پر لیٹا دیا

” مجھے خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا کہ میری خوبصورت سی بیوی اپنے ان خوبصورت پیروں کو صبح سے تکلیف دیے کچن میں کھڑی ہو کر میرے لیے کھانا بنا رہیں ہیں تو میں فوراً اپنی جان کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔۔ “
قائم چہرے پر بھرپور مسکراہٹ سجائے محبت سے بولا تو ماہین کے لب بھی مسکرا اٹھے

” اور آپ کے یہ خفیہ ذرائع ہیں کون جو میری مخبری ایف آئی اے سے کر رہے ہیں ۔۔؟”
ماہین اب مسکراہٹ دبائے چہرے پر بھرپور سنجیدگی سجائے بولی جبکہ قائم کے ہاتھ ابھی بھی ماہین کے سرخ پیروں پر تھے جنہیں وہ ہلکا ہلکا جنبش دے رہا تھا

” یہ ہماری جاب کے خلاف ہے جان من کہ میں اپنے بندے کا نام بتا دوں آپ کو ۔۔ یہ غداری زیب نہیں دیتی مجھ جیسے ایمان دار بندے کو ۔۔ “
قائم اب بیڈ پر ماہین کے مزید قریب ہوتا نہایت معصومیت سے گویا ہو جبکہ ماہین کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ضرور باسط نے ہی قائم کو بتایا ہے وہ ہی ایسی چھوٹی بڑی شرارتیں کرتا رہتا تھا

” آج تو قائم شیرازی صاحب کسی اور ہی موڈ میں لگ رہے ہیں خیریت ہے ۔۔؟؟”
ماہین ، قائم کی گہری نگاہوں کو اپنے وجود پر محسوس کرتی مسکرا کر پوچھ رہی تھی

” Maheen I wanna baby !”
ماہین کی کمر کے گرد اپنا حصار بناتے ہوئے قائم نے محبت سے چور انداز میں اس کے کان میں سرگوشی کی جبکہ ماہین تو قائم کے حکمیہ انداز پر قہقہہ لگا اٹھی جبکہ قائم نے خفت سے ماہین کو دیکھا جو اس کی خوبصورت خواہش کا مزاق اڑا رہی تھی

” اگر میں کہوں کہ آپ کی یہ خواہش پوری ہونے والی ہے تو ۔۔ !”
ماہین اب چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ سجائے بولی تھی کل رات سے ہی اس کی طبعیت خراب ہو رہی تھی اور وہ جانتی تھی کہ اس کی کیا وجہ ہے اسی لیے پہلی فرصت میں ڈاکٹر سے تصدیق کی اور تصدیق ہونے پر قائم کو یہ خبر دینے کے لیے کچھ مشقت کر کے اپنے ہاتھ سے کھانے بنائے تاکہ یہ خبر خالی خولی نہ دے

” کیا مطلب ۔۔؟”
ماہین کی ذومعنی مسکراہٹ اور بات سن کر قائم نے بے یقینی کی کیفیت میں عجلت میں پوچھا جس کے جواب میں ماہین نے سر کو قائم کے سینے پر ٹکا دیا

” ماہین آپ سچ کہہ رہی ہیں ۔۔ ؟؟ میرا مطلب میں ؟ اور آپ ۔۔؟ اوہ سچ میں کیا ؟ “
قائم اب پرجوش انداز میں ماہین کے دونوں بازو تھامے پوچھ رہا تھا جبکہ ماہین نے سر کو اثبات میں جنبش دی اور مسکرا کر پھر سے قائم کے سینے سے لگ گئی

” ماہین آج آپ نے بہت بڑی خوشخبری دی ہے مجھے ۔۔ تھینک یو جان من تھینک یو ۔۔”
قائم خوشی سے ماہین کی پیشانی پر بوسہ دیتا گویا ہوا

” نہیں قائم ۔۔ شکریہ تو مجھے آپ کا ادا کرنا چاہیے ۔۔ اتنی خوبصورت زندگی کا تصور تو کبھی نہیں کیا تھا میں نے ۔۔ آپ نے خاندانی رنجشوں کے باوجود میرا ہاتھ تھاما ۔۔ بابا نے مجھے بتایا تھا کہ پھوپھو کتنی مجبوری میں ان کے در پر آئیں تھی مگر بابا نے انہیں خالی ہاتھ لوٹا دیا ۔۔ اگر اس وقت بابا ان کا ساتھ دیتے تو آج شاید وہ زندہ ہوتیں ۔۔ اس سب کے باوجود آپ نے مجھے اپنا لیا ۔۔ ورنہ مجھے لگا تھا آپ ہمارا نکاح ختم کردیں گے ۔۔ “
ماہین ، قائم کی آنکھوں میں تکتی اپنا خدشہ ظاہر کرتی بول رہی تھی

” زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہوتی ہے ماہین ۔۔ امی کی جتنی زندگی تھی اتنی ہی جی انہوں نے ۔۔ مگر اذیت اس بات کی ہے کہ جتنی زندگی گزاری انہوں نے وہ سسک سسک کر گزاری ۔۔ اور یہ دکھ بھی بہت ہے کہ اگر ماموں اس وقت انہیں پناہ دے دیتے جب وہ بڑے مان سے اپنے بھائی کے گھر گئیں تھیں ۔۔ مگر ہمارے معاشرے میں بیٹی کو رخصت کرتے وقت اس کے کان میں یہ صور پھونکا جاتا ہے کہ تمہارا جنازہ اب سسرال سے ہی نکلنا چاہیے ۔۔ اس نصیحت کی مثال میری ماں ثابت ہوئیں ۔۔ مگر حیرت ہے ایسی دقیانوسی قسم کی باتوں پر ۔۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر بیٹی کی شادی کی ہے تو کم از کم اتنا خیال تو رکھو کہ وہ کس حال میں رہ رہی ہے ۔۔ نا کہ بوجھ کی طرح ایک بار اتار کر پھینک دو پھر پلٹ کر اس کی خبر ہی نا لو ۔۔ کہ وہ کیسے رہ رہی ہے ۔۔ عورت کے لیے میکہ ستون کی مانند ہوتا ہے جیسے چھت کو مضبوط رکھنے کے لیے ستون اہم ہے اسی طرح عورت کے پاؤں سسرال میں مضبوط رکھنے کے لیے ایسی سپوٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنی بہن یا بیٹی کا چند دن بعد حال احوال تو پوچھیں ۔۔ مگر افسوس میری امی بھینٹ چڑھ گئی “
اپنی ماں کے ذکر پر قائم کے چہرے پر اذیت ناک تاثر ماہین کو تڑپنے پر مجبور کر گیا قائم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر ماہین نے اسے جیسے تسلی دی

” ایک بات پوچھوں آپ سے ۔۔؟”
قائم کی سرخ آنکھوں میں دیکھتی وہ پوچھ رہی تھی جبکہ قائم نے مسکرا کر محض سر ہلا کر اجازت دی

” آپ نے بابا کو معاف کر دیا ۔۔ ؟”

” ہاں ۔۔!”
ماہین کے ڈر کر پوچھنے پر قائم نے اس کے رخسار کو نرمی سے چھو کر یک لفظی جواب دیا

” اور معصومہ نے ۔۔؟”
ماہین نے پھر سے سول داغا

” ہاں ۔۔!”
اس بار قائم نے سر کو بھی جنبش دی

” آپ کو کیسے معلوم ۔۔؟”
قائم کے یقین سے کہنے پر ماہین نے چونک کر اسے دیکھا

” اپنی بہن کو جانتا ہوں میں ۔۔ وہ منافق نہیں ہے جب پہلی مرتبہ آپ سے ملی تھی اسی وقت ماموں کی جانب سے اپنا دل صاف کر چکی تھی ۔۔ بےشک وہ غصے کی تیز ہے ۔۔ جو دل میں آتا ہے بول دیتی ہے ۔۔ مگر صاف دل ہے وہ معاف کر چکی ہے آپ بے فکر رہیں ۔۔ “
وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا جبکہ ماہین نے اس کی بات پر سر ہلایا

” آپ اتنے اچھے کیسے ہیں قائم ۔۔ کوئی اتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔؟ “
ماہین نے صاف گوئی سے پوچھا جبکہ ماہین کی بات پر قائم کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی

” خدا کا کرم اور آپ کے نصیب ۔۔!”
وہ ماہین کو دیکھتا مسکرا کر بولا

” شکر ہے قائم کہ آپ اپنے بابا جیسے نہیں ہیں ۔۔ اور نہ آپ نے میرے بابا کی کیں گئی ذیادتی کا بدلہ مجھ سے لیا۔۔ اللہ آپ کا بہت شکر کہ میرے نصیب میں قائم جیسے شوہر لکھے ۔۔”
قائم کو محبت اور تشکر بھری نگاہوں سے دیکھتی وہ دل میں سوچ رہی تھی

” چلیں ماہین اب گڈ نیوز سلیبریٹ کرتے ہیں ۔۔”
ماہین کو ہنوز خاموش دیکھ کر قائم اب لہجے میں شرارت سمائے ماہین کے لبوں کو گہری نگاہوں سے تکتا کہہ رہا تھا جبکہ ماہین نے اسے چونک کر دیکھا

” شرافت سے باہر چلیں ڈنر کے لیے ۔۔!”
ماہین اب قائم کو گھورتی حکمانہ انداز میں کہتی اٹھ کھڑی ہوئی

” ہاں چلیں پہلے یہ نیوز سب کو دیتے ہیں پھر آرام سے روم میں آ کر سلیبریٹ کریں گے ۔۔ “
قائم بھرپور سنجیدگی سے اپنا منصوبہ ماہین کے گوشہ گزار کرتا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ ماہین اس بار اپنی مسکراہٹ نہ روک پائی اور کھلکھلا کر ہنستی قائم کے سینے پر ہلکی سی چپٹ لگاتی آگے بڑھ گئی جبکہ قائم قہقہہ لگاتا اس کے پیچھے چل پڑا

///////////////////////////

” آپ آ گئے ۔۔ “
وہ نم بالوں کو تولیے سے خشک کرتی واشروم سے نکلی تو سامنے بیڈ پر باذل جوتے پہنے پاؤں لٹکائے آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا جبکہ اس کے سینے پر چند ماہ کی خوبصورت سی بچی لیٹی ہوئی تھی معصومہ کی آواز پر باذل نے آنکھیں کھول کر ایک مسکراتی نگاہ معصومہ پر ڈالی اور پھر سے آنکھیں موند کر ایک ہاتھ مشعل کے گرد حمائل کرلیا

باذل چند دن سے اپنے کسی مشن کے باعث گھر نہیں آیا تھا آج آیا تو سب سے پہلے اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کر بیٹھ گیا تھا یہ تو اب اس کی عادت میں شامل ہو گیا تھا وہ اگر باہر سے آتا تھا تو کافی دیر یوں ہی مشعل کے ساتھ گزارتا تھا
معصومہ ابھی یونیورسٹی سے آکر مشعل کو سلا کر فریش ہونے ہی گئی تھی اب تولیا رکھتی قدم قدم چلتی بیڈ کی جانب بڑھی اور باذل کے قدموں پر جھک کر اس کے جوتے اتارنے لگی جب باذل نے اپنے پیروں پر نرم لمس محسوس کیا تو فوراً آنکھیں کھولی

” جاناں ایسے نہیں کیا کرو پلیز ۔۔ !”
باذل ، مشعل کو سینے سے لگائے اب بیٹھ گیا تھا جبکہ ایک ہاتھ سے اس نے معصومہ کی کلائی نرمی سے تھام کر اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھایا تھا اور نرمی سے گویا ہوا تھا اب وہ معصومہ کے ہاتھ لبوں سے لگا رہا تھا

” آپ خدمت بھی نہیں کرنے دیتے مجھے ۔۔ ثواب کیسے ملے گا بھلا مجھے ۔۔ ؟؟”
معصومہ اب باذل کے بازو پر اپنے دونوں ہاتھ حائل کرتی منہ بسورتی بولی تھی جبکہ باذل اس کی بات اور انداز پر مسکرایا تھا

” خدمت کرنے کے اور بھی بہت طریقے ہیں جاناں ۔۔ “
باذل اپنی گود میں لیٹی ہوئی اپنے ہی نین نقش والی مشعل کے سرخ رخساروں پر نرمی سے بوسہ دیتا ہوا ایک نظر معصومہ کے بغیر دوپٹے کے وجود پر گہری نگاہ ڈالتا ذومعنی انداز میں گویا ہوا تھا جبکہ معصومہ کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے تھے وہ باذل کی شوخ نگاہوں سے بچتی اس کے کاندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گئی

” کھانا کھائیں گے آپ ۔۔ ؟؟”
وہ ہنوز آنکھیں میچے ہلکا سا مسکرا کر بات بدلتی پوچھ رہی تھی

” نہیں ۔۔ “
باذل نے یک لفظی جواب دیا اور اپنا بازو معصومہ کی نرم اور استحقاق بھری گرفت سے نرمی سے نکال کر اب اس کی نازک کمر کے گرد حمائل کر لیا تھا

” پھر کیا ارادہ ہے آپ کا ۔۔ ؟؟”
معصومہ اب باذل کی گود میں سوئی ہوئی مشعل کو دیکھتی مدھم آواز میں پوچھ رہی تھی

” میرے ادارے تو بہت نیک ہیں جاناں مگر تم نے ۔۔ !”
وہ ذومعنی انداز میں کہتا معصومہ کے بالوں پر لب رکھتا بات ادھوری چھوڑ گیا جبکہ معصومہ کے لب باذل کی بات سمجھتے ہوئے خودبخود مسکرائے وہ اب باذل کے سینے پر سر ٹکا گئی

” اب ایک بیٹی کے بابا ہیں آپ ۔۔ اب تھوڑی بہت شرم کر لیا کریں ۔۔ “
معصومہ ، باذل کی سفید رنگ کی شرٹ کو مٹھی میں دبوچتی آنکھیں موند کر بولی تھی اس کی بات پر باذل کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ در آئی

” جاناں ۔۔ تمہاری جیسی حسین بیوی پہلو میں ہو تو میرے جیسا شریف بہک ہی جاتا ہے ۔۔ “
باذل اب سوئی ہوئی مشعل کو بیڈ پر آرام سے لٹا کر معصومہ کو خود میں بھینچتے ہوئے بوجھل انداز میں بولا تھا

چند پل خاموشی کی نذر ہوئے تھے معصومہ کی دھیمی آواز نے خاموشی میں اشتعال برپا کیا تھا

” سنیں ۔۔ !”
وہ دونوں ہی آنکھیں موندے ایک دوسرے کی دھڑکن کو محسوس کر رہے تھے جب معصومہ دھیمی آواز میں گویا ہوئی

” جی جاناں ۔۔ !”
باذل نرمی سے اس کی کمر سہلاتے ہوئے بند آنکھوں سمیت بولا تھا

” سنڈے کو مجھے اپنے لیے اور مشعل کے لیے شاپنگ آپ کے ساتھ کرنی ہے ۔۔ آپ کب لے کر جائیں گے ہمیں ۔۔ “
معصومہ دھیمی آواز میں پوچھ رہی تھی

” جاناں جب آپ حکم کریں ۔۔ “
باذل سرشاری سے لہجے میں محبت لیے گویا ہوا تھا باذل کے محبت سے چور انداز پر معصومہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی بلاشبہ باذل کے عزت و محبت والی قربت نے اس کی زندگی حسین سے حسین تر کر دی تھی
جب وہ امید سے تھی باذل نے اس کا کس قدر خیال رکھا تھا بلکہ سارے گھر والوں نے معصومہ کو پلکوں پر بیٹھایا تھا وہ دن رات اپنی خوش بختی پر اپنے خدا کا شکر ادا کرتی تھی بلاشبہ باذل جیسا محبت اور عزت دینے والا ہمسفر پا کر وہ تو اپنی قسمت پر رشک کرتی ہی تھی بلکہ لوگ بھی رشک کرتے تھے

معصومہ کو چند ماہ پہلے مشعل کی پیدائش کا وقت یاد آیا تھا جب اس کی حالت بگڑی تھی باذل کس قدر پریشان ہو گیا تھا اور جب بیٹی پیدا ہونے کی خبر اسے ملی تو وہ بے اختیار ہی سجدہ شکر میں جھکا تھا اسے دیکھ کر مظفر صاحب سمیت شیرازی ہاؤس کے تمام مکینوں کی آنکھیں نم ہو گئیں تھیں

” جاناں کہاں کھو گئی ہو ۔۔ ؟؟”
معصومہ کو ہنوز خاموش پاکر باذل نے اسے نرمی سے اپنے سینے سے جدا کیا اور چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر پوچھنے لگا معصومہ باذل کے پکارنے پر چونکی تھی

” خدا آپ جیسا شوہر اور باپ ہر لڑکی کو دے ۔۔ “
معصومہ کی آنکھوں میں نمی آئی تھی اور وہ بھرائی آواز میں بولی تھی

” جاناں پلیز تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا میں ۔۔ “
باذل اپنے ہاتھوں کی پوروں سے نرمی سے اس کی گال پر آئے آنسو صاف کرتا ہوا آہستگی سے بولا

” میں خدا کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ۔۔ جس نے مجھے قائم بھائی جیسے بھائی دیے ۔۔ جنہوں نے باپ کی بھی کمی پوری کی میری ۔۔ اور آپ جیسا شوہر جس نے محبت سے پہلے عزت دی مجھے ۔۔ “
معصومہ باذل کی بھوری داڑھی پر اپنی نرم و نازک انگلیاں پھیرتی بھیگی آواز میں بولی تھی

” تم اور مشعل ہی تو میری زندگی ہو جاناں ۔۔ تمہاری آنکھوں میں آئے آنسو مجھے تکلیف دیتے ہیں ۔۔ تمہارا شوہر ہونے کے باعث تمہاری ہر تکلیف اور آنسو کا جواب دہ ہوں میں خدا کے آگے۔۔ “
باذل معصومہ کے چہرے کے نقوش اپنے لبوں سے مس کرتا محبت بھرے انداز میں گویا ہوا تھا جبکہ معصومہ کو ہمیشہ کی طرح باذل کے عزت و محبت بھرے الفاظ نے سرشار کیا تھا دل میں سکون ہی سکون اترا تھا

” ہر مرد اتنی عزت کیوں نہیں کرتا عورت کی ۔۔ ؟ ہر باپ اتنا پیار کیوں نہیں کرتا اپنی بیٹی سے ۔۔؟ “
معصومہ کی بھیگی درد بھری آواز پر باذل تڑپ گیا تھا بے اختیار ہی اس نے معصومہ کی پیشانی پر لب رکھتے اسے سینے سے لگایا تھا چند پل سرکے تھے کہ باذل نے اسے خود سے الگ کر کے اس کی سرخ نم آنکھوں میں دیکھا تھا وہ جانتا تھا کہ معصومہ کی بات کا اشارہ اپنے باپ کی جانب تھا جس نے کبھی نہ کسی عورت کی عزت کی اور نہ بیٹی کو پیار دیا

” ہر مرد کا اپنا ظرف ہوتا ہے جاناں ۔۔ کہ وہ کسی عورت کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے ۔۔ اس میں تربیت کا بھی عمل دخل ہوتا ہے مگر صحبت کا بھی اثر ہوتا ہے ۔۔ جیسے ہر عورت نیک اور وفادار نہیں ہوتی اسی طرح ہر مرد اعلی ظرف اور شریف نہیں ہوتا ۔۔میں ، قائم اور باسط اسی مظفر شیرازی کا خون ہیں جن کا خون ہمارے باپ ہیں تربیت بھی انہی کے ہاتھوں میں ہوئی ہے مگر ہم تینوں نے اپنے باپ کی بری صحبتوں سے سبق حاصل کیا ۔۔ ان کے جیسا بننے کے بجائے ہم تینوں ہی ان سے برعکس ہیں خدا کا شکر ہے ۔۔”
باذل دھیمی آواز میں مضبوط انداز میں کہتا ایک مرتبہ پھر معصومہ کو سینے میں بھینچ چکا تھا چند پل سرکے تھے جب مشعل کے رونے کی آواز نے ان دونوں کو اپنی جانب متوجہ کیا باذل نے مسکراتے ہوئے معصومہ کو نرمی سے اپنے بائیں بازو کے حصار میں لیا اور جھک کر مشعل کو اپنے دائیں بازو میں لے کر گود میں لے لیا معصومہ اب نم آنکھوں سے باپ بیٹی کے لاڈ دیکھ رہی تھی

” اس گھر میں آپ پہلے ایسے مرد دیکھے ہیں میں نے جو بیٹے کی خواہش کے بجائے بیٹی کی پیدائش پر دل سے خوش ہوئے ۔۔ “
معصومہ نگاہیں باذل اور مشعل پر رکھتے ہوئے لہجے میں محبت و عقیدت سمائے گویا ہوئی جبکہ معصومہ کی بات پر باذل کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ بکھری

” بیٹی کی پیدائش پر پریشان نہیں ہونا چاہیے بیشک خدا جس سے خوش ہوتا ہے اس کے گھر اپنی رحمت بیٹی کی صورت بھیجتا ہے ۔۔ بیٹا نعمت ہے تو ۔۔ بیٹی رحمت ہوتی ہے ۔۔ نعمت کا حساب ہوگا جبکہ رحمت کا ثواب ملتا ہے ۔۔ بیٹیاں قلب کا سکون ہوتی ہیں جاناں یہ مشعل کو پہلی مرتبہ اپنی گود میں لے کر احساس ہوا مجھے ۔۔ جب میں تھکا ہوا آتا ہوں خطروں سے لڑ کے تو اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کر سکون مل جاتا ہے ۔۔
بیٹیوں سے محبت کیسے کرتے ہیں یہ ہمارے پیارے نبی ص نے ہمیں اپنی بیٹی فاطمہ زہرہ سے محبت کرکے احسن طریقے سے بتلا دیا ہے ۔۔ ہر مسلمان باخوبی جانتا ہے کہ حضرت فاطمہ جب تشریف لاتیں تو آپ ص تعظیم میں اپنی جگہ سے اٹھ جایا کرتے تھے اور اسی رسول ص کو ماننے والے بیٹیوں کے حق تک ادا نہیں کرتے ۔۔ اپنی بیٹیوں سے تو پھر بھی سب محبت کرتے ہیں مگر دوسروں کی بیٹیوں کو کوئی انسان ہی نہیں سمجھتا ۔۔ تکلیف سب کو ہوتی ہے ۔۔ درد سب کو ہوتا ہے مگر محض اپنی بیٹی کا ۔۔ “
باذل اذیت بھری آواز میں کہتا آخر میں ایک سرد آہ بھرتا خاموش ہوا تھا جبکہ معصومہ نے اپنی بھیگی پلکیں اپنے ہاتھوں سے صاف کیں اور باذل کے مزید قریب ہو کر اس کے گال پر اپنا محبت بھرا لمس چھوڑا

” آئی لو یو مشعل کے بابا ۔۔ “
معصومہ کی اس مدھم سرگوشی نے باذل کو دل و جان سے مسکرانے پر مجبور کیا

” آئی لو یو ٹو مشعل کی ماما ۔۔”
معصومہ کے لبوں کو والہانہ انداز میں تکتے ہوئے باذل بےحد محبت سے بولا جبکہ باذل کی نگاہیں اپنے لبوں پر محسوس کرتی معصومہ دلکشی سے مسکراتی ہوئی باذل کا اشارہ سمجھتی اس کے لبوں پر جھک گئی جبکہ باذل پہلی مرتبہ معصومہ کی اس پیش رفت سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا معصومہ کا نرم استحقاق بھرا لمس اپنے لبوں پر محسوس کرتا مسکرایا اور اس کی گود میں موجود ننھی سی مشعل اپنے باپ کے سینے سے لگ کر ایک مرتبہ پھر سو گئی

////////////////////////////

ختم شد

السلام علیکم
آپ تمام پڑھنے والوں کا تہہ دل سے شکریہ
میں اپنے آپ کو کوئی بہت بڑی لکھاری نہیں کہتی بس تھوڑا بہت لکھ لیتی ہوں مگر آپ سب کی بے حد تعریف نے مجھے دل سے خوشی دی ہے
ناول ” تو رنگ دے ” کا ہر کردار اپنے اندر کہانی رکھتا ہے اور امید ہے جیسے مجھے ناول کے تمام کردار پسند ہیں اسی طرح آپ لوگوں نے بھی سب کرداروں کو سمجھ کر پڑھا ہوگا کچھ لوگوں کو معصومہ پر کبھی غصہ آیا ہوگا مگر معصومہ کا کردار باذل کی طرح بہت گہرا ہے ناول میں ہر رشتے کی خوبصورتی کی جھلک ہے اور سب سے بڑھ کر مرد کا خوبصورت اور مثبت روپ دیکھایا گیا ہے امید ہے آپ سب کو ناول پسند آیا ہو گا مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے گا اور فیڈبیک لازمی دیجیئے گا
شکریہ
آپ کی رائیٹر
فاطمہ

//////////////////////