Tu Rang De By Fatima Readelle50075

Last updated: 17 July 2025

Tu Rang De By Fatima

معمول کے برخلاف آج معصومہ نے بھی اس وقت ڈائننگ ہال میں قدم رکھا اور آہستہ سے قدم اٹھاتی ڈائننگ ٹیبل کے قریب پہنچی اور

آہستہ سے مشترکہ سلام کیا جس کا جواب دادا جان نے تو صرف سر ہلا کر دیا جبکہ ساجد صاحب نے بیٹی کو دیکھتے ہوئے جواب دیا

باذِل نے بھی جواب دینا تو کیا دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی جبکہ قائم نے مڑ کر بہن کو دیکھا باقی کسی نے اس طرف دھیان نہ دیا بلکہ کھانے میں مصروف رہے

ہلکے فیروزی رنگ کے لان کے سادہ مگر قیمتی جوڑا پہنے دوپٹہ سلیقے سے سر پر اوڑھے وہ سادہ سی کافی حسین لگ رہی تھی

" دادا جان مجھے آپ سے اجازت چاہیے تھی ۔۔۔۔۔۔ "

چھوٹی چچی نے معصومہ کو سر اٹھا کر دیکھا یہ صرف معصومہ تھی جو بغیر کسی کی خوف و ڈر کے دادا جان سے بے

دھڑک مخاطب ہوتی تھی جبکہ گھر کی باقی لڑکیاں تو دادا جان کے سامنے کم ہی آتی تھیں دادی جان نے بھی نا سمجھی سے معصومہ کو دیکھا باقی کسی نے کچھ خاص توجہ نہیں دی جبکہ مظفر صاحب نے بھی معصومہ کو دیکھنے تک کی زحمت گوارا نہ کی معصومہ نے پھر سے بولنا شروع کیا

" دادا جان ۔۔۔۔۔۔ میرا رزلٹ آگیا ہے ۔۔۔۔ مجھے آگے اب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا ہے ۔۔۔۔۔۔ "

وہ مظفر صاحب کو دیکھتی گویا ہوئی جبکہ اس کی بات پر سب کے ہاتھ رک گئے تھے اور سب کی نگاہ اب مظفر

صاحب پر تھی جو خود بھی ہاتھ روک کر پوتی کو سلگتی نظروں سے دیکھ رہے تھے دادی جان نے حیرت سے

معصومہ کو دیکھا باذِل نے بھی پہلے معصومہ کو پھر سامنے بیٹھے قائم کو دیکھا جو پر سکون بیٹھا دادا جان کو دیکھ رہا تھا جبکہ معصومہ بھی مطمئن تھی

" ہممم تو بہن کو شہ دی جا رہی ہے ۔۔۔۔" باذِل دل میں قائم سے مخاطب تھا

دادا جان نے سرد نگاہوں سے دادی جان کو دیکھا دادی جان نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں

" بانو ۔۔ کیا تمہارے علم میں یہ بات تھی۔۔۔؟؟" سرخ آنکھوں سے گھورتے وہ دادی جان سے مخاطب ہوئے

" مُرشد صاحب مجھے نہیں معلوم تھا ۔۔ ابھی اس کے منہ سے سن رہی ہوں ۔۔" دادی جان نے ڈرتے ہوئے جھکے سر کے ساتھ جواب دیا

" اس کا مطلب ہم یہ سمجھیں کہ یہ آج کل کی لڑکیاں قابو نہیں ہورہیں تم سے ۔۔" مظفر صاحب کے لہجے میں حقارت واضح تھی سرخ آنکھوں سے گھورتے وہ غصے سے بولے ان کی بات پر دادی جان نے بے بسی سے پہلے مظفر صاحب کو پھر معصومہ کو دیکھا اور سر جھکا لیا

" دادا جان یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں ۔۔ پر سکون رہیں آپ ۔۔۔ " قائم نے دادی کے جھکے سر کو دیکھ کر کہا

" معصومہ تم نے مجھ سے تو ذکر نہیں کیا بیٹا اس بات کا ۔۔۔۔۔ چلو اپنے روم میں جاؤ میں وہاں بات کرتا ہوں تم سے آکر ۔۔۔۔۔ " ساجد صاحب نے باپ کے ماتھے پر بل دیکھ کر فورا بات سنبھالنی چاہی

" بابا مجھ سے بات کر چکی ہے وہ ۔۔۔۔ مجھے تو اعتراض نہیں ہوا اس لیے کہا کہ دادا جان سے اجازت لے لو ۔۔۔۔ " قائم باپ کی بات پر انہیں دیکھتے ہوئے فورا بولا

" قائم تم جانتے ہو کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔ اب ہمارے خاندان کی لڑکیاں غیر مردوں کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں گی ۔۔۔۔۔" دادا جان کو اپنے پوتے کی بات قطعی پسند نہ آئی

" دادا جان جب ہمارے خاندان کے لڑکے ۔۔۔ غیر لڑکیوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ سکتے ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے ملک سے

باہر جا سکتے ہیں ۔۔ میں تو فقط تعلیم حاصل کرنے کی بات کر

رہی ہوں وہ بھی مقامی یونیورسٹی سے۔!!!۔۔۔" معصومہ بے خوف ہو کر بولی تھی اشارہ باذِل کی طرف تھاجو اپنی

تعلیم لندن سے حاصل کر

کے آیا تھا معصومہ کی بات پر سب نے اسے حیرت

سے دیکھا جبکہ باذِل نے بھی معصومہ کو ایک نظر دیکھا ساجد صاحب نے آنکھوں کے اشارے سے اسے خاموش ہونے کا کہا

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!