Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
ناول: تو رنگ دے
از قلم: فاطمہ
قسط نمبر 2
ڈائننگ ہال میں سب اپنی کرسیوں پر براجمان کھانا کھانے میں مصروف تھے ڈائننگ ہال میں ہر سمت روشنیاں تھی بیش قیمت فانوس بھی روشن تھا میز پر طرح طرح کے کھانے موجود تھے سربراہی کرسی پر مظفر صاحب پوری شان سے اپنے بیٹوں اور پوتوں کے ساتھ براجمان تھے ان کے دائیں جانب کی کرسی پر قائم اور بائیں جانب کی کرسی پر باذِل کھانا کھانے میں مصروف تھے جبکہ گھر کی خواتین کھانا سرو کرنے میں مصروف تھیں کیونکہ انہیں مردوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی اجازت نہ تھی جبکہ لڑکیاں سب اپنے کمروں میں تھیں
اس گھر کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی تھا کہ یہاں مرد پہلے کھانا کھاتے اس کے بعد خواتین ۔ جبکہ خواتین کو اپنے شوہروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی بھی اجازت نہ تھی یہاں تک کہ گھر کی بیٹیوں کو بھی اجازت نہ تھی
معمول کے برخلاف آج معصومہ نے بھی اس وقت ڈائننگ ہال میں قدم رکھا اور آہستہ سے قدم اٹھاتی ڈائننگ ٹیبل کے قریب پہنچی اور آہستہ سے مشترکہ سلام کیا جس کا جواب دادا جان نے تو صرف سر ہلا کر دیا جبکہ ساجد صاحب نے بیٹی کو دیکھتے ہوئے جواب دیا باذِل نے بھی جواب دینا تو کیا دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی جبکہ قائم نے مڑ کر بہن کو دیکھا باقی کسی نے اس طرف دھیان نہ دیا بلکہ کھانے میں مصروف رہے
ہلکے فیروزی رنگ کے لان کے سادہ مگر قیمتی جوڑا پہنے دوپٹہ سلیقے سے سر پر اوڑھے وہ سادہ سی کافی حسین لگ رہی تھی
” دادا جان مجھے آپ سے اجازت چاہیے تھی ۔۔۔۔۔۔ “
چھوٹی چچی نے معصومہ کو سر اٹھا کر دیکھا یہ صرف معصومہ تھی جو بغیر کسی کی خوف و ڈر کے دادا جان سے بے دھڑک مخاطب ہوتی تھی جبکہ گھر کی باقی لڑکیاں تو دادا جان کے سامنے کم ہی آتی تھیں دادی جان نے بھی نا سمجھی سے معصومہ کو دیکھا
باقی کسی نے کچھ خاص توجہ نہیں دی جبکہ مظفر صاحب نے بھی معصومہ کو دیکھنے تک کی زحمت گوارا نہ کی
معصومہ نے پھر سے بولنا شروع کیا
” دادا جان ۔۔۔۔۔۔ میرا رزلٹ آگیا ہے ۔۔۔۔ مجھے آگے اب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا ہے ۔۔۔۔۔۔ “
وہ مظفر صاحب کو دیکھتی گویا ہوئی جبکہ اس کی بات پر سب کے ہاتھ رک گئے تھے اور سب کی نگاہ اب مظفر صاحب پر تھی جو خود بھی ہاتھ روک کر پوتی کو سلگتی نظروں سے دیکھ رہے تھے دادی جان نے حیرت سے معصومہ کو دیکھا باذِل نے بھی پہلے معصومہ کو پھر سامنے بیٹھے قائم کو دیکھا جو پر سکون بیٹھا دادا جان کو دیکھ رہا تھا جبکہ معصومہ بھی مطمئن تھی
” ہممم تو بہن کو شہ دی جا رہی ہے ۔۔۔۔”
باذِل دل میں قائم سے مخاطب تھا
دادا جان نے سرد نگاہوں سے دادی جان کو دیکھا دادی جان نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں
” بانو ۔۔ کیا تمہارے علم میں یہ بات تھی۔۔۔؟؟”
سرخ آنکھوں سے گھورتے وہ دادی جان سے مخاطب ہوئے
” مُرشد صاحب مجھے نہیں معلوم تھا ۔۔ ابھی اس کے منہ سے سن رہی ہوں ۔۔”
دادی جان نے ڈرتے ہوئے جھکے سر کے ساتھ جواب دیا
” اس کا مطلب ہم یہ سمجھیں کہ یہ آج کل کی لڑکیاں قابو نہیں ہورہیں تم سے ۔۔”
مظفر صاحب کے لہجے میں حقارت واضح تھی سرخ آنکھوں سے گھورتے وہ غصے سے بولے ان کی بات پر دادی جان نے بے بسی سے پہلے مظفر صاحب کو پھر معصومہ کو دیکھا اور سر جھکا لیا
” دادا جان یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں ۔۔ پر سکون رہیں آپ ۔۔۔ “
قائم نے دادی کے جھکے سر کو دیکھ کر کہا
” معصومہ تم نے مجھ سے تو ذکر نہیں کیا بیٹا اس بات کا ۔۔۔۔۔ چلو اپنے روم میں جاؤ میں وہاں بات کرتا ہوں تم سے آکر ۔۔۔۔۔ “
ساجد صاحب نے باپ کے ماتھے پر بل دیکھ کر فورا بات سنبھالنی چاہی
” بابا مجھ سے بات کر چکی ہے وہ ۔۔۔۔ مجھے تو اعتراض نہیں ہوا اس لیے کہا کہ دادا جان سے اجازت لے لو ۔۔۔۔ “
قائم باپ کی بات پر انہیں دیکھتے ہوئے فورا بولا
” قائم تم جانتے ہو کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔ اب ہمارے خاندان کی لڑکیاں غیر مردوں کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں گی ۔۔۔۔۔”
دادا جان کو اپنے پوتے کی بات قطعی پسند نہ آئی
” دادا جان جب ہمارے خاندان کے لڑکے ۔۔۔ غیر لڑکیوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ سکتے ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے ملک سے باہر جا سکتے ہیں ۔۔ میں تو فقط تعلیم حاصل کرنے کی بات کر رہی ہوں وہ بھی مقامی یونیورسٹی سے۔!!!۔۔۔”
معصومہ بے خوف ہو کر بولی تھی اشارہ باذِل کی طرف تھاجو اپنی تعلیم لندن سے حاصل کر کے آیا تھا معصومہ کی بات پر سب نے اسے حیرت سے دیکھا جبکہ باذِل نے بھی معصومہ کو ایک نظر دیکھا ساجد صاحب نے آنکھوں کے اشارے سے اسے خاموش ہونے کا کہا
“زبان مت چلاؤ لڑکی ۔۔۔ ہماری سات پشتوں میں ایسی زبان دراز لڑکی پیدا نہیں ہوئی اور یاد رکھو اگر کوئی ایسی پیدا ہو جاتی ہے تو ہم اسے زندہ در گور کرنے میں وقت نہیں لگاتے ۔۔۔ یہ تمہاری وجہ سے آج ایسی خود سر اور بدتمیز ہوئی ہے ۔۔۔ کہا بھی تھا کہ لڑکی ذات ہے اتنا لاڈ پیار کس بات کا ۔۔۔”
مظفر صاحب نے ساجد صاحب کو سرخ ہوتی آنکھوں سے گھورتے ہوئے کہا
” بس بہت ہے اتنی تعلیم ۔۔ زیادہ تعلیم لڑکیوں کو باغی بنا دیتی ہے ۔۔”
وہ اب معصومہ کو گھورتے ہوئے دھاڑے تھے
” دادا جان تعلیم انسان کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۔۔ باشعور بناتی ہے ۔۔ نہ کہ باغی کرتی ہے ۔۔ “
وہ نہایت ادب سے مضبوط انداز میں بولی
” بکواس بند کرو لڑکی ۔۔ اب یہ کل کی لڑکی ہمیں تعلیم کے متعلق تقریر سنائے گی ۔۔ دفع ہو جاؤ لڑکی یہاں سے”
مظفر صاحب غصے میں دھاڑے
ان کی دھاڑ پر سب خوفزدہ ہوگئے جبکہ معصومہ کچھ بے خوف تھی جیسے اسے معلوم تھا یہ سب تو ہوگا اس لیے وہ تیار تھی باذِل ایسے بنا ہوا تھا جیسے وہاں موجود ہی نہ ہو بس آرام سے کھانا کھانے کے بعد موبائل پر مصروف ہوگیا
” دادا جان پرسکون رہیں ۔۔ “
قائم نے میز پر رکھے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا
” یہ لڑکی ہمارے سامنے کھڑی ہو کر زبان چلا رہی ہے ۔۔ ہرگز اسے یونیورسٹی سے پڑھنے کی اجازت نہیں دے سکتا میں ۔۔ “
وہ قائم کو دیکھتے ہوئے گویا ہوئے
” دادا جان ۔۔۔۔ ہر بات ایک طرف ۔۔۔ لیکن معصومہ یونیورسٹی سے ہی سٹڈی کمپلیٹ کرے گی ۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے آج کے زمانے میں ۔۔۔۔ اور ہمیں بیٹیوں کو اعتماد دینا چاہیے نا کہ بے جا سختی کرکے ان کو ان کے حق سے ہی محروم رکھنا قطعی ٹھیک نہیں ہے۔۔ ۔ ویسے بھی مجھے اپنی بہن پر اعتماد ہے ۔۔۔۔۔ “
یہ قائم ہی تو تھا جو ہمیشہ معصومہ کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو جاتا تھا بھائی ہی تو بہنوں کا مان ہوتے ہیں معصومہ نے دل میں دعا کی کہ اللہ سب بہنوں کو ایسا ہی بھائی دے
” قائم تعلیم حاصل کرنے سے اسے کسی نے نہیں روکا ۔۔۔۔۔ باقی لڑکیاں بھی تو گھر بیٹھ کر پڑھ رہیں ہیں ۔۔۔۔ تو یہ انوکھی ہے کیا ۔۔۔۔”
اب وہ کچھ نرم پڑے تھے لیکن لہجہ ابھی بھی سرد تھا
” دادا جان میں کسی اور کا کچھ نہیں کہہ سکتا ۔۔۔۔۔ ہاں اپنی بہن کے لیے چپ نہیں رہوں گا ۔۔۔۔۔ باقی آپ فکر نہیں کریں ۔۔۔۔ میں خود لے کر اور چھوڑ کر آیا کروں گا معصومہ کو ۔۔۔۔۔”
وہ انہیں تسلی دیتے ہوئے بولا
” قائم تم میرے پوتے ہو اس لیے تمہاری کوئی بات نہیں ٹال سکتا ۔۔۔۔ باقی باذِل سے بھی پوچھ لو ۔۔۔۔ کیونکہ چند دن میں یہ باذِل کی بیوی بن جائے گی ۔۔۔۔ “
انہیں امید بندھی کہ باذل انکار کردے گا تو وہ قائم کو سمجھا لیں گے
دادا کی بات پر قائم اور معصومہ نے ایک ساتھ باذِل کو دیکھا باذِل نے بھی موبائل سے نگاہیں اٹھا کر عجیب مسکراہٹ کے ساتھ دونوں بہن بھائی کو دیکھا
” دادا جان ابھی تو کرنے دیں ۔۔۔۔ جو یہ چاہتی ہے ۔۔۔۔ آگے جب میرے نکاح میں آئے گی تو پھر دیکھا جائے گا ۔۔۔۔۔”
باذِل نے ایسا جواب دیا تھا کہ معصومہ اور قائم سمیت سب نے حیرت سے اسے دیکھا
معصومہ اور قائم باذِل کی بات پر الجھ سے گئے جانے باذِل کے دماغ میں کیا چل رہا ہے
////////////////////////////
جانے رات کا کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی تھی یکدم وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
لیمپ کی مدھم روشنی میں اس نے گھڑی میں وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے بالوں کا جوڑا بنا کر دوپٹہ اوڑھ کر اٹھی اور واشروم میں گھس گئی
چند لمحوں بعد جب واپس آئی تو وضو کا پانی اس کے شاداب چہرے کو مزید نور بخش رہا تھا
دوپٹہ سر پر اوڑھ کر وہ اپنے کمرے سے نکلی اور تین چار کمرے عبور کر کے ایک کمرے کے دروازے کے باہر کھڑی ہو گئی جو اندر سے روشن تھا کمرے کو روشن دیکھ کر اس کے لب مسکرائے اور پھر بنا آہٹ کیے وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی جہاں ایک خاتون مصلے پر بیٹھی محو عبادت تھیں
معصومہ نے کمرے میں داخل ہو کر دیوار کے ساتھ پڑے ہوئے میز کے اوپر سے مصلہ اٹھایا اور ان خاتون کے برابر بچھا کر تہجد کی نیت باندھ لی
نماز ادا کر کے جب اس نے اپنے ساتھ بیٹھی ان خاتون کو دیکھا تو وہ پہلے ہی مسکرا کر اسے دیکھ رہیں تھیں
” پھوپھو جان ۔۔۔ “
ان کو پکار کر وہ ان کے گلے لگ گئی
” جی پھوپھو کی جان ۔۔۔”
وہ اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے بولیں جب معصومہ کچھ نہ بولی تو وہ پھر سے گویا ہوئیں
” میری بچی کیوں پریشان ہے ۔۔۔؟؟”
” پھوپھو جان ۔۔۔ مجھے باذِل سے شادی نہیں کرنی ۔۔ آپ کچھ کریں نا پلیز ۔۔”
ان کے سینے سے جدا ہو کر وہ بولی
” معصومہ کیوں نہیں کرنی ۔۔ “
” پھوپھو جان وہ بلکل اچھا نہیں لگتا مجھے ۔۔۔”
وہ منہ بسورتی بولی تھی اس کے انداز پر انہیں ہنسی آئی مگر ہنسی دبا کر وہ بولیں
” کیوں بچے ۔۔؟؟”
” پھوپھو جان ۔۔ اس دن دیکھا تھا آپ نے کیسے رانی کو ڈانٹ رہا تھا۔۔ اور بلاوجہ نکال دیا اسے ۔۔ اتنی غریب تھی وہ ۔۔ بیچاری کا گزارہ کیسے ہو رہا ہو گا ۔۔”
معصومہ کو چند دن پہلے ہوا واقعہ یاد آیا جب باذِل نے کسی ملازمہ کو نکال باہر کیا تھا وہ اتنا رو رو کر معافی مانگ رہی تھی لیکن باذِل صاحب کہاں کسی کو دوسرا موقع دیتے ہیں وہ اس واقعہ کو یاد کرتی اداسی سے بولی
” بیٹا اللہ مالک ہے سب کا ۔۔ رازق تو وہ خدا ہے نا ۔۔ بندہ تو بس وسیلہ ہوتا ہے ۔۔ اور تم بد گمان مت ہو باذل سے ۔۔ رانی والے معاملے میں باذِل غلط نہیں تھا ۔۔ “
انہوں نے اس کی بد گمانی دور کرنی چاہی کیونکہ رانی نے چوری کی تھی اور باذل کیسے اسے معاف کردیتا
“آپ کا بھی تو وہ لاڈلا ہے ۔۔۔ آپ کچھ بھی نہیں کہتی اس کو ۔۔ “
اسی بات سے تو اسے چڑ تھی سب باذل کی حمایت کرتے تھے
” بیٹا کل کیوں ابا جان کے سامنے اتنا بولی تھی تم۔۔ شکر کرو ابا جان نے تمہاری پڑھائی پر پابندی عائد نہیں کی ۔۔”
انہیں کبھی کبھی معصومہ کی بے دھڑک بولنے والی عادت سے ڈر لگتا تھا
” آپ لوگوں کی طرح خاموش نہیں رہ سکتی ۔۔۔ اور اگر میرا بس چلے تو باذل سے کبھی نکاح نہ کروں ۔۔ “
وہ چاہ کے بھی کچھ نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ قائم راضی تھا تو اب چاہ کر بھی وہ انکار نہیں کر سکتی تھی
” معصومہ بچے ایسے کیوں بول رہی ہو ۔۔ بتاؤ کیا ہوا ہے ۔۔؟؟”
انہیں وہ باذِلسے کافی بدگمان لگی جو کہ آگے چل کر ان دونوں کے رشتے کے لیے ٹھیک نہیں تھی
” مجھے شیرازی ہاوس سے نکلنا ہے ۔۔ !!”
وہ گہرا سانس کھینچ کر بولی
” یہ کیا اول فول بول رہی ہو تم ۔۔”
نوشین صاحبہ کو سمجھ نہ آیا کہ وہ چاہ کیا رہی ہے
” میں آپ سب کی طرح اپنے دل میں خوابوں کی قبریں نہیں بنا سکتی۔۔ اور نہ اپنے ہاتھوں سے اپنے ارمانوں اور خوابوں کا قتل کر کے دفنا سکتی ہوں ان قبروں میں ۔۔”
وہ نوشین صاحبہ کو دیکھتی ٹھہر ٹھہر کر بولی
” کون سے خواب ؟؟۔۔”
” بھائی سے اجازت لے کر وہیں یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رکنا چاہتی ہوں۔۔ کیونکہ شیرازی ہاوس کے مکین میرے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔۔”
وہ اپنے مخصوص بے خوف انداز میں بولی
” معصومہ کون سے خواب ۔۔ ؟ کیا کہہ رہی ہو یہ ؟؟”
انہوں نے نا سمجھی سے پوچھا خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی محسوس ہوئی
” اینکر بننا چاہتی ہوں میں ۔۔”
وہ ان کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی
” دماغ تو نہیں خراب ہوگیا تمہارا ۔۔ ہوش میں تو ہو ۔۔ پتہ بھی ہے کیا کہہ رہی ہو ۔۔؟؟ شیرازی خاندان کی بیٹی اور ہونے والی بہو ٹی وی پر آئے گی ۔۔یہ سوچ کیسے آئی تمہارے دماغ میں۔۔ “
چند پل لگے تھے انہیں سب سمجھنے میں اور جب سمجھ آئی تو وہ دبے دبے غصے سے بولیں
ماں کی طرح پالا تھا انہوں نے معصومہ کو اور ماں تو اولاد سے باز پرس کرنے کا حق رکھتی ہے
” پورے ہوش و حواس میں بول رہی ہوں میں پھوپھو جان ۔۔”
معصومہ کی بات پر بغور انہوں نے اسے دیکھا پھر گہرا سانس لے کر بولیں
” معصومہ یہ دنیا بہت ظالم ہے ۔۔ جیسی دیکھائی دیتی ہے درحقیقت اس سے بہت مختلف ہوتی ہے ۔۔ اچھائی کا نقاب لپیٹ کر آتے ہیں اور آپ کو لوٹ کر چلے جاتے ہیں لوگ ۔۔”
” جو اپنوں کے مکروہ چہرے دیکھ لیں انہیں دنیا کے کسی شخص کا بے نقاب چہرہ دیکھ کر دھچکا نہیں لگتا۔ “
اس کے چہرے پر اذیت واضح تھی مگر لہجہ سرد تھا
” میں مانتی ہوں شیرازی ہاوس میں لڑکیوں پر بےجا سختی کی جاتی ہے بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔۔ یا یوں کہنا بہتر ہوگا کہ عورت کو بے کار شے یا حقیر سمجھا جاتا ہے ۔۔ لیکن بیٹا یہ قید اُس ظالم دنیا سے بہتر ہے ۔۔”
اس کے چہرے پر اذیت کا تاثر دیکھ کر درد نوشین صاحبہ کو بھی ہوا اب وہ اسے نرمی سے سمجھاتی بولیں
” آپ کی یہ مایوسی کُن باتیں ۔۔ میرا حوصلہ پست نہیں کر سکتیں۔۔ مجھے لگا تھا آپ سمجھے گی ۔۔”
وہ نظریں چرا کر بولی تھی
” میں تمہارا حوصلہ پست نہیں کر رہی بیٹیوں کی طرح پالا ہے میں نے تمہیں۔۔ بھابھی کے بعد۔۔ فکر مند ہوں میں تمہارے لئے ۔۔”
وہ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر بولیں
” پھوپھو جان آپ فکر مند نہ ہوں ۔۔”
وہ مسکرا کر بولی مگر اس کی مسکراہٹ میں بھی درد تھا
” تم سات پردوں میں پلنے والی کھلتی کلی ہو۔۔ زمانے کی سختیاں کیسے جھیل پاؤ گی ۔۔ “
نوشین صاحبہ ابھی بھی فکر مند تھیں
” آپ کی دعائیں ساتھ ہوں گی نا ۔۔ پھر کیسی مشکلیں ۔ “
معصومہ ان کے ہاتھ تھام کر بولی
” معصومہ دنیا جھوٹ و فریب سے بھری ہوئی ہے ۔۔۔ وحشی اور درندوں سے بھری ہوئی ہے ۔۔ بہت ظالم ہیں لوگ ۔۔ تم باپردہ لڑکی ہو ۔۔ دین کے احکامات پر عمل کرتی ہو ۔۔ ایسا نہ ہو کہ خوابوں ، خواہشوں کو پورا کرتے ہوئے تمہارا ایمان کمزور ہو جائے ۔۔ “
وہ اس کے چہرے کو بغور دیکھتے اسے سمجھا رہیں تھیں
” میں ایک ایماندار اور باپردہ اینکر بھی تو بن سکتی ہوں ۔۔۔۔ آپ دیکھئے گا میں ایسا بن کے دیکھاؤ گی ۔۔ “
وہ پُر عزم تھی نوشین صاحبہ اسے بس دیکھے گئیں لیکن بولی کچھ نا
” پھوپھو جان پلیز کچھ کریں نا مجھے نہیں کرنا باذِل سے نکاح ۔۔ اگر میں اس کے نکاح میں آ گئی تو کبھی ممکن نہیں ہونے دے گا وہ جو میں چاہتی ہوں ۔۔ “
وہ آنکھوں میں التجا لیے بولی تھی
” معصومہ خدا کی ذات پر یقین رکھو ۔۔ اللہ کے فیصلے کو قبول کرو ۔۔ اگر باذِل کو ہی خدا نے تمہارا ہمسفر لکھا ہے تو ۔۔ اللہ کے دیئے پر راضی رہو ۔۔ مجھے یقین ہے اب تم بے تکی باتیں نہیں کرو گی ۔۔”
معصومہ کو سینے سے لگا کر وہ بولیں تھیں معصومہ بھی خاموش ہو گئی
//////////////////////////
” معصومہ یار کل تمہارا نکاح ہے تو پھر کیسا محسوس کر رہی ہو ۔۔۔؟”
سب لڑکیاں کافی دیر سے اس کے کمرے میں ڈیڑہ جمائے اسے چھیڑ چھاڑ رہیں تھیں اور اسے اب اس ساری باتوں سے اکتاہٹ ہو رہی تھی
” معصومہ تم بہت لکی ہو ۔۔ باذِل بھائی بہت ہینڈسم ہیں ۔۔ کیا باڈی ہے یار ۔۔ یہ ڈولے شولے ۔۔ “
یہ ہانیہ تھی جو کافی شوخ و چنچل لڑکی تھی وہ سب تقریبا ہم عمر تھیں ان سب میں دوستی ، بے تکلفی بہت تھی
” اوئے سب چھوڑو ۔۔ تم بس ان کی بیئرڈ دیکھو یار ۔۔ اتنی جچتی ہے ۔۔”
رانیہ بھی رشک کرتی بولی تھی
” یار باذِل بھائی کی تو ساری پرسنیلٹی ہی کمال ہے ۔۔۔ اتنے ڈیشنگ ہیں یار وہ تو ۔۔۔”
” تم لوگوں کا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ۔۔ وہ دو نمبر آدمی تم لوگوں کو ڈیشنگ لگتا ہے ۔۔ دادا جان کا جونئیر پارٹ ہے وہ ۔۔ “
معصومہ کو باذل کی اس قدر تعریف بلکل ہضم نہیں ہو رہی تھی بار بار پہلو بدل رہی تھی
” معصومہ مُرشد ہیں وہ تھوڑی عزت کرو یار ۔۔”
ہانیہ نے اسے ٹوکا تھا
” تم لوگوں کا مُرشد ہو گا وہ ۔۔ اور پلیز بند کرو باذل کے قصیدے پڑھنا اب ۔۔ اور نکلو میرے روم سے سب نیند آ رہی ہے مجھے بہت ۔۔”
معصومہ ان سب کو باہر کا راستہ دکھاتی ہوئی بولی
” معصومہ مجھے لگ رہا ہے تم ہمارے سامنے شرما رہی ہو ۔۔ دل میں تو تمہارے لڈو پھوٹ رہے ہیں ۔۔”
ہانیہ کہاں چپ رہ سکتی تھی
” ہاں نا ۔۔ پورے ہیرو ہیں باذِل بھائی ۔۔ ویسے یہ تو بتاؤ یہ ارینج میرج تو نہیں لگتی ۔۔ باذِل بھائی نے پروپوز کیا ہے نا تمہیں ۔۔؟”
رانیہ رازداری سے معصومہ کے قریب ہو کر بولی تو معصومہ نے گھور کر اسے دیکھا
” ہانیہ سٹاپ اٹ یار “
” ویسے ہنی مون پر کہاں جا رہے !!!”
دادی جان کو کمرے کے دروازے پر کھڑا دیکھ کر ہانیہ کی زبان تالو کو لگ گئی جبکہ اسے اچانک خاموش ہوتا دیکھ سب نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو سب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں اور پھرتی سے سروں پر دوپٹہ اوڑھا
” خدا کو مانو لڑکیوں ۔۔۔ یہ کس قسم کی بےہودہ گفتگو ہو رہی ہے یہاں ۔۔ یہ تربیت ہو رہی ہے ان کی بہو “
دادی جان نے لڑکیوں سے نگاہیں ہٹا کر پشت پر کھڑی دونوں بہوؤں کو برہمی سے دیکھا تو تائی اور چچی نے پشیمان ہوتے ہوئے نگاہیں جھکا لیں
” اپنی زبانوں کو لگام دو لڑکیوں ۔۔۔ اگر آئندہ میں نے یہ بے ہودگی سنی تم سب کی زبانوں سے تو مردوں سے پہلے میں تم لوگوں کی زبانیں کھنچ لوں گی۔۔”
دادی جان کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے ان کی سب باتیں سن لیں ہیں
معصومہ نے دل میں ہی ہانیہ کو گالیوں سے نوازا
” شیرین ۔۔”
انہوں نے پشت پر کھڑی ہوئی تائی جان کو پکارا
” جی۔۔ حکم کریں اماں جی “
تائی دو قدم آگے بڑھ کر مؤدبانہ بولیں
” معصومہ کا نکاح کا جوڑا رکھو یہاں ۔۔ “
انہوں نے میز کی جانب اشارہ کیا تو تائی جان نے لباس لیے کھڑی ملازمہ کو اشارہ کیا تو ملازمہ نے ایک شاندار لباس عروسی میز پر سجا دیا
اتنے میں دادی جان کرسی پر براجمان ہو چکیں تھیں
” معصومہ یہاں آؤ ۔۔”
انہوں نے معصومہ کو اپنے قریب آنے کا حکم دیا تو معصومہ ان کے قریب آ کر کھڑی ہوگئی
” جی دادی جان ۔۔”
” کل مغرب کے بعد نکاح ہے تمہارا ۔۔ تم اس خاندان کے رسم و رواج کو اچھی طرح جانتی ہو ۔۔ اپنا بچپنا ختم کرو اب ۔۔ مُرشد باذِل شیرازی کی بیوی بننے جا رہی ہو تم ۔۔ مطلب سمجھتی ہو اس کا ۔۔؟ ۔۔ میرے برابر ہو جاؤ گی تم ۔۔ ہر کوئی سر جھکاتا ہے اس کے آگے ۔۔ تم سے بھی امید ہے اس کے حکم کے آگے جھک جاؤ گی ۔۔ اسی میں تمہاری عافیت ہے ۔۔”
دادی جان نے سرد مہری سے کہا جسے معصومہ بے دلی سے سنتی رہی مگر جب بولی تو نہایت ادب سے بولی
” جو حکم دادی جان مگر میں نا حق سر نہیں جھکاؤں گی جہاں مجھے لگے گا وہ غلط ہے وہاں چپ نہیں رہوں گی ۔۔”
” لڑکی کی شادی کے وقت مائیں بیٹیوں کو گھر بسانے کے طریقے سمجھاتی ہیں چونکہ تمہاری ماں نہیں ہے تو دادی ہونے کی حیثیت سے تمہیں سمجھانا فرض سمجھا اپنا ۔۔ مگر مجھے لگتا ہے تم کافی خود سر ہو چکی ہو۔۔”
ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا تھا انہوں نے
ماں کے ذکر پر معصومہ کے دل میں ایک درد اٹھا تھا
” آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پہ دادی جان ۔۔ لیکن شادی سے پہلے فقط لڑکی کو ہی کیوں یہ باتیں سمجھائی جاتی ہیں ۔۔ کیا عورت غلام ہے ۔۔؟ یا باندی ۔۔؟
میرے خیال سے انسان کو منصف ہونا چاہیے ۔۔ جیسے عورت کو غلامی کے اصول حفظ کروائے جاتے ہیں ۔۔ اگر سو میں سے پچیس فیصد مائیں بھی اپنے بیٹوں کو رشتہ نبھانے اور عورت کا مقام و عزت کے اصول ان کی تربیت میں شامل کر دیں تو آج دنیا میں درندوں اور وحشی مردوں کی خاصی کم تعداد ہو جائے ۔۔ “
چہرے پر بے حد نرمی لیے وہ بلکل بے خوف ہو کر بولی تھی وہاں کھڑے سب لوگ اس لڑکی کی جرات کو دیکھ کر دنگ رہ گئے جبکہ ہانیہ نے دل میں باقاعدہ اسے سلیوٹ کیا
” تم جانتی ہو اس وقت تم مجھے اس طرح بے خوف ہو کر بولتی بلکل اپنی ماں کی طرح لگ رہی ہو ۔۔ لیکن یہ مت بھولو کہ تمہاری ماں کا انجام کیا ہوا تھا ۔۔ دیکھو معصومہ تم خون ہو ہمارا ۔۔ ہم نہیں چاہتے تمہارے ساتھ ھی وہی کچھ ہو جو سرکشی کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔۔”
وہ نرمی سے بولی مگر لہجہ سرد تھا
” عورت اپنی زبان کی وجہ سے نقصان اٹھاتی ہے معصومہ۔۔ ہم نہیں چاہتے ہماری پوتی کسی تکلیف سے گزرے ۔۔ “
وہ نرم پڑیں تھیں آخر کو وہ ان کی پوتی تھی
“دادی جان میں فضول رسم و رواج کو بلکل نہیں مانو گی ۔۔ بہرحال آپ کی بات در کر کے آپ کا دل بھی نہیں دُکھا سکتی ۔۔ “
وہ ان کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرا کر بولی
” ہممم خدا خوش اور آباد رکھے میرے پوتے اور پوتی کو ۔۔”
دعا دے کر وہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور معصومہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر دیکھا اور کمرے سے نکل گئیں ان کے پیچھے چچی جان بھی چلی گئیں جبکہ تائی جان معصومہ کے قریب آئیں اور اسے پیار کر کے دعائیں دے کر چلیں گئیں
////////////////////////////
سفید رنگ کی شلوار قمیض باذِل کے کسمائے جسم پر بہت جچ رہی تھی ، لمبا چوڑا قد کاٹھ ، تھوڑی بڑھی ہوئی داڑھی ، چہرے پر ہمیشہ کی طرح سرد مہری ، ایسے جیسے یہ شخص بس ہر وقت سختی اور سنجیدگی چہرے پر رکھتا
کل کا گیا آج وہ جمعہ کی نماز ادا کر کے گھر لوٹا تھا لیکن یہاں پہنچ کر اسے جو خبر ملی تھی اسے سن کر اس کے سنجیدہ چہرے پر غصہ عود آیا
” مُرشد کسی نے ہمارے آدمی کو رات کے اندھیرے میں قتل کر دیا ۔۔ مقصد شیرازی ہاوس میں داخل ہونا تھا۔۔ لیکن دشمنوں کا منصوبہ ناکام ہو گیا”
“مُرشد اب آپ بتائیں ہمارے لیے کیا حکم ہے۔ “
وہ اشتعال میں ادھر ادھر چکر کاٹ رہا تھا جبکہ آس پاس سب گارڈ الرٹ مگر سر جھکائے کھڑے تھے ایک گارڈ جو کہ گادڑز کا ہیڈ تھا وہ گزری رات ہوئی واردات باذل اور قائم کے گوشہ گزار کر رہا تھا
وہ رات کو کسی کام کے سلسلے میں گھر پر موجود نہ تھا اتفاقًا قائم بھی گھر پر موجود نہ تھا باقی مردوں تک تو یہ خبر پہنچ چکی تھی البتہ خواتین کو اس معاملے کی خبر نہ تھی بظاہر تو ان کے گادڑز نے صورتحال سنبھال کی تھی لیکن باذِل کافی اضطراب میں نظر آ رہا تھا
” یہ جرات آخر کون کر سکتا ہے ۔۔۔؟”
قائم معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے بولا شیرازی ہاوس پر حملہ مطلب ایسا کون تھا جس نے اتنی جرات کی تھی ہاں دشمنوں کی کمی تو نہ تھی انہیں لیکن کوئی ان کی رہائش گاہ تک پہنچ گیا تھا یہ بات کسی صورت ان دونوں کو چین نہیں لینے دے رہی تھی
” عامر بختیار۔۔۔!!”
باذِل ایک لمحے رک کر بولا تھا قائم نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
” ان کا کیس نیب میں آ گیا ہے ۔۔ وہ ابھی اس کھیل میں نیا ہے ۔۔ جذباتی پن میں اس نے یہ سب کیا ہوگا ۔۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں ۔۔ لیکن وہ ابھی باذِل شیرازی کو جانتا نہیں ہے ۔۔ میں اس کی نسلیں تباہ کر دوں گا جس نے میرے گھر کی جانب بری نظر سے بھی دیکھا۔ “
وہ اشتعال میں بول رہا تھا اس کی آنکھیں انگارے برسا رہیں تھیں
” اس معاملے سے دور رہو تم باذِل ۔۔ میں دیکھ لوں گا اس بختیار کے بیٹے کو۔۔ آج نکاح ہے تمہارا ۔۔ خود کو پرسکون رکھو ۔ “
قائم اس کے خطرناک تیور دیکھ کر بولا وہ اس کی جارحانہ طبیعت کو جانتا تھا جانے اب تک کیسے ضبط کیے کھڑا تھا وہ
” میں خود دیکھ لوں گا اس کو ۔۔ اس مسئلے کو میں اپنے طریقے سے سلجھاؤں گا “
باذِل کسی کی کہاں سنتا تھا
داڑھی پر ہاتھ رکھے ہوئے وہ پر سوچ انداز میں بولا
” مُرشد صاحب آپ کو بڑے صاحب نے یاد کیا ہے۔۔۔”
ایک ملازم نے آ کر باذِل کو کہا تو باذِل وہاں سے چلا گیا
جبکہ قائم نے بھی سر جھٹک دیا اور نکاح کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا آخر کو اس کی بہن کا نکاح تھا موبائل پر نمبر ڈائل کرتا وہ بھی اندر کی سمت چلا گیا
//////////////////////////
لیٹ قسط کے لیے معذرت ۔۔ آپ لوگوں کو معلوم ہے رمضان کریم کی وجہ سے مصروفیت ہے ۔۔ اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں 😊💕💕
