Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 27
قائم اور ماہین کے ولیمہ کی تقریب جاری تھی باسط وائیٹ تھری پیس پہننے ایک مغرور چال چلتا ہال میں داخل ہوا تھا قائم اسے ہال میں داخل ہوتا دیکھ کر اسٹیج سے اترا اور باسط کی جانب بڑھا جبکہ باسط بھی قائم کی جانب متوجہ ہو چکا تھا براؤن تھری پیس پہننے وہ خاصا خوش نظر آ رہا تھا
” کیا بات ہے آپ کی ۔۔ آپ کے چہرے پر خوشی دیکھ کر میرا دل بھی اب ارینج میرج کرنے کو چاہ رہا ہے ۔۔ “
قائم کے گلے لگتا باسط اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے شوق انداز میں کہہ رہا تھا جبکہ قائم کے لب اس کی بات پر مسکرائے
” تم بے فکر رہو باسط تمہارا بھائی ہی تمہارے لیے لڑکی تلاش کرنے کا کام سر انجام دے گا ۔۔ تو بھئی طے ہے کہ تمہاری بھی ارینج میرج ہی ہو گی اس لیے اپنے دل کو کہیں مت لگانا ۔۔ ایسا نہ ہو بعد میں مشکل ہو ۔۔ “
قائم باسط کی شوخ آنکھوں میں دیکھتا تنبیہہ کر رہا تھا جبکہ باسط نے جاندار قہقہہ لگایا
” ارے بھائی کی تو آپ فکر ہی نہ کریں میں بھی انہی کا بھائی ہوں ایسا بناؤ گا انہیں کہ لو میرج بھی ارینج لگے گی انہیں ۔۔ “
باسط آنکھ مارتا ہوا بولا تو قائم اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ اسٹیج پر چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے آگے بڑھا
” ہاں بھئی باسط شیرازی میں خاصی صلاحیتیں موجود ہیں “
قائم نے دل سے اس کی تعریف کی تھی بلاشبہ قائم کے لیے وہ بلکل چھوٹے بھائیوں جیسا تھا
” ویسے ماہین بھابھی بلکل آپ کے مزاج کے مطابق ہیں ۔۔ جیسے معصومہ بھابھی ۔۔ بھائی سے چار ہاتھ آگے ہیں ۔۔ “
باسط آس پاس مہمانوں کے ہجوم میں معصومہ اور باذل کی تلاش میں نگاہیں روڑائے شوخ انداز میں بولا
” باسط ۔۔ معصومہ رشتے میں بڑی ہے تم سے ۔۔ احترام کیا کرو اس کا ۔۔ !!”
قائم اسے آنکھیں دیکھاتا مستحکم انداز میں بولا تھا
” ارے معصومہ بھابھی کے لیے دل سے احترام ہے بھائی ۔۔ ویسے ایک بات تو بتائیں ۔۔ ؟”
باسط آنکھوں میں شرارت لیے بھرپور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا تو قائم نے سوالیہ انداز میں بھویں اچکائی
” آپ نے بھائی اور معصومہ بھابھی کی شادی کروا کر کیا خوب بدلا لیا ہے بھائی سے ۔۔ مطلب مطلب کہ آپ نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے ۔۔ بھائی کی ٹکر کی لڑکی ہیں معصومہ بھابھی ۔۔ “
باسط مسکراہٹ چھپاتا آنکھ مارتا بولا تو قائم نے اسے آنکھوں سے تنبیہہ کی جس پر باسط نے بلکل کان نہ دھڑے
” میں نے کون سا بدلا لینا ہے تمہارے بھائی سے ۔۔ اب اس کا مزاج ہی ایسا ہے تو ہمیں سمجھنا چاہیے اور دوسری بات معصومہ کو ہینڈل کرنا باذل اچھے سے جانتا ہے ۔۔ اور باذل کو ہینڈل کرنا معصومہ بھی خوب جانتی ہے ۔۔ اور یہ میں بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے پرفیکٹ ہیں ۔۔ میں نے تو بس دونوں کو اللہ کے حکم سے ملایا ہے ۔۔ “
قائم بہت سنجیدگی سے باسط کی بھوری آنکھوں میں دیکھتا اسے سمجھا رہا تھا جبکہ اس کی بات کے اختتام پر باسط نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا اب وہ دونوں اسٹیج پر پہنچ چکے تھے
باسط نے نہایت ادب کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ہانیہ کے ساتھ کسی بات پر مسکراتی ہوئی ماہین کو سلام کیا جبکہ ماہین اور ہانیہ دونوں ہی اب باسط کی جانب متوجہ ہو چکیں تھیں ماہین نے سر ہلا کر سلام کا جواب دیا اور پھر ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگے جبکہ ہانیہ جانے کیوں باسط کی موجودگی میں بےچین ہو رہی تھی بار بار اپنے دوپٹے کو سر اور شانے پر درست کرتی جبکہ باسط اس کی گھبراہٹ باخوبی محسوس کر رہا تھا مگر دونوں نے ہی ایک دوسرے کی جانب اب تک نہ دیکھا تھا بلکہ ترچھی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ہانیہ سے جب مزید وہاں نہ بیٹھا گیا تو وہ اسٹیج سے اتر گئی جبکہ اب باسط کی نگاہیں دور جاتی ہانیہ کا بغور جائزہ لے رہیں تھیں جو گلابی رنگ کے ہلکے ہلکے کام والے جوڑے میں حسین لگ رہی تھی پھر وہ خود بھی اسٹیج سے اتر گیا
” بہت خوبصورت لگ رہیں ہیں آپ ۔۔ “
دلہن بنی اپنے پہلو میں بیٹھی ماہین کے کانوں کے قریب اپنا چہرہ کرتے ہوئے قائم نے سرگوشی کی تو ماہین نے شرما کر چہرہ جھکا لیا
” اب تو اور بھی زیادہ حسین لگ رہیں ہیں ۔۔ “
ماہین کو سر جھکا کر مسکراتا دیکھ کر قائم بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے گویا ہوا جب اسے سامنے سے باذل اور معصومہ ایک ساتھ چلتے ہوئے اسٹیج کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھائی دیے
جبکہ تقریباً ہال میں موجود ہر شخص کی نگاہیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چلتے ہوئے باذل اور معصومہ پر تھیں
کس قدر حسین جوڑی لگ رہی تھی دونوں کی وہاں موجود ہر شخص نے چہ مگوئیوں کی صورت میں دونوں کی تعریف کر رہے تھے کل رات کے بعد معصومہ اور اس کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی بوجہ معصومہ باذل کو اپنی خاموشی سے احساس دلانا چاہتی تھی کہ اس کا رات والا رویہ کسی طور مناسب نہیں تھا بلاشبہ وہ حق پر تھی اور باذل نے بھی پھر معصومہ سے کوئی بات نہیں کی تھی وہ بہت آرام سے اس معاملے کو سلجھانا چاہتا تھا معصومہ کا ہاتھ بھی باذل نے خود تھاما ہوا تھا جبکہ معصومہ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا جس سے باذل کو اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ اس سے شدید خفا ہے
” بہت مبارک ہو ۔۔ “
اسٹیج پر پہنچ کر باذل نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ایک بوکے قائم اور ماہین کی جانب بڑھاتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا تو قائم نے بوکے لے کر سائیڈ پر رکھ دیا جبکہ ماہین پہلی بار باذل کو معصومہ کے شوہر کی حیثیت سے دیکھ کر خاصی خوش نظر آ رہی تھی پھر معصومہ نے بھی مسکرا کر قائم اور ماہین کو مبارک باد دی جس پر قائم اور ماہین نے اسے باری باری گلے لگایا باذل معصومہ کو ان دونوں کے ساتھ باتوں میں مصروف دیکھ کر اسٹیج سے اتر گیا اور صوفے پر بیٹھے دادا جان کی جانب بڑھا
تقریب کے اختتام پر وہ دادا جان کے ساتھ ہی گاڑی میں گھر کے لیے نکلا جبکہ معصومہ تو پہلے ہی شیرین صاحبہ کے ساتھ گھر جا چکی تھی وہ اور قائم دادا جان کے ساتھ سٹڈی روم میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے
” یہ باسط اچانک کہاں غائب ہو گیا تھا پھر نظر ہی نہیں آیا ۔۔ “
مظفر صاحب باذل کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے
” دادا جان اسے کوئی کام ہو گا ۔۔ آپ فکر نہیں کریں۔۔”
باذل ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا اپنی داڑھی پر انگلیاں پھیرتا مظفر صاحب کے پریشان چہرے کو دیکھ کر کہہ رہا تھا
” باذل بچے تم خود تو خطرناک کام کرتے ہی ہو ساتھ باسط کو بھی اپنے لگا دیا ہے ۔۔ اور کیا ضرورت ہے ایسی نوکری کرنے کی جس میں اتنا خطرہ ہو ۔۔ ہم لوگوں کو کسی چیز کی کمی تھوڑی ہے جو تم اتنی محنت کرتے ہو رات دن خطروں سے کھیلتے ہو ۔۔ خدا کے لیے چھوڑ دو میرے بچے ۔۔ تم نہیں جانتے جب تم کئی کئی دن گھر نہیں آتے تو کیسی حالت ہوتی ہے تمہارے اس بوڑھے دادا کی ۔۔ ابھی تو تمہاری نوکری کا گھر کی عورتوں کو علم نہیں ہے اس لیے زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا۔۔ میرے بیٹے تمہارا دادا تمہیں خوش اور صحیح سلامت اپنی آنکھوں کے سامنے ہمیشہ دیکھنا چاہتا ہے ۔۔ آج تو میری بات مان لو ۔۔ “
مظفر صاحب صوفے پر بیٹھے اپنی مخصوص بھاری آواز میں باذل کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے سمجھا رہے تھے جبکہ ان کی بات پر قائم بھی باذل کے چہرے کو دیکھنے لگا
” دادا جان جب آپ میرا جواب جانتے ہیں تو پھر بار بار کیوں کہہ کر شرمندہ کرتے ہیں مجھے ۔۔ میرا جواب کل بھی نہ تھا اور آج بھی ۔۔ کیونکہ میں نے آرمی جوائن کرتے وقت قسم اٹھائی تھی کہ میں اپنے ملک کی خاطر کبھی بھی خطروں سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔۔ اور جہاں تک باسط کی بات ہے تو میں نے آج تک کبھی اس پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کیے ۔۔ وہ خودمختار ہے ۔۔ اپنا ہر فیصلہ خود کرتا ہے ۔۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ میں نے آج تک اس کے کبھی اچھے فیصلے کی مخالفت نہیں کی ۔۔ “
باذل چہرے پر ہنوز سنجیدگی سجائے کہہ رہا تھا جبکہ قائم غیر مرئی نقطے کو تکتا محض خاموشی سے ان کی گفتگو سن رہا تھا
” ہاں بیٹا فوج کی نوکری کے لیے میں کب منع کر رہا ہوں تم پر فخر ہے مجھے ماشااللہ میجر باذل شیرازی کا دادا کہلانے پر سینہ چوڑا ہو جاتا ہے میرا۔۔ جہاں میرے تینوں بیٹوں نے مجھے دنیا کے سامنے شرمندہ کیا وہاں میرے پوتوں نے میرا نام رتبہ بلند رکھا ہوا ہے مگر میرے بچے سیکرٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ اور پھر باسط بھی ایک سیکرٹ ایجنٹ ہے یہ تم نے کیوں نہیں بتایا مجھے کیا وہ بھی فوج کے لیے کام کر رہا ہے ۔۔؟ ۔۔ “
مظفر صاحب ہلکی آواز میں باذل کو دیکھتے ہوئے بول رہے تھے
” دادا جان آپ جانتے ہیں میں تو فوج کی نوکری سے مطمئن تھا کہ اپنے ملک کے لیے لڑ رہا ہوں مگر جینے کا مقصد مجھے تب ملا جب مجھے میرا پہلا مشن ملا تھا ۔۔ اور اب میرا مقصد یہی ہے کہ میں مرتے دم تک اپنے ملک کے لیے جان کی بازی لگا کر کام کروں گا ۔۔ اور باسط ابھی سیکرٹ آفیسر ہے ۔۔ جو اب میرے بہت سارے مشنز میں میرے ساتھ کام کر رہا ہے ۔۔ آپ بس دعا دیا کریں ۔۔ دادا جان ہم دونوں اپنے ملک کے لیے قربانی کا محض جذبہ ہی نہیں رکھتے بلکہ ہر وقت پر جوش انداز میں تیار رہتے ہیں ۔۔ “
باذل کے ہر ہر انداز سے سچائی اور اپنے ملک کے لیے قربان ہو جانے کا جذبہ دکھائی دے رہا تھا اس کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر مظفر صاحب مبہوت سے اسے ہی تکنے لگے تھے جبکہ قائم نے بھی اس کے پرسکون چہرے کو دیکھا
” باذل میں نہیں جانتا تم ہماری کون سی نیکی کا ثمر ہو ۔۔ باخدا تم جیسا بیٹا ہونا کس قدر فخر کی بات ہے ۔۔ مگر ماجد کتنا بد نصیب تھا جو کبھی اپنی اولاد کو سمجھ ہی نہ سکا ۔۔ “
اس بار مظفر صاحب کے چہرے پر باذل کے لیے فخر تھا تو اپنے بیٹے کے لیے افسوس تھا قائم بھی اپنے دل میں باذل کے لیے فخر محسوس کر رہا تھا جبکہ دادا جان اب اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور روم سے چلے گئے تھے کہ اب کمرے میں باذل اور قائم آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھے رہ گئے تھے جب قائم نے اسے مخاطب کیا
” تم آج کل کچھ زیادہ مصروف رہتے ہو ۔۔ معصومہ کو کیا جواز دیتے ہو اپنی مصروفیت کا ۔۔؟؟”
وہ جانتا تھا کہ باذل نے ابھی معصومہ کو نہیں بتایا کہ وہ میجر باذل شیرازی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیکرٹ آفیسر بھی ہے اور فی الوقت بھی وہ ایک اہم مشن کی وجہ سے ‘باس ‘ کا کردار ادا کر رہا تھا
” اسے حقیقت نہیں بتا سکتا فی الحال ۔۔ تم جانتے ہو وجہ کہ ۔۔ میں اسے اس سب سے دور رکھنا چاہتا ہوں وہ بیوی ہے میری ۔۔ میں اس کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا اور تم جانتے ہو میں نہیں چاہتا کوئی بھی خواہ وہ میری بیوی ہی کیوں نہ ہو میرے کام کے درمیان حائل ہو ۔۔ اور اس مشن میں دشمن میری کمزوری جاننے کا تجسس رکھتے ہیں جبکہ میں معصومہ کو اپنی طاقت ہی رکھنا چاہتا ہوں کمزوری نہیں بنانا چاہتا ۔۔ “
باذل ٹھہر ٹھہر کر بےحد سنجیدگی سے قائم کو دیکھتا کہہ رہا تھا
” ہمم مگر تم کہو تو میں اسے سمجھا دوں ۔۔ تاکہ کوئی مسئلہ نہ ہو تم دونوں کے درمیان ۔۔ “
قائم اس کے چہرے پر نگاہیں جمائے کہہ رہا تھا جبکہ باذل دل میں سوچ رہا تھا کہ اب اسے کیسے بتائے کہ اس کی بہن نے کس قدر مسئلہ کھڑا کیا ہوا ہے جس باعث کل رات وہ اس پر بہت سختی کر چکا ہے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ معصومہ کو ہزار بار نرمی سے سمجھانے پر بھی وہ نہیں سمجھے گی اسی لیے فی الوقت اسے ہینڈل کرنے کے لیے باذل کو اس پر سختی کرنی پڑی
” نہیں میں اسے خود ہینڈل کر لوں گا ۔۔ “
باذل بلند آواز میں کہتا اب اٹھ کھڑا ہوا جبکہ قائم نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا اور کمرے سے نکلتے ہوئے باذل کی پشت دیکھنے لگا پھر خود بھی سر جھٹک کر کمرے سے نکل گیا اور اپنے کمرے کی سمت بڑھ گیا
/////////////////////////////
وہ شیرین صاحبہ کے ساتھ ہی تقریب سے واپس آئی تھی باذل سے تو وہ کل رات سے بات کر ہی نہیں رہی تھی نہ باذل نے پھر اس سے کوئی بات کی تھی اب وہ باذل کے کمرے میں آنے سے پہلے چینج کر کے سونے کے لیے لیٹنا چاہتی تھی
سرخ رنگ کی ساڑھی زیب تن کیے ہلکا سا میک اپ اور بالوں کا جوڑا بنائے کھڑی اب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی غائب دماغی سے سرخ چوڑیاں اپنے سفید و گلابی ہاتھوں سے اتار رہی تھی جب اسے اپنی کمر سے پیٹ کے گرد ہاتھوں کا نرم لمس محسوس ہوا معصومہ نے چونک کر شیشے میں دیکھا باذل جھک کر اس کے کاندھے پر اپنا چہرہ ٹکائے دونوں بازوؤں کا حصار بنائے کھڑا تھا
دونوں شیشے میں ایک دوسرے کا عکس مبہوت سے دیکھنے لگے باذل بلیک تھری پیس پہننے کس قدر پر وقار اور وجہہ لگ رہا تھا جبکہ باذل بھی معصومہ کے سفید و سرخ نازک وجود کو شیشے میں دیکھتا کھو سا گیا تھا
” تم حقیقت میں اتنی حسین ہو یا میری آنکھوں کو تم خوبصورت دیکھائی دیتی ہو جاناں ۔۔ “
خمار آلود آواز میں سرگوشی کرتا وہ معصومہ کے نازک وجود کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جبکہ اس کے بات کرنے سے لب معصومہ کی گردن کو چھو رہے تھے جس پر بے اختیار معصومہ کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی اور وہ بے ساختہ اپنی آنکھیں بند کر گئی
” جاناں تم میری زندگی ہو ۔۔ میرا سکون ہو ۔۔ میری سانسیں ہو ۔۔ میرے دل کی دھڑکن ہو ۔۔ تمہارا ساتھ ۔۔۔ تمہاری قربت مجھے سرشار کر دیتی ہے ۔۔ میرے بے چین دل کو چین دیتی ہے ۔۔ میری بے قراری کو قرار دیتی ہے ۔۔ تمہارا چہرہ دیکھ کر سکون میری آنکھوں سے ہوتا میرے دل میں اتر جاتا ہے ۔۔ “
وہ مدھم آواز میں اس کے کانوں کے قریب سرگوشیاں کر رہا تھا اس کا لہجہ محبت سے چور تھا جبکہ اس کے الفاظ معصومہ آنکھیں موند کر سن رہی تھی باذل کے الفاظ معصومہ کے دل کو کس قدر سکون پہنچا رہے تھے اس کا اندازہ وہ باخوبی کر سکتی تھی مگر وہ باذل کا کل رات کا جارحانہ رویہ فراموش ہرگز نہیں کر سکتی تھی تبھی باذل سے دور ہونے کے لیے مزاحمت کرنے لگی
” جانتا ہوں خفا ہو تم ۔۔ “
اب وہ معصومہ کا رخ اپنے سامنے کرتا ہوا اس کے شانوں کو تھام کر دھیمی آواز میں پوچھنے لگا
” نہیں خفا نہیں ہوں ۔۔ مگر افسوس ہو رہا ہے کہ آپ ۔۔ میرے ساتھ اس طرح بات کر سکتے ہیں ۔۔ “
معصومہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی جتاتے ہوئے بولی تھی اس کا اشارہ باذل کے رات والے سلوک کی طرف تھا
” جاناں میں جانتا ہوں کل میں نے غلط کیا مگر کیا تم بھول گئی کہ کس لہجے اور انداز میں بات کر رہی تھی تم مجھ سے ۔۔ میرے بارہا منع کرنے کے باوجود تم کئی مرتبہ مجھ سے بدتمیزی کر چکی ہو ۔۔ “
باذل سرد مہری سے بول رہا تھا جبکہ اس کی بات پر معصومہ کی آنکھیں ڈگمگا گئی
” میں نے صرف زبان کا استعمال کیا مگر آپ نے مجھے اپنی طاقت اور مردانگی کے زعم میں تکلیف دی تھی ۔۔ “
معصومہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی روندتی آواز میں کہہ رہی تھی جبکہ اس کا اشارہ باذل کے جارحانہ انداز پر تھا
” ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے جاناں ۔۔ تم ذرا فرصت سے کبھی بیٹھ کر اپنے ہر مرتبہ بولے گئے الفاظ پر غور کرنا ۔۔ پھر سوچنا کہ کل رات غلط کون تھا ۔۔ مگر ایک بات میں کلئیر کر دوں کل رات میرا رویہ واقعی ٹھیک نہیں تھا تمہارے ساتھ مگر اپنے الفاظ بھی یاد کرو بنا سوچے سمجھے تم کیا کچھ کہہ جاتی ہو اور یہ بات میں تمہیں شرمندہ کرنے کے لیے یا جتانے کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ صرف اتنا سمجھا رہا ہوں معصومہ کہ غصہ ہر کسی کو آتا ہے اور اسے کنٹرول کرنا کسی کسی کو ۔۔ میں انسان ہوں کل رات اپنے غصے پر قابو نہیں کر سکا ۔۔”
باذل اس بار دھیمی آواز میں بول رہا تھا جبکہ معصومہ اس بار باذل کی باتیں سن کر اپنا سر جھکا گئی بلاشبہ وہ واقعی شرمندہ ہوئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی وہ باذل کے سامنے بہت زبان چلا چکی تھی
” آ آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ سے معافی مانگو ۔۔ ؟؟”
معصومہ پلکوں کی باڑ سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی تو باذل کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی
” نہیں جاناں تمہیں معاف کیا ۔۔ “
باذل اب مسکراتے ہوئے سخاوت سے بولا تو معصومہ نے ایک خفا نظر باذل پر ڈال کر ص کے کاندھے پر سر ٹکا گئی تو باذل نے مزید اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا
” بہت خوبصورت ہو تم جاناں ۔۔ اور آج تو بہت زیادہ لگ رہی تھی جانتی ہو بہت مشکل سے صبر کر رہا تھا اور فنکشن ختم ہونے کا ویٹ کر رہا تھا کہ کب اپنی جاناں کو مناؤ گا کب سینے سے لگا کر تعریف کروں گا کیونکہ لفظوں میں تو تمہاری تعریف نہیں کر سکتا ۔۔”
وہ معصومہ کی گردن پر اپنے لب مس کرتا بہکے بہکے انداز میں کہہ رہا تھا
” مم مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔ “
معصومہ نے اس کی قربت سے بے حال ہوتے ہوئے مزاحمت کرنی چاہی جب باذل اس کے لبوں پر جھک گیا
کئی پل کمرے میں محض گھڑی کی آواز اشتعال برپا کر رہی تھی جبکہ وہ دونوں جیسے مدہوش تھے
پھر باذل اسے باہوں میں بھر کر بیڈ تک لایا اور روشنی بند کر دی
////////////////////////////
جاری ہے
