Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
ناول: تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 8
صبح اس کی آنکھ فجر سے پہلے کھلی تھی مگر اسے باذِل کی جگہ خالی دیکھ کر شدید غصہ آیا تھا
” یہ ساری ساری رات ہوتا کہاں پر ہے ؟؟ اس سے تو کوئی سوال کرتا ہی نہیں ہے ۔۔ کل میرے ذرا سی اونچی آواز میں بولنے پر اتنا بھڑکا تھا ۔۔ اپنا تو اسے جیسے پتہ ہی نہیں ہے ۔۔ اس کی حرکتیں کچھ زیادہ ہی نہیں مشکوک !!۔۔
کیا باذِل ٹھیک انسان ہے؟؟
میں اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اس میں میرے خدا کی مرضی شامل تھی تو میرے اللہ میں اسے دل سے قبول کرتی ہوں وہ میرا شوہر ہے ۔۔ مجھے اپنی طرف سے اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔۔ “
بہت ساری باتیں اس کے دماغ میں گردش کر رہیں تھیں
“۔۔ کل سب کے سامنے اس نے مجھے عزت دی مان دیا ۔۔ آج تک اس گھر میں صرف مرد کے ہاتھوں عورت ذلیل و رسوا ہوئی ہے ۔۔ بیوی تو کیا بیٹی تک کو کسی نے عزت نہیں دی ۔۔ حق نہیں دیا ۔۔ کل پہلی بار اس گھر کے مرد نے اپنی بیوی کو سب کے سامنے عزت و احترام اور مان دیا ہے ۔۔
نکاح کی رات بھی باذِل نے میری بات مانی تھی ۔۔اگر وہ نفس کا غلام ہوتا تو کیا میری بات مانتا ۔۔؟؟
لیکن باذِل میں خون کا اثر بھی خوب ہے ۔۔ یا۔۔۔!! کہیں یہ بابا کا کیا تو نہیں جو مجھے بھگتنا پڑ رہا۔۔؟؟ میری ماں کے ساتھ جو کیا انہوں نے وہ اب میرے آگے آ رہا ہے ۔۔!
نہیں میں اپنے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دور گی ۔۔
میرے مالک رحم کرنا۔۔
شاید وہ بُرا انسان نہیں ہے مگر جنونی ہے ۔۔ باذِل تم نے جو زخم اپنی مردانگی کے زعم میں مجھے دیے ہیں نا یہ ٹھیک نہیں کیا تم نے ۔۔”
بے ساختہ اس کا ہاتھ اپنی گردن کے نشان پر اور پھر بازؤوں کے نشان پر گیا
“معصومہ شیرازی نام ہے میرا ۔۔ اب دیکھنا میں تمہارے ساتھ کرتی کیا ہوں ۔۔۔!!
اگر باذِل کے ساتھ اسی کے انداز میں مقابلہ کروں گی تو وہ مزید بھڑکے گا ۔۔ اسے میری اونچی آواز تک برداشت نہیں ہے ۔۔
ایسے تو وہ اپنی طاقت کا زعم مجھ پر آزماتا رہے گا ۔۔
لیکن میں کروں کیا ۔۔؟؟
بُرائی کو بُرائی ختم نہیں کر سکتی ۔۔ اگر بُرائی کے ساتھ بُرائی سے ہی لڑا جائے تو بُرائی کبھی ختم نہیں ہو گی بلکہ مزید بڑھے گی ۔۔ بُرائی کو محض اچھائی ختم کر سکتی ہے ۔۔ ہاں بلکل ۔۔
اب سمجھ آ گئی کہ مجھے کیا کرنا ہے ۔۔ “
اب اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی بالوں کا جوڑا بنا کر وہ بیڈ سے اٹھی تھی اب اس کی چال میں مضبوطی تھی یقیناً یہ اس کے پختہ ارادوں کے باعث تھی
نماز ادا کر کے اپنے کپڑے پرس کیے شاور لے کر باہر نکلی تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر تولیے سے بال خشک کرنے لگی وہ ہلکے گلابی رنگ کے پیروں تک آتے فراک میں ملبوس تھی اپنے سفید شفاف چہرے پر ایک نظر ڈال کر اس نے بالوں کو ڈرائے کر کے چٹیا میں مقید کیے سر پر اسکارف اوڑھ کر دوپٹہ کاندھے پر پھیلایا پھر کمرے سے باہر نکلی اور پھوپھو سے مل کر اپنے کمرے کی سمت بڑھی اپنے کمرے سے اپنا بیگ لیا اس میں کاپی پینسل اور موبائل رکھ کر گل بی بی کو ناشتہ کمرے میں لانے کو کہا
وہ یونورسٹی جانے کے لئے بلکل تیار تھی اس نے سوچ لیا تھا اگر قائم یا باذِل نہیں ہیں تو کیا ہوا وہ آج ضرور جائے گی یونیورسٹی چاہے دادا جان کا مقابلہ ہی کیوں نا کرنا پڑے گل بی بی سے ڈرائیور بابا سے گاڑی نکالنے کا کہلوا کر اب وہ اپنے جانے کا بتانے کے لیے دادا جان کے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی
” سلام چھوٹی بی بی ۔۔ وہ مرشد صاحب آپ کو بلا رہے ہیں ۔۔”
وہ ابھی سیڑھیوں کے پاس ہی پہنچی تھی کہ نوری نے اسے پیچھے سے پکارا تھا
“کون ؟؟ باذِل ۔۔؟؟”
معصومہ نے اس کی جانب پلٹ کر جلدی سے پوچھا
” جی ۔۔!!”
نوری نے تھوڑا مسکرا کر یک لفظی جواب دیا نوری کے مسکرانے پر معصومہ کو اپنی جلدی بازی کا احساس ہوا زبان دانتوں تلے دبا کر اس نے نوری کو جانے کا اشارہ کیا
جبکہ اب اس کا رخ باذل اور اپنے مشترکہ کمرے کی جانب تھا
کمرے کے دروازے پر پہنچ کر پہلے اس نے سوچا دستک دے مگر پھر یہ سوچ ذہن میں آئی کہ وہ اس کا بھی کمرہ ہے اور اپنے کمرے میں جانے کے لیے اجازت کیوں لے
کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے اپنے گلابی ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست کیے ایک پل کو آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولیں اور اندر داخل ہوئی
اسی وقت باذِل تولیے سے بال خشک کرتا واشروم سے باہر نکل رہا تھا معصومہ دروازہ بند کرتی اسے دیکھنے لگی بلیک شلوار قمیض پہنے بھورے بال ، بھوری داڑھی اس کی صاف رنگت پر بہت جچتی تھی جبکہ اب باذِل بھی اس کی جانب متوجہ ہو چکا تھا چند لمحے وہ مبہوت ہو کر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے احساس ہونے پر معصومہ نے اپنی نگاہیں جھکا لیں
” السلام علیکم ۔۔!!”
ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ باذِل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں اس نے سلام کیا
معصومہ کی آواز پر وہ چونکا تھا سر کو ہلا کر اس نے سلام کا جواب دیا مگر اسے معصومہ کا انداز کافی غیر متوقع لگا تھا وہ تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ معصومہ غصے سے بھری ہوئی ہو گی
شاید پھر سے ان دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گی مگر اس کی سوچ کے بر عکس معصومہ کا انداز خاصا پُر سکون تھا
” اوہ تو معصومہ بی بی اتنا میٹھا انداز اس لیے اپنائے ہوئے ہیں کہ انہیں ڈر ہے کہ میں اس کے یونیورسٹی جانے پر پابندی نہ لگا دوں “
اس کو نک ٹک تیار دیکھ کر باذِل دل میں بولا
اسے یاد تھا کہ آج معصومہ کا یونی کا پہلا دن ہے اسی لیے وہ جلدی میں آیا تھا کہ اسے خود چھوڑ کر آئے گا
” یہ اتنی صبح صبح تیار کیوں ہو تم ۔۔؟؟ خیریت ہے سب ۔۔؟”
انجان بننے کی بھرپور اداکاری کرتے ہوئے باذِل نے سوالیہ انداز میں بھویں اچکا کر پوچھا
” وہ آج مجھے یونیورسٹی جانا ہے ۔۔ میں ابھی دادا جان سے اجازت لینے ہی جا رہی تھی ۔۔ “
اپنے کاندھے پر رکھے بیگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتی ہوئی وہ باذِل کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی
” ہممم دادا جان کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ہاں مگر میرے علم میں ہونا لازمی تھی یہ بات ۔۔ اگر میں ابھی گھر نہ آتا تو کیا تم مجھے بتائے بغیر چلی جاتی ۔۔؟ “
اپنی قمیض کی آستینیں ، کہنیوں تک موڑتے ہوئے وہ اسے سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اس کی آواز میں سختی تھی جو معصومہ باخوبی محسوس کر چکی تھی
“مم میں کل سے انتظار کر رہی تھی آپ کا ۔۔ “
وہ دھیمی آواز مگر لہجے کو مضبوط رکھتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ آنکھیں ہنوز باذِل کی آنکھوں کی جانب تھیں
“تمہارے موبائل میں رابطے کا آپشن موجود ہے اور میرا نمبر بھی سیو ہے ۔۔ تم مجھے کال یا میسج کر سکتی تھی ۔۔ “
وہ بظاہر نرم لہجے میں اسے مشورہ دے رہا تھا مگر اس کے لہجے میں طنز کی آمیزش صاف نظر آ رہی تھی
جبکہ اب وہ قدم بڑھاتا اس تک پہنچ چکا تھا
” مجھے آپ پر غصہ تھا ۔۔۔ اس لیے نہیں کیا میسجز یا کال ۔۔”
وہ اس کے بلکل سامنے آ کھڑا ہوا تھا معصومہ اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھتی ہوئی آہستگی سے بولی
جبکہ اس کی صاف گوئی پر باذِل کے لبوں پر تبسم بھرا تھا
” ابھی بھی غصہ ہو مجھ پر ۔۔؟؟”
وہ اس کے مزید قریب ہوا تھا کہ اس کی شرٹ کے کھلے بٹن سے اس کے کشادہ سینہ پر معصومہ کی نگاہ پڑی تھی کہ وہ فوراً اپنی نگاہیں جھکانے پر مجبور ہو گئی باذل نے اس کے چہرے پر حیا کے رنگوں کو دلچسپی سے دیکھنے لگا
” جج جی ۔۔”
اپنا چہرہ موڑ کر وہ ہچکچاتے ہوئے بولی تھی
جبکہ اس کی دلیری پر باذِل کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
” تو کیا امید کر رہی ہو تم مجھ سے کہ معافی مانگو گا کیا میں تم سے ۔۔؟”
وہ اب سرد انداز میں سوال پہ سوال کیے جا رہا تھا جبکہ اب معصومہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں سرد مہری تھی چہرہ بھی بلکل سنجیدہ تھا
” جب آپ کسی کے ساتھ غلط کرتے ہیں تو احساس ہونے پر معافی مانگنی چاہئے ۔۔”
اس نے آہستگی سے سمجھانے والے انداز میں کہا
باذِل کو وہ اس وقت وہ بہت معصوم لگی تھی
” ہممم ۔۔۔ بد تمیزی سے بات تم نے بھی کی تھی۔۔”
اس نے قدرے بلند آواز میں جتایا
” ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اس کی سزا بھی تو دے دی تھی آپ نے مجھے ۔۔”
وہ بھی جتاتے ہوئے اسی کے انداز میں بولی تھی
جبکہ اب کے باذِل نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر لبوں سے لگائے اور پھر سختی سے اسے اپنے سینے سے بھینچ لیا معصومہ اس اچانک کاروائی پر سہم سی گئی باذل کے سینے سے لگی اس نے اپنی آنکھیں میچ لیں جبکہ اس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں چند لمحوں بعد باذِل نے اسے نرمی سے خود سے جدا کیا اور اس کی کمر کے گرد اپنا حصار بنا لیا اور اس کے چہرے پر جھکا کہ ان دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے چہرے پر پڑ رہیں تھیں معصومہ نے اپنی آنکھیں سختی سے بھینچ لیں
” آنکھیں کھولو ۔۔”
باذِل کی جذبات سے بوجھل آواز کمرے میں گونجی جبکہ معصومہ نے اس کی آواز پر فوراً آنکھیں کھولیں
” کل کے لئے بہت شرمندہ ہوں میں ۔۔ مزید تمہارے اس رویے نے شرمندہ کر دیا مجھے ۔۔ مجھے لگا تھا تم تلخی سے بات کرو گی ۔۔ مگر۔۔!!”
معصومہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں بول رہا تھا
” بہت سختی سے بات کی میں نے تم سے مجھے معاف کر دو ۔۔ اپنے دل میں میرے لیے بد گمانی مت رکھنا ۔۔”
وہ ٹھہر ٹھہر کر لہجے میں بہت نرمی سموئے بول رہا تھا اس کا انداز معصومہ کو مسکرانے پر مجبور کر گیا
” جیسے آج دھڑلے سے معافی منگوائی ہے نا مجھ سے تم نے ۔۔ یہ واقعی معصومہ شیرازی ہی کر سکتی ہے ۔۔ “
یہ بات باذِل نے اپنے دل میں سوچی تھی کیونکہ معصومہ کو کہہ کر وہ اسے اپنی کمزوری نہیں بتا سکتا تھا
” وہ مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔”
باذِل کی والہانہ نگاہیں اور اس کہ قربت سے بے حال ہوتی وہ آہستگی سے بولی
” ہممم “
اس کی آواز پر وہ چونکا اور پھر جھک کر اس کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کی
اور پھر معصومہ کو آرام سے اپنے سے جدا کیا
” میں چھوڑ کر آتا ہوں۔۔۔”
اسے نرمی سے کہتا ہوا وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑا ہوا بالوں کو سنوار کر خود پر پرفیوم چھڑکا بلیک چادر کاندھے پر رکھی اب وہ اپنا موبائل ، والٹ اور گاگلز اٹھا رہا تھا معصومہ اس کی تیاری دیکھ رہی تھی جب باذِل اس کے قریب آیا
” ناشتہ کیا تم نے۔۔؟؟”
یار آنے پر وہ بولا تھا
” جی ۔۔!”
” آپ نہیں کریں گے ناشتہ ۔۔؟”
بے ساختہ معصومہ نے پوچھا تھا
” میں واپس آ کر۔۔ کر لوں گا ابھی دیر ہو رہی ہے چلو۔۔”
نرم انداز میں کہتا ہوا اس کا ہاتھ تھام کر اب وہ آگے بڑھنے لگا جبکہ معصومہ اس کی تقلید کرتی آ رہی تھی
” شیرازی ہاوس ” کے بیرونی دروازے تک آتے ہوئے کئی ملازمین نے سر جھکا کر باذِل کو سلام کیا تھا
پھر انہیں آتا دیکھ کر ایک وردی والا ڈرائیور آگے بڑھا تھا سلام کے بعد اس نے بلیک ایل بی ڈبلیو کا پچھلا دروازہ کھولا مگر باذِل نے اسے جانے کا اشارہ کیا اور خود معصومہ کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور خود جا کر اسٹیئرنگ سمبھالا
راستہ خاموشی سے گزرا تھا باذِل کا پورا دھیان ڈرائیونگ پر تھا جبکہ معصومہ کبھی ترچھی نگاہوں سے اس کے سپاٹ چہرے اور گاگلز میں چھپی آنکھوں کو دیکھ لیتی تھی اسے بھیا کی یاد آ رہی تھی اسے اپنی ماما کی بھی یاد آ رہی تھی دل اداس ہو رہا تھا
” آ گئی تمہاری یونیورسٹی ۔۔؟؟”
گاڑی روک کر وہ معصومہ کی جانب مڑا جبکہ معصومہ کی نظریں اب سامنے گیٹ پر تھیں جہاں لڑکے لڑکیاں اندر داخل ہو رہے تھے
” کیا ہوا۔۔؟؟”
اس کے اداس چہرے کو دیکھتے ہوئے اس نے نرمی سے پوچھا
” کچھ بھی نہیں ۔۔”
معصومہ کی آواز بھرائی ہوئی تھی
” قائم کو مس کر رہی ہو ؟؟”
باذِل کے سوال پر معصومہ نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا جبکہ ساتھ ہی اپنی آنکھوں میں آئی نمی اس نے اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کی
” بات کر لو اُس سے ۔۔”
باذِل نے اپنے موبائل سے نمبر ڈائل کر کے موبائل معصومہ کی جانب بڑھایا
معصومہ نے فوراً موبائل کان سے لگایا اسے یک گونہ سکون ہوا کہ بیل جا رہی تھی
” ہیلو ۔۔ “
قائم کی بھاری آواز فون پر ابھری تھی
” بھیا ۔۔!!”
اپنے بھائی کی آواز سن کر اسے سکون ہوا تھا
” معصومہ میری جان کیسی ہو ۔۔۔ “
” ٹھیک ہوں بھائی ۔۔آپ کیسے ہیں ۔۔؟”
” میری گڑیا ٹھیک ہے تو میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔ آج میری گڑیا کا فرسٹ ڈے ہے نا ۔۔”
” جی بھیا ۔۔”
” اپنا خیال رکھنا بہت زیادہ ۔۔اور ایک بات یاد رکھنا معصومہ جب لڑکی گھر سے باہر نکلتی ہے نا تو وہ اپنے خاندان کی عزت کو لے کر نکلتی ہے ۔۔ مجھے اپنی بہن پر پورا اعتماد ہے اپنا بہت خیال رکھنا ۔۔ ٹھیک ہے “
وہ اسے سمجھا رہا تھا
” جی بھیا ۔۔”
معصومہ نے دل میں عہد کرتے ہوئے یک لفظی جواب دیا
الوداعی کلمات کے بعد اس نے موبائل باذل کی طرف بڑھا دیا باذِل جو کہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا معصومہ سے موبائل پکڑ کر اپنی قمیض کی جیب میں رکھ دیا
” اب ٹھیک ہو ؟؟۔۔”
دوبارہ معصومہ کی جانب رخ کر کے اس نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا
” جی ۔۔!!”
وہ گہرا سانس لیتی ہوئی بولی
” معصومہ “
باذِل کے پکارنے پر معصومہ نے ابرو اچکا کر سوالیہ انداز میں اسے دیکھا
” تم معصومہ شیرازی ہو ۔۔ تم گھبراؤ گی نہیں کسی بھی مشکل سے ۔۔ تم مضبوط لڑکی ہو ۔۔ اور میں ہوں نا تمہارے ساتھ ۔۔ اپنا بہت خیال رکھنا چلو اب دیر ہو رہی ہے جاؤ”
باذِل اس کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بول رہا تھا
جبکہ معصومہ نے اثبات میں سر ہلایا
جب معصومہ گیٹ کے اندر چلی گئی تو باذِل نے گاڑی سٹارٹ کر دی
شیرازی ہاوس میں داخل ہو کر وہ گاڑی سے اترا اور تیز تیز قدم بڑھاتا زینے طے کرنے لگا
” باذِل ۔۔”
شیرین صاحبہ کی پکار پر اس کے قدم رکے تھے اور وہ ان کی جانب مڑا
” السلام علیکم ۔۔ کیسی ہیں آپ ۔۔؟ “
ان کو ادب سے سلام کرکے اس نے ان کے بازو کی جانب اشارہ کر کے پوچھا جبکہ اس کی بات پر شیرین صاحبہ کے لب مسکرائے
” بیٹا میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔ “
ان کے لہجے میں باذِل کے لئے شفقت تھی
” کوئی کام تھا آپ کو ۔۔”
باذِل نے ان کی نم آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
” ہاں بیٹا وہ کل رات کو شیرازی ہاوس میں دعوت ہے تم کہیں مت جانا ۔۔”
انہوں نے ماجد صاحب کا پیغام باذِل کو دیا تھا جس کو سننے کے بعد باذِل نے اثبات میں سر ہلایا
” بس یہی کہنا تھا ۔۔ “
وہ اسے کہتے ہوئے وہاں سے چلیں گئیں
” سلام مرشد صاحب ۔۔ ناشتہ لے آؤں ۔۔”
وہ مڑنے ہی لگا تھا جب نوری سلام کرتی اس سے ناشتے کا پوچھنے لگی باذِل سر ہلاتا ہوا آگے بڑھ گیا
/////////////////////////////
وہ آہستہ مگر مضبوط قدم اٹھاتی چل رہی تھی اس کا رخ انفارمیشن روم کی طرف تھا تاکہ اپنے ڈیپارٹمنٹ اور کلاسز کا پتہ کر سکے آس پاس تیز تیز چلتے ہوئے لڑکے لڑکیوں کو وہ سرسری انداز ان کو دیکھ رہی تھی
یہ ماحول شیرازی ہاوس میں زندگی گزارنے والی اس لڑکی کے لیے واقعی نیا اور حیران کن تھا وہ لڑکی جس نے اُس محل نما قید خانے میں زندگی کے اٹھارہ سال گزارے تھے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر اس پر پابندی لگتی تھی اسے یہ کھلا ماحول دیکھ کر واقعی ایک پل کو گھبراہٹ ہو رہی تھی
اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی وہ آس پاس دیکھنے لگی لڑکے لڑکیاں کپلز کی صورت میں آس پاس گھاس پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے ، کچھ لڑکیاں تنگ لباس پہنے ہوئیں تھیں تو کچھ عبایا اوڑھے ہوئیں تھیں ، معصومہ نے نوٹ کیا یہاں ہر طرح کے لباس کے لڑکے لڑکیاں موجود تھے
ایک جگہ اسے دو لڑکیاں دیکھیں جو مناسب لباس میں ملبوس تھیں وہ دونوں ایک طرف کھڑیں تھیں معصومہ کچھ سوچ کر ان کی جانب بڑھی
” ایکسکیوزمی ۔۔”
ان دونوں لڑکیوں کے پاس پہنچ کر معصومہ نے انہیں مخاطب کیا
” یس ۔۔؟؟”
وہ دونوں بھی معصومہ کی جانب متوجہ ہو چکیں تھیں
” مجھے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا پوچھنا ہے کیا آپ مجھے بتا سکتیں ہیں کہاں ہے ؟”
خود کو کمپوز کرتی ہوئی وہ نارملی بولی
” اوہ آپ کا آج فرسٹ ڈے ہے ۔۔؟”
دوسری لڑکی نے اس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
” جی ۔۔!!”
معصومہ کو اس کا یوں جائزہ لینا عجیب لگا مگر یک لفظی جواب دیا
” یہاں سے سیدھا جاؤ ۔۔ رائیٹ ٹرن لینا۔۔ ایک وائیٹ کلر کی بلڈنگ دیکھے گی وہی ہے تمہارا ڈیپارٹمنٹ ۔۔”
ان میں سے ایک لڑکی اسے مسکرا کر ہاتھ کے اشارے سے سمجھا رہی تھی وہ شاید معصومہ کی خوبصورتی اور معصومیت سے متاثر ہوئی تھی
معصومہ اثبات میں سر ہلاتی ان کا شکریہ ادا کرتی آگے بڑھ گئی
ابھی وہ چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ اسے لگا جیسے کسی نے اسے پکارا ہے مگر وہ نظر انداز کرتی آگے بڑھنے لگی
” ہیلو !!! ۔۔”
باسط مسکراتا ہوا ہاتھ لہراتا ہوا اچانک ہی اس کے آگے آ کر بولا کہ معصومہ کا راستہ رک گیا اور وہ رکنے پر مجبور ہو گئی
اچانک اپنے سامنے آنے والے اس تئیس چوبیس سالہ نوجوان کو دیکھ کر معصومہ یکدم گھبرا گئی اور جلدی سے چند قدم پیچھے ہوئی
” لسسن ۔۔ ہیلو ۔۔”
معصومہ اسے نظر انداز کرتی آگے بڑھنے لگی جب وہ ایک بار پھر مسکراتے ہوئے اس کا راستہ روک گیا تھا اس بار معصومہ نے اسے دیکھا مگر کچھ ایسا تھا جسے معصومہ کو چونکنے پر مجبور کیا تھا وہ اس لڑکے کے بھورے بال تھے اور اس کی سرخ آنکھیں !! جن سے معصومہ کو عجیب سی وحشت ہوئی تھی
” ییی یہ آنکھیں تو باذِل کی آنکھوں جیسی ہیں ۔۔”
وہ دل میں بولی تھی اب معصومہ اسے بغور دیکھنے لگی اسے عجیب سا لگا وہ لڑکا ۔۔۔
مگر اپنی حیرت پر قابو پاتی باسط کو نظر انداز کر کے وہ آگے بڑھی
” ارے رکیں تو ۔۔ آپ غلط راستے پر جا رہیں ہیں ۔۔ “
باسط کے الفاظ سے خود بہ خود اس کے قدم رک گئے تھے
” کیا مطلب ۔۔”
وہ خود کو کمپوز کرتی ہوئی باسط کو بغیر دیکھ کر پوچھا رہی تھی
” آئی نو آپ نیو ہیں نا ۔۔ فرسٹ سمسٹر ہے آپ کا ۔۔ میرا نام باسط۔۔ میرا لاسٹ ایئر ہے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے ہوں میں ۔۔ وہ لڑکیاں آپ کو مس گائیڈ کر رہیں تھیں ۔۔ سینئیرز ہیں وہ تینوں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی اور جونیئر کو فول بنا رہیں ہیں ۔۔ آپ سے پہلے بھی کئی کو بنا چکیں ہیں ۔۔”
وہ مسکرا کر بس بولتے ہی جا رہا تھا معصومہ اس کی باتیں سمجھ رہی تھی
” اوہ ۔۔”
باسط کی باتیں سمجھتی وہ پھر سے آگے بڑھنے لگی
” میں آپ کو صحیح راستہ بتاتا ہوں ۔۔”
باسط نے جلدی سے پیشکش کی تھی
” نو تھینکس ۔۔”
معصومہ اسے سہولت سے انکار کرتی اسے خاطر میں نہ لاتے ہوئے پھر سے آگے بڑھ گئی
” ارے ۔۔ غلط مت سمجھیں مجھے ۔۔ میری مانیں تو رکیں میں آپ کو صحیح ڈیپارٹمنٹ بتایا ہوں ۔۔ مجھے بھی دیر ہو رہی ہے میری کلاس ہے ۔۔”
باسط کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا ہوا بولا
” ہمم اوکے بتاؤ ۔۔”
معصومہ کچھ سوچ کر بولی
” یہاں سے رائیٹ جائیں ۔۔ پھر لیفٹ مڑ جائیں پھر سیدھا چلتی جائیں اور پھر رائیٹ ٹرن لیں اور سیدھا چلتی رہیں سامنے آپ کا ڈیپارٹمنٹ ہوگا ۔۔”
باسط بھرپور سنجیدگی سے اسے ہاتھ کے اشارے سے سمجھا رہا تھا جبکہ معصومہ اس کی بات سننے کے بعد سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے گھورنے لگی
” کیا ہوا ؟؟ ۔۔”
معصومہ کو سینے پر ہاتھ باندھے دیکھ کر وہ چہرے پر بلا کی معصومیت لیے بولا
” میں نے تو آپ کو بتایا ہی نہیں کہ مجھے کون سے ڈیپارٹمنٹ میں جانا ہے پھر آپ مجھے اس کا راستہ کیسے بتا رہے ہیں ۔۔”
معصومہ اپنی بات عام سے انداز میں کہہ کر آگے بڑھ گئی جبکہ باسط کا معصومہ کے حاضر دماغی پر منہ کھل گیا پھر مسکراہٹ آئی وہ گہری ہوئی
” کیا بات ہے باس کی وائف کی ۔۔ بہت اچھے ۔۔”
معصومہ کو دور جاتے دیکھ کر باسط مسکراتا ہوا بڑبڑایا
///////////////////////////////
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
