Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 28
بہت سارے دن گزر گئے تھے اور وہ ان دنوں اپنے امتحانات کے باعث بہت مصروف رہی تھی اور زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں اپنی پڑھائی پر لگاتی تھی باذل بھی بہت کم گھر آتا تھا مگر اب معصومہ نے اس سے کچھ پوچھنا ہی چھوڑ دیا تھا باذل کا محبت بھرا رویہ اسے دلی سکون دیتا تھا مگر جانے کیوں ان دو مہینوں میں بھی وہ باذل کو اتنی بڑی بات نہیں بتا سکی تھی گھر میں بھی زیادہ وقت اپنے کمرے میں اور یونیورسٹی میں گزارنے کے باعث کسی کو اس بات کا علم نہ ہو پایا تھا ہاں اس بیچ اس کی طبیعت کچھ بوجھل رہتی تھی مگر وہ ایک مرتبہ نوشین صاحبہ کے ساتھ ڈاکٹر کو چیک کروا چکی تھی نوشین صاحبہ اس سے خفا تھیں مگر وہ انہیں پیار سے سمجھا چکی تھی کہ وہ بہت جلد یہ خبر باذل کو بتا دے گی تبھی وہ خاموش ہو جاتیں
مگر باذل سے اسے بہت سارے سوال پوچھنے تھے جن کو وہ بہت آسانی سے ٹال دیتا تھا بلاشبہ معصومہ کی طبیعت میں ضد اور غصہ بہت تھا جو اسے باذل کو اتنے بڑی خبر بتانے سے روک دیتا تھا مگر کئی مرتبہ دل میں ملال بھی ہوتا تھا کہ باذل سے اتنی بڑی خبر چھپا کر وہ اس کے ساتھ غلط کر رہی ہے
کئی مرتبہ وہ اپنی ضد کو بلائے طاق رکھ کر باذل کو یہ بات بتانے کا سوچتی مگر پھر جانے کیوں وہ بتا نہ پاتی باذل باپ بننے کی خبر سن کر کیسا ردعمل دے گا یہ سوچ کر اس کے لب اپنے آپ مسکراتے مگر چاہ کر بھی اتنے دنوں میں وہ یہ خبر باذل کو نہ بتا سکی تھی
آج امتحانات سے فراغت کے بعد وہ سب کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی تھی باسط بھی شیرازی ہاؤس آیا ہوا تھا باسط سے معصومہ کی اب اچھی خاصی بات چیت ہو جاتی تھی ماہین کے ساتھ بھی معصومہ کی بہت دوستی ہو گئی تھی ماہین ، معصومہ ، باسط ، ہانیہ اور رانیہ اس وقت پیزا پارٹی کر رہے تھے جب معصومہ کی پیزا دیکھ کر طبیعت عجیب ہونے لگی سب کے اصرار پر ایک ٹکڑا اس نے پیزے کا بمشکل حلق سے اتارا تو اس کا دل متلی کرنے لگا
منہ پر ہاتھ رکھ کر وہ فوراً وہاں سے نکلی تھی باقی تو کسی نے دھیان نہ دیا مگر کچن سے نکلتی شیرین صاحبہ کی نگاہوں سے معصومہ کی حرکت مخفی نہ رہ سکی وہ مسکرا کر معصومہ کے پیچھے گئیں تھیں
” معصومہ بیٹا کیا ہوا ۔۔؟ طبیعت ٹھیک ہے ۔۔؟”
معصومہ کے کمرے میں آ کر وہ اسے واشروم سے نکلتا دیکھ کر پوچھنے لگیں تو اپنے سامنے اچانک شیرین صاحبہ کو دیکھ کر معصومہ چونک گئی
” جج جی تائی ماں ۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔”
معصومہ دوپٹہ کو سر پر اوڑھتی ہوئی نگاہیں جھکا کر بولی تو شیرین صاحبہ اس کے قریب گئیں
” کب سے ہے ایسی طبیعت ۔۔ ؟؟”
وہ کھوجتی نگاہوں سے معصومہ کے چہرے کو دیکھتی پوچھنے لگیں
” بس ابھی وہ میرا پیزا کھانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا ان لوگوں نے زبردستی تھوڑا سا کھلا دیا اس وجہ سے دل خراب ہو گیا میرا ۔۔ آپ فکر نہیں کریں میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔”
معصومہ ان سے نگاہیں چرا کر بولی تھی
” ہمم چلو اچھا ڈاکٹر کو چیک کروا لیتے ہیں۔۔”
اس بار شیرین صاحبہ سنجیدگی سے گویا ہوئیں تو معصومہ سٹپٹا گئی
” نن نہیں تائی ماں اس کی ضرورت نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔ “
وہ بوکھلاہٹ میں بولی تھی جبکہ شیرین صاحبہ نے مزید اسے کچھ کہنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے باذل سے اس بارے میں بات کرنے کا سوچا اور سر ہلاتیں کمرے سے باہر نکلیں اب ان کا ارادہ باذل کو فوری گھر بلوا کر معصومہ کا چیک اپ کروانے کا تھا کیونکہ ان کی نگاہیں انہیں جو سمجھا رہیں تھی وہ اتنی بڑی بات تھی جس باعث وہ جاننے کے لیے ہرگز بھی دیر نہیں کرنا چاہتی تھیں
اور فوراً انہوں نے لاؤنج میں لگے فون سے باذل کو کال کر کے بتایا کہ آج جلدی گھر آ جائے معصومہ کی طبیعت کچھ بہتر نہیں لگ رہی جبکہ دوسری جانب باذل جو کہ بہت ضروری کاموں میں گھرا ہوا تھا معصومہ کی طبیعت کا سن کر پریشان ہو گیا مگر بہت زیادہ جلدی کرنے کے باوجود وہ شام سے پہلے شیرازی ہاؤس نہیں پہنچ سکتا تھا شام تک آنے کا کہہ کر وہ اپنے ضروری کام نبٹانے لگا آج اسے اپنے مشن کی وجہ اپنے سینیئر میجرز سے ملنا تھا اس کے بعد اسے اپنے آفس جا کر اپنی ٹیم سے ملنا تھا جہاں چھ لوگوں پر مشتمل اس کی ٹیم اس کا انتظار کر رہی تھی مگر بار بار اس کا ذہن معصومہ کی جانب مبذول ہو جاتا تھا کال کرنے کا اس کو موقع نہ ملا مگر میسج پر اس نے معصومہ سے طبیعت کے متعلق پوچھا تو معصومہ کا تسلی بخش میسج پڑھ کر اسے یک گونہ سکون پہنچا تھا
///////////////////////////
طبیعت کچھ سنبھالی تو وہ پھر سے کمرے سے باہر نکلی مگر باذل کا میسیج پڑھ کر اس کا دل بہت زور سے دھڑکا یقیناً تائی ماں نے باذل کو اس کی طبیعت کی خرابی کے باعث بتایا تھا وہ باذل کو اپنے ٹھیک ہونے کا یقین دلا کر دوبارہ لاؤنج کی جانب بڑھی تو اسے سیڑھیوں کی ایک طرف باسط سیل فون کان سے لگائے کسی سے محو گفتگو نظر آیا مگر باسط کی دھیمی آواز اور رازدانہ انداز معصومہ کو چوکنا کر رہا تھا وہ بنا آہٹ کیے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی باسط کے پیچھے جا کھڑی ہوئی تو کسی احساس کے تحت باسط نے فوراً اپنے پیچھے دیکھا مگر معصومہ کو دیکھ کر اسے عجیب لگا جبکہ معصومہ بھی باسط کے اچانک دیکھنے پر بوکھلا گئی
” کیا ہوا بھابھی ۔۔ ؟”
معصومہ کے اڑے ہوئے چہرے کو دیکھ کر باسط کچھ فکرمندی سے پوچھنے لگا
” ہمم کچھ نہیں ۔۔ ویسے ہی ۔۔ تم کہیں جا رہے ہو ۔۔ ؟؟”
معصومہ اس کے مزید سوالوں سے بچنے کی خاطر الٹا اسی سے سوال کرتی خود کو نارمل کرنے لگی
” جی ۔۔ میں بس جا رہا ہوں ۔۔ “
باسط کو کچھ عجیب تو لگا مگر عام انداز میں کہتا کسی سے فون پر بات کرتا لاؤنج میں چلا گیا جبکہ معصومہ کا رخ دوبارہ اپنے کمرے کی جانب تھا
کمرے میں آکر اس نے دروازہ لاک کیا اور باذل کی الماری کھولی الماری کے ایک حصے کو لاکڈ دیکھ کر اسے شدید غصہ آیا مگر سر جھٹکتی پھر سے لاؤنج کی جانب بڑھی مگر باسط اسے شیرازی ہاؤس کے بیرونی دروازے کی جانب جاتا دیکھائی دیا معصومہ نے کچھ سوچ کر فوراً ملازمہ سے اپنی چادر منگوائی اور اس کے پیچھے چل پڑی
” باسط ۔۔ !”
گاڑی کی جانب بڑھتے باسط کو اس نے پیچھے سے آواز دی تو وہ رک کر ناسمجھی سے چادر میں لپٹی معصومہ کو دیکھنے لگا
” جی بھابھی ۔۔ ؟”
جب معصومہ اس کے روبرو کھڑی ہوئی تو باسط نے نہایت ادب سے پوچھا جبکہ معصومہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر اس کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی جبکہ باذل کے ماتھے پر ناسمجھی کے باعث ایک اور لکیر ابھری پھر خود بھی ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا
” کہاں جا رہے ہو ۔۔ ؟؟”
باسط کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی معصومہ بولی
” میں گھر جا رہا ہوں ۔۔ “
باسط نے عام سے انداز میں کہا جبکہ وہ واقعی پریشان ہو رہا تھا کہ معصومہ ایسے کیوں پوچھ رہی ہے
” اوکے مجھے تمہارا گھر دیکھنا ہے ۔۔ !”
معصومہ مستحکم انداز میں بولی تھی جبکہ باسط اس کی بات پر چونکا تھا
” ارے کوئی مسئلہ ہے کیا ۔۔؟؟”
باسط کو پر سوچ انداز میں اپنی جانب تکتا پا کر وہ پھر گویا ہوئی
” نہیں تو ۔۔ مگر ۔۔ “
باسط کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ معصومہ کو کیسے انکار کرے کیونکہ باذل کی اجازت کے بغیر وہ اسے نہیں لے جا سکتا تھا
” پلیز مجھے تمہارا گھر دیکھنا ہے ۔۔”
معصومہ آج ٹھان چکی تھی کہ باسط کے ذریعے باذل تک پہنچنے کی کوشش کرے گی اسی لیے بغیر سوچے سمجھے جو دل میں آ رہا تھا وہ کر رہی تھی
” ہمم اوکے بھابھی ۔۔ “
باسط کہتا ہوا گاڑی ڈرائیو کرنے لگا شیرازی پیلس پہنچ کر اس نے گاڑی پارک کی اور معصومہ کی طرف کا دروازہ کھول کر اس کا مسکرا کر اپنے گھر میں استقبال کیا جبکہ معصومہ یہ عالی شان گھر دیکھ کر دنگ رہ گئی
” میں اپنا موبائل گھر بھول آئی ہوں پلیز مجھے ایک کال کرنی ہے تو اپنا موبائل دے سکتے ہو ۔۔ ؟”
سیٹنگ ایریا میں بیٹھے وہ باسط سے مخاطب ہوئی تو باسط نے اپنا موبائل اس کی جانب بڑھا دیا جبکہ معصومہ موبائل کان سے لگائے سیٹنگ ایریا سے نکل گئی جبکہ باسط حیران سا وہاں بیٹھا رہ گیا وہ باذل کو معصومہ کے یہاں آنے کی اطلاع میسج پر دے چکا تھا جس پر باذل کو حیرت تو ہوئی مگر اس نے محض اوکے کا میسیج کیا
اسے معصومہ کی حرکات کچھ مشکوک تو لگ رہیں تھی مگر وہ کچھ نہ بولا
معصومہ نے بہت کوشش کی مگر ہر جگہ پاسورڈ لگا دیکھ کر وہ جھنجھلا گئی اور پھر سیٹنگ ایریا میں آ کر موبائل باسط کو تھما دیا یہاں آ کر بھی اسے کچھ حاصل نہیں ہوا تھا مایوس ہوتی وہ باسط سے دوبارہ شیرازی ہاؤس جانے کا کہنے لگی تو باسط ، باذل کی کال پر ڈرائیور سے معصومہ کو شیرازی ہاؤس چھوڑنے کا کہہ کر خود باذل سے ملنے کے لیے نکل گیا کیونکہ آج باذل نے ساری ٹیم کو ملنے کے لیے بلایا تھا
////////////////////////////
معصومہ ابھی پورچ میں داخل ہی ہوئی تھی جہاں ڈرائیور اس کا انتظار کر رہا تھا جب باسط کی گاڑی اسے گیٹ سے باہر جاتی دیکھائی دی یکدم ہی اس کے دماغ میں ایک خیال آیا تھا اور وہ گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیور کو تحکم انداز میں باسط کی گاڑی کا پیچھا کرنے کا کہا تو ناچار ڈرائیور کو معصومہ کی بات ماننی پڑی
اس کی گاڑی باسط کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر تھی تقریباً دس منٹ بعد ہی باسط کی گاڑی ایک بنگلے کے اندر داخل ہوئی معصومہ نے ڈرائیور کو کچھ فاصلے پر گاڑی روکنے کا کہا اور چادر اپنے وجود پر اچھی طرح درست کرتی گاڑی سے نکل گئی پیچھے ڈرائیور ہکا بکا سا اس دیکھتا رہ گیا اور پھر باذل کو کال کرنے لگا مگر باذل اس کی کال نہیں پک کر رہا تھا
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی آس پاس نظر گھماتی چل رہی تھی یہاں خاصی ویرانی تھی معصومہ کا دل خوفزدہ تو ہوا مگر ہمت کرتی آگے بڑھنے لگی جس بنگلے میں باسط داخل ہوا تھا اس کے قریب پہنچ کر وہ گیٹ پر کھڑے دو گارڈز کو دیکھ کر بوکھلا گئی معصومہ کو یقین تھا کہ باذل اور باسط دونوں اسی بنگلے کے اندر ہیں اور آج وہ ہر حال میں ان دونوں کی حقیقت جان کر رہے گی گارڈز اسے دیکھتے آگے بڑھے جب معصومہ کا دل بےحد خوفزدہ ہوا اس نے چادر سے اپنا منہ چھپا لیا
” کون ہو لڑکی ۔۔؟ اور یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔؟؟”
ایک گارڈ نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا تو معصومہ نے چادر پر اپنی گرفت مزید سخت کر لی مگر ہنوز خاموش رہی تبھی ایک بائیک پر سوار لڑکا جو کہ یقیناً اسی بنگلے میں داخل ہونے لگا تھا معصومہ اور گارڈز کو دیکھتا رک گیا
” کیا ہوا اسلم ؟؟ “
حماد گارڈ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جبکہ معصومہ کی تو جان جسم سے نکلنے لگی اسے ان تینوں سے خوف آنے لگا تھا دل ہی دل میں وہ اپنے یہاں آنے کے فیصلے پر پچھتا رہی تھی
” پتہ نہیں سر یہ اندر جانے لگی تھی ۔۔ ہم نے روک لیا مگر یہ بتا نہیں رہی کہ کون ہے ۔۔ “
گارڈ نے مہرون چادر میں لپٹی ہوئی معصومہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا تو حماد معصومہ کو گھورنے لگا ابھی وہ کچھ کہتا اس سے پہلے باسط آوازیں سن کر گیٹ سے باہر نکلا اور سامنے چادر میں چھپی معصومہ ، حماد اور گارڈز کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا
” بھابھی آپ یہاں ۔۔ ؟”
باسط معصومہ کی جانب بڑھا تھا جبکہ حماد بھی اب چونکا تھا
” بب باسط تمہارے بھائی کہاں ہیں ۔۔؟ مجھے بتاؤ وہ اندر ہیں نا ۔۔ مجھے اندر جانا ہے ۔۔ “
باسط کو دیکھ کر جیسے معصومہ کی جان میں جان آئی وہ آہستگی سے بولی
” بھابھی پلیز آپ رکیں میں آپ کو خود گھر چھوڑ کر آتا ہوں ۔۔ یہاں رکنا ٹھیک نہیں ہے آپ کے لیے ۔۔”
باسط معصومہ کی بات نظرانداز کرتا ہوا گیٹ کے اندر داخل ہو کر اپنی گاڑی باہر لانے لگا مگر پہلے ہی معصومہ اس کے پیچھے گیٹ کے اندر داخل ہو گئی جبکہ حماد اور گارڈ چاہ کر بھی اس بار اسے روک نہ سکے
” تمہارے بھائی کہاں ہیں باسط ۔۔ ؟”
معصومہ باسط کے سامنے کھڑی ہو کر پوچھنے لگی جبکہ باسط نے اپنا سر پکڑ لیا
” پلیز بھابھی آپ گاڑی میں بیٹھیں اگر بھائی نے آپ کو یہاں دیکھ لیا تو ۔۔ “
باسط ، معصومہ کو گاڑی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بےبسی سے بولا جبکہ معصومہ اس کی کوئی بات خاطر میں نہ لاتی ہوئی آس پاس دیکھتی ہال کی جانب بڑھی جبکہ حماد اور باسط بےبسی سے اسے دیکھتے رہ گئے
معصومہ گلاس ڈور دھکیلتی ہال میں داخل ہوئی تو ہال میں ٹیبل کے گرد کرسیوں پر بیٹھی رمشا ، ویشال ، ساحر اور باذل اس کی جانب متوجہ ہوئے باذل جو کہ اپنی کرسی پر بیٹھا اپنے سامنے بیٹھے ساحر سے کچھ کہہ رہا تھا چادر میں لپٹی معصومہ کو بے یقینی سے دیکھنے لگا
جبکہ معصومہ کی نگاہیں بھی باذل کی جانب تھیں
” یہاں کیا کر رہی ہو تم ۔۔ ؟”
باسط اور حماد کے ہال میں داخل ہونے پر باذل معصومہ کو دیکھتا سرد انداز میں پوچھ رہا تھا جبکہ باذل کی بھاری آواز اور سرد انداز دیکھ کر وہاں موجود تمام نفوس کا سانس سوکھ گیا جبکہ معصومہ نے اپنی گھبراہٹ دور کرنے کی غرض سے خشک لبوں کو زبان سے تر کیا
” یہی سوال اگر میں آپ سے پوچھوں ۔۔ !!”
دھیمی مگر مضبوط آواز میں وہ باذل کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی جبکہ باذل جس کا دماغ پہلے ہی معصومہ کو یہاں دیکھ کر گھوم گیا تھا اب تو اس کے الٹے جواب پر شدید غصہ آیا تھا گردن کی رگیں تن گئیں جبکہ مٹھیاں سختی سے بھینچنے سے بازو کی بھی رگیں تن گئیں جو کہ معصومہ ، باذل کی سیاہ شرٹ سے واضح دیکھ سکتی تھی
” یہاں کیسے پہنچی تم معصومہ ۔۔ ؟”
باذل نے اگلا سوال داغا تھا انداز ہنوز کرخت تھا اب وہ آہستہ آہستہ چلتا معصومہ کے قریب اس کے سامنے پشت پر ہاتھ باندھے کھڑا ہو چکا تھا باقی سب بھی اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھ کر ان دونوں کو دیکھنے جبکہ باسط نے ان دونوں کو مقابل دیکھ کر نفی میں سر ہلایا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ معاملہ کیسے بگڑنے سے بچائے
” یہ بات اہم نہیں ہے ۔۔ ہاں مگر مجھے میرے سوال کا جواب چاہیے ۔۔ کیا ہو رہا ہے یہاں پر ۔۔ “
ہنوز باذل کی سرخی مائل آنکھوں میں اپنی آنکھوں ڈالے وہ آہستگی سے بولی مگر خاموشی کے باعث اس کی آواز سب کے کانوں میں پڑی
” باسط ۔۔!”
معصومہ کو دیکھتے ہوئے باذل نے باسط کو پکارا
” ج جی ۔۔ ؟”
باسط اپنی جگہ سے ایک قدم آگے بڑھ کر بولا
” تم نے تو کہا تھا کہ ڈرائیور اسے گھر چھوڑنے جا چکا ہے ۔۔ پھر معصومہ یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔ ؟”
باذل ، معصومہ کو سرد نگاہوں سے دیکھتا باسط پر غرایا تھا اسے معصومہ کا وہاں آنا کس قدر ناگوار گزرا تھا کتنا غلط کیا تھا معصومہ نے وہاں آ کر
” جی ۔۔ میں نے ڈرائیور کو کہا تھا مگر مجھے خود انہیں یہاں دیکھ کر حیرت ہو رہی ہے ۔۔ پلیز بھابھی آپ چلیں میں آپ کو خود چھوڑ کر آتا ہوں گھر ۔۔”
باسط پہلے باذل کو صفائی دیتا آخر میں معصومہ سے مخاطب ہوا
” مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔ میں آپ سے کچھ پوچھ رہی ہوں آپ آج میرے کسی سوال کو نہیں ٹال سکتے ۔۔ “
معصومہ باسط کو انکار کرتی دوبارہ باذل سے مخاطب ہوئی جبکہ اس کی بات پر وہاں موجود تمام نفوس نے ایک دوسرے کو دیکھا
” ٹھیک ہے رمشا ابھی معصومہ کو کمرے میں لے جاؤ ۔۔ رات کو میں خود لے جاؤں گا گھر اپنے ساتھ ۔۔”
باذل معصومہ کی یہاں آنے کی غلطی پس پشت ڈالتا اپنا غصہ ضبط کرتا تحمل سے بولا جبکہ باسط سمیت سب نے حیرت سے باذل کو دیکھا وہ اتنا ٹھنڈا مزاج تو نہیں تھا جتنا معصومہ کے ساتھ برتاؤ کر رہا تھا جبکہ باذل کا حکم سنتے ہی رمشا آگے بڑھی
” میں نے کہا نا کہ مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔ مجھے ابھی صرف اپنے سوالوں کے جواب چاہئے آپ سے ۔۔”
باذل کی آنکھوں میں دیکھتی وہ نڈر ہو کر بولی ساتھ ہی ہاتھ اٹھا کر رمشا کو رکنے کا اشارہ کیا جبکہ معصومہ کی ہٹ دھرمی پر باذل کو بے تحاشہ غصہ آیا رمشا بیچاری کبھی معصومہ کو تو کبھی باذل کو دیکھنے لگی
” ٹھیک ہے جاناں ہم بات کرتے ہیں ابھی تم رمشا کے ساتھ کمرے میں جاؤ ۔۔ “
باذل کسی کی بھی موجودگی کی پرواہ کیے بغیر معصومہ کو بازوؤں سے تھام کر محبت سے چور انداز میں گویا ہوا جبکہ معصومہ اس مرتبہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی
” مجھے بتائیں آپ یہاں کیا کر رہے ہیں مرشد صاحب ۔۔ ؟؟”
معصومہ اس کی محبت پس پشت ڈالتی ایک ایک لفظ چبا کر بول رہی تھی جبکہ باقی سب نے حیران کن تاثرات لیے معصومہ کو دیکھا ان میں سے کسی نے بھی کبھی باذل کی بات در کرنے یا اس طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کبھی بات کرتے کسی کی ہمت نہیں ہوئی تھی اور اگر کوئی ایسی جرات کرتا تھا تو باذل شیرازی اس کا حشر کر دیتا تھا مگر آج معصومہ کے سامنے کس قدر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے محبت جتا رہا تھا
” چلو میں لے چلتا ہوں روم میں پھر تھوڑی دیر تک گھر چلیں گے ۔۔ “
باذل اب معصومہ کا ہاتھ تھام کر اسے خود کمرے میں جانے کے لیے آگے بڑھا تھا وہ رات کا انتظار اس لیے کر رہا تھا کہ روشنی میں معصومہ کو اس کے ساتھ یہاں سے نکلتے ہوئے کوئی دیکھ نہ لے
” مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ ۔۔ جب میں کہہ رہی ہوں کہ مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ کہیں بھی ۔۔ اگر آپ آج کچھ نہیں بتائیں گے تو میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ۔۔ بھیا کو کال کریں میں ان کے ساتھ جاؤں گی۔۔ “
معصومہ باذل کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑواتی خاصی چڑچڑی ہو کر بولی تھی جبکہ اس مرتبہ باذل نے اپنا غصہ ضبط کرنے کی غرض سے جبڑے سختی سے بھینچے آنکھیں اس کی انگارے برسا رہیں تھیں
” معصومہ ۔۔ !”
باذل کی بھاری آواز ہال میں گونجی تھی باذل کی غراتی آواز سن کر ہر کوئی کانپ گیا باسط نے بےبسی سے دونوں کو دیکھا جبکہ معصومہ کا وجود بھی لرز گیا
” مم مجھے جواب چاہیے آپ سے سنا آپ نے ۔۔ “
معصومہ اپنی آواز اور وجود کی کپکپاہٹ پر قابو پاتی باذل کی سختی سے بھینچی ہوئی مٹھیوں پر نگاہیں جمائے بولی مگر اس سے پہلے باذل کچھ کہتا معصومہ سر پر ہاتھ رکھتی لڑکھڑا گئی اس سے پہلے وہ بری طرح زمین بوس ہوتی باذل نے اسے اپنے مضبوط بازوؤں کے حصار میں مقید کر لیا
” جاناں ۔۔ کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو ۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔ “
ایک ہاتھ معصومہ کی کمر کے گرد حائل کرتے ہوئے وہ اس کا چہرہ تھپتھپا کر لہجے اور انداز میں پریشانی لیے بول رہا تھا باقی سب بھی اچانک معصومہ کے بے ہوش ہونے پر گھبرا گئے جبکہ باذل اب معصومہ کو باہوں میں بھرے ہال میں موجود ایک کمرے میں لے گیا وہ اچانک معصومہ کے بےہوش ہونے پر اس قدر پریشان ہو گیا تھا کہ سب اسے دیکھ کر حیران ہو رہے تھے
” رمشا ڈاکٹر کو بلاؤ ہری اپ ۔۔!”
اپنے پیچھے آتی رمشا کو کہتا وہ معصومہ کو اس سادہ سے کمرے میں لاتا سنگل بیڈ پر لٹا چکا تھا
تھوڑی دیر بعد ہی ڈاکٹر ہما روم میں داخل ہوئی تو باذل پریشان سا معصومہ کا ایک ہاتھ تھامے دوسرے سے اس کے بالوں کو سہلا رہا تھا ڈاکٹر کو چیک اپ کا بولتا وہ کمرے سے باہر نکل گیا اب ہال میں باسط ، رمشا اور ویشال پریشان سے کھڑے ہوئے تھے باذل انہیں ایک نظر دیکھتا خود بھی پریشانی سے چکر کاٹنے لگا تھوڑی دیر بعد ہی ڈاکٹر نکلیں تو باذل جلدی سے ان کی جانب بڑھا
” معصومہ کیسی ہے اب ۔۔؟ اچانک کیوں بے ہوش ہو گئی ۔۔ ؟”
باذل جلدی سے پوچھ رہا تھا ڈاکٹر ہما بھی سیکرٹ آفیسر تھیں جو ہمیشہ باذل کے کام آئیں تھیں
” سر یو ڈونٹ وری بی پی لو ہو گیا تھا آپ کی مسز کا ۔۔ بٹ اس کنڈیشن میں ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔۔ ان کو اچھی ڈائٹ کی ضرورت ہے ۔۔ ابھی وہ ٹھیک ہیں آپ مل سکتے ہیں ۔۔”
ڈاکٹر ہما مسکرا کر بولیں تھیں جبکہ باذل کا دماغ تو ان کی ایسی کنڈیشن والی بات پر ہی اٹک گیا
” کیسی کنڈیشن ۔۔ ؟؟”
باذل کے جلدی سے پوچھنے پر ڈاکٹر ہما نے اسے حیران ہو کر دیکھا
” میجر یو نو دیٹ شی از تھرڈ منتھ پریگننٹ ۔۔؟؟ “
ڈاکٹر ہما حیرت سے پوچھ رہیں تھی جبکہ باذل کا تو دماغ تین مہینے پر ٹھٹھک گیا تھا
” آ آر یو شوئر ڈاکٹر ۔۔”
باذل نے تصدیق چاہی تھی کیونکہ اس کا دل یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ معصومہ تین مہینے تک کیسے یہ بات اس سے مخفی رکھ سکتی ہے
” یس میجر ۔۔ !”
ڈاکٹر ہما کے ساتھ ساتھ باسط ، رمشا اور ویشال بھی باذل کی بےخبری پر حیران ہوئے تھے
جبکہ باذل نے ان کی بات سنتے ہی کمرے کی جانب قدم بڑھائے جہاں معصومہ موجود تھی کیونکہ ابھی صرف باذل کو معصومہ سے اس کے سوال کے جواب چاہیے تھے
وہ کمرے میں داخل ہوا تو معصومہ بیڈ پر سر جھکائے بیٹھی تھی باذل نے اس کی کلائی جکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو وہ بوکھلا گئی
” تم یہ بات جانتی تھی ۔۔ ؟”
باذل کی دھاڑتی آواز کمرے میں گونجی تھی جبکہ معصومہ باخوبی سمجھ چکی تھی کہ باذل کی بات کا اشارہ کس جانب ہے
” ہمم ۔۔ “
معصومہ نے نگاہیں باذل کی گردن کی تنی ہوئی رگوں کی سمت کرتے ہوئے ہنکار بھرا
” کب سے ۔۔؟؟”
باذل نے اگلا سوال بھی فورا کیا تھا معصومہ نے اپنی پلکیں اٹھا کر باذل کی بےتحاشہ سرخ آنکھوں میں جھانکا
“کک کافی دن سے ۔۔ “
وہ لرزتے وجود کو قابو کرتی بولی اس کی بات سن کر باذل نے بے یقینی سے اسے دیکھا اور اس کی کلائیاں چھوڑ دیں
اب باذل یکدم طیش میں آیا تھا اور اپنے ہاتھ کا مکہ بنا کر پہلے شیشے کے میز کو توڑا پھر دیوار پر ہاتھ مارنے لگا اس کی اس جارحانہ کاروائی پر معصومہ کا دل و جان کانپ اٹھا اسے ایسے محسوس ہو رہاتھا کہ جیسے باذل شیشہ اور دیوار اس کے وجود کو تصور کرتا اپنا غصہ ان چیزوں پر نکال رہا ہے آنکھیں بند کرتی وہ بیڈ پر بیٹھ کر بے آواز رونے لگی جبکہ باذل کے ہاتھ سے خون بہتا ہوا فرش کو رنگ رہا تھا مگر وہ رکا نہیں تھا اور معصومہ کو اسے روکنے کی ہمت بھی نہیں تھی
” آفرین ہے باذل شیرازی تم پر ۔۔ اتنے مہینوں میں اپنی بیوی کا اعتماد تک نہیں جیت سکے تم ۔۔ “
باذل اب میز اٹھا کر زور سے فرش پر مارتا ہوا دھاڑا جبکہ معصومہ کے رونے میں مزید شدت آگئی تھی
” میجر باذل شیرازی نام ہے میرا ۔۔ ایک سیکرٹ آفیسر بھی ہوں میں ۔۔ کچھ دن صبر کر لیتی تم ۔۔ اپنے مشن کے اصولوں کی وجہ سے فی الحال حقیقت نہیں بتا رہا تھا تمہیں مگر آج تو ویسے بھی تم نے یہاں آکر ہر حد پار کر دی ۔۔ “
معصومہ کو بغیر دیکھے باذل دھاڑا تھا اور سائیڈ ٹیبل پر پڑا لیمپ اٹھا کر فرش پر دے ماراجبکہ معصومہ کے کانوں میں باذل کے الفاط گونج رہے تھے وہ اب اپنا رونا بھول کر بے یقینی کے عالم میں باذل کو دیکھ رہی تھی
” کوئی غیر قانونی ، گھٹیا کام نہیں کرتا میں ۔۔ بلکہ پاک فوج کے لیے کام کر رہا ہوں ۔۔ “
وہ پھر سے بلند آواز میں بولا تھا اب معصومہ اپنی کم عقلی پر آنسو بہا رہی تھی شرمندگی کے باعث وہ باذل سے نظریں ہی نہیں ملا پا رہی تھی اب باذل معصومہ کی جانب بڑھا تھا جب معصومہ سہم کر بیڈ پر سمٹ گئی تھی باذل نے اسے بازو سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کیا
“کیوں یہ بات چھپائی مجھ سے ۔۔؟”
لفظ چبا کر ادا کرتا وہ اس کی رونے کے باعث سرخ ہوئے چہرے کو دیکھتا غرایا جبکہ معصومہ محض سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی معصومہ کو خاموش پا وہ مزید اشتعال میں آیا
“کیوں معصومہ ۔۔ کیوں میرے بچے کو گناہ کی طرح چھپایا تم نے مجھ سے ۔۔ ڈیم اٹ اولاد ہے میری خون ہے میرا ۔۔ کیا یہ بات سب سے پہلے جاننے کا حق نہیں تھا مجھے ۔۔ تین مہینے تک کیوں یہ بات چھپائی مجھ سے ۔؟۔۔”
باذل دھاڑا تھا جبکہ اس کی بات سن کر معصومہ نے تڑپ کر اسے دیکھا
” مم مجھے مم معاف ۔۔ “
” شٹ اپ ۔۔ جسٹ شٹ اپ ۔۔ “
معصومہ نے معافی مانگنی چاہی تھی جب باذل نے اسے ڈپٹ دیا تو وہ مزید سہم گئی
” دور ہو جاؤ !! فی الحال میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔ اگر ایک اور لمحہ تم میرے سامنے کھڑی رہی تو خدا کی قسم میں جان لے لوں گا تمہاری ۔۔ جاؤ !!”
باذل پھر سے دھاڑا تھا معصومہ نے سختی سے اپنے آنسو صاف کیے اور باذل کو بےبسی سے دیکھتی کمرے سے نکل گئی
//////////////////////////
جاری ہے
