Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 25
وہ قائم کی کال کرنے پر فوری شیرازی ہاؤس پہنچا تھا قائم نے دادا جان کے بہت زور دینے پر اسے راضی کیا تھا نہیں تو آج اس کا ٹھکانہ آفس میں ہوتا کیونکہ باذل نے اس کو شکل نہ دیکھانے کی سزا دی تھی اور آج یقیناً باذل کا شیرازی ہاؤس جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا بلکہ وہ اپنے گھر ‘ شیرازی پیلس ‘ پر قیام کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تبھی باسط ، قائم کے زور دینے پر دل میں ڈھیر ساری بیزاری لیے شیرازی ہاؤس پہنچ چکا تھا
باسط کو شیرازی ہاؤس میں کسی سے کوئی سروکار نہ تھا ہاں مگر وہ قائم کا عزت و احترام باذل کی طرح کرتا تھا بلاشبہ قائم بھی باسط کو اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرح سمجھتا تھا کچھ عرصے پہلے کام کے سلسلے میں ان دونوں کی ملاقات ہوتی رہتی تھی اسی لیے باذل کی نسبت باسط کی قائم سے خاصی دوستی تھی
شیرازی ہاؤس آنے پر اسے یہ خیال بھی شدت سے آیا تھا کہ ثمرہ والے معاملے کے باعث معصومہ اور باذل کے درمیان ضرور تلخ کلامی ہوئی ہوگی اور یہ بات تو متوقع تھی کیونکہ معصومہ کی جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی تو ضرور ایسے ہی ردعمل دیتی وہ دعا کر رہا تھا کہ معصومہ سے فی الحال اس کا سامنا نہ ہو کیونکہ جانے باذل نے اسے کچھ بتایا ہو گا بھی یا نہیں اور اگر باذل نے اسے حقیقت کے بارے میں آگاہ نہ کیا ہو تو یقیناً وہ ان دونوں کو کس قدر غلط سمجھ سکتی ہے باسط اس سے باخوبی واقف تھا
اس محل نما گھر میں داخل ہوتے ہوئے باسط نے ایک ٹھنڈی آہ بھری تھی یہ وہی شیرازی ہاؤس ہے جہاں سے اس کی ماں کو دھتکار کر باہر نکالا گیا تھا وہ باذل کی تربیت کی وجہ سے شیرازی ہاؤس کے مکینوں سے نفرت تو کبھی نہیں کر سکا تھا مگر وہ ان سب کے معاملے میں اپنے دل میں کوئی جذبات بھی نہیں رکھتا تھا
آہستہ مگر مضبوط قدم اٹھاتا وہ شیرازی ہاؤس میں داخل ہوا تھا اس وقت گھڑی کی سوئیاں رات کے گیارہ بجا رہیں تھیں اندرونی حصے میں داخل ہو کر اسے وہاں چند ملازمین کے علاوہ کوئی نہ دیکھائی دیا اس محل نما گھر میں بلکل سکوت تھا
باسط نے پینٹ کی جیب سے سیل فون نکال کر قائم کو میسج پر اپنے پہنچ جانے کی اطلاع دی اور وہاں لاؤنج میں لگی تصاویر دیکھنے لگا کوئی ملازمہ اس کے لیے کافی لوازمات سے بھری ٹرالی لائی تھی مگر اس نے انکار کر دیا اور تصاویر کا بغور جائزہ لینے لگا
وہاں دادا جان ، قائم اور باذل کی تصاویر کے ساتھ ساتھ دیوار پر اس کی اپنی تصاویر نصب دیکھ کر کچھ حیرت ہوئی مگر اپنا سر جھٹکتا وہ اپنے موبائل پر آئے چند میسج کی جانب متوجہ ہوا اتنے میں قائم آیا اور اسے خود دادا جان کے پاس لے کر گیا وہاں ان تینوں نے ساتھ بیٹھ کر باتیں کیں باسط زیادہ تر باتوں کے جواب مختصر دیتا رہا اس کا سرد رویہ دادا جان علاوہ قائم نے بھی محسوس کیا مگر وہ دونوں ہی سمجھتے تھے کہ وہ ایک لمبا عرصہ ان سے دور رہا تھا آہستہ آہستہ وہ ان سب میں گھل مل جائے گا
کافی دیر شیرازی ہاؤس میں دادا جان کے ساتھ بیٹھنے کے بعد وہ وہاں سے جانے کو اٹھ کھڑا ہوا دادا جان نے تو اسے بہت بار شیرازی ہاؤس میں ہی قیام پذیر رہنے کا کہا مگر وہ بہت سہولت سے انکار کر گیا
وہ دادا جان کے کمرے سے نکل رہا تھا جب ایک دبلی پتلی سی لڑکی بوکھلائی ہوئی اس سے ٹکرائی تھی اور دیوار سے جا لگی تھی ہانیہ نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنی بے اختیار نکلنے والی چیخ کو روکا جبکہ باسط تو یک ٹک دیوار سے لگی لڑکی کو دیکھنے لگا
سفید رنگ کے سادہ سے جوڑے میں سر پر دوپٹہ اوڑھے وہ کوئی سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی تھی آنکھیں سختی سے میچے اپنے حسین چہرے پر ہاتھ جمائے وہ دیوار سے لگی کھڑی تھی
” ایم سوری ۔۔ آپ اچانک سامنے آ گئیں اس لیے ۔۔ اگین سوری ۔۔ بٹ آپ ڈریں نہیں ۔۔ اوکے غلطی میری تھی ۔۔ “
ہانیہ کی خوف سے پھیلی آنکھیں دیکھ کر وہ اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود معذرت کرتی ہوئے پشیمانی سے بولا تھا جبکہ ہانیہ جو کہ اپنی ماما کے لیے کچن سے پانی لینے جارہی تھی اچانک باسط سے ٹکرا کر دیوار سے جا لگی اور وہ باسط کو اپنی خوفزدہ آنکھوں سے تکتی پہچان گئی تھی
” آپ ریلیکس ہو جائیں پلیز ۔۔ !”
باسط نے ہانیہ کو ہنوز وہیں دیوار کے ساتھ چپکے دیکھ کر نرمی سے کہا تو ہانیہ سر اور نگاہیں جھکائے سرعت سے وہاں سے چلی گئی
جبکہ باسط اسے بغیر کچھ کہے جاتا دیکھتا ہی رہ گیا پھر خود بھی لاپرواہی سے سر جھٹک کر چلا گیا
////////////////////////////
رات کے دو بجے باذل دوبارہ ‘ شیرازی پیلس ‘ میں داخل ہوا تھا یہ گھر اس نے کچھ عرصے پہلے سیٹ کروایا تھا یہ کئی کنال پر مشتمل ایک شاندار گھر تھا جس کو باذل اور باسط دونوں نے اپنی ماں کے ساتھ سیٹ کیا تھا ان دونوں کی ہی یہاں اپنی ماں کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ تھیں
اس نے باسط کو دور رہنے کی سزا اس لیے دی تھیں کہ وہ یہاں سے دور رہ کر شیرازی ہاؤس کے مکینوں سے نزدیک ہو گا وہ اس گھر کا بیٹا تھا اس کا شیرازی ہاؤس پر اتنا ہی حق تھا جتنا قائم اور باذل کا تھا
وہ ابھی ثمرہ کو ہاسٹل سے نکال کر خود ہی ائیرپورٹ چھوڑ کر آیا تھا کیونکہ ثمرہ کا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہ تھا ثمرہ اسے دیکھ کر سہم تو گئی تھی مگر باذل کے سمجھانے پر وہ اپنی چھوٹی بہن کے پاس ملک سے باہر جانے کو تیار ہوئی تھی
باذل جانتا تھا کہ ثمرہ کی غیر موجودگی معصومہ اور اس کے درمیان مزید کشیدگی کی وجہ بنے گی مگر وہ اپنے رشتے کے باعث نہ تو ثمرہ کی زندگی خطرے میں ڈال سکتا تھا اور نہ معصومہ کی زندگی ۔۔ ! اور نہ اپنی نوکری کے ساتھ کوئی لاپرواہی کر سکتا تھا
مگر وہ اپنے اور معصومہ کے رشتے کو بھی کسی غلط فہمی کی نذر نہیں کر سکتا تھا یقیناً معصومہ نے اسے جتنی بھی سخت باتیں کہیں تھیں وہ محض غصے کے باعث کہیں تھیں کیونکہ اسے یقین تھا کہ معصومہ اس پر یقین کرتی ہے اور یہ وقتی غصہ تھا جو بھڑاس کی صورت میں باذل پر نکال چکی تھی یقیناً جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گا تو وہ ضرور اس پر یقین کرے گی
باذل جانتا تھا معصومہ جذباتی اور غصے کی تیز ہے اس لیے یقیناً اسے خود ہی صبر اور برداشت سے کام لینا ہے کیونکہ ضروری تو نہیں ہر بار عورت ہی صبر کرے بعض اوقات مرد کو بھی صبر و تحمل سے معاملات کو سلجھانا ہوتا ہے
وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ معصومہ سے محبت کرتا ہے یا نہیں مگر یہ بات بھی سچ تھی کہ معصومہ ہر بار اس کے صبر کا کڑا امتحان لیتی تھی اور باذل شیرازی تہہ دل سے اس بات کا اقرار کرتا تھا کہ معصومہ شیرازی بہت خوش قسمت تھی جس کے لیے باذل شیرازی کمال ضبط سے کام لیتا تھا اور پھر باذل شیرازی کے اصولوں میں عورت کے لیے خواہ وہ کوئی بھی ہو بے انتہا عزت و احترام کرنا شامل تھا اور پھر معصومہ تو اس کی بیوی تھی جس کے لیے باذل شیرازی بہت خاص جذبات اپنے دل میں رکھتا تھا
/////////////////////////
” اتنی رات ہو گئی ہے اور آپ ابھی تک جاگ رہیں ہیں۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی ؟؟”
قائم دادا جان کے کمرے سے کافی دیر بعد واپس اپنے کمرے میں آیا تھا مگر ماہین کو کمرے میں ٹہلتا دیکھ کر دروازہ بند کرتا پریشان لہجے میں پوچھنے لگا
” جی میں ٹھیک ہوں ۔۔ وہ آپ تھوڑی دیر کا کہہ کر اتنی دیر بعد آئیں ہیں اس لیے فکر ہو رہی تھی آپ کی ۔۔”
ماہین کا انداز تھوڑا خفا خفا سا تھا قائم کو وہ آج بیویوں کی طرح شوہر کے دیر سے آنے پر روٹھی روٹھی سی لگی تھی بے ساختہ ماہین کے انداز پر اس کے لب مسکرائے تھے اور وہ فاصلہ مٹاتے ہوئے بلکل ماہین کے سامنے جا کھڑا ہو
” اچھا تو آپ میرا ویٹ کر رہیں تھیں ۔۔ “
قائم نے چہرے کو سنجیدہ کرتے ہوئے ماہین کو مکمل اپنے حصار میں لیتے ہوئے ذومعنی سے پوچھا جبکہ ماہین تو قائم کے بدلے ہوئے لہجے اور انداز پر سٹپٹا گئی مزید قائم کا نرم لمس اس کے ہوش اڑا رہا تھا
” وو وہ نہیں ۔۔ مم میں تو بس ۔۔ ویسے ہی ۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔ “
قائم کی گرفت اتنی بھی نرم نہیں تھی کہ وہ خود کو اس کے حصار سے باآسانی نکال سکتی مگر اس نے کوشش بھی نہ کی تھی کیونکہ وہ ان دونوں کے درمیان رشتے کے تقاضوں کو سمجھتی تھی آواز تو جیسے اس کے حلق سے نکلنے سے انکاری تھی نگاہیں خودبخود جھک گئیں تھیں
” پچھلے تین گھنٹوں سے تو آپ میرا انتظار کر رہیں تھیں اب جبکہ میں آپ کے بہت قریب ہوں تو آپ کو نیند آ رہی ہے ۔۔ “
قائم اس کے چہرے پر جھکتا ہوا شوخ انداز میں بول رہا رھا جبکہ ماہین اسی سے شرماتی ہوئی اسی کے سینے میں چھپ گئی قائم نے بھی اسے خود میں بھینچ لیا
کئی پل وہ دونوں ایک دوسرے کی دھڑکن محسوس کرتے رہے تھے
” ایک ہفتے بعد ہمارا ولیمہ ہے ۔۔ “
قائم نے اسے مطلع کیا تھا جبکہ وہ کچھ نہ بول سکی اور ہنوز اس کے سینے سے لگی رہی
” ماہین ۔۔۔ !”
قائم کی خمار آلود آواز میں سرگوشی نے کمرے کی سکوت میں اشتعال پیدا کیا تھا جبکہ ماہین کی زبان تو ایسے بند ہوئی تھی جیسے وہ کبھی بولی ہی نہ ہو
دونوں کے مابین رشتے کا استحقاق تھا کہ قائم نے نرمی سے اسے جدا کر کے اس کے چہرے پر جابجا پہلی مرتبہ محبت سے مہر ثبت کیں
ماہین کا وجود قائم کی جسارتوں پر کپکپا رہا تھا جب وہ اس کی گردن پر جھکا تو ماہین نے پھر سے اس کے کشادہ سینے میں خود کو چھپا لیا جبکہ قائم اب ہوش میں آیا تھا اور اپنی بےخودی پر حیران ہوا تھا تھا ماہین کے کپکپاتے وجود کو نرمی سے خود سے لگائے بیڈ تک لایا اور اسے لٹا کر خود بھی اس کے ساتھ لیٹ گیا ماہین بھی اس کا ہاتھ تھامے اس کے سینے سے لگی رہی کئی لمحے وہ دونوں کچھ نہ بولے جبکہ کافی دیر بعد قائم کو محسوس ہوا کہ ماہین سو چکی ہے تو اس نے ماہین کے وجود کو خود سے جدا کرکے بیڈ پر لٹایا اور خود گہرا سانس خارج کرتا ٹیرس کی جانب بڑھ گیا
/////////////////////////////
ایک مشکل ترین رات کے بعد صبح کی روشنی کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہو رہی تھی جبکہ معصومہ نڈھال سی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی سیاہ لمبے ریشمی بال چٹیا سے نکلے بے ترتیب سے پشت کر بکھرے ہوئے تھے وہ رات سے اپنی بگڑی حالت سمجھنے سے قاصر تھی اب تو اس میں دو قدم چل کر واشروم تک جانے کی سکت نہ رہی تھی کئی مرتبہ دل میں خیال آیا کہ باذل کو کال کر کے بُلا لے مگر پھر انا بیچ میں آ جاتی تھی اسے باذل پر اب بھی شدید غصہ آ رہا تھا کہ وہ آج رات بھی جانے کہاں چلا گیا تھا اتنی تلخ کلامی کے بعد اگر وہ اپنی جگہ ٹھیک تھا تو کم از کم آج تو کہیں نہ جاتا بلکہ اس کے ساتھ رہتا مگر باذل نے تو کال یا میسج تک نہ کیا تھا مسئلہ تو یہی تھا نا کہ وہ اسے بتائے بغیر کئی کئی دن غائب رہتا تھا اسی لیے تو معصومہ اب اس سے مزید برہم ہو رہی تھی ایک طبیعت کا بوجھل پن تھا کہ کچھ بھی اچھا نہ لگ رہا تھا
بلاشبہ وہ باذل کی آنکھوں کی سچائی پر یقین ہر صورت کرتی تھی مگر اسے باذل کی زبان سے حقیقت سننی تھی وہ جانتی تھی کہ گذشتہ شب وہ باذل سے بے حد تلخ انداز میں بات کر چکی ہے جس پر اسے پشیمانی بھی تھی مگر وہ اس وقت فقط باذل کی زبان سے حقیقت سننا چاہتی تھی جو وہ بتانے سے گریز برت رہا تھا اسے اپنے اور باذل کے رشتے پر مان تھا اور بلاشبہ یہ مان باذل شیرازی کا ہی بخشتا ہوا تھا جو مرد ہونے کے باوجود ہمیشہ جھکتا تھا مگر معصومہ کا ارادہ کبھی بھی اسے اپنے سامنے جھکانے کا نہ تھا لیکن حالات ان دونوں کو اس موڑ پر لے آتے تھے بہرحال اسے باذل کے ساتھ رہتے ہوئے اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ باذل شیرازی کبھی کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ جو شخص اپنی بیوی کو اس قدر عزت و احترام دیتا ہو وہ شخص کیسے کسی کے باپ بھائی کو قتل کر سکتا ہے یقیناً باذل جیسے مرد صحیح معنوں میں مرد کہلانے کے لائق ہوتے ہیں اور بلاشبہ معصومہ اپنی خوش نصیبی پر خدا کی شکرگزار رہتی تھی مگر فی الوقت اسے باذل کے منہ سے حقیقت سننی تھی
ابھی وہ بیڈ پر نڈھال سی لیٹی دیوار کو دیکھتی اپنی سوچوں میں گم تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی معصومہ نے ہمت کرکے بیڈ پر پڑا دوپٹہ اپنے شانوں اور سر پر اوڑھ کر اٹھی اور دیوار کا سہارا لے کر دروازہ کھولا تو سامنے نوشین صاحبہ کو دیکھ کر وہ انہیں راستہ دیتی پورا دروازہ کھول کر دروازے کو تھامے بمشکل کھڑی رہی جبکہ نوشین صاحبہ معصومہ کی حالت دیکھ کر یکدم پریشان ہو گئیں
معصومہ کا شاداب و شفاف سا چہرہ زرد تھا آنکھوں کی سرخی اور بوجھل پن بہت زیادہ رونے اور ساری رات جاگنے کا اندیشہ دے رہیں تھیں نوشین صاحبہ نے لپک کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا آخر کو اپنی اولاد کی طرح انہوں نے معصومہ کو پالا تھا اس کی یہ حالت ان کے دل میں بہت تیزی سے تیر پیوست کر رہی تھی
” معصومہ میری جان ۔۔ میری بچی یہ کیا حالت بنا لی ہے اپنی کیا بات ہے بیٹا ۔۔ ؟؟ میری بچی اتنی کم ہمت تو نہیں تھی کبھی بھی جو کسی بات کو اس قدر اپنے پر سوار کر لے ۔۔ پھر اس حالت کی وجہ ۔۔ ؟؟ اور باذل کہاں پر ہے ۔۔؟”
نوشین صاحبہ بہت سارے سوال ایک ساتھ کرتیں دروازہ بند کر کے معصومہ کو سہارا دیتی ہوئیں بیڈ پر بیٹھاتیں لہجے میں فکرمندی اور محبت لیے پوچھ رہیں تھیں جبکہ معصومہ بمشکل اس کے سینے سے سر اٹھا کر اپنے آنسو صاف کرنے لگی
” کیا ہوا ہے میری بچی ۔۔ ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری ۔۔ ؟؟”
معصومہ کا مرجھایا ہوا تھکا تھکا سا چہرہ دیکھتی وہ پھر سے پوچھنے لگیں جبکہ معصومہ نے بمشکل ان سے ہاتھ چھڑا کر اپنا ہاتھ منہ پر رکھا اور بمشکل چلتی ہوئی واشروم کی جانب بڑھی جبکہ نوشین صاحبہ بھی اس لے پیچھے لپکیں معصومہ کو واش بیسن پر جھکا دیکھ کر پہلے ان کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے پھر معصومہ کو چہرے پر پانی چھپکتے دیکھ کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری
” یہ کب سے ہو رہی ہے بیٹا ۔۔ ۔۔؟”
معصومہ کو دوبارہ کمرے میں لا کر بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے انہوں نے پوچھا جبکہ لب ابھی بھی ان کے مسکرا رہے تھے
” پتہ نہیں پھوپھو جان کل صبح سے ایسی ہی طبیعت ہو رہی تھی اور رات تو بہت مشکل سے گزری ہے ۔۔ “
معصومہ تو عاجز آ گئی تھی ایک تو باذل سے لڑائی ہوگئی تھی دوسرا ایسی طبیعت نے اسے اب حقیقتاً چڑچڑا کر دیا تھا بیڈ پر بیٹھتی رونے کے سے انداز میں وہ بولی تھی
” بیٹا گھبراؤ نہیں تم ۔۔ ایسی حالت میں ایسا ہو جاتا ہے ۔۔ باذل کہاں پر ہے اسے بولو تمہیں ہسپتال لے کر جائے ۔۔ “
نوشین صاحبہ مسلسل مسکراتے ہوئے معصومہ کے بال سہتے ہوئے بول رہیں تھیں جبکہ معصومہ نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا
” کیا مطلب پھوپھو ۔۔؟؟”
معصومہ نے ٹھٹک کر انہیں دیکھا تھا ناسمجھی اس کے لہجے میں واضح تھی
” میرا تجربہ کہتا ہے کہ تم امید سے ہو ۔۔ مگر تم باذل کو کال کرو وہ تمہیں چیک کروائے گا ۔۔ “
نوشین صاحبہ اس کا ماتھا چومتی لہجے میں بےحد خوشی لیے بول رہیں تھیں جبکہ معصومہ پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا تھا اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی
” اا ایسی بات نن نہیں ہے پھوپھو جان ۔۔ آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہیں ۔۔ ؟ “
معصومہ نے اپنی بوجھل آنکھیں پوری کھول کر اب ان کا مسکراتا چہرہ دیکھا اور ہچکچاتے ہوئے بولی
” بیٹا میں تو اپنی عمر اور تجربے کی بنا پر کہہ رہی ہوں ۔۔ بہرحال تم باذل کے ساتھ جا کر چیک کرو لوں ۔۔ “
وہ ہنوز چہرے پر مسکراہٹ لیے بول رہیں تھیں جبکہ معصومہ ابھی بھی بے یقینی کی کیفیت میں انہیں تکتی جا رہی تھی
” آ آپ چلیں گیں میرے ساتھ ڈاکٹر کو چیک کروانے ۔۔ ؟”
کچھ سنبھل کر وہ گویا ہوئی تھی جبکہ دل اس کا بہت زور سے دھڑکن رہا تھا
” ارے بیٹا میں کیا کروں گی جا کر ۔۔ تم باذل کے ساتھ جاؤ ایسے وقت میں شوہر کو بیوی کے ساتھ ہونا چاہیے ۔۔”
نوشین صاحبہ اب اسے سمجھانے لگیں تھیں جبکہ معصومہ نے اب بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا لی تھی
” نن نہیں پھوپھو جان پلیز آپ چلیں نا میرے ساتھ ۔۔ “
معصومہ نڈھال سی التجائیہ انداز میں بولی تھی
” ارے باذل کا فرض ہے تمہیں لے کر جانا ۔۔ تم اسے اپنے پاس بلاؤ بیٹا جلدی کرو ۔۔ دیکھو کیا حال ہو گیا ہے اس سے پہلے زیادہ طبیعت بگڑے ۔۔ چلو شاباش ۔۔!!”
وہ بھی معصومہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس سے گویا ہوئیں
” پھوپھو جان پلیز ۔۔ آپ چلیں نا ۔۔ پلیز مجھ سے اب بیٹھا بھی نہیں جا رہا ۔۔ وہ آنے میں پتہ نہیں کتنی دیر لگائیں گے ۔۔ پلیز آپ چلیں نا ۔۔ “
معصومہ ان کا ہاتھ تھامتی التجا کر رہی تھی جبکہ نوشین صاحبہ اس کی معصومیت پر بے اختیار اس کا ماتھا چوم گئیں
” اچھا ٹھیک ہے میں اماں جان سے اجازت لے کر آتی ہوں ۔۔ “
” نن نہیں پھوپھو جان پلیز ابھی کسی سے اس بارے میں ذکر مت کیجیے گا جب کنفرم ہو جائے تو پھر بتا دیئے گا۔۔ اور اجازت مم میں مرشد صاحب سے کال یا مسیج پر لے لیتی ہوں پلیز دادی جان سے مت کہیے گا ۔۔ “
معصومہ ان کی بات کاٹتی جلدی سے گویا ہوئی تھی جبکہ نوشین صاحبہ اس کی بات پر مسکرائیں
” اچھا ٹھیک ہے مگر باذل سے اجازت ضرور لے لینا نہیں تو معلوم ہے نہ جو عورت۔۔۔ “
” جی جی معلوم ہے جو عورت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلتی ہے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں مگر شوہر آرام و اطمنان سے کئی کئی راتیں بغیر بیوی کو بتائے باہر گزار سکتا ہے ۔۔ “
معصومہ ان کی بات کاٹتی تابیداری سے بول رہی تھی جبکہ آخری بات اس نے جل کر دل میں کہی تھی
” ہاں شاباش میری بچی ۔۔ چلو تم ہمت کر کے تیار ہو جاؤ میں بھی چادر لے کر آتی ہوں ۔۔”
نوشین صاحبہ بیڈ سے اٹھتیں اس کے سر پر بوسہ دے کر کمرے سے نکل گئی جبکہ معصومہ نے بجھے دل کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر پڑا سیل فون اٹھا کر باذل کے نمبر پر میسج ٹائپ کرنا شروع کیا
“میں پھوپھو کے ساتھ ہاسپٹل جا رہی ہوں ۔۔ “
میسج پر اس نے باذل سے اجازت طلب کرنے کے بجائے اپنے عمل سے مطلع کیا تھا وہ تو اکثر پھوپھو جان کے ساتھ ان کے شوگر چیک اپ کے لیے ہاسپٹل جاتی رہتی تھی میسج سینڈ کر کے اس نے سر بیڈ کی پشت سے لگا لیا اور آنکھیں موند لیں
ٹھیک دو منٹ بعد میسج ٹون بجی تھی تو معصومہ نے آنکھیں وا کر کے ہاتھ میں تھاما ہوا سیل فون دیکھا اور میسج اوپن کرنے لگی
” اوکے ۔۔ جاناں ۔۔”
دو لفظی جواب پڑھ وہ چند پل سکرین کو گھورتی رہی پھر ہمت کر کے اٹھی اور الماری سے اپنا جوڑا نکال کر تبدیل کرنے چلی گئی
///////////////////////////
وہ گاڑی میں بیٹھی باہر چلتی دنیا کو کھڑکی سے گھور رہی تھی ڈاکٹر کی تصدیق پر بھی وہ جانے کیوں خاموش سی ہو گئی تھی یہ خبر ہر عورت کے لیے کس قدر خوش کن ہوتی ہے مگر معصومہ کا دل جانے کیوں تیز تیز دھڑکن رہا تھا بلاشبہ وہ ماں بننے کی خبر سن کر خوش تھی مگر اس کے اور باذل کے درمیان ہوئی کشیدگی کے باعث وہ یقیناً باذل سے نالاں تھی اسی لیے خوشی مدھم پڑھ رہی تھی
” معصومہ جانتی ہو یہ خبر شیرازی ہاؤس میں پھیلی اداسی معدوم کر دے گی ۔۔ یہ خبر سنتے ہی ابا جان کس قدر خوش ہوں گے مجھے تو سوچ کر ہی بہت خوشی ہو رہی ہے ۔۔ دیکھنا تم آج تو جشن منایا جائے گا شیرازی ہاؤس میں ۔۔ “
معصومہ کو کھڑکی سے باہر تکتا دیکھ کر نوشین صاحبہ نے اس کی گود میں پڑے ہاتھ کو تھام کر بہت اشتیاق سے کہا خوشی ام کے چہرے اور انداز سے ظاہر ہو رہی تھی
جبکہ معصومہ نے اپنی اداس آنکھوں سے انہیں دیکھا
” پھوپھو جان ایک بات مانیں گیں ۔۔ ؟”
معصومہ اپنا رخ ان کی سمت کرتی بولی تھی جبکہ گاڑی شیرازی ہاؤس پہنچنے ہی والی تھی
” ہاں میری جان ۔۔ میری بیٹی کچھ کہے اور میں ٹال دوں ایسا ہو سکتا ہے کیا ۔۔ ؟”
انہوں نے لاڈ کرتے ہوئے الٹا اسی سے سوال کیا تھا
” پہلے وعدہ کریں کہ میری بات سننے کے بعد ماننے سے انکار نہیں کریں گی ۔۔ آپ پلیز ۔۔ “
معصومہ ایک حتمی فیصلہ کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دیکھتی کہہ رہی تھی
” ارے ایسی کون سی بات ہے جو میری بیٹی وعدے لے رہی ہے ۔۔؟ “
انہوں نے استفسار کیا تھا جبکہ معصومہ نے ایک گہرا سانس لیا تھا
” پلیز پھوپھو جان پہلے وعدہ کریں ۔۔ “
معصومہ التجا کر رہی تھی ان سے جبکہ نوشین صاحبہ نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا
” پلیز یہ بات کسی سے مت کہیے گا میرا مطلب ہے ۔۔ میں خود کچھ دنوں تک بتا دوں گی مگر پلیز ابھی نہیں ۔۔ “
معصومہ ان سے نگاہیں چراتی بولی تھی
” کیا مطلب ہے اس بات کا ۔۔ ؟ ہمم اچھا اب سمجھی تم پہلے باذل کو بتانا چاہتی ہو ہے نا ۔۔ “
پہلی تو نوشین صاحبہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا پھر ذہن میں آئے خیال کو معصومہ سے کہنے لگی جبکہ ان کی بات پر معصومہ نے نگاہیں چرا کر نفی میں سر ہلایا ۔۔
” پھوپھو جان مرشد صاحب سے کچھ حساب مانگے ہیں میں نے ۔۔ جب تک وہ مجھے میرے ہر سوال کا جواب نہیں دے دیتے میں یہ بات ان سے مخفی رکھنا چاہتی ہوں ۔۔ “
معصومہ دوٹوک انداز میں بولی تھی جبکہ نوشین صاحبہ تو اسے دیکھتی رہ گئیں تھی وہ اتنی بڑی بات عام سے انداز میں کیسے کہہ رہی تھی
” کیا مطلب ہے معصومہ اس بات کا ۔۔؟ ٹھیک ہے اگر تمہارے اور باذل کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا ہے تو یہ تو ہر میاں بیوی میں ہوتا رہتا ہے اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم باذل کو اتنی بری خوشی سے محروم رکھو یہ اس کا حق ہے ۔۔ اس کی اولاد ہے ۔۔ “
وہ لہجے میں حیرت اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات لیے گویا ہوئیں تھیں
” پلیز پھوپھو جان ۔۔ “
معصومہ اب ان کے دونوں ہاتھ تھامتی بولی
” معصومہ یہ بات ایسی نہیں ہے جو تم چھپا سکو ۔۔ کیوں بے وقوفی پر اتر آئی ہو ۔۔ تم سے ایسی حماقت کی ہرگز امید نہیں تھی مجھے ۔۔ “
نوشین صاحبہ نے افسوس سے اسے دیکھا تھا
” میں جانتی ہوں یہ بات میں زیادہ دن چھپا نہیں سکتی مگر پلیز آپ کسی سے مت کہیے گا ۔۔ پلیز پھوپھو جان ۔۔ یقین رکھیں میں جو کر رہی ہوں بہت سوچ سمجھ کے کر رہی ہوں ۔۔ “
معصومہ انہیں یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ نوشین صاحبہ نے ان سے کچھ کہنا چاہا تھا جب معصومہ پھر سے بولی
” آپ نے وعدہ کیا ہے پھوپھو جان ۔۔ “
معصومہ انہیں وعدہ یاد کرواتی بولی جبکہ نوشین صاحبہ ایک بےبس نگاہ اس پر ڈال کر شیرازی ہاؤس میں آ رکی گاڑی سے اتر گئیں جبکہ معصومہ جانتی تھی اب وہ کسی سے کچھ نہیں کہیں گی
وہ بھی گاڑی کا دروازہ کھولتی باہر نکلی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی چادر کو مزید خود پر درست کرتی اندر کی جانب بڑھ رہی تھی
اس نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ وہ یہ خوشخبری باذل کو اس وقت تک نہیں بتائے گی جب تک باذل اس کے ہر سوال کا جواب نہیں دے دیتا
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ باذل کو نہ بتا کر کتنی بڑی غلطی کر رہی تھی !!!!
///////////////////////////
جاری ہے
