Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 15

باذِل جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اپنی مخصوص چال چلتا آگے بڑھ رہا تھا اسے وسیع پورچ میں آتا دیکھ کر وہاں موجود ملازمین نے اسے سلام کیا اور مؤدب سے سر جھکا کر کھڑے ہو گئے ابھی وہ اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے ہی لگا تھا جب اسے بیرونی دروازے سے قائم کی گاڑی اندر آتی دیکھائی دی تھی اس کے بڑھتے قدم رک گئے اور سنجیدہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی گاڑی کا دروازہ بند کر کے وہ قدم قدم چلتا اس کی جانب بڑھا
جبکہ قائم نے بھی اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ لیا تھا اور وہ بھی گاڑی کا دروازہ وا کر کے باہر نکلا اور باذِل کی جانب بڑھا جبکہ اپنے دوسرے صاحب کو آتا دیکھ ملازمین نے اسے بھی ادب سے سر جھکائے سلام کیا
چند قدم بڑھنے پر ہی وہ دونوں ایک دوسرے کے روبرو کھڑے تھے بیشک وہ دونوں اپنی پُروقار شخصیت اور اس محل نما گھر کے وارث ہونے کے باعث کسی طور ایک دوسرے سے کم نہیں تھے

” مجھے تم سے اتنی بزدلی کی امید نہیں تھی قائم شیرازی ۔۔!!”
وہ قائم کو سرد نگاہوں سے دیکھتا کہہ رہا تھا اس کے لہجے میں طنز کی آمیزش واضح تھی جبکہ قائم اس کی بات سمجھتے ہوئے آس پاس کھڑے ملازمین کو دیکھتا ہاتھ کے اشارے سے وہاں سے جانے کا کہہ کر باذل کہ جانب متوجہ ہوا

” کس بارے میں بات کر رہے ہو تم ؟؟ ۔۔”
قائم نے اس کی سرخ آنکھوں میں جھانکتے عام سے انداز میں پوچھا جبکہ باذِل کے چہرے پر اب سنجیدگی کی جگہ تمسخر کا تاثر تھا

” اس بار کافی دن اپنی بیوی کے ساتھ گزارے ہیں تم نے ۔۔!! کیوں ایسا ہی ہے نا ؟؟”
باذِل کا طنزیہ اور تمسخر بھرا انداز قائم کو سیخ پا کر گیا اس نے اپنے غصے کو دبانے کی غرض سے اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچ لیں جبکہ قائم کا غصہ دبانا باذل کی مسکراہٹ مزید گہری کر گیا

” میں تمہیں اس بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا ۔۔!!”
قائم نے الفاظ چبا کر ادا کیے جبکہ باذل نے اس کے جواب پر لاپرواہی سے کاندھے اچکا دیے

” اپنی بہن کو تو دو گے نا ہر بات کا جواب ۔۔؟؟ “
اس نے فوراً دوسرا سوال داغا تھا کہ ایک پل کو قائم کے بے تاثر چہرے پر پریشانی کا تاثر آیا تھا جسے وہ فوراً چھپا گیا مگر باذل کی زیرک نگاہوں سے اس کی اک پل کو پریشانی چھپ نہ سکی تھی

” وہ میرا مسئلہ ہے تم اپنے کام سے کام رکھو تو بہتر ہو گا۔۔”
قائم کا لہجہ بے لحاظ تھا باذِل کی دل جلانے والی مسکراہٹ اسے زہر لگ رہی تھی

” کہیں تم نے اس لڑکی سے انتقام کی خاطر تو شادی نہیں کی۔۔؟ اسی لیے دنیا سے چھپا کر رکھا ہے تم نے اس لڑکی کو ۔۔؟؟”
چہرے پر مصنوعی پریشانی لائے وہ پوچھ رہا تھا جبکہ وہ اس بات کا جواب جانتا تھا مگر قائم کو تپا دیکھ وہ محظوظ ہو رہا تھا

” کیا بکواس ہے یہ ۔۔؟؟ اگر مجھے انتقام ہی لینا ہوتا تو سب سے پہلے اپنے باپ سے لیتا جس نے میری ماں کو ۔۔۔!!!”
وہ یکدم ہی طیش میں آیا تھا ماتھے پر بل ڈالے غرایا جبکہ اس کی ادھوری بات پر باذل کا چہرہ بھی بے حد سنجیدہ ہو گیا تھا

” پھر اتنی تاخیر کیوں کر رہے ہو تم ۔۔؟”
اس بار اس نے ماتھے پر بل ڈالے سنجیدگی سے پوچھا

” تاخیر نہیں کر رہا ۔۔ مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہوں ۔۔”
قائم کو نا چاہتے ہوئے بھی وضاحت دینی پڑی

” معصومہ کو بتا دو یہ سب ۔۔ ایسا نہ ہو اسے کہیں اور سے معلوم ہو جائے پھر دکھ ہوگا اس کو ۔۔”
باذِل نے اسے سنجیدگی سے بظاہر مشورہ دیا تھا مگر قائم اس کی بات میں چھپی بات سمجھ گیا تھا باذِل کے علاوہ یہ بات معصومہ تک کون پہنچا سکتا تھا قائم نے سوچتے ہی سر نفی میں ہلایا تھا

” ہممم بتا دوں گا ۔۔!”
اس نے بات ختم کرنی چاہی اور آگے بڑھنے لگا

” اگر تم کہو تو میں تمہاری یہ مشکل آسان کر دوں ۔۔؟؟ “
باذِل اسے آگے بڑھتے دیکھ فوراً دوستانہ انداز میں گویا ہوا جبکہ اس کی آواز پر قائم کے بڑھتے قدم رکے اور وہ مڑا
قائم اس کی شاطر بازیاں اچھی طرح سمجھتا تھا بیشک وہ دونوں کبھی بھی دوست نہیں رہے تھے

” تم معصومہ کو کچھ نہیں بتاؤ گے اس بارے میں ۔۔ میں خود مناسب وقت پر اسے بتا دوں گا ۔۔ “
قائم کے لہجے میں واضح تنبیہہ تھی جبکہ باذل نے جواباً بھویں اچکا دیں اور ایک سرد نگاہ قائم پر ڈال کر اپنی ایل بی ڈبلیو کی جانب بڑھا

جبکہ قائم پرسوچ انداز میں وہیں کھڑا اس کی گاڈی شیرازی ہاوس کے بیرونی گیٹ سے نکلتے دیکھ رہا تھا

باذِل کی باتوں کے بعد حقیقتاً اسے اب پریشانی ہو رہی تھی اسے باذِل سے کوئی اچھی امید نہیں تھی جانے معصومہ کو کس انداز میں ساری بات بتائے گا اس سے پہلے اسے خود اپنی بہن کو سب بتا دینا چاہیے مگر اسے ایک ڈر تھا کہ یہ بات جان کر معصومہ کیسا ردعمل ظاہر کرے گی جس شخص سے وہ دونوں بہن بھائی اپنے باپ سے بھی زیادہ نفرت کرتے تھے اسی شخص کی بیٹی کو قبول کرنا ۔۔۔۔ !!! یہ ان دونوں بہن بھائی کے کیے کسی آزمائش سے کم نہ تھا ایک ٹھنڈی آہ بھرتا وہ سر جھٹک کر اندرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا

///////////////////////////

وہ یونیورسٹی سے آنے کے بعد اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی آج وہ کافی تھک چکی تھی گزری شب ولیمے کی تقریب نے اسے خاصا تھکا دیا تھا اور پھر باذِل کی جسارتیں !!وہ بمشکل صبح تھوڑا سو پائی تھی باذِل نے تو اسے یونیورسٹی جانے سے منع کیا تھا مگر وہ چھٹی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ جب واپس آئی تو باذل گھر پر نہیں تھا وہ بھی آتے ہی سو گئی تھی اور اب دروازے پر ہوتی مسلسل دستک سے اسے اٹھنا پڑا ، بوجھل آنکھیں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے مَلتی اٹھی اور دوپٹہ سر پر اوڑھ کر دروازہ کھولا

” سلام چھوٹی بی بی کھانا لے آؤں ؟؟”
نوری مؤدب سی دروازے کے باہر کھڑی بولی

” ہممم نہیں ۔۔ نیچے آ رہی ہوں میں ۔۔”
معصومہ نے گھڑی پر وقت دیکھا تو اس کی آنکھیں پوری کھل گئیں گھڑی کی سوئیاں رات کے ساڑھے آٹھ بجا رہیں تھیں

” سنو نوری !! بب باذ ۔۔۔ اوو ۔۔ میرا مطلب ہے تمہارے مرشد صاحب کہاں ہیں ۔۔؟”
وہ اس وقت سے باذل کا نام لینے سے گریز کر رہی تھی جب سے باذل نے اسے سزا دی تھی چونکہ باذل نے یہ سزا چوبیس گھنٹے اس پر لاگو کر دی تھی تو وہ ایک ایمان دار لڑکی کی طرح اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کا نام لینے سے دریغ کرتی تھی مگر وہ اپنے نام کی معصومہ تھی وہ اس کی دی سزا بھی پوری کر رہی تھی اور باذل کے کہے ، معصومہ کی نظر میں وہ بے ہودہ الفاظ ( جان ، ڈارلنگ ، سویٹ ہارٹ ) جیسے الفاظ بھی استعمال نہیں کر رہی تھی

” وہ جی صبح چلے گئے تھے ۔۔”
نوری نے جواب دیا

” ہمم کہاں ۔۔؟”
اس نے عام سے انداز میں پوچھا جبکہ اس کے سوال پر نوری بوکھلا گئی

” چھوٹی بی بی جی ۔۔ مالکوں سے پوچھنے کی ہم چھوٹے لوگوں کی کیا حیثیت ۔۔؟؟ وہ بتا کے تو نہیں جاتے ۔۔ جی صاحب کی اپنی مرضی ۔۔”
نوری نے سر جھکائے احترام سے کہا

” ہممم ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔”
نوری کو جانے کا کہہ کر وہ بھی فریش ہو کر کمرے سے باہر نکلی

ڈائننگ ہال میں اکیلے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے بے ساختہ اسے باذِل کا خیال آیا تھا اس میں کوئی شک نہیں تھا باذِل شیرازی کو کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑنا بہت اچھے طریقے سے آتا تھا دانستہ اب معصومہ کی سوچیں محض باذِل شیرازی پر آ کر ٹھہرتی تھیں
وہ ابھی کھانا کھا کر فارغ ہوئی تھی جب اسے ملازمہ نے قائم کا پیغام دیا تھا وہ سر پر دوپٹہ درست کرتی قائم کے کمرے کی جانب بڑھی دروازے پر دستک دینے پر اسے قائم کی بھاری آواز آئی تھی اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوئی تھی اور کھڑکی کے پاس پڑی کرسی پر قائم کو بیٹھے دیکھ کر اس نے مسکرا کر سلام کیا جواباً قائم نے بھی اسے مسکرا کر جواب دیا اور اپنے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا

” بھیا میں آپ کے پاس ہی آنے والی تھی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی ۔۔”
اس سے پہلے قائم کچھ کہتا معصومہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے بولی

” اچھا میری گڑیا نے کیا کہنا تھا ۔۔ ؟؟”
قائم نے محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھتے پوچھا

” نہیں بھیا پہلے آپ بتائیں ۔۔ آپ نے مجھے بلایا ۔۔؟؟ خیریت ؟”
معصومہ نے بہت احترام سے سر پر دوپٹہ درست کرتے ہوئے ہوئے کہا
جبکہ قائم کے دماغ میں آج صبح باذِل سے ہوئی گفتگو گردش کر رہی تھی یقیناً اب اسے معصومہ کو بتا دینا چاہیے وہ جانتا تھا اگر اس نے خود معصومہ کو نہ بتایا تو باذل جانے کس طرح اسے یہ بات بتائے گا اور اگر وہ اپنے ہی بھائی سے بدگمان ہو گئی تو ۔۔!! اور یہیں قائم نے آج کے آج معصومہ کو سب بتانے کا فیصلہ کیا مبادہ کہیں اس کی اپنی بہن اسے غلط نہ سمجھ لے

” چلیں پہلے میں بات کرتی ہوں ۔۔!”
قائم کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ پھر سے گویا ہوئی

” ہمم چلو ٹھیک ہے ۔۔ پہلے میری گڑیا بولے گی ۔۔”
قائم نے چونک کر اسے دیکھا جو اب سنجیدہ دیکھائی دے رہی تھی وہ لاڈ سے بولا

” بھائی آپ پلیز اب شادی کر لیں ۔۔ “
وہ لہجے میں التجا لیے بولی کی چند پل قائم کچھ بول ہی نہ سکا

” ہانیہ کیسی لڑکی ہے ۔۔؟”
قائم کو ہنوز خاموش پا کر وہ دھیمے انداز میں بولی جبکہ قائم اس کی غیر متوقع بات پر ٹھٹھک گیا

” یہ کیوں پوچھ رہی ہو ۔۔؟”
اس بار اس نے الٹا اُسی سے سوال کیا

” ارے ویسے ہی بھیا ۔۔ آپ بتائیں تو سہی کہ ہانیہ کیسی لڑکی ہے؟۔۔”
معصومہ نے معصوم سا چہرہ بنا کر پوچھا تو اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر قائم کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری

” اچھی ہے !!۔۔”
قائم نے دو لفظی جواب دینے پر اکتفا کیا

” بس پھر بھائی آپ کے لحاظ سے مجھے بھی بہترین لگی وہ ۔۔”
معصومہ نے تو قائم کے سر پر دھماکہ کیا اس نے چونک کر نا سمجھی سے معصومہ کو دیکھا

” کیا مطلب ۔۔؟؟”
اس نے اپنی سمجھ کی تصدیق چاہی

” مطلب کہ اب آپ تو کوئی لڑکی ڈھونڈنے والے نہیں ہیں تو مجھے ہی کچھ کرنا ہو گا نا تو میں نے ڈھونڈ لی۔۔ ہانیہ اور آپ کی شادی ہو جائے تو کتنا اچھا ہو گا نا بھائی۔۔ مجھے بھی دوست جیسی بھابھی مل جائے گی۔۔”
معصومہ کھلکھلا کر پر جوش انداز میں بولی تھی اور معصومہ کی اتنی خوشی اسے کوئی بھی ایسی بات کہنے سے روک رہی تھی جو اس کی بہن کو سن کے دکھ ہو اس نے بھی تو ایک بھائی ہو کر اس کی زندگی کا ایک بہت بڑا فیصلہ باذل کے ساتھ اس کی شادی کروا کر کیا تھا تو کیا اس کی بہن کا حق نہیں تھا کہ وہ بھی اپنی پسند کی لڑکی سے اپنے بھائی کی شادی کروا سکتی لیکن کیا وہ اپنی بہن کی خوشی کی وجہ سے اس لڑکی کے ساتھ زیادتی کر سکتا تھا جو بیشک اس کی نام کی بیوی تھی

” معصومہ گڑیا وہ بہت چھوٹی ہے مجھ سے ۔۔!”
قائم نے کمزور سا جواز مضبوط لہجے میں پیش کیا

” تو اس سے کیا ہوتا ہے بھیا ۔۔ میں نے بھی تو اپنی شادی کے وقت آپ سے یہی کہا تھا تب آپ نے کہا تھا کہ شوہر بڑا ہی ہونا چاہیے ۔۔ اور پھر آپ کے اور ہانیہ میں عمر کا اتنا ہی فرق ہے جتنا میرے اور اِن میں ہے ( افف باذِل کیسی سزا دی ہے اب بندہ نام بھی نہیں لے سکتا ۔۔ اور اگر کہنا بھی ہے تو !!!۔۔ بے ہودہ آدمی اپنی جیسی سزا دی ہے ) ۔۔”
قائم کو اٹل انداز میں اس کی بات کا جواب دیتی آخر میں وہ دل ہی دل میں باذل کو سنانے لگی

” ہمم مگر بیٹا میں نے اسے تمہاری طرح ہمیشہ سمجھا ہے ۔۔ بہنوں کی طرح ۔۔پھر شادی۔!!”
وہ حقیقتاً پریشان ہو گیا تھا اگر سامنے کوئی اور ہوتا تو وہ صاف انکار کر دیتا اتنے جواز بھی پیش نہ کرتا مگر قسمت سے سامنے اس کی لاڑلی بہن تھی

” تو کیا ہوا بھائی ۔۔ اور پھر ہانیہ میں کیا کمی ہے ۔۔ ایک اچھی لڑکی والی ہر کوالٹی ہے اس میں ۔۔ خوبصورت ہے ۔۔ پڑھ لکھ بھی رہی ہے ۔۔ سب سے بڑی بات آپ سنجیدہ مزاج ہیں اور وہ تھوڑی شرارتی ہے ہنس مکھ ہے ۔۔ کتنی اچھی جوڑی رہے گی آپ دونوں کی ۔۔ اور پھر میرے سے دو مہینے چھوٹی بھی ہے بھابھی بنا کر روعب بھی جمانے نہیں دوں گی میں اسے ۔۔”
وہ کھلکھلاتی ہوئی شوق انداز میں بول رہی تھی جبکہ قائم سنجیدگی سے اس کے مسکراتے کھلتے چہرے کو دیکھ رہا تھا

” ہمم بیٹا لیکن ۔۔!!”

” بھیا میں نے صرف آپ کی وجہ سے اس گھٹے ہوئے ماحول میں ہانیہ اور رانیہ سے کچھ درجے بہتر زندگی گزاری ہے کیونکہ آپ نے ہمیشہ بھائی ہونے کا فرض نبھایا ۔۔ مگر ان دونوں کی زندگی ۔۔!! پلیز بھیا ابھی کچھ نہیں کہیں ۔۔ تھوڑا سوچ کر جواب دیجئے گا کچھ دن تک ۔۔”
وہ قائم کی بات پوری ہونے سے پہلے اداسی سے کہہ رہی تھی جبکہ قائم اس کی بات کے بعد کچھ بول نہ سکا

” اچھا چلیں اب آپ بتائیں کیا کہنا ہے آپ نے ۔۔؟؟”
وہ بات بدل کر اب سنجیدگی سے اس سے پوچھنے لگی مگر اسے دل سے خوشی ہو رہی تھی کہ آج اس نے قائم سے ہانیہ کے لیے بات کر لیں یہ واقعی اس کی خواہش تھی اس کی ہمیشہ سے ہانیہ سے بہت دوستی رہی تھی اور اب ہانیہ کے رشتے کی بات سے اچانک ہی اس کے دماغ میں آیا کہ کیوں نہ ہانیہ کو اپنی بھابھی بنا لیا جائے

” ہمم نہیں بس یہ پوچھنا تھا کہ یونیورسٹی میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوتا میری گڑیا کو ۔۔؟”
معصومہ کے چہرے پر اتنی خوشی دیکھ کر اس نے فی الحال اسے کچھ بھی بتانے کا ارادہ ملتوی کر دیا اور بات بدل کر پوچھنے لگا

” جی بھائی سب ٹھیک ہے ۔۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے “
وہ قائم کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتی گویا ہوئی

” ہمم گڈ ۔۔ !! “
پھر وہ دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے اور کچھ دیر بعد معصومہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی

////////////////////////////

بہت سارے دن گزر گئے تھے مگر وہ گھر نہیں آیا تھا بس میسیج کرکے حال احوال پوچھ لیتا تھا یا کبھی کال کرکے پوچھ لیتا تھا اسی لیے معصومہ اس سے خائف رہتی تھی جبکہ وہ اپنی ناراضگی کا اظہار فقط اس کے میسیج کا جواب یا کال پر ہوں ہاں کر کے دیتی تھی وہ خود بھی سمجھتا تھا کہ معصومہ اس سے ناراض ہے مگر وہ کاموں میں اتنا الجھ جاتا تھا کہ شیرازی ہاوس جانے کا وقت ہی نہ نکال پاتا تھا
جبکہ ان دنوں معصومہ کے ساتھ ایک حیران کن بات ہوئی تھی کہ یونیورسٹی میں اس کی کسی سے دوستی ہی نہیں ہوئی تھی ایک لڑکی سے اچھی بات چیت ہوئی مگر اگلے دن وہ لڑکی اس سے دور دور رہنے لگی تھی اسے خاصی حیرت ہوئی تھی کہ آخر ایسا کیا ہو گیا مگر پھر اس کی اپنی ایک کلاس میٹ سے جو دیکھنے میں اچھی صورت کے ساتھ بہت خاموش اور ڈری ڈری رہتی تھی معصومہ اب اسی کے ساتھ رہتی تھی چند دنوں میں ہی وہ اس کی یونیورسٹی میں واحد دوست بن گئی
مگر وہ لڑکا جو اسے یونی کے پہلے دن ملا تھا ابھی بھی اکثر وہ اسے دیکھائی دیتا رہتا تھا مگر اس کے بعد کبھی وہ اس کے راستے میں نہیں آیا تھا مگر جس وجہ سے چاہ کر بھی معصومہ اس کو نظر انداز نہیں کر پاتی تھی وہ اس کے بھورے بال اور سرخ آنکھیں تھیں جو دیکھ کر اسے باذل کا خیال آتا تھا نا چاہتے ہوئے بھی وہ باذل اور اس لڑکے کا موازنہ کرنے لگی اس کی آنکھوں باذل کی آنکھوں کی طرح بےحد سرخی مائل نہیں تھی مگر وحشت بلکل ویسی ہی تھی جو سامنے والے کو سہمنے پر مجبور کر دے اور اس کے بھورے بال بھی چھوٹے چھوٹے کٹے ہوئے تھے جبکہ باذل کے بھورے بال گھنے تھے اور اسی طرح باذِل کی داڑھی تھوڑی بھری بھری تھی مگر اس لڑکے کی ہلکی ہلکی سی تھی بلاشبہ وہ باذل سے کئی درجے مشابہت رکھتا تھا یہ بات وہ باذل سے شئیر کرنا چاہتی تھی مگر پھر سوچتی کہ جب وہ آئے گا تو اسے بتائے گی کہ میں نے یونیورسٹی میں تمہارا ہم شکل دیکھا ہے

وہ آج یونیورسٹی سے آنے کے بعد تھک کر کمرے میں آرام کرہی تھی جب اس کے موبائل پر میسج کی رنگ ٹیون بجی باذل کا میسج دیکھ کر اس کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ بکھری تھی

” جاناں ۔۔۔!!”
انباکس اوپن کرنے پر میسج پڑھ کر اس کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے تھے جیسے باذل نے اسے سامنے سے محبت سے پکارا ہو

” ہمم؟؟”
مگر اس نے اپنی ناراضگی بھی تو ظاہر کرنی تھی اب یہ کیا تُک بنتی ہے کہ اتنے دنوں سے گھر سے غائب تھا

” جاناں۔۔!!”
اس کے فقط ہمم کے میسج پر باذِل کے سنجیدہ چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھری

” ہمممممم ؟؟”
باذِل کے اگلے میسج پر اس نے ہممم کو لمبا کر کے ٹائپ کیا اور سینڈ کر دیا

” جاناں ۔۔ !!”
باذِل اس کی خفگی محسوس کر رہا تھا ایک بات پھر ہنوز وہی میسج تھا کہ معصومہ جھنجھلا گئی

” جی جی ۔۔؟؟”
اسے معلوم تھا اگر سیدھی طرح جواب نہ دیا تو باذل سے کچھ بعید نہیں بار بار یہی میسیج کرتا رہے

” ہاہاہا ۔۔ کیسی ہو ۔۔؟”
معصومہ کی جھنجھلاہٹ وہ اس سے اتنا دور بیٹھا ہوا بھی محسوس کر سکتا تھا جبکہ باقاعدہ وہ قہقہہ لگا کر ہنسا اور اب اس کا حال احوال دریافت کرنے لگا

” ٹھیک ۔۔!”
باذِل کی ہنسی پر وہ خود بھی مسکرائی تھی مگر جواباً اس کا احوال نہ پوچھ سکی مطلب صاف تھا وہ ناراض تھی اس سے

” مجھے مس کر رہی ۔۔؟؟”
وہ جواب جانتا تھا کہ معصومہ اسے مس کر رہی ہے وہ خود بھی تو پل پل اسے یاد کرتا تھا مگر معصومہ سے اقرار سننا چاہتا تھا جانتا تھا کہ معصومہ جھوٹ نہیں بولے

” ہممم ۔۔؟؟”
اس کے ہمم پر وہ جاندار قہقہہ لگا اٹھا

” ناراض ہو ۔۔؟”
میسج ٹائپ کر کے وہ انتظار کرنے لگا اس کے جواب کا

” آپ جیسے شریف ، معزز ، مہذب اور ہمدرد شوہر سے ناراض ہونے کی گستاخی کیسے کر سکتی ہوں میں ۔۔ ؟؟”
معصومہ کا میسج پڑھ کر وہ اس کا واضح طنز محسوس کر چکا تھا وہ اسی کے الفاظ میں ردوبدل کرکے اسی کو بھیج رہی تھی

” ہاہاہاہا۔۔۔ اس کا مطلب ناراض ہو ۔۔ !!”
معصومہ کا جواب پڑھ کر ہال میں بیٹھا وہ قہقہہ لگا گیا اگر اس وقت کوئی اور وہاں موجود ہوتا تو باس کو اس طرح قہقہے لگاتے دیکھ کر غش کھا جاتا

” کب آئیں گے آپ ۔۔ ؟”
وہ اس کی بات نظر انداز کرتی بے اختیار پوچھ بیٹھی

” جب تم کہو جاناں ۔۔!!”
باذِل نے سخی ہونے کا مظاہرہ کیا

” آج آ جائیں ۔۔ !!”
جانے کیسے اس سے یہ میسج ٹائپ ہوگیا اور سینڈ بھی ہو گیا اب اسے اپنی بے قراری پر سبکی کا احساس ہورہا تھا بے اختیار وہ ہاتھوں میں موبائل تھامے زبان دانتوں تلے دبا گئی
دھڑکتے دل کے ساتھ باذل کے جواب کا انتظار کرنے لگی مگر کافی دیر انتظار کے بعد اسکا کوئی جواب نہ آیا تو غصے میں موبائل وہیں میز پر پٹخ کے دوپٹہ سمبھالے کمرے سے نکل پڑی

///////////////////////////

وہ زینے اتر رہی تھی جب لاؤنج سے اسے تایا جی کے دھاڑنے کی آوازیں سنائیں دیں جسے سن کے اس کی بے داغ پیشانی پر شکن پڑے وہ دوپٹہ سر پر درست کرتی مظبوط قدم اٹھاتی ہال میں داخل ہوئی تو وہاں تایا جی کسی بات پر تائی ماں کو باتیں سنا رہے تھے ساجد صاحب اور عابد صاحب صوفوں پر براجمان سارے معاملے سے بےنیاز چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے جبکہ ساجد صاحب مسلسل شیرین صاحبہ کو کسی بات پر سخت الفاظ سنا رہے تھے اور وہ سر جھکائے کھڑیں تھیں شیرین صاحبہ نے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ ساجد صاحب نے زور دار تھپر انہیں رسید کیا تھا اور یہیں معصومہ کی برداشت ختم ہو گئی خود با خود اس کے قدم تائی ماں کی جانب بڑھے تھے

“کیاہو گیا ہے آپ کو ؟؟ یہ کوئی بھیڑ بکری نہیں ہیں ایک جیتی جاگتی سانس لیتی انسان ہیں ۔۔ آپ کوئی بھی بات انہیں زبان سے سمجھائیں گے تو یہ سمجھ جائیں گی ۔۔ پھر مارا کیوں ہے آپ نے انہیں ۔۔؟؟”
شیرین صاحبہ کے آگے آ کر وہ ساجد صاحب کے مدمقابل کھڑی ہوئی تھی اور تھوڑی بلند آواز اور مضبوط انداز میں بولی تھی غصے کے وجہ سے اس کا چہرہ بےحد سرخ ہو گیا مگر وہ خود کو مضبوط کرتی کھڑی رہی جبکہ اس کی جرات دیکھ کر سب دنگ رہ گئے تھے

” بکواس بند کرو لڑکی ۔۔ تم کون ہوتی ہو مجھے سیکھانے والی ۔۔ دفعہ ہو جاؤ یہاں سے ۔۔ “
ساجد صاحب طیش میں آئے تھے اور معصومہ کو دیکھتے غرائے تھے جبکہ شور سن کر باقی لوگ بھی لاؤنج میں جمع ہو گئے

” چلیں تائی ماں !! ۔۔”
وہ شیری صاحبہ کا ہاتھ تھام کر ایک نظر ساجد صاحب کو سرد نگاہوں سے دیکھتی جانے لگی

” خدا کی پناہ اس لڑکی سے ۔۔ اس کی جرآت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے ۔۔ ایسے ماحول میں میری بیٹیوں پر بھی برا اثر پڑے گا ۔۔ بس میں نے سوچ لیا ہے میں ہانیہ کے لیے آج ہی مبشر کے رشتے کی ہاں کردوں گا۔۔ ابا جان سے بھی بات کر چکا ہوں میں ۔۔”
وہ ساجد صاحب کو ششدر چھوڑ کر شیرین صاحبہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے آگے بڑھی ہی تھی کہ عابد صاحب کی بات سن کر اس کے قدم رک گئے

قائم نے ہانیہ سے شادی کا اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ گھر پر بھی کم رہتا تھا اس نے سوچا تھا کہ پہلے قائم اپنی رضامندی ظاہر کر دے ہانیہ کے لیے پھر معاملہ آگے بڑھانے کا سوچے گی ابھی اسی لیے اس نے کسی سے اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا مگر عابد صاحب کی زبان سے خاندان کے مشہور لفنگے ، ایک نمبر کے آوارہ اور نشئی کا نام سن کر اسے دھچکا لگا تھا اس نے پہلے ہانیہ اور پھر چچی جان کو دیکھا جن کے یہ بات سن کر رنگ ہی پھر اُڑ گئے تھے مگر افسوس چچی جان نے ہانیہ کو ساتھ لگا کر اپنا سر جھکا لیا وہ جانتی تھی مبشر نے پیسوں کا لاپچ دے کر ہانیہ کا رشتہ مانگا تھا مگر انہیں نہیں معلوم تھا کہ عابد صاحب فقط پیسوں کی خاطر اپنی بیٹی کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کریں گے

” چچی جان آپ جانتی ہیں نا وہ کتنا برا آدمی ہے ۔۔ پلیز اس وقت خاموش مت رہیں ۔ اپنی بیٹی کے لیے بولیں پلیز ۔ “
معصومہ تھوڑی دھیمی آواز میں چچی جان سے التجائی انداز میں مخاطب ہوئی مگر چچی جان نے ہانیہ کو ساتھ لگائے بہتے آنسوؤں کے ساتھ نفی میں سر ہلایا معصومہ نے بے یقینی سے پہلے چچی جان کو اور پھر روتی ہوئی ہانیہ کو دیکھا

” ایک عورت کمزور ہو سکتی ہے یہ بات مانی جا سکتی ہے مگر ۔۔ چچی جان ایک ماں بہت مضبوط ہوتی ہے پلیز اس وقت اپنی بیٹی کے لیے کوئی سٹینڈ لیں پلیز ۔۔”
وہ اب دھیمی آواز میں باقاعدہ انہیں سمجھا رہی تھی مگر عابد صاحب کے کانوں نے اس کے الفاظ سن لیے

” بھائی صاحب آپ کی بیٹی خود تو بےانتہا بدتمیز ہے ہی سہی اور اب وہ میری بیوی اور بیٹیوں کو پٹی پڑھا رہی ہے ۔۔ دیکھا نہیں آپ نے ۔۔ ماجد بھائی کے سامنے آپ کی موجودگی میں کیسے زبان چلا رہی تھی ۔۔”
عابد صاحب معصومہ کی سمت ہاتھ سے اشارہ کرتے ، ساجد صاحب سے مخاطب ہوئے جبکہ ساجد صاحب اب غصے سے معصومہ کی جانب لپکے تھے اور بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا اس دوران معصومہ کا ہاتھ شیرین صاحبہ کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ ششدرہ سی اپنے باپ کو دیکھنے لگی

” معافی مانگو اپنے تایا جان سے معصومہ !!۔۔ “
وہ معصومہ کا بازو اپنے سخت شکنجے میں لیتے ہوئے دھاڑے جبکہ معصومہ نے ناگواری سے پہلے عابد صاحب اور پھر ماجد صاحب کو دیکھا پھر اپنے باپ کے ہاتھ کو جو اس کی نازک بازو سختی سے پکڑے ہوئے تھے

” میں نے کہا معافی مانگو بھائی صاحب سے ۔۔ سنا نہیں تم نے ؟؟”
معصومہ کو ہنوز خاموش کھرا دیکھ کر وہ اسے جھنجھوڑتے ہوئے دھاڑے

” میں نے ایسا کچھ نہیں کیا بابا جس کی میں معافی مانگو ۔۔”

چٹاخ ۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی الفاظ معصومہ کی زبان سے ادا ہوئے ہی تھے کہ ساجد صاحب کا بھاری ہاتھ اس کی سفید گال کو سرخ کر گیا تھپڑ اس قدر زور دار تھا کہ معصومہ ایک طرف لڑکھڑا گئی جبکہ باقی سب حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے جبکہ عابد صاحب اور ماجد صاحب کے چہرے پر خوشی سے مسکراہٹ ابھری جبکہ معصومہ نے خاموش نگاہوں سے ساجد کو دیکھا

چٹاخ۔۔۔

معصومہ کی ہٹ دھرمی پر ایک بار پھر ان کا ہاتھ اٹھا تھا

” تم واقع اپنی ماں کی طرح بدتمیز ہو ۔۔ اپنے باپ کی بھی بات نہیں مان رہی تم ۔۔ کیا بول رہا ہوں میں ابھی اسی وقت معافی مانگو اپنے تایا سے ۔۔”
معصومہ کے سوجے چہرے کو دیکھتے وہ پھر سے دھاڑے تھے جبکہ معصومہ اپنی آنکھوں میں آئے آنسو اپنی پلکیں بار بار جھپکا کر روک رہی تھی اپنی ماں کے ذکر پر اس کے دل میں ٹھیس اٹھی تھی

” خدا ان لوگوں کی رسی دراز کرتا ہے جن کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہوتی ہیں ۔۔ اسی لیے مجھے خدا سے کبھی شکوہ نہیں ہوا ۔۔ بیشک انسان بھول جاتا ہے مگر خدا اپنے بندے کے ساتھ ہوئی زرا برابر بھی زیازتی نہیں بھولتا ۔۔ میری ماں سمیت اس گھر کی ہر عورت پر جتنے بھی ظلم ہوئے ہیں اس کا حساب ضرور ہوگا ۔۔ عنقریب ہر کوئی اپنے انجام کو ضرور پہنچے گا ۔۔ صرف اس وقت کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ بیشک خدا ہر فرعون کے لیے موسی کو ضرور بھیجتا ہے !! ۔۔”
وہ بلند آواز اور مضبوط لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی جبکہ اس کی سرد نگاہیں وقفے وقفے سے ساجد ، ماجد اور عابد صاحب پر پڑ رہیں تھی اس کے الفاظ وہاں موجود ہر شخص کو ساکت کر گیے اسی پل ساجد صاحب کی گرفت اس کی بازو پر ڈھیلی پڑی تو معصومہ نے فوراً اپنا بازو ان سے چھڑوایا اور اپنے سر سے کاندھے پر لڑکھتے دوپٹے کو سر پر درست کیا اور سوجے چہرے سے سختی سے آنسو صاف کیے ایک سرد نگاہ سب پر ڈالتی مضبوط قدم اٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی جب سیڑھیوں کے قریب کھڑے مظفر صاحب کے پاس رکی اور ایک نظر انہیں دیکھتی آگے بڑھ گئی

//////////////////////////////

اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں انشاءاللہ جلدی ملیں گے اگلی قسط کے ساتھ ۔۔❤☺