Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
Surprise 💃
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 3
‘ شیرازی ہاوس ‘ میں آج رونقیں ہی رونقیں تھیں ہر طرف خوشیوں کا سما تھا اس کئی کنال پر مبنی محل نما گھر کو آج بے حد خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ہر طرف روشنیاں جگ مگ کر رہیں تھیں خوبصورت اور نایاب پھولوں اور نفیس پردوں سے سجا ہوا لان آج ایک شاندار منظر پیش کر رہا تھا شیرازی ہاوس میں جگ مگ روشنیاں رات کی تاریکی کو ہر سو پھیلنے سے روک رہیں تھیں آس پاس چند ملازم ہاتھوں میں کولڈرنک اور جوسز کی ٹرے لیے مہمانوں کو سرو کر رہے تھے
چند مہمان ہاتھوں میں کولڈرنک تھامے کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے تو چند مہمان خصوصی صوفوں پر براجمان محو گفتگو تھے مظفر شیرازی صاحب بھی مہمانوں کے ساتھ اپنی بھرپور شان و شوکت سے اپنے مخصوص مغرور انداز میں محو گفتگو تھے قائم شیرازی کسی مہمان کے پاس کھڑا مسکرا رہا تھا یقینا آج وہ بہت خوش تھا
سٹیج کا منظر کچھ یوں تھا کہ باذِل شیرازی ایک طرف موبائل کان سے لگائے کھڑا تھا کریم کلر کی قیمتی اور نفیس شیروانی زیب تن کئے ہوئے تھا چہرہ بے تاثر تھا آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح سرخی تھی بھوری داڑھی پر ہاتھ پھیرتا وہ فون پر کسی سے باتیں کر رہا تھا کسی کو ایک آنکھ نا دیکھنا خود میں مگن رہنا اس شہزادے کو مغرور بناتا تھا وہ آج بھی ہمیشہ کی طرح ہر آنکھ کا مرکز بنا ہوا تھا کئی لوگ اس کی پُر وقار شخصیت کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے
سٹیج پر ایک طرف کرسی پر دادی جان براجمان تھیں جو اپنے دولہے پوتے پر جانے کتنی مرتبہ واری صدقے جا چکیں تھیں اور نظر بد کی دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونک رہیں تھیں ان کے پاس تائی جان کھڑی باذِل کے موبائل سے فارغ ہونے کا انتظار کر رہیں تھیں
///////////////////////////////
وہ اپنا سجا سنورا دلکش سراپا آئینے میں دیکھ رہی تھی سرخ رنگ کے بے حد خوبصورت اور قیمتی شرارے پر نایاب موتیوں اور کورے کا کام ہوا تھا بلاشبہ وہ لباس عروسی اس کی قدرتی سرخ و سفید رنگت پر بہت جچ رہا تھا بیوٹیشن اور ہانیہ کے لاکھ منتیں ترلے کرنے کے بعد کہیں جا کر اس نے ہلکا پھلکا میک اپ کروایا تھا جیولری کے نام پر اس نے ماتھے کے ایک طرف جھومر ، ناک میں نتھ جو کہ اس کے ہونٹوں کو چھو رہی تھی جھمکے ، نیکلس اس کی سرخ و سفید گردن کو اور خوبصورت بنا رہا تھا بلاشبہ وہ ایک حسین لڑکی تھی مگر آج تو دولہن بن کر عجب روپ چڑھا تھا اس پر کہ نظر ہی نہ ہٹ رہی تھی مگر اس نے اپنی خوبصورتی ماند کرنے کے لئے ہر طرح سے کوشش کی یہاں تک کہ ہاتھوں پر لگی مہندی وقت سے پہلے اتار دی مگر اس سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ مہندی کے خوبصورت ڈیزائن اپنا گہرا رنگ اس کے ہاتھوں پر چھوڑ۔ چکا تھا
مہندی سے آراستہ دودھیا ہاتھ اپنی گود میں رکھے بیٹھی وہ اب یہ سوچ رہی تھی کہ کس طرح رخصتی کو روکے ابھی صبح ہی تو اسے بتایا گیا تھا کہ نکاح کے بعد اسے باذِل صاحب کے کمرے میں منتقل کر دیا جائے گا اس وقت سے وہ تپی بیٹھی تھی کئی بار قائم کو بلوایا تھا مگر اسے یقین تھا کسی نے قائم کو نہیں کہا ہوگا تبھی تو وہ صبح سے ہی اس کے پاس نہیں آیا تھا
وہ کسی طرح راضی نہیں تھی خود کو باذِل شیرازی کے لئے اتنا سجنے سنوارنے کے لئے ، مگر اپنی ہر کوشش میں وہ ناکام ہو رہی تھی اب حقیقتاً اسے رونا آ رہا تھا
” چھوٹی بی بی جی ۔۔ سوہنا رب آپ کو بری نظر سے بچائے ۔۔۔ یقین مانو جی بڑا روپ چڑھا ہے جی آپ پر ۔۔ اور ابھی میں باہر دیکھ کے آئی جی ۔۔ مُرشد صاحب وی بڑے سوہنے لگ رہے ہیں جی ۔۔ “
گل بی بی دانتوں میں دوپٹہ دبائے شرماتی ہوئی بول رہی تھی
” گل بی بی میں نے کتنی بار تمہیں کہا ہے جاؤ یہاں سے ۔۔”
معصومہ کو پہلے ہی غصہ آ رہا تھا آنکھوں کے ڈورے سرخ ہو رہے تھے ناک بھی لال ہو رہی تھی یقینا وہ کافی ضبط کر کے بول رہی تھی
” بی بی جی میں تو بس ایسے ہی کہہ رہی تھی ۔۔۔ چلیں چھوڑیں جی مجھے ۔۔ “
یہ کہتے ہی وہ معصومہ کی کرسی کے پاس نیچے ہی بیٹھ گئی
” میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے نیچے مت بیٹھا کرو ۔ بلکہ ابھی تو تم بیٹھو ہی نا ۔۔ نکلو میرے کمرے سے ۔ “
معصومہ مزید برہمی سے بولی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے والی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا بھاری بھرکم شرارہ دونوں ہاتھوں سے سنبھالتی بیڈ کے سائیڈ ٹیبل کے پاس آئی
” بی بی جی حکم کریں اگر کچھ چاہیے ۔۔ آپ بیٹھ جائیں آرام سے جی ۔ “
گل بی بی نے مؤدبانہ عرض کی مگر معصومہ نے سرخ آنکھوں سے اسے گھورا
” ایک منٹ سے پہلے نکلو گل بی بی میرے کمرے سے ۔۔”
اور پھر معصومہ نے اسے بمشکل اپنا شرارہ سنبھالتے ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکال دیا اور دروازہ اس کے منہ پر بند کر دیا
خود مڑی اور سائیڈ ٹیبل کے دراز کھولا اندر سے ایک فوٹو فریم نکال کر محبت سے دیکھنے لگی چہرے پر اذیت در آئی آنکھوں میں پانی بھر گیا
” ماما کاش آپ ہوتیں میرے پاس ۔۔۔ مجھے آپ کی بہت یاد آ رہی ہے ۔۔ بابا نے تو پہلے بھی کبھی باپ ہونے کا فرض ادا نہیں کیا ۔۔ اب بھائی بھی صرف دادا جان کی سن رہے ہیں ۔۔ انہوں نے کہا تھا صرف نکاح ہوگا مگر سب نے مجھے دھوکا دیا ۔۔ وہ باذِل کامیاب ہو گیا ۔۔ کاش آپ ہوتیں تو کچھ تو کرتیں میرے لیے ۔۔ مجھے نہیں بننا باذِل کا شکار ۔۔!! اس کی آنکھیں ہر وقت سرخ رہتی ہیں پتہ نہیں کون سے نشے کرتا ہے ۔۔ بھیا کو تو جیسے کچھ دِکھ ہی نہیں رہا ۔۔ میں کیا کروں ماما ۔۔ مجھے نہیں کرنا نکاح ۔۔ وہ کبھی میرے خواب پورے نہیں ہونے دے گا ۔۔ میرے اللہ میں کیا کروں ۔۔”
اپنی ماں کی تصویر اپنے سینے سے لگا کر وہ تصور میں اس سے باتیں کر رہی تھی کہ یکایک دروازے پر دستک ہوئی
” گل بی بی جاؤ یہاں سے ۔۔”
معصومہ بند دروازے کو دیکھ کر دھاڑی
” معصومہ میں ہوں یار ہانیہ ۔۔ دروازہ تو کھولو ۔۔”
اپنی نم آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے صاف کر کے تصویر سائیڈ ٹیبل کے دراز میں رکھ کر اس نے خود کو کمپوز کر کے دروازہ کھولا اور بغیر اسے دیکھے مڑی اور بیڈ پر ٹک گئی
” معصومہ یہ سر پر اوڑھ لو ۔۔ مولوی صاحب آ گئے ہیں ۔۔ چلو ہمارے ساتھ باہر ۔۔”
اور پھر ہانیہ نے ہاتھ میں تھامی ہوئی سرخ چُنری خود ہی اس کے سر پر اوڑھ دی چند لمحوں بعد معصومہ کو چند قدموں کی چاپ سنائی دی جو شاید اسی کے کمرے میں آ رہے تھے گھونگھٹ سے جھانک کردیکھا تو تائی ماں اور چاچی کے ساتھ چند خاندان کی عورتیں تھیں اور پھر وہ معصومہ کو لیے لان کی جانب بڑھیں اور اس جگہ رکیں جہاں آمنے سامنے دو تین کرسیاں پڑیں تھیں اور درمیان میں ایک نیٹ کے دوپٹے سے پردہ کیا ہوا تھا مگر تھوڑا سر اٹھانے پر معصومہ کو باذل سامنے والی کرسی پر بیٹھا نظر آیا اور ساتھ دادا جان بیٹھے مولوی سے محو گفتگو تھے
اپنے سامنے بیٹھتی اپنی دلہن کو باذل نے آنکھ اٹھا کر دیکھنا گوارا نہ کیا بلکہ اطراف کا جائزہ لینے لگا جبکہ معصومہ گھونگھٹ کی اوٹ میں قائم کو ڈھونڈ رہی تھی مگر اسے زیادہ زحمت نہیں کرنی پڑی کیونکہ قائم اسے سامنے سے آتا دیکھائی دیا معصومہ کے قریب پہنچ کر قائم اس کے پاس کھڑا ہو گیا اور پھر چند ہی ساعتوں میں نکاح شروع ہوا ہر طرف خاموشی چھا گئی مولوی صاحب نکاح کے کلمات پڑھ رہے تھے
” معصومہ شیرازی ولد ساجد شیرازی کیا آپ کو باذِل شیرازی ولد ماجد شیرازی ، حق مہر دس تولے سونا اپنے نکاح میں قبول ہیں ۔۔؟”
معصومہ ہنوز خاموش بیٹھی تھی دادا جان نے غصے سے معصومہ کو دیکھا دادی جان بھی پریشان ہو گئیں سب کی نظریں گھونگھٹ میں بیٹھی دلہن پر تھیں مولوی صاحب نے کلمات پھر دوہرائے مگر معصومہ ہنوز خاموش تھی اس بار قائم نے بھی پریشانی سے معصومہ کو دیکھا اور پھر سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اسی پل معصومہ نے سرخ آنکھوں سے گھونگھٹ کی اوٹ میں قائم کو دیکھتا جس کی آنکھوں میں التجا تھی قائم نے نظریں چُرائیں آس پاس لوگ چہ گوئیاں کرنے لگے تھے
اب مولوی صاحب تیسری مرتبہ معصومہ سے پوچھ رہے تھے جبکہ اس بار باذِل نے جالی کے پردے سے معصومہ کو دیکھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ معصومہ کا حشر بگاڑ دے اپنا غصہ قابو کرنے کی غرض سے اس نے اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچ لیں لب بھینچ لیے پہلے سے سرخ آنکھیں مزید سرخ ہوئیں
” قبول ہے “
الفاظ معصومہ کی زبان سے ادا ہوئے تو سب کی جان میں جان آئی
دادی جان نے بے اختیار سر آسمان کی طرف اٹھا کر خدا کا شکر ادا کیا کہ عزت رہ گئی نہیں تو وہ اپنی سر پھری پوتی سے اچھی طرح واقف تھیں کہ معصومہ سے کہیں بعید نہیں کہ محترمہ عین ممکن تھا کہ انکار کر دیتی
اب مولوی صاحب باذِل سے پوچھ رہے تھے باذِل کے قبول کرنے کے بعد ان دونوں سے نکاح نامے پر سائن کروائے گئے دعا کے بعد ہر طرف مبارک باد کا سلسلہ جاری ہو گیا
جبکہ معصومہ کی آنکھ سے ایک آنسو بہہ کر ہتھیلی پر گرا نکاح کے بعد ان دونوں کو سٹیج پر لایا گیا ایک دفعہ پھر ماحول خوشگوار ہوگیا ہر کوئی ہنس مسکرا رہا تھا جبکہ باذِل بمشکل اپنا غصہ قابو کیے معصومہ کے ساتھ بیٹھا تھا اتنے میں کھانا لگنے لگا
” کھانا کھاؤ ۔۔”
ابھی ہی ویٹر ان کے ٹیبل پر کھانا لگا کر گیا تھا معصومہ کو ہنوز ایک ہی سمت میں بیٹھے دیکھ کر وہ سپاٹ لہجے میں بولا مگر معصومہ اپنی ہتھیلیوں کو مسلسل دیکھ رہی تھی جبکہ اس نے باذِل کی بات بلکل نظر انداز کر دی
” میں نے کہا کھانا کھاؤ ۔۔”
وہ نظریں سامنے رکھتا دبے دبے غصے میں بولا
” مجھے نہیں کھانا ۔۔ “
جوابا وہ بھی ترخ کر بولی تھی باذِل نے مٹھیاں بھینچ کر رخ معصومہ کی سمت کیا
” میری جان کھانا کھا لو کیونکہ میرے خیال سے تمہیں قوت کی ضرورت پڑے گی “
وہ اپنا غصہ دبا چکا تھا اور معنی خیزی سے کہتا معصومہ کا سکون غارت کر چکا تھا اب باذِل کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی جبکہ معصومہ آنکھیں پھاڑے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن جب اس کی بے باک نگاہیں جو وہ اب معصومہ کے سراپے پر گاڑھے ہوئے تھا سمجھی تو اب اس کے چہرے پر ایک کے بعد ایک رنگ آ رہا تھا
“تت تم اتنے گھٹیا ہو سکتے ہو مجھے آج معلوم ہوا ہے ۔۔”
اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا آنکھوں کے ڈورے بھی سرخ تھے الفاظ بمشکل ادا کر پائی تھی
جبکہ وہ اتنی دلکش لگ رہی تھی کہ آج کسی بھی پتھر دل کو اپنے سامنے ڈھیر کر سکتی تھی مگر باذِل نے بہت آسانی سے محظوظ ہوتے ہوئے اس کے سراپے سے نظریں ہٹا لیں اور آرام سے کھانا کھانے لگا
” ابھی اور بھی بہت کچھ معلوم ہو گا تمہیں ۔۔ اتنی جلدی بھی کیا ہے ابھی پوری رات باقی ہے ۔۔ مزید کمرے میں جا کر بات کرتے ہیں ڈارلنگ ۔۔ “
اس بات پر معصومہ نا محسوس انداز میں اس سے فاصلہ کر گئی جبکہ باذِل جانتا تھا کہ معصومہ کو کیسے قابو کرنا ہے اور صحیح معنوں میں معصومہ کا چین چھین کر اب وہ اپنی شادی انجوائے کرنے لگا تھا مطمئن ہو کر
جہاں معصومہ اس کی باتوں اور نگاہوں سے اندر تک سہم گئی تھی وہیں باذِل کو سکون پہنچا تھا کیونکہ اس نے کبھی معصومہ کو اتنا سہما ہوا نہیں دیکھا تھا آخر کو اس نے اس لڑکی جو کہ باذِل سمیت سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی تھی آج وہ شرم و حیا سے نظریں جھکا گئی تھی
چند گھنٹوں پر محیط تقریب اپنے اختتام کو پہنچی
اس کو کمرے میں لانے سے پہلے چند رسموں کے بعد سب نے اسے تحفے دیے دادی جان کی طرف سے قیمتی کنگھن ، تائی اور چچی کی طرف سے سونے کے سیٹ ، قائم اور نوشین صاحبہ کی طرف سے کیش منہ دکھائی کے طور پر ملی مگر اسے اس سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اب اسے باذِل کے کمرے میں لا کر اس کی سیج پر بیٹھا دیا گیا
//////////////////////////////
” قائم بیٹا مجھے بات کرنی ہے ۔۔”
تقریبا سب مہمان جا چکے تھے معصومہ کو بھی باذل کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا نوشین صاحبہ زینے اترتے قائم کو دیکھتی اس کی جانب بڑھیں اور اسے پکارا تو وہ رک گیا اپنے کمرے کی جانب اشارہ کرتا وہ انہیں لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا
” جی پھوپھو جان کیا بات ہے کوئی مسئلہ ہے کیا ۔۔؟؟”
کھڑکی کے پاس پڑی ایک کرسی پر وہ خود بیٹھا اور دوسری پر نوشین صاحبہ۔۔
” معصومہ کی فکر ہو رہی ہے مجھے ۔۔ رو رہی تھی آج وہ ۔۔ مجھے لگتا ہے ابھی صرف نکاح ہی ٹھیک تھا ۔۔ تمہیں تو معلوم ہے وہ ابھی نکاح کے لیے بھی راضی نہیں تھی ۔۔ وہ تو صرف تمہاری وجہ سے مانی تھی ۔۔ تم ایک بار خود اس سے بات کر لیتے تو بہتر تھا بیٹا۔۔ “
وہ ابھی معصومہ کو دیکھ کر آ رہیں تھیں جس کی آنکھوں میں انہیں نمی دیکھی تھی وہ مضبوط لڑکی تھی اسے روتا دیکھنا نوشین صاحبہ کو بے چین کر گیا تھا
” دادا جان کا فیصلہ ہے یہ ۔۔ اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں تھا تو مجھے بلاوجہ تاخیر کرنا مناسب نہیں لگا ۔۔ اور بات اس لیے میں نے خود نہیں کی معصومہ سے ۔۔ کیونکہ مجھے پتہ تھا وہ نہیں مانے گی اور بالآخر مجھے اس کی بات ماننی پڑتی ۔۔ “
وہ گہرا سانس خارج کرتا بولا تھا
” اسے باذِل سے شادی کرنی ہی نہیں تھی ۔۔ اور اب تو مجھے بھی ڈر لگ رہا ہے ۔۔ دونوں ہی انا پرست ہیں ۔۔ غصے والے ہیں ۔۔ پتہ نہیں کیا ہو گا دونوں کا ۔۔”
وہ حقیقتاً پریشان تھیں
” مجھے اپنی بہن کا پتہ ہے ۔۔وہ عام لڑکیوں کی طرح سیدھی بلکل نہیں ہے ۔۔ ہینڈل کر لے گی سب ۔۔ آپ فکر نہیں کریں وہ خود کے ساتھ کبھی زیادتی نہیں ہونے دے گی ۔۔ جہاں تک باذِل کے ساتھ اس کی شادی کی بات ہے تو میرے خیال سے معصومہ کے لئے باذِل بہترین ہے ۔۔ “
قائم نے انہیں مطمئن کر کے آرام کرنے کو بھینج دیا
” اللہ بہتر کرے گا انشاءاللہ ۔۔”
قائم نے دل میں کہا تھا اور خود بھی فریش ہونے چلا گیا
/////////////////////////////
وہ جب اپنے کمرے کی جانب بڑھا تو اس وقت تقریبا سب مہمان جا چکے تھے جبکہ شیرازی ہاوس میں کافی کمروں کی لائیٹس آف ہو چکیں تھیں ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا تو اس کی توقع کے مطابق اس کی نئی نویلی دلہن اس کے جذبات ہر پانی پھیر کر سو چکی تھی
ٹھنڈی آہ بھرتا وہ کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ لاک کیا نائٹ بلب میں اپنے بیڈ پر مزے سے سوئی معصومہ کو دیکھ اس کے چہرے پر سخت تاثرات نمودار ہوئے سپاٹ چہرہ لیے اپنی مخصوص چال چلتا وہ سامنے صوفے پر جا بیٹھا اور جیب سے سیگریٹ نکال کر سلگائی اور لبوں سے لگا لی
” اتنی بے خوفی ڈارلنگ ۔۔ باذِل شیرازی کی بات کو سنجیدہ نہ لینے کی جرآت کیسے کر لی تم نے ۔۔ آہ ۔۔ بلکل تم ہی باذِل شیرازی کی بیوی بننے کے لائق تھیں ۔۔ مزا آئے گا ۔۔”
شادی کی پہلی رات یہ حرکت معصومہ ہی کر سکتی تھی بے اختیار باذِل کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
مدھم روشنی میں وہ اس کے حسین سراپے سے نظریں ہی نہیں ہٹا پا رہا تھا وہ ڈھیلا سا سرخ لباس زیب تن کئے ہوئے تھی دوپٹہ ایک طرف پڑا تھا جبکہ صرف پیروں پر چادر ڈالی گئی تھی باذِل اس کے وجود کو اپنے نظروں کے حصار میں رکھے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کبھی اس نے معصومہ کو اتنے غور سے یا بغیر دوپٹے کے نہیں دیکھا تھا گلاب کے پھولوں کی خوشبو اور وہ نازک سی کلی اسے بہکا رہی تھی اس سجے ہوئے کمرے پر اک سرسری نظر ڈال کر وہ اٹھا اور انگلیوں میں دبی ہوئی سیگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل کر بوجھل قدموں سے چلتا ہوا بیڈ کے قریب معصومہ کی سمت آیا اور ہلکا سا جھک کر اسے دیکھنے لگا پھر ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو نرمی سے کان کے پیچھے کیا اب وہ بغور اس کے وجود کا نظروں سے جائزہ لینے لگا پھر جھک کر اس کے دائیں گال کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے سہلانے لگا پھر اسی طرح دوسرے گال کو نرمی سے سہلانے لگا اب اس کی نظر معصومہ کی گردن کے خم پر پڑی جہاں دو تل ایک ساتھ تھے انگلی سے بھی کم فاصلہ تھا دونوں تلوں کا آپس میں
“دنیا کا ہر حسن ایک طرف اور یہ لڑکی ایک طرف “
یہ باذِل کے دل سے آواز آئی تھی
باذِل کا دل اس پل زور سے دھڑکا تھا اس پل وہ بے اختیار سا مزید جھکا اور اپنے لب اس کی گردن کے خم پر تلوں پر رکھ دیے چند لمحے وہ اسی سحر انگیز لمحوں کی قید میں رہا اور پھر ہوش آنے پر لب ہٹا لیے مگر اسے حیرت ہوئی یہ انکشاف ہونے پر کہ معصومہ زرا سا بھی نہ کسمائی بلکہ وہ گہری نیند میں تھی جس کا پتہ اس کی گہری سانسیں دے رہیں تھیں
” ناٹ فیئر ڈارلنگ ۔۔ میری ویڈنگ فرسٹ نائٹ تم ایسے خراب نہیں کر سکتیں ۔۔ سو ویک اپ کوئکلی ۔۔”
جذبات سے چور بہکے بہکے انداز میں وہ معصومہ پر جھکا تھا اور اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے قید کر لیا شدت اس قدر تھی کہ بے خبر سوئی ہوئی معصومہ پہلے تو نیند میں کسمائی پھر سانس رکنے پر ہڑبڑا کر بیدار ہوئی اور دونوں ہاتھوں سے زور لگا کر باذِل کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے خود سے الگ کیا اور گہرے گہرے سانس لینے لگی سانسیں ہموار کرتی وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے باذل کو دیکھنے لگی
وہ جو کمرے میں آنے کے بعد نکاح کا جوڑا تبدیل کر چکی تھی ، منہ ہاتھ دھو کر آئی تو کچھ سوچتے ہوئے گل بی بی سے فرسٹ ایڈ باکس منگوایا اور اس میں سے نیند کی گولی لے کر کھائی ایک مسکراتی نگاہ دروازے پر ڈال کر اپنی طرف سے باذِل کے ارمانوں پر پانی کے بجائے برف ڈال کر وہ نائٹ بلب آن کر کے سو گئی مگر ابھی اسے بمشکل دو گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ اچانک اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا جب بیدار ہوئی تو سچیوشن سمجھنے کے بعد بے اختیار اپنے پر جھکے ہوئے باذل کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے دور کیا اور اب وہ بیٹھی گہرے گہرے سانس لینے کے ساتھ کھانس بھی رہی تھی آنکھوں میں پانی بھر گیا تھا
” کیا بد تمیزی ہے یہ ۔۔؟؟”
اس کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی آنکھیں بے تحاشہ سرخ ہو رہیں تھیں اب باذِل بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھ چکا تھا
” جان من کوئی ایسا کرتا ہے کیا ۔۔ تھوڑا سا بھی انتظار نہیں کیا تم نے میرا ۔۔ ابھی تو رات باقی ہے اور تم نے ذرا بھی میرا خیال نہیں کیا ۔۔”
معنی خیزی سے کہتا وہ اس کے ہوش اڑا چکا تھا اب مکمل نیند اتر چکی تھی معصومہ کی اور حواس بیدار ہو چکے تھے معصومہ اس کے انداز پر اندر سے سہم گئی باذِل اس کا اڑا رنگ دیکھ کر خاصا محظوظ ہوا اور اس کے بازو سختی سے دبوچ لیے گرفت اس قدر سخت تھی کہ معصومہ کو اس کی انگلیاں اپنے بازؤں میں دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
” تت تم دور رہو مجھ سے ۔۔ “
وہ اس کی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھ کر واقعی سہم رہی تھی اس کی گرفت میں مچلتی وہ بولی تھی
” اب دور نہیں ہو سکتا ڈارلنگ ۔۔”
باذِل اب اپنی شیروانی کے بٹن کھول رہا تھا جسے دیکھ کر معصومہ نے نفی میں سر ہلایا
” تت تم اتنے گرے ہوئے ہو سکتے ہو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔۔ “
اس کی سرخ آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑے وہ غصے سے بولی تھی جبکہ اب باذِل نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس کے دونوں بازو اوپر کرکے مزید جھک کر اس کی راہ فرار کے راستے بند کر چکا تھا معصومہ بری طرح اس کی گرفت میں مچلتی بے حال ہو رہی تھی
” ڈارلنگ تمہیں بے بس دیکھ کر پتہ نہیں مجھے کیوں سکون مل رہا ہے ۔۔ جتنا تم اکڑتی تھی نا بس کچھ پل ۔۔ تمہاری ساری اکڑ نکال دوں گا میں ابھی ۔۔”
وہ جس انداز میں بول رہا تھا معصومہ کی جان ہوا ہونے لگی مزید اس کی قربت اسے بے حال کر رہی تھی
” باذِل تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ۔۔ “
وہ یقین سے بول رہی تھی جیسے باذِل اس کا یقین نہیں توڑے گا
” کیوں جان ۔۔ کیوں نہیں کرو گا میں ؟؟۔۔ پھر شادی کرنے کا کیا فائدہ مجھے ۔۔”
وہ اس کی بات کو مذاق میں اڑا گیا اور اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے
” تت تم بہت گھٹیا آدمی ہو ۔۔ “
دبی دبی آواز میں غرائ وہ اس کی گرفت میں مچل رہی تھی
” صرف گھٹیا نہیں ۔۔ ظالم بھی بہت ہوں “
وہ سفاکیت سے بولا تھا اسے غصہ آیا تھا معصومہ کے بے تکے گریز سے
” چھوڑو مجھے ۔۔ یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے ۔۔ مم مجھے کک کچھ وقت چاہیے ۔۔ “
اسے ہنوز اپنے پر جھکا پا کر وہ اب بمشکل بول پائی تھی
” یہ بے تکی بات تو رہنے دو تم اور ابھی یہ بتاؤ۔۔ انکار کرنے والی تھی نا تم ۔۔ ہاں ؟؟ نکاح نہیں کرنا چاہتی تھی تم مجھ سے ۔۔؟”
وہ سپاٹ چہرہ لیے بولا تھا لہجہ بلکل سرد تھا معصومہ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو یقینا ڈر سے کانپ جاتا مگر وہ غصے میں چلائی تھی
” ہاں نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔ اب اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے مجھے کہ تم جیسے وحشی سے کیسے شادی کر سکتی ہوں میں ۔۔!”
” اوہ افسوس ۔۔ اب تو یہی وحشی تمہارا نصیب ہے ۔۔”
وہ اپنی انگشت شہادت معصومہ کی پیشانی سے اب اس کے گال اور گردن تک لے جاتا ہوا بے رحمی سے بولا چہرے پر چٹانوں جیسی سختی در آئی تھی
” بب باذِل پلیز ۔۔”
اب کے وہ منمنائی تھی
” مائی ڈیئر بیوٹیفل وائف میرے جذبات کی تھوڑی آنچ تو تمہیں بھی لگنی چاہیے ۔ “
معصومہ بھر پور مزاحمت کرتی آنکھیں میچے باذِل کی گرم سانسیں اور لمس اپنی گردن کر محسوس کر رہی تھی اسے شدت سے رونا آیا تھا
معصومہ سسکی تھی تو باذِل نے بے اختیار اس کی آنکھوں میں دیکھا آنکھوں کے ڈورے بے تحاشہ سرخ تھے وہ بے آواز رونے لگی تھی اب باذِل بیڈ پر لیٹا اور معصومہ کا سر اپنے سینے پر رکھ دیا اور نرمی سے اس کے بالوں کو سہلانے لگا معصومہ ایک بار پھر غصے میں آئی تھی
“تم ایک گرے ہوئے اور گھٹیا آدمی ہو ۔۔ چھوڑو مجھے ۔۔ “
اس کے بال سہلاتے ہاتھوں پر باذِل کی گرفت سخت ہوئی تھی اور اس قدر سخت ہوئی کہ معصومہ نے درد برداشت کرنے کی غرض سے ایک پل کو سختی سے آنکھیں میچ لیں اور پھر کھول کر باذِل کی سرخ انگارے بھری آنکھوں میں دیکھا اپنے بال چھوڑوانے کی کوشش میں اسے اور زیادہ درد ہو رہا تھا مگر باذِل کو جیسے کوئی پروا نہیں تھی
” یہ غلطی آج کے بعد نہ ہو ۔۔ پہلی اور آخری بار وارن کر رہا ہوں ۔۔ آئیندہ اپنی زبان کا استعمال احتیاط سے کرنا نہیں تو زبان کاٹ کر ہاتھ میں دے دوں گا ۔۔ اور ایسا کرتے مجھے ذرا بھی افسوس نہیں ہو گا ۔۔”
سرد مہری سے وہ بولا تھا پھر دوبارہ نرمی سے اس کے بال سہلانے لگا معصومہ کا سر ہنوز باذِل کے سینے پر تھا
” ڈارلنگ میں ایک اصول پسند اور ذمہ دار آدمی ہوں ۔۔ میں نہ تو اپنا حق چھوڑتا ہوں اور نا دوسرے کی حق تلفی کرتا ہوں ۔۔ تم تو پھر میری بیوی ہو تمہارے معاملے میں ۔۔ میں کیسے سستی کر سکتا ۔۔ “
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا مضبوط انداز میں بول رہا تھا سر ہنوز باذِل کے سینے پر تھا اور وہ اس کے بالوں کو سہلا رہا تھا اس بار معصومہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور خاموش رہی تھی
چند لمحے خاموشی سے ہی گزرے تھے جب موبائل کی رنگ ٹون نے ان دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا باذِل خاصا بد مزا ہوا تھا آرام سے معصومہ کو خود سے دور کرتا وہ بیڈ سے اترا اور ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھا کر کان سے لگا لیا اور فون سسنتے اس نے رخ موڑ لیا ، داڑھی پر ہاتھ پھیرتا بیڈ پر بیٹھی معصومہ کو دیکھنے لگا جو اب چادر اپنے گرد لپیٹے سرخ آنکھوں سے اسے ہی گھور رہی تھی پلکیں اور ہونٹ لرز رہے تھے
////////////////////////////
اتنے دن قسط نہیں دی اس کے لیے معذرت ۔۔ آج شام تک ایک اور قسط چاہیے تو زیادہ سے زیادہ کمنٹس اور لائک کریں 😉😉❤
