Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 5

دروازے پر مسلسل ہوتی دستک سے اس کی آنکھ کھلی تھی جسم بری طرح اکڑا ہوا تھا وہ ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ ہی آڑی ترچھی لیٹی ہوئی تھی چند لمحوں میں حواس بحال ہوئے تو یاد آیا کہ رات کو باذِل کے جانے کے بعد وہ کافی دیر تک روتی رہی تھی پھر جانے کب اس پر نیند کا غلبہ ہوا تھا اور اب وہ اٹھی تھی تو احساس ہوا کہ رات وہ روتے ہوئے ہی سو گئی تھی اس کا جسم وہیں فرش پر سونے کی وجہ سے شدید درد کر رہا تھا مگر دروازے پر ہوتی دستک سے وہ ہمت کر کے اٹھی اور بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر سر پر اوڑھا اور دروازہ کھولا مگر دروازے پر گل بی بی کو دیکھ کر اسے شدید غصہ آیا

” گل بی بی کیا ہو گیا ہے صبح صبح ۔۔ جو دروازے بجا رہی ہو ۔۔ ؟؟”
درشتی سے کہتی ہوئی وہ واپس آتی بیڈ پر ڈھے سی گئی

” معاف کر دیں بی بی جی ۔۔ میں بھول گئی تھی آج تو آپ ذرا دیر سے اٹھیں گی ۔۔ ہی ہی ہی ۔۔۔”
دروازے پر کھڑی گل بی بی شرماتے ہوئے بولی تو معصومہ فوراً اٹھ بیٹھی اس کی بات سمجھنے کے بعد اسے ایک خطرناک گھوری سے نوازا

” ممم معاف کیجئے گا جی چھوٹی بی بی جی ۔۔ آپ تو ہمیشہ صبح صبح ہی اٹھ جاتی ہیں ۔۔ مجھے لگا آپ اٹھ گئی ہوں گی ۔۔ وہ جی آپ کا بڑی اماں جی ناشتے کے لئے انتظار کر رہیں ہیں ۔۔ “
اس بار گل بی بی دروازے پر کھڑی سر جھکائے بول رہی تھی اس کی بات پر معصومہ بیڈ سے اٹھی اور گھڑی پر وقت دیکھا جو صبح کے آٹھ بجا رہی تھی

” بھئی پہلے کیا وہ لوگ میرا انتظار کرتے تھے ۔۔ پہلے بھی تو میں اکیلے ہی کرتی تھی ناشتہ اب کیا ہو گیا جو میرا انتظار ہو رہا ہے وہاں ۔۔”
الماری کی جانب بڑھتی وہ بولی تھی اس کا بلکل دل نہیں تھا ابھی کمرے سے نکلنے کا کیونکہ اس کا سر اور جسم کافی دکھ رہا تھا وہ آرام کرنا چاہتی تھی

” کیسی باتیں کر رہیں ہیں چھوٹی بی بی جی آپ ۔۔ اب تو جی آپ بہو ہو اس گھر کی ۔۔ مُرشد صاحب کی بیوی ہیں ۔۔ اب تو جی آپ وہیں سب بیبیوں کے ساتھ کھانا کھایا کریں گی ۔۔”
گل بی بی اپنی طرف سے معصومہ کو سمجھا رہی تھی جبکہ معصومہ نے اس کی بات خاصی بیزاری سے سنی

” اچھا تم جاؤ میں آتی ہوں ۔۔”
معصومہ اپنے کپڑے لے کر واشروم کی جانب بڑھی

” بی بی جی وہ جج جی ۔۔ بڑی بی نے کہا ہے کہ آپ تیار ہو کر آئیں ۔۔ “
گل بی بی نے ڈرتے ہوئے کہا تو معصومہ اسے نظر انداز کرتی واشروم میں گھس گئی جبکہ گل بی بی وہیں کمرے کے دروازے پر کھڑی اس کا انتظار کرنے لگی

////////////////////////////

وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی تھی اس کے پیچھے گل بی بی کافی پریشانی سے چلتے آ رہی تھی

” السلام علیکم ۔۔”

اس کے سلام کرنے پر دادی جان نے اسے سرد نگاہوں سے سر سے پاؤں تک دیکھا سفید رنگ کا قیمتی جوڑا پہنے سر پر دوپٹہ سلیقے سے اوڑھے چہرے پر بیزاری لیے وہ ان کے سامنے کھڑی تھی

” معصومہ یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے ۔۔”
دادی جان اسے دیکھتے ہی غرائی تھیں جبکہ ان کی گرجدار آواز سے تائی اور چچی جان سمیت وہاں موجود ہر ملازمہ کانپ گئی

” دادی حان مجھے سمجھ نہیں آئی آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔ “
چہرے پر بلا کی معصومیت لیے اس نے پوچھا تھا وہ واقعی نہیں سمجھی کہ دادی جان غصہ کس بات پہ ہیں

” سفید رنگ ۔!!!۔ وہ بھی شادی کے پہلے دن ۔!! دماغ خراب ہے لڑکی تمہارا ۔۔ تم اسی خاندان کی لڑکی ہو ۔۔ تمہیں سمجھانے کی ضرورت تھی کیا ۔۔؟ “
کرسی سے اٹھاتی ہوئی غرائی تھیں ان کے اٹھنے سے تائی اور چچی بھی اٹھ کھڑی ہوئیں

” دادی جان میں تو پہلے بھی یہ پہنتی تھی ۔۔ اس وقت تو کبھی آپ نے منا نہیں کیا تھا ۔ “
معصومہ کو دادی جان کی بات واقعی حیران کر گئی تھی مطلب حد ہے اب اس کے پہننے اوڑھنے پر بھی اعتراض کیا جائے گا

” پہلے کی بات اور تھی ۔۔ اب تم سہاگن ہو ۔۔ خبردار اگر اب تم نے یہ سفید ، کالے ، پھیکے رنگ پہنے ۔۔ “
وہ سرد مہری سے گویا ہوئیں تھیں

” لیکن دادی جان ۔۔”

” معصومہ کیا ہر بات میں بحث کرنا تمہاری عادت بن گئی ہے ۔۔ “
دادی جان نے معصومہ کی بات کاٹی تھی

” بانو افسوس ہے ہمیں تم ایک لڑکی کو قابو نہیں کر پا رہی ۔۔ یہ لڑکی اپنی ماں کی طرح بد تمیز ہے ۔۔ اور اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا ۔۔ اس لڑکی کو باذِل سیدھا کرے گا۔۔ دن بہ دن اس کی بد تمیزیاں بڑھ رہی ہیں ۔۔ “

اچانک ڈائننگ ہال میں مظفر صاحب داخل ہوئے تھے اور ان کی گھمبیر آواز وہاں گونج رہی تھی یقینا مظفر صاحب ان کی گفتگو سن چکے تھے جبکہ ان کو دیکھ کر سب خواتین ایک طرف کھڑی ہو چکیں تھیں

“لیکن دادا جان میں نے کوئی بدتمیزی نہیں ۔۔۔۔”
معصومہ نے کچھ بولنا چاہا تھا اسے دکھ ہوتا تھا جب دادا جان اس کی ماں کو برا کہتے تھے مگر دادی جان نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا

” معصومہ خاموش رہو ۔۔”

” نہیں نہیں بولو لڑکی ۔۔ تم چپ رہو بانو اسے بولنے دو۔۔ بد تمیز لڑکی ہے یہ ۔۔ “
ایک بار پھر مظفر صاحب دھاڑے تھے معصومہ کے چہرے پر سرد تاثر آیا تھا دل میں تکلیف بڑھی تھی اب کون سی خطا کر دی اس نے ۔۔۔؟ ہمیشہ ایسے ہی ہوا تھا اس کے ساتھ ۔۔

” معاف کیجئے مُرشد صاحب ۔۔ بچی ہے ۔۔ معافی مانگو معصومہ “

دادی جان پہلے مظفر صاحب کو دیکھتی التجائیہ بولیں تھیں اور پھر معصومہ کی جانب رخ کرکے غصے سے بولیں جبکہ اب معصومہ نے شکوہ کناں نگاہوں سے دادی جان کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ کون سی غلطی پر معافی مانگو ، یا کیا بد تمیزی کی ہے جس کی معافی مانگوں اس کے دیکھنے پر دادی جان نے اپنی نظریں چرائیں تھیں

” مم مجھے معاف کر دیں دادا جان ۔۔ “

معصومہ سر اٹھا کر نظریں جھکا کر گویا ہوئی چہرے کے ساتھ لہجہ بھی بے تاثر تھا
مظفر صاحب نے ایک حقارت بھری نگاہ معصومہ پر ڈالی اور وہاں سے چلے گئے

ان کے جانے کے بعد معصومہ ڈائننگ ٹیبل کے پاس پڑی کرسی پر براجمان ہو گئی اور ناشتہ کرنے لگی وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو یا یہ سب جو ہوا اس سب کی اسے عادت تھی تبھی اسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا

نوشین صاحبہ نے تڑپ کر ناشتہ کرتی معصومہ کو دیکھا جو کافی پر سکون دکھ رہی تھی جبکہ دادی جان بھی آنسو پیتی وہاں سے چلیں گئیں

/////////////////////////////

” باس پرسوں صبح اُس علاقے سے ایک لڑکی ملی ہے ۔۔ بہت بری حالت میں ہے سر ۔۔ ریپ اور ٹورچر کیا گیا ہے اس پر ۔۔ چہرہ کافی حد تک خراب ہو چکا ہے ۔۔ میڈیکل رپورٹس کے مطابق اس لڑکی کو کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور کئی روز تک غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے ۔۔ جسم پر تشدد کے نشان ہیں ۔۔ اس کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ نہ وہ زندہ ہے نہ مردہ ۔۔ آج صبح ہی اسے ہوش آ گیا تھا بٹ سر وہ سٹل ایک ہی پوزیشن میں ہے ۔۔ کئی بار ہم نے کوشش کی بٹ وہ بہت ڈری ہوئی ہے ۔۔ “

رمشا کی بار بار کال کی وجہ سے وہ کافی جلدی میں وہاں پہنچا تھا ہال میں اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا وہ بغور رمشا کی باتیں سن رہا تھا اس وقت اس ہال میں باذِل اور رمشا کے علاوہ کوئی نہیں تھا

” رمشا تمہیں اس لڑکی کو ہاسپٹل چھوڑنا چاہیے تھا اور پولیس کو انفارم کرنا چاہیے تھا ۔۔ یہاں لانے کا کیا مقصد ہے ۔۔؟ یہ کوئی ہاسپٹل یا تھانہ نہیں ہے ۔۔ “
وہ نظریں سامنے پڑے لیپ ٹاپ پر جمائے سرد مہری سے بولا تھا رمشا نے دیکھا ایک پل کو باذِل کے چہرے پر اذیت در آئی تھی مگر پھر اس کا لہجہ اور چہرے کسی بھی تاثر سے پاک تھا جیسے اس قدر افسوس ناک بات سے اسے کوئی خاص فرق ہی نہیں پڑا تھا

” باس میں نہ ہاسپٹل لے کے جا سکتی تھی نہ پولیس ٹیشن ۔۔ “
رمشا کے چہرے اور لہجے میں پریشانی تھی

” ہمم کیوں ۔؟؟؟۔”

” باس تشویش ناک بات یہ ہے میں نے پتہ کیا ہے کہ دو دن سے یہ لڑکی ہاسپٹل میں زیر علاج تھی ۔۔ پرسوں رات یہ ہاسپٹل سے غائب ہو گئی تھی ۔۔ ہاسپٹل عملے سے معلوم ہوا کہ اس لڑکی کو زیادتی کے بعد ہاسپٹل کے قریب سڑک سے لایا گیا تھا ۔۔ علاج ہو رہا تھا لیکن اس کے بعد غائب ہو گئی ۔۔ “
رمشا نے ہاتھ میں تھامی ہوئی ہاسپٹل ریکارڈز کی فائل باذل کی جانب بڑھائی تو باذِل اس کے ہاتھ سے فائل لے کر دیکھنے لگا

” اس کا مطلب کسی نے اس لڑکی کو ہاسپٹل سے غائب کروایا ۔۔ پھر سے تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا اور نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا ۔۔ وہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کی یہ مر چکی ہے ۔۔”
رمشا کے بولنے سے پہلے باذِل پر سوچ انداز میں بولنے لگا تو رمشا نے اثبات سر ہلایا

” یس سر ۔۔ “

” ہممم”
باذِل نے اس لڑکی کی آج کی رپورٹس پر نظریں جمائے ہنکار بھرا

” پولیس میں رپورٹ کروائی؟؟ اور اس لڑکی کے گھر والے ۔۔؟؟”
باذِل نے جیب سے اپنا موبائل نکالتے ہوئے رمشا سے پوچھا

” یس باس کل میں نے اور حماد نے ہاسپٹل میں ہی پولیس کو انفارم کیا تھا بٹ سر مجھے کچھ گڑبڑ لگی ۔۔ آئی مین سر ۔۔ اس کی جان کو خطرہ ہے اسی لیے میں اور حماد اسے یہاں لے آئے ۔۔ میں اسے ٹریٹمنٹ دے رہی ہوں سر ۔۔ اور اس کے گھر والوں کا پتہ کیا ہے عام سے لوگ ہیں ۔۔ میں نے کال کر کے بتایا بٹ سر ۔۔”
رمشا کے چہرے پر اذیت در آئی تھی اس نے بات ادھوری چھوڑ دی اور باذِل کو دیکھا جو اب اسے ہی دیکھ رہا تھا

” اس کے گھر والوں نے انکار کر دیا ہوگا اس لڑکی کو پہچاننے سے بھی ۔۔؟؟
رمشا کے بولنے سے پہلے باذِل بولا تھا رمشا اس کی گردن کی تنی ہوئی رگیں دیکھ کر ایک قدم پیچھے ہوئی تھی

” جج جی باس “
بمشکل ہی رمشا کی آواز حلق سے نکل سکی

” ہمممم ۔۔ “

” باس آپ ایک بار ملیں گے اس سے ۔۔؟؟”
باذِل کی سرخ آنکھوں کو دیکھتی وہ بولی تھی

” نہیں ۔۔ رمشا ابھی کچھ دن اس سے کوئی سوال مت کرنا ۔۔ نارمل ہونے دو کچھ اسے ۔۔ پھر دیکھتے ہیں اس معاملے کو ۔۔”
باذِل موبائل جیب میں رکھتا ایک بار پھر لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہو چکا تھا

” یس باس “
باذِل کو کام میں مصروف دیکھ کر وہ اس کمرے کی جانب بڑھی جہاں وہ لڑکی تھی

////////////////////////////////

آج ان کی شادی کو ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا تھا مگر باذِل گھر نہیں آیا تھا سب سے زیادہ حیرت معصومہ کو اس بات سے ہو رہی تھی کہ کسی نے بھی اس سے باذِل کے بارے میں نہیں پوچھا تھا بلکہ ایک ہفتے سے باذِل گھر نہیں آیا تھا اس بات سے کسی کو کوئی فرق بھی نہیں پڑ رہا تھا وہ نہ چاہتے ہوئے بھی باذِل کو سوچنے لگتی تھی پھوپھو جان کے سمجھانے کے باوجود زیادہ تر وہ اپنے کمرے میں رہتی تھی باذِل کے کمرے میں صرف رات کو جاتی تھی وہ بھی اس مجبوری میں کہ دادی جان اس پر نظر رکھتیں تھیں بار بار ٹوکنا روکنا ۔۔ وہ ایک ہفتے میں ہی کافی تنگ آ گئی تھی کھانا سب کے ساتھ کھانا ، گھر کے معاملات میں دلچسپی لینے کے لئے اسے مجبور کیا جانے لگا
وہ اتنی بھی بد تمیز یا خود سر نہیں تھی جتنا اسے ظاہر کیا جاتا
قائم بھی ایک ہفتے سے ملک سے باہر گیا ہوا تھا معصومہ کو شدت سے اس کی یاد آتی تھی قائم کی ہی غیر موجودگی کی وجہ سے دادا جان کافی بار معصومہ کو ڈانٹ چکے تھے کچھ دن میں اس کی کلاسز سٹارٹ ہو رہیں تھیں اور اسے ایک ڈر تھا کہ اگر قائم نہ آیا تو دادا جان ضرور اس پر پھر سے پابندی لگائیں گے

” ہم پر تو ہر بات پر پابندی عائد ہے ۔۔ یہ رنگ نہیں پہننا ، وہ کپڑے نہیں پہننے ، اونچی آواز سے مت بولو ، اتنا زور سے کیوں ہنس رہی ہو ، دس بجے سے پہلے سو جاؤ ، پانچ بجے سے پہلے اٹھ جاؤ ، باہر نہیں جانا ، ٹی وی نہیں دیکھنا ، موبائل نہیں رکھنا ، اوففف ہم پر اتنی پابندیاں مگر پوتا ایک ہفتے سے آوارہ گردی پر ہے لیکن کسی کو کوئی پروا ہی نہیں ہے ۔۔ وہ جہاں مرضی جائے ، جو مرضی کرے ، اسے کوئی نہیں ٹوکتا ۔۔”
بیڈ پر بیٹھی ہوئی خود سے ہم کلام تھی جب دروازے پر دستک ہوئی

” معصومہ بیٹا کیا میں اندر آ جاؤ ۔۔؟؟”
پھوپھو جان کی آواز ابھری تو اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا

” معصومہ بچے اب باذِل کا کمرہ ہی تمہارا کمرہ ہے ۔۔ میں نے کہا بھی تھا وہاں رہا کرو ۔۔ “
وہ معصومہ کے کمرے کی لائٹ آن دیکھ کر آئیں تھیں اور آتے ہی شروع ہو گئیں

” پھوپھو جان ہر بات پہ پابندی کیوں لگائی جا رہی ہے مجھ پہ ۔۔ اب کیا میں اپنے کمرے میں بھی نہیں رہ سکتی اس پہ بھی دادا جان کی شان میں گستاخی ہو گئی ۔۔”
نوشین صاحبہ بیڈ پر بیٹھیں تو معصومہ نے ان کی گود میں اپنا سر رکھ دیا تھا اور ان کے ہاتھ اپنے سر پر رکھے

” معصومہ ۔۔ “

” پلیز پھوپھو جان ۔۔ ۔”
وہ جھنجھلائے ہوئے انداز میں بولی تھی

” معصومہ ہم موقع دیتے ہیں تو لوگ باتیں کرتے ہیں نا ۔۔ تم کسی کو شکایت کا موقع ہی نہ دو ۔۔ “
وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے گویا ہوئیں

” رہنے دیں پھوپھو جان ۔۔ آپ کچھ بھی کر لو دنیا کبھی خوش نہیں ہوتی ہے ۔۔ اسی لیے میں بے کار کی کوشش کرتی ہی نہیں ہوں ۔۔”
معصومہ کو ان کی بات سے سخت اختلاف ہوا تھا وہ اپنا نظریہ بڑے آرام سے ان کے گوش گزار کر رہی تھی جس پر نوشین صاحبہ نے اپنا ماتھا پیٹ لیا

” معصومہ بیٹا اسی لیے تو ابا جان ہر وقت تم سے خفا رہتے ہیں ۔۔ تم خاطر میں ہی کسی کو نہیں لاتی ۔۔ چلو اچھا اب چھوڑو سب باتیں اور اپنے کمرے میں جاؤ ۔۔”
وہ جھک کر اس کا ماتھا چوم کر بولیں تھیں

” دادا جان تو پتہ نہیں کون سے بدلے لے رہے ہیں مجھ سے ۔۔ حد ہے پھوپھو ۔۔ گھر میں اور بھی تو لوگ ہیں لیکن سب کو میں ہی نظر آتی ہوں۔ “
اس بار معصومہ کے چہرے پر کچھ ایسا تھا جو نوشین صاحبہ کو بھی دکھ ہوا واقعی یہ بات سچ تھی ان دو ہفتوں میں مظفر صاحب کافی بار معصومہ کو ڈانٹ چکے تھے

” معصومہ میری بچی ایسی بات نہیں ہے “
انہوں نے اسے پیار سے کہا

” ایسی ہی بات ہے پھوپھو جان بھیا نہیں ہیں نا اس لیے ۔۔ دادا جان کا بس چلے تو وہ یہ بھی کہہ دیں لڑکی تم اتنی سانسیں کیوں لے رہی ہو ۔۔ کم کم سانس لو”
آخری بات اس نے دادا جان کے انداز میں کہی تھی اور ہنس پڑی تھی لیکن اس کی آنکھوں کی نمی نوشین صاحبہ اچھے سے دیکھ چکیں تھیں
ہاں وہ ایسی ہی تو تھی پتہ نہیں کیوں مظفر صاحب کو اس بچی پر ہر وقت غصہ رہتا تھا نوشین صاحبہ بھی سمجھ نہیں پا رہیں تھیں

” اچھا تم بس اپنی طرف سے کوشش کیا کرو اپنے دادا جان کو خوش رکھنے کی باقی اللہ پر چھوڑ دو وہ بہتر کرنے والا ہے ۔ چلو اب جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔ “
وہ اسے پیار سے سمجھا رہیں تھیں

” آج نہیں پھوپھو جان پلیز۔۔”

” معصومہ پلیز بیٹا سمجھو۔۔ پھر پتہ ہے نا بات تمہاری ماں تک جاتی ہے ۔۔ پلیز بیٹا باذِل کو کوئی شکایت کا موقع مت دینا ۔۔ “
اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بول رہیں تھیں

” وہ آئے تو سہی پھوپھو جان ۔۔ ویسے دادا جان کا انصاف دیکھیں ۔۔ میری تو ہر بات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے انہوں نے اور ان کا پوتا دو ہفتوں سے گھر نہیں آیا لیکن دادا جان بلکل ریلیکس ہیں ۔ “
معصومہ تھوڑا مسکرا کر بولی تھی

” کیوں میری بیٹی کو یاد آ رہی ہے شوہر کی ۔۔”
نوشین صاحبہ شرارت سے بولی تھیں

” اوہ پلیز میں اور اسے یاد کروں گی ۔۔”
وہ چہرے پر بیزاریت لائے بولی تھی

” معصومہ شوہر ہے وہ تمہارا ۔۔ کس انداز میں بات کر رہی ہو اس کے بارے میں ۔۔ شوہر سے احترام سے بات کرتے ہیں۔۔ “
اس بار انہوں نے ڈانٹا تھا اسے

” اوکے سوری اب احترام سے بات کروں گی ۔ “
اور پھر وہ دونوں اٹھ کھڑی ہوئیں

/////////////////////////////////

صبح اس کی آنکھ ایک عجیب احساس کے تحت کھلی چند لمحوں میں حواس بحال ہوئے تو اپنے آس پاس دیکھا باذِل اس کے بلکل قریب لیٹا ہوا خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا باذِل کا ایک ہاتھ معصومہ کے بازو پر اور ایک ٹانگ بھی معصومہ کی ٹانگ کے اوپر تھا ایسے کے وہ آدھی باذل کے نیچے دبی ہوئی تھی اسے محسوس ہوا کہ اس کا جسم دبا ہونے کے باعث آدھے دھڑ میں درد کی لہر اٹھی تھی اپنا پورا زور لگا کر اس نے خود کو باذِل سے دور کیا اتنی سی کوشش میں ہی اس کا متنفر بگڑا تھا اس ساری کاروائی کے بعد وہ کافی بے حال ہو گئی تھی

” کیا کھاتا ہے یہ بندہ اففف ۔۔ “

اب وہ باذِل سے دور ہو کر اس کے کسرتی وجود کو گھورتی بولی تھی

ڈھیلا سا ٹراؤزر اور بنیان پہنے وہ اب بیڈ پر کروٹ لیے سو رہا تھا ماتھے پر بھورے بال بکھرے ہوئے تھے معصومہ نے غور کیا تو اسے ادراک ہوا کہ باذِل کی داڑھی موچھوں کے مقابلے میں ہلکی ہلکی ہے باذِل کے بالوں کا رنگ بھورا تھا جو اس پر کافی جچتا تھا بنیان سے اس کا صحت مند جسم نمایا ہو رہا تھا اب معصومہ کی نظر اس کے چوڑے سینے پر پڑی بے ساختہ اس نے اپنی نگاہوں کا زاویہ بدل لیا بلاشبہ وہ ایک بھرپور وجہہ مرد تھا جس کی خواہش ہر لڑکی کرتی ہے مگر معصومہ مضبوط سوچ اور ارادے رکھنے والی لڑکی تھی اسے باذِل کی ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اس کا کردار باذِل کے قریب کر سکتا تھا

” یہ آیا کب ہے ؟ رات کو تو میں اکیلی سوئی تھی ۔۔ ہممم آج یاد آ ہی گئی گھر کی ۔۔ مشکوک آدمی “
اونچی آواز میں بڑبڑاتی وہ بیڈ سے اتر گئی تھی

” گڈ مارننگ جاناں ۔۔”
ابھی وہ مڑی ہی تھی کہ باذِل کی بوجھل آواز پر پر اس کے قدم رک گئے اس کا مطلب وہ جاگا ہوا تھا اور یہ سوچ آتے ہی معصومہ کے دل نے زور سے دھڑکنا شروع کر دیا تھا

” یار ایٹس اوکے ۔۔۔ میں تمہارا شوہر ہوں تم جی بھر کے مجھے دیکھ سکتی ہو ۔۔ اس میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔۔”
معصومہ کے چہرے پر سرخی اور اس کی یک دم جھکی آنکھوں کو دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوا

“جب میں تمہیں جی بھر کے دیکھ سکتا ہوں ، کِس کر سکتا ہوں ، بلکہ کچھ بھی کر سکتا ہوں تو یار تم بھی تو بیوی ہو میری ۔۔ پورا حق ہے تمہارا ۔۔ اتنی دور کیوں کھڑی ہو یہاں پاس آؤ جیسے مرضی دیکھو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔۔”
معصومہ کے چہرے پر حیا کے رنگ دیکھ کر وہ خاصا محظوظ ہو رہا تھا آنکھوں میں شرارت لیے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تھا

” آآ آپ کب آئے ۔۔”
باذِل کی معنی خیز باتیں اور شرارت بھری آنکھیں نظر انداز کیے وہ بمشکل بولی تھی

” رات کو آیا تھا ۔۔ تم کافی سکون سے سو رہی تھی اس لیے جگایا نہیں۔۔”

وہ اب بیڈ سے اتر کر اس کی جانب قدم بڑھانے لگا جبکہ معصومہ بے ساختہ اپنے قدم پیچھے بڑھانے لگی اس سے پہلے وہ مزید دور ہوتی باذِل نے اسے بازو سے تھام کر قریب کیا اور اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حمائل کر لیے

” کیسی ہو ۔۔؟؟”
اس کے چہرے کو والہانہ انداز میں تکتے ہوئے وہ گویا ہوا

” ٹھیک !!”

” میرا حال نہیں پوچھو گی ؟؟۔۔”
اس کے لبوں کو دیکھتے ہوئے باذل نے جذبات سے چور لہجے میں کہا جبکہ معصومہ کا اس کی بولتی آنکھوں میں دیکھنا محال ہو رہا تھا اسی لیے خاموش رہی جبکہ آنکھیں ہنوز جھکی ہوئیں تھیں وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ مزاحمت کیوں نہیں کر پا رہی اتنی آرام سے کیوں باذِل کے اتنے قریب کھڑی تھی

” کوئی تو بات ہے تم میں ۔۔”

اب باذِل کی نگاہیں اس کے لبوں سے ہوتی ہوئی گردن کے پر پڑے نشان پر گئی یقینا یہ وہی نشان تھا جو اس نے خود معصومہ کو دیا تھا اور پھر اس کا نگاہیں اس کی گردن کے خم پر ان تلوں پر گئی اور بس یہیں باذِل خود پر سے اختیار کھو بیٹھا اور اس کے اوپر جھکا مگر معصومہ اس کی آنکھوں کی تحریر پڑھ کر فورا بولی تھی باذِل کو بعض رکھنے کی اپنی سی کوشش کی تھی

” کک کیا مطلب ۔۔؟”

مگر باذِل اس کی بات مکمل طور پر نظر انداز کر کے پہلے اس کے گردن پر جھکا اور ان تلوں کو اپنے لبوں سے چھو لیا پھر اس نشان پر اور اسی طرح اب وہ معصومہ کے لبوں پر جھکا تھا اس سے پہلے وہ اپنے ہوش کھو بیٹھتا دروازے پر دستک ہوئی تھی باذِل یکدم ہوش میں آیا تھا اور اپنے بازؤوں میں لرزتی معصومہ کے وجود پر سے اپنی گرفت ڈھیلی کی

” کون ہے ۔ “
دروازے کو گھورتے وہ دھاڑا تھا کہ اس کی دھاڑ سن کر معصومہ سمیت باہر کھڑی باذِل کی وفادار ملازمہ نوری بھی کانپ گئی

” صصص صاحب ججج جی ۔۔ مم میں نوری ۔۔”
نوری باذِل کے ڈر سے بمشکل ہی الفاظ منہ سے ادا کر پا رہی تھی

” کیا مسئلہ ہے ۔۔”
وہ ایک بار پھر دھاڑا تھا معصومہ کی اپنی جگہ سے ہلنے کی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ جوں کی توں وہیں باذِل کے سامنے کھڑی تھی

“ممم مُرشد صاحب وو وہ جج جی بڑے صاحب نے یاد کیا ہے آآ ۔۔”

” جاؤ ۔۔”

ابھی نوری اپنی بات مکمل بھی نہیں کر پائی تھی کہ باذِل پھر غرایا تھا معصومہ نے اپنی جھکی پلکیں اٹھا کر دیکھا باذِل کے چہرہ بلکل سپاٹ تھا اس کی آنکھوں میں کچھ دیر پہلے والی شوخی کی جگہ اب سرخی تھی

//////////////////////////////