Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 11
وہ اندر داخل ہوئی تو بے ساختہ اس کی نظر صوفے پر بیٹھے باذِل پر پڑی شاید دروازہ کھلنے کی آہٹ پر وہ اس کی جانب متوجہ ہو چکا تھا یہی پل تھا جب ان دونوں کی آنکھیں ملیں تھیں وہ سرخ رنگ کی گٹنوں تک آتی فراک اور ٹراؤزر میں ملبوس تھی دوپٹہ سر پر اوڑھے ، لائیٹ سا میک اپ ، ہونٹوں پہ سرخ ہی لپسٹک جو مدھم سی رہ گئی تھی اس کی سفید رنگت پر سرخ رنگ کا لباس ، ناک میں پہنی لونگ کا چمکتا موتی اس کو اور پرکشش بنا رہا تھا باذل تو مبہوت سا اسے تکتا جا رہا تھا
باذل کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جس نے معصومہ کو نگاہیں جھکانے پر مجبور کر دیا وہ فورا اپنی نگاہوں کا زاویہ بدل کر اب دروازہ بند کر رہی تھی اب وہ مڑ کر آہستہ قدم اٹھاتی ڈریسنگ روم کی سمت بڑھ رہی تھی جب باذل کی آواز سے قدم وہیں کمرے کے بیچ و بیچ جم گئے
“اس وقت کہاں تھی تم ؟؟۔۔”
وہ سمبھل چکا تھا اور سرد انداز میں کہتا اب قدم قدم چلتا معصومہ تک پہنچ چکا تھا
” وہ ۔۔۔ وہ میں اپنے کمرے میں تھی ۔۔”
معصومہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے کہا جبکہ دل تو نہیں کر رہا تھا کہ اس کو سیدھا جواب دے
” جاناں اب تمہارا کمرہ یہ ہے ۔۔ “
اس کے الفاظ میٹھے تھے مگر انداز سخت تنبیہہ کا سا تھا جبکہ وہ مزید فاصلہ مٹاتا اب معصومہ کو دونوں بازؤوں سے پکڑ کر اپنے بہت قریب کر چکا تھا
” ہممم ۔۔ !!”
معصومہ زرا نگاہیں جھکا گئی
” آج پورا دن اگنور کیوں کر رہی تھی مجھے ۔۔ “
اس کے اگلے سوال پر معصومہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جو سرخ تھیں
” ہممم دل نہیں چاہ رہا تھا کسی سے بھی بات کرنے کو ۔۔ “
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی عام سے انداز میں بولی
جبکہ باذِل اس کی بات پر چونکا اسے لگا تھا وہ اس کی بات کی نفی کرے گی اور کہے گی کہ میں تو اگنور نہیں کر رہی تھی یا کوئی بہانہ بنائے گی مگر یہ تو صاف کہہ رہی تھی کہ اس نے جان بوجھ کر سارا دن اگنور کیا
” ہممم “
معصومہ کی بات نظر انداز کر کے باذِل اب اپنا ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کر کے دوسرا ہاتھ اس کی گردن پر نرمی سے پھیر رہا تھا گہری نگاہیں اس کے نازک سراپے پر تھیں جبکہ باذِل کی اس حرکت پر معصومہ کی نگاہیں جھک چکیں تھیں مگر جھکی نظروں سے بھی وہ باذل کی لو دیتی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی جب اس نے معصومہ کا دوپٹہ آہستہ سے اتار کر دور صوفے پر اچھالا تھا اور اس کی گردن پر ان دو تلوں پر اپنے لب رکھ دیے تو صحیح معنوں میں معصومہ لرز گئی
” بب باذِل !! ۔۔”
اس نے اپنے دونوں کپکپاتے ہاتھ باذِل کے سینے پر رکھے اور مزاحمت کرنے لگی مگر باذِل مدہوش سا جھکا رہا
” ببب باذِل پلیز۔ “
باذِل کے انداز میں شدت تھیں جو معصومہ کا سانس روک رہی تھی جبکہ باذِل کے ہاتھوں کا لمس وہ اپنی کمر پر محسوس کر رہی تھی
” ممم میں نے آپ سے وقت مانگا تھا ۔۔ “
وہ بولی تو اس کے لب باذل کے بالوں کو چھو رہے تھے جبکہ اس کی بات سن کر باذِل نے اپنی کاروائی روکی اور گردن سے لب اٹھا کر معصومہ کو دیکھنے لگا جس کا سفید رنگ سرخ پڑ گیا تھا
” میرے خیال سے اتنا وقت کافی ہے جاناں ۔۔”
وہ خمار آلود آواز میں بول رہا تھا اس کی نگاہیں اب معصومہ کے لبوں پر تھی جبکہ معصومہ اس کی آنکھوں کو اپنے لبوں کو والہانہ انداز میں تکتے پا کر رخ موڑ گئی تھی
” مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔”
وہ تصویر اور میسیج اس کی آنکھوں کے سامنے آیا تھا اب کے معصومہ کی نا چاہتے ہوئے بھی آنکھوں میں نمی آ گئی جسے دیکھ کر باذِل کے ماتھے پر ایک لکیر ابھری
” کیا ہوا جاناں ؟؟ کیا بات ہے ۔۔؟؟”
اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر وہ قدرے نرمی سے بولا جبکہ معصومہ نے اس کے سینے پر رکھا اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر اپنے آنکھوں کی نمی صاف کی
” میں ایک ایسے مرد کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی جو حلال اور حرام کا ہی فرق نا جانتا ہو ۔۔”
معصومہ کا لہجہ ٹھوس تھا وہ دیکھ سکتی تھی اس کی بات سن کر باذِل کے چہرے پر سختی در آئی تھی ہونٹ سختی سے بھینچ گئے ، گردن کی رگیں تن گئیں تھیں
” کیا مقصد ہے اس بات کا ؟؟۔۔”
بہت ضبط کے بعد بھی وہ درشتی سے بولا تھا اس وقت معصومہ کی بے تکی بات اسے بلکل بھی سمجھ نہیں آئی تھی اور جو سمجھ آ رہی تھی وہ اس کے غصے کو ہوا دینے کے لیے کافی تھی
” دو گناہ ایسے ہیں کہ جن کی سزا آنی والی نسلوں کو بھی بھگتنی پڑتی ہے ۔۔ اا ایک زز زنا ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسرا حرام کمائی ۔۔ اس گھر میں یہ دونوں گناہ ہو رہے ہیں ۔۔ “
وہ اپنے ہاتھوں کے ساتھ آواز کی بھی کپکپاہٹ پر قابو پاتی نڈر ہو کر بولی جبکہ اس کی بات پر باذِل نے اپنے جبڑے سختی سے بھینچے
” ہممم کیا کہنا چاہتی ہو ۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے اپنے دماغ سے یہ فضول باتیں نکال دو ۔۔ اور دور رہو ان ساری باتوں سے ۔۔”
وہ معصومہ کی باتوں کا مفہوم اچھی طرح سمجھ رہا تھا وہ اپنے باپ اور چچا کے کرتوت خوب جانتا تھا مگر اسے واقعی معصومہ کے منہ سے سن کر دھچکا لگا تھا
” اندھا سمجھ رکھا ہے مجھے ۔۔ یا بےوقوف ۔۔؟؟ اس گھر کے مرد کیا کیا کرتے پھرتے ہیں ۔۔ سب جانتے ہیں ۔۔”
باذِل کی ہٹ دھرمی پر اسے شدید غصہ آیا تھا وہ اس کے ہاتھ جھٹکتی فاصلہ قائم کرتی درشتگی سے بولی اس بات میں شک نہیں کہ معصومہ کو باذِل شیرازی سے اتنا کچھ بولتے ہوئے ایک پل کو بھی خوف نہیں آ رہا تھا
” ہممم مثلاً ۔۔؟؟ تو کیا جانتی ہو تم ۔۔؟”
معصومہ کی باتیں ، اس کا انداز باذل کو بے حد اشتعال میں لے آیا تھا مگر اپنا غصہ دباتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں بولا مگر انداز بے حد سختی لیے ہوئے تھا
” اتنا حوصلہ ہے آپ میں کہ سن سکیں ۔۔؟؟”
وہ دبی دبی آواز میں غرائی تھی اس کی آنکھوں کے سامنے کیا کیا نہیں آ رہا تھا اپنے باپ کا نشے کی حالت میں اس کی ماں کو اس کی آنکھوں کے سامنے مارنا وہ فقط چھ سال کی تھی اس وقت ۔۔ تایا جی کی غراتی آوازیں اور تائی ماں کی سسکیاں ، چاچو کی عیاش طبیعت کہ نشے میں بہن بیٹی کی تمیز بھول جاتا تھا اسی اچھی طرح سب یاد تھا جب بھی اپنے باپ یا چچا کو اس حالت میں گھر آتے دیکھتی تو اپنے کمرے کی حد تک محدود ہو جاتی تھی چھوٹی سی عمر میں کیسے کیسے خوف دل میں رکھ کر اس نے وقت گزارا تھا
وہ تو دادا جان نے سخت دھمکی دی کہ اگر نشے کی حالت میں شیرازی ہاؤس میں کوئی داخل ہوا تو اس سے ہر رشتہ توڑ کر جائیداد سے عاق کر دیں گے تب کہیں جا کر یہ سلسلہ کم ہوا تھا ہاں مگر ختم نہیں اب بھی وہ اکثر اپنے باپ کو ایسی حالت میں رات کو گھر آتے دیکھتی تھی مگر افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی
باذِل کی عجیب حالت دیکھ کر اسے کتنی تکلیف ہوئی تھی یہ وہ یا اس کا خدا جانتا تھا
اور اب کیسے سینے پہ ہاتھ باندھے دھڑلے سے اس سے پوچھ رہا تھا جیسے دودھ کا دھلا ہوا ہو کوئی ندامت ، کوئی شرم نا ہو
” جتنا ضبط میں کر رہا ہوں نا یہ سب سننے کے بعد ۔۔ اس سے اندازہ لگا لو کے کتنا حوصلہ ہے میرے اندر ۔۔”
باذِل کو دراصل غصہ خود سمیت اس گھر میں موجود ہر ہر شخص پر آ رہا تھا وہ اور قائم ہمیشہ سے اتنا اتنا عرصہ پہلے پڑھائی پھر کام کے باعث گھر سے دور رہتے تھے باقی گھر کی عورتوں کا تو انہیں پتہ تھا کہ کیسی زندگی گزار رہی ہیں مگر معصومہ کی باتیں سن کر اسے سو فیصد اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ بھی سب جانتی ہے
” وہ دکھ رہا ہے مجھے کہ کتنا ضبط ہے آپ میں !!۔۔”
باذِل کے سپاٹ چہرے، ضبط سے بے تحاشہ ہوتی سرخ آنکھیں ، بھینچی ہوئی مٹھیاں ، بازو کی رگیں واضح ہو رہیں تھیں اس کو دیکھتی وہ طنزیہ انداز میں بولی تھی
” معصومہ دیکھو ۔۔ اپنے دماغ سے یہ سب باتیں نکال دو ۔۔ انشاءاللہ سب بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا۔۔ میں کہہ رہا ہوں نا تم سے ۔۔”
اپنے اندر اٹھتی غصے کی لہر کو دباتا وہ فاصلہ مٹاتے ہوئے اس کے قریب پہنچا اور اسے سینے سے لگا لیا وہ معصومہ کی اندرونی حالت سمجھ رہا تھا کہ وہ کس کرب سے گزر رہی ہے وہ اسے اپنی محبت سے بتانا چاہتا تھا کہ اس کا شوہر اسے عزت ، مان ، تحفظ محبت سب دے گا
مگر معصومہ کے اندر اتنے سالوں سے ابلتا لاوا آج پھٹ چکا تھا وہ باذِل کی محبت ، فکر کو اس کا دوغلا پن اور طلب سمجھتی اس کو اپنی پوری قوت سے دھکا دیتی پیچھے ہوئی تھی اور اپنا دوپٹہ اٹھا کر کاندھوں پر پھیلایا تھا
” آپ ٹھیک کریں گے ۔۔؟؟ جس کا خود کا دامن صاف نہیں ہے گندگی سے وہ کیا کرے گا انصاف ۔۔”
وہ درشتگی سے کہتی سر جھٹک گئی تھی کہ اس کی اتنی سخت بات پر باذِل کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا وہ جانتا تھا کس طرح ضبط کر رہا تھا وہ معصومہ کی باتوں پر
” میں جانتا ہوں تم اس وقت بہت غصے میں ہو ۔۔ مگر میری جان ایک بار میرے پہ یقین تو کرو۔۔ اللہ کی مدد سے میں سب ٹھیک کروں گا مگر کچھ وقت دو جاناں۔۔”
وہ ایک بار پھر لہجے میں بے حد نرمی اور محبت سموئے بولا تھا چہرہ ابھی بھی سپاٹ تھا
” مجھے کچھ نہیں سننا باذِل شیرازی ۔۔ میں نے کہا نا مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا ۔۔ “
وہ اب کے تھوڑی بلند آواز میں غرائی تھی جبکہ اس کی بلند آواز پر بہت کوشش کے بعد بھی باذِل کے ماتھے پر شکن پڑے تھے مگر وہ اس دن والی غلطی نہیں ہرانا چاہتا تھا جس کے بعد اسے معصومہ سے شرمندگی ہو اسی لیے فوراً ایک پل کو آنکھیں بند کرکے لمبا سانس کھینچا اس کاروائی کا مقصد خود کو نارمل کرنے کا تھا جب دوبارہ آنکھیں کھولیں تو پھر سے محبت سے معصومہ کو دیکھا جس کی آنکھوں کے ڈورے سرخ ہو گئے تھے
” پلیز جاناں ۔۔ ابھی کچھ نہیں بولو ۔۔ کیونکہ تم ہوش میں نہیں ہو ۔۔”
معصومہ سے دو قدم دور کھڑا وہ آہستگی سے بولا
” باذِل شیرازی آپ مجھے اپنی میٹھی باتوں کے جال میں نہیں پھنسا سکتے ۔۔ میں آپ کا کھیلونا نہیں بنوں گی ۔۔ “
معصومہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر وہ ناٹک کیوں کر رہا تھا مگر اسے باذِل کے جال میں نہیں پھنسنا تھا کاش کہ آج صبح غصے میں وہ میسیج اور پکچر ڈیلیٹ نہ کرتی تو ابھی اس باذِل کو آئینہ دیکھا دیتی مگر کیا کرتی جب بھی موبائل دیکھتی اس کو تکلیف ہوتی تھی اس لیے فوراً ڈیلیٹ کر دی
” بس معصومہ اس سے زیادہ نہیں ۔۔ ایک لفظ نہیں بولنا ۔۔ ورنہ !!!”
کھیلونا لفظ پر ہی باذِل کی ضبط جواب دے گئی تھی ایک ہاتھ سے اسے مزید بولنے سے روکتے وہ اب کے غرایا تھا
” کیا ورنہ ہاں ۔۔ ؟؟ بولیں ۔۔ ہاتھ اٹھائیں گے مجھ پہ ۔۔ اپنی مردانگی دکھائیں گے ۔۔ “
معصومہ ایک قدم آگے آ کر اس کی انگارے ہوتی آنکھوں میں دیکھتی بولی وہ دونوں ہی غصے میں اس وقت آمنے سامنے کھڑے ایک پل کو اسے باذل کی آنکھوں سے خوف آیا مگر ڈٹ کے کھڑی رہی
“پہلی بات معصومہ بی بی تم جیسی نازک لڑکی میرا ایک تھپڑ تک برداشت نہیں کر سکتی اس لیے کوشش کرنا کبھی ایسے حالات نہ پیدا ہوں کہ نوبت ہاتھ اٹھانے پہ آئے ۔۔ اور دوسری بات میں کمزور مرد نہیں ہوں جو اپنی بات زبان یا عمل سے نہ سمجھا سکوں تمہیں ۔۔ “
وہ ایک ایک لفظ چبا کر ادا کرتے ہوئے سر سے پاؤں تک اسے گھورتے ہوئے آہستگی سے بول رہا تھا جبکہ انداز سختی لیے ہوئے تھا
پہلی بات اسنے معصومہ کو فلوقت ڈرانے کے لیے کہی تھی کیونکہ دوسری بات میں اس نے صاف کہا ہے کہ وہ عورت پر ہاتھ اٹھانا کمزور مردوں کی عادت سمجھتا ہے
” آپ جانتے ہیں آپ ان سب سے بھی چار قدم آگے ہیں اس گناہ کی دبیا میں۔۔ کیونکہ وہ تو جو بھی کرتے ہیں سب کو معلوم ہے ان سب کی اصلیت مگر آپ مرشد صاحب ۔۔ آپ تو منافق بھی ہیں ۔۔ سب آپ کی شرافت کے گن گاتے ہیں مگر حقیقت صرف مجھے معلوم ہے ۔۔”
شاید باذِل کا دھیما انداز معصومہ کو مزید بولنے پر اکسا رہا تھا وہ باذِل کے اس انداز کو اس کی منافقت سمجھ رہی تھی شادی کہ رات باذِل کے الفاظ کیسے بھول سکتی تھی جب باذل نے صاف کہا تھا کہ اس نے شادی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کی ہے
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ باذل نے محض اسے چڑانے کے لیے یہ بات کہی تھی
” معصومہ بہت ہو گیا ۔۔ چلو ختم کرو سب ۔۔ مزید اس بارے میں بات نہیں ہوگی اب ۔۔ جاکر چینج کرو اور سو جاؤ۔۔ “
وہ اب معصومہ کی باتوں سے تنگ آ گیا تھا کیونکہ اس کی ضبط سے بات آگے بڑھ رہی تھی اسی لیے معصومہ کو سختی سے کہتا وہ تھوڑا اس کے قریب آ کر بولا
” ہممم سچ سننا مشکل ہو رہا ہے نا اب آپ سے ۔۔ بہرحال میری بات پر جلدی عمل ہو جانا چاہئے مرشد صاحب “
باذِل کی بات پر وہ اٹل انداز میں بولتی آخر میں تمسخر کے انداز میں ہنسی تھی
” کون سی بات ۔۔؟ کیا چاہتی ہو ۔۔؟؟”
وہ فوراً چونکا تھا آنکھیں سکیڑے ماتھے پر بل ڈالے اس کی دونوں کلائیاں اپنی گرفت میں لے کر پوچھا گیا
” مجھے آپ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رکھنا ۔۔ “
وہ ٹھوس انداز میں بولی جبکہ اپنی کلائیاں باذِل کی گرفت سے نکالنے کی تگ و دو جاری تھی کہ ایک جھٹکے سے باذل نے اس کی کلائیاں آزاد کر دیں تو وہ دو قدم پیچھے ہو گئی
” تم صرف شکل و صورت سے خوبصورت لڑکی ہو ۔۔ جبکہ زبان تمہاری تیز دھار آلے کی مانند ہے ۔۔ اور ایسی عورتیں کی مرد کے دل تک رسائی مشکل ہوتی ہے ۔۔”
باذِل نے مٹھیاں بھینچے اس کی بات نظر انداز کی اور بے حد سرد انداز میں بولا
” میں بے کار کوشش کرنا بھی نہیں چاہتی ۔۔ نا میں آپ کے میٹھے لفظوں پر فدا ہونے والی ہوں ۔۔ کم از کم آپ جیسے مرد پہ تو کبھی نہیں ۔۔۔ “
جواباً وہ بھی سرد مہری سے بولی تھی آنکھیں ہنوز باذل کی آنکھوں پر گاڑے ہوئے تھی جبکہ پھر سے باذل نے اس کے قریب آکر اس کے دونوں بازو تھام کر اپنے قریب کیا
” تم ان احمق عورتوں کی فہرست میں سرفہرست پر ہو معصومہ بی بی جو ہر مرد کو ایک ترازو میں تولتی ہیں ۔۔ “
باذل کی برداشت ختم یو چکی تھی اب اس نے اسے دیوار سے لگا کر اس کے دونوں ہاتھ کلائی سے تھام رکھے تھے جس پر گرفت سخت سے سخت ہوتی جا رہی تھی یہاں تک کہ وہ کراہ اٹھی شدت درد سے اس کے آنسو بہنے لگے جو اس کے شفاف چہرے پر موتیوں کی طرح چمکنے لگے
” ہممم عورت تو احمق ہی ہوتی ہے جو نکاح میں بندھ کر آپ جیسے مردوں کے ساتھ اپنی زندگی کے ماہ و سال برباد کر دیتی ۔۔ آپ بھی ایک ظالم مرد ہیں ۔۔ اور ظالم تپتی دھوپ جیسا ہوتا ہے جو کبھی چھاؤں کی ٹھنڈک نہیں دے سکتا ۔۔”
نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھیں مسلسل بہہ رہیں تھیں جبکہ مقابل کے چہرے پر صرف سرد تاثر تھا آنکھوں میں سرخی ۔۔ معصومہ کو جانے کیوں اب کے ڈر لگا تھا باذِل سے
“معصومہ اگر میں تمہاری سوچ کے مطابق ہوتا تو ۔۔۔ آج تم پورے حق سے میرے کمرے میں موجود نہ ہوتی ۔۔۔۔ بلکہ میں تمہیں کسی عام چیز کی طرح استعمال کرکے چھوڑ چکا ہوتا بقول تمہارے میں ایک برا آدمی ہوں تو یہ میرے لیے مشکل نہیں تھا ۔۔۔ “
باذِل بے حد زچ ہو چکا تھا آج کے لیے اس نے کیا سوچا تھا اور ہو کیا رہا تھا
” بہت اچھے سے جانتی ہوں میں آپ کی چال کو۔۔۔ یہ نکاح آپ نے اس لیے کیا کہ آپ کی اصلیت جانتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکوں ۔۔ بے بس کرنا چاہتے ہیں نا آپ مجھے ۔۔ مگر آپ کامیاب نہیں ہوں گے میں بھائی کو سب بتا دوں گی کہ آپ کتنے ظالم ہیں ۔۔”
وہ دبی دبی آواز میں غرائی تھی اس کی بات سن کر باذِل کی گرفت مزید سخت ہوئی یہاں تک کہ اس کی کلائیاں بے حد سرخ ہو گئیں جیسے پورے جسم کا خون نچوڑ آیا ہو
” کون سا ظلم کیا ہے میں نے تم پر ۔۔۔۔۔ “
لفظ چبا چبا کر ادا کیے گئے
” چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔۔ “
وہ درد کی وجہ سے آنکھیں میچ کر بے بسی سے بولی
” تم بیوی نا ہوتی میری تو اتنی بکواس نہ سنتا تمہاری ؟؟۔۔”
وہ حق جتاتا ہوا بولا جبکہ انداز سختی لیے ہوئے تھا
” چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔ یہ صحیح نہیں کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔ “
وہ اس کی ضبط سے سرخ ہوئی آنکھوں میں دیکھ کر بولی جبکہ اپنے ہاتھوں کو وہ مسلسل چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی
” کیا غلط ہے ہے ہاں ۔۔؟ بس ہو گئی اب تمہاری ۔۔؟؟ اتنی دیر سے قینچی کی طرح زبان چل رہی تھی تمہاری سن رہا تھا نا تمہاری بکواس ۔۔ اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں ۔۔ بہت وقت دے دیا تمہیں مگر اب اور نہیں ۔۔”
وہ منہ سے الفاظ نہیں انگارے نکال رہا تھا معصومہ کو ایک پل لگا تھا اس کی بات سمجھنے میں ۔۔
” چھوڑیں پلیز !!۔۔”
باذِل کو ایک ہاتھ سے اپنی واسکٹ کے بٹن کھولتا دیکھ وہ تقریبا چیخی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے معصومہ کی کلائیاں اپنے شکنجے میں لیا ہوا تھا اتنی بے بس تو وہ کبھی نہ تھی آنکھیں مسلسل بہہ رہیں تھیں
” کیا بول رہی تھی تم ۔۔ میں ظالم ہوں ۔۔ کبھی چھاؤں نہیں دے سکتا تمہیں ۔۔۔۔ اب دیکھنا ۔۔ میں چھاؤں کو دھوپ میں کیسے بدلتا ہوں ۔۔۔۔ اور اس دھوپ میں کیسے جھلستی ہو تم ۔۔”
وہ اپنی واسکٹ اتار کر پھینک چکا تھا اب اس نے معصومہ کا دوپٹہ اتارا اور اسے اپنے باہوں میں اٹھا لیا وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی
” بے وقوف لڑکی مرد سے انا کی جنگ نہیں لڑتے ۔۔ ایسی کوشش بھی مت کرنا آج جو اتنا بولی ہو نا معصومہ تم میں نہیں جانتا مگر شاید یہ تمہاری خوش قسمتی ہے جو میں نے بہت ضبط کیا ۔۔خدا کی قسم اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تم اس کی زبان منہ میں نہ ہوتی ۔۔ کاٹ کر پھینک چکا ہوتا میں ۔۔”
معصومہ کو بیڈ پر لٹا کر اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی اوپر کرکے بیڈ سے لگا کر وہ مکمل اس پر جھک کر اس کے کان کے قریب سرگوشی کے انداز میں بول رہا تھا کہ بولتے ہوئے اس کے لب معصومہ کے کان کو چھو رہے تھے
” بب باذِل نن نہیں۔۔”
اسے یقین ہو گیا تھا باذل اب نہیں سنے گا مگر پھر بھی منمنائی تھی وہ بے آواز رو رہی تھی
” میں مزید تمہاری بے تکی باتوں میں نہیں آؤں گا معصومہ اب تمہیں اپنے طریقے سے ہینڈل کروں گا میں جاناں ۔۔ “
وہ اس کے بال پونی سے آزاد کرتا خمار آلود آواز میں بولا
اس کے ہاتھ اپنی کمر پر فراک کی زپ پر وہ محسوس کر رہی تھی جبکہ زبان سے الفاظ نکلنے سے انکاری تھے
اور پھر باذل کمرے کی روشنی بند کر چکا تھا
” امید رکھو آج رات تمہاری زندگی کی سب سے یاد گار رات ہوگی ۔۔جاناں “
سرگوشی کے سے انداز میں کہتا اب وہ معصومہ کے چہرے کے ہر نقش پر اپنے لب رکھتا محبت کی مہر ثبت کر رہا تھا معصومہ جبکہ اب سختی سے آنکھیں میچے ہوئے تھی مگر اب وہ باذِل کے لبوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی اسی طرح باذِل کی جسارتیں بڑھ رہیں تھیں اس کے انداز میں اس قدر شدت تھی کہ معصومہ نے مزاحمت کرنا چھوڑ دی یوں باذِل کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی رات آہستہ آہستہ گزرتی جا رہی تھی
///////////////////////////////
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
