Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

Surprise 💃💕
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 1

” مم میں کک کچھ نہیں جانتا ۔۔۔۔!!! تم لوگوں کو مجھ سے کیا حاصل ہوگا ۔۔۔ کیوں لائے ہو مجھے یہاں ۔۔۔۔ کون سی جگہ ہے یہ ۔۔۔۔؟؟”
یہ الفاظ وہ بہت ہمت کر کے ادا کر پایا تھا
کیونکہ اب اسے کافی دیر سے اپنے سامنے بیٹھے شخص سے بے انتہا خوف آرہا تھا
وہ تقریبا پچیس منٹ پہلے اس کمرے میں لایا گیا تھا جہاں ایک میز اور آمنے سامنے دو کرسیاں تھیں بلب کی روشنی سے ایک دوسرے کے نقوش واضح ہو رہے تھے
دو لمبے چوڑے آدمی اسے یہاں لائے تھے جو کہ دروازہ بند کرنے کے بعد دروازے کے پاس کی کھڑے ہوگئے تھے
پندرہ منٹ بعد ایک جینز شرٹ اور سر پر کیپ پہنے ایک خوبرو سا شخص آ کر اس کے سامنے بیٹھا تھا لیکن اس کی توقع کے برخلاف اب تک اس نے کوئی سوال نہ پوچھا تھا
اسی لیے اب اسے سامنے بیٹھے شخص سے وحشت ہونے لگی تھی

” پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس ۔۔۔ اگر ان پانچ منٹس میں تم نے سچ نہیں نکالا اپنی زبان سے تو ۔۔۔۔ پانچ منٹ بعد جو بندہ آئے گا وہ زبان سے تم سے کچھ نہیں پوچھے گا ۔۔۔ “

وہ شخص سرخ آنکھوں سے گھورتا گھمبیر انداز میں بولا
اور پھر کرسی سے اٹھ کر کمرے میں چکر لگانے لگاابھی وہ پراسرار انداز میں کمرے کے چکر ہی لگا رہا تھا کہ اس کمرے کا دروازہ کھلا اور پہلے شخص کا ہم عمر آدمی کمرے میں داخل ہوا

وہ دونوں دیکھنے میں تقریبا 26 یا 27 سال کے تھے بلیک جینز اور شرٹ پہنے بلیک ہی لیدر کی جیکٹ اور سر پر کیپ پہنے وہ داخل ہوا

“کچھ بتایا اس نے ۔۔۔؟؟۔۔”
اس نے آتے ہی مضبوط لہجے میں پوچھا اور سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا

” میں نے تو اسے وقت دیا تھا کہ آرام سے سب بتا دے ۔۔۔۔ لیکن لگتا ہے اسے تمہارا ہی انتظار تھا ۔۔۔”
پہلے شخص نے اسے دیکھتے ہوئے بتایا

” تت تم لوگ کون ہو ۔۔۔۔۔ “
اس نے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو مسلسل اپنے ہاتھ میں ایک تار نما کوئی چیز لپیٹ رہا تھا پھر اتار رہا تھا یکدم اس کے ہاتھ رکے اور اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا

” اپنی اصل پہچان بتاؤ ۔۔۔۔۔ اگر آرام سے بتا دو گے تو فائدے میں رہو گے ۔۔۔۔ اگر آرام سے نہیں بھی بتاؤ گے تو کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔۔ مجھے ویسے بھی تم جیسوں سے نمٹنے میں لطف آتا ہے ۔۔۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ اٹھا اور جارحانہ انداز میں آگے بڑھا

///////////////////////////////

یہ ایک بڑے سے ہال نما لاؤنج کا منظر تھا ہال یہاں کے مکینوں کے بہترین ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھا تین نہایت قیمتی فانوس اس ہال کے وسط میں تھے جو کہ ہمہ وقت روشن رہتے
خوبصورت اور نفیس صوفے ، اور سجاوٹ کی ہر چیز اپنی مثال آپ تھے یقینا اس کئی کنال پر مبنی محل نما گھر کا چپاچپا اسی طرح نفیس اور خوبصورت آرائش سے سجا ہوگا
دیکھنے والے اسے ” شیرازی ہاوس ” کم اور محل زیادہ کہتے تھے
آخر کو یہ کسی عام شخص کی رہائش گاہ تو نہیں تھی بلکہ یہ تو ملک کے نامور سیاستدان مظفر شیرازی کی رہائش گاہ تھی جو اپنی بے تحاشا دولت اور شہرت کے باعث مشہور و معروف تھے

اس وقت مظفر صاحب بڑی شان سے اپنے بیٹوں کے ساتھ ہال میں موجود تھے آج انہوں نے کسی اہم فیصلے سے سب کو آگاہ کرنا تھا جس بنا پر سب وہاں موجود تھے ہاں مگر خواتین کو اجازت نہ تھی کہ وہ اس طرح کے کسی بھی اہم موقع پر بولیں یا وہاں موجود ہوں بلکہ بعد میں وہاں ہوئے فیصلے یہ آگاہ کر دیا جاتا

” ساجد میں نے باذِل کا رشتہ تمہاری بیٹی کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔ تمہیں کوئی اعتراض ۔۔۔۔۔؟؟۔۔”
مظفر صاحب نے اٹل انداز میں اپنا فیصلہ سنایا

” نہیں ابا جی ۔۔۔۔ آپ کی جیسے مرضی ۔۔۔۔ مجھے باذِل اور معصومہ کے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔”
ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی یقینا یہ ان کی بھی دلی خواہش تھی

” میں کچھ خاص حق میں نہیں ہوں اس رشتے کے ۔۔۔۔۔ کیونکہ تمہاری بیٹی باغی لگتی ہے مجھے ۔۔۔۔۔ لیکن باذِل نے تمہاری بیٹی کا نام لیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس لیے اب اعتراض نہیں مجھے ۔۔۔۔”

وہ اپنے لاڈلے پوتے کے لیے کوئی دبی ہوئی ، سہمی ہوئی ، فرمابردار بیوی چاہتے تھے جبکہ ان کے مطابق ان کی پوتی معصومہ ان کے لاڈلے پوتے کے معیار پر کسی صورت پوری نہیں اترتی تھی
لیکن پوتے نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ معصومہ سے ہی شادی کریں گے سو اس طرح انہیں ماننا ہی پڑا

” ابا جی نا سمجھ ہے وہ ابھی ۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ فکر نہ کریں شکایت کا کوئی موقع نہیں دے گی آپ کو ۔۔۔۔۔ بس قائم سے ایک بار بات ہو جاتی اس بارے میں ۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ کو معلوم ہے قائم ، معصومہ کے لیے کافی حساس ہے ۔۔۔۔ یہ تو پھر اس کے رشتے کا معاملہ ہے ۔۔۔۔۔”
ساجد صاحب باپ کو دیکھتے ہوئے گویا ہوئے

” قائم سے میری بات ہوئی ہے اسے بھی کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔ بس وہ عجیب بات کہہ رہا تھا کہ پہلے معصومہ سے پوچھے گا پھر کوئی فیصلہ کرے گا ۔۔۔۔۔۔ اب کیا ہم عورتوں سے پوچھ کر معاملات طے کریں گے ۔۔۔ اور وہ تو پھر کل کی لڑکی ہے۔۔۔۔۔ “
مظفر صاحب ماتھے پر بل ڈالے گویا ہوئے لیکن پوتے کی بات پر انکار بھی نہیں کرسکتے تھے

” ابا جی ۔۔۔۔۔ آپ فکر نہیں کریں ۔۔۔۔ معصومہ انکار نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔”
ساجد صاحب اب کے مسکرا کر بولے تھے

” اس لڑکی کی ہمت بھی نہیں ہونی چاہیے انکار کرنے کی ۔۔۔۔۔ اور ساجد اسے ذرا کنٹرول بھی کرو ۔۔۔ ہم یا میرا بیٹا اس کے نخرے نہیں اٹھائیں گے ۔۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے ہمارے خاندان کی لڑکیاں اپنی اوقات میں رہتی ہیں ۔۔۔۔ لیکن قائم نے کافی بگاڑا ہوا ہے اسے ۔۔۔ کافی زبان چلتی ہے اس کی ۔۔۔۔۔ “

ماجد صاحب اپنے مخصوص سرد انداز سے ساجد صاحب کو دیکھتے ہوئے بولے

” بھائی بن ماں کی بچی ہے ۔۔۔۔ اگر غلطی ہو جائے اس سے تو معاف کر دیجئے گا ۔۔۔۔۔ “
ساجد صاحب نے کبھی بھی بڑے بھائی کے ادب میں کمی نہیں کی تھی ابھی بھی نہایت ادب سے بولے

” تایا جان ۔۔۔۔۔۔ جب منہ میں زبان ہے تو ظاہر ہے اس کا استعمال بھی ہو گا ۔۔۔۔ اور مجھے فخر ہے اپنی بہن پر کہ اس ماحول میں بھی جہاں بیٹیوں کو ہر غلط صحیح بات پر صرف سر جھکاکر ثبات میں سر ہلانا سیکھایا جاتا ہے۔۔۔

وہاں میری بہن غلط بات پر انکار اور صحیح کے حق میں بولتی ہے ۔۔۔۔ اس پر اسے کیسے کوئی روک سکتا ہے ۔۔۔۔”
قائم ہال میں داخل ہوتے ہوئے تایا جی کا طنز سن چکا تھا جسے سن کر کافی مشکل سے اس نے اپنا غصہ قابو کیا اور سرد مہری سے جواب دیا اور دادا کے ساتھ صوفے پر براجمان ہو گیا

” آ گیا میرا پوتا ۔۔۔۔۔۔ تمہارا ہی انتظار تھا مجھے ۔۔۔۔ اور باذِل کہاں رہ گیا ۔۔۔۔۔ “

مظفر صاحب نے قائم کے کاندھے کو ہلکا سا تھپکا کر باذِل کے متلعق پوچھا تاکہ بات کا رخ بدلے وہ جانتے تھے ان کے بیٹے تو ان کے آگے نہ کبھی بولے ہیں اور نہ آگے بولیں گے لیکن اس کے برعکس ان کے دونوں پوتے خود ان پر ہی گئے تھے جو کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے
جبکہ تایا جان کو چپ رہ کر کڑوا گھونٹ پینا پڑا

اسی اثناء میں باذِل ہال میں داخل ہوا بلیک جینز پر وائیٹ شرٹ پہنے سیاہ بال جیل سے سیٹ ہوئے چہرے پر نہایت سنجیدگی ، ہلکی ہلکی داڑھی ، اس کی پروقار شخصیت کو چار چاند لگا رہی تھی

اپنے مخصوص مغرورانہ انداز میں چلتا ہوا وہ مظفر صاحب کے بائیں جانب آکر بیٹھا تو مظفر صاحب نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا

” بہت اچھے ۔۔۔۔۔۔ تم دونوں بھی آگئے ۔۔۔۔۔ میں شادی کی تاریخ رکھنے کی ہی بات شروع کرنے والا تھا ۔۔۔۔”
بیٹوں اور پوتوں کے درمیان ان کا سینہ خود بہ خود فخر سے چوڑا ہو جاتا تھا

” دادا جان شادی ۔۔۔۔۔ ؟؟”
قائم اچانک بولا

” کیوں تمہیں اعتراض ہے ۔۔۔۔۔”
باذِل کو قائم کا بولنا پسند نہیں آیا

” دادا جان ۔۔۔۔۔ میں نے ابھی معصومہ سے بات نہیں کی ۔۔۔۔۔۔”
قائم نے باذِل کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے پھر مظفر صاحب کو مخاطب کیا

” قائم تم اچھی طرح جانتے ہو ۔۔۔۔۔ ہمیں عورتوں کا معاملات میں مداخلت کرنا پسند نہیں ۔۔۔۔ جب ہم فیصلہ کر چکے ہیں تو پھر ۔۔۔۔۔”

” دادا جان زندگی ۔۔۔ میں نے یا آپ نے نہیں گزارنی ۔۔۔۔۔ بلکہ باذِل اور معصومہ نے گزارنی ہے ۔۔۔۔۔ جب باذِل کی رضامندی ہے اور اس کے کہے پر رشتہ ہو رہا ہے تو ۔۔۔۔۔ معصومہ سے کیوں نہیں پوچھنا چاہیے ۔۔۔۔۔”
مظفر صاحب کی سوچ وہ اچھی طرح جانتا تھا لیکن بولے بنا نہ رہ سکا

” قائم ، معصومہ سے میں بات کر لوں گا اسے اعتراض نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔ ابھی جو ابا جان کہہ رہے ہیں وہ سنو ۔۔۔۔۔۔”
ساجد صاحب بیٹے کو دیکھتے ہوئے بولے

” ” ٹھیک ہے لیکن شادی نہیں دادا جان ۔۔۔۔۔۔ ہاں نکاح بہتر رہے گا ابھی ۔۔۔۔ “
قائم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

” ہممم ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔”
کسی کے بھی بولنے سے پہلے باذِل نے جواب دیا

اسی طرح ایک ہفتے بعد نکاح کی تاریخ رکھی گئی
اب قائم کے لئے مشکل تھی کیونکہ اسے اتنا اندازہ تھا کہ معصومہ راضی نہیں ہوگی اور شادی تو ہر حال خاندان میں ہی ہونی تھی اور خاندان میں کوئی بھی اسے اپنی بہن کے لائق نہیں لگتا تھا ہاں باذِل اسے بہتر انتخاب لگا
یہ الگ بات ہے کہ دونوں میں اتنا قریبی رشتہ اور ہم عمر ہونے کے باوجود زیادہ دوست دوستی نہ تھی البتہ دشمنی بھی نہ تھی

///////////////////////////

پیر مظفر شیرازی صاحب جدی پُشتی مُرشد و پِیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی وہ اپنے خاندان کی ساکھ برقرار رکھے ہوئے تھے
سیاست میں بھی ان کا بڑا نام تھا
ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی
بڑے بیٹے ماجد شیرازی جن کا ایک ہی بیٹا باذِل شیرازی تھا دوسرے بیٹے ساجد شیرازی جن کے دو بچے قائم شیرازی ، معصومہ شیرازی تھے اور تیسرے بیٹے عابد شیرازی جن کی دو جڑواں بیٹیاں ہانیہ اور رانیہ تھیں

مظفر صاحب کی سب سے چھوٹی صاحبزادی نوشین اس خاندان کے اصولوں کی بھینٹ چڑھی ہوئی تھیں کسی خاندانی مسئلے کے تحت وہ شادی شدہ ہو کر بھی کئی سال سے باپ کی دہلیز پر زندگی گزار رہیں تھیں

مظفر شیرازی صاحب کو بیٹیوں سے کچھ خاص لگاؤ نہ تھا یا یوں کہنا بہتر ہوگا انہیں بیٹیاں پسند ہی نہ تھیں اس لیے نہ تو وہ اپنی بیٹی کے لاڈ اٹھا سکے اور نہ پوتیوں کے ۔۔۔۔۔
ہاں انہیں باذِل اور قائم سے انتہا کا پیار تھا آخر کو وہ ان کے دو پوتے ہی تو تھے ان کے وارث ۔۔۔۔۔ ان کے نام ، ان کی جائیداد کے وارث ۔۔۔۔۔

/////////////////////////

وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی جب اسے باذِل سیڑھیوں کی جانب آتا ہوا دیکھائی دیا وہ فون کان سے لگائے چلا آ رہا تھا معصومہ نے تو اسے دیکھتے ہی نظروں کا رخ بدل لیا جبکہ اب باذِل فون کان سے لگائے اس کا ہی جائزہ لینے لگا

پنک کلر کا سادہ سا مگر پیارا سوٹ پہنے دوپٹہ سر پر سلیقے سے اوڑھے گورا شفاف و شاداب چہرہ ، گلابی ہونٹ اور اس کی ناک میں جو موتی کی نوز پن تھی باذِل کو وہ بہت اچھی لگتی تھی یہ نوز پن اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی تھی
وہ مبہوت سے اسے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ وہ اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی
اس کے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ آئی اور غائب ہو گئی پھر وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا

” بھیا آپ نے بلایا ۔۔۔۔۔”
وہ دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی تو قائم بیڈ پر لیپ ٹاپ لیے بیٹھا کام میں مصروف تھا

” ہاں آؤ گڑیا ۔۔۔۔۔ بیٹھو ۔۔۔۔۔”
لیپ ٹاپ ایک طرف رکھتا وہ اب اپنے سامنے بیٹھی معصومہ کی طرف متوجہ تھا

” بیٹا ایک بات کرنی ہے آپ سے ۔۔۔۔۔ “
معصومہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو قائم نے بغیر تمہید باندھے باذِل سے نکاح کی بات کر دی

” بھیا مجھے باذِل سے شادی نہیں کرنی ۔۔۔۔۔۔!!۔۔۔”
معصومہ نے تو سنتے ہی صاف انکار کر دیا
صرف اس کا بھائی ہی تو تھا جس سے وہ بے دھڑک اپنے دل کی ہر بات کر لیتی تھی
اب وہ اپنے سامنے بیٹھے قائم کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس کی بات سن کر اس کے بھائی کا کیا ردعمل ہوگا

” ہممم اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن کیوں نہیں کرنی میری گڑیا کو باذِل سے شادی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟۔۔۔”
قائم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی اس کی چھوٹی سی بہن بڑی ہو گئی تھی کہ اس کی شادی کا وقت عنقریب تھا

” بھیا وہ بڑا ہے مجھ سے کافی ۔۔۔۔۔”
معصومہ نے کمزور سا جواز پیش کیا

” زیادہ تو نہیں بیٹا ۔۔۔۔ اور پھر میرے خیال سے شوہر کو میچوئیر ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ “

” بھیا ابھی مجھے 18 یئر کا ہونے میں دو مہینے ہیں ۔۔۔۔”
معصومہ کی معصومیت پر قائم کھل کر مسکرایا لیکن پھر سنجیدہ ہو گیا اور اس کو دیکھنے لگا

” معصومہ اصل بات بتاؤ ۔۔۔۔۔ کیوں نہیں چاہتی ۔۔۔۔”

” بھیا وہ ۔۔۔۔۔ وہ باذِل بھی دادا جان جیسا ہے ۔۔۔ تایا ابا جیسا ہے ۔۔۔۔۔
مجھے غلامی کی زندگی نہیں گزارنی جیسی شیرازی ہاوس کی ہر عورت گزار رہی ہے ۔۔۔۔ “
معصومہ کا انداز بچوں والا تھا اگر بچوں کو کوئی نا پسندیدہ چیز دی جا رہی ہو تو وہ نہ لینے کی ضد کرتے ہیں یا اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں قائم کو وہ ایسی ہی لگی

” معصومہ تم تو کہتی ہو کہ تم شیرازی ہاوس کے سخت اصولوں کو بدل دو گی نہ بھی بدل پائی لیکن کوشش کرو گی ۔۔۔۔۔ ہمت نہیں ہارو گی ۔۔۔۔۔۔ تو پھر یہ کیا سن رہا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔ معصومہ شیرازی بجائے حالات کا سامنا کرنے کے ۔۔۔۔۔ حالات سے فرار چاہ رہی ہے ۔۔۔۔۔”
قائم جانتا تھا معصومہ کو کس طرح راضی کرنا ہے وہ اسے اسی کے انداز میں سمجھا رہا تھا

معصومہ کو لگا تھا اس کی ہر بات ماننے والا ، اس پر جان نچھاور کرنے والا بھائی ، اس کی ہر خواہش پوری کرنے والا بھائی ، اس کی یہ بات بھی مانے گا لیکن قائم کی بات سے اسے انداز ہو گیا کہ وہ بھی اس شادی کے حق میں ہے

” بھیا اس سب میں باذِل سے شادی کرنے کا تعلق کہاں ہے ۔۔۔۔ اور اس طرح تو میں بھی اس کی غلامی میں آ جاؤں گی ۔۔۔۔۔ باذِل سے شادی کرنا مطلب اس کو سرٹیفکیٹ دے دینا کہ آقا غلام حاضر ہے جیسا چاہیں سلوک کریں ۔۔۔۔۔۔”
معصومہ تو جیسے یقین ہی نہ کر پائی کہ یہ اس کا بھائی کہہ رہا ہے

” پہلی بات کسی کی جرأت نہیں ہے کہ وہ قائم شیرازی کی بہن کے ساتھ ذرا برابر بھی اونچ نیچ کر سکے ۔۔۔۔۔۔ اور دوسری بات ۔۔۔۔۔۔”

وہ ایک پل کو رکا اور گہرا سانس لے کر اپنا غصہ قابو کیا اور پھر نرمی سے سمجھانے والے انداز میں بولنا شروع کیا

” باذِل تو کیا اگر کوئی بھی میری بہن کی آنکھ میں آنے والے آنسو کا سبب بنا تو ۔۔۔۔۔۔ قائم شیرازی اس کو وہ انجام دے گا کہ اس کی نسلیں بھی کانپیں گی۔۔۔۔۔”

معصومہ کی بات پر اس کا خاندانی غصہ در آیا وہ سرد لہجے میں بولا انداز نہایت سنجیدہ تھا عموما وہ ٹھنڈے مزاج کا انسان تھا لیکن بے حد سنجیدگی اس کی شخصیت کا حصہ تھی وہ معصومہ سے بے حد نرمی اور محبت سے بات کرتا تھا باقی دنیا کے لیے وہ ہمیشہ لیے دیے انداز میں رہتا تھا

لیکن غصہ کم ہی آتا تھا لیکن جب آتا تھا تو اپنے خاندانی انداز میں آتا تھا جبکہ قائم کی بات پر معصومہ جانے کیوں سہم گئی اس نے کب اپنے محبت لٹاتے بھائی کو اس طرح غصے میں دیکھا تھا

” بھیا ۔۔۔۔۔۔”

معصومہ کی پکار پر قائم نے اسے اب مسکرا کر دیکھا وہ اپنا غصہ قابو کر چکا تھا

” گڑیا آپ ہمت نہیں ہاریں گی اور اگر آپ کو سب بدلنا ہے تو باذِل کا ساتھ ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال سے دادا جان باذِل کو پِیر و مُرشد کا عہدہ سونپیں گے ۔۔۔۔۔۔ بلکہ وہ اسے تقریبا سونپ ہی چکے ہیں ۔۔۔۔۔ کیونکہ میرے ساتھ امیدیں نہیں جوڑ سکتے وہ ۔۔۔۔۔ آخر کو ان کے اصولوں کا سب سے بڑا مخالف میں ہی ہوں ۔۔۔۔۔۔”

معصومہ کے ہاتھ کو تھام کر وہ گویا ہوا جیسے اسے حوصلہ دے رہا ہو

” بھیا وہ مغرور و بے حس ہے ۔۔۔۔۔ ظالم اور جابر ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ بھی عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
معصومہ کو تو باذِل ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا وہ کیونکر اس کی بیوی کے درجے پر فائز ہو سکتی ہے

” یقینا وہ ایسا ہے ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اس نے اسی ماحول میں پرورش پائی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن عورت چاہے تو کیا نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔ اور جب عورت میری بہن جیسی ہو تو ۔۔۔۔دنیا میں وہ کیا ہے جس سے معصومہ ہار مان جائے ۔۔۔۔۔۔ “
وہ خود مطمئن تھا اور معصومہ کو بھی مطمئن کرنا چاہا

” جی ۔۔۔۔۔۔”
معصومہ کے مختصر جواب پر وہ پھر سے گویا ہوا

” معصومہ آزادی قربانی مانگتی ہے بچے ۔۔۔۔ اور میرے خیال سے باذِل کی بیوی بن کر تم شیرازی ہاوس میں موجود ہر عورت سے بہتر زندگی گزارو گی ۔۔۔ “
وہ مضبوط انداز میں بولا تو معصومہ نے ثبات میں سر ہلایا

“بھیا وہ ۔۔۔۔۔ میں نے بتایا تھا نا آپ کو مجھے آگے ایڈمیشن لینا ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے دادا جان سے بات کی ۔۔۔۔۔۔؟؟۔۔”
معصومہ نے بات بدل دی تھی وہ مزید اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتی تھی

” ایسا کرنا ۔۔۔۔۔۔کل ڈنر ٹائم جب دادا جان موجود ہوں گے تو میرے سامنے ان سے بات کرنا ۔۔۔۔۔۔ یقینا وہ انکار کریں گے لیکن میں بات سنبھال لوں گا ۔۔۔۔۔۔”
قائم نے اسے تسلی دی تھی اور قائم کی بات سن کر معصومہ کا بگڑا موڈ بہتر ہو گیا تھا

/////////////////////////

دادا جان کے اصولوں کے برخلاف وہ رات دیر تک جاگتی رہی تھی باذل سے نکاح کے بارے میں سوچتے اسے نیند آ ہی نہیں رہی تھی لائیٹ آف کر کے بھی وہ سوچوں میں گم رہی
باذِل سے شادی اس کو کسی عذاب سے کم نہیں لگ رہا تھا
دادا جان کے چہیتے پوتے سے اسے ہمیشہ سے ہی نفرت رہی تھی
ہمیشہ سے سب باذل اور قائم کے لاڈ اور نخرے اٹھاتے تھے چونکہ قائم اس کا بھائی تھا اور اس سے بے حد پیار کرتا تھا قائم کی ہی ضد پر معصومہ باذل اور قائم کے سکول میں پڑھی جبکہ باقی کزنز دوسرے سکول میں اور پھر اس طرح ہوتا کہ دادا جان کے لاڈلے ان کے پوتے اور قائم کی لاڈلی معصومہ بن گئی
خاندان کی لڑکیوں کو کالج جانے کی اجازت نہ تھی اسی بنا پر میٹرک کے بعد باقی لڑکیاں تو گھر بیٹھ کر پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے لگی جبکہ معصومہ کو قائم کی سپوٹ پر کالج جانے کی اجازت مل گئی
یہی وجہ رہی کہ خاندان کی باقی لڑکیوں کی بہ نسبت معصومہ میں اتنی ہمت اور حوصلہ آ گیا کہ وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت کرنے لگی
اگرچہ اس کا یہ حوصلہ و ہمت دادا جان سمیت باقی مردوں کو بھی بلکل پسند نہ تھی

باذل سے معصومہ کی بچپن سے ہی خاموش جنگ رہی تھی
باقی لڑکیوں کی طرح نہ تو وہ اس کے آگے پیچھے گھومتی تھی اور نہ اس کو خاطر میں لاتی تھی
باذِل اگر مغرور تھا تو معصومہ بھی اس سے دور رہتی یہاں تک کہ فرسٹ کزنز ہو کر ایک گھر میں رہ کر بھی بات تک نہ کرتے اگر کرتے بھی تو طنز ۔۔۔
اور پھر شادی وہ بھی باذل کے ساتھ ۔۔۔۔

” اوہ ذہے نصیب ہونے والی بیگم صاحبہ نے دیدار کا شرف بخشا ۔۔۔۔!!!۔۔۔۔ “

باذل نے دائیں کاندھے پر اوڑھی کالے رنگ کی چادر کو اب بائیں کاندھے پر پھیلایا تھا اور اپنے سامنے کھڑی اس نرم و نازک کلی کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا دیکھنے میں سترہ، اٹھارہ سال کی یہ لڑکی کس قدر نازک تھی رنگ سفید و گلابی ، آنکھیں بھورے رنگ کی ، جن پر گھنی پلکیں ، ہونٹ گلابی ، بھورے بال جو کافی لمبے اور خوبصورت تھے ، جن کا ڈھیلا سا جوڑا بنا کر چھوڑا گیا تھا اور اب بال مکمل کھل کر کمر پر تھے ، ہلکے رنگ کا شلوار قمیض پہنے وہ دوپٹے کو سر پر اوڑھے ہوئے تھی
آنکھیں کافی بوجھل تھیں یقینا وہ ابھی بیدار ہو کر نکلی تھی اپنے کمرے سے

اپنے سامنے باذل کو دیکھ کر اس کے حسین چہرے پر بیزاری واضح تھی وہ اس وقت باذل سے تو کیا کسی سے بھی مخاطب ہونا نہیں چاہتی تھی اسی لئے اسے مکمل نظر انداز کرکے آگے بڑھنے لگی جب باذل نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے روکا
” واٹس یوئر پرابلم ۔۔۔۔۔؟؟۔۔۔۔صبح صبح موڈ سپائیل کر دیا ۔۔۔۔ “

اپنی کلائی باذل کے ہاتھ سے ایک جھٹکے سے وہ آزاد کروا چکی تھی اور ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے وہ کاٹ دار لہجے میں گویا ہوئی
معصومہ نے باذل صاحب کی شان میں گستاخی کر تو دی تھی لیکن اس کے چہرے پر ڈر کا کوئی تاثر نہیں تھا جبکہ باذل کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی

” تمہارے زبان درازی اور بدتمیزیاں ویسے ہی خاندان بھر میں مشہور ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن مائی ڈیئر وائف ٹو بی ۔۔۔۔۔ خود کو سدھار لو ۔۔۔۔۔۔ تم باذل شیرازی کو اچھی طرح جانتی ہو ۔۔۔۔۔۔ اگر میں سدھارنے پر آیا تو کہیں ظالم نہ بن جاؤں ۔۔۔۔۔ اور تم مظلوم ۔۔۔۔۔۔ “

یہ لڑکی باذل کو صرف شکل و صورت سے ہی پسند تھی باقی زبان کی تیز لڑکیاں ویسے بھی کسی کو خاصی پسند نہیں ہوتیں

” تمہاری خوش فہمی ہے کہ میں تمہارے ہاتھ آؤں گی ۔۔۔۔۔۔”
معصومہ کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی جسے دیکھ کر باذل نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں یہ اس کا غصہ کنٹرول کرنے کا اپنا سا طریقہ تھا

” تو تمہارے کہنے کا مطلب ہے ۔۔۔۔۔۔ کہ تم مجھ سے شادی نہیں کرو گی ۔۔؟؟۔۔۔۔ ویسے تم سے کسی نے مرضی تو پوچھی نہیں ہو گی ؟؟۔۔۔۔۔۔۔ “

باذل کا انداز ایسا تھا کہ معصومہ کا پارا چڑھ گیا

“” مجھ سے شادی کر کے بہت پچھتاؤ گے تم ۔۔۔۔۔۔ میں اس محل نما قبرستان میں موجود ان زندہ لاشوں کی طرح اپنا سر نا حق نہیں جھکاؤں گی ۔۔۔۔۔۔ نہ میں غلامی کی زندگی گزاروں گی ۔۔۔۔۔ میں معصومہ ساجد شیرازی ہوں ۔۔۔۔۔۔ میں نے سر جھکانا سیکھا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ مرشد باذل شیرازی صاحب ۔۔۔۔۔”

وہ نڈر ہو کر بولی تھی اس کی آنکھوں میں کہیں بھی ڈر کا شبہ تک نہ تھا وہ ڈر جو ہر کسی کو باذل سے بات کرتے وقت ہوتا تھا ہر کوئی باذل کی ہر وقت ان لال سرخ انگارے برساتی آنکھوں سے خوفزدہ رہتا تھا سوائے اس لڑکی کے ۔۔
کوئی تو بات تھی اس لڑکی میں

” تم مجھے چیلنچ کر رہی ہو ۔۔۔۔۔ باذل شیرازی کو۔۔۔۔ سوچ لو معصومہ بی بی کہیں مہنگا ہی نہ پڑ جائے ۔۔۔۔۔۔ کہیں بھیک ہی نہ مانگنی پڑ جائے تمہیں مجھ سے رحم کی ۔۔۔۔ لیکن یاد رکھو معصومہ بی بی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باذل شیرازی رحم نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔ “
باذل ضبط کی انتہا پر تھا آخر اسے کہاں عادت تھی کہ کوئی نڈر ہو کر اس سے بات کرے

” بہت خوش فہمیاں ہیں تمہیں ۔۔۔۔ دراصل اس میں تمہارا قصور نہیں ہے ۔۔۔۔۔ تم نے عورت کو صرف سر جھکاتے ، غلامی کرتے ، ظلم سہتے ، سسکتے اور ماریں کھاتے دیکھا ہے۔۔۔۔۔ معصومہ مر جائے گی لیکن تمہارے آگے نہیں جھکے گی ۔۔۔۔۔۔ باذل صاحب ۔۔۔۔ “
وہ باذل کہ آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے مخاطب تھی

” بڑے بڑے بول مت بولو معصومہ بی بی ۔۔۔۔۔ کہیں تمہیں منہ کی نہ کھانی پڑے ۔۔۔۔۔۔ میرے سامنے دھڑلے سے یہ جو تم اتنی زبان چلا لیتی ہو نا ۔۔۔۔ وہ صرف اس لیے میں نے تمہیں اتنی ڈھیل دی ہوئی ہے کہ ابھی تم میری دسترس میں نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔تمہیں بس ایک بار قانونی اور شریعی اپنے نام لکھ لو پھر دیکھنا تم ۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں ۔۔۔۔۔”
باذل کو معصومہ کا اس طرح آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا بلکل پسند نہ تھا اس کے خیال میں
“ڈر نہیں تو تھوڑی شرم و حیا ہی کر لے ۔۔۔”

” تم جیسا دولت اور شہرت کے نشے میں چور انسان ایسی ہی باتیں کر سکتا ہے۔۔۔۔۔ اور جہاں تک میری بات ہے مرشد صاحب تو میں بھی معصومہ ہوں ۔۔۔۔۔لیٹس سی ۔۔۔کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ “

باذل کے پیچھے کھڑی ملازمہ جو کہ کافی دیر سے ان دونوں کے باتوں کے تیر سن رہی تھی معصومہ کی اتنی جرات دیکھ کر دنگ رہ گئیں لیکن یہ بھی جانتی تھی معصومہ صاحبہ تو ایسی ہی تھی ہار نہ ماننے والی ، ہر انجام سے بے خوف
اپنی بڑی سی چادر سنبھالتی آگے بڑھی اس سے پہلے دونوں میں مزید بات خراب ہوتی وہ سر جھکائے مؤدبانہ باذل سے مخاطب ہوئیں

” مرشد آپ نے بلایا ۔۔۔۔ حکم کریں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟”
باذل نے ایک سلگتی نگاہ پہلے معصومہ پر ڈالی پھر کافی وفادار اور پرانی ملازمہ پر ۔۔۔۔ اور پھر بغیر کچھ کہے وہاں سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا

////////////////////////