Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 13
چند لمحوں بعد باذل کرسی سے اٹھا اور قدم قدم چلتا وہیں ہال میں موجود ایک کمرے میں گھس گیا سب نے اس کے جانے کے بعد سکون کا سانس لیا
” ہر بار تم سب لوگ مجھے ہی کیوں پھنساتے ہو ۔۔؟؟ ہر بار مشکل کام مجھے کرنا پڑتا ہے ۔۔ میں اب ایک لفظ نہیں پتاؤں گی باس کو اس شیخ کے بارے میں۔۔اور تم سب جاؤ بھاڑ میں ۔۔”
رمشا سب کو ایک نظر دیکھتی غرائی تھی جبکہ اس کے جھنجھلائے ہوئے انداز پر باقی سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھری
” رمشا اتنا ڈرتی کیوں ہو ان سے ۔۔ دیکھو اب شیخ والی بات تم انہیں نہیں بتاؤ گی تب بھی انہیں کسی اور طرح پتا لگنے پر وہ تم پر غصہ کریں گے ۔۔ ہمیں تو انہوں نے زیادہ کچھ کہنا نہیں ۔۔ بس دو تین مکے مار دیں گے اپنے بھاری ہاتھوں کے اور تو کچھ نہیں ۔۔”
باسط اس کی روتی صورت دیکھ کر شرارت سے بولا تھا جبکہ آخری بات پر اس نے ساحر کو دیکھ کر مسکرا کر آنکھ ماری تھی
” یہ بات تو ٹھیک کہہ رہے ہو تم باسط ۔۔ مگر یار مجھے سمجھ نہیں آتا کہ زیادہ بری ڈانٹ ان لڑکیوں کو پڑتی ہے یا ہم لوگوں کو دو تین مکے ۔۔”
ساحر کچھ یاد کرتے ہوئے سر کو کھجا کر بولا
” ابے یار باس کی نہ تو مار اچھی اور نہ ڈانٹ ۔۔ “
عابد نے بھی گفتگو میں حصہ لیا تھا
” یار میرے خیال سے ان کی ڈانٹ زیادہ سخت ہوتی ہے ۔۔ دیکھتے نہیں ہو ان دونوں کی شکلیں کیسے رونے والی ہو جاتی ہیں۔۔”
باسط مسکراتا ہوا رمشا اور ویشال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا
” چلو ہمیں تو صرف ڈانٹ پڑتی ہے۔۔۔ لیکن اپنی شکل دیکھی ہے کبھی تم لوگوں نے جب باس سے پڑتی ہیں تم لوگوں کو ۔۔ منہ سوج جاتے ہیں تم لوگوں کے ۔۔ ہاہاہاہا”
ویشال سے اپنی توہین برداشت نہیں ہوئی تو رمشا کے ہاتھ پر تالی مارتی ہوئی باسط اور ساحر سے حساب برابر کرتی آخر میں قہقہہ لگا گئی جبکہ اس کے بات پر رمشا بھی زور سے ہنسی
” تم تو رہنے دو وِشی بیٹا ۔۔ کیونکہ رمشا تو یوزٹو ہو چکی ہے دانٹ سے اس لیے صرف رونے والی شکل بناتی ہے ۔۔ مگر تم تو باقاعدہ رونے بیٹھ جاتی ہو ۔۔ ہاہاہا”
باسط کی دل جلانے والی بات کے بعد قہقہہ لگانا ویشال کو ہرگز پسند نہیں آیا مگر اس سے پہلے وہ کچھ کہتی دروازہ کھلنے کی آہٹ پر فوراً اپنے لیپ ٹاپ پر جھک گئی جبکہ باقی بھی فوراً سنجیدہ چہرے بنا کر اپنے کام میں مصروف ہو گئے باذِل ہال میں داخل ہو کر ان سب پر ایک سرد نظر ڈالتا وہی چکر کاٹنے لگا
چند لمحوں بعد حماد ہال میں داخل ہوا تو باذِل کے چکر کاٹتے قدم رک گئے اور وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ حماد کو اپنی جانب آتا دیکھنے لگا
” باس وہ لڑکی سیل میں موجود ہے مگر اس نے ابھی اپنا منہ نہیں کھولا ۔۔ لگتا ہے سیدھی طرح نہیں بتائے گی ۔۔”
حماد ، باذِل کے سامنے پہنچ کر فوراً اسے بتانے لگا
” ہمم جاؤ رمشا اپنے طریقے سے پوچھو اس لڑکی سے سب ۔۔۔۔ “
حماد کی بات سن کر وہ رمشا کو بغیر دیکھے مخاطب ہوا
” اوکے باس ۔۔”
رمشا اپنی کرسی سے اٹھتی تابعداری سے سر ہلاتی حماد کے ساتھ ہال کے ساتھ موجود کمرے کی جانب بڑھی اور اسی طرح محض دس منٹوں میں رمشا اس لڑکی کو بازو سے پکڑ کر ہال میں داخل ہوئی اور ایک کرسی پر بیٹھا دیا اسے دیکھ کر باذِل کرسی سے اٹھا اور اس لڑکی کے قریب پہنچ کر دونوں ہاتھ پشت پر باندھے کھڑا ہو گیا اور اپنی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا
برہنہ لباس میں ملبوس وہ ایک شال میں خود کو چھپائے سوجے منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی یقیناً یہ شال رمشا نے اسے اوڑھی تھی
” پپپ پلیز مجھے جانے دو ۔۔ مم میں نے کیا بگاڑا ہے تم لوگوں کا ۔۔ مجھے کک کچھ نہیں معلوم ۔۔ کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر ۔۔ پلیز مجھے جانے دو۔۔ “
وہ باذِل کو پہچان چکی تھی لیکن اگر وہ انہیں سب بتا دیتی تو وہ لوگ اسے مار دیتے جن کے لیے اس نے کام کیا تھا اسی لیے باذل کے آگے ہاتھ جوڑتی روتے ہوئے فریاد کرنے لگی
” اگر اب تمہاری زبان سے وہ نا نکلا جو میں پوچھوں گا ۔۔ تو تم سچ تو کیا جھوٹ بولنے کے بھی قابل نہیں رہو گی ۔۔”
باذِل کی چنگھاڑتی آواز سے وہ جی جان سے کانپ گئی تھی اور زور زور سے رونے لگی
” مم معاف کر دیں پپ پلیز ۔۔ مم میں نے صرف پیسوں کے لیے کیا ہے میں اور کچھ نہیں جانتی ۔۔”
وہ روتے ہوئے بول رہی تھی کہ اس کے الفاظ بمشکل سننے والے کی سمجھ میں آ رہے تھے
” کیا کرنے کو بولا گیا تھا تم سے؟؟ ۔۔”
وہ ایک بار پھر دھاڑا تھا کہ اس لڑکی نے اپنی آنکھیں بند کرکے پھر سے رونا شروع کر دیا اسے روتا دیکھ کر رمشا اس کے قریب گئی اور آہستہ سے اسے کچھ کہا تو اس نے فوراً باذل کو دیکھا
” مم مجھے اس ہوٹل میں لے کر جایا گیا اور کہا کہ آپ نشے میں ہوں گے ۔۔ اور اپنے حواس میں نہیں ہوں گے تو آپ کو سہارا دینے کے بہانے ایک کمرے میں کر جاؤں اور وہاں آپ کے ساتھ ایک رات گگ گزارر۔۔”
وہ ڈرتے ڈرتے جلدی جلدی سب بتانے لگی جبکہ باذِل نے ضبط کرتے ہوئے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں مگر اس لڑکی کی بات پر وہ زیادہ دیر ضبط نہیں کر سکا اور پاس پڑی کرسی اٹھا کر زور سے دور پھینکی اس کے غصے پر باقی سب بھی اپنی اپنی جگہ کانپ گئے
” تصویری کس نے بنائی تھیں ۔؟؟ “
وہ مٹھیاں بھینچ کر پھر سے دھاڑا
” وہ مجھے نہیں پتہ ۔۔ ایک نمبر اور تصویری میرے موبائل پر سینڈ کی گئیں تھیں اور کہا گیا تھا کہ اس نمبر پر وہ بھیج دوں مجھے جیسا کہا گیا وہ کیا میں نے ۔۔ ان لوگوں نے تو مجھے پورے پپ پیسے بھی نہیں دیے ۔ کیونکہ پورا کام جو نہیں ہوا تھا ۔۔ آآ آپ پورے ہوش میں تھے اور وہاں سے چلے گئے تھے ۔۔”
وہ ڈرتے ڈرتے کہتی باذِل کو دیکھنے لگی جو ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا
” پپ پلیز مجھے اور کک کچھ نہیں پتہ ۔۔ پلیز مجھے چھوڑ دو ۔۔”
وہ پھر ہاتھ جوڑ کر رونے لگی تھی
” کس نے ۔۔؟؟ کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کو ۔۔؟؟”
باذِل ایک قدم اس کی جانب بڑھتا ہوا غرایا تھا
” میں نے اسے نہیں دیکھا ۔۔ بس موبائل پر بات کرتا تھا وہ ۔۔”
وہ اس کی بے تحاشہ سرخ آنکھوں میں دیکھتی ہوئی روتے ہوئے بولی
” باس یہ موبائل اس کا ۔۔”
حماد نے آگے بڑھ کر باذِل کو ایک موبائل پکڑایا جسے تھامتے ہی باذل نے وہ موبائل اس لڑکی کی جانب کیا
” نکال کر دو مجھے اس شخص کا نمبر !۔۔ “
سپاٹ انداز میں کہتا وہ موبائل اس لڑکی کو تھما چکا تھا باذِل کا حکم سنتے ہی اس لڑکی نے فوراً اس کی بات پر عمل کیا کیونکہ اسے سامنے کھڑے شخص سے بے حد خوف آ رہا تھا دل ہی دل میں خود کو کوس رہی تھی کہ آخر اس شخص سے پنگا کیوں لیا
” یی یہ ۔!!۔”
اس نے ایک نمبر نکال کر باذِل کے سامنے کیا تو باذل نے فوراً موبائل اس سے لے کر اس نمبر پر کال کی مگر اس کی توقع کے عین مطابق وہ نمبر بند تھا
” پیسے کیسے لیے اس سے؟؟”
اس کے اگلے سوال پر وہ بوکھلا گئی
” مم میرے اکاؤنٹ میں اس نن۔۔”
” اکاؤنٹ نمبر بتاؤ اپنا۔۔؟؟”
اس کی بات کاٹ کر باذِل پھر سے دھاڑا
” لیکن آپ لوگوں کو میرا اکاونٹ نمبر کیوں چاہیے ۔۔؟”
” اس عظیم کارنامے پر باقی کی رقم میں تمہارے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا ہوں لڑکی اس لیے چاہیے ۔۔ “
باذِل نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا اور اس کی بات پر اس لڑکی نے شرمندگی سے سر جھکا لیا جبکہ باسط اپنی ہنسی پر کنٹرول نہیں کر سکا اور منہ پھیر پر ہنسی دبانے لگا
” جتنا پوچھا جائے اتنا بولو ۔۔ بتاؤ جلدی ۔۔؟”
باسط کی یہ حرکت باذل کی نظروں سے کیسے مخفی رہ سکتی تھی ایک سخت نگاہ باسط پر ڈال کر وہ پھر سے دھاڑا تھا جبکہ اس لڑکی نے فوراً اسے اپنا اکاونٹ بتا دیا
” پتہ کرو کس نے اس لڑکی کے اکاؤنٹ میں پیسے ڈالے ہیں ۔۔”
وہ باسط کو کرخت انداز پر کہتا ساحر کی جانب متوجہ ہوا
” ساحر نکالو اس نمبر کی لاسٹ لوکیشن۔۔!!”
ایک طرف کھڑے ساحر کی جانب موبائل بڑھاتے ہوئے باذِل نے سپاٹ انداز میں حکم دیا
” اوکے باس ۔۔”
ساحر سر کو خم دیتا موبائل باذل سے لے کر اپنے کام میں لگ گیا جبکہ باذِل اپنی کرسی پر براجمان ہو گیا بہت سے لوگوں پر اس کا شک جا رہا تھا کیونکہ اسے اس گھٹیا حرکت کا مقصد سمجھ آ گیا تھا کہ کوئی معصومہ اور اس کے درمیان رنجش ڈالنا چاہتا تھا
پرسوچ انداز میں وہ اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر رہا تھا جبکہ ہال میں آہستہ آواز میں اس لڑکی کے رونے کی آوازیں گونج رہیں تھیں جو باذِل کو سخت ناگوار گزر رہیں تھیں اس نے رمشا کو اشارہ کیا تو رمشا اور اس لڑکی کے قریب گئی
” دیکھو بلکل خاموش ہو جاؤ ۔۔ جتنا رو گی اتنا ہی باس کو تم پر غصہ آئے گا ۔۔ “
اس لڑکی کو دھیمی آواز میں ڈراتی رمشا نے گھورا تو فوراً اس لڑکی نے اپنے آنسو صاف کر لیے
//////////////////////////////
” باس یہ نمبر اور اکاؤنٹ ایک ہی آدمی کا ہے ۔۔ “
باسط نے کچھ منٹوں میں باذِل کی کرسی کے قریب جا کر اسے بتایا اور سکرین اس کے سامنے کی جبکہ باذِل اس شخص کی ڈیٹیل دیکھ کر مسکرایا اور پھر پلب سکیڑے
” اس آدمی کو شیرازی ہاوس سے اٹھاؤ اور ایسی خاطر داری کرو اس کی ۔۔ کہ اپنے صاحب کے کسی گھٹیا کام کے لائق نہ رہے یہ ۔۔ کچھ دن بعد دوبارہ پھینک آنا اسے شیرازی ہاوس اور یہ کام حماد تم کرو گے ۔۔ “
اس کی بے حد سرد بھاری آواز ہال میں گونجی تھی حماد اس کی بات پر سر جھکا کر یس کرتا ہال سے نکل گیا جبکہ اب باذِل جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا
” باس اس لڑکی کا کیا کرنا ہے ۔۔؟؟”
باذِل کے قدم ہال کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھتے دیکھ کر رمشا بھی اس کے پیچھے چلنے لگی تو باذل رک گیا اور اس لڑکی پر ایک سخت نگاہ ڈالی
” کردار مرد کا بھی ہوتا ہے لڑکی ۔۔ مگر جسے عورت ہو کر اپنے کردار کی فکر نہ ہو وہ کسی دوسرے مرد سے نیچ اور گھٹیا حرکت کرتے ہوئے کیسے خوف کھا سکتی ہے !!۔۔ “
باذِل کی بھاری آواز میں حد درجے سرد مہری تھی وہ لڑکی اس کی بات سمجھتے ہوئے اب بلند آواز میں رونے لگی
” مجھے معاف کر دو ۔۔ آئیندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کروں گی چاہے کوئی کتنے بھی پیسے کیوں نہ دے بھیک مانگ لوں گی مگر کبھی یہ سب نہیں کروں گی ۔۔”
وہ کرسی سے اٹھ کر باذِل کے سامنے گٹنوں کے بل بیٹھتی ہوئی ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہنے لگی
” رمشا چھوڑ دو اس لڑکی کو ۔۔”
باذِل اس لڑکی کو نظر انداز کرتا رمشا کو کہہ کر وہاں سے چلا گیا جبکہ رمشا اس لڑکی کو ایک نظر دیکھتی اپنے ساتھ آنے کا کہتی آگے چلنے لگی
//////////////////////////
” سر ۔۔ باذِل سر آئیں ہیں!! ۔۔”
عابد صاحب ، ماجد صاحب کے کیبن میں آئے تھے جب ان کے ایک ورکر نے آ کر انہیں اطلاع دی جبکہ اس کی بات سن کر ماجد صاحب اور عابد صاحب کا رنگ فق سے اڑ گیا عابد صاحب کو تو باقاعدہ پسینے آنے لگے جبکہ ماجد صاحب نے اپنی پریشانی پر قابو پاتے ہوئے آہستہ سے کہا
” آ آنے دو ۔۔!!”
ابھی الفاظ ماجد صاحب کے منہ سے نکلے تھے جب باذِل کیبن کا دروازہ پاؤں کی ٹھوکر سے کھولتا اندر داخل ہوا جبکہ اس کے خطر ناک تیور دیکھ کر ماجد صاحب اور عابد صاحب کو کچھ غلط ہونے کا اندیشہ ہوا
” باذِل تم یہاں ۔۔؟؟”
ماجد صاحب باذِل کو دیکھتے ہوئے بولے جو کہ اب آرام سے وہاں پڑے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا اور اپنی بلیک جینز کی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگائی اور انگلیوں میں دبا کر لبوں سے لگا لی جبکہ اس کی سرخی مائل آنکھیں اپنے باپ اور چچا پر تھیں
” کیوں میں یہاں نہیں آ سکتا شیرازی صاحب۔؟؟۔”
وہ بولا تو اس کی آواز میں بے حد سرد تاثر تھا
” ہاں کیوں نہیں ۔۔؟؟ بلکل آ سکتے ہو ۔۔ “
عابد صاحب اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے جبراً مسکرا کر ظاہری خوش دلی سے بولے کیونکہ یہ باذل کا ریکارڈ تھا کہ جب بھی وہ یہاں آتا تھا ضرور کچھ برا کر کے جاتا تھا
” مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ میرا جب دل چاہے گا میں یہاں آ سکتا ہوں اور آپ لوگ کھڑے کیوں ہو گئے بیٹھیں نا اپنا ہی آفس سمجھیں۔۔”
سپاٹ انداز میں کہتا وہ ان کو بیٹھنے کا اشارہ کررہا تھا جب ساجد صاحب بھی کیبن میں داخل ہوئے مگر ماجد اور عابد صاحب کے اڑے ہوئے رنگ دیکھ کر بے ساختہ ان کی نظر باذِل پر پڑی
” آئیے آئیے سسر صاحب ۔۔ آپ کی ہی کمی تھی ۔۔”
ساجد صاحب کو دیکھ کر وہ انہیں اندر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا جو اسے دیکھ کر وہیں دروازے کے پاس کھڑے ہو گئے تھے
” آپ کا وہ چیلا کہاں ہے شیرازی صاحب؟؟ نظر نہیں آ رہا ! ۔۔”
وہ اب ماجد صاحب سے مخاطب تھا
” ک کیوں ۔۔؟؟ تم کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔ “
ماجد صاحب کو اب تو یقین ہو گیا تھا کہ باذِل کوئی مصیبت کھڑی کر کے جائے گا
” یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے ۔۔”
وہ سگریٹ کا دھواں خارج کرتا سرد انداز میں بولا
” یہیں کہیں ہو گا ۔۔”
ماجد صاحب نے عابد صاحب کو دیکھتے ہوئے سر سری انداز میں کہا
” اوہ ۔۔ آپ تو بے خبر ہیں ۔۔ ویسے افسوس کی بات ہے ۔۔ اتنے سالوں سے آپ کو وفادار ہے وہ اور آپ کو خبر ہی نہیں کہ وہ بیچارا کس مشکل میں ہے “
باذِل بظاہر افسردہ چہرہ بنانا کہنے لگا
” ک کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔ سیدھی بات کرو ۔۔”
ماجد صاحب اب غصے بولے تھے باذل کی مصنوعی افسردگی ایک آنکھ نہ بھائی تھی
” یہ بات چھوڑیں ۔۔ کچھ دن میں آ جائے گا بیچارہ ۔۔ ہم اب کام کی بات کرتے ہیں ۔۔ “
سگریٹ کو فرش پر پھینک کر اپنے بوٹ سے مسلتا وہ اب دوسری سگریٹ جیب سے نکال کر سلگانے لگا
” باذِل کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔؟”
اس بار عابد صاحب ہمت کرکے بولے تھے
” کسی کی بیٹی کا گھر خراب کرکے آپ اپنی بیٹی کا گھر بسا لیں گے تو کیا گارنٹی ہے کہ آپ کی بیٹی کا گھر بس جائے گا ۔۔ لیکن ایک منٹ ایک منٹ ۔۔ عابد صاحب آپ تو اپنی بیٹیوں سے زرا برابر بھی محبت نہیں کرتے ہمممم بوجھ اتارنا چاہتے ہیں ۔۔”
باذِل سپاٹ انداز میں عابد صاحب کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جبکہ اس کی بات سن کر عابد صاحب کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا
” کیا کہنا چاہتے ہو۔۔؟”
اس بار عابد صاحب کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ساجد صاحب نے پوچھا تھا
” آپ کے دونوں بھائی آپ کی بیٹی کا گھر خراب کرنا چاہتے ہیں ۔۔ ویسے آپ کو بھی کون سا کوئی فرق پڑے گا ۔۔ کہیں آپ بھی تو ان دونوں کے ساتھ تو نہیں ملے ہوئے ۔۔”
آخری بات اس نے جان بوجھ کر ان تینوں کا دل جلانے کے لیے کی تھی جبکہ اس کی بات سن کر ساجد صاحب نے افسوس سے اپنے دونوں بھائیوں کو دیکھا
” بہر حال میں آپ لوگوں کو ایک گڈ نیوز دینے آیا تھا ۔۔ جو میرے لیے گڈ ہے لیکن آپ لوگوں کے لیے بیڈ نیوز ہے ۔۔”
باذِل سگریٹ کے کش لیتا ہوا ایک نظر ان تینوں کو دیکھتا بولا مگر ان تینوں میں سے کسی میں کوئی بری خبر سننے کو تیار نہ تھا اسی لیے وہ تینوں ہی خاموش رہے تو اس بار باذِل کے لب مسکرائے
” آپ لوگوں پر پورے ایک مہینے کے لیے بین لگ گیا ہے ۔۔ آپ لوگ اپنے آرڈرز ایک مہینے تک کہیں ڈیلیور نہیں کر سکتے ۔۔”
اس نے مسکراتے ہوئے وہاں موجود تینوں نفوس کے سر پر بم پھوڑا تھا
” یی یہ کیا بکواس ہے باذل ۔۔”
ماجد صاحب ماتھے پر بل ڈالے دھاڑے جبکہ باذِل نے معصوم شکل بنا کر لاپرواہی سے کاندھے اچکائے
” باذِل ہمیں کروڑوں کا نقصان ہوگا ۔۔ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔۔”
وہ پھر سے دھاڑے تھے
” میرے سے پنگا لینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا آپ لوگوں کو ۔۔”
اب باذِل اٹھ کھڑا ہوا اور سگریٹ کو فرش پر پھینک کر مسل دیا
” باپ ہوں میں تمہارا باذل ۔۔ “
ماجد صاحب اس کے سامنے آنے پر پھر غرائے
” ہمم جانتا ہوں ۔۔ اور کچھ۔۔؟؟”
ان کی آنکھوں میں دیکھتا کہنا لگا
” باذِل ہمیں بہت نقصان ہوگا ۔۔ پلیز تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ۔۔”
اس کی بات نظر انداز کرتے اس بار وہ التجائیہ انداز میں بولے
” مرد بنیں شیرازی صاحب مرد ۔۔ عورتوں کی طرح سازشیں کیوں کرتے ہیں آپ ۔۔ مردوں کو یہ تھرڈ کلاس سازشیں زیب نہیں دیتی ۔۔ “
اس بار وہ ان کے ساتھ ساتھ ایک نظر عابد صاحب کو بھی دیکھتے کہنے لگا
” آئیندہ سامنے سے لڑیے گا ۔۔ پیچھے سے وار کریں گے تو اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھائیں گے ۔۔ “
بے حد سرد مہری سے کہتا وہ دروازے کی جانب بڑھا اور پھر کچھ یاد آنے پر رکا
” اور ہاں ایک اور بات ۔۔ آئیندہ کوئی بھی نشے کی حالت میں شیرازی ہاوس میں داخل نہیں ہو گا ۔۔ اور اسے صرف دھمکی مت سمجھیے گا آپ لوگ ۔۔ کیونکہ آپ تینوں مجھے بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں ۔۔”
اس کے انداز کے ساتھ اس کا لہجہ بھی سختی لیے ہوئے تھا وہ ایک نظر ان سب کو دیکھتا اپنی جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر پاؤں کی ٹھوکر سے دروازہ کھولتا باہر نکلا
” چلو باقی سب کو تو سیٹ کر دیا اب رہ گئیں بیگم صاحبہ ۔۔ ان کی بھی سخت سزا بنتی ہے ۔۔ بجائے سیدھی طرح سارا مسئلہ بتانے کے محترمہ نے اتنا زچ کیا مجھے ۔۔ اب تمہیں سیٹ کرتا ہوں معصومہ ڈارلنگ ۔۔”
گاڑی میں بیٹھ کر خود سے کہتا وہ مسکرایا تھا
////////////////////////////
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
