Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 14
باذِل کے جانے کے بعد وہ تینوں نفوس کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے جبکہ اتنے بڑے نقصان پر وہ تینوں ہی اپنی جگہ صدمے میں تھے
” میں نے تمہیں کہا تھا عابد ۔۔ باذِل کو زرا سی بھی بھنک لگی کہ یہ سب ہم لوگوں نے کیا ہے تو وہ بہت برا کرے گا ہمارے ساتھ ۔۔ ارے جانتا ہوں میں اسے بہت اچھی طرح اس سے واقف ہوں میں ۔۔ “
ماجد صاحب ، عابد صاحب کو دیکھتے ہوئے غرائے تھے جبکہ ساجد صاحب بھی کروڑوں کے نقصان کے آگے بیٹی کی ساتھ کی گئی سازش کو پس پشت ڈال چکے تھے پریشانی ان تینوں کے لالچی چہروں سے واضح تھی
” پتہ نہیں بھائی اسے کیسے پتہ لگا ہم نے تو بہت احتیاط سے کام کروایا تھا ۔۔ ضرور معصومہ نے بتایا ہو گا اور دیکھا نہیں صبح آپ نے وہ تو ایسے ظاہر کر رہی تھی جیسے اس نے باذِل کے ساتھ کسی لڑکی کی کوئی نازیبا تصویر دیکھی ہی نہیں ہے ۔۔”
عابد صاحب کی آنکھوں کے سامنے صبح ناشتے کی میز کا منظر سامنے آ رہا تھا جہاں معصومہ اور باذِل مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے
” ضرورت سے زیادہ تیز لڑکی ہے وہ ۔۔ دیکھا نہیں کیسا قابو کر لیا ہے باذِل جیسے بندے کو ۔۔”
ماجد صاحب تو تلملا گئے تھے اتنے بڑے نقصان پر
” بھائی یہ بات چھوڑیں آپ کسی طرح یہ بین ختم کروائیں ۔۔ ہم اتنا نقصان برداشت نہیں کر سکتے ۔۔”
ساجد صاحب ان کی فضول باتوں پر زچ ہوتے اپنی بات کہتے ہوئے کچھ امید سے بولے
” ارے اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔ پتہ نہیں ہے کیا باذِل کا ۔۔ اگر وہ کہہ کر گیا ہے تو وہ کر کے آیا تھا سب پہلے ہی۔۔ “
ماجد صاحب نا امیدی سے بولے تھے
” اولاد کا سکھ ہی نہیں ہے بھائی ہمیں تو ۔۔ ہمارے دونوں بیٹے ہی ہمارے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں ۔۔ وہ قائم ہے تو وہ سیدھے منہ بات نہیں کرتا میرے سے اور باذِل وہ تو آپ کو باپ تک نہیں کہتا ۔۔”
ساجد صاحب ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولے
” ارے وہ منحوس عورتیں خود تو مر ہو گئیں مگر اپنے بیٹوں کے دلوں میں اپنی محبت اور تڑپ ڈال گئیں ہیں ۔۔ باپ کو باپ تو سمجھتے ہی نہیں ہیں دونوں ۔۔”
ماجد صاحب کے لہجے میں حقارت واضح تھی
” کم از کم آپ دونوں کے بیٹے تو ہیں نا ۔۔ مجھے دیکھیں دو بیٹیوں کی صورت میں بوجھ ہے سر پر ۔۔ جانے کب یہ بوجھ اترے گا میرے سر سے ۔۔”
عابد صاحب دونوں بھائیوں کو دیکھتے ہوئے اپنا دکھ بیان کر رہے تھے
” اسی لیے اس تیز لڑکی سے شادی کے خلاف تھا میں باذل کی ۔۔ اتنی بڑی بات تھی وہ تصویر اور میسیج والی ہمیں لگا تھا وہ لڑے جھگڑے گی ۔۔ ظاہر ہے باذِل اپنے سامنے کسی کی کہاں سنتا ہے اور بہت بڑی لڑائی ہو گی دونوں کی مگر دیکھو تو زرا کچھ نہیں ہو سکا جیسا ہم نے سوچا تھا ۔۔ اور ناصر کو بھی پتہ نہیں کہاں غائب کروا دیا ہے اس نے ۔۔”
ماجد صاحب میز پر ہاتھ مارتے غرائے
” مجھے تو ابا جان کی سمجھ نہیں آ رہی ۔۔ پوتوں کی محبت میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ اپنے اصول بھی بھول گئے ۔۔ “
ساجد صاحب کو باپ کی خاموشی بلکل نہ بھا رہی تھی
” صحیح کہہ رہے ہو تم ابا جان تو اب سٹھیا گئے ہیں ۔۔ ان کو بس اپنے دونوں پوتوں سے مطلب ہے کہ ان کے بعد ان کے پوتے ان کا نام ، ان کا منصب سمبھالیں گے ۔۔ ہمیں تو وہ اس قابل ہی نہیں سمجھتے ۔۔”
ماجد صاحب سر جھٹک کر بولے اور اٹھ کھڑے ہوئے عابد اور ساجد صاحب نے بھی ان کی پیروی کی یقیناً اب ان تینوں کا یہاں بیٹھنا بے کار تھا اسی لیے اپنے اپنے راستے چل پڑے
///////////////////////////
آج وہ یونیورسٹی سے آئی تو اسے معلوم ہوا کہ ہانیہ کے رشتے والے آئیے ہیں تو دادی جان کے بلاوے پر سرسری سا سلام کرنے گئی تھی مگر ان کی باتیں سن کر اس کا مزاج ہی بگڑ گیا تھا انتہا کے خودپسند اور دکھاوا کرنے والے لوگ تھے اور اچھی بھلی ہانیہ کو دیکھ کر کبھی کوئی عجیب کمنٹ کر دینا اسے ایک آنکھ نہ بھایا تھا وہ فوراً ہانیہ کو لے کر کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ اس کی یہ حرکت کسی کو بھی پسند نہ آئی تھی اور بعد میں دادی جان نے اسے بولا کر اس کی اس حرکت پر سرزش بھی کی تھی مگر اسے کچھ خاص فرق نہیں پڑا تھا وہ سر جھٹک کر مزے سے پھوپھو کے کمرے کی جانب چلی گئی تھی
وہ شام میں پھوپھو کے پاس تھی جب اسے دادی جان کا پیغام ملا تھا کہ آج اسے کچھ میٹھا بنانا ہے اسی لیے وہ جب کچن میں داخل ہوئی تو وہاں پہلے سے ہی تائی ماں اور چچی جان کھانا بنانے میں مصروف تھیں اس کا دل کیا کہ وہ آج باذِل کے لیے کچھ بنائے اسے تائی ماں نے ہی بتایا کہ باذِل کو ویسے ہی میٹھا بہت پسند ہے اس لیے کچھ بھی بنا لوں
تبھی اس نے فروٹ ٹرائیفل بنانے کا سوچا مگر وہ اس کشمکش میں تھی کہ پتہ نہیں باذل آئے گا بھی گھر یا اس کی محنت ضائع ہو جائے گی اسی لیے اس نے میسیج کر کے پوچھا تھا مگر باذِل صاحب نے ریپلائے کرنا گوارا ہی نہیں کیا تھا
” ارے واہ آج تو معصومہ میڈم صحیح شیرازی ہاوس کی بہو لگ رہیں ہیں ۔۔ “
ہانیہ کچن میں داخل ہوئی تو معصومہ کو دل و جان سے کام کرتا دیکھ کر چہک کر بولی
اس کی بات پر معصومہ سمیت تائی اور چچی نے بھی مسکرا کر معصومہ کو دیکھا
” ہاں آج کوئی رسم تھی دادی جان کی میٹھا بنانے کی۔۔ وہی ہو رہی ہے ہانیہ صاحبہ ۔۔”
معصومہ نے ابرو اچکا کر مسکرا کر جواب دیا
” ارے ہمیں بناؤ مت تم معصومہ۔۔ اتنی محبت سے رسم نہیں ہوتی ۔۔ یہ باذِل بھائی کو خوش کرنے کے لیے تگ ودو ہو رہی ہے ۔۔”
ہانیہ شرارت سے آنکھ مارتی معصومہ کے قریب آکر بولی تو معصومہ نے اس کو گھورا جبکہ تائی اور چچی جان نے بمشکل اپنی ہنسی روکی
” ہانیہ تنگ مت کرو معصومہ کو ۔۔ اور میرے ساتھ چلوں کام ہے مجھے تم سے ۔۔”
چچی ہانیہ کو ڈپٹتی وہاں سے لے گئیں جبکہ اب کچن میں شیرین صاحبہ اور معصومہ رہ گئیں تھیں
” تائی ماں آپ سے ایک بات پوچھوں ؟؟”
معصومہ نے چولہے کے آگے کھڑیں شیرین صاحبہ کو دیکھتے ہوئے مخاطب کیا
” ہاں بیٹا ضرور پوچھو ۔۔”
شیرین صاحبہ نے مسکرا کر اسے اجازت دی
” باذِل نے کبھی آپ کو ماں نہیں کہا ۔۔ آپ کو برا لگتا ہوگا ۔۔؟؟”
اسے اچھا تو نہیں لگا تھا یہ بات پوچھنا مگر پوچھے بغیر رہ نہ سکی جبکہ اس کے سوال پر شیرین صاحبہ نے اسے دیکھا
” بیٹا ۔۔ کچھ بھی کہنے سے کیا ہوتا ہے ۔۔ وہ میری اتنی عزت کرتا ہے ۔۔ احترام کرتا ہے ۔۔ اتنا بہت ہے میرے لیے”
شیرین صاحبہ کے لہجے میں باذل کے لیے بے حد شفقت اور محبت تھی معصومہ ان کا مسکراتا چہرا دیکھتی رہ گئی کوئی اپنے سوتیلے بیٹے کا ذکر اتنی محبت سے کیسے کر سکتا ہے
” ایک اور بات پوچھوں تائی ماں ؟؟۔۔”
اس نے رخ ان کی سمت کرتے ہوئے پھر سے اجازت مانگی جبکہ شیرین صاحبہ نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائے
” دادا جان اور دادی جان نے ہمیشہ آپ کو بے اولادی کا طعنہ دیا ہے مگر کبھی تایا جان کے منہ سے ایسی کوئی بات نہیں سنی ایسا کیوں ہے ؟؟۔۔ کیونکہ میں جانتی ہوں وہ اتنے اچھے تو ہے نہیں جو وہ صبر کر لیں ۔۔”
دل میں آئی ایک بہت بڑی بات وہ ان سے پوچھ بیٹھی جسے سن کر شیرین صاحبہ کے مسکراتے لب سکڑ گئے اذیت کے کتنے رنگ ان کے چہرے پر معصومہ کو دکھے تھے اسے افسوس ہوا تھا اپنے ہی سوال پر
” بس خدا کی مرضی بیٹا ۔۔ وہ جس کو چاہے نوازے ۔۔ تمہارے تایا جان بھی یہی سوچ کہتے ہیں “
وہ فوراً سمبھلیں تھیں اور نگاہیں چرا کر بولی
” تائی ماں اگر آپ بتانا نہیں چاہتی تو بیشک مت بتائیں مگر تایا جان ایسی بات کہتے ہیں میں یہ بات بلکل نہیں مانتی ۔۔ کیا میں نہیں جانتی آپ نے کیسی اذیت بھری زندگی گزاری ہے بلکہ گزار رہیں ہیں ۔۔ اتنے ہی خدا سے ڈرنے والے ہوتے تایا جی تو آج آپ اس حال میں نہ ہوتی اور باذل کی امی کے ساتھ اتنے ظلم نہ کرتے وہ ۔۔ پلیز آپ میرے سامنے تو ان کی سائیڈ نہ لیں ۔۔”
معصومہ کو شیرین صاحبہ کا بات پر اس انداز میں پردہ ڈالنا بلکل بھی پسند نہ آیا تھا
” دو بار ۔۔!! دو بار امید ہوئی تھی مگر ۔۔”
شیرین صاحبہ کی آنکھیں بلکل ویران تھیں ان کا انداز میں صرف خالی پن تھا معصومہ کا دل تڑپ گیا
” مگر ۔۔؟ تائی ماں !!”
معصومہ کی آواز بھیگ گئی ان کی اذیت دیکھ کر
” اپنے ہاتھوں سے مار دیا میں نے اپنی بیٹیوں کو اس ظالم دنیا میں سانس لینے سے پہلے ۔۔”
خود کو رونے سے روکتے ہوئے وہ ناکام ہوئیں تھیں اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جبکہ معصومہ کچھ ایسی ہی حقیقت متوقع کر رہی تھی مگر پھر بھی ایک عورت ہوکر اتنا بڑا ظلم سن کر اپنے آنسوؤں پر بندھ نہ باندھ سکی اور ان کو گلے لگا کر رونے لگی
” تایا جی نے کہا تھا ؟؟”
ان کو کاندھوں سے تھام کر ان کے آنسو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتی پوچھنے لگی وہ جواب جانتی تھی مگر پھر بھی پوچھ بیٹھی
“یہ خود لے کر جاتے تھے مجھے الٹرا ساؤنڈ کے لیے جب رپورٹ میں بیٹی بتاتے تھے تو یہ وہیں ہسپتال میں ختم کر دیتے سے بیٹی کے بوجھ کو ۔۔ “
وہ بتاتے ہوئے دکھ سے ہنس پڑیں جبکہ معصومہ نے دکھ سے یہ بات سوچی کہ عورت کتنی ظالم ہوتی ہے خود پہ ہوا ظلم بتاتے ہوئے بھی ہنس پڑتی ہے مگر کوئی کیا جانے کہ اس ہنسی میں کتنی اذیت ہوتی ہے
” آپ تھوڑی ہمت تو کرتی تائی ماں ۔۔ شاید اس وقت آپ تھوڑی ہمت کرتی تو آج آپ کی بیٹیاں آپ کے برابر کھڑی ہوتیں ۔۔”
ان کے آنسو پونچھتے ہوئے وہ ان کو گلاس میں پانی انڈیل کر دیتی بولی
“اگر میں اپنے لیے لڑتی تو تمہاری ماما جیسا حال کر دینا تھا ان لوگوں نے میرا ۔۔ مگر مجھے پھر بھی اپنی پرواہ نہیں تھی بس اپنے بوڑھے غریب کی باپ کی عزت کی پرواہ تھی جس نے کہا تھا کہ اب میرا جنازہ شیرازی ہاوس سے نکلنا چاہیے ۔۔”
وہ اب سمبھل چکیں تھی اپنے آنسو صاف کرتیں بولیں اور پانی کا ایک گھونٹ بھرا
” ہمم ۔۔۔ تائی ماں چلیں زرا یہ ٹیسٹ کرتے ہیں کیسا بنا ہے کہیں ایسا نہ ہو دادی جان کہیں کہ میٹھے کی رسم بھی صحیح نہیں کی میں نے۔۔ پھر مجھے تو ان کی ڈانٹ سے زیارہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ مجھے عادت ہے ۔۔ ہاں آپ ان کی فرمابردار بہو ہیں بہو کے سامنے ساس کو ڈانٹ پڑی تو صحیح نہیں ہوگا۔۔”
معصومہ فوراً بات بدلتی ان کا ہاتھ تھام کر اٹھی اور انہیں گلے لگا کر شرارت سے بولی جبکہ اس کے انداز اور بات پر شیرین صاحبہ بھی مسکراتے ہوئے شفقت اور پیار سے اس کا ماتھا چوم گئیں
//////////////////////////
” یہ پانی کس کے لیے لے کر جا رہی ہو تم۔۔؟”
وہ بس کچن سے نکلنے ہی لگی تھی جب نوری کو جگ سے پانی انڈیلتے دیکھ کر وہ فوراً بولی
” وہ جی مرشد صاحب کے لیے ۔۔”
نوری اس کے اچانک سامنے آ کر پوچھنے پر بوکھلا گئی اور مؤدب انداز میں بولی
” ہمم وہ آ گئے ؟؟ کہاں پر ہیں ۔۔؟؟”
معصومہ کے اس طرح پوچھنے پر شیرین صاحبہ نے اسے دلچسپی سے دیکھا اور مسکرا دیں
” جی وہ یہیں ڈائننگ ہال میں ہیں ۔۔”
نوری کو بھی معصومہ کے بدلے رنگ دیکھ حیرت ہو رہی تھی کہاں تو باذل کے نام پر معصومہ بی بی کے ماتھے پر بل پڑ جاتے اور اب اتنی بےقراری
” یہ مجھے دو میں دے دیتی ہوں تم لوگ کھانا لگاؤ میز پر ۔۔”
معصومہ نے مستحکم انداز میں کہتے فوراً گلاس نوری کے ہاتھ سے لے لیا
” چھوٹی بی بی میں دے دیتی ہوں جی ۔۔ پچھلی دفعہ بھی مرشد صاحب بہت غصہ ہوئے تھے۔۔”
نوری بےچارگی سے التجا کرتے ہوئے بولی
” میں نے کہا نا تم کھانا لگاؤ ۔۔ اور تم بھی نوری کی مدد کرو ۔۔ “
معصومہ ، نوری کو آنکھیں دکھاتی آخر میں وہاں آتی ایک ملازمہ کو بھی حکم دیتی کچن سے نکل گئی پیچھے نوری نے پریشانی سے شیرین صاحبہ کو دیکھا تو وہ سر نفی میں ہلا کر مسکرا دیں
////////////////////////////////
وہ ڈائننگ ہال میں آئی تو باذل اپنی کرسی پر بیٹھا تھا جبکہ دادا جان اور دادی جان بھی ڈائننگ ہال میں داخل ہو رہے تھے معصومہ نے سلام کرنے کے بعد پانی سے بھرا گلاس باذل کی جانب بڑھایا مگر باذِل نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے گلاس تھام لیا اور لبوں سے لگا لیا
باذِل کا سرد انداز معصومہ کو بے حد برا لگا مگر لب بھینچتی خود کو کچھ بھی کہنے سے روک گئی پھر اسی طرح کھانے کے دوران بھی باذل اپنے دھیان میں کھاتا رہا ایک بار بھی اس نے معصومہ کو ایک نظر نہ دیکھا قائم نے خصوصاً معصومہ کے بنائی گئی سویٹ ڈش کی تعریف کی مگر جس کے تعریفی الفاظ سننے کی منتظر تھی وہ تو خاموشی سے بیٹھا تھا کس طرح ایک دن میں بدل گیا تھا اتنے سرد انداز پر معصومہ کا دل بے چین ہونے لگا
” دو دن بعد کا ولیمہ رکھا ہے ہم نے اپنے لاڈلے پوتے کا ۔۔ ایک بہت شاندار تقریب ہونی چاہئے دنیا کو پتہ چلنا چاہئے کہ مظفر شیرازی کے پوتے کا ولیمہ ہے ۔۔”
مظفر صاحب نے مسکراتے ہوئے سب کو اپنا فیصلہ سنایا جبکہ ان کی بات پر وہاں موجود کچھ لوگ خوش تھے تو کچھ کے چہرے پر ناگواریت در آئی جبکہ معصومہ نے ترچھی نگاہوں سے باذل کو دیکھا جو سپاٹ چہرہ لیے کھانا کھا رہا تھا
” دادا جان آپ بے فکر رہیں ۔۔ ایک بہت شاندار تقریب ہوگی ۔۔”
قائم نے مسکرا کر مظفر صاحب کی بات کا جواب دیا جبکہ وہ باقی سب کا سرد رویہ نوٹ کر چکا تھا
” بھئی اب تم بھی بتا دو اپنی پسند ۔۔ میں اپنے دونوں پوتوں کو خوش اور آباد دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔”
وہ اپنا رخ قائم کی جانب کرتے ہوئے مسکرا کر بولے جبکہ ان کی بات پر باذل نے قائم کو دیکھا
” دادا جان ابھی مجھے شادی نہیں کرنی ۔۔ میں پہلے بھی آپ کو کہہ چکا ہوں ۔۔ “
مظفر صاحب کی بات پر قائم کے مسکراتے لب سکڑے اور سنجیدہ انداز میں جواب دیا جبکہ اس بار باذِل کے چہرے پر دل جلانے والی مسکراہٹ آئی تھی جو قائم نے باخوبی دیکھ لی
” بھائی دادا جان بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔ اب آپ کو شادی کرنی ہی ہوگی۔۔”
معصومہ بھی دادا جان کی بات پر متفق ہوتی قائم کو دیکھ کر اٹل انداز میں بولی جبکہ باذِل نے قائم کو دیکھ کر ایک بار پھر شاطرانہ مسکراہٹ اچھالی جس پر قائم کا دل کیا سامنے پڑا پڑا جگ باذِل کے سر پر دے مارے
” لڑکی تم اپنی زبان بند رکھو ۔۔ اب کیا تم اس گھر کے فیصلوں میں بولو گی ۔۔”
ماجد صاحب کو معصومہ کی مداخلت ایک آنکھ نہ بھائی تھی فوراً ناگواری سے اسے دیکھتے ہتک آمیز انداز میں بولے
” تایا جی میری زندگی کے بہت اہم پہلو پر بات ہو رہی ہے اور میری زندگی کی اس اہم بات میں سب سے پہلا حق میری بہن کو بولنے کا ہے اس لیے کسی کو مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ۔۔”
قائم فوراً ماجد صاحب کو دیکھتا بے حد سرد مہری سے بولا اسے ماجد صاحب کی بات اور انداز سخت ناگوار گزرا تھا جبکہ معصومہ نے باذِل کی جانب دیکھا تھا جو بلکل سنجیدہ بیٹھا لاتعلق سا تھا
” ہممم بانو کوئی رشتہ دیکھو میرے پوتے کے لیے ۔۔”
معصومہ کا بولنا ناگوار تو مظفر صاحب کو بھی گزرا تھا مگر وہ بات بدل کر بولے جبکہ ان کے حکم پر دادی جان نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا
” وہ آج ہانیہ کے رشتے کے لیے کچھ لوگ آئے تھے ۔۔ آپ کہیں تو بات آگے چلائیں ۔۔”
دادی جان نے کچھ دھیمی آواز میں مظفر صاحب کو مخاطب کیا
” کیا ہو گیا ہے دادی جان وہ عجیب لوگ ۔۔؟؟ عجیب لالچی اور خودپسند لوگ تھے وہ تو ۔۔”
معصومہ نے فوراً سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے اپنے ماتھے پر بل ڈالے کہا
” تم اپنے بھائی کے متعلق بول سکتی ہو لڑکی مگر میری بیٹی کے رشتے کے معاملے میں بولنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے تمہیں ۔۔”
اس بار عابد صاحب حقارت سے بولے تھے ایک تو پہلے سے ہی انہیں اس پر غصہ تھا مزید وہ بیچ میں بول کر انہیں اور غصہ دلا گئی
” معصومہ بڑے بات کر رہے ہیں تم خاموش رہو۔۔”
ساجد صاحب نے کچھ اونچی آواز میں معصومہ سے غصے سے کہا
” خبردار اگر کسی نے میری بیوی سے اس لہجے میں بات کی ۔۔ “
باذِل کی بھاری آواز ڈائننگ ہال میں گونجی
” معصومہ اس گھر کی فرد ہے ۔۔ اس گھر کے ہر معاملے میں اسے اپنی رائے دینے کا پورا حق ہے ۔۔ کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے ۔۔ تم بولو کیا کہہ رہی تھی ۔۔”
باذِل ایک سرد نگاہ سب پر ڈالتا آخری بات نرمی سے معصومہ کی سمت دیکھ کر بولا جبکہ اس کے اس طرح بولنے پر معصومہ نے چونک کر اسے دیکھا
” و وہ عورتیں بلاوجہ نقص نکال رہیں تھیں کہ ہانیہ کی ہائیٹ چھوٹی ہے ۔۔ اور اسی طرح اور باتیں ۔۔”
معصومہ نے دادی جان کی گھوریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے باذِل کو دیکھ کر بتایا
” ہاں تو بس منع کر دیں دادی جان ان لوگوں کو ۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے ایسے لوگوں کو گھر دوبارہ بلانے کی ۔۔ ہانیہ جیتی جاگتی انسان ہے کوئی پروڈکٹ نہیں ہے جو کوئی بھی آئے اور ایسے نقص نکال کر ہمارے گھر کی بیٹی کی توہین کرے ۔۔آگے اللہ بہتر کریں گے ۔۔ صحیح کہا نا میں نے دادا جان؟؟ ۔۔”
باذِل دادی جان کو دیکھتا بے حد سنجیدگی سے گویا ہوا اور آخر میں مظفر صاحب سے تصدیق چاہی تو انہوں نے سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلا دیا تو آگے کسی کی ہمت نہ ہوئی اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی جبکہ عابد صاحب تو تلملا اٹھے مگر افسوس وہ کچھ نہیں کہہ سکتے تھے
////////////////////////////
باذِل ابھی کمرے میں نہیں آیا تھا وہ اس کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ آئے تو اس سے پوچھے کہ آخر مسئلہ کیا ہے نظر انداز کیوں کر رہا ہے مگر کافی دیر ہو گئی تھی جب وہ کمرے میں چکر لگاتی تھک گئی تو صوفے پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگی جب باذل دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا اور دوبارہ لاک کرتا اسے بغیر دیکھے واشروم میں گھس گیا معصومہ تو اس کے اتنے جلدی بدل جانے پر اچھل گئی دل میں عجیب وسوسے آ رہے تھے صبح تک تو بلکل ٹھیک تھا آخر ایسا کیا ہوا ہے جو باذِل کا رویہ ایسا ہو گیا تھا وہ پریشانی سے ایک بار پھر اٹھ کر کمرے میں چکر لگانے لگی جب باذِل فریش ہو کر باہر نکلا اور بیڈ کی جانب بڑھا
” باذِل ۔۔!!”
معصومہ اسے بیڈ پر بیٹھ کر موبائل یوز کرتے دیکھ اس کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی اور دھڑکتے دل سے اسے پکارا
” ہممم ۔۔؟؟”
باذِل نے موبائل پر نگاہیں جمائے ہنکار بھرا تو معصومہ کا دل کیا اس سے موبائل لے کر دیوار پر دے مارے
” باذِل ۔۔ “
اس نے ایک بار پھر اسے اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا
” ہاں بولو ۔۔ کچھ کہنا ہے ۔۔؟؟”
باذِل کی نگاہیں ابھی بھی موبائل پر تھیں اور انداز سرسری سا تھا
” آپ ناراض کیوں ہیں مجھ سے ۔۔؟؟”
معصومہ نے اس کے سنجیدہ چہرے پر نگاہیں جمائے پوچھا جبکہ اس کی بات پر باذِل نے موبائل سے نگاہیں اٹھائیں اور اس کو سر سے پاؤں تک گھورا اس کی اس حرکت پر وہ بوکھلا گئی
” تم جیسی اتنی سمجھدار ، سعادت مند ، فرمابردار اور خوش اخلاق بیوی سے آخر میں ناراض ہونے کی گستاخی کر سکتا ہوں ۔۔ ؟؟”
باذِل نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا جبکہ اس کا انداز تپا دینے والا تھا معصومہ کو لگا جیسے وہ اس پر طنز کر رہا ہے کہ ان میں سے ایک خوبی بھی اس میں موجود نہیں ہے
” کیا مطلب ہے اس بات کا ۔۔؟”
معصومہ نے اس کی بات پر لب آپس میں پیوست کیے اور خود کو کچھ بھی غلط کہنے سے روکا مبادہ ابھی وہ کچھ غلط بول کر باذِل کا طنز صحیح ثابت نہ کر دے
” مطلب تم خوب سمجھتی ہو معصومہ بی بی ۔۔”
باذِل نے سرد انداز میں کہا
” یہ آپ کس طرح بات کر رہے ہیں مجھ سے ۔۔؟؟ “
معصومہ کو اس کا انداز بلکل پسند نہ آیا وہ اس کے بلکل سامنے آتی ہوئی بولی
” اپنا کل کا انداز یاد ہے تمہیں معصومہ بی بی ۔۔ ؟ ۔۔”
باذِل اسے گھورتا ہوا لفظ چبا کر بولا
” کس حوالے سے بات کر رہے ہیں آپ ۔۔؟”
وہ ڈھیٹائی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتی نا سمجھی سے گویا ہوئی
” کل کتنا کچھ کہا تم نے معصومہ ۔۔ تم جانتی بھی ہو ہوش تھا تمہیں اس وقت ۔۔؟ غصے میں پاگل ہو گئی تھی تم ۔۔ مجھے ظالم اور گھٹیا اور پتہ نہیں کیا کیا کہا تم نے ۔۔ اور جانے کیا کیا سمجھتی ہو تم مجھے ۔۔ اپنے لیے گئے وعدے یاد ہیں تمہیں؟؟؟ نشہ نہیں کرنا ۔۔ کسی نا محرم لڑکی سے تعلقات نہیں رکھنے ۔۔ کیا یہ سب عادتیں دیکھی ہیں تم نے میرے میں جو اس طرح کے عہد لے رہی تھی مجھ سے ۔۔ بولو۔۔؟؟”
وہ لہجے میں سختی لیے اس کو غصے سے دیکھتا تھوڑی بلند آواز میں کہہ رہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر معصومہ کو شرمندگی نے آن گھیرا اور وہ نگاہوں کے ساتھ سر بھی جھکا گئی جبکہ باذل نے اپنی مسکراہٹ روکنے کے لیے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا
اب وہ اس سے ڈائریکٹ تو پوچھ نہیں سکتا تھا کیونکہ پھر اسے یہ بتانا پڑتا کہ اس نے موبائل میں چِپ لگا رکھی ہے جس وجہ سے اسے ساری بات معلوم ہوئی ہے اور اگر وہ حقیقت بتا دیتا کہ اسے اس چِپ کے ذریعے سب معلوم ہوا تو معصومہ بی بی سے کچھ بعید نہیں کہ کہیں یہ نہ سمجھ لے کہ چپ اس پر نظر رکھنے کی وجہ سے لگائی ہے اور موبائل اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے جبکہ اس نے تو اس کی حفاظت کی غرض سے ایسا کیا تھا
” اب خاموش کیوں کھڑی ہو کل تو بڑی زبان چل رہی تھی معصومہ بی بی آپ کی ۔۔ وجہ بتانا گوارا کریں گی آپ کہ اس قدر بدگمان کیوں ہو گئیں تھی آخر ۔۔”
چہرے کو سنجیدہ بناتا وہ اس کا شرمندہ چہرہ دیکھتا پھر سے پوچھنے لگا
” ایم سوری میں کل کے لیے شرمندہ ہوں ۔۔ “
باذِل کو دیکھتی وہ مدھم آواز میں گویا ہوئی جبکہ ایک پل کو اس کا دل کیا کہ وہ باذل کو اس میسیج اور تصویر کا بتا دے مگر پھر سر جھٹک دیا کہ جب بات ختم ہو چکی ہے تو بار بار ذکر کیا کرنا اور اسے بس خدا کے بعد اپنے شوہر پر یقین رکھنا چاہیے جس نے اسے ہمیشہ عزت دی یہاں تک کہ کل اس قدر بدتمیزی کے بعد بھی باذل نے اتنے تحمل کا مظاہرہ کیا
” کوئی تو وجہ ہوگی معصومہ ۔۔ ؟؟ کسی نے کچھ کہا تھا تمہیں میرے حوالے سے ۔۔؟ “
باذِل نے اس کہ کلائی تھام کر نرمی سے پوچھا
” نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس مجھے غصہ آ گیا تھا۔۔؟”
معصومہ سنجیدگی سے گویا ہوئی
” اگر کوئی بات ہے تو مجھے بتاؤ جاناں ۔۔ کسی نے کچھ کہا تم سے میرے بارے میں جو تم اتنی بدگمان تھیں اور رشتہ ختم کرنے کی بات کر رہی تھی ۔۔”
معصومہ کا ابھی بھی بات نہ بتانا اسے خاصا ناگوار گزرا تھا دل تو کیا دماغ ٹھکانے لگا دے جو ابھی بھی سیدھی بات نہیں بتا رہی تھی بمشکل اپنا غصہ دباتا وہ دھیمی آواز میں نرمی سے پوچھنے لگا
” باذِل کسی نے کچھ نہیں کہا اور ویسے بھی بات ختم ہو چکی ہے ۔۔ اور جب مجھے آپ پر بھروسہ ہے تو پھر کسی کے کچھ کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے مجھے آپ پر بھروسہ ہے اور آپ کی بات اہم ہے میرے لیے۔۔”
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی تھی جبکہ باذل نے ایک لمبا سانس خارج کیا
” تم نے حد سے زیادہ زبان چلائی تھی معصومہ ۔۔ شکر کرو میں تمہاری فضول باتیں بہت تحمل سے سنتا رہا ۔۔ “
باذل اسے ساتھ بیٹھاتے ہوئے سخت انداز میں کہہ رہا تھا
” میں معافی مانگ تو رہی ہوں ۔۔ ویسے مجھے نہیں معلوم تھا آپ اتنے اچھے ہیں ۔۔ اس دن زرا سی اونچی آواز پر آپ نے اتنی زور سے بازو دبایا تھا میرا ۔۔ لیکن کل میری اتنی باتوں پر بھی آپ نے مجھے کچھ نہیں کہا۔۔”
وہ اس کے برابر بیٹھتی ہوئی مسکرا کر گویا ہوئی جبکہ باذل نے اس کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھوں میں تھام لیے
“جاناں !! کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا ۔۔ ہر کسی میں کوئی نا کوئی خامی ہوتی ہے ۔۔ نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے کیونکہ اس میں خدا کی مرضی شامل ہوتی ہے اسی لیے دو اجنبی ایک دوسرے کے اتنے قریب آجاتے ہیں ۔۔ ہاں آپ کو اپنے ہمسفر کے لئے اچھی امید رکھنی چاہیے لیکن ۔۔ اتنی بھی زیادہ نہیں کہ اگلا بندہ امید پر پورا نہ اترا تو آپ کو تکلیف اٹھانی پڑے ۔۔ یہ خدا کے بنائے جوڑ ہوتے ہیں ۔۔ اور خدا توازن رکھتا ہے ۔۔ اکثر دیکھو تو شوہر غصے والا ہوتا ہے تو بیوی صبر والی ۔۔ اور اسی طرح اگر بیوی زبان کی تیز ہو تو شوہر ٹھنڈا مزاج ہوتا ہے ۔۔ اگر شوہر میں کوئی خامی ہو یا بیوی میں کوئی خامی ہو تو دونوں کو مل کر اسے دور کرنا چاہیے ۔۔ اگر ایک وقت میں شوہر غصے میں ہے تو بیوی اگر اس وقت ، وقتی طور پر خاموش رہے تو بہتر ہوتا ہے اور اسی طرح بیوی بھی انسان ہے اسے بھی برا لگتا ہے ۔۔ غصہ آتا ہے ۔۔ اور جب اسے غصہ آئے تو اس وقت شوہر بھی وقتی طور پر خاموش ہو جائے ۔۔ ایسے ہی تو توازن ہوتا ہے زندگی میں۔۔ کل تم غصے میں تھی اس لیے میرا ٹھنڈا رہنا ضروری تھا جاناں ۔۔”
اس کے دونوں ہاتھوں کو سہلاتے ہوئے وہ ٹھہر ٹھہر کر بولتا نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا جبکہ معصومہ چند پل اس کی باتوں اور شخصیت کے سحر میں جکڑ گئی تھی
” سمجھ رہی ہو میری بات ۔۔؟”
معصومہ کو ہنوز اپنی جانب تکتے پا کر باذل نے اس کے ہاتھوں پر زرا سا دباؤ ڈال کر اسے ہوش دلایا
” جج جی ۔۔!!”
وہ یک لفظی جواب دیتی سر جھکا گئی
” ہمم سمجھا تو دیا ۔۔ اب آتی ہے سزا کی باری ۔۔”
وہ ہنوز سنجیدگی سے گویا ہوا کہ معصومہ نے چونک کر اسے دیکھا
” میں نے معافی مانگی ہے باذل ۔۔ پھر سزا کیوں ؟۔۔”
وہ بےچارہ سا منہ بنا کر بولی کہ باذل نے مسکرا کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور پھر جدا بھی کر دیا
” جاناں یاد کرو میں نے کہا تھا کہ میں غلطی معاف نہیں کرتا ۔۔ اور تم نے بےحد زبان درازی کی ہے میرے ساتھ ۔۔ اس لیے سزا تو تمہیں ضرور ملے گی ۔۔”
وہ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا اور کئی پل کے لیے مبہوت سا اس کے شفاف چہرے کو دیکھتا رہا جبکہ معصومہ کا رنگ سرخ پڑا تھا بے ساختہ وہ رخ موڑ گئی
” کک کیسی سزا ؟؟ ۔۔”
نگاہیں جھکا کر ہچکچاتے ہوئے وہ بولی
” ہاں تو میری بیگم کے لیے یہ سزا ہے کہ اب سے آپ مجھے میرے نام سے نہیں بلائیں گی بلکہ رومینٹک انداز میں بلائیں گی ۔۔ جیسے میں تمہیں ‘جاناں’ کہتا ہوں ویسے اب تم مجھے ۔۔۔ جانو ۔۔۔ جان من ۔۔۔ ڈارلنگ ۔۔۔ سویٹ ہارٹ ۔۔ لائفی۔۔ ۔۔۔ کچھ بھی کہہ سکتی ہو یہ سزا چوبیس گھنٹے تم پر لاگو رہے گی ۔۔ سب کے سامنے بھی ۔۔”
وہ اس کا دوپٹہ اتارتا ایک طرف رکھ کر اس کی گردن کے تلوں کو اپنی انگلی کی پوروں سے سہلاتے ہوئے اسے تفصیل سے سزا سمجھا رہا تھا جبکہ معصومہ تو اس کی بات پر اچھل پڑی مگر باذل نے اسے پکڑ کر اپنے مزید قریب کرلیا
” باذِل آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔ ؟؟ سب کے سامنے ۔۔؟؟ آپ کو بلکل شرم نہیں ہے ۔۔۔۔ چھوڑیں مجھے ۔۔ کوئی سزا نہیں مانتی میں آپ کی ۔۔”
وہ باذل کی گرفت سے خود کو چھڑوانے کیکوشش کرتی غصے سے لال ہوتی تقریباً چیخ رہی تھی جبکہ باذِل اس کے نازک وجود پر اپنی گرفت مضبوط کرتا ہوا اسے محظوظ ہو کر دیکھ رہا تھا
” جاناں مزید کوئی بےوقوفی مت کرنا کیونکہ یہ سزا تو تمہیں بھگتنی پڑے گی ۔۔ نہیں تو سزا مزید سخت ہوجائے گی۔۔ “
وہ معصومہ کو بیڈ پر لٹا کر اس پر جھک گیا اور اس کی ساری فرار کی راہیں بند کرتا اپنی شرٹ اتار کر اسے سنجیدہ انداز میں کہہ رہا تھا
” بب باذل نہیں پلیز ۔۔ یہ کیسی سزا ہہہہہ ۔۔”
باذِل کی باتوں اور جسارتوں سے بے حال ہوتی وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی جب باذل نے اپنے لبوں سے اس کے لب قید کر لیے کئی پل اسی طرح سرکے تھے جب وہ اس کے لب آزاد کرتا اس کی گردن پر ان تلوں پر جھکا تھا جو اسے بار بار بہکا رہے تھے
” بب باذذل۔۔۔”
اپنی موندی آنکھیں وا کر کے وہ اب اپنی سانسیں ہموار کر رہی تھی جبکہ اس کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا بمشکل اس نے پھر باذل کو پکارا
” ششش ۔۔ ابھی کہا ہے نا نام نہیں لینا ۔۔ “
وہ اپنی ناک کو اس کی ناک سے مس کرتا اس کے لبوں کو پھر سے اپنے لبوں سے چھوتا تنبیہی انداز میں بولا
” کک کب ختم ہو گی یہ سزا ؟؟۔۔”
وہ جانتی تھی باذل سے بحث بےکار ہے تبھی بات مانتی ہوئی اس کے شانے پر اپنی پیشانی ٹکاتی بےحد دھیمی آواز میں گویا ہوئی جبکہ معصومہ کی بات اور انداز پر باذل نے مسکرا کر اسے دیکھا
” جب تک مُنا یا مُنی نہیں آ جاتے !!۔۔”
اس کا گال لبوں سے چھوتا وہ سرگوشی کی صورت میں گویا ہوا
” کک کیا مطلب ۔۔؟”
معصومہ نے نا سمجھی سے اس کی خمار آلود آنکھوں میں دیکھا
” مطلب جب ہمارا بےبی ہوگا تب اگر لڑکی ہوئی تو تم کہنا مُنی کے بابا اور جب لڑکا ہوا تو کہنا مُنے کے بابا ۔۔”
وہ اس کے نرم و نازک ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی ہاتھ کی انگلیاں پھنساتا سمجھا رہا تھا جبکہ اس کی بے باکیوں پر وہ بے حال ہو گئی تھی مزید کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ لیمپ کی روشنی گل کر چکا تھا
////////////////////////////////
دیر کے لیے بہت بہت معذرت ۔۔ ایک ایمرجنسی ہو گئی تھی کل سے پریشان تھی اس لیے قسط نہیں لکھ سکی ۔۔ ایک بار پھر بہت بہت معذرت
