Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 26
ایک ہفتہ ہونے والا تھا مگر باذل گھر نہیں آیا تھا جانے کیوں لاکھ نہ چاہنے کے باوجود اس کا دل بار بار باذل کے جلد آنے کی دعائیں مانگ رہا تھا اور اس کے لب آمین کہہ رہے تھے بلاشبہ وہ خود میں یہ نئی تبدیلی شدت سے محسوس کر رہی تھی ماں بننے کا احساس ہی اس قدر خوبصورت تھا کہ وہ اکیلے بیٹھے ہوئے بھی مسکرا دیتی تھی
مگر اس ایک ہفتے میں معصومہ نے خود کو محدود کر لیا تھا وہ اب یونیورسٹی سے آتی تو زیادہ وقت اپنے کمرے میں گزارنے لگی تھی گھر میں سب کے پوچھنے پر وہ پڑھائی کا بہانہ بنا دیتی تھی ہاں مگر ایک بات شدت سے اسے پریشان کر رہی تھی وہ ثمرہ کی گمشدگی تھی اس نے کتنا پتہ لگانے کی کوشش کی مگر کسی کو بھی معلوم نہ ہوا کہ آخر ثمرہ راتوں رات کہاں غائب ہو گئی ہے بہرحال معصومہ جانتی تھی اس میں باذل شیرازی کا ہاتھ ہے
مگر وہ باذل کا انتظار کرنے کے سوا اور کچھ نہ کر سکتی تھی اس دوران اسے باذل کی کال اور میسج آتے رہتے تھے مگر وہ کوئی جواب نہ دیتی تھی رات کا کھانا بھی اس نے اپنے کمرے میں کھایا تھا پھر تھوڑا سا پڑھ کر وہ کتابیں میز پر رکھ کر بیڈ پر آ لیٹی
کھڑی کی سوئیاں رات کے گیارہ بجا رہیں تھیں جب دروازہ کھلنے کی آہٹ سے وہ آنکھیں کھول کر دروازے کی جانب متوجہ ہوئی اور دروازہ بند کرتے باذل کو تکنے لگی
باذل سیاہ شلوار قمیض پہنے کہنیوں تک آستینیں موڑے ہوئے تھا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا وہ لیٹی ہوئی معصومہ کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر اسے بغور دیکھنے لگا وہ بلنکٹ اوڑھے ہوئے نیند سے بوجھل ہوئی آنکھوں سے اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی باذل نے بے ساختہ جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے
” میری جدائی نے تمہارا کیا حال کر دیا جاناں ۔۔ !!”
معصومہ کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ لبوں پر آئی بے ساختہ مسکراہٹ کو دباتا ہوا بول رہا تھا جبکہ معصومہ اس کی آواز سن کر جیسے ہوش میں آئی تھی اور اپنے اوپر جھکے ہوئے باذل کو دیکھ کر بے اختیار نگاہیں جھکا گئی
” لگتا ہے ہر وقت تم نے مجھے ہی اپنے پاس تصور کیا ہے ۔۔ اسی لیے ابھی بھی تمہیں خواب ہی لگ رہا ہے نا ۔۔ ؟”
وہ اس کے دونوں گالوں سے اپنے لب مس کرتا دھیمی آواز میں سرگوشی کر رہا تھا جبکہ معصومہ تو اس کی قربت اور نرم لمس پر پگھل رہی تھی
” پپ پانی لاؤں آپ کے لیے ۔۔ ؟”
نگاہیں جھکا کر وہ بمشکل بول پائی تھی جبکہ ان دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے چہرے پر پڑ رہیں تھیں باذل کو اس کے کپکپاتے لب بہکا رہے تھے
” نہیں ۔۔ “
معصومہ کے سوال پر اس نے یک لفظی جواب دیا اور پھر معصومہ کے ناک کو اپنے ناک سے مس کر رہا تھا
” کھک کھانا ۔۔؟؟”
وہ باذل کے سینے پر دونوں ہاتھ جمائے اس بار چہرہ موڑ کر پوچھ رہی تھی جبکہ اس کے جھجکنے پر باذل نے اس کی جھکی ہوئی آنکھوں میں اپنی مسکراتی آنکھوں سے دیکھا
” محض تمہاری قربت چاہتا ہوں میں ۔۔ !!”
باذل کا لہجہ شدت لیے ہوئے تھا جبکہ معصومہ اس کا بوجھل انداز دیکھ کر اپنے آنکھوں میں آئی نمی نہ چھپا سکی
” کیا ہوا جاناں ۔۔؟ ابھی تک ناراض ہو ۔۔ ؟”
باذل اب اس کی گردن پر جھکا تھا معصومہ بے اختیار سسکی تھی باذل اس کا سسکنا دیکھ کر پیچھے ہٹا اور اس کے برابر لیٹ گیا جبکہ معصومہ نے کروٹ دوسری طرف لے کر باذل سے رخ موڑ لیا تھا
” جاناں ۔۔۔ “
باذل کی محبت سے چور پکار کمرے میں گونجی تھی جبکہ معصومہ ہنوز رخ موڑے لیٹی رہی
” معصومہ ۔۔ “
اس مرتبہ باذل کی آواز میں سختی تھی مگر معصومہ نے کوئی ردعمل نہ دیا اور سختی سے آنکھیں میچے لیٹی رہی
” کیا مسئلہ ہے معصومہ تمہارے ساتھ ۔۔ ؟؟”
اس بار باذل کے لہجہ کے ساتھ اس کا انداز بھی جارحانہ تھا اس نے معصومہ کے بازو کو اپنے شکنجے میں لے کر اس کا رخ اپنی سمت کیا
” یہی سوال اگر میں آپ سے کروں تو کیا جواب دیں گے آپ ؟؟”
معصومہ اس بار اس کی آنکھوں میں دیکھتی درشتی سے بولی تھی
” سیدھی طرح بات کرو اور اپنا لہجہ درست کرو ۔۔ مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرو معصومہ ۔۔ تم شاید مجھ سے ابھی واقف نہیں ہو ۔۔ میں اگر تمہیں اتنی ڈھیل دے رہا ہوں نا تو محض اس لیے کہ بیوی ہو تم میری ۔۔ “
باذل اس کی کلائی اپنے سخت شکنجے میں لیے دھاڑ رہا تھا وہ بارہا پیار سے معصومہ کو کئی بار باور کروا چکا تھا کہ تمیز سے بات کیا کرے مگر معصومہ ہمیشہ اس کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی تھی جبکہ معصومہ اس کی سرخ ہوتی آنکھوں میں آگ کے شولے دیکھتی رہ گئی
” اب بولو کیا کہہ رہی تھی ۔۔؟ “
معصومہ کو ہنوز خاموش پا کر وہ پھر کرخت لہجے میں بولا تھا
” ثمرہ کہاں ہے ۔۔؟؟ کدھر غائب کر دیا ہے آپ نے اسے ۔۔ ؟؟”
معصومہ نڈر ہو کر بولی تھی جبکہ باذل نے ایک گہرا سانس خارج کیا
” کوئی تعلق نہیں ہے تمہارا اس بات سے ۔۔ دور رہو اس معاملے سے ۔۔ “
باذل حتمی انداز میں بولا تھا جبکہ معصومہ نے افسوس سے اسے دیکھا
” میرا آپ سے تعلق ہے مرشد صاحب ۔۔ چلیں باقی حساب تو پرانے ہو گئے ۔۔ مگر آپ ایک ہفتے سے کہاں تھے اس بات کا جواب مجھے چاہیے ۔۔ “
وہ اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑے بے حد درشتگی سے بولی تھی
” میں تمہارا جوابدہ نہیں ہوں ۔۔ اور تمہیں میرے معاملات میں دلچسپی رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔۔ “
باذل ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا اور خاصی بلند آواز میں غرایا تھا
” مجھے ہی حق ہے مرشد صاحب ۔۔ بیوی ہوں میں آپ کی ۔۔”
اس مرتبہ معصومہ بھی اٹھ بیٹھی تھی اور دبی دبی آواز میں غرائی تھی
” حد میں رہو معصومہ اپنی ۔۔ “
اس بار باذل معصومہ کے انداز پر طیش میں آیا تھا اور اس کو بازوؤں سے جھنجوڑتا ہوا بولا جبکہ اس کا لہجہ تنبیہ لیے ہوئے تھا
” ٹھیک ہے پھر آپ بھی اپنی حد میں رہیں ۔۔ “
درد کو برداشت کرتی وہ اسی کےانداز میں بولی تھی اور اپنے بازوؤں کو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی تگ دو کر رہی تھی
” میں نے کئی بار تمہیں پیار سے سمجھایا ہے معصومہ بی بی کہ تمیز سے بات کیا کرو ۔۔ مگر لگتا ہے تمہاری سمجھ میں میری باتیں آتی ہی نہیں ہیں ۔۔ اب زبان سے ایک لفظ نہیں نکالنا ورنہ بہت برا کروں گا تمہارے ساتھ ۔۔ اور تم جانتی ہو میں جو کہتا ہوں وہ کر گزرتا ہوں اور یقین جانو اس کے بعد مجھے پچھتاوا بھی نہیں ہو گا ۔۔”
باذل اس کے شانے دونوں ہاتھوں سے سختی سے جکڑے دھاڑ رہا تھا جبکہ معصومہ کے وجود میں باذل کے جارحانہ انداز پر درد لہریں اٹھنے لگیں تھی آنسو آنکھوں سے بہے جا رہے تھے
” آج اپنی اوقات دیکھا دی ننن۔۔ “
ابھی الفاظ معصومہ کی زبان پر ہی تھے کہ باذل نے اس کی گردن کی پشت سے اسے جکڑ لیا تھا اور دباؤ ڈالا کہ معصومہ درد کی شدت سے کراہ اٹھی
” خبردار جو اب ایک لفظ بھی بولی تم ۔۔ !!”
تنبیہی انداز میں کہتا وہ اسے اپنی سخت گرفت سے نکال چکا تھا اور بیڈ سے اٹھ کر کمرے میں چکر کاٹنے لگا جبکہ معصومہ ابلی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھتی کھانسنے لگی
” ایک منٹ سے پہلے مجھے سوتی ہوئی نظر آؤ ۔۔ اور خبردار اگر آئندہ فضول سوال کیے مجھ سے تو اس سے بھی زیادہ بری طرح پیش آؤں گا ۔۔ فوراً عمل کرو میری بات پر ۔۔ گو ٹو سلیپ ہری اپ۔۔ !!”
کمرے کے وسط میں رک کر وہ نہایت سخت انداز میں بولا تھا جبکہ اس کی آنکھیں بے تحاشہ سرخ ہو گئیں تھیں معصومہ اس بار واقعی سہم گئی تھی مزید باذل کی وحشت زدہ آنکھیں اسے خوفزدہ کر رہیں تھیں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ بلینکٹ سر سے پاؤں تک اپنے لرزتے وجود پر اوڑھ کر لیٹ گئی مگر باذل اب صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا باآسانی اس کی دبی دبی سسکیاں سن رہا تھا چہرے پر اس کے چٹانوں جیسی سختی تھی سگریٹ کی شدید طلب ہونے پر وہ کمرے سے ملحقہ سٹڈی روم میں چلا گیا پھر جب کافی دیر بعد کمرے میں داخل ہوا تو آنکھیں بے تحاشہ سرخ تھیں جو کہ اس کے بہت زیادہ سگریٹ نوشی کرنے کے باعث ہوئیں تھی الماری سے اپنا ایک ٹراؤزر نکال کر وہ واشروم میں گھس گیا تھوڑی دیر بعد جب وہ دوبارہ کمرے میں داخل ہوا تو شرٹ سے بے نیاز فقط براؤن ٹرازر پہنے ہوئے تھا گیلے بالوں کو تولیے سے خشک کرتا وہ اپنے سیل فون کو ایک نظر دیکھتا بیڈ کی جانب بڑھا
بیڈ پر معصومہ کا نازک وجود اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہا تھا وہ بیڈ کی دوسری جانب لیٹ کر بے اختیار ہی معصومہ کے وجود کو اپنی باہوں میں بھر چکا تھا معصومہ جوکہ ابھی کچی نیند میں تھی باذل کا اپنے سینے میں بھینچنے سے بیدار ہو گئی مگر اس بار اس نے کوئی مزاحمت نہ کی تھی یہاں تک کہ اسے باذل کے ٹھنڈے کشادہ سینے سے آتی مہک اپنے حواسوں پر سوار ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی باذل جیسے اسے سینے سے لگائے خود کو سکون پہنچا رہا تھا جانے دونوں کب نیند کی وادیوں میں اترے تھے پھر صبح معصومہ کی آنکھ کھلی تو خود کو ابھی بھی باذل کے حصار میں پایا آنکھیں باذل کے چہرے پر جمائے وہ اسے کئی پل دیکھتی رہی پھر تھوڑا اٹھ کر باذل کے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور پھر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر وہ اس کے ہاتھ پر بوسہ دے کر اپنے لبوں سے لگا کر لیٹی پھر سے باذل کے چہرے کو دیکھنے لگی پھر نرمی سے باذل کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی جبکہ باذل اپنی پیشانی پر معصومہ کے لبوں کا لمس محسوس کر کے ہی بیدار ہو چکا تھا مگر ظاہر نہ کیا باذل کو اس کا لمس سکون پہنچا رہا تھا پھر جب وہ باذل کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے دوبارہ سو گئی تو باذل نے اپنی آنکھیں کھولی اور معصومہ کے بالوں پر اپنے لب رکھتا مزید اس کے وجود کو خود میں بھینچتا خود بھی اپنی آنکھیں موند گیا
/////////////////////////
باسط اب کبھی کبھی تھوڑی دیر کے لیے شیرازی ہاؤس آتا رہتا تھا اور اس تھوڑی سی دیر میں وہاں ہر کوئی اس کی آؤ بھگت میں لگا رہتا تھا دادا جان ، دادی جان تو جیسے اسے دیکھ کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے تھے ان سب کے قریب رہ کر اسے وہ سب لوگ بہت پسند آنے لگے تھے قائم کی بیوی سے بھی اس کی اچھی سلام دعا ہوتی رہتی تھی مگر معصومہ اسے کم ہی نظر آتی تھی اور اگر کبھی نظر آتی بھی تو باسط کو دیکھ کر وہ محض سلام کا جواب دے کر اپنے کمرے میں چلی جاتی تھی باسط کو یہ بات شدت سے محسوس ہوتی تھی مگر وہ باذل کی اجازت کے بغیر معصومہ کو کچھ بھی بتا نہیں سکتا تھا اس لیے خاموش رہنے کو مصلحت جانا آج بھی وہ دادا جان سے مل کر ان کے کمرے سے نکلا ہی تھا کہ ہانیہ اسے سامنے سے آتی دیکھائی دی سادہ سے کپڑوں میں ملبوس وہ سر پر اچھے سے دوپٹہ اوڑھے ہوئی تھی باسط کو دیکھتے ہی اس نے اپنا رخ بدلا تھا اور زینے چڑھنے لگی تھی جبکہ باسط کے ساکن لب اس کی اس حرکت پر اپنے آپ مسکرائے
” سنو ۔۔ !”
باسط نے اسے پیچھے سے مدھم آواز میں پکارا تھا جبکہ اس کی دھیمی پکار ہانیہ باخوبی سن چکی تھی اور اس کے خودبخود قدم رکے تھے مگر وہ مڑی نہ تھی
” کیا ہم بات کر سکتے ہیں ۔۔ ؟؟”
باسط اس سے تھوڑا فاصلہ رکھتے ہوئے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا اور نگاہیں جھکا کر بولا
” کون سی بات ۔۔؟؟”
ہانیہ ناسمجھی سے آس پاس دیکھتی پوچھ رہی تھی
” ڈر کس سے رہیں ہیں آپ ۔۔ ؟؟”
باسط اس کو حراساں دیکھ کر پیشانی پر بل ڈالے پوچھنے لگا
” کک کسی سے نہیں ۔۔ “
ہانیہ اس بار باسط کو دیکھ کر بولی تھی جبکہ اسے تو واقعی ڈر لگ رہا تھا کہ دادا جان اسے باسط کے ساتھ نہ دیکھ لیں اگر ایسا ہوا تو اس کا برا حشر کر دیں گے
” ہمم مجھے تو جہاں تک معلوم تھا شیرازی ہاؤس کی لڑکیاں بہت معصوم اور شرمیلی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بھولی اور سچی ہوتی ہیں پھر آپ جھوٹ کیوں بول رہیں ہیں ہانیہ ۔۔ “
باسط اس مرتبہ ہانیہ کے فق ہوئے چہرے کو سرسری سا دیکھتا بول رہا تھا جبکہ ہانیہ نے بھی اس کی شوخ آنکھوں میں دیکھا
” کون سی بات کرنی تھی ۔۔ ؟؟”
ہانیہ اس بار اس کی بات نظر انداز کرتی کچھ بیزاری سے بولی تھی اسے ڈر تھا کہ کوئی ان دونوں کو ساتھ نہ دیکھ لے
” زیادہ کچھ نہیں بس حال چال پوچھنا تھا آپ سے ۔۔ “
باسط چہرے پر مصنوعی سنجیدگی سجائے مسکراہٹ کو دبا کر بولا جبکہ ہانیہ ناگواری سے سر ہلاتی اگلے لمحے وہاں سے تیز تیز قدم اٹھاتی چلی گئی
پیچھے کھڑے باسط کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
” نائس گرل ۔۔ بٹ اٹیٹیوڈ بہت ہے اس گھر کی لڑکیوں میں ۔۔ “
باسط نے اپنے بھورے بالوں میں ہاتھ پھرتے ہوئے سوچا اور پھر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے مسکراتا ہوا شیرازی ہاؤس سے نکل گیا
///////////////////////////
” بھابھی میرا تو دل تھا اپنی ہانیہ کا قائم کے ساتھ رشتہ کرنے کا ۔۔ قائم جیسا لڑکا لاکھوں میں ایک ہے ۔۔ ماشااللہ معصومہ کو بھی اچھا شوہر مل گیا باذل کی صورت میں ۔۔ اب ہانیہ کہ فکر ہے ۔۔ ہماری بچیوں نے سوائے روک ٹوک ، بے جا سختی اور پابندیوں کے اس گھر میں دیکھا ہی کیا ہے ۔۔ “
ماہین لاؤنج میں جانے لگی تھی جب اسے اندر سے نوشین صاحبہ کی آواز آئی تو ان کی بات سن کر اس کے قدم وہی زمین میں جم گئے
” ہاں قائم اور باذل تو لاکھوں کروڑوں میں ایک ہیں ۔۔ صد شکر کہ اپنے باپ چچا جیسی عادات و اطوار نہیں ہیں ان کی ۔۔ اور جہاں تک ہانیہ کے ساتھ قائم کے رشتے کی بات ہے تو خیال تو میرے بھی ذہن میں آیا تھا مگر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ قائم کا نکاح تو ماہین سے بہت سال پہلے ہو چکا تھا پھر ایسی باتوں کا اب کیا فائدہ ۔۔”
شیرین صاحبہ بھی لہجے میں محبت لیے سنجیدگی سے بول رہیں تھیں
” بلکل بھابھی یہ تو نصیب کی بات ہوتی ہے ۔۔ اور ماشااللہ ماہین بہت اچھی لڑکی ہے ۔۔ دیکھا نہیں آپ نے کیسے تھوڑے سے دنوں میں سب کا دل جیت لیا اور اتنی گھل مل گئی ہے جیسے برسوں سے ساتھ ہے۔۔”
نوشین صاحبہ سر ہلاتی ان کی تاکید کرتی بولی تھیں جبکہ باہر کھڑی ماہین کا دل جانے کیوں اداس ہو گیا تھا اور قدم واپس موڑتی اپنے کمرے کہ جانب بڑھ گئی
کمرے میں آکر کرسی پر بیٹھی بے اختیار وہ اپنا اور ہانیہ کا موازنہ کرنے لگی تھی
جب دروازہ کھول کر قائم اندر آیا مگر ماہین کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ اس کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا
” کیا سوچ رہیں ہیں ماہین ۔۔؟”
ماہین کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے وہ ہلکا سا مسکرا کر پوچھ رہا تھا جبکہ ماہین نے چونک کر اسے دیکھا
” کک کچھ بھی نہیں ۔۔”
ماہین نگاہیں چرا کر بولی تھی تو قائم نے زور نہ دیا
” کچھ کہنا چاہتی ہیں ۔۔؟”
ماہین کے بار بار کچھ کہنے کے لیے کھلتے لب دیکھ کر قائم پھر سے پوچھنے لگا
” جی ۔ ؟؟”
ماہین اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی
” کیا ۔۔؟؟”
قائم نے سوالیہ انداز میں بھویں اچکا کر پوچھا
” آآ آپ یہ رشتہ مجبوری کے تحت نبھا رہے ہیں ۔۔؟؟”
قائم اسے پہلے بھی صاف کہہ چکا تھا مگر آج پھر وہ یہ سوال پوچھ بیٹھی جبکہ قائم اس اچانک سوال پر سنجیدہ ہو گیا اور لب سکڑ گئے
” جن رشتوں میں مجبوری آ جائے ان رشتوں کا وجود کھوکھلا ہوتا ہے ماہین ۔۔ اور قائم شیرازی کھوکھلے رشتے بناتا ہی نہیں ہے اور پہلے دن ہی یہ بات میں کلئیر کر چکا تھا پھر آج یہ بات کرنے کی کوئی خاص وجہ ۔۔؟؟”
قائم خود اٹھ کر اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتا مضبوط انداز میں گویا ہوا تو ماہین نے نفی میں سر ہلایا
” آپ بیوی ہیں میری ۔۔ اس سے زیادہ اور کوئی سچائی نہیں کہ بہت مضبوط رشتہ ہے ہمارے درمیان ۔۔ ماہین میں ہمارے رشتے کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں ۔۔ اگر آپ پورے دل سے اجازت دیں مجھے ۔۔ “
قائم اسے اپنے بے حد قریب کرتے ہوئے اجازت طلب نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ ماہین تو اس کی اچانک بات پر سٹپٹا گئی اور بے ساختہ اس کی لو دیتی نگاہوں سے گھبرا کر اپنی نگاہیں جھکا کر اس کی قمیض کے بٹنوں کر دیکھنے لگی
” ماہین ۔۔ میرے لیے آپ کی رضامندی بہت اہم ہے ۔۔ بتائیں پلیز ۔۔!”
قائم اس کی تھوڑی سے پکڑ کر چہرہ اپنی جانب کرتا ہوا محبت سے پوچھ رہا تھا
” جج جی۔۔ “
ماہین شرم کے باعث ہوئے سرخ چہرے کو قائم کے سینے پر ٹکاتی ہوئی مدھم آواز میں بولی تو قائم نے اس کے گرد اپنے بازوؤں کا حصار کر لیا
اور اسے باہوں میں بھر کر بیڈ تک لے آیا اور لائٹ آف کر دی رات آہستہ آہستہ سرک رہی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے کی قربت میں کھوئے ہوئے تھے
//////////////////////////
جاری ہے
