Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 9
یونورسٹی سے اسے ڈرائیور لینے آیا تھا اسے لگا تھا شاید باذِل خود آئے گا مگر وہ نہیں آیا وہ کمرے میں داخل ہوئی تو باذِل کھڑکی کے پاس کھڑا موبائل کان سے لگائے کسی سے محو گفتگو تھا دروازہ کھلنے کی آہٹ سے باذِل نے مڑ کر دیکھا معصومہ کو دیکھ کر اس نے انگلیوں میں دبی آدھی سگریٹ کو فوراً ایش ٹرے میں مسل دیا اور فون بند کر کے معصومہ کی سمت بڑھا
” السلام علیکم ۔۔”
معصومہ دروازہ بند کرتی بیگ ایک طرف رکھتی ہوئی اس کی سرخ آنکھیں دیکھتی ہوئی دھیمی آواز میں بولی
” وعلیکم السلام ۔۔کیسا رہا دن ؟؟”
وہ اس کے قریب آتا اپنی مخصوص بھاری آواز میں پوچھنے لگا
” بہت اچھا ۔۔”
معصومہ ہلکا سا مسکرا کر بولی
” گڈ ۔۔”
باذِل بھی اس کو مسکرا کر کہتا الماری کی جانب بڑھا
” تم کھانا منگوا لو اپنے لئے ۔۔ میں کھا چکا ہوں ۔۔”
الماری میں سر دیے وہ سرسری انداز میں گویا ہوا
” جی ۔۔ “
وہ اسے الماری سے سوٹ نکال کر بند کرتے دیکھتی بولی
جبکہ باذِل اسے بغیر جواب دیے کپڑے لے کر واشروم میں گھس گیا اور معصومہ کمرے سے باہر نکل گئی جب وہ کمرے میں آئی تو باذِل کریم کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس شیشے کے سامنے اپنی بے پناہ وجیہہ شخصیت لیے کھڑا تھا بھورے گیلے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے وہ چند لمحے اسے مبہوت سی تکتی رہی اسے صبح والا لڑکا یاد آیا تھا معصومہ کو اپنی جانب محویت سے تکتا پا کر وہ کلائی پر قیمتی گھڑی باندھتے ہوئے پلٹا
” کیا دیکھ رہی ہو جاناں ۔۔”
وہ جاندار مسکراہٹ کے ساتھ اس کے چہرے کو دیکھتا پوچھنے لگا
” کچھ بھی نہیں ۔۔”
وہ شرمندہ ہوئی تھی چہرہ موڑ کر بولی باذِل کے وجود سے آتی خوشبو اس کی دل کی دھڑکنوں میں شور مچا رہی تھی
” ہممم ۔۔”
باذِل ہنکار بھرتا ٹیبل سے اب اپنی مطلوبہ چیزیں اٹھا رہا تھا
” آپ کہیں جا رہے ہیں ۔۔؟؟”
وہ لہجے کو نارمل رکھتی انگلیاں آپس میں مروڑتی پوچھنے لگی
” ہاں ۔۔ دادا جان کے ساتھ بیٹھک جا رہا ہوں آج دعا ہے وہاں ۔۔”
وہ قدم قدم چلتا اس تک پہنچا اور سنجیدہ انداز میں بولا
جبکہ معصومہ نے اس کی بات پر اثبات میں سر ہلایا
” رات کو انتظار کرنا میرا ۔۔ میں آؤں گا اور پھر جی بھر کر دیکھنا مجھے۔۔”
بوجھل آواز میں اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اس نے اپنے لبوں سے اس کے کان کی لو کو چھوا اور معنی خیزی سے مسکراتا کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ معصومہ کا وجود اس کی معنی خیز بات پر لرز گیا اس کا رنگ یکدم سرخ پڑا تھا
گہرے گہرے سانس لیتی وہ خود کو کمپوز کرنے لگی اور پھر کافی دیر بعد وہ کھڑکی کے پاس کھڑی اپنے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں موجود اس خوبصورت انگوٹھی کو دیکھ کر باذِل کی تمام باتیں سوچنے لگی
//////////////////////////////
یہ ایک بڑے سے کمرے کا منظر تھا جہاں دیواروں پر قرآنی آیات نصب تھیں کچھ آیات کے فریم دیوار کے ساتھ لٹکے ہوئے تھے روشن دان سے آتی روشنی اور کمرے میں لگے بلب کی روشنی اس کمرے میں خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی ایک نفیس سے دیوان پر مظفر شیرازی صاحب سفید شلوار قمیض پہنے سر پر پگڑی رکھے ہوئے تھے سفید موچھوں کو تاؤ دیتے وہ سامنے قالین پر بیٹھے شخص کی بات غور سے سن رہے تھے
ان کے ساتھ باذِل شیرازی کریم کلر کی شلوار قمیض پہنے سر کو جھکائے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پیوست کیے اپنی پوری شان و شوکت اور جاہ و جلال کے ساتھ بیٹھا اسی شخص کو بغور سن رہا تھا جو اس وقت کوئی اہم مسئلہ بتا رہا تھا
” مرشد صاحب اب آپ ہی کچھ کر سکتے ہیں ۔۔ ہم تو اپنی سی کوشیشیں کر کے ناکام ہو گئے ۔۔”
وہ شخص اپنی بات کے اختتام پر عاجزی سے بولا
” ہممم باذِل دیکھ لے گا اس معاملے کو ۔۔”
مظفر صاحب سر کو جنبش دیتے ہوئے بولے ان کے لہجے کا فخر اور مان وہاں موجود ہر شخص نے محسوس کیا
” مرشد صاحب ۔۔ ہمارے تو آپ ہی پِیر و مرشد ہیں ۔۔ بس آپ کی دعا چاہیے ۔۔”
وہ شخص ہاتھ جوڑ کر عقیدت سے گویا ہوا
” مرشد صاحب ساڈے مرشد باذِل جئیا تے کوئی ہے ہی نہیں ۔۔ دنیا ویکھی ہے اساں۔۔ اج کل دی نوجوان نسل صرف اپنی دنیا وچ مست رہندے نے لیکن تُسی ساڈے پیر و مرشد اپنے پرکھاں دی لاج رکھے ہوئے نے ۔۔ مرشد باذِل دی بڑی اچھی تربیت کیتی اے تساں مرشد صاب ۔۔ “
ایک عمر رسیدہ شخص باذِل کو محبت و شفقت سے دیکھتا اپنے مقامی لب و لہجے میں بول رہا تھا آخر کو باذِل بچپن سے اپنے دادا کے ساتھ یہاں آتا تھا لوگوں کے کئی مسئلے اس نے حل کیے تھے کئی پریشان حال لوگوں کی مدد کرتا تھا بڑے عزت و احترام سے بات کرتا تھا یہاں تک کہ سر جھکا کر ان سب بزرگوں سے بات کرتا تھا
” ہاں مُریدے میرے پوتے واسطے دعا کریا کر کے سوہنا رب میرے پوتے کو بلکل اس جیسا نین و نقش والا بہادر شیر جیسا بیٹا دے ۔۔ “
مظفر صاحب اپنے پوتے کی تعریف سن کر فخریہ سینہ چوڑا کرتے کہہ رہے تھے
” مرشد صاب سوہنا رب اک نہیں پَنج پَنج پتر دیں کے ساڈے مرشد پتر نوں ۔۔ “
ایک اور بوڈھا آدمی انگلیوں کا پنجا بنا کر مظفر صاحب کو دیکھتا ہوا بولا ان بزرگ کی بات پر باذِل کے لبوں پر دل فریب مسکراہٹ بکھری
“میری بیوی ایک بچے پر راضی نہیں ہے اور بابا جی مجھے پانچ بیٹوں کی دعا دے رہے ہیں ۔۔ معصومہ بی بی تمہاری خیر نہیں اب ۔۔ “
باذِل اپنی مسکراہٹ دباتا دل میں سوچ رہا تھا جبکہ اپنی مسکراہٹ چھپانے کے لیے اس نے اپنے جھکے ہوئے چہرے کا رخ دوسری جانب کیا
مظفر صاحب پوتے کی مسکراہٹ دیکھ چکے تھے اور مزید باذِل کا مسکراہٹ چھپانے کے لیے اپنا چہرہ موڑنا انہیں بھی قہقہہ لگانے پر مجبور کر گیا
” آمین ۔۔ آمین ۔۔ ذاہد”
دعا پر آمین کہتے ہوئے انہوں نے باذِل کے کاندھے کو تھپتھپایا
کچھ دیر کے بعد دعا کے بعد چائے کا سلسلہ شروع ہوا تو باذِل نے انکار کر دیا دادا جان جانتے تھے وہ کہیں بھی باہر سے کچھ نہیں کھاتا پیتا
” مرشد صاحب میری دھی رانی نے بنائی ہے ۔۔ بڑی مہربانی ہوگی آپکی آپ پی لیں ہم غریبوں کی اتنی ہی اوقات ہے جی ۔۔ “
وہ آدمی چائے کا کپ باذِل کے آگے کرتا ہوا
” لے لو میرے بچے ۔۔ یہ بھروسے کا آدمی ہے ۔۔”
مظفر صاحب باذِل کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولے باذل نے ان کی جانب دیکھا آج وہ بہت خوش نظر آ رہے تھے یقینا یہ خوشی ابھی تھوڑی دیر پہلے باذِل کے لیے سب کی اتنے خلوص سے دی گئی دعاؤں کی وجہ سے تھی
باذِل چاہتے ہوئے بھی انکار نہ کر سکا اور چائے کا کپ ہاتھوں میں تھام کر لبوں سے لگا لیا
///////////////////////////
” صاحب جی کام ہو گیا ۔۔ مرشد صاحب نے وہ چائے پی لی ہے میں نے خود دیکھا ہے ۔۔”
فون پر اس کے آدمی کی آواز ابھری
” شاباش ۔۔ اور ہاں اس لڑکی کو صحیح وقت پہ اس جگہ پہنچا دینا ۔۔ اگر کوئی بھی گڑبڑ کی نا تم لوگوں نے تو اپنی سزا خود سوچ لینا ۔۔ اور ہاں اس لڑکی کو کہنا سب بہت احتیاط سے کرے ۔۔ باذِل بہت شاطر اور مضبوط اعصاب کا مالک ہے ذرا سی لاپرواہی سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دے گا ۔۔”
وہ کال کے دوسری طرف موجود شخص کو ہر طرح سے آگاہ کر رہا تھا
” صاحب آپ فکر نہ کرو جی ۔۔ کچھ گڑبڑ نہیں ہو گی ۔۔ اور لڑکی بڑی تیز ہے جی ۔۔ کام اچھے سے کرے گی۔۔”
دوسری طرف موجود شخص نے کمینگی سے کہا
” ہممم اور ہاں آخری بات ۔۔ اگر تم میں سے کوئی بھی پکڑا گیا تو میرا نام مت لینا نہیں تو جان سے مروا دوں گا تم لوگوں کو ۔۔”
وہ اس شخص کو دھمکی دے کر موبائل میز پر پٹخ چکا تھا
” اب دیکھتا ہوں باذِل ۔۔ تم اپنی بیوی کو صفائیاں کیسے دیتے ہو ۔۔ اور وہ تمہاری باتوں پر کتنا یقین کرتی ہے ۔۔ اور کتنا عرصہ تمہاری شادی چلتی ہے۔۔ “
اپنے ہاتھ میز پر رکھتے ہوئے وہ زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ بول رہا تھا
/////////////////////////////
شام کے سائے ہر طرف پھیل رہے تھے سورج اپنا منہ چھپا چکا تھا اس نے شام کی چائے ہانیہ لوگوں کے ساتھ پی تھی وہ کافی خوش نظر آ رہی تھی ہانیہ اسے اچھا خاصا باذِل کے نام پر تنگ کر رہی تھی مگر وہ اس کی زیادہ تر باتوں پر مسکرا دیتی لیکن بار بار اس کا دھیان باذِل کی طرف جا رہا تھا اسے باذِل کی سمجھ نہیں آ رہی تھی کبھی پیار جتاتا اور کبھی سخت رویہ اپنا لیتا تھا
اسے کبھی امید نہیں تھی کہ باذِل اس سے معافی مانگے گا لیکن باذِل نے بھرپور شرمندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے معافی مانگی اور پھر باذِل کی معنی خیز باتیں اس کے دماغ میں گردش کرنے لگیں آج وہ اسے جو کہہ کر گیا تھا اس بات کو سمجھتے ہوئے معصومہ کو یاد آیا نکاح کی رات جو اس نے باذِل سے وقت مانگا تھا تو اسے سمجھ آ گیا کہ باذِل اسے اب مزید وقت نہیں دے گا وہ اس رشتے کو آگے بڑھانے کا اشارہ دے کر گیا تھا اور یہ سوچ آتے ہی معصومہ کا رنگ یکدم سرخ پڑا تھا بار بار دل کی دھڑکن اپنی رفتار سے تیز ہو رہی تھی اس کی قربت اور اس کے جذبات کی شدت کا سوچتے ہی معصومہ کے وجود میں لرزش طاری ہو جاتی
وہ کمرے میں آ کر بیٹھی ہی تھی جب اس کے موبائل پر میسج کی ٹون بجی تھی
موبائل اٹھا کر دیکھا تو کسی انجان نمبر سے میسیج تھا اسے کچھ حیرت سی ہوئی تھی کیونکہ باذِل اور قائم کے نمبر تو اس کے موبائل میں سیو تھے پھر یہ انجان نمبر کس کا تھا انباکس کھول کر میسیج پڑھا میسیج پر لکھی تحریر پڑھ کر اسے شدید دھچکا لگا تھا اس کی پیشانی پر ایک لکیر ابھری تھی
” تمہارا شوہر ہمیشہ کی طرح آج بھی میرے ساتھ رات گزارے گا ۔۔ تم بے کار میں اس کا انتظار مت کرنا معصومہ “
میسیج پر لکھی تحریر وہ زیر لب دہرا رہی تھی
” یہ ہے کون ۔۔ ؟؟ اور یہ کیا بکواس کر رہی ہے ؟؟”
” اسے میرا نمبر کیسے ملا ۔۔؟ نہیں یہ مذاق ہے ۔۔ ہاں بلکل یہ کسی نے مذاق کیا ہے میرے ساتھ ۔۔ “
موبائل ہاتھ میں لے کر وہ کمرے میں تیز تیز چکر کاٹ رہی تھی ایک دل کر رہا تھا کہ اس میسیج کرنے والے کو کال کر کے کھری کھری سنائے
اب وہ اتنی بھی بے وقوف نہیں تھی کہ ایک میسیج کو لے کر پریشان ہو جائے اسی لیے موبائل میز پر رکھ کر کل کے لئے اپنے کپڑے نکالنے لگی
مگر یہ بات زیادہ دیر وہ نظر انداز نہیں کر سکی بیشک جو بھی تھا مگر اب باذِل اس کا شوہر تھا اور کوئی میسیج کر کے اس کے شوہر کے بارے میں ایسی بات کہے تو یہ کوئی بھی لڑکی برداشت نہیں کر سکتی
” باذل دادا جان کے ساتھ گیا تھا تو اصولً اسے ان کے ساتھ ہی واپس آنا چاہئے ۔۔ ہاں دیکھ کر آتی ہوں کہ دادا جان ابھی گھر آئے ہیں یا نہیں ۔۔”
اپنی سوچوں میں ڈوبی ہی وہ ہال میں آئی تھی پھر اسے ڈائننگ ہال سے کچھ آوازیں آئیں تو خود بہ خود اس کے قدم ڈائننگ ہال کی جانب بڑھے
مگر وہاں سب موجود تھے سوائے باذِل کے
اسے یکدم مایوسی نے آن گھیرا تھا تھوڑی بلند آواز میں اس نے سب کو سلام کیا اور وہاں سے واپسی کے لیے قدم اٹھانے لگی مگر دادی جان کی آواز پر اس کے قدم رکے اور وہ ان کی جانب مڑی
” جی۔۔؟؟”
سر پر دوپٹہ درست کرتے ہوئے اس نے پوچھا
” بیٹا باذِل نہیں آیا ۔۔؟”
دادی جان نے اس کا اداس چہرہ دیکھ کر پوچھا
” نہیں ۔۔”
ایک نظر دادا جان کو دیکھ کر اس نے مختصر جواب دیا اور پھر ڈائننگ ہال سے نکل گئی
وہ کمرے میں آئی تو موبائل ایک بار پھر بجا ایک لمحے سے پہلے اس نے موبائل ہاتھ میں لیا اسی نمبر سے ایک اور میسیج دیکھ کر اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ میسیج اوپن کیا لیکن یہ کوئی تصویر تھی اسے ڈاون لوڈ کرنے کے بعد وہ دیکھنے لگی
لیکن اس بار معصومہ جیسی مضبوط لڑکی کی آنکھیں پہلے حیرت سے پھیلیں پھر ان آنکھوں میں غصہ نمودار ہوا اور پھر معصومہ کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کب اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر اس کا گال بھیگونے لگے
اس تصویر میں باذِل کے ساتھ کوئی لڑکی تھی وہ لڑکی اس قدر نازیبا حالت میں تھی کہ معصومہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر بیڈ پر گر گیا جبکہ معصومہ وہی بیڈ کے پاس فرش پر بیٹھتی چلی گئی
” ننن نہیں یہ سچ نہیں ہے ۔۔ یہ جھوٹ ہے ۔۔”
وہ شیرازی ہاوس میں سادی سی زندگی گزارنے والی عام سی لڑکی اپنے آنکھوں دیکھی بات پر یقین نہیں کر پا رہی تھی اس کا دل ، دماغ اس بات کو ہرگز قبول نہیں کر پا رہی تھی لیکن آنسو تھے کہ تھم ہی نہیں رہے تھے
” نہیں معصومہ تم اس انجان پہ یقین نہیں کر سکتی ۔۔ جو بھی ہے مگر باذِل یہ گھٹیا قسم کی حرکت نہیں کر سکتا ۔۔ ہاں بلکل ۔۔ میں باذِل پر اتنا تو یقین کر ہی سکتی ہوں وہ آج گھر ضرور آئے گا ہاں ۔۔ وہ آئے گا ۔۔وہ اتنے کمزور کردار کا مالک نہیں ہو سکتا ۔۔ مجھے اس پر یقین رکھنا چاہیے۔۔ میرے اللہ سب بہتر کرنا۔۔ “
اب کے اس نے اپنی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو فوراً صاف کیا گل بی بی اس کے لیے کھانا لائی مگر ایک دو لقمہ سے زیادہ اس سے کھایا ہی نہیں گیا اب وہ بیڈ پر بیٹھ کر نگاہیں باذِل کی دی گئی انگوٹھی پر جمائے باذِل کا انتظار کرنے لگی
////////////////////////////////
” یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ مرشد صاحب ؟؟ ۔۔ “
رات کے کھانے کے بعد دادی جان جب کمرے میں آئی تو مظفر صاحب کی بات سن کر وہ پریشانی سے انہیں دیکھنے لگی
” بلکل درست کہہ رہا ہوں میں بانو ۔۔ میں نے باذِل کی پسند کی وجہ سے اس بد تمیز لڑکی کو اس کی بیوی کے طور پر قبول کیا ہے ۔۔ مجھے لگا تھا وہ اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کے بعد گھر پر ٹکا کرے گا ۔۔ مگر نہیں دیکھو ۔۔ وہی حساب ہے ہفتہ ، دو ہفتہ گھر سے غائب رہتا ہے ۔۔اور تم نے بانو تین بے وقوف بیٹے پیدا کیے ہیں ۔۔ بلکل مجھے ان سے کوئی امید نہیں ہے کہ وہ میرا عہدہ سنبھال سکیں گے ۔۔ صرف میرے پوتے سمجھدار ہیں جن سے میری بہت امیدیں وابستہ ہیں ۔۔ اور مجھے اب اپنے پوتے کی اولاد چاہیے بتا دینا اس لڑکی کو ۔۔”
پلنگ پر دراز ہوتے ہوئے وہ اٹل انداز میں سنجیدگی سے بول رہے تھے
” ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں ۔۔ ابھی سے یہ بات کہتی ہوئی میں اچھی لگوں گی ؟”
دادی جان ان کی ڈھکی چھپی بات سمجھتی ہوئیں بولیں
” ارے یہ تو سمجھا سکتی ہو نا اس لڑکی کو کہ شوہر کو کس طرح راضی رکھنا چاہیے ۔۔ میری بات اپنے دماغ میں بیٹھا لو بانو ۔۔ مرد باہر منہ تب مارتا ہے جب اسے گھر میں توجہ نہیں ملتی ۔۔ “
اب کے وہ غصے میں بولتے ہوئے دادی جان کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے بولے
” جی سمجھاؤں گی اسے میں یہ بات ۔۔ آپ فکر نہیں کریں ۔۔”
دادی جان ان کی بات کو سمجھ چکیں تھیں اثبات میں سر ہلاتی وہ بولیں
” ہاں اور ایک بات یاد رکھنا بانو ۔۔ اگر کچھ عرصے میں اس لڑکی کی جانب سے خوش خبری نہ ملی تو میں باذِل کو دوسری شادی کے لیے تیار کرنے کے لیے خود کو ہسپتال بھی پہنچانا پڑا تو میں دریغ نہیں کروں گا ۔۔”
مظفر صاحب ماتھے پر بل ڈالے بولے
” یہ کیا کہہ رہے ہیں مرشد صاحب ۔۔ سوہنا رب آپ کو ہمارے سر پر سلامت رکھے ۔۔”
دادی جان نے فکر مندی سے کہا
” ہاں تو پھر اپنے طریقے سے سمجھا دو اس لڑکی کو ۔۔”
انہوں نے پھر سے یاد دہانی کروائی
” مرشد صاحب آپ یہ زیادتی نہیں کیجئے گا ۔۔ وہ آپ کی پوتی ہے آپ کا خون ہے ۔۔ اپنی پوتی کے مقابلے پر آپ کسی غیر لڑکی کو لا کر کھڑا کریں گے ۔۔ کیا ہو گیا ہے آپ کو “
اب کے دادی جان ڈرتے ڈرتے سر جھکا کر بولیں تھیں
” کسی غیر لڑکی کو نہیں بانو بیگم ۔۔ وہ کیا نام ہے عابد کی بیٹی کا ۔۔ ہانیہ ہاں وہ ہے نا ۔۔ جب گھر میں لڑکی موجود ہے تو باہر کیوں جانا ۔۔ اس طرح عابد کا بھی کچھ بوجھ کم ہو جائے گا “
وہ پر سوچ انداز میں بولے
” مرشد صاحب اتنے سنگدل نہ بنیں ۔۔ ہمیشہ اس بچی کے ساتھ آپ نے زیادتی کی ہے ۔۔ خدا کے لیے اب ایسا نہ سوچئے گا ۔۔ “
دادی جان کے سامنے آج شام کا معصومہ کا مسکراتا چہرہ آیا تھا
” ہمم پھر اس لڑکی کو سمجھا لو ۔۔”
وہ اب اپنا رخ موڑ گئے تھے مطلب صاف تھا کہ مزید بات کرنا نہیں چاہتے
” جی ۔۔”
دادی جان بھی پریشان سی اثبات میں سر ہلاتی لیٹ گئیں
///////////////////////////
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں لیکن پلیز شارٹ شارٹ مت کیجئے گا کیونکہ آپ لوگ ہی کہتے ہیں روز قسط دوں تو پھر آج میں اتنی ہی لکھ سکی اگر کل قسط دیتی تو باذِل کا سین بھی ایڈ کرتی
