Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 6
معصومہ کے ہلکے لرزتے وجود کو خود سے دور کرتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا اب وہ دراز میں سے کوئی باکس نکال رہا تھا معصومہ ترچھی نگاہوں سے اس کی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی جب باذِل واپس مڑا اور قدم اس کی سمت بڑھائے تو معصومہ نے فورا اپنی نگاہوں کا زاویہ بدل لیا اس کے پاس آ کر باذِل نے وہ باکس کھولا
” یہ تمہارے لیے ۔۔”
آئی فون معصومہ کی طرف بڑھاتے ہوئے وہ گویا ہوا معصومہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی
” اتنے دنوں میں مجھے احساس ہوا کہ مجھے تمہاری یاد آ رہی ہے اس لئے ۔۔ یہ موبائل رکھو اپنے پاس ۔۔ ویسے بھی میرے خیال سے تم یونیورسٹی جاؤ گی تو ضرورت پڑے گی اس کی ۔۔”
باذِل موبائل اس کے ہاتھوں میں دے کر بولا مگر معصومہ یک ٹک کبھی اپنے ہاتھ میں موجود موبائل کو اور کبھی باذل کو دیکھے جا رہی تھی
” آئی نو تم نے کبھی یوز نہیں کیا موبائل اسی لئے یوز کرنے میں تمہیں ابھی مسئلہ ہو گا ۔۔ لیکن ڈونٹ وری سیکھ جاؤ گی ۔۔ “
معصومہ کو ہنوز ایک ہی طرح کھڑے دیکھ کر باذِل پھر سے گویا ہوا
” کیا ہوا ہے ایسے کیوں کھڑی ہو ۔۔ ؟؟”
” یہ کیوں ۔؟ میرا مطلب ہے ۔۔ دادا جان غصہ کریں گے ۔۔ آپ کو پتہ ہے ہمیں اجازت نہیں ہے ۔۔”
معصومہ کو باذِل کی باتیں خاصی حیرت میں مبتلا کر رہیں تھیں اس کے سنجیدہ چہرے پر نگاہیں جمائے بولی
” تم اب میری بیوی ہو ۔۔ تمہیں صرف یہ سوچنا اور یہ خیال رکھنا ہے ۔۔ کہ میرا کیا حکم ہے ۔۔ میری کیا پسند ہے ۔۔ یا مجھے کیا ناپسند ہے ۔۔؟۔نا کے یہ کہ ۔ تمہارے دادا جان نے کس چیز کی اجازت دی ہے ۔۔ یا تمہارے باپ نے کس چیز سے منع کیا ہے یا تمہارے بھائی نے کیا کہا ہے۔۔ یہ سب باتیں سوچنا چھوڑ دو اب ۔۔”
وہ اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا اپنی انگلیوں کی پوروں سے اس کا دایاں گال سہلاتا ہوا دھیمی آواز مگر مستحکم انداز میں بول رہا تھا
” جج جی ۔۔”
باذِل کا سپاٹ چہرہ دیکھتی ہوئی وہ بھی دھیمی آواز میں بولی
” میرے کپڑے نکال دو ۔۔”
اب باذِل اس سے دور ہوتا میز سے اپنا موبائل اٹھا کر بولا تھا
” ہممم کیا پہنیں گے ۔۔”
معصومہ وہ بوکس میز پر رکھ کر الماری کی جانب بڑھی اور حلق تر کرتی ہوئی بولی
” شلوار قمیض نکال دو ۔۔”
وہ اپنے موبائل پر نگاہیں جمائے بولا تھا
اب معصومہ اس کی الماری کے پٹ کھول کر کھڑی طرح طرح کے شلوار قمیض دیکھ رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کون سا نکالے جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو رخ موڑ کر ترچھی نگاہوں سے باذِل کو دیکھا جو اب موبائل کان سے لگائے فون پر کسی سے بات کر رہا تھا وہ واپس الماری کی سمت مڑی پھر ان میں سے براؤن کلر کی شلوار قمیض نکالی الماری بند کر کے اب وہ باذِل کی سمت بڑھی
باذِل نے اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر فون بند کر کے واپس میز پر رکھ دیا
” ہممم یہ ٹھیک ہے ۔۔”
معصومہ کے ہاتھ سے کپڑے لے کر اب وہ واشروم کی جانب بڑھ گیا جبکہ معصومہ پیشانی پر بل ڈالے اس کی پشت کو گھورنے لگی یہاں تک کہ وہ واشروم کے دروازے کے پیچھے غائب ہو گیا
” عجیب آدمی ہے ۔۔۔۔۔۔ نوٹ ہی نہیں کیا اس نے ۔۔ میں نے اسے ‘ آپ ‘ کہا ۔۔ اتنی عزت دی ۔۔اور پہلی بار اس کا کوئی کام کیا ہے اور شکریہ تک نہیں کیا اس نے ۔۔ بیشک صرف کپڑے ہی نکال کے دیے ہیں مگر کام تو کیا ہے نا بد اخلاق آدمی ۔۔ لیکن میں نے بھی تو اسے تھینکس نہیں بولا اس نے بھی تو اتنا اچھا سیل فون دیا ہے مجھے ۔۔ لیکن میں نے تھوڑی کہا تھا ۔۔ اپنی مرضی سے دیا ہے ۔۔ہممم”
وہ بلند آواز میں بڑبڑاتی ہوئی اب اپنے کپڑے نکالنے لگی
////////////////////////////
وہ شاور لے کر کمرے میں آیا تو معصومہ کمرے میں نہیں تھی شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر تولیے سے بال خشک کیے انٹرکام میں نوری کو آنے کا بولا اور خود ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر خود پر پرفیوم چھڑکنے لگا پھر بالوں کو خشک کر کے برش کیا اور براؤن چادر شانوں پر رکھی جب دروازے پر دستک ہوئی تو اس نے خود کا سرسری سا شیشے میں جائزہ لیا
پھر آنے والے کو اجازت دی اور ٹانگ پر ٹانگ رکھے شانِ بے نیازی سے صوفے پر براجمان ہو گیا
” سلام مرشد صاب ۔۔۔ حکم کریں ۔۔!! “
نوری نے سر جھکائے ادب سے سلام کیا باذِل نے سر ہلا کر اسے جواب دیا
” ساری باتیں بتاؤ مجھے ۔۔ کیا ہوا تھا ان دو ہفتوں میں ۔۔”
میز سے موبائل اٹھا کر ہاتھ میں لیتے ہوئے وہ سپاٹ انداز میں بولا
نوری نے بغیر رکے جب سے وہ گیا تھا شادی سے اگلے دن کے ہونے والے واقعہ سے لے کر کل رات تک کی ساری روداد اس کے گوش گزار کر دی اور پھر سر اٹھا کر اس کے تنے ہوئے چہرے اور سرخی مائل آنکھوں کو دیکھتی پھر سے سر جھکا گئی
” ہممم ۔۔ اور معصومہ کچھ نہیں بولتی تھی ۔۔؟؟”
موبائل پر نگاہیں جمائے سرسری سا پوچھا گیا
” چھوٹی بی بی زیادہ چپ ہی رہتیں تھیں مرشد صاحب ۔۔”
نوری ہچکچاتے ہوئے بولی
“ہمممم ۔۔”
نوری کی بات پر اس نے طویل سانس لے کر سر ہلایا نگاہیں موبائل پر ہی جمی ہوئیں تھیں جبکہ چہرہ بے تاثر تھا
” حکم مرشد صاحب ۔؟؟”
جب وہ کچھ نہ بولا تو نوری نے سر جھکائے ڈرتے ہوئے پوچھا
” جاؤ ۔۔”
باذِل نے اسے بغیر دیکھے حکم دیا
////////////////////////////
وہ جب ڈریسنگ روم سے نکلی تو کمرے میں دھواں ہونے کے باعث کھانسنے لگی
باذِل جو کہ صوفے پر بیٹھا سیگریٹ انگلیوں میں دبائے منہ سے دھواں خارج کر رہا تھا اچانک ڈریسنگ روم کے دروازے پر کھڑی معصومہ کے کھانسنے سے اس کی جانب متوجہ ہوا ایک نگاہ معصومہ پر ڈال کر صوفے سے اٹھا اور انگلیوں میں دبی آدھی سیگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل دیا جہاں پہلے سے ہی کئی سگریٹ راکھ بنی پڑیں تھیں اور اب وہ کھڑکی کی جانب بڑھا اور پردے ہٹا کر کھڑکی کھول دی
معصومہ ایک ہاتھ ہونٹوں پر رکھے باذِل پر ایک ناگوار نظر ڈال کر ڈریسنگ ٹیبل کے آگے جا کھڑی ہوئی
باذِل وہیں کھڑکی کے پاس اپنے دونوں بازو پشت پر باندھے کھڑا اسے ہی دیکھنے لگا
مہرون رنگ کا قیمتی جوڑا زیب تن کئے دوپٹہ کندھے پر پھیلائے وہ شیشے کے سامنے کھڑی اب بالوں میں برش کرنے لگی
” جلدی کرو ۔۔ دادا جان ناشتے کے لئے انتظار کر رہے ہیں میرا ۔۔ “
اس کے دلکش سراپے سے نظریں ہٹا کر اب وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے سرد انداز میں بولا
باذِل کی تحکم آواز پر معصومہ نے جلدی سے کانوں میں آویزے پہنے ہاتھوں میں کنگن پہنے اور سر پر دوپٹہ اوڑھ کر باذِل کے پاس جا کھڑی ہو گئی
” چلیں ۔۔!!”
معصومہ کی آواز پر وہ اس کی جانب پلٹا ایک نظر اس کے سراپے پر ڈال کر وہ دروازے کی سمت بڑھ گیا جبکہ معصومہ اس کی پشت کو گھورتی اس کے پیچھے چلنے لگی
////////////////////////////
وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے ڈائننگ ہال میں پہنچے جہاں پہلے سے ہی سب موجود تھے یقینا ان دونوں کا ہی انتظار کیا جا رہا تھا باذِل ایک نظر سب کو دیکھتا ہوا آگے بڑھا اور تھوڑی اونچی آواز میں سلام کر کے کرسی پر براجمان ہو گیا
مظفر صاحب نے مسکرا کر اس کے سلام کا جواب دیا جبکہ معصومہ بھی سلام کرنے کے بعد میز پر سے جوس کا جگ اٹھا کر جوس گلاس میں انڈیلنے لگی جوس گلاس میں ڈال کر اس نے باذِل کی جانب بڑھایا
” تم رہنے دو ۔۔ اور یہاں بیٹھو میرے ساتھ ۔۔ “
باذِل نے معصومہ کے ہاتھ سے گلاس لے کر میز پر رکھا اور اس کی کلائی تھام کر اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا دیا جبکہ اس کی اس حرکت کی وجہ سے وہاں موجود ہر شخص پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا ساجد صاحب اور عابد صاحب نے بھی پہلے اپنے بھتیجے اور پھر معصومہ کو حیرت سے دیکھا جبکہ معصومہ کا بھی تقریبا یہی حال تھا وہ بے یقینی سے باذِل کو دیکھنے لگی
” باذِل ہوش میں تو ہو ۔۔؟؟ اس لڑکی کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ یہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے۔۔!!”
دادا جان باذِل کے ہاتھ میں معصومہ کے ہاتھ کو ناگواری سے گھورتے ہوئے دھاڑے
” اس لڑکی کی اوقات ، میری اوقات پر منحصر ہے دادا جان ۔۔ اس کی یہ اوقات ہے کہ یہ باذِل شیرازی کی بیوی ہے ۔۔ “
باذِل ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد انداز میں بول رہا تھا ایک پل کو اپنے سامنے بیٹھے اپنے باپ کو سرخ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے پھر سے بولنے لگا
“اور جہاں تک اس لڑکی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی بات ہے تو میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میں آرام سے بیٹھ کر طرح طرح کے کھانے نوش فرماؤں اور میری بیوی سر جھکائے میرے پاس کھڑی رہے ۔۔”
دادا جان سے کہہ کر اس نے ایک نظر وہاں کھڑی دادی جان ، شیریں بیگم اور چچی کو دیکھا جنہوں نے آنکھوں میں نمی چھپانے کی غرض سے اپنے سر جھکا لیے معصومہ کا ہاتھ ابھی بھی باذِل کے ہاتھ میں مقید تھا وہ اس وقت کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی
” دیکھا ابا جان ۔۔ اتنے کم وقت میں ہی آپ کے لاڈلے پوتے نے زن مریدی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔۔”
ماجد صاحب باذِل کو اپنی سرخ انگارے آنکھوں سے گھورتے مظفر صاحب سے مخاطب ہوئے
” بھائی صاحب بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ابا جان ۔۔ آپ کے لاڈلے پوتے اپنی بیوی کو، بیش قیمت تحفے تحائف پیش کر رہے ہیں ۔۔ فقط ایک انگوٹھی گیارہ لاکھ کی لی ہے اس نے ۔۔ لڑکی ذات پر اس قدر پیسہ لٹانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔”
کچھ دن پہلے ہی تو باذِل کا خاص آدمی شاپ سے باذِل کی پسند پر تیار کروائی گئی ایک بیش قیمت انگوٹھی لے کر گیا تھا عابد صاحب بس بہانے کی تلاش میں تھے کہ کیسے مظفر صاحب کو ان کے لاڈلے پوتے کے کارنامے بتائیں جبکہ ان کی بات پر باذِل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی جبکہ مظفر صاحب کو اپنے سمجھدار پوتے سے فقط ایک انگوٹھی وہ بھی لڑکی کو دینے کے لیے اتنا پیسہ لٹانے پر افسوس ہوا تھا مگر خاموش رہے
” شیرازی صاحب وہ کیا ہے نا کہ باذِل شیرازی اپنی بیوی کو کوئی معمولی تحفہ دے یہ اس کی شان کے خلاف ہے ۔۔ “
سلگتی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ کہتا اب وہ جوس کا گلاس لبوں سے لگا چکا تھا
جبکہ معصومہ بے ساختہ اپنے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں موجود اس خوبصورت انگوٹھی کو بغور دیکھنے لگی اسے وہ پہلی نظر میں ہی کافی نایاب اور خوبصورت لگی تھی مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ اتنا بیش قیمت ہو گی
” باذِل اس لڑکی کو سر پر مت چڑھاؤ میں تمہیں کہہ رہا ہوں ۔۔ پچھتاؤ گے تم ۔۔ اس کو اس کی اوقات میں رکھو تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔”
ماجد صاحب پیشانی پر شکن ڈالے معصومہ کو حقارت سے دیکھتے ہوئے باذِل سے مخاطب ہوئے
” شیرازی صاحب یہ میری بیوی ہے ۔۔ اسے میں کس طرح رکھتا ہوں یہ میرا مسئلہ ہے ۔۔ مجھے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ اور یہ آپ سے ہی سیکھا ہے میں نے شیرازی صاحب ۔۔ یاد ہے ایک بار آپ نے ہی مجھے کہا تھا کہ بیوی تو ملکیت ہوتی ہے مرد کی ۔۔ یہ مرد کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کیسے رکھتا ہے اسے ۔۔ آپ اگر اپنی بیوی کو سب کے سامنے بے عزت کر سکتے ہیں تو میں اپنی بیوی کو سب کے سامنے عزت کیوں نہیں دے سکتا ۔۔ ہر مرد کا اپنا ظرف ہوتا ہے ۔۔”
وہ خاصی اونچی آواز میں ان پر طنز کر رہا تھا کہ ڈائننگ ہال میں اس کی گرجدار آواز گونج رہی تھی معصومہ نے بے ساختہ اس کے چہرے کو دیکھا جہاں اب چٹانوں جیسی سختی تھی ایک پل کو باذِل کے ہاتھ میں مقید اس کا ہاتھ بھی کپکپا گیا
جبکہ ماجد صاحب کو بیٹے کی بات سے کئی سال پہلے بولے گئے ان کے اپنے الفاظ یاد آئے
” آپ سب کے سامنے آنٹی کو تھپر نہیں مار سکتے بابا ۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا جب آپ آنٹی کو مارتے ہیں ۔۔”
چودہ سال کا باذِل ان کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا غصے سے انہیں کہہ رہا تھا جبکہ اس کی بات اور تاثرات دیکھ کر ماجد صاحب کافی ہنسے تھے
” باذِل یہ میری بیوی ہے ۔۔ مطلب میری ملکیت ۔!!! ۔ میں جیسے چاہوں اسے رکھ سکتا ہوں ۔۔ میرے بچے یہ تمہاری سوتیلی ماں ہے کون سا سگی ہے جو تم اس کی اتنی طرفداری کرتے ہو ۔۔ آئیندہ میرے اور اس کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرو گے تم ۔۔”
اور واقعی وہ دن اور آج کا دن باذِل نے کسی بھی معاملے میں بولنا چھوڑ دیا تھا اور آج وہ اتنے عرصے بعد اپنے باپ کو اسی کے الفاظ واپس لوٹا رہا تھا وہ اب اپنے ذہین بیٹے کو بے یقینی سے دیکھ رہے تھے
” ختم کرو یہ سب اور ناشتہ کرو سب ۔۔”
مظفر صاحب نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے بولا مبادہ کہیں ان کا پوتا اٹھ کے ہی نہ چلے جائے
باذِل اب پُر سکون ہو کر ناشتہ کرنے لگا جبکہ معصومہ بھی کوشش کر رہی تھی کچھ کھانے کی مگر وقفے وقفے سے سب کی نظروں سے وہ کافی غیر آرام دہ ہو رہی تھی
ماجد صاحب گاہے بگاہے کبھی اپنے بیٹے کو اور کبھی معصومہ کو دیکھ رہے تھے
” باذِل میرے بیٹے تم نے بتایا نہیں ۔۔ ولیمہ کب کا رکھنا ہے ۔۔؟؟ “
مظفر صاحب نے چائے کا کپ لبوں سے ہٹاتے ہوئے باذِل کو دیکھتے ہوئے نرم انداز میں پوچھا ان کی بات پر معصومہ نے بے اختیار باذِل کو دیکھا
” ایک دو ضروری کام ہیں دادا جان مجھے ابھی ۔۔ ویسے بھی قائم بھی موجود نہیں ہے یہاں ۔۔ جب وہ آئے گا تو رکھیں گے میں بتا دوں گا آپ کو تاریخ ۔۔ “
باذِل نے دھیمی آواز میں کہا
” ہممم ٹھیک ہے مگر مجھے دو تین دن پہلے آگاہ کر دینا ۔۔ بہت دھوم دھام سے کرنا ہے میں نے اپنے پوتے کا ولیمہ ۔۔”
مظفر صاحب باذِل کو دیکھتے مسکراتے ہوئے کہہ رہے تھے باذِل نے بھی ان کو مسکرا کر دیکھا اور پھر ایک زہریلی مسکراہٹ اپنے باپ کی طرف اچھالی جبکہ ماجد صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا باذِل کے منہ پر دو تھپر لگا دیں
” یہ چائے ہے ۔۔؟؟ اتنی بد ذائقہ ۔؟۔۔ منحوس عورت ۔۔ چائے بھی اپنی طرح بنائی ہے تم نے۔۔ “
ماجد صاحب نے چائے کا ایک سپ لے کر باقی چائے اپنے پاس کھڑی شیرین صاحبہ کے بازو پر گرا دی کہ چائے گرم ہونے کی وجہ سے وہ بلبلا اٹھیں اب انہیں اپنا غصہ کہیں تو نکالنا تھا سو اپنی بیوی کو نشانہ بنا لیا جبکہ ان کی اس حرکت پر سب ان دونوں کی جانب متوجہ ہوئے مظفر صاحب نے نظر انداز کر دیا جبکہ یکدم باذِل کی گردن کی رگیں تن گئیں آنکھوں میں خطرناک حد تک سرخی آ گئی
” دادا جان میں نے آپ کو پہلے بھی کہا تھا انہیں کہہ دیں اگر انہیں اپنی بیوی کے ساتھ ڈرامے لگانے ہوتے ہیں تو یہ اپنے کمرے تک محدود رکھا کریں یہ سب ۔۔ صبح صبح موڈ خراب کر دیا “
باذِل میز پر ہاتھ مار کر اٹھ کھڑا ہوا تھا اس کی دھاڑ سن کر ماجد صاحب نے بھی تھوک نگلا
” باذِل بچے تم کہاں جا رہے ہو ۔۔ بیٹھو “
مظفر صاحب باذِل کو کرسی سے اٹھتا دیکھ کر فوراً بولے
” نوری چائے کمرے میں دے جانا “
باذِل مظفر صاحب کی بات نظر انداز کرتا وہاں سر جھکائے کھڑی نوری کو کہہ کر جا چکا تھا
“جج جو حکم مُرشد صاحب ۔”
” ماجد یہ کیا حرکت ہے ۔۔ تم قابو نہیں رکھ سکتے کیا خود پر ۔۔ پہلے ہی وہ کم آتا ہے یہاں ۔۔ کتنی بار کہا ہے تم سب سے اس کے سامنے احتیاط کیا کرو ۔۔”
مظفر صاحب ماجد صاحب کو سلگتی آنکھوں سے گھورتے ہوئے دھاڑے
جبکہ معصومہ بھی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور وہاں سے نکل کر کچن کی جانب بڑھی جہاں ابھی شیرین صاحبہ گئیں تھیں
” گل بی بی مرہم لے کر آؤ جلدی ۔۔ تائی ماں سب چھوڑیں ۔۔اور یہاں بیٹھیں آپ “
معصومہ کچن میں داخل ہوتی پہلے اپنے پیچھے آتی گل سے اور پھر شیرین صاحبہ سے مخاطب ہوئی اور ان کی سنے بغیر انہیں کرسی پر بیٹھایا گل بی بی مرہم لے کر آئی تو معصومہ نے ان کے بازو پر لگائی شیرین صاحبہ نے بھیگی آنکھوں سے اسے دعائیں دیں جبکہ معصومہ ایک مسکراہٹ ان کی جانب اچھالتی کچن سے نکل گئی اب اس کا رخ نوری کے پیچھے تھا جو باذِل کے لیے چائے کا کپ لیے کمرے کی جانب بڑھی تھی
////////////////////////////
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں شکریہ
