Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 21
لاؤنج میں اتنے لوگوں کی موجودگی کے باوجود کڑا سناٹا تھا آج کی شام شیرازی ہاؤس کے مکینوں کے لیے بڑے راز لے کر آئی تھی مظفر صاحب جیسے روعب و دبدبے والے شخص کے بیٹوں کے انجام نے چند ساعتوں میں ہی جیسے شانے جھکا دے تھے ان بیٹوں کے لیے کیا کیا نہ کیا تھا انہوں نے ، ہر جائز نا جائز خواہش کو منہ سے نکلنے سے پہلے پورا کیا تھا بیٹوں کی موجودگی ان کا سینہ فخر سے چوڑا کر دیتی تھی ایسا غرور ان کی سوچ میں تھا کہ بیٹے تو وارث ہوتے ہیں جبکہ آج انہیں بیٹوں نے ان کا سر جھکا دیا تھا وہی دنیا جس کے سامنے بڑے مغرور بن کر پھرتے تھے آج بیٹوں نے کسی کو منہ دیکھانے کے قابل بھی نہ چھوڑا تھا
اولاد نیک ہو تو باپ دنیا کے سامنے سینہ تان کر چلتا ہے مگر جب اولاد آزمائش یا سزا بن جائے تو باپ لوگوں کے آگے سر اٹھانا تو کیا آنکھیں ملانے کے قابل نہیں رہتا ایسی ہی کچھ حالت مظفر صاحب کی ہو رہی تھی
مگر وہ مظفر شیرازی تھے انہیں اپنے گھر کا شیرازہ بکھرنے نہیں دینا تھا چاہے اس کی خاطر انہیں اپنے بیٹوں سے قطع تعلق کرنا پڑتا تو وہ گریز نہیں کریں گے ویسے بھی وہ اب ان تینوں کی جب تک گرفتاری نہیں ہو جاتی تب تک شیرازی ہاؤس تو گھسنے نہیں دیں گے سختی سے ملازمین سے ان کا سامان باہر پھینکنے کا حکم صادر کیا
” بانو کیا رات کے کھانے کا انتظام نہیں ہو گا آج۔۔؟؟ “
دادا جان کی بھاری آواز لاؤنج میں گونجی تھی مگر اس آواز میں کس قدر ٹھہراؤ تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا وہ سرخی مائل آنکھوں سے دادی جان سے مخاطب تھے جبکہ ان کی بات پر وہاں موجود تمام نفوس نے حیران کن تاثرات لیے مظفر صاحب کو دیکھا تھا اتنے سب کے بعد بولے بھی تو کیا بولے
” جج جی ۔۔؟؟”
دادی جان نے نم آنکھوں سے انہیں دیکھا انہیں شبہ ہوا کہ کہیں ان کے سر کے سائیں بیٹوں کے کارناموں پر اپنا ذہنی توازن تو نہیں گوا چکے جبکہ باقی افراد بھی ہونق بنے دادا جان کو دیکھ رہے تھے
” ایسا کیا پوچھ لیا میں نے جو تم گھورے ہی جا رہی ہو مجھے ۔۔ اب کیا اپنے بے غیرت بیٹوں کا سوگ مناؤ میں بیٹھ کر ۔۔ ارے ایسی اولاد کو میں ابھی عاق کرتا ہوں ۔۔ میرے جنازے پر کاندھا دینے بھی وہ تینوں نہ آئیں ۔۔ میرے تین پوتے ہیں ۔۔ وہی کفن دفن کریں گے میرا ۔۔ یہ وصیت ہے میری قائم اور باذل سن لو تم دونوں بھی ۔۔!”
وہ کس طرح ضبط کیے بول رہے تھے اور کس طرح آواز میں شکستگی تھی ہارا ہوا لہجہ تھا قائم اور باذل سرعت سے دادا جان کے قریب آئے تھے جبکہ دادی جان نے بھیگی آنکھوں سے تڑپ کر انہیں دیکھا تھا
” واسطہ خدا کا۔۔ ایسی باتیں نہ کریں ۔۔”
دادی جان کا دکھ کم تھا کیا وہ بھی تو ماں تھیں کتنی دعائیں کرتیں تھیں وہ کہ ان کے بیٹے غلط کاموں میں نہ پڑیں مگر ان کے بیٹوں نے اپنے ہاتھوں خود کو تباہ کر دیا تھا
” بانو ۔۔ ہم سب کھانا ایک ساتھ کھائیں گے تم انتظام کراؤ ۔۔”
مظفر صاحب نے تحکم انداز میں کہا تو دادی جان پلو سے آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرتیں سر ہلاتی تائی اور چچی جان کو اشارہ کرتیں لاؤنج سے نکل گئیں جبکہ نوشین صاحبہ ،معصومہ اور ہانیہ بھی بے تاثر چہرہ لیے لاؤنج سے نکل گئیں اب لاؤنج میں فقط مظفر صاحب ، قائم اور باذل رہ گئے تھے
تمام افراد کے جاتے ہی مظفر صاحب صوفے پر ڈھے سے گئے تھے بلاشبہ وہ ٹوٹ گئے تھے کہیں نا کہیں وہ ہی اپنے بیٹوں کے مکروہ فطرت کے ذمہ دار تھے اولاد تو کھیتی کی مانند ہوتی ہے جیسے بو گے ویسے ہی کاٹو گے
قائم اور باذل ان کی دلی کیفیت سمجھتے تھے وہ دونوں ہی دادا جان کے پاس سر جھکائے بیٹھے تھے مظفر صاحب نے بھیگی آنکھوں سے اپنے جوان پوتوں کو دیکھا جو بلاشبہ شاید زندگی میں کی گئی کسی نیکی کا ثمر تھے اپنے باپ ، تایا ، چچا کو برے کاموں کے نتیجے میں انجام تک پہنچانا یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی مگر معصومہ نے سچ کہا تھا خدا ہر فرعون کے لیے موسی کو ضرور بھیجتا ہے اور تاریخ گواہ ہے موسی نے فرعون کے گھر میں ہی پرورش پائی ہے ان کے تینوں بیٹے اپنے ہی تینوں بیٹوں کے ہاتھوں انجام تک پہنچے ہیں ان کی پر نم آنکھیں ان دونوں پر ہی جمی ہوئی تھیں
” اپنے دادا کو معاف کر دو بیٹا تم دونوں ۔۔ تم دونوں کی ماں کے ساتھ ہوئے ظلم پر میں خاموش رہا ۔۔ تم دونوں نے ہی اپنی ماں بچپن میں ہی کھو دی تھیں ۔۔ یقیناً یہ بہت بڑا ظلم تھا تم دونوں پر ۔۔”
مظفر صاحب ضبط کے مارے کپکپاتے ہاتھ جوڑ کر ان دونوں سے بولے تھے جبکہ وہ روعب و دبدبہ والے مظفر شیرازی تو ان دونوں کو کہیں سے نہیں لگ رہے تھے قائم نے لمحے سے پہلے ان کے جڑے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تھے
” دادا جان زیادتی تو تھی ظاہر ہے ماں کا نعم البدل اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔۔ مگر ہم دونوں تو ہمیشہ آپ کے سائے شفقت تلے رہے ہیں ۔۔ زیادتی تو اس گھر کی بیٹیوں کے ساتھ ہوئی ہے ۔۔ کیا آپ کو نہیں لگتا بیٹیوں کا حق مار کر بیٹوں کو دیا تھا تبھی اس آزمائش سے گزرے ہیں آپ ۔۔ “
قائم اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا مظفر صاحب کو پہلے اس کی یہی باتیں قطعی پسند نہ تھیں اور آج جیسے سوچوں پر سے پردے اٹھے تھے تو اس کی باتیں بجا لگ رہیں تھیں باذل بھی غیر مرئی نقطے کو تکتا قائم کو سن رہا تھا
” جس گھر میں بہو بیٹیوں کو کمتر سمجھا جائے اور ان کی حق تلفی کی جائے تو اس گھر میں ایسی آزمائشیں ہی آتی ہیں ۔۔ مگر بندہ پھر بھی نہیں سمجھتا ۔۔ بہت ناانصافیاں ہوئیں ہیں دادا جان اس گھر میں بہو بیٹیوں کے ساتھ ۔۔ بہت حق تلفی ہوئی ہے ۔۔ آپ جانتے ہیں دادا جان ۔۔؟ بیٹیوں کا پہلا حق جو ہم لوگ ادا نہیں کرتے وہ کیا ہے ۔۔ ؟؟”
قائم مظفر صاحب کے چہرے کو دیکھتا ہوا بول رہا تھا آخر میں اس نے ان سے سوال کیا تو خودبخود ان کا سر نفی میں ہلا تھا جبکہ باذل بھی قائم کی باتیں سن رہا تھا مگر اس کی نگاہیں ابھی بھی غیر مرئی نقطے کی سمت تھیں
” بیٹیوں کا پہلا حق یہ ہے کہ ان کی پیدائش پر خوش ہوا جائے ۔۔ ! مگر افسوس ہم بیٹیوں کا پہلا حق بھی ادا نہیں کرتے ۔۔ کیا یہ المیہ نہیں ہے معاشرے کا کہ ہر کوئی بیٹا مانگتا ہے اور جب بیٹی پیدا ہو جائے تو کئی لوگ افسوس کا اظہار کرتے ہیں ۔۔ “
قائم دھیمی آواز میں بول رہا تھا جبکہ دادا جان کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا ان کے دل میں ٹیسیں اٹھی تھیں انہوں نے تو آج تک اپنی بیٹی کے سر پر شفقت سے ہاتھ تک نہ رکھا تھا نوشین صاحبہ کا چہرہ ان کی آنکھوں کے سامنے آیا تھا آج تو جیسے انہیں اپنے آپ سے نفرت ہو رہی تھی
قائم کی بات پر وہ کچھ کہہ بھی نہ پائے تھے ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی
باذل کی ماں کو گھر سے نکالتے دیکھ بھی وہ خاموش رہے تھے ، قائم کی ماں کے ساتھ ان کے بیٹے نے اتنے ظلم کیے کہ وہ جلد ہی دنیا چھوڑ گئیں مگر انہوں نے پھر بھی اپنے بیٹے کو کچھ نہ کہا ، شیرین اور صدف پر ہوتے ظلم و زیادتی پر بھی وہ بیٹوں کو کچھ نہیں کہتے تھے ، شراب نوشی کرنا ، رات رات بھر گھر نہ آتے بیویوں کے گھر میں موجود ہوتے ہوئے وہ باہر بازاری عورتوں سے تعلقات رکھتے تھے پھر بھی وہ نظرانداز کرتے تھے اپنے بیٹوں کی یہ سب حرکتیں محض اس لیے کہ وہ مرد ہیں !! اور گھر کی بیٹیوں پر کس قدر پابندیاں عائد کی تھیں انہوں نے !!
آج احساس ہو رہا تھا کہ بیٹوں کو کھلی چھوٹ دے کر انہوں نے ہی خراب کیا تھا
” باذل بیٹا ۔۔ باسط کو منا لو تم کسی طرح یہاں رہنے پر راضی کر لو ۔۔ اس گھر پر اس کا بھی تو حق ہے ۔۔”
مظفر صاحب باذل کو دیکھتے دکھ بھرے انداز میں گویا ہوئے تھے یہ بھی تو دکھ تھا انہیں کہ ان کے پوتے نے جانے اپنا بچپن کس طرح گزارا ہو گا
” دادا جان میں کئی بار اس پر زور دے چکا ہوں مگر وہ دل سے راضی نہیں ہے ابھی ۔۔ در حقیقت اس نے اپنی زندگی کا بہت حصہ اکیلے گزارا ہے ۔۔ حکم تو ابھی بھی نہیں ٹالے گا میرا مگر میں چاہتا ہوں وہ خود سے یہاں آنے کا فیصلہ کرے آپ بے فکر رہیں وہ اس گھر کا بیٹا ہے ۔۔ یہی آئے گا وہ مگر ابھی کچھ وقت دیں اسے ۔۔ محبتیں اسے جلد کھنچ لائیں گی انشااللہ ۔۔”
باذل اپنی داڈھی پر انگشت شہادت پھیرتا ہوا آہستگی سے گویا ہوا تھا اس کے تفصیلی جواب پر دادا جان نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا
///////////////////////////////
باقی خواتین تو کچن کی جانب بڑھ گئیں تھیں مگر وہ دادی جان کے ساتھ ڈائننگ ہال میں آ بیٹھی تھی دادی جان مسلسل آنسو بہا رہیں تھیں معصومہ انہیں بہت سمجھا رہی تھیں اور وہ اس کی باتوں پر سر ہلاتیں اب خاموش ہو گئیں تھیں مگر دل کا درد کم نہیں ہو رہا تھا ان کے لیے آج کا دن قیامت سے کم نہ تھا معصومہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس تھام کر چند گھونٹ حلق میں اتارتی وہ اب اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ چادر کے پلو سے صاف کر چکیں تھیں
” معصومہ قائم کی بیوی کو کسی نے پانی پوچھا ذرا دیکھو اپنے مسئلوں میں اس لڑکی کو تو بھول ہی گئے ہم ۔۔ “
اپنے آنسوؤں پر بندھ باندھتی وہ یاد آنے پر پوچھنے لگی جبکہ ان کی بات پر معصومہ کو بھی شرمندگی ہوئی واقعی وہ ان سارے بکھیروں میں قائم کی بیوی کو تو فراموش کر چکے تھے جانے بیچاری کیا سوچتی ہو گی کہ سلام تک نہ کیا اور کمرے میں بند کر دیا
” دادی جان میں بھی بھول گئی تھی بہرحال آپ فکر نہ کریں میں ابھی خود دیکھتی ہوں جا کر بلکہ ایسا کرتی ہوں ۔۔ کھانا لگنے ہی والا ہے تو یہیں لے آتی ہوں ان کو ۔۔ “
معصومہ کرسی سے اٹھتے ہوئے سر پر دوپٹے کو درست کرتی بولی
” ہاں ٹھیک کہہ رہی یہیں لے آؤ اس کو ۔۔ “
دادی جان نے سر ہلاتے ہوئے اس کی بات کی تائید کی تو معصومہ نے انہیں گلے لگایا اور پھر جدا ہو کر ڈائننگ ہال سے نکل گئیں جبکہ پیچھے دادی جان کو اس کی اس حرکت نے مسکرانے پر مجبور کر دیا
////////////////////////
اس کا رخ قائم کے کمرے کی جانب تھا کمرے کے دروازے کے سامنے پہنچ کر اس نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی ایک بار ، دوسری بار ، تیسری بار دستک دینے پر بھی جب اجازت نہ ملی تو مجبوراً معصومہ کو دروازہ دھکیل کر اندر جانا پڑا صد شکر کہ دروازہ لاکڈ نہ تھا مگر کمرے میں داخل ہونے پر اسے کمرے میں کوئی ذی روح نظر نہ آیا اک پل کو اسے پریشانی نے آن گھیرا مگر پھر اس کی نگاہ ٹیرس کی سمت گئی وہاں کسی کی موجودگی کا احساس ہونے پر اس کے قدم ٹیرس کی جانب بڑھے گلاس ڈور دھکیلتی معصومہ ٹیرس میں داخل ہوئی تو نظر سامنے ریلنگ پر ہاتھ جمائے اپنی سوچوں میں گم لڑکی پر پڑی
سرخ رنگ کے سادہ سے جوڑے میں ملبوس ریشمی دوپٹہ شانے پر رکھے وہ لڑکی تقریباً اکیس بائیس سال کی لگتی تھی خوش شکل ، دبلی پتلی سی بالوں کا جوڑا بنائے وہ شیرازی ہاؤس کے وسیع اور خوبصورت لان کو رات کے اندھیرے میں مصنوعی روشنیوں کی مدد سے مبہوت سی دیکھ رہی تھی وہ اس قدر گم تھی کہ معصومہ کو اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو وہ یکدم چونک سی گئی اور دو قدم پیچھے ہو کر معصومہ کو دیکھنے لگی جبکہ معصومہ نے اس کی بوکھلاہٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر سلام کیا
” وو وعلیکم السلام ۔۔”
جواباً وہ لڑکی معصومہ کے شفاف مسکراتے چہرے کو بغور دیکھتی ہوئی دھیمی آواز میں بولی
” میں معصومہ شیرازی ۔۔ قائم بھائی کی بہن ۔۔ اور آپ کا نام کیا ہے بھابھی ۔۔؟”
وہ مسکراتی آنکھیں اس پر جمائے پوچھ رہی تھی
معصومہ کو جانے کیوں وہ جو ایک اداسی تھی ہانیہ کے ساتھ اپنے بھائی کا رشتہ نہ ہونے پر اب اس لڑکی کو قائم کی بیوی کے روپ میں دیکھ کر ختم ہو گئی تھی بلکہ اب اداسی کی جگہ وہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہی تھی جانے کیوں اسے پہلی نظر میں ہی سامنے کھڑی لڑکی پسند آ گئی تھی
” ماہین ۔۔”
ماہین نے یک لفظی جواب دیا جبکہ معصومہ کی دلکش مسکراہٹ پر ماہین کے لب اپنے آپ مسکرائے تھے دوسرا معصومہ کے تعارف پر اسے یک گونہ سکون بھی ملا تھا کہ معصومہ اس سے خوش اخلاقی سے ملی تھی نہیں تو وہ اتنا گھبرا رہی تھی کیسے کیسے خیال اس کے دل میں آ رہے تھے ایک تو قائم کا سرد رویہ ، ان دو ماہ میں ایک بار بھی اس نے اسے دیکھنے کی خواہش ظاہر نہیں کی تھیں اور پھر آج محض ایک سرسری سا ایک نظر ہی دیکھا تھا پھر سفر میں بھی کوئی بات نہیں کی تھی اس کے رویے پر کس قدر دل بھر آیا تھا اس کا پھر گھر پہنچنے پر کسی نے بھی سلام دعا کرنے تک کی زحمت نہ کی تھی بس ملازمہ سے کہہ کر کمرے میں بند کروا دیا تھا اور پھر شام سے رات ہو گئی تھی وہ یوں ہی یہاں بیٹھی تھی اب دل گھبرا رہا تھا تو ٹیرس پر چلی آئی تھی مگر معصومہ کے گرمجوشی سے ملنے پر اسے دلی سکون پہنچا تھا
” معاف کیجیے گا بھابھی ہم آپ کا صحیح سے استقبال بھی نہ کر سکے وہ ایکچولی گھر میں تھوڑا مسئلہ ہو گیا تھا لیکن اب میں آپ کو کھانے کے لیے بلانے آئیں ہوں چلیں دادی جان انتظام کر رہیں ہیں آپ کا ۔۔ پھر باقی سب سے بھی ملواؤں گی آپ کو ۔۔”
معصومہ مسکرا کر بولتی ہوئی ماہین کا ہاتھ تھام کر دوستانہ انداز میں پہلے کمرے میں لے آئی پھر کمرے سے باہر جانے لگی جب بوکھلائی ہوئی ماہین کے قدم رک گئے جانے کیوں عجیب سا خوف یہاں اسے محسوس ہو رہا تھا جیسا اس نے اپنے ماں باپ سے سنا تھا یہاں کے سخت ماحول کے متعلق ، وہ تو اسی پر پریشان ہو گئی تھی اب معصومہ اسے باہر لے جا رہی تھی مطلب وہاں سب موجود ہوں گے یہ سوچ ماہین کے حواسوں پر سوار ہو رہی تھی بیشک وہ باہمت لڑکی تھی مگر اپنے سسرال میں پہلی بار کسی سے ملنا کوئی بھی لڑکی اس کی جگہ ہوتی تو ایسے ہی گھبرا جاتی
” ارے کیا ہوا بھابھی ۔۔؟ “
ماہین کے وہیں زمین پر جمے قدم دیکھ کر معصومہ نے اس کے گھبرائے گھبرائے پریشان چہرے کو دیکھا اور فکر مندی سے پوچھا
” کک کچھ بھی نہیں ۔۔”
اب وہ معصومہ کو کیسے بتاتی کہ اسے صحیح معنوں میں ڈر لگ رہا تھا جانے شیرازی ہاؤس کے مکین اسے کس طرح دیکھتے ہیں اور کیا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ تو خود کو عام سی لڑکی سمجھتی تھی جس نے خوابوں خیالوں میں بھی ایسا محل نما گھر نہ دیکھا تھا نہ اتنے امیر کبیر خوش شکل مرد کو اپنے ہمسفر کے طور پر سوچا تھا وہ تو شروع سے یہی سوچتی آئی تھی کہ قائم وقت آنے پر یہ رشتہ ختم کر دے گا مگر یہ تو الٹا ہی ہو گیا تھا وہ تو اسے اپنے ساتھ بغیر کچھ کہے سنے لے آیا تھا
” آپ کو ڈر لگ رہا ہے ۔۔؟؟”
معصومہ نے مسکرا کر پوچھا ماہین کے فق چہرے کو دیکھ کر معصومہ اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ سب کے سامنے جانے سے گھبرا رہی ہے جبکہ جواباً ماہین کا سر خودبخود اثبات میں ہلا معصومہ نے اس کے شانے پر پڑا دوپٹہ اس کے سر پر اچھی طرح اوڑھا
” آپ ڈریں نہیں ۔۔ وہاں بھیا ہوں گے ۔۔ اور میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں ۔۔ چلیں آ جائیں ۔۔ “
معصومہ اس کا ہاتھ پھر سے تھامے کمرے سے نکلی جبکہ ماہین اس کے ساتھ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی چلی جا رہی تھی
جب وہ ماہین کو ساتھ لیے ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی تو وہاں دادی جان کے علاوہ پھوپھو جان ، تائی ماں ، چچی جان ، ہانیہ اور رانیہ کے علاوہ ایک دو ملازمہ موجود تھیں یقیناً دادا جان ، قائم اور باذل کا انتظار ہو رہا تھا
معصومہ کے ساتھ کھڑی لڑکی کی جانب اب سب متوجہ ہو چکے تھے ماہین نے ہمت جما کر کے سب کو مشترکہ سلام کیا تو سب نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سلام کا جواب دیا
دادی جان نے ہاتھ کے اشارے سے ماہین کو اپنی جانب بلایا تو معصومہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ماہین آہستہ آہستہ چلتی ان کی جانب بڑھی تو دادی جان نے اس کے سر پر بوسہ دیا چند دعائیں دیں پھر پھوپھو جان ، تائی ماں اور چچی جان بھی ماہین کو خوش دلی سے ملیں پھر ہانیہ اور رانیہ بھی مسکرا کر ملیں ان سب کی گرمجوشی پر کافی حد تک ماہین مطمئن ہو گئی تھی وہ سب لوگ ہی اسے بہت ملنسار اور خوش اخلاق لگیں تھیں پھر ہانیہ نے ہلکے پھلکے مذاق کے ساتھ سب کا تعارف کرایا جس پر دادی جان سمیت سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھری تھی ماہین نے نوٹ کیا کہ دادی سے لے کع اس گھر کی ساری عورتیں بہت خوبصورت اور دلکش ہیں
معصومہ بھی مسکرا کر ایک نظر تائی ماں سے بات کرتی ماہین کو دیکھ پھر کچھ یاد آنے پر ڈائننگ ہال سے نکلی مگر دروازے پر ہی اچانک دادا جان کے سامنے آ جانے پر بمشکل قدم روک کر زبردست ٹکراؤ سے بچ گئی نہیں تو آج اگر وہ دادا جان سے ٹکرا جاتی تو ان کے عتاب سے ہرگز نہ بچ پاتی جبکہ دادا جان کے قدم بھی وہیں تھم گئے تھے سامنے گھبرائی سی معصومہ کو دیکھا جبکہ دادا جان کے پیچھے آتے باذل اور قائم نے بھی پریشانی سے یہ منظر دیکھا یقیناً ان دونوں کو بھی یہی خیال آیا تھا کہ اب معصومہ کو ڈانٹ پڑے گی باقی سب بھی سانس روکے یہی منظر دیکھ رہے تھے
” معاف کیجیے گا دادا جان ۔۔”
جانے کیوں معصومہ کو لگا وہی عجلت میں چلتی آ رہی تھی اس لیے فوراً ایک طرف ہوتی سر جھکا کر آہستگی سے بولی
پھر وہ ہوا جس کو دیکھ کر معصومہ سمیت ہر ایک کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں معصومہ کے سر جھکا کر معافی مانگنے پر دادا جان نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تھا اور آگے بڑھ کر اپنی سربراہی کرسی پر براجمان ہو گئے قائم بھی مسکرا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا جبکہ معصومہ ہونق بنی وہی کھڑی تھی جب باذل نے اس کا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیا اور آگے بڑھتا ہوا معصومہ کو کرسی پر بیٹھایا پھر خود اپنی جگہ پر آ بیٹھا
” شاکڈ سے نکل آؤ اور سہی سے کھانا کھاؤ ۔۔ پھر سیدھی طرح کمرے میں چلی آنا جاناں ۔۔”
معصومہ کو ایک ہی سمت بیٹھے دیکھ کر باذل اس کی جانب تھوڑا جھک کر ذومعنی سے گویا ہوا تو معصومہ نے چونک کر باذل کی مسکراتی آنکھوں میں دیکھا اور اس کی بات اور نگاہوں کا مفہوم سمجھتی شرم سے نگاہیں جھکا گئی
جبکہ دادی جان نے مظفر صاحب سے ماہین کا تعارف کروایا تو ماہین نے جھجکتے ہوئے دادا جان کو سلام کیا جس جواب دادا جان نے نرمی سے دیا پھر بہت پر سکون ماحول میں کھانا کھایا گیا
/////////////////////////////
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں مجھے آپ سب کے تبصرے پڑھ کر بہت اچھا لگتا ہے 😊❤❤
