Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 22
ماہین کھانے کے دوران چور نگاہوں سے اپنے سامنے بیٹھے قائم کو دیکھتی رہی تھی مگر ستم یہ کہ قائم نے ایک نظر اسے دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا اور سنجیدہ چہرے کے ساتھ اپنی پلیٹ کر جھکا کھانا کھانے میں مصروف تھا اچانک ہی ماہین کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا بھلے ہی شیرازی ہاؤس کے تمام افراد کا رویہ اس کے ساتھ اچھا تھا مگر قائم کا بےحد سرد رویہ اس کے دل پر تیر چلا رہا تھا وہ بمشکل اپنے آنسو روکے پلیٹ سے بریانی کے تین چار چمچ سے زیادہ حلق سے نہ اتار پائی تھی کھانے کے بعد معصومہ ہی اسے دوبارہ قائم کے کمرے میں لے کر آئی تھی اور کمرے میں آتے ہی تنہائی پاتے ماہین نے زار و قطار رونا شروع کر دیا تھا رات کے گیارہ سے اوپر وقت ہونے پر اس کے رونے میں اور شدت آ گئی تھی آج اس محل نما گھر کے بےحد خوبصورت کمرے میں ماہین کی سسکیاں گونج رہیں تھیں جانے کیسے کیسے خیال اس کے ذہن میں آ رہے تھے بلاشبہ وہ حسین لڑکی تھی مگر اسے لگ رہا تھا وہ شیرازی ہاؤس کی باقی لڑکیوں جیسی خوبصورت اور اعلی حسب و نسب والی نہیں تھی یا کیا معلوم کہ قائم نے اس کے باپ کے ہاتھ جوڑنے کی وجہ سے یا اسے اس کی ماں اور بہن کا واسطہ دے کر یہ رشتہ قائم رکھنے پر مجبور کیا اور جانے کتنی منت سماجت کرکے یہ نکاح ختم کرنے سے روکا ہو اسی لیے تو اسے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی ماہین میں
وہ بیڈ پر بیٹھی ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی یہ خیال ہی اسے بےتحاشہ بے چین کر رہا تھا کہ قائم مجبوری کے تحت یہ رشتہ نبھانے کو تیار ہوا ہے ورنہ اس جیسے امیر کبیر ، خوش شکل ، اعلی حسب و نسب والے ، پڑھے لکھے شخص کے لیے کیا رشتوں کی کمی تھی جبکہ اس میں ایسا کیا تھا جو وہ اس کے قابل ہوتی وہ تو خود کو پہلے ہی قائم کے آگے کمتر سمجھ بیٹھی تھی مزید قائم کے رویے نے اس کے شک کو یقین میں بدل دیا تھا
اس کے ماں باپ کے پاس تو اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ اسے شاندار انتظام کے ساتھ رخصت کر سکتے بلکہ خاموشی سے سادگی سے رخصت کر دیا کیا یہ غم کم تھا کہ اس کے باپ کا علاج بھی قائم ہی کروا رہا تھا وہ یقیناً قائم کے احسانات تلے دب گئی تھی
اس کی ماں نے تو اسے جانے کتنی نصیحتیں کیں تھی کہ قائم کو کبھی شکایت کا موقع نہ دینا محبت ، پیار ، خدمت سب دینا مگر وہ کیسے کرتی کچھ اس کے شوہر نے تو ایک دن میں ہی بتا دیا کہ اسے اس کے ہونے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا
اور بھی جانے کیسے خیال اس کے دماغ میں گردش کر رہے تھے مگر دروازے کھلنے کی آہٹ پر اس کے دل کی دھڑکن جیسے تھم سی گئی تھی چہرے پر بہتے آنسو بھی ساکن ہو گئے تھے آنسوؤں سے لبالب آنکھیں کمرے میں داخل ہوتے قائم پر جم سی گئیں تھی وہ اپنا رونا بھولے دروازہ لاکڈ کرتے قائم کو مبہوت سی تکنے لگی
وہ کسرتی جسامت پر پینٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا سیاہ بال اس کی سیاہ آنکھوں جیسے تھے رنگت خاصی صاف تھی چہرے پر ہلکی ہلکی داڈھی موچیں تھیں جو اس کی شخصیت کو مزید پُروقار بناتی تھی وہ مبہوت سی قائم کو دیکھ رہی تھی جبکہ قائم دروازہ بند کرتا مڑا اور بیڈ کے کنارے پر ٹکی ماہین کے نازک و دلکش سراپے کو گہری مگر پاک نگاہوں سے تکتا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا پہنچا اور چند انچ کا فاصلہ رکھتا اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا اور ماہین کے بھیگے چہرے کو دیکھ کر یکدم اسے پریشانی نے آن گھیرا
” ماہین آپ ٹھیک ہیں ۔۔؟؟”
ماہین کی سرخ روئی روئی آنکھوں کو دیکھتا وہ ماتھے پر پریشانی سے بل ڈالے پوچھ رہا تھا جبکہ اس کی بھاری آواز پر ماہین ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور اپنی حرکت کا احساس ہوتے شرمندگی سے سر جھکا گئی اور محض سر ہلا کر قائم کی بات کا جواب دیا
” رو کیوں رہیں تھیں آپ ۔۔؟”
کس قدر نرم اور احترام لیے ہوئے لہجہ تھا اس کا کہ ماہین نے حیرت سے سر اٹھا کر دیکھا جس کی نگاہیں اسی کے چہرے پر تھیں قائم کی گہری نگاہیں خود پر دیکھ کر وہ پہلی بار شرم سے اپنی نگاہیں جھکا گئی
” وو ویسے ہی ۔۔”
سر اور نگاہیں جھکائے وہ جھجک کر بولی تھی اسے اب احساس ہوا تھا کہ قائم اس کے اتنے قریب بیٹھا ہے نامحسوس انداز میں وہ خود میں سمٹ سی گئی تھی
” گھر والوں کی یاد آ رہی ہے ۔۔ ؟؟”
قائم اس کے جواب پر مطمئن نہیں ہوا تھا تبھی ذہن میں آئے خیال کا اظہار کیا اس کی بے خبری ماہین کو تکلیف تو پہنچا رہی تھی کہنا چاہ رہی تھی کہ وہ اتنا اس کے رویے سے دل برداشتہ ہوئی ہے ورنہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنسو بہانے والے تو ہرگز نہ تھی مگر کس طرح شکوہ کرتی اس بے خبر سے
” جی ۔۔!”
مزید آنسوؤں کو بہنے سے روکتی وہ محض اتنا ہی کہہ سکی جبکہ دل تو اس کی قربت اور اس کے نرم انداز پر ارتعاش برپا کر رہا تھا
” آپ کا دل جب چاہے آپ ان سے ملنے جا سکتیں ہیں ۔۔ یا انہیں یہاں بلوا سکتی ہیں ۔۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے اب پلیز رونا نہیں ۔۔ “
قائم اس کے مزید قریب ہوتا اپنی ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کے چہرے پر بہتے آنسوؤں کو چنتا فکرمندی سے گویا ہوا جبکہ اس کے نرم لمس پر ماہین کو مزید رونا آیا تھا اور اس بار وہ خود کو روک نہ سکی تھی اور چہرے پر دونوں ہاتھ جمائے با آواز بلند رونے لگی تھی جبکہ اس کے اتنی شدت سے رونے پر قائم صحیح معنوں میں گھبرا گیا تھا
” پلیز ماہین روئیں نہیں ۔۔ “
قائم اس کے چہرے پر نظریں جمائے اس کے نرم و نازک ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیتا اس قدر سنجیدگی سے بولا تھا کہ ماہین نے اس کی پریشان آنکھیں میں دیکھتے ہوئے فوراً رونا بند کر دیا مگر پھر بھی کمرے میں اس کی رونے کے باعث بندھی ہچکیاں گونج رہیں تھیں
” کوئی اور بات ہے کیا ۔۔؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے آپ سے ؟؟ آپ نے کھانا بھی صحیح سے نہیں کھایا ۔۔ ؟؟”
وہ ماہین پر ظاہر کر گیا کہ وہ اتنا بے خبر بھی نہیں تھا اس کے وجود سے مگر ماہین تو اس کے نرم انداز پر مزید بکھرتی جا رہی تھی اسے کہاں قائم سے اتنے اچھے رویے کی امید رہی تھی
” پلیز بتائیں کیا بات ہے اس طرح کیوں رو رہیں ہیں آپ ۔۔ ؟”
ماہین کے ہاتھ ابھی بھی اس کے ہاتھوں میں تھے اور وہ سر جھکائے بیٹھی آنسو بہا رہی تھی اسے ہنوز خاموش پا کر قائم دوبارہ پوچھنے لگا
” کک کسی نے کچھ نہیں کہا ۔۔ یی یہاں سب بہت اچھے ہیں ۔۔ “
وہ اصل بات چھپا کر بھیگی آواز میں بولی تھی جبکہ قائم اس کی نم آنکھوں میں دیکھنے لگا تھا یہ بھی تو ایک لڑکی تھی جانے کتنے خواب اور ارمان اپنے دل میں بسائے آئی تھی یقیناً نکاح کے وقت وہ آٹھ سال تھی اتنے سالوں میں جانے قائم کے لیے کیا جذبات رکھتی ہو گی اسے دیکھتا وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا
” پھر کیا بات ہے ؟؟”
ماہین کی جھکی پلکیں پہلی مرتبہ قائم کے دل میں شور مچا رہیں تھیں اور پھر رشتے کا استحقاق تھا کہ وہ اب اسے خود سے لگاتا اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر پوچھنے لگا جبکہ ماہین تو اس کے نرم لمس پر ہی بکھر رہی تھی قائم کے اسے اپنے ساتھ لگانے پر وہ اس کے شانے پر اپنا سر ٹکا گئی بلاشبہ ایک دوسرے کی پہلی بار قربت کے باعث ان دونوں کی ہی دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر قائم نے نرمی سے اسے خود سے جدا کیا تھا
” آآ آپ نے میرے بابا کے ہاتھ جوڑنے پر ہامی بھری تھی نا مجھے اپنانے سے ۔۔؟؟”
قائم کے سنجیدہ چہرے پر نگاہیں جمائے وہ آہستگی سے پوچھ رہی تھی اس کے لہجے میں کتنی آس تھی ، امید تھی ،کہ ابھی وہ اس کی بات کی نفی کر دے گا اس کی بات پر قائم نے ایک لمبا سانس لیا تھا
” نکاح کوئی معمولی عمل نہیں ہوتا جسے جب چاہا انجام دے دیا اور جب چاہا ختم کر دیا جائے ۔۔ ہاں میں خاموش تھا اس معاملے پر کیونکہ حالات کچھ ایسے رہے تھے مگر پھر پہل آپ کے بابا نے کی تھی مجھ سے رابطہ کرکے ۔۔ جب آپ کے بابا نے کہا کہ آپ بھی رشتہ رکھنا چاہتی ہیں تو میں کیوں اعتراض کرتا ؟؟ آپ کو میری امی نے چنا تھا میرے لیے ۔۔ بلاوجہ نکاح ختم کرنا تو بلکل معقول عمل نہیں تھا ۔۔ رہی بات آپ کے بابا کی تو اگر وہ اس معاملے میں پہل نہ کرتے تو یقیناً میں خود کرتا کیونکہ نکاح میں تھیں آپ میرے ۔۔ اپنے نام کی زنجیر آپ کے پیروں میں ڈال کر انتظار کی سولی پر لٹکانا آپ کے ساتھ ظلم تھا اور خدا مجھے کبھی ظالم نہ بنائے ۔۔”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ٹھہر ٹھہر کر مضبوط لہجے میں بول رہا تھا اس کے انداز اور آنکھوں میں سچائی تھی جو ماہین کو بھی صاف دیکھائی دے رہی تھی وہ اس کی باتوں میں کھو سی گئی تھی کہ اس کی بات کا جواب بھی نہ دے سکی
” اور کوئی بات جو آپ کو پریشان کر رہی ہو ۔۔؟؟”
ماہین کو ہنوز خاموش پا کر وہ اس کے خوبصورت چہرے پر نگاہیں جمائے پوچھ رہا تھا جبکہ ماہین نے نفی میں سر ہلایا تھا
” میں جانتا ہوں ماہین کہ ایک مضبوط رشتہ ہونے کے باوجود ہمارے درمیان فاصلے ہیں اسی لیے آپ جھجک رہیں ہیں مجھ سے بات کرنے سے ۔۔ لیکن آپ میری بیوی ہیں اگر کوئی بھی بات آپ کے دل میں ہے تو بلا جھجک کریں ۔۔ ہم دونوں کوشش کریں گے تو فاصلے ختم ہوں گے نا ۔۔ “
وہ اس بار ہلکا سا مسکرا کر بول رہا تھا کہ ماہین نے بھی لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے اس کی تائید میں سر ہلایا
” میں شاید آپ کے قابل نہیں ہوں کسی لحاظ سے بھی ۔۔ ہماری حیثیت بلکل بھی آپ کے برابر نہیں ہے ۔۔”
بلاشبہ وہ صاف دل لڑکی تھی دل میں آئی بات فوراً پوچھ بیٹھی
” میری امی بھی اسی ماحول سے نکل کر شیرازی ہاؤس بیاہ کر آئیں تھیں ۔۔ میرے باپ نے محض ان کی خوبصورتی کی وجہ سے ان سے شادی کی تھی ۔۔ اور اپنے ظرف کے مطابق انہیں رکھا ۔۔ اور جہاں تک آپ کی بات ہے ماہین تو آہستہ آہستہ میرے عمل سے آپ کو میرے ظرف کا ادراک ہو جائے گا ۔۔ “
وہ لہجے میں بے حد احترام لیے مضبوط عزائم لیے بول رہا تھا جبکہ ماہین محویت سے اسے دیکھ رہی تھی
” آپ بہت اچھے ہیں ۔۔”
بے اختیار ہی ماہین کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے تھے جبکہ قائم کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
” سب سے ملیں آپ ؟؟ کیسے لگے سب ؟؟ معصومہ سے ملیں ؟؟ میری بہن ہے وہ ۔۔!”
قائم نے ماحول کی افسردگی زائل کرنے کی غرض سے باتوں کا رخ بدلا تھا جبکہ وہ اب بغور ماہین کا جائزہ لے رہا تھا سرخ رنگ اس کی سفید رنگت پر بھلا لگ رہا تھا روئی روئی سی آنکھیں ، جوڑے میں سے بال نکل رہے تھے دوپٹہ سر سے اتر کر کاندھے پر آ گیا تھا بلاشبہ وہ خوبصورت لڑکی تھی یا شاید قائم پہلی بار کسی لڑکی کا اس طرح بغور جائزہ لے رہا تھا قائم کی گہری نگاہیں ماہین کو پزل کر رہیں تھیں
” سب بہت اچھے ہیں ۔۔ اور معصومہ تو بہت زیادہ اچھی ہے ۔۔ “
وہ قائم کی نرم گرفت سے با آسانی اپنے دونوں ہاتھ نکال کر اس کی نگاہوں سے گھبرا کر بولی تھی
” ہمم اوکے اب آپ آرام کریں کافی رات ہو گئی ہے ۔۔”
قائم اس کا اپنی قربت کی وجہ سے گھبرانا محسوس کر رہا تھا تبھی فوراً بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولا جبکہ ماہین اب اسے واشروم میں جاتا دیکھ رہی تھی
//////////////////////////////
معصومہ ، ماہین کو کمرے میں چھوڑ کر اب اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی باذل تو پہلے ہی کمرے میں جا چکا تھا اسے باذل کی بات اور شوق انداز یاد آیا تو لب اپنے آپ مسکرائے تھے
دروازے کے سامنے پہنچ کر جانے کیوں اس کی حالت غیر ہونے لگی تھی کپکپاتے ہاتھوں سے دروازہ کھولتی وہ اندر داخل ہوئی تو بے ساختہ نگاہ صوفے پر بیٹھے ٹانگ پر ٹانگ رکھے باذل پر پڑی جو ایک ہاتھ میں موبائل تھامے سکرین پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں آدھا جلا سگریٹ دبائے ہوئے تھا کمرے میں سگریٹ کی بو ہر سو پھیلی ہوئی تھی بے ساختہ معصومہ نے اپنے ناک پر ایک ہاتھ رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے دروازہ بند کر کے مڑی تھی اب اس کے قدم باذل کی جانب تھے باذل بھی اب معصومہ کی جانب متوجہ ہوا تھا معصومہ کو اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھتا دیکھ کر باذل نے فوراً سگریٹ ایش ٹرے میں مسل دی جہاں پہلے ہی کئی سگریٹ راکھ بنی پڑیں تھیں اور پھر اٹھ کر معصومہ کو بغیر دیکھے کھڑکی کی جانب بڑھا نفیس پردے ہٹا کر کھڑکی کھولنے کے بعد وہ دوبارہ موبائل پر نگاہیں جمائے صوفے پر آ بیٹھا تھا معصومہ اس کی ساری کاروائی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی جبکہ اس کا ایک ہاتھ ہنوز ناک پر تھا
” ایک بات پوچھو ۔۔؟؟”
وہ باذل کو اپنے ساتھ بیٹھتا دیکھ کر اس کا بازو تھامتی بولی تھی جبکہ اب آہستہ آہستہ کمرے سے سگریٹ کی بو کم ہو رہی تھی تبھی معصومہ ہاتھ ناک سے ہٹا چکی تھی
” جاناں اجازت مانگ رہیں ہیں ۔۔؟؟”
باذل موبائل میز پر رکھتا مکمل طور پر معصومہ کی جانب متوجہ ہوتا بولا تھا گہرے نیلے رنگ کے جوڑے میں اس کا سرخ و سفید سراپا جگ مگ کر رہا تھا سر پر سلیقے سے لیا ہوا دوپٹہ ، چہرے پر معصومیت اور شرم و حیا کے رنگ ، باذل کو اس کی قربت بہکا رہی تھی
” نہیں تو ۔۔ اجازت کیوں مانگوں گی ۔۔”
معصومہ اپنی آنکھیں باذل کی بےحد سرخ آنکھوں پر جمائے جتاتے ہوئے انداز میں بولی جبکہ معصومہ کے انداز پر باذل کے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی
” اچھا بتاؤ کیا پوچھنا چاہتی تھی ۔۔ ؟؟”
باذل نگاہیں معصومہ کے شفاف چہرے پر جمائے سنجیدگی سے پوچھتا اپنا سر صوفے کی پشت سے ٹکا چکا تھا جبکہ بازو ابھی بھی معصومہ کے نازک ہاتھوں میں تھا باذل کو اس کا نرم لمس اپنے بازو پر بہت سکون پہنچا رہا تھا
” میرے سامنے یہ بجھا دیتے ہیں آپ ہمیشہ ؟؟ کوئی خاص وجہ ۔۔؟؟”
معصومہ نگاہیں ہنوز باذل کی آنکھوں پر جمائے ایش ٹرے کی جانب انگلی سے اشارہ کرتی عام سے انداز میں پوچھ رہی تھی جبکہ اس کے سوال پر باذل کے سپاٹ چہرے پر تبسم بکھرا تھا
” تمہارے احترام میں جاناں ۔۔ “
باذل نے مختصر جواب دیا تھا جبکہ اب وہ معصومہ کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹا کر اپنے لبوں سے لگا چکا تھا معصومہ نے نا سمجھی سے باذل کو دیکھا یقیناً وہ باذل کی بات سمجھ نا سکی تھی
” یہ بات اخلاقیات کے خلاف ہے جاناں کہ تمہارے سامنے سگریٹ پھونکتا رہوں میں جبکہ تمہیں اس بات سے ضرر پہنچتا ہے یقیناً تمہیں یہ عادت پسند نہیں ہے میری ۔۔”
باذل اس کے نازک سراپے کو مکمل اپنے حصار میں لیتا بولا تھا جبکہ معصومہ بے یقینی کے عالم میں اسے تکنے لگی تھی وہ کتنا حسین مرد تھا کیا مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جیسا اس کا ہمسفر تھا وہ ہمیشہ اس کا نیا روپ دیکھتی تھی جو پہلے سے زیادہ حیران کن ہوتا تھا جبکہ معصومہ کو اپنی جانب تکتے پا کر باذل اس کے چہرے پر جھکا تھا اور پے در پے جسارتیں کر رہا تھا معصومہ کا وجود باذل کے شدت لیے جذبات کے باعث ہولے ہولے لرز رہا تھا وہ باذل کی قمیض اپنی دونوں مٹھیوں میں سختی سے جکڑ چکی تھی
” سسس سنیں ۔۔!!”
وہ اس کے لب آزاد کرتا اب اس کا دوپٹہ ہٹا کر گردن پر جھک رہا تھا جب معصومہ بمشکل بول پائی
” کیا ہوا جاناں ۔۔؟؟ “
معصومہ کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر باذل پریشان ہوتا پوچھ رہا تھا جبکہ معصومہ نفی میں سر ہلاتی اب اس کے سینے سے لگ چکی تھی اور اپنی سانسوں کو ہموار کر رہی تھی
” پپ پتہ نہیں عجیب طبیعت ہو رہی ہے ۔۔ “
وہ باذل کے سینے سے لگی بوجھل آواز میں بولی تھی باذل نے فکرمندی سے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر بلند کیا اور اس کے چہرے کو بغور دیکھنے لگا وہ آنکھیں بند کیے بے ترتیب سانسیں لے رہی تھی باذل نے اسے سہارا دیا اور کھڑکی کے پاس لے آیا تھا معصومہ کا نازک سراپا مکمل باذل کے حصار میں تھا وہ اسے سینے سے لگائے اس کی کمر کے گرد اپنے مضبوط بازوؤں کا حصار بنائے اسے اپنا سہارا دیے کھڑا تھا معصومہ نے بھی خود کو باذل کے سپرد کیا ہوا تھا اور آنکھیں موندے باذل کے سینے سے لگی کھڑکی سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کو محسوس کر رہی تھی آہستہ آہستہ وہ پرسکون ہو رہی تھی
” جاناں اب کیسا محسوس کر رہی ہو ؟؟”
وہ اس کی کمر کو سہلاتا لہجے میں بے حد محبت ، فکرمندی ، پریشانی لیے پوچھ رہا تھا جبکہ اس کے اس قدر فکر کرنے پر معصومہ کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں دل میں کروڑوں بار خدا کا شکر ادا کیا کہ اتنی فکر اور خیال رکھنے والا شوہر اس کے نصیب میں لکھا
” آپ پاس ہوں تو خودبخود ٹھیک ہو جاتی ہوں میں ۔۔ “
وہ باذل کے سینے سے لگی بے خود سی بولی تھی اسے خود بھی احساس نہ ہوا کہ وہ کیا بول گئی ہے باذل کے پرفیوم کی مہک اس کی دھڑکن کو مزید تیز کر رہی تھی جبکہ باذل اس کی بات سن کر بے ساختہ اس کے بالوں پر اپنے دہکتے لب رکھ چکا تھا کئی پل وہ دونوں یوں ہی ایک دوسرے کی دھڑکن محسوس کرتے رہے تھا اور آنکھیں موندے سانسوں کی آواز سنتے رہے تھے
” آپ کے بھائی کافی آپ کے جیسے دکھتے ہیں ۔۔ آپ کو پتہ ہے یہ وہیں ہیں جو مجھے یونیورسٹی میں ملے تھے ۔۔”
معصومہ اب کافی بہتر محسوس کر رہی تھی مزید باذل کی قربت اور خاموشی کے ساتھ بار بار اپنے بالوں پر باذل کے لبوں کا لمس اور کمر پر ہاتھ کا نرم لمس اسے بے حال سا کر رہا تھا تبھی باذل کا دھیان بٹاتی گویا ہوئی تھی
” ہممم ۔۔ ہم دونوں اپنی امی جیسے ہیں بالوں کا رنگ ، آنکھوں کا رنگ ہم دونوں کا امی جیسا ہے ۔۔ “
بوجھل آواز میں گویا ہوا وہ ایک ہاتھ سے معصومہ کی کمر کو سہلا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں کو جبکہ معصومہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا سر اٹھا کر اس کی مخمور آنکھوں میں دیکھا مگر اسے ہمیشہ کی طرح ان آنکھوں میں عجیب وحشت دیکھائی دی تھی فوراً نگاہیں جھکا کر مزید اس کے سینے میں سمٹ گئی تھی
” اب میں ٹھیک ہوں ۔۔ اور مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔ “
ہولے ہولے لرزتے وجود کے ساتھ وہ بمشکل بول پائی تھی جبکہ اس کی بات سن کر باذل نے تابیداری سے سر ہلایا اور کھڑکی بند کر کے پردے درست کیے اور لائٹ آف کرتا معصومہ کو اپنے ساتھ لگائے بیڈ تک لایا اور اسے لٹا کر بے خود سا معصومہ پر جھکا اور معصومہ کے کوئی بھی مزاحمت کرنے سے پہلے وہ اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا کئی لمحوں بعد وہ اس کی گردن کے خم پر تلوں پر جھکا تھا ایک خوبصورت رات ان دونوں کو اپنے حصار میں لے چکی تھی
/////////////////////////////
جاری ہے
