Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 23
معصومہ ابھی یونیورسٹی کے گیٹ کے اندر داخل ہی ہوئی تھی کہ یکدم ہی اس کا سر چکرایا تھا اگر بروقت دیوار کا سہارا نہ لیتی تو وہ یقیناً سڑک پر بری طرح زمین بوس ہو جاتی ایک ہاتھ سے اپنے سر کو تھام کر اور دوسرے ہاتھ سے دیوار کا سہارا لیے وہ چند پل کھڑی رہی تھی آس پاس سے گزرنے والے لڑکے لڑکیاں اسے دیکھ رہے تھے بمشکل وہ دیوار کا سہارا لے کر چلتی ہوئی گھاس پر بیٹھ گئی کل رات کو بھی اس کی ایسی ہی عجیب طبیعت ہو رہی تھی مگر اب اچانک مسلسل اسے چکر آ رہے تھے ابھی تو باذل اسے خود یہاں چھوڑ کر گیا ہے تھا بلکل ٹھیک تھی اس کی طبیعت مگر اس تو بوجھل سی ہو رہی تھی اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر لبوں سے لگائی مگر چند گھونٹ بھرنے کے بعد ہی اس کا جی متلانے لگا لیکن صد شکر کہ متلی نہ آئی ورنہ یونیورسٹی میں سب کے سامنے سبکی ہوتی
اپنے اسکارف کو ہلکا سا ڈھیلا کیا تھا کہ دل گھبرا رہا تھا گہرے گہرے سانس لیتی وہ آنکھیں بند کر کے خود کو نارمل کرنے کی ممکنہ طور پر کوشش سر انجام دے رہی تھی ایک دل میں خیال آیا کہ باذل کو کال کر کے بلا لے اب ایسی طبیعت کے ساتھ وہ کلاسز ایسے لے گی مگر پھر سوچا کہ ایک کلاس مس کر کے دوسری لے لے گی کیونکہ دوسری کلاس شروع ہونے میں ابھی وقت تھا کیا پتہ اس وقت تک طبیعت بھی بحال ہو جائے
جب طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو کلاس میں جانے کا ارادہ ترک کر کے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے سیڑھیوں پر آ بیٹھی کافی دیر وہیں پر بیٹھ کر ثمرہ کا انتظار کرنے لگی ثمرہ اس کی یونیورسٹی میں واحد دوست تھی دوستی بہت زیادہ گہری نہیں ہوئی تھی لیکن ان دونوں کی ہی کسی اور سے دوستی نہ ہونے کے باعث وہ دونوں ایک دوسرے سے بات چیت کرنے لگ گئیں تھی معصومہ اس بات پر خاصی حیران ہوتی تھی کہ ہر کوئی اس سے دور دور کیوں رہتا ہے ایک واحد ثمرہ تھی جو مستقل اس کے ساتھ تھی ثمرہ اسے ہمیشہ تھوڑی پراسرار لگتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ ثمرہ زیادہ بات نہیں کرتی تھی فقط معصومہ سے ہی کام کی بات کرتی تھی اس کے علاوہ وہ کسی کو دیکھتی بھی نہ تھی یہاں تک کہ یونیورسٹی کے کچھ لڑکوں ثمرہ کی عجیب فطرت کی وجہ سے اکثر اس کے ساتھ مذاق کرتے رہتے تھے مگر وہ ان سب کو خاموش رہ کر جواب دیتی کئی دفعہ معصومہ نے اسے بدتمیز لڑکوں کے چنگل سے نکالا تھا اس وقت سے ثمرہ معصومہ سے خود سے بات چیت کرنے لگی تھی
معصومہ نوٹس پر نگاہیں جمائے پڑھ رہی تھی جب دور سے باسط نے اسے سیڑھیوں پر بیٹھا دیکھ لیا معصومہ کو اس نے روبرو یونیورسٹی میں ہی دیکھا تھا مگر اس کا ذکر باذل سے بارہا سن چکا تھا باذل نے اسے اپنی شادی پر آنے پر بہت زور دیا تھا مگر وہ شیرازی ہاؤس جانا ہی نہیں چاہتا تھا نہ اپنے باپ کی شکل دیکھنا چاہتا تھا مگر معصومہ کے لیے ہمیشہ اس کے دل میں احترام رہا تھا آخر وہ اس کے بڑے بھائی کی بیوی تھی آج معصومہ کو دیکھ کر اس کے قدم معصومہ کی جانب بڑھے تھے
” السلام علیکم ۔۔!! کیسی ہیں آپ ۔۔؟”
اس کے قریب پہنچ کر دھیمی آواز میں بولا معصومہ سے تھوڑا فاصلہ رکھتا وہ سیڑھیوں سے نیچے ایک طرف ایک ہاتھ میں کتاب پکڑے دوسرا ہاتھ پینٹ کی جیب میں پھنسائے کھڑا ہو گیا تھا جبکہ کسی بھاری مردانہ آواز سن کر معصومہ نے فوراً سر اٹھایا تھا اور مسکراتے ہوئے باسط کو دیکھا
” وعلیکم السلام ۔۔ ٹھیک ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔؟”
معصومہ نوٹس بیگ میں رکھتی اپنا اسکارف درست کرتی آہستگی سے بولی تھی
” الحمداللہ ۔۔ ویسے تو آپ مجھ سے چھوٹی ہیں اور میری کزن بھی ہیں مگر بھائی کے رشتے سے بڑی ہیں آپ تو ظاہر ہے احترام کے قابل ہیں تو میں کیا آپ کو بھابھی کہہ سکتا ہوں ۔۔؟؟ “
باسط چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے لہجے میں بےحد احترام لیے گویا ہوا تھا اس کی بات سن کر معصومہ کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی
” ضرور کیوں نہیں ۔۔”
معصومہ نے مختصر جواب دیا تھا مگر چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی طبیعت بھی اب اس کی خاصی بہتر تھی
” شکریہ بھابھی ۔۔ اور ہاں وہ یونی میں آپ کے فرسٹ ڈے میں نے چھوٹا سا مذاق کیا تھا آپ سے ۔۔ اس دن کے لیے سوری پلیز ۔۔”
وہ چہرے پر مصنوعی شرمندگی سجائے اپنے بھورے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بول رہا تھا جبکہ اس کی آنکھوں میں شرارت واضح دیکھائی دے رہی تھی معصومہ نے سر جھٹکا تھا آخر کو وہ باذل شیرازی کا بھائی تھا کہاں اپنی شرارت پر شرمندہ ہو سکتا تھا
” کوئی بات نہیں ۔۔ ویسے بھی اس دن آپ ہی شاکڈ ہو گئے تھے مجھے تو زیادہ کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا میں آرام سے اپنے ڈیپارٹمنٹ تک پہنچ گئی تھی ۔۔”
وہ جتائے ہوئے انداز میں بولی تھی کہ اس کی بات اور انداز پر باسط کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
” خدا ملائی جوڑی ۔۔ جیسا شوہر ویسی بیوی ۔۔ !”
باسط دھیمی آواز میں بڑبڑایا تھا مگر معصومہ نے باخوبی سن لیا تھا اور جواباً اس نے مسکرانے پر اکتفا کیا بولی کچھ نہ
” آپ نے کلاس نہیں لی آج ۔۔؟؟”
باسط گھڑی میں وقت دیکھتا اس بار سنجیدگی سے پوچھنے لگا جبکہ معصومہ اب اپنی شانوں پر پھیلائی چادر درست کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
” بس کلاس ہی لینے جا رہی ہوں ۔۔ “
بیگ سے موبائل نکال کر آف کرتے وہ وہ دوبارہ موبائل بیگ میں رکھتی بولی تھی
” اوکے آپ کلاس میں جائیں ۔۔ پھر ملیں گے ۔۔”
باسط بھی ہاتھ میں تھامی کتاب کو سرسری سا دیکھتا گویا ہوا تھا
” آپ گھر آئیں نا ۔۔ دادا جان ، دادی جان سب یاد کرتے ہیں آپ کو ۔۔”
معصومہ اس کے چہرے کو دلچسپی سے دیکھتی بولی تھی اور اس بات پر باسط کے تاثرات یکدم سپاٹ ہو گئے تھے آنکھوں میں نرمی کی جگہ سختی در آئی تھی
” ہمم اوکے ۔۔”
باسط نے سرد انداز میں کہا اور فوراً خدا حافظ کرتا تیز تیز قدم اٹھاتا چلا جا رہا تھا معصومہ اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی پھر خود بھی اپنی کلاس کی سمت بڑھنے لگی جب اسے ثمرہ بیچ راہ میں ہی مل گئی
” معصومہ یہ کون تھا ۔۔؟؟”
ثمرہ اس کے قریب آتی دور جاتے باسط کی جانب اشارہ کرتی ہوئی عجلت میں پوچھنے لگی معصومہ کو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کا انداز پراسرار سا لگا تھا
” وہ کزن تھے میرے ۔۔ “
معصومہ نے جینز پر لونگ شرٹ پہنے دوپٹے سے بے نیاز سٹائلش سی ثمرہ کو دیکھا جن کی نگاہوں کا تعاقب باسط تھا
” کیا ہوا چلیں کلاس میں ۔۔؟ “
معصومہ نے کھوئی ہوئی ثمرہ کو شانے سے ہلا کر اپنی جانب متوجہ کیا تو وہ بغیر کچھ بولے معصومہ کے ساتھ کلاس کی جانب بڑھ گئی پھر ثمرہ نے سارا وقت معصومہ سے کوئی بات نہ کی معصومہ کو شدت سے بات محسوس ہوئی تھی کئی بار اس نے پوچھا بھی مگر ثمرہ نے کچھ نہ کہا
” معصومہ تم جانتی ہو یہ کس کا بھائی ہے ۔۔؟؟ “
وہ دونوں کلاس سے نکل کر ایک ساتھ آہستہ آہستہ چل رہیں تھیں جب ثمرہ نے معصومہ کو مخاطب کہا
” کس کے متعلق بات کر رہی ہو ۔۔ ؟؟”
معصومہ نے ناسمجھی سے پوچھا تھا
” وہی جسے تم اپنا کزن کہہ رہی تھی ۔۔ “
ثمرہ معمول سے زیادہ سنجیدگی سے بولی تھی جبکہ معصومہ کو ثمرہ کا ایسے پوچھنا کچھ عجیب لگا تھا
” تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو ثمرہ ۔۔ ؟”
معصومہ نے پیشانی پر بل ڈالے پوچھا تھا ثمرہ کی بات کا اشارہ باذل کی جانب تھا جبکہ اس طرح کبھی ان دونوں نے اپنی ذاتی زندگی کے متعلق کبھی نہیں پوچھا تھا
” معصومہ اس لڑکے سے دور رہو ۔۔ !!”
ثمرہ نے اس کی بات نظرانداز کر کے سپاٹ انداز میں نصیحت دی تھی جبکہ معصومہ کو جانے کیوں یکدم پریشانی نے آن گھیرا تھا
” مطلب کیا ہے اس بات کا ۔۔ ؟؟”
معصومہ چلتے ہوئے رک گئی تھی اور مکمل رخ ثمرہ کی سمت مڑ کر نا سمجھی سے پوچھ رہی تھی
” یہ لڑکا باس کا بھائی ہے ۔۔ ؟”
ثمرہ آس پاس دیکھتی معصومہ کے قریب ہوئی تھی اور اس کی آنکھوں میں دیکھتی دھیمی آواز میں رازداری سے بولی تھی
” کون باس ۔۔؟؟؟”
معصومہ کو ثمرہ کا رازداری سے بولنا مزید پریشان کر گیا تھا ثمرہ کی آنکھوں میں دیکھتی فوراً پوچھنے لگی
” تم بس دور رہو ان لوگوں سے ۔۔ !”
ثمرہ نگاہیں چرا کر بولی تھی
” ثمرہ مجھے بتاؤ ساری بات ایسے کیوں کہہ رہی ہو تم ۔۔؟ اور باس کون ہے ۔۔؟؟”
معصومہ ، ثمرہ کا ہاتھ تھام کر بےحد فکر مندی سے پوچھنے لگی جبکہ ثمرہ نے فوراً اپنا ہاتھ معصومہ سے چھڑوایا تھا اور آس پاس دیکھنے لگی تھی جیسے کسی سے ڈر رہی تھی پھر ایک طرف لے گئی تھی جہاں فقط وہ دونوں ہی تھیں
” باس نے میرے پاپا کو مار دیا میرے بھائی کو بھی ۔۔ وہ بہت ظالم ہے معصومہ ۔۔ اسے مجھ پر اور میری چھوٹی بہن پر بھی رحم نہیں آیا تھا کہ میرے بھائی اور باپ کے علاوہ کوئی نہیں اس دنیا میں ہمارا ۔۔ وہ انسان نہیں ہے جانور ہے جانتی ہو کتنی بے دردی سے مارا تھا س نے میرے بھائی اور پاپا کو ۔۔ ؟؟ لاشیں پہچان میں ہی نہیں آ رہیں تھیں ۔۔ اس سے تکلیف دہ منظر اور کون سا ہو گا معصومہ کہ ایک بیٹی اپنے باپ کی میت کو پہچان ہی نہ پائے ۔۔ “
ثمرہ ضبط کے مارے کپکپاتے ہوئے بھیگی ہوئی آواز میں بول رہی تھی جبکہ معصومہ کو معلوم بھی نہ ہوا کی اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا کتنی اذیت تھی ثمرہ کی آنکھوں میں ، نفرت صاف جھلک رہی تھی ثمرہ کو شاید معلوم بھی نہیں ہوا کہ اس نے الفاظ معصومہ کے جسم سے جان نکال رہے تھے معصومہ سے بولنے کی حس جیسے ثبت ہو گئی تھی
” نن نام کک کیا ہے بب باس کا ۔۔؟؟”
ٹوٹے پھوٹے الفاظ وہ بمشکل حلق سے نکال پائی تھی بار بار باذل کے محبت بھرے الفاظ ، احترام و عزت بھرا انداز اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا تو کبھی ثمرہ کے الفاظ اس کے دل میں تیر پیوست کر رہے تھے
” نام نہیں معلوم مجھے مگر میں نے بہت سرچ کیا ہے اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو ۔۔ ویسے بھی سب اسے باس کے نام سے جانتے ہیں ۔۔ یہ جو لڑکا ابھی تم سے بات کر رہا تھا یہ اس کا بھائی ہے اور باس کے ہر غلط کام میں اس کا رائٹ ہینڈ ہے ۔۔ “
ثمرہ آس پاس دیکھتی ہوئی مزید رازداری سے بول رہی تھی جبکہ معصومہ نے بے دردی سے اپنی گالوں پر آئے آنسو ہاتھوں کی انگلیوں سے صاف کیے اور وہیں بینچ پر بیٹھ گئی
” ثث ثمرہ اگر تت تمہیں میں اس لڑکے کے بھائی مطلب بب باس کو دیکھاؤں تو تت تم پہچان لو گی کہ و وہی بب باس ہے ۔۔ ؟؟”
معصومہ کا ایک بار پھر سر چکرایا تھا تبھی وہ بمشکل الفاظ ادا کر پائی تھی جبکہ ثمرہ نے ناسمجھی سے معصومہ کے رونے کے باعث سرخ ہوئے چہرے ہو دیکھا تھا
” تم کیسے دیکھاؤ گی مجھے باس کو ۔۔ ؟”
ثمرہ بھی اس کے ساتھ بینچ پر بیٹھتی ہوئی چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات لیے پوچھ رہی تھی
” تم باس کو دیکھو گی تو پہچان لو گی کیا ۔۔؟؟”
معصومہ اس بار سنبھل کر بولی تھی جانے وہ اب تک کیسے ضبط کیے بیٹھی تھی یہ وہ یا اس کا خدا جانتا تھا کہ اس کا دل کس طرح ان باتوں پر کانپ رہا تھا
” ہاں ۔۔ دیکھا ہوا ہے میں نے باس اور اس کے بھائی کو ۔۔ “
ثمرہ ماتھے پر بل ڈالے بولی تھی
” ہمم اوکے ویٹ کرو ۔۔ “
معصومہ سر ہلاتی بیگ سے اپنا موبائل نکالنے لگی تھی جبکہ ثمرہ اس کی کاروائی دیکھ رہی تھی جو موبائل آن کر کے کوئی نمبر ڈائل کر کے کان کے لگا چکی تھی
” مجھے لینے آ سکتے ہیں ۔۔؟؟”
پہلی بیل پر ہی باذل نے کال ریسیو کر لی تھی اور شوق آواز میں سلام کر کے جانے کیا پوچھ رہا تھا مگر معصومہ نے اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے فوراً اپنی بات کہہ کر کال کاٹ دی تھی
” معصومہ کیا کر رہی ہو ؟ کہاں جا رہی ہو ۔۔؟”
ثمرہ ، معصومہ کو موبائل ہاتھ میں لیے اٹھتا دیکھ کر جلدی سے پوچھنے لگی
” ثمرہ میں جس گاڑی میں بیٹھوں گی تم غور سے ڈرائیونگ سیٹ پر دیکھنا ۔۔ پھر مجھے میسج کرکے فوراً بتانا کہ وہی باس ہے ؟”
معصومہ کو یقین تھا کہ باذل ضرور اسے لینے آئے گا تبھی ثمرہ کو بولتی ہوئی اب اپنا نمبر اس کے سیل فون میں محفوظ کر رہی تھی اور پھر ثمرہ کو حیران پریشان چھوڑ کر گیٹ کی جانب بڑھنے لگی ابھی وہ گیٹ پر کھڑی باذل کا انتظار کر رہی تھی جب باذل کا میسج آیا تو میسج پڑھتی گیٹ سے باہر نکلی باذل کی گاڑی اسے سامنے ہی نظر آ گئی تھی تو قدم قدم چلتی گاڑی کی سمت بڑھی
باذل جو کہ کسی کام سے شیرازی ہاؤس سے نکل رہا تھا معصومہ کی کال دیکھ کر خوش ہوا تھا مگر معصومہ کا سرد انداز میں محض اپنی بات کہہ کر کال کاٹ دینا اسے بےحد عجیب لگا تھا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ گاڑی لے کر نکلا تھا اور یونیورسٹی کے سامنے پہنچ کر معصومہ کو باہر آنے کا میسج کیا تھا گاڑی سے باہر نکل کر وہ معصومہ کو اپنی جانب آتا دیکھ رہا تھا گولڈن کلر کے سادہ سے جوڑے میں سر پر اسکارف لپیٹے دوپٹہ شانوں پر اوڑھے ہوئے تھی جبکہ باذل کے گردن کی رگیں اس کی سرجی روئی روئی آنکھیں دیکھ کر تن گئیں معصومہ ، باذل کو بنا دیکھے فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی باذل بھی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اب وہ معصومہ کے بے تاثر چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا جانے کیوں اس کی چھٹی حس اسے کچھ غلط رونما ہونے کا اندیشہ دے رہی تھی
” معصومہ تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ۔۔؟”
وہ معصومہ کا گود میں پڑا ہاتھ تھام کر فکر مندی سے پوچھ رہا تھا جبکہ معصومہ نے ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست کرتے ہوئے باذل کو دیکھا
سیاہ شلوار قمیض میں وہ کس قدر وجہیہ مرد لگ رہا تھا مگر آج باذل کی شخصیت کا جو پہلو معصومہ کے سامنے آیا تھا وہ جاننا معصومہ کے لیے کس اذیت سے دوچار کر رہا تھا اس بات کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا تھا بلاشبہ وہ باذل سے محبت کرنے لگی تھی اور باذل کی حقیقت جاننے کے بعد اس لے دل میں بے شمار ٹیسیں اٹھ رہیں تھیں اس کے جسم سے جیسے جان آہستہ آہستہ نکل رہی تھی اسے یاد آ رہا تھا کہ باذل کئی کئی دن گھر سے غائب رہتا تھا اس کی مشکوک سرگرمیوں پر تو اسے پہلے دن سے شک تھا ہاتھ میں پکڑے موبائل پر ثمرہ کا میسج دیکھ کر اس کے شک پر یقین کی مہر لگا دی تھی
” جاناں ۔۔ جاناں ٹھیک ہو نا تم ۔۔؟”
باذل اسے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر اس کا رخسار تھپتھپاتے ہوئے پوچھ رہا تھا جبکہ معصومہ نے فوراً اپنا ہاتھ باذل کی گرفت سے نکالا تھا
” مجھے گھر جانا ہے ۔۔!”
آنکھوں میں آئی نمی بے دردی سے صاف کرتی وہ رخ موڑ کر بھیگی آواز میں بولی تھی جبکہ باذل نے مزید کچھ بولنے سے بہتر خاموش رہنا سمجھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی
شیرازی ہاؤس پہنچ کر معصومہ تیز تیز قدم اٹھاتی انے کمرے کی جانب بڑھی جبکہ باذل بھی سب کو نظرانداز کرتا معصومہ کے پیچھے لپکا
اس سے پہلے معصومہ خود کو کمرے میں بند کرتی باذل دروازے پر ہاتھ رکھتا معصومہ کو ایک ہاتھ سے اپنے شکنجے میں لیے کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ لاک کر دیا
” یہ کیا حرکت ہے معصومہ ۔۔ آخر ہوا کیا ہے تمہیں ۔۔ ؟؟”
معصومہ کے بازو کو جکڑے وہ ماتھے پر بلوں میں اضافہ کرتے ضبط کے باوجود تیز آواز میں بولا تھا
” راتوں کو کہاں رہتے ہیں آپ ۔۔ ؟ کئی کئی دن گھر سے باہر کہاں اور کس مقصد کے تحت رہتے ہیں آپ ۔۔؟؟ جواب چاہیے مجھے ۔۔!!”
معصومہ اپنا بازو باذل کی گرفت سے اپنی پوری قوت لگا کر نکالتی غرائی تھی جبکہ باذل اس کی بات اور اس کے غرانے پر اپنے غصے کو بمشکل ضبط کرتا دو قدم معصومہ سے فاصلہ قائم کر کے لمبے سانس لینے لگا جبکہ نگاہیں معصومہ کے غصے اور رونے کے باعث سرخ ہوئے چہرے پر تھی
” جواب چاہیے مجھے ۔۔ !!”
باذل کو ہنوز خاموش پا کر وہ پھر سے غرائی تھی جبکہ نگاہیں باذل کی سرخی مائل آنکھوں پر تھیں
” ضروری کام کی وجہ سے باہر جاتا ہوں جاناں ۔۔ “
باذل لہجے کو بمشکل نرم کرتا بولا تھا جبکہ معصومہ کے قریب جانے پر وہ مزید فاصلہ کر گئی تھی
” کک کون سا ایسا ضروری کام ہے مرشد صاحب جو رات کی تاریکی میں انجام دیتے ہیں آپ ۔۔ ؟ “
چکراتے ہوئے سر کو ایک ہاتھ سے تھامتی وہ کاٹ دار انداز میں اونچی آواز سے پوچھ رہی تھی جبکہ باذل نے بہت کوشش کرکے معصومہ کی یہ بات سنی تھی
” جاناں ۔۔ وقت آنے پر سب بتا دو گا تمہیں مگر ابھی تم ریلیکس کرو ۔۔ پلیز پرسکون رکھو خود کو ۔۔ دیکھو کتنی ہانپ گئی ہو ۔۔ “
باذل اس کی جانب بڑھتا ہوا ایک ہاتھ بھی اس کی جانب بڑھاتا لہجے میں فکر اور محبت لیے بولا تھا جبکہ معصومہ کے ہاتھ باذل کے گریبان تک گئے تھے
” کتنے لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا ہے ۔۔؟ کتنی بیٹیوں کو یتیم کیا ہے ۔۔ ؟؟ بتائیں مجھے باس کون ہے ۔۔؟”
باذل کا گریبان پکڑے وہ دھاڑی تھی جبکہ اس ساری کاروائی میں شانوں پر اوڑھا دوپٹہ زمیں بوس ہو چکا تھا اور اسکارف بھی سر سے اترنے کے در پے تھا
” کیا بکواس کر رہی ہو یہ ۔۔ ؟ کس نے کہا ہے یہ تم سے ۔۔ ؟؟ فوراً بتاؤ مجھے ۔۔ “
معصومہ کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹا کر وہ اپنے شکنجے میں لے چکا تھا اس بار وہ بھی ضبط نہ کر سکا تضا اور دھاڑا تھا
” مجھے میرے سوالوں کا جواب چاہیے ۔۔ ابھی اور اسی وقت ۔۔ !!”
معصومہ باذل کی سخت گرفت سے اپنے ہاتھ چھڑاتی پھر سے چلائی تھی
” ابھی جو تم نے کی ہے اس بکواس کا کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس ۔۔ اور اپنی آواز نیچی رکھو معصومہ ۔۔ پہلی اور آخری بار کہہ رہا ہوں اب ذرا سی بھی اونچی آواز تمہاری نکلی تو اگلے لمحے زبان کاٹ دوں گا ۔۔ “
باذل اس سی کلائی تھام کر اس قدر جارحانہ انداز میں بولا تھا کہ معصومہ کانپ سی گئی تھی اس کے انداز پر
لاکھ کوششوں کے باوجود اپنی کلائی وہ باذل کی گرفت سے چھڑوا نہ پا رہی تھی
جبکہ باذل اس کا کانپنا باخوبی محسوس کر رہا تھا مزید معصومہ کا بے آواز رونا اسے شدید تکلیف سے دوچار کر رہا تھا اپنے غصے پر قابو پاتا وہ اب نرمی سے معصومہ کو اپنے قریب کر گیا کتنی نازک سی تھی وہ کہ چند پل میں ہی کیسی مرجھائی ہوئی ہو گئی تھی
” خدا کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔۔ “
اس بار معصومہ باذل کے آگے ہاتھ جوڑتی شدت سے روتی ہوئی دھیمی آواز میں بولی تھی جبکہ باذل نے بے بسی سے اسے دیکھا تھا مگر اب وہ اس کی بات ماننے کے علاعہ کچھ نہیں کر سکتا تھا تبھی ایک نگاہ روتی ہوئی معصومہ پر ڈالتا کمرے بسے باہر نکل گیا جبکہ معصومہ فرش پر بیٹھتی سسکیاں بھرنے لگی
///////////////////////////
جاری ہے
