Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

ناول: تو رنگ دے
از قلم: فاطمہ

قسط نمبر 17

وہ تیز تیز قدم اٹھاتا بیڈ کے قریب معصومہ کے پاس آ کر رکا اور فوراً ہاتھ بڑھا کر اس کے اوپر سے چادر اتاری اس کا نازک وجود سمٹا ہوا تھا اسے اس طرح سمٹے ہوئے لیٹے دیکھ کر باذِل کی پیشانی پر بلوں کا اضافہ ہوا تھا نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں وہ اس کے لرزتے وجود کو بغور دیکھنے لگا تھا وہ دائیں جانب کروٹ لیے سو رہی تھی مگر نیند میں بھی وہ کس قدر بے چین تھی یہ اس کا ہلکا ہلکا کپکپاتا وجود دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا ہاتھ بڑھا کر اس نے اس کے چہرے سے بال ہٹائے اور نرمی سے اپنے ہاتھ سے اس کی پیشانی کو چھوا جو بخار کا اندیشہ دے رہی تھی
یکدم اسے پرشانی نے آن گھیرا تھا جانے وہ کب سے بخار میں تپ رہی تھی جو حالت اس قدر بری ہو رہی تھی

” جاناں ۔۔!!”
باذِل نے اس کی پیشانی کو ہلکا سا دبانا شروع کیا تھا اور محبت و فکر سے اسے پکارا تھا

” جاناں کیا ہوا ہے ۔۔؟؟ کب سے بخار ہے تمہیں ۔۔؟؟ “
وہ اس کے چہرے پر جھکا ماتھا ہلکا ہلکا دباتا کہہ رہا تھا جبکہ اس کے لہجے اور انداز میں فکرمندی واضح تھی

” جاناں پلیز آنکھیں کھولو ۔۔ بتاؤ مجھے مڈیسن لی ہے تم نے ؟؟ ۔۔”
معصومہ کو ہنوز سوتے دیکھ کر وہ مسلسل اسے بیدار کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ ہلکا سا کسما کر پھر سے سو جاتی تھی

“جاناں ۔۔!!”
ابھی وہ اسے دونوں کاندھوں سے تھام کر سیدھا کرنے ہی لگا تھا جب اس کی جینز کی جیب میں موجود اس کا موبائل وائبریٹ ہوا تھا اس نے ناگواریت سے معصومہ سے دور ہو کے جیب سے موبائل نکالا اور سکرین پر قائم کا نام دیکھ کر اس کے چہرے پر ناگواریت مزید در آئی تھی

” کہاں ہو تم ۔۔؟”
موبائل کان سے لگا کر مدھم روشنی میں اس نے معصومہ کے موبائل کی تلاش میں کمرے میں نگاہ دوڑاتے ہوئے سرسری سا پوچھا

” بس پہنچنے والا ہوں گھر ۔۔!”
موبائل کے اسپیکر سے قائم کی بھاری آواز ابھری تھی جبکہ معصومہ کا موبائل اسے سائیڈ ٹیبل پر پڑا نظر آیا تو اس نے وہ آگے بڑھ کر اٹھا لیا اور قائم کی بات سننے لگا

” مطلب گھر پر نہیں ہو تم ۔۔؟؟”
سرد انداز میں اس نے قائم سے پوچھا اور اپنا موبائل کان سے لگائے اس نے معصومہ کا فون چیک کیا مگر اسے اپنے سوا کسی اور کا نہ میسج اور نہ کال ملی تھی یہ دیکھ کر اسے تسلی ہوئی تھی

” تمہارا کام ہو گیا ہے تقریباً ۔۔؟؟”
قائم اس کا سرد انداز محسوس کرتے ہوئے اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے گویا ہوا

” تقریباً ۔۔۔؟؟”
معصومہ کا موبائل واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اس نے سپاٹ انداز میں پوچھا بیشک وہ کام کے معاملے میں بلکل نرمی نہیں کرتا تھا اور قائم کا ‘ تقریباً ‘ کہنا اسے خاصا ناگوار گزرا تھا

” مجھے پتہ ہے ہمیں آج ملنا تھا مگر مجھے ایک ضروری کام کی وجہ سے لاہور جانا پڑا اس لیے ۔۔ “
نا چاہتے ہوئے بھی قائم کو اسے وضاحت پیش کرنی پڑی

“اوہ ۔۔ لاہور ؟؟؟ تو یہ ضروری کام تھا تمہارا ۔۔؟ سمجھ گیا ۔۔!!”
باذِل نے طنزیہ انداز میں کہا اور مدھم روشنی میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا پھر سے معصومہ کو دیکھنے لگا

” کیا ۔۔۔؟؟”
قائم نے ناسمجھی سے پوچھا

” اگر اتنی ہی اپنی بیوی کی یاد ستاتی ہے تمہیں تو اسے کراچی ہی کیوں نہیں لے آتے ۔۔ “
باذِل دبی دبی آواز میں غرایا تھا جبکہ نگاہیں معصومہ کے لرزتے سراپے پر تھیں

” کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔؟؟ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔ میں کسی اور کام سے گیا تھا لاہور ۔۔ !!”
موبائل اسپیکر سے قائم کی چنگھاڑتی آواز ابھری تھی کہ باذِل نے ناگواریت سے ایک پل کو موبائل کان سے ہٹایا تھا

” ہمم مان لیتا ہوں ۔۔ مگر کل میرا دیا گیا کام ہو جانا چاہئے اور میڈیا کو کھلے دل سے انوالو کرنا کام میں ۔۔!!”
دوبارہ موبائل کان سے لگا کر وہ تحکم انداز میں کہتا بغیر قائم کی سنے وہ کال کاٹ چکا تھا اور موبائل میز پر پٹخ کر معصومہ کی جانب بڑھا

” معصومہ میری جان ۔۔ اٹھو مجھے بتاؤ کہ کچھ کھایا تم نے ؟؟ میڈیسن لی ؟؟”
وہ ایک بار پھر اس کے قریب جا کر اس کے اوپر جھکا تھا اور اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے نرمی سے پوچھنے لگا مگر معصومہ ہنوز سوتی رہی تو اسے کچھ عجیب احساس ہوا

” اتنی گہری نیند تو نہیں سوتی یہ ۔۔ “
اسے کچھ گڑبڑ کا احساس شدت سے ہوا تھا
تبھی اس کی نگاہ فرش پر پڑی جہاں کچھ پیکٹ نما چیز پڑی تھی ایک لمحہ ضائع کیے بنا باذل نے فرش سے وہ اٹھایا یہ کوئی دوائی کا پیکٹ تھا مدھم روشنی کی وجہ سے اسے نام پڑھنے میں مشکل ہوئی تو وہ اسے ہاتھ میں تھامے سوئچ بورڈ کی جانب بڑھا اور لائٹ آن کی اور نام پڑھتے ہی اس نے غصے سے معصومہ کو دیکھا

” معصومہ نے سلیپنگ پلز کیوں لیں ہیں ۔۔۔۔ بےوقوف لڑکی ۔۔!”
وہ یکدم غصے میں آیا تھا اور جارحانہ انداز میں معصومہ کی جانب بڑھا اور اسے دونوں کاندھوں سے تھام کر بیٹھایا تو وہ بوکھلا گئی اور اپنی آدھ کھلی نیند سے بوجھل آنکھوں سے باذِل کو دیکھنے لگی مگر باذِل تو اس کا سوجا ہوا چہرہ دیکھ کر ٹھٹھک گیا اور اس کے چہرے کا جائزہ لینے لگا معصومہ کے دائیں رخسار پر انگلیوں کے واضح نشان دیکھ کر چند پل لگے تھے اسے صورت حال سمجھنے میں اور پھر آہستہ آہستہ باذل کی آنکھوں کی سرخی بڑھ رہی تھی اور چہرے پر چٹانوں جیسی سختی در آئی تھی

” پلیز سونے دیں ۔۔ میرے سر میں درد ہے بہت ۔۔!!”
وہ بوجھل اور سرخ آنکھوں سے باذِل کو دیکھتی ہوئی بولی تھی

” کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔؟؟ کس نے ہاتھ اٹھایا ہے تم پہ۔۔؟؟”
بے حد سرد انداز میں وہ اس کے دونوں کاندھوں کو جھنجھوڑ کر غرایا تھا کہ اس کی بلند آواز سن کر چند پل میں ہی معصومہ کی نیند اتر گئی تھی اور آہستہ آہستہ حواس بیدار ہونے لگے تھے

” و وہ مجھے نیند آ رہی ہے پلیز مجھے سونے دیں ۔۔”
وہ صورت حال سمجھتی ہوئی باذل کے چٹانوں جیسے چہرے سے نگاہیں چراتے ہوئے منمنائی تھی

” کس نے ہاتھ اٹھایا ہے تم پر ۔۔؟؟”
معصومہ کی بات نظرانداز کرتا وہ ایک بار پھر دھاڑا تھا کہ معصومہ یکدم سہم گئی اور اپنی آنکھیں بند کر لیں مگر بند آنکھوں سے بھی وہ اپنی آنکھوں کو بہنے سے روک نہ سکی تھی جبکہ اسے بے آواز روتا دیکھ کر باذِل نے ایک پل کو اپنی آنکھیں بند کر کے پھر کھولیں اور گہرا سانس لیا اور معصومہ کے کاندھوں سے اپنے ہاتھوں ہٹا لیے

” جاناں ۔۔ کس نے ہاتھ اٹھایا ہے بتاؤ مجھے ۔۔؟؟”
اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچے وہ بہت سرد انداز میں بولا تھا بہت کوشش کے بعد بھی وہ اپنا لہجہ نرم نہ کر سکا معصومہ کا مرجھایا ، سوجا ہوا چہرہ ، جس پر انگلیوں کے نشان واضح تھے آنکھیں جانے رونے کی وجہ سے یا پھر نیند کے باعث سرخ اور سوجی ہوئیں تھیں ہلکا ہلکا کپکپاتا وجود ، اسے اس طرح دیکھ کر باذِل کے دل میں کئی تیر پیوست ہوئے تھے
وہ کبھی بھی اپنی ماں یا شیرازی ہاوس میں موجود کسی عورت پر ہوتا ظلم روک نہیں سکا تھا اپنی ماں کو تو اس نے چھ سال کی عمر میں ہی کھو دیا تھا مگر جب وہ دس سال کا تھا تب شیرین صاحبہ اس کے باپ کی دوسری بیوی بن کر شیرازی ہاوس آئیں تھیں مگر ہر عورت کی طرح ان پر بھی ہوتے ظلم پر وہ چپ نہ رہ پاتا تھا
مگر جب کبھی وہ ان کے لیے آواز اٹھاتا تھا تو اس کے باپ دادا اسے یہ کہہ کر خاموش کروا دیتے تھے کہ وہ ان کی بیویاں ہیں ان کی ملکیت ہے وہ جو چاہیں کرسکتے ہیں تو وہ ان کے معاملات سے دور رہے اور پھر وہ جانتا تھا کہ کس طرح اس نے خود کو کچھ بھی کرنے سے روکا تھا اسے نفرت ہوگئی تھی اس طرح کے ماحول سے تبھی دادا جان قائم اور اسے شیرازی ہاوس سے دور رکھتے تھے مگر آج اپنے بیوی کی یہ حالت دیکھ کر اس کا دل کر رہا تھا ہر چیر تہس نہس کر دے

” پلیز بتاؤ ۔۔ کس نے مارا ہے تمہیں ۔۔ ؟؟”
باذِل ایک بار پھر دھاڑا تھا کہ معصومہ کی برداشت یہاں جواب دے گئی اور اپنے بازؤوں کو باذِل کے گرد حمائل کرتی ہوئی اس کے سینے سے لگ کر سسک سسک کر رونے لگی
اسے گھٹ گھٹ کر روتے دیکھ کر باذِل کے دل کو بےتحاشہ تکلیف ہونے لگی
اسے یہ بات کاٹ رہی تھی کہ اس کی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی جرآت کوئی کیسے کر سکتا ہے

” چپ نہیں رہو ۔۔ مجھے بتاؤ سب کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔ کس نے ہاتھ اٹھایا ہے تم پر ۔۔ پلیز بتاؤ ۔۔؟؟”
باذِل اسے نرمی سے خود سے جدا کرتا اس بار نرمی سے پوچھنے لگا مگر معصومہ نے بےبسی سے اسے دیکھا اور پھر سر اور نگاہیں جھکا کر بے آواز رونے لگی

معصومہ کی ہنوز خاموشی سے وہ جھنجھلا گیا تھا مزید اس کا رونا اسے بےحد پریشان کر رہا تھا اور وہ اسے وہیں چھوڑ کر تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ معصومہ چند لمحے اس کے جنونی انداز کے بارے میں سوچتی رہی اور پھر آنسو صاف کرتی پریشانی سے اس کے پیچھے کمرے سے باہر نکلی
مگر جب وہ سیڑھیوں کے پاس پہنچی تو اس کے قدم وہیں جم گئے اسے لاؤنج سے چیزوں کے ٹوٹنے کہ زوردار آوازیں آ رہی تھی
یکایک شیرازی ہاوس کی بتیاں روشن ہونے لگیں اور وہاں کا ہر مکین زوردار آوازیں سن کر اپنے اپنے کمرے سے باہر نکل رہا تھا
جبکہ پانچ منٹوں میں ہی باذل اس خوبصورت لاؤنج کی حالت بگاڑا چکا تھا قیمتی واز ، قیمتی آئینے ، سجاوٹ کی ہر وہ قیمتی شے جو اس کے سامنے آ رہی تھی وہ اٹھا کر زور سے فرش پر پٹخ رہا تھا
یقیناً شیرازی ہاؤس کے ہر مکین کو خواب خرگوش سے بیدار کرنے کا اچھا طریقہ آزمایا تھا باذِل شیرازی نے !!
مظفر صاحب سمیت ہر کوئی لاؤنج میں آ چکا تھا اور باذِل کا جارحانہ انداز دیکھ کر سب کو اندازہ ہو چکا تھا کہ باذہ کو آج ہوئے واقعہ کا علم ہو چکا ہے
” بب باذل ۔۔!!”
مظفر صاحب نے آگے بڑھ کر اسے روکنا چاہا تھا مگر باذِل نے ان کی پکار نظرانداز کر کے شیشے کا میز اٹھا کر زور سے فرش پہ دے مارا کہ باقی سب تو چلنا چور شیشے کو ہوتا دیکھ کر کانپ ہی اٹھے تھے بلکہ مظفر صاحب کے باذل کے جامب بڑھتے قدم وہیں زمین پر جم گئے
” باذِل میرے شیر ۔۔!! ٹھنڈے رہو ۔۔ !!”
وہ ایک بار پھر وہی کھڑے باذل کو دیکھتے آہستگی سے بولے تھے جبکہ باذل نے ان کی بات کا کوئی جواب نہ دیا وہاں ملازمین سمیت ہر کوئی پہنچ چکا تھا ماسوائے ساجد صاحب کے جبکہ ماجد صاحب اور عابد صاحب کی پیشانی سے بھیگنے لگی

جبکہ معصومہ بمشکل اپنا لرزتا وجود لے کر سیڑھیاں اترتی لاؤنج میں داخل ہوئی تھی باقی سب نے لاؤنج میں داخل ہوتی معصومہ کو دیکھا تو معصومہ نے بھی سب کو اپنی سوجی ہوئی آنکھوں سے دیکھا پھر نگاہوں کا رخ باذِل کی جانب کیا اسی پل باذل نے بھی معصومہ کو دیکھا اور باقی سب کو نظرانداز کرتا چند قدم آگے بڑھ کر معصومہ تک پہنچا جبکہ معصومہ سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی اور اپنے دوپٹے پر ہاتھ سے گرفت مضبوط کر لی

” ہاں اب بتاؤ ۔۔؟؟ کس نے ؟؟ کس نے ہاتھ اٹھایا ہے تم پر ۔۔؟؟”
وہ جھپٹ کر معصومہ تک پہنچا تھا اور اس نے بازو تھام کر دھاڑا تھا کہ اس کی بھاری گرجدار آواز شیرازی ہاؤس میں گونجی تھی معصومہ سمیت ہر کوئی کانپ اٹھا تھا

” آ آپ پلیز مم میری بات سنیں ۔۔!!”
وہ باذل کی گرفت میں اپنی آواز اور وجود کی کپکپاہٹ پر قابو پاتی بمشکل بول پائی تھی

” ہاں تمہیں ہی سننا چاہتا ہوں ۔۔بتاؤ کس نے کیا ہے یہ بولو۔۔؟؟”
وہ اپنے ایک ہاتھ سے اس کے دائیں گال کو ہلکا سا چھو کر اس بار نرمی سے پوچھا تھا مگر معصومہ اس کا نرم لمس اپنی گال پر محسوس کرتی ہلکا سا کراہ اٹھی تھی اور اپنی آنکھیں میچ لی تھی

” باذِل ۔۔!!”

” باذِل ۔۔! کیا کر رہے ہو یہ تم ؟؟ ۔۔ چھوڑو اسے ۔۔!!”
یہ قائم کی دھاڑتی آواز تھی جو ابھی ہی شیرازی ہاؤس میں داخل ہوا تھا مگر لاؤنج سے باذِل کی چنگھاڑتی آوازیں سن فوراً اندار داخل ہوا تھا مگر سامنے روتی ہوئی آنکھیں میچے معصومہ کو باذِل کی گرفت میں دیکھ کر اس کا دماغ غصے سے پھٹنے لگا تھا وہ فرش پر بکھرے کانچ کی پرواہ کیے بغیر بھاگ کر فوراً ان دو تک پہنچا تھا اور باذِل کو بازو سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا تھا اور معصومہ کے بازؤوں سے باذِل کے ہاتھ ہٹائے تھے

” تم بیچ میں مت آؤ قائم شیرازی ۔۔ میں اپنی بیوی سے مخاطب ہوں ۔۔ کوئی بیچ میں نہیں آئے گا ۔۔ بتاؤ مجھے کس نے جرآت کی ہے باذل شیرازی کی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی ۔۔؟؟”
وہ قائم کو لہو لہان آنکھوں سے دیکھتا دھاڑا تھا اور ایک بار پھر معصومہ سے مخاطب ہوا تھا جو اب قائم کے سینے میں منہ چھپائے رو رہی تھی جبکہ اس کی بات سنتے ہی قائم نے اپنے سینے سے لگی معصومہ کو خود سے جدا کیا اور اس کو پریشانی سے دیکھنے لگا

” معصومہ میری جان ۔۔! میری گڑیا ۔۔!! کیا ہوا ہے بچے بتاؤ مجھے ۔۔؟؟”
قائم اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر فکر مندی سے پوچھنے لگا جبکہ معصومہ کا سوجا گال دیکھ کر اس کی آنکھوں میں سرخی اتری تھی اور ماتھے پر بلوں میں اضافہ ہوا تھا

” بب بھائی آپ دونوں غصہ نہیں کریں پلیز مم میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔”
وہ باذِل کے جنونی انداز پر حقیقتاً سہم گئی تھی ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھتی قائم سے آہستگی سے بولی

” چہرہ دیکھا ہے تم نے اپنا ؟؟ کہاں سے لگ رہا ہے تم ٹھیک ہو ۔۔؟؟”
معصومہ کی آہستہ آواز بھی باذل نے سن لی تھی اور اس کے چہرے کی جانب اشارہ کرتا دھاڑا

” تم ٹھنڈے رہو باذل ۔۔ میں بات رہا ہوں نا ۔۔ “
باذِل کے چیخنے پر قائم اسے ہاتھ کے اشارے سے خاموش کراتا ہوا سپاٹ انداز میں بولا اور پھر معصومہ کو سنجیدہ نگاہوں سے دیکھنے لگا

” معصومہ مجھے بتاؤ ۔۔ بابا نے ہاتھ اٹھایا ہے تم پہ ۔۔؟؟”
معصومہ کو دیکھتے ہوئے وہ سرد انداز میں پوچھنے لگا کہ معصومہ نے کچھ بھی کہے سنے بغیر گھٹ گھٹ کر رونا شروع کردیا اور سر قائم کے سینے پر ٹکا دیا

جبکہ قائم اور باذل نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر وہاں کھڑے مظفر صاحب کو ، جنہوں نے ان دونوں سے نظریں چرا لیں

” باہر بلوائیں اپنے بیٹے کو دادا جان ۔۔ کہاں چھپ کر بیٹھیں ہیں وہ ۔۔ ان کی جرآت کیسے ہوئی میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔ “
باذِل وہاں دیوار پر باقی سب گھر کے مردوں کی تصویر کے ساتھ لگی ساجد صاحب کی تصویر پر طیش سے واز مار کر نیچے گراتا ہوا دھاڑا کہ شیرازی ہاؤس کی در و دیوار اس کی دھاڑ پر لرز گئی

” بس کرو باذل ۔۔ !!”
قائم نے معصومہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے باذل کو بلند آواز میں کہا

” شیرازی صاحب کہاں چھپایا ہے اپنے بھائی کو ۔۔؟؟ بتائیں مجھے ۔۔؟”
باذِل قائم کو نظرانداز کرتا ماجد صاحب کی جانب بڑھا جو اپنے بیٹا کا جنون دیکھ کر بار بار اپنی پیشانی پر آیا پسینہ صاف کر رہے تھے

” بب باذِل بیٹا مجھے نہیں معلوم ۔۔!!”
وہ دھیمی آواز میں بولے تھے

” ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ شیرازی برادرز کوئی کام ایک دوسرے کی شراکت ہے بغیر کریں ۔۔ میں مان ہی نہیں سکتا کہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کا بھائی کہاں ہے ؟؟”
وہ ماجد صاحب کو اپنی لہو آنکھوں سے دیکھتا ہوا بے حد سنجیدگی سے بولا تھا اور وہاں پڑی کرسی کو زور سے ٹھوکر ماری

” بھائی پلیز روکیں اِنہیں ۔۔!!”
معصومہ نے دھیمی آواز میں قائم کے سینے سے لگے التجائیہ انداز میں بھیگی آواز میں کہا جبکہ اس کا سر شدید درد کر رہا تھا

” باذِل بس کرو ۔۔!”
قائم ، باذِل کو گھورتا بلند آواز میں بولا تھا

” یہ نہیں ہونا چاہیے تھا دادا جان ۔۔ میں نے آپ کو کہا تھا معصومہ کو یہاں ذرا برابر کھرونچ بھی نہیں آنی چاہیے ۔۔ یہ آپ کے ہوتے ہوئے ہوا ہے نا ۔۔ ٹھیک نہیں ہوا دادا جان ۔۔ “
معصومہ کا بےآواز رونا قائم کو تڑپا رہا تھا وہ مظفر صاحب کو دیکھا بے حد سرد انداز میں گویا ہوا

” کسی کو نہیں چھوڑوں گا میں ۔۔ کسی کو بھی نہیں ۔۔ کل شام ۔۔ !! کل شام تک انتظار کریں ۔۔ اور اپنے بھائی کو بھی بتا دیجئے کا کہ کہیں بھی چھپ جائیں باذل شیرازی کی نظروں سے زیادہ وقت بھاگ نہیں سکتا کوئی ۔۔ کل شام ملتے ہیں ایک بہت بڑے سرپرائز کے ساتھ ۔۔ جسٹ ویٹ اینڈ واچ دیٹ واٹ آئی ڈو۔۔!! ڈیئر شیرازی برادرز۔۔!! “
باذِل قدم قدم چلتا ماجد اور عابد صاحب کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہوا اور اپنی انگارہ آنکھوں ان کے مکروہ چہروں پر جمائے بے حد سرد مہری سے بول رہا تھا
اور پھر چلتا ہوا قائم کے پاس گیا اور ہاتھ بڑھا کر معصومہ کا بازو تھاما اور اس کے بھیگے چہرے کو ایک نظر دیکھتا اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور لاؤنج سے نکل گیا

///////////////////////////

میں جانتی ہوں قسط چھوٹی ہے مگر یقین کریں شدید سر درد کے باوجود لکھی ہے اس لیے معذرت ۔۔ 🙏