Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 4
” ہاں بولو ۔۔؟”
موبائل کان سے لگائے ہوئے وہ بیزاری سے بولا اس کی نگاہیں معصومہ کی سمت ہی تھیں
” ہممم اوکے ۔۔ نہیں میں خود آ رہا ہوں ۔۔”
یہ کہہ کر وہ کال کاٹ چکا تھا اور پھر ڈریسنگ روم میں گھس گیا جبکہ معصومہ دل ہی دل میں اسے صلواتیں سنا رہی تھی
” گھٹیا ، فضول آدمی ۔۔ “
تقریبا دس منٹس میں ہی وہ باہر نکلا تو لباس تبدیل کر چکا تھا اب وہ بلیک جینز پر بلیک ہی شرٹ اور بلیک ہی لیدر کی جیکٹ پہنے ہوئے تھا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھوں کی انگلیوں سے ہی بالوں کو سیٹ کیا اور ایک بار پھر بیڈ کی جانب بڑھا جہاں معصومہ اب چادر سر سے پاؤں تک تان کر بظاہر باذِل سے چھپی ہوئی تھی اس کی اس حرکت پر باذِل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ آئی مگر وہ بھی باذِل شیرازی تھا فورا مسکراہٹ چھپا کر چہرہ بے تاثر کر لیا اور ایک جھٹکے سے ہاتھ بڑھا کر چادر اتار دی
وہ جو اپنی طرف سے باذِل سے بچ کر بیٹھی تھی اچانک حملے پر ہڑبڑا گئی
باذِل نے اس کی دونوں کلائیاں تھام کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا اور کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اپنے بے حد قریب کیا
” آج تو تم بچ گئی ڈارلنگ ۔۔ لیکن جتنا جلدی ہو سکے قبول کر لو سب ۔۔ زیادہ انتظار نہیں کروں گا میں ۔۔ اور جتنا تم دیر کرو گی اتنا ہی غلط کرو گی اپنے ساتھ ۔۔ میرے جذبات کی شدت تو تم جان ہی چکی ہو ۔۔ زیادہ انتظار کی صورت میں ۔۔۔۔!!”
اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑی اور معصومہ کی گردن پر جھک گیا اور زور سے کاٹا اس کی اس حرکت پر معصومہ کے منہ سے دبی دبی سسکی نکلی آنکھوں کے ڈورے بے حد سرخ تھے جہاں من من پانی بھرا تھا حیا و شرم کے باعث اس کی نگاہیں جھکی ہوئیں تھیں وہ جو سوچ کر آئی تھی کہ باذِل کا بھرپور مقابلہ کرے گی مگر یہاں تو کایا ہی پلٹ گئی تھی وہ پے در پے شدت سے جسارتیں کر رہا تھا
پھر لب ہٹا کر معصومہ کے لرزتے وجود کو دیکھا اسے بھی خاصی حیرت ہو رہی تھی کہ معصومہ جیسی منہ پھٹ اور خود سر لڑکی اس قدر شرمیلی ہو گی یہ روپ اس نے پہلی بار اس کا دیکھا تھا جو باذِل کو بہت پسند آیا تھا
” جو آج تم نے کیا نا پہلے نکاح کرنے میں تاخیر کر رہی تھی اور پھر میری سیج سجانے کے بجائے سو گئی تھی ۔۔ یہ اس کی چھوٹی سی سزا ہے ۔۔ “
وہ اب اس کی گردن پر جہاں سے خون کے چند قطرے نکل رہے تھے نظریں جمائے سفاکیت سے کہہ رہا تھا
وہ عموما کسی کو بھی صفائی نہیں دیتا تھا مگر معصومہ کو دے رہا تھا اس بات پر باذِل کو اپنے پر ہی حیرانگی ہوئی تھی جبکہ اس کی بات سن کر معصومہ نے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا
پھر وہ اسے شانوں سے تھام کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے لے آیا دراز سے ایک ڈبی نکال کر اس میں سے انگوٹھی نکالی اور اپنے ہاتھ میں لے کر معصومہ کا مہندی کے ڈیزائن سے مزین دودھیا ہاتھ تھاما اور اس کی انگلی میں پورے استحقاق سے پہنا دی
” اعلی !!۔”
بے اختیار باذِل کے لبوں سے پھسلا
معصومہ بھی اس خوبصورت کرسٹل کی انگوٹھی کو دیکھنے لگی
” جب میں آؤں تو ایک اچھی اور تابعدار بیوی کی طرح اپنے آپ کو ڈھال لینا ۔۔ یہ مشورہ سمجھو یا حکم ۔۔ تمہاری مرضی ۔۔ کیونکہ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ۔۔ خاص طور پر اپنی زبان کا استعمال بہت احتیاط سے کیا کرو ۔۔ مجھے اپنی پیاری بیوی پر سختی کرنا اچھا نہیں لگے گا ۔ “
اس کے دونوں ہاتھ تھامے اس کی کی آنکھوں میں دیکھتا وارننگ کے انداز میں بول رہا تھا
” تت تم نے تو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے شادی کی ہے ۔۔ مکرنا مت کیونکہ ابھی کہا تھا تم نے ۔۔
معصومہ نے تصدیق چاہی تھی باذِل نے ابرو چکانے پر اکتفا کیا تو معصومہ نے پھر سے بولنا شروع کیا
” خواہشات تو تم کسی بھی عورت سے پوری کر سکتے ہو ۔۔ شیرازی ہاوس کے مردوں کی طرح ۔۔ لیکن مُرشد صاحب بیوی کو تو عزت دی جاتی ہے ایسا سلوک نہیں کیا جاتا جیسا آپ کر رہے ہیں ۔۔ اور میں ایک تابعدار بیوی تب بنوں گی جب تم عزت کرنے والے شوہر بنو گے باذل “
باذِل کی سرخ آنکھوں میں دیکھنا جانے کیوں اسے مشکل لگا تھا ان آنکھوں میں عجیب وحشت رہتی تھی لیکن پھر بھی مضبوط لہجے میں چیلنج کرتی ہوئی بولی
” بہت خوب ۔۔۔ اسی لیے تو میں نے تمہیں چُنا تھا ۔۔ چلو پھر بن کے دیکھاؤ فرمانبردار بیوی ۔۔ باذِل شیرازی بھی زبان کا پکا ہے ۔۔ چاروں شانے چت کر دوں گا تمہارے آگے ڈارلنگ ۔۔”
یہ کہہ کر باذِل نے اس کے گال نرمی سے سہلائے اور جھک کر معصومہ کی گردن کے خم پر تلوں پر اپنے لب رکھ دیے چند پل سرکے تھے جب وہ معصومہ کو لرزتے وجود کے ساتھ چھوڑ کر ایک نظر دیکھ کر دروازے کی سمت بڑھ گیا
معصومہ کی تو مانوں زبان جیسے تالو کو لگ گئی تھی وہ اسے چھوڑ کر دروازہ بند کر کے جا چکا تھا مگر معصومہ کو ہوش تب آیا جب دروازہ بند ہونے کی آواز آئی
اب وہ اپنا عکس آئینہ میں دیکھنے لگی بے اختیار اس کا ہاتھ اپنی گردن پر موجود تلوں پر گیا جہاں اسے باذِل کا دہکتا ہوا لمس ابھی بھی محسوس ہو رہا تھا اور پھر اس زخم پر جو باذِل اسے دے کر گیا تھا
” باذِل خدا تمہیں پوچھے ۔۔”
کتنی دیر سے اس نے ضبط کیا ہوا تھا اپنی آنکھوں پر پُل باندھے ہوئے تھے مگر اب وہ شدت سے رونے لگی اور وہی فرش پر بیٹھتی چلی گئی وہ جتنا آسان سمجھ رہی تھی اتنا ہی سب مشکل تھا
/////////////////////////
مضبوط قدم اٹھاتا وہ ایک بہت خوبصورت بنگلے میں داخل ہوا تھا گارڈز نے اسے دیکھتے ہی سلام کیا سر کو خم دے کر اس نے ان کے سلام کا جواب دیا اور ایک شیشے کی عمارت میں داخل ہوا
جہاں چار ، نوجوان لڑکے اور دو لڑکیاں جو کہ کچھ کمپیوٹر پر جھکے اور کچھ فائل تھامے اور کچھ لیپ ٹاپ لیے کام میں مصروف تھے اس کے داخل ہوتے ہی الرٹ ہو کر کھڑے ہو گئے
وہ مضبوط قدم اٹھاتا اس ہال کے وسط میں موجود ٹیبل کے گرد پڑی کرسی پر براجمان ہو گیا
اس کے چہرے پر غضب ناک تاثرات دیکھ کر کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی آگے بڑھ کر کچھ کہنے کی ، اتنے میں ایک سٹائلش سی حسین لڑکی ایک فائل ہاتھ میں تھامے خود کو مظبوط کرتی آگے بڑھی
” باس ہماری پوری پلینگ کے مطابق ہمیں ان تین دنوں میں سے کسی ایک دن پلین پر عمل کرنا تھا بٹ ۔۔”
رَمشا ایک پل کو رکی اور باذِل کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لینے لگی جو کہ کافی حد تک سخت تھے
” بٹ آج رات ہی بہترین موقع ہے ہمارے پاس اسی لیے باس آپ کو کال کی تھی میں نے ۔۔ ایم سوری سر ۔۔ آج آپ کی شادی ۔۔”
” رمشا تم جانتی ہو تم نے اپنی عقل کا استعمال کر کے پہلے ہی مجھے ایک گھنٹہ لیٹ کال کی ۔۔ اور مزید تم اب میرا وقت برباد کر رہی ہو یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک ایک منٹ کتنا اہم ہے ہمارے لیے ۔۔ “
وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتا دھاڑا تھا کی وہاں کھڑا ہر شخص لرز گیا جبکہ رمشا کو اب اپنی بے وقوفی کا احساس ہوا تھا
” اا ایم سوری باس ۔۔”
وہ منمنائی تھی کہ بمشکل ہی کوئی سن سکا
” شٹ اپ ۔۔ تم جانتی ہو مجھے جان بوجھ کر غلطی کر کے سوری بولنے والے سخت برے لگتے ہیں ۔۔ ایک ایک منٹ اہم ہے ہمارے لیے آج ہی شروع کرنا ہے ہمیں پلین ۔۔”
وہ ایک بار پھر دھاڑا تھا
” یس باس ۔۔”
پھر باذِل نے ساحر کو اشارہ کیا تو وہ لیپ ٹاپ اٹھائے ٹیبل کے قریب آیا
” باس سارا پلین ریڈی ہے ۔۔”
ساحر باذِل کے تنے ہوئے چہرے کو دیکھ کر بتانے لگا
لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے اب باذِل گویا ہوا تو سب جو پہلے ہی اس کی طرف متوجہ تھے اب اور زیادہ الرٹ ہو گئے
” عابد اور رمشا تم دونوں ان کا سیکیورٹی سسٹم لیڈ کرو گے جگہ جگہ ایسے یونیک کیمرے ہیں وہاں جو چھپائے گئے ہیں ۔۔ تم دونوں سب ہیک کرو گے یو نو جیسا ہم چاہیں گے وہی ہونا چاہئے ۔۔ ہماری مرضی کے بغیر کوئی نہ اندر جائے گا اور نہ باہر ۔۔”
ایک نظر عابد اور رمشا پر ڈال کر اس نے اپنی بات مکمل کی اور پھر غور سے سنتی ایک بائیس تئیس سالہ لڑکی کی سمت رخ کیا جو بڑے دھیان سے اسے ہی سن رہی تھی
“ویشال تم آج فجر کے بعد ہی جاؤ گی وہاں ، ایک خستہ حال یتیم لڑکی بن کر جسے اس کے رشتہ داروں نے پناہ دینے سے انکار کر دیا اور یاد رہے وہاں ہمارا ایک آدمی پہلے سے موجود ہو گا لیکن تم نے ظاہر کرنا ہے کہ تم اسے نہیں جانتی ۔۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا وہاں موجود لوگ یہاں تک کہ مظلوم نظر آنے والی عورتوں پر بھی تم نے بھروسہ نہیں کرنا ۔۔ جن لوگوں کی ہمیں تلاش ہے وہ انہیں مظلوم عورتوں کے بیچ چھپے ہوئے ہیں ۔۔ باقی تم جانتی ہو تمہیں سب کیسے کرنا ہے ۔۔ اس مشن کو تم لوگ جتنا ہلکا لے رہے ہو اتنا ہی اس میں خطرہ ہے ۔۔ سو بی کیئر فل ۔۔ “
وہ ایک نظر سب کو دیکھتا بول رہا تھا وہ چھ لوگ اس کے ٹیبل کے گرد کھڑے اسے بغور سن رہے تھے
” اوکے باس ۔۔”
ویشال اس کی بات کے اختتام پر گویا ہوئی
” باس ہمیشہ کی طرح ہمارا پلین ضرور کامیاب ہو گا ۔۔ اور ہم اپنی کامیابی سلیبریٹ کریں گے ویسے بھی عرصہ ہو گیا کوئی پارٹی نہیں کی ۔۔ خود تو اپنی شادی انجوائے کر کے آ رہے ہیں ہم پر پابندی لگی ہوئی ہے ۔۔”
باسط یقین سے بول رہا تھا جبکہ آخر کی بات اس نے دل میں بولی تھی باذِل کے سامنے بول کر اپنی شامت نہیں بلوا سکتا تھا باسط ان سب میں شرارتی لڑکا تھا جہاں باذِل کے مزاج کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی ہو جاتی تھی وہاں باسط کوئی ایسی بات بول دیتا تھا کہ سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی تھی ابھی بھی سب کے چہروں پر مسکراہٹ رینگی تھی سوائے باذِل کے ۔۔ کیونکہ ڈسکشن کے وقت اسے ایسے مذاق قطعی پسند نہ تھے اسی لیے ابھی بھی باذِل نے ایک سخت نگاہ باسط پر ڈالی جواباً باسط نے آنکھوں سے ہی سوری بولا تھا تو باذل پھر سے گویا ہوا
” ہممم انشاءاللہ کامیاب ہوں گے ہم لیکن آوور کانفیڈنٹ نہیں ہونا کیونکہ جو قبل از وقت جیت کی خوشیاں مناتے ہیں وہ یہیں غلطی کر جاتے ہیں اور غلطی میں برداشت نہیں کرتا ۔۔۔۔ “
وہ جو باسط کی بات پر ایک پل کو سب کی چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی باذِل کی آخری بات سن کر بھک سے چلی گئی
” کہاں ہے وہ ؟”
اب وہ حماد کی طرف متوجہ ہوا حماد جو اسی سے بات کرنے کا منتظر تھا اس کے متوجہ ہونے پر وہاں موجود ایک کمرے کی جانب اشارہ کیا
تو باذِل حماد کے ساتھ غضب ناک تاثرات لیے اس کمرے کی جانب بڑھا جہاں ایک آدمی الٹا لٹکا ہوا تھا جب کمرے کا دروازہ بند ہوا تو ہال میں موجود پانچوں نفوس نے اپنے روکے ہوئے سانس بحال کیے
” یار قسم سے جان نکال دی باس نے ۔۔ مجھے لگا تھا آج ان کی شادی ہے تو شاید تھوڑا مسکرا لیں گے اور مجھے بخش دیں گے بٹ نہیں اتنا ڈانٹ دیا پھر بھی۔ “
رمشا جو کب سے ضبط کیے کھڑی تھی اب پھٹ پڑی تھی
” دماغ تو تمہارا خراب ہے نا تمہیں جب انفارمیشن ملی تھی اسی وقت انہیں بتا دینا چاہیے تھا ۔۔ کیونکہ پتہ تو انہیں ویسے بھی چل ہی جاتا ہے ۔۔ “
یہ عابد تھا جو افسوس سے کہہ رہا تھا
” چلو رمشا تم شرط ہار گئی اب تمہیں ہم سب سے پہلے سر کو ان کی شادی کی مبارک باد پیش کرنی ہے “
ویشال ، رمشا کو دیکھتی بولی تو رمشا نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا لیے
اس وقت ہال میں رمشا ، ویشال ، ساحر ، عابد اور باسط موجود تھے
” باسط تم کیوں خاموش ہو آج ۔؟؟۔ تم خاموش رہنے والی مخلوق ہو تو نہیں۔ “
رمشا نے لیپ ٹاپ پر جھکے بظاہر کام میں مصروف باسط کو دیکھتے ہوئے پوچھا
مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا اس کمرے کا دروازہ کھلا جہاں سے باذل اور حماد نمودار ہو رہے تھے دروازہ کھل کر بند ہونے میں جتنے سیکنڈز لگے تھے اس وقت میں کمرے سے کسی مرد کی درد ناک چیخنے کی آوازیں آئیں تھیں چونکہ کمرے کا واحد دروازہ ساؤنڈ پروف تھا اس لیے اب دروازہ بند ہونے پر آوازیں بھی دب گئیں باذِل کے غضب ناک تاثرات اور حماد کے ماتھے پر آئے پسینے سے ان سب کو اندازہ ہو گیا کہ وہ جو آج صبح سے اس کمرے میں بند کیا گیا تھا اب اس کی درد ناک چیخیں سن کر سب کو اندازہ ہوگیا کہ اس نے یقینا باذِل شیرازی سے ٹکر لی ہو گی تبھی باذِل خود اس کی تواضع کرنے گیا تھا
” حماد ۔۔ نیب کو اس کی تلاش ہے ۔۔ تم اس کو کسی سڑک پر پھینک دینا ۔۔ جہاں سے یہ آسانی سے پولیس کو مل جائے ۔۔ یقینا اس نے نیب سے بچ تو جانا ہی ہے اپنے سیاستدان باپ کی وجہ سے ۔۔ مگر اب یہ باذِل شیرازی کے گھر پر حملہ کرنا تو دور نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا ۔۔”
وہ حقارت سے کہتا ہوا پھر سے اپنی کرسی پر براجمان ہو چکا تھا
” باسط تمہیں جو کام کہا تھا وہ ہو گیا ۔۔”
اب وہ باسط کی طرف متوجہ ہوا باسط کی سرخ آنکھوں کو اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھتا وہ بے لچک انداز میں بولا
” جی باس کل صبح تک آپ کو خبر مل جائے گی ۔ “
باسط ہاتھ سینے پر باندھے گویا ہوا
” ہممم اچھا ایک اور کام کرنا ہے تم نے ۔۔ معصومہ کا ایڈمیشن اسی یونیورسٹی میں ہوا ہے جہاں تم پڑھتے ہو ۔۔ چند دن میں کلاسز سٹارٹ ہوں گی اس کی ۔۔ ویسے تو وہاں دو گارڈز اس کی حفاظت کے لیے ہوں گے لیکن ۔۔ تم نے خاص اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ ہو اسے ۔۔ اس کی کسی لڑکی سے بھی دوستی نہیں ہونی چاہیے ۔۔ کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ وہ میری بیوی ہے ۔۔ میں نہیں چاہتا وہ کسی کی نظر میں آئے۔۔ وہ مشکل لڑکی ہے خاصا پریشان کر سکتی ہے تمہیں ۔۔ لیکن یہ کام اسی لیے تمہیں سونپ رہا ہوں کیونکہ تم ہینڈل کر لو گے ۔۔ “
وہ سنجیدگی سے باسط کو دیکھتا کہہ رہا تھا جبکہ باسط بھی سنجیدہ دیکھائی دے رہا تھا تب اس کی نظر باسط کی ہلکے نیلی رنگ کی شرٹ پر پڑی جس کا کالر ایک طرف سے تھوڑا مڑا ہوا تھا
” مجھے اندازہ ہے باس کہ آپ کی وائف ہیں وہ تو آسان کیسے ہو سکتیں ہیں ۔۔ اینی وے بہت مبارک ہو آپ کو شادی کی ۔۔”
کچھ دیر پہلے والی سنجیدگی اب باسط کے چہرے پر نہ تھی بلکہ اب آنکھوں میں شرارت لیے وہ بولا تھا جبکہ باذِل کی گھوری پر بات بدل گیا
” یس باس مینی مینی کانگریجولیشن ۔۔”
رمشا نے بھی مسکرا کر مبارک باد دی اسی طرح ویشال ، عابد ، حماد اور ساحر نے بھی مبارک دی جس پر باذِل نے سر کو خم دے کر ان کا شکریہ ادا کیا اب سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے تھے کچھ دیر بعد باذل اٹھا اور سب کو ایک نظر دیکھتا باسط کے پاس سے گزرا باسط سامنے لگی سکرین کی طرف متوجہ تھا باذِل اس کی جانب بڑھا اور اس کی شرٹ کا مڑا ہوا کالر ٹھیک کیا اور دائیں شانہ تھپتھپایا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ باسط کی سرخ آنکھوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا
” باسط تم سر کی وائف سے ملے ہوئے ہو؟ کیسی ہیں مطلب وہ ۔۔ ؟ آئی مین سر جیسی غصے والی یا پھر اچھی ہیں ۔۔”
رمشا باذل کے جانے کے بعد فورا بولی جس کے سوال پر اب سب باسط کی طرف متوجہ تھے
” ہاہاہا مجھے لگتا ہے باس سے بھی چار قدم آگے ہیں وہ ۔۔ مجھے تو باس کی فکر ہے ۔۔ “
باسط اب کافی خوش نظر آ رہا تھا
” ہو ہی نہیں سکتا ۔۔ میں تو کبھی نہیں مان سکتی یہ ۔۔ دو سال سے باس کے ساتھ کام کر رہی ہوں آج تک کسی کو بھی ان کے سامنے چوں چراں کرتے بھی نہیں دیکھا میں نے ۔ باس کے سامنے تو سب کی ہی سٹی گم ہو جاتی ہے ۔۔”
ویشال گزرے دو سالوں کو سوچتی یقین سے بولی
” ہاں میں بھی تمہارے ساتھ ہوں”
” اور میں بھی۔ “
حماد اور ساحر نے ویشال کا ساتھ دیا
” اوکے لیٹس سی ۔ “
باسط نے کاندھے اچکا دیے
اور پھر وہ سب اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے رات کے اس پہر جہاں ہر کوئی نیند کے مزے لوٹ رہا تھا وہیں یہ چھ لوگ اپنے اپنے کام میں لگ گئے کیونکہ آج رات بہت سے ضروری کام انہوں نے نبٹانے تھے
//////////////////////////
مہربانی کر کے ناول کے متعلق اپنی بے حد قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں شکریہ ( آپ کی رائیٹر فاطمہ)☺💖
