Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
ناول: تو رنگ دے
از قلم: فاطمہ
قسط نمبر 19
وہ صبح کافی دیر سے بیدار ہوئی تھی آنکھیں کھولتے ہی اپنے بلکل ساتھ لیٹے ہوئے باذِل کو سوتے دیکھ کر اس کے لب اپنے آپ مسکرائے تھے مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے اپنی کمر سے باذل کا ہاتھ اٹھا کر اپنے نازک ہاتھوں میں تھام لیا اور محبت پاش نگاہوں سے اسے بغور دیکھتی وہ اپنی آنکھوں کو جیسے ٹھنڈک پہنچا رہی تھی
براؤن بنیان میں اس کا کسرتی وجود نمایا ہو رہا تھا ماتھے پر بھورے بال بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے جبکہ ہر وقت سپاٹ رہنے والے چہرے پر کس قدر نرمی تھی وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی شادی کے دو ماہ میں باذِل کو سوتے دیکھنے کا اتفاق اسے بہت کم نصیب ہوتا تھا وہ اتنا گھر پر رہتا ہی نہ تھا اسی لیے آج وہ اس کے چہرے کو تکتی ہی جا رہی تھی
بے اختیار معصومہ اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کی داڑھی پر بے حد نرمی سے پھیرنے لگی اور اپنی اس حرکت پر وہ خود بھی حیران تھی مگر اسے باذِل کی یہ عادت بہت پسند تھی اس نے اکثر باذل کو ایسے ہی اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے دیکھا تھا وہ اس وقت بہت حسین لگتا تھا نہیں وہ تو ہر وقت ہی حسین لگتا تھا یہ معصومہ کے دل سے آواز آئی تھی اور اس کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں تھیں بے اختیار اس نے اپنا ہاتھ باذِل کے چہرے سے ہٹا کر اپنے تیز دھڑکتے دل پر رکھ لیا کل رات اس نے باذل کا ایک نیا روپ دیکھا تھا کل رات ہوئے واقعہ کو سوچتے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں تھی باذل کے چہرے پر اتنی فکرمندی تھی اس کے لیے ، وہ کس طرح ہر چیز کو تہس نہس کر رہا تھا اس قدر جنون تھا کہ معصومہ خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کیے بنا نہ رہ سکی
” میرے خدا میں تیرا جتنا شکر ادا کرو اتنا کم ہے تو نے میرے نصیب میں اتنا بہترین ہمسفر لکھا ۔۔”
وہ دل میں اپنے خدا سے مخاطب تھی ایک آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر بالوں میں جذب ہو گیا کئی پل وہ باذل کو محبت پاش اور تشکرانہ انداز میں دیکھتی رہی تھی پھر بے اختیار جھک کر باذل کی داڈھی پر محبت کی مہر ثبت کی اور پھر سرخ چہرے کے ساتھ اٹھ کر آہستہ سے بیڈ سے اترنے لگی جب باذل نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنے ساتھ لٹایا اور خود اس کے اوپر جھک گیا
” تم نے تو میری صبح حسین بنا دی جاناں ۔۔ !!”
وہ معصومہ کی گردن کے دونوں تلوں پر اپنے لب رکھتا بوجھل آواز میں گویا ہوا تھا جبکہ معصومہ کی تو جان لبوں کو آ گئی تھی اس کی یہ سوچ جان لے رہی تھی کہ باذل جاگا ہوا تھا اور اس سے آگے سوچتے ہی شرم و حیا کے مارے معصومہ نے اپنا چہرہ باذل کے شانے پر ٹکا لیا مزید باذل کی جسارتیں اس کا چہرہ مزید سرخ کر رہیں تھیں زبان اس کی ایسی تالو کے لگی تھی کہ کچھ بولنے کی قوت ثبت ہو گئی تھی
” تم واقعی حیران کر دیتی ہو معصومہ ۔۔ ویسے اتنا پیار کیوں آ رہا تھا تمہیں مجھ پر؟؟ کوئی خاص بات ۔۔ ؟”
معصومہ کے بالوں کی مہک اپنی سانسوں میں اتارتے ہوئے وہ ذومعنی سے گویا ہوا تو مزید معصومہ نے خفت کے مارے اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا اس کی اس حرکت پر باذل نے زور سے قہقہہ لگایا
” اچھا بتاؤ میری جاناں کی طبیعت کیسی ہے۔۔؟؟”
اب وہ اس کے ساتھ لیٹ کر لہجے میں بے حد نرمی لیے پوچھ رہا تھا
” جج جی ٹھیک ۔۔ “
وہ بمشکل ہی بول پائی تھی باذل کی بولتی آنکھیں اسے بہت کچھ کہہ رہیں تھیں
” جاناں ۔۔ !”
اس کے ساتھ لیٹے ہوئے باذل نے سرگوشی کی صورت میں اسے پکارا
” جی ۔۔۔!!”
معصومہ دوسری طرف دیوار کو دیکھتی ہوئی بولی تھی وہ باذل کو دیکھنے سے گریز برت رہی تھی
” ایک بات پوچھو ۔۔؟؟”
باذل اس کے جھجکنے سے محظوظ ہوتا ہوا اس کی جانب کروٹ لیے پوچھنے لگا
” اجازت مانگ رہے ہیں ۔۔؟”
معصومہ کی نگاہیں ہنوز دیوار کی جانب تھیں مگر وہ اب کافی سنبھل چکی تھی اسی لیے اپنے ذعم میں گویا ہوئی جبکہ معصومہ کے انداز پر باذل کے لب مسکرائے
” یہ کمال بھی معصومہ شیرازی کا ہے جو باذل شیرازی بات کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے ۔۔ “
باذل اس کا رخ اپنی سمت کرتے ہوئے بولا اس کے لہجے میں مان تھا جو معصومہ کو اندر تک سرشار کر گیا
” جی پوچھیں ۔۔ “
وہ بھی جواباً آہستگی سے بولی تھی لہجے میں احترام کی آمیزش تھی
” شادی سے پہلے تو تم زیر کرنا چاہتی تھی مجھے ۔۔ چیلنج کیا تھا تم نے مجھے ۔۔ میرے ساتھ شادی کو تو غلامی کی زندگی سمجھتی تھی تم ۔۔!! جانے کیا کیا بدگمانیاں تھیں تمہارے دل میں میرے لیے ۔۔ شادی کی پہلی رات بھی بھرپور مقابلہ بازی کی تم نے میرے ساتھ ۔۔ پھر اب خود اتنا کیوں بدل گئی ۔۔ ؟؟ کہاں تو لہجے میں زہر لیے بات کرتی تھی مجھ سے اور اب ۔۔۔! اچھی خاصی تمیزدار ہو گئی ہو ۔۔ “
وہ دلچسپی سے معصومہ کے چہرے کو تکتے ہوئے بے تاثر انداز میں پوچھ رہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر معصومہ کے چہرے پر ہنوز ہلکی سی مسکراہٹ اور سکون تھا
” شادی سے پہلے آپ میرے لیے نامحرم تھے اس لیے نرم لہجے میں بات نہیں کرتی تھی آپ سے ۔۔ اور شادی کی رات آپ نے کہا کہ آپ نے شادی محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کی ہے اس لیے برا لگا تھا مجھے اسی لیے میں نے کہا تھا کہ آپ سے پہلے عزت اور مان دیں پھر میں بھی تابیدار بیوی بنوں گی اور آپ اپنی بات پر پورے اترے آپ نے سب کے سامنے عزت کی میری ۔۔ پھر میں کیسے نا کروں آپ کی عزت ۔۔”
معصومہ بھی باذل کی مسکراتی آنکھوں میں دیکھتی دھیمی آواز میں آہستگی سے بول رہی تھی اور ساتھ ساتھ باذل کی داڈھی پر اپنی نرم و نازک انگلیاں پھیر رہی تھی
” ہائے جاناں ۔۔ تم نے تو واقعی زیر کر دیا مجھے اپنے آگے ۔۔ غلام بنا لیا اپنا تم نے۔۔ دن بہ دن زندگی بنتی جا رہی ہو میری ۔۔ “
باذل معصومہ کا دودھیا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگاتا ہوا لہجے میں بےحد محبت لیے بول رہا تھا اپنی داڈھی پر اس کی انگلیوں کا نرم لمس اسے بہکا رہا تھا معصومہ کی یہ عادت اسے بہت بھاتی تھی
” مرشد صاحب ۔۔!! بےوقوف عورت اپنے شوہر کو غلام بناتی ہے اور غلام کی بیوی بن کر زندگی گزارتی ہے ۔۔ لیکن عقلمند عورت اپنے شوہر کو بادشاہ بناتی ہے اور بادشاہ کی بیوی بن کر زندگی گزارتی ہے ۔۔ اور یقیناً میں اگر اتنی عقلمند نہیں تو زیادہ بےوقوف بھی نہیں ہوں “
اپنی نگاہیں ہنوز باذل کے بھورے بالوں پر جمائے وہ ابھی بھی باذل کی داڈھی پر ہاتھ پھیر رہی تھی جبکہ باذل اس کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتا اسے بغور سن رہا تھا پھر بے اختیار اس کے گلابی لبوں پر جھکا کئی لمحے یوں ہی سرکے تھے اب وہ اپنے لب معصومہ کی گردن پر رکھ چکا تھا جبکہ معصومہ اس کے والہانہ انداز پر سختی سے اپنی آنکھیں اور مٹھیاں میچ چکی تھی اس دونوں کی ہی دھڑکنوں میں ارتعاش برپا تھا
” تمہارے ان دو تلوں سے عشق ہے مجھے ۔۔ بہکاتے ہیں یہ مجھے جاناں ۔۔ میں بے اختیار ہو جاتا ہوں ۔۔ باذل شیرازی آج اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اگر کوئی چیز اس کے حواسوں پر سوار ہو سکتی ہے تو وہ جاناں تمہاری قربت ہے ۔۔ “
پے در پے وہ جسارتیں کرتا ہوا خمار آلود آواز میں بول رہا تھا جبکہ معصومہ اس کی باتیں سن کر مزید خود میں سمٹ گئی تھی آنکھیں ہنوز اس نے میچی ہوئی تھی یہ بات تو وہ پہلے بھی محسوس کر چکی تھی کہ باذل کو اس کی گردن کے تل بہت پسند ہیں مگر آج اس طرح اظہار سن کر اس کے لبوں پر تبسم بکھرا
” پپ پلیز ۔۔۔ !!”
آنکھیں موندے وہ منمنائی تھی جب باذل اس کے سرخ چہرے کو ایک نظر دیکھتا اپنے امڈتے جذبات پر قابو پاتا واپس بیڈ پر لیٹ گیا
اس کے پیچھے ہونے پر وہ بمشکل خود کو سنبھالتی جلدی سے بیڈ سے ہی اتر گئی تھی اور لڑکھڑاتے ہوئے بھاگنے کے انداز میں واشروم میں گھس گئی جبکہ باذل کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ آئی تھی
کافی دیر بعد وہ فریش ہو کر باہر نکلی تو صد شکر کہ باذل پھر سے سو گیا تھا الماری سے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی
کپڑے بدل کر دوپٹہ سر پر اوڑھے ایک نظر سوئے ہوئے باذِل کو دیکھتی کمرے سے نکل گئی اس کی طبیعت کافی بہتر تھی مگر وہ آج یونیورسٹی نہیں گئی تھی
پتہ نہیں باذل کب اٹھے گا مگر وہ باذل کے ساتھ ہی ناشتہ کرنا چاہتی تھی ابھی ویسے بھی اسے بھوک نہیں لگی تھی کچھ سوچتی ہوئی وہ سیڑھیاں اترتے قائم کے کمرے کی جانب بڑھی
////////////////////////////
وہ اجازت ملنے پر قائم کے کمرے میں داخل ہوئی تھی قائم ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا کہیں جانے کے لیے بلکل تیار تھا سیاہ پینٹ پر سفید رنگ کی شرٹ پہنے لمبی چوڑی جسامت اور صاف رنگت ، معصومہ نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر سلام کیا تو قائم سلام کا جواب دیتا ہوا اس کی جانب بڑھا
” میری گڑیا کی طبیعت کیسی ہے ۔۔ ؟؟”
شفقت سے معصومہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے قائم نے مسکرا کر پوچھا
” میں بلکل ٹھیک ہوں بھیا ۔۔ آپ کہیں جا رہے ہیں ؟؟۔ “
معصومہ نے جواباً قائم کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو قائم کے مسکراتے لب سکڑ گئے اور چہرے پر سنجیدگی چھا گئی
” ہمم معصومہ مجھے تم سے بات کرنی ہے یہاں بیٹھو ۔۔”
قائم نے معصومہ کا ہاتھ تھام کر کرسی پر بیٹھایا اور خود بھی ساتھ والی کرسی پر براجمان ہو گیا
” بھیا آپ کو وہی بات کرنی ہے نا جو میں نے اس دن پوچھی تھی آپ سے رشتے کے بارے میں ۔۔ “
معصومہ خود بھی تو ہانیہ اور قائم کے رشتے کے متعلق بات کرنے آئی تھی اسے لگا کہ قائم بھی وہی بات کرنے والا ہے اسی لیے اشتیاق سے پوچھنے لگی جبکہ قائم نے معصومہ کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر گہرہ سانس لیا بلاشبہ وہ اپنی بہن کی امید توڑنے جا رہا تھا
” معصومہ تمہیں امی کے بھائی یاد ہیں ۔۔؟؟ یامین احمد ۔۔!”
قائم نے معصومہ کی بات نظرانداز کرتے ہوئے تمہید باندھی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیسے معصومہ کو ساری بات بتائے
” جی بھائی ۔۔ مگر ان کا ذکر یہاں کیوں۔۔ مطلب وہ تو ماما کی زندگی میں ہی ہم سے تعلق ختم کر چکے تھے نا ۔۔ ؟؟”
معصومہ ، قائم کو ناسمجھی سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
” ہمم مگر ایک تعلق ایسا ہے جو ابھی ختم نہیں ہوا ۔۔ اور وہ ختم کرنا بھی نہیں چاہتے ۔۔ “
قائم نے معصومہ کو دیکھے بغیر سپاٹ انداز میں جواب دیا
” کون سا تعلق بھائی ۔۔ ہمیں نہیں رکھنا ان سے تعلق ۔۔ اور کیا آپ بھول گئے بابا ماما کے گناہ گار ہیں تو اتنے ہی قصوروار ماما کے بھائی بھی ہیں ۔۔ “
اپنی ماما کے ذکر پر معصومہ کے چہرے پر اذیت در آئی تھی بہت کوشش کے باوجود اس کی آواز بھیگی ہوئی تھی قائم نے بھی سرد آہ بھری تھی
” معصومہ ۔۔!!”
” بھیا بابا نے تو ماما کو مار ہی دیا مگر ماموں نے بھی کم تکلیف نہیں دی میری ماما کو ۔۔ بیٹی جب اپنے میکے جاتی ہے نا بھیا تو بڑی آس امید لے کر جاتی ہے ۔۔ ماما بھی تو بابا کے ظلم سے تنگ آکر اپنے بھائی کے در پر گئیں تھیں مگر ۔۔ !! انہوں نے اپنی سگی بہن کو اس قدر سختی سے دھتکارا ۔۔۔ اور اسی جہنم میں تڑپنے دیا۔۔ کیا کوئی بھائی اتنا سنگدل ہو سکتا ہے ۔۔ “
وہ بھیگی آواز میں بولی تھی اور آنکھوں سے بہتے آنسو سختی سے چہرے سے صاف کیے قائم اس کے آنسو دیکھ کر تڑپ اٹھا مزید کوئی اور بات بتانا اس کے لیے اور مشکل ہو گیا تھا مگر آج وہ مجبور تھا
” معصومہ میں جانتا ہوں وہ قصوروار ہیں ۔۔ ہمارے بھی اور ہماری ماں کے بھی مگر !!!”
قائم نے اضطرابی کیفیت میں بات کو ادھورا چھوڑا تھا
” مگر کیا بھائی ۔۔؟؟ انہیں ماما کا ساتھ دینا چاہیے تھا بھائی اگر وہ بھائی ہونے کا فرض نبھاتے تو آج ماما زندہ ہہہہ ۔۔”
بات کرتے ہوئے معصومہ کا دل بھر آیا تھا اور آنسوؤں کا پھندا اس کے گلے میں پھنس گیا تھا وہ خاموش ہو گئی جبکہ اس کی آنکھیں بہنے لگیں
” ہمم میں جانتا ہوں کچھ نہیں بھولا میں ۔۔ لیکن معصومہ ۔۔ !”
قائم کے دل میں بھی ٹیس اٹھی تھی مگر وہ مرد تھا نا اسے خود کو مضبوط رکھنا تھا
” لیکن کیا بھائی ۔۔؟؟”
معصومہ نے بے چینی سے اس کے سنجیدہ چہرے کو تکتے ہوئے پوچھا
” معصومہ جب میں چودہ سال کا تھا اس وقت امی نے اپنے بھائی کی بیٹی سے میرا نکاح کیا تھا مگر پھر امی کی ڈیتھ کے بعد کوئی تعلق ہی نہیں رہا تھا ان لوگوں سے ۔۔ سچ کہوں تو میں بھی فراموش کر چکا تھا یہ بات ۔۔ مگر نکاح کوئی معمولی عمل نہیں جسے ہم پس پشت ڈال دیں ۔۔ “
قائم معصومہ کی حیرت سے پھیلی آنکھوں میں دیکھتا ٹھہرے ہوئے انداز میں کہہ رہا تھا پھر وہ خاموش بھی ہو گیا تو معصومہ کے کانوں میں اس کے الفاظ گونج رہے تھے
” تمہاری شادی کے دو دن بعد وہ مجھے یہاں ملنے آئے تھے ۔۔ بہت زیادہ معافیاں مانگی ۔۔ امی اور تمہارے واسطے دیے کہ میں ان کی بیٹی کو رخصت کروا لوں ۔۔ وہ کافی بیمار رہنے لگے ہیں ۔۔ ان کی اکلوتی بیٹی ہے وہ ۔۔ “
معصومہ کو خاموش دیکھ کر وہ مزید بول رہا تھا جبکہ معصومہ بس خاموشی سے اسے سن رہی تھی
” وہ کافی پریشان حال ہیں ۔۔ ریٹائرمنٹ اور بیماری کے بعد انہیں اب اپنی بیٹی کی فکر ہے ۔۔ کل دوبارہ ان کی کال آئی تھی کہ میں سادگی سے ہی رخصتی کروا کر اپنے ساتھ لے جاؤں ۔۔ بہت منت سماجت کر رہے تھے ۔۔ “
معصومہ ابھی بھی خاموشی سے قائم کی باتیں سن رہی تھی قائم نے اس کے اداس چہرے کو دیکھ کر پھر سے بولنا شروع کیا
” معصومہ اگر نکاح نہ ہوا ہوتا تو میرے لیے ان کی معافی یا وہ لوگ خود بھی وقعت نہیں رکھتے تھے مگر وہ لڑکی میرے نکاح میں بیٹھی ہے ۔۔ میں کسی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا ۔۔ مزید اس لڑکی کو اپنے نام پر بیٹھانا اس کے ساتھ ظلم ہے ۔۔ جو میں نہیں کر سکتا کیونکہ میری بھی ایک بہن ہے آج اگر میں کسی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کروں گا تو میرے آگے آئے گا اور اپنی بہن کی آنکھوں میں ۔۔ میں بلکل آنسو نہیں دیکھ سکتا تم صرف میری بہن ہی نہیں میری بیٹی بھی ہو ۔۔ “
معصومہ کے دونوں ہاتھ تھام کر وہ لہجے میں بہت شفقت اور پیار لیے کہہ رہا تھا جبکہ قائم کے اتنے پیار پر معصومہ نے اپنی نم آنکھیں چھپانے کی غرض سے اپنا سر جھکا لیا
“بھیا اگر ہر مرد ایسے ہی سوچے کہ آج جیسا آپ کسی دوسرے کی بہن ، بیٹی کے ساتھ کریں گے تو وہی آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ ہو گا تو دنیا میں کوئی دکھ نہ رہے ۔۔ کوئی ظلم نہ ہو گا ۔۔ یہی تو ساری بات ہے بھیا ہر کوئی ایسے نہیں سوچتا ۔۔ مگر آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ کے نکاح میں ہیں وہ ۔۔ آپ کو جلد ہی یہاں لے آنا چاہیے ان کو ۔۔ آفٹرآل وہ آپ کی وائف ہیں ۔۔ “
معصومہ کو دکھ تو ہوا تھا جانے کیوں اس نے دل سے خواہش کی تھی کہ ہانیہ اس کے بھائی کی ہمسفر بنے مگر آج ہوئے انکشاف نے اس کی امید توڑ دی مگر اس کا بھائی بھی حق بجانب تھا اسی لیے اسے اپنے بھائی کو مسکرا کر مطمئن کرنا چاہا
” میں جانتا ہوں میری گڑیا کو برا لگا ہے نا ۔۔ “
معصومہ کی مسکراہٹ میں چھپی اداسی وہ خوب جانتا تھا اسی لیے جانے کیوں اسے شرمندگی ہوئی تھی حلانکہ اپنی طرف سے وہ بھی غلط نہیں تھا
” نہیں بھیا برا کیوں لگنا ہے مجھے ۔۔ کس کا نصیب کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے یہ تو خدا بہتر جانتا ہے اور ہمسفر وہی بنتا ہے جسے خدا نے تقدیر میں لکھ دیا ہے ۔۔ میرے یا آپ کے چاہنے سے تھوڑی کچھ ہوتا ہے ۔۔ انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہوتا ہے یہی تو زندگی ہے بھائی ۔۔ “
قائم کے ہاتھوں میں مقیم اپنے ہاتھوں سے یقین کے انداز میں ہلکا سا دباؤ ڈالتے ہوئے وہ مسکرا کر بولی
” مجھے معلوم تھا میری گڑیا بہت سمجھدار ہے ۔۔”
وہ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتا گویا ہوا
” یہ بات دادا جان کو معلوم نہیں ہے کیا بھائی ۔۔ “
معصومہ نے دل میں آئی بات فوراً پوچھی کیونکہ دادا جان تو بار بار قائم سے شادی کرنے پر زور دے رہے تھے اگر انہیں قائم کے نکاح کا معلوم تھا تو وہ کیوں ایسے کہہ رہے تھے
” پتہ ہے دادا جان کو ۔۔ مگر وہ چاہتے ہیں کہ میں یہ نکاح ختم کر دوں ۔۔!!”
قائم اٹھ کھڑا ہوا اور میز سے موبائل اٹھا کر جیب میں رکھتا کہنے لگا معصومہ بھی اس کی بات سمجھتے ہوئے سر ہلاتی اسے دیکھنے لگی
” آپ آج لینے جا رہے ہیں انہیں ۔۔ ؟؟ “
معصومہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور سرسری سا پوچھا
” ہمم ۔۔۔ !!”
قائم نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا اور پھر وہ خدا حافظ کہتا کمرے سے نکل گیا جبکہ معصومہ جانے کیوں کچھ اداس سی ہو گئی تھی مگر اسے اپنے بھائی کے لیے خوش رہنا تھا قائم کی خوشیوں کے لیے دعا کرتی وہ بھی کمرے سے باہر نکلی اور اپنے قدم کیچن کی جانب بڑھا دیے جہاں دادی جان ، پھوپھو جان ، تائی ماں اور چچی پہلے سے موجود تھیں انہیں سلام کرکے معصومہ سرسری سی ان سے باتیں کرنے لگی انہیں باتوں کے دوران اسے معلوم ہوا کہ قائم کے نکاح کا سب کو پہلے سے علم تھا اور آج قائم اپنی بیوی کو لا رہا ہے یہ بات بھی سب کو معلوم ہے اور اسی لیے رات کے کھانے کا خاص اہتمام کرنے کا دادا جان کا حکم ہے اور یہ بھی کہ دو ہفتوں بعد قائم کے ولیمے کی تقریب منعقد کی گئی ہے کچھ دیر سب کے ساتھ معمول کی باتیں کرنے کے بعد معصومہ کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تو وہ اپنے کمرے کی سمت بڑھ گئی
//////////////////////////
میری امی ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھیں ۔۔ اسی لیے کافی دن قسط نہیں دے سکی ۔۔ اس لیے بہت معذرت
اور قسط کے بارے میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیجئے گا اگلی قسط رات کو نہ دے سکی تو کل فرسٹ ٹائم انشاءاللہ ضرور پوسٹ کر دوں گی
