Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
ناول: تو رنگ دے
از قلم: فاطمہ
قسط نمبر 18
باذِل ، معصومہ کا ہاتھ تھام کر شیرازی ہاؤس کے سب مکینوں کو ہکا بکا چھوڑ کر لاؤنج سے جا چکا تھا جبکہ قائم نے بھی ایک سرد نگاہ سب پر ڈالی اور لاؤنج سے باہر نکلنے لگا جب دادا جان کی نرم مگر بلند آواز اس کے کانوں میں پڑی
” قائم بیٹا باذِل نے تو میری کوئی بات نہیں سنی ۔۔ تم تو سن لو میرے بچے ۔۔ “
مظفر صاحب قائم کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولے تھے جبکہ قائم نے محض سوالیہ انداز میں بھویں اچکائیں تھیں زبان سے کچھ نہ بولا اس کا چہرہ کسی بھی تاثر سے عاری تھا بےحد سنجیدہ تھا
” بیٹا دیکھو میں مانتا ہوں ساجد نے غلط کیا ہے ۔۔ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا اس پر ۔۔ مگر بیٹا کیا تم نہیں جانتے اس لڑکی کو ۔۔؟؟ وہ خود سر ہے ، اور بدتمیز بھی ۔۔”
وہ بے چین ہو رہے تھے کہیں ان کا دوسرا پوتا بھی منہ نہ موڑ کر کمرے میں چلا جائے اسی لیے جزبر ہو کر وضاحت دیتے ہوئے بولے
” معصومہ نے کبھی کسی سے بدتمیزی نہیں کی دادا جان ۔۔
لیکن اب لوگوں کے پست خیالات کا کیا کیا جا سکتا ہے جہاں سچی بات کہنے والا بے ادب اور بدتمیز کہلاتا ہے ۔۔ اگر تمیزداری ، ناحق بات برداشت کرنا اور ظلم کے خلاف خاموش رہنا ہے تو میں نے ایسی تمیز واقعی اپنی بہن کو نہیں سیکھائی ۔۔ !”
اس کا لہجہ بے حد سرد تھا چہرہ بھی کسی بھی تاثر سے عاری تھا اور چٹانوں جیسی سختی لیے ہوئے تھا مگر دھیمی آواز میں وہ نگاہوں کا رخ فرش پر بکھرے ٹکڑوں پر جمائے ہوئے تھا
” بیٹا اب تم تو غصہ نہیں کرو ۔۔ دیکھو ذرا باذِل نے تو میری کوئی بات سنی ہی نہیں ۔۔”
وہ قائم کا سرد انداز دیکھ کر یکدم فکرمند ہوئے تھے محبت اور التجا سے کہتے ہوئے وہ قائم کا بے تاثر چہرہ دیکھ رہے تھے
” کیا دادا جان ۔۔؟؟ اب کوئی صفائی دینی باقی ہے؟؟ ایک دن میں کیا حالت ہو گئی اس کی ۔۔ آپ مجھے کال کر کے بتا بھی تو سکتے تھے ۔۔ معذرت دادا جان مگر آپ نے میری بات کا پاس نہیں رکھا ۔۔ میں نے کئی سال پہلے بھی آپ سے کہاں تھا صرف اس شرط پر شیرازی ہاؤس میں رہوں گا کہ میری بہن کو ذرا برابر بھی تکلیف نہیں ہونی چاہیے یہاں مگر !!! ۔۔ میں اپنی بہن کے ساتھ ہوا سلوک ہرگز فراموش نہیں کر سکتا دادا جان ۔۔ “
وہ ایک ٹھنڈا مزاج آدمی تھا مگر یہاں بات اس کی عزیز جان بہن کی ہو رہی تھی بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے معصومہ کا سوجا ہوا چہرہ ، روئی ہوئی آنکھیں آور گھٹ گھٹ کر رونا یاد آ رہا تھا معصومہ کی یہ حالت اسے تکلیف سے دوچار کر رہی تھی
” قائم بیٹا باذِل تو جذباتی ہے مگر تم تو سمجھ دار ہو ۔۔ ایسے اپنے دادا سے بدظن نہ ہو میرے شیر۔۔ میری زندگی بس تم دونوں سے ہے ۔۔”
وہ دو قدم اس تک پہنچتے محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہے تھے جبکہ قائم کا ہر انداز انہیں احساس دلا رہا تھا کہ وہ بہت ضبط کر رہا ہے کیونکہ وہ جانتے تھے باذِل اپنا غصہ نکال چکا ہے ہر چیز پر مگر قائم ! اس کی فطرت میں ہی برداشت اور صبر کی آمیزش تھی
” اور میرا سب کچھ میری بہن ہے دادا جان ۔۔ یہ بات میں بارہا آپ سے کہہ چکا ہوں ۔۔!”
وہ ٹھنڈے ٹھار انداز میں بولا تھا جبکہ وہاں موجود شیرازی ہاؤس کے مکین مظفر صاحب کو دیکھ رہے تھے جو محض اپنے پوتوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے باقی کسی کی انہیں کوئی پرواہ نہیں تھی جبکہ وہاں کھڑی چچی کے دل میں ٹیس اٹھی تھی ان کے دل سے آواز آئی تھی کہ کاش ان کی بیٹیوں کا بھی ایسا بھائی ہوتا تو آج وہ ایسی گھٹی ہوئی اور سسکتی ہوئی زندگی نہ گزار رہیں ہوتیں مگر یہ دعا انہوں نے ضرور کی تھی کہ خدا ان کی بیٹیوں کے نصیب ان جیسے نہ کرے اور شوہر باذِل یا قائم جیسا ملے انہیں
” اگر تم کہتے ہو تو اس سب کے لیے تمہارا دادا تم سے معافی مانگ لیتا ہے۔۔”
مظفر صاحب نے اسے دیکھتے ہوئے التجائیہ انداز میں کہا اور کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر پشیمانی سے ہاتھ جوڑ دیے جنہیں ایک جست میں قائم نے اپنے ہاتھوں میں تھام لیے
” میں ہرگز ایسا نہیں چاہتا دادا جان ۔۔ جب میں اپنے باپ کے ساتھ ہزار اختلافات کے باوجود اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا محض اس لیے کہ وہ میرا باپ ہے تو پھر آپ تو میرے لیے قابل احترام ہیں ۔۔!”
وہ اس بار ان کی آنکھوں میں دیکھتا لہجے میں بےحد احترام لیے بولا تھا کہ مظفر صاحب جیسے کرخت شخص کی آنکھوں میں نمی چھا گئی جسے وہ آنکھیں جھپکا کر چھپا گئے
” مجھے معلوم ہے تم کبھی اپنے دادا سے خفا نہیں ہو سکتے ۔۔ جیتے رہو میرے پوتے ۔۔ “
انہوں نے اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے شفقت بھرے انداز میں کہا
” مگر یاد رکھیے گا دادا جان بے شک وہ میرے باپ ہیں مگر اپنی ماں کے ساتھ ہوئے ظلم میں ابھی بھولا نہیں ہوں ۔۔ اور معصومہ پر ہاتھ اٹھا کر انہوں نے مزید غلط کیا ہے ۔۔ باذِل تو کیا میں بھی اس بار کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔!! “
قائم کا لہجہ ایک بار پھر بےحد سرد ہوا تھا جبکہ آنکھوں میں کرب واضح ہوا تھا جسے وہ مہارت سے چھپا کر ایک سرد نگاہ ماجد صاحب اور عابد صاحب کے اڑے ہوئے چہروں پر ڈال کر وہاں سے جا چکا تھا جبکہ مظفر صاحب بےبسی سے اس کی پشت دیکھنے لگے یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا
//////////////////////////
وہ معصومہ کو کمرے میں لے جا کر اسے بیڈ پر بیٹھا چکا تھا اور نوری کو دودھ کا گلاس لانے کو کہا اب وہ مسلسل کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا معصومہ بیڈ پر سمٹی بیٹھی ترچھی نگاہوں سے اس کے بے حد سنجیدہ چہرے کو دیکھ رہی تھی جو بغیر کچھ کہے خطرناک تیور لیے کمرے میں تیز تیز ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا جب دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ نوری ہاتھ میں دودھ کا گلاس اور فرسٹ ایڈ باکس لیے داخل ہوئی باذل نے اس کے ہاتھ سے دونوں چیزیں لے کر اسے جانے کا حکم دیا تو وہ مؤدب سی سر جھکا کر چلی گئی جبکہ باذل دودھ کا گلاس اور فرسٹ ایڈ باکس میز پر رکھ کر واپس مڑا اور دروازہ لاک کر کے معصومہ کی جانب بڑھا معصومہ نا محسوس انداز میں مزید خود میں سمٹ گئی بلاشبہ فی الوقت اسے باذل کے بے حد سنجیدہ چہرے اور کچھ دیر پہلے کے جنونی باذل سے خوف محسوس ہو رہا تھا اور کوشش کے باوجود بھی وہ اپنی گھبراہٹ اور خوف پر قابو نہ پا سکی تھی اس کا وجود ہلکا سا لرز رہا تھا
جبکہ اب باذِل بیڈ پر بلکل اس کے سامنے بیٹھ چکا تھا اور ہاتھ بڑھا کر معصومہ کی دونوں کلائیاں تھامی اور اسے اپنے قریب کیا اور سپاٹ چہرے سے اس کے سرخ چہرے کو دیکھنے لگا جسے دیکھ کر اس نے اپنے جبڑے سختی سے بھینچ لیے
” کہاں درد ہو رہا ہے ۔۔؟”
بےحد سرد انداز میں پوچھا گیا کہ باذل کے ہاتھ میں مقید اس کا ہاتھ کپکپا گیا اور اس نے لرزتی پلکوں کو اٹھا کر باذِل کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا
” سس سر میں ۔۔ !!”
اس کی سرد نگاہوں سے بے حال ہوتی وہ بمشکل بول پائی تھی اور پھر نگاہیں جھکا گئی
” جب سر میں درد ہوتا ہے تو کون سی میڈیسن لی جاتی ہے ۔۔ ؟؟ “
اب وہ اس کی کلائی سے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر اس کے دائیں رخسار تک لے گیا اور اس کے سوجے ہوئے گال کو اپنی انگلیوں سے سہلانے لگا کہ معصومہ کو اس کا نرم لمس اپنے گال پر پا کر درد کی لہر محسوس ہوئی تھی اس کی آنکھوں میں موتی چمکنے لگے مگر مسلسل باذل کی انگلیوں کی حرکت کو وہ چاہ کر بھی روک نا سکی
” پپ پین کلر ۔۔۔!!”
وہ بےبسی سے بولی تھی وہ اپنے بہتے آنسوؤں کو صاف بھی نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ اس کی دونوں کلائیاں باذِل کی مضبوط گرفت میں مقید تھی
” ہمم گڈ ۔۔ تو جاناں جب سر میں درد ہوتا ہے تو پین کلر لیتے ہیں رائٹ ۔۔؟؟”
وہ اس کے بہتے آنسو اپنی ہاتھ کی پوروں سے نرمی سے صاف کرتا تصدیق چاہتا ہوا بولا جبکہ معصومہ نے جھکے سر کو اثبات میں ہلایا جبکہ وہ اس کے بے تکے سوال سمجھنے سے قاصر تھی
” تو جاناں تم نے سلیپنگ پلز کیوں لیں ۔۔ ؟؟”
وہ مزید اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لے جاتا ہوا سرد لہجے میں پوچھنے لگا
” و وہ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔ آئندہ ایسا نہیں کروں گی پلیز سوری ۔۔ “
وہ باذل کا ہاتھ اپنی گردن کی پشت پر محسوس کرتے ہوئے جلدی جلدی بولی جبکہ باذِل کی گرفت اس کی گردن کے پیچھے تھوڑی سخت ہوئی تھی معصومہ نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں
” ہمم تم سے اسی کی امید ہے مجھے ۔۔ “
باذِل نے اس کی گردن سے پکڑ کر اس کے چہرے کو تھوڑا بلند کیا اور بولا اور پھر اس کے چہرے کے ہر نقش پر والہانہ انداز میں اپنے لب رکھنے لگا کہ معصومہ کی سانسیں بے ترتیب ہوں گئیں کئی پل گزرے تھے جب وہ اس سے جدا ہوا اور بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا جبکہ معصومہ گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے بمشکل خود کو رونے سے روک رہی تھی مگر پھر بھی مسلسل اس کے آنسو اس کا چہرہ بھگو رہے تھے ابھی وہ سنبھلی کہاں تھی جب ایک بار پھر باذل اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا تھرمامیٹر سے اس کا بخار چیک کیا پھر ایک گولی خود ہی معصومہ کو کھلا کر وہ اب اس کے لبوں سے دودھ کا گلاس لگا چکا تھا ناچار معصومہ کو بغیر کسی حجت کے وہ گلاس ختم کرنا پڑا اب باذِل گلاس تھام کر میز پر رکھ رہا تھا اور نائٹ بلب آن کر کے دوبارہ معصومہ تک آیا اس کا دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا اور اسے بیڈ پر لیٹا کر اس کے قریب بیٹھ کر اس کا سر ہلکا ہلکا دبانے لگا
” جاناں ریلیکس رہو ۔۔ جو بھی ہوا اسے دماغ پر سوار مت کرو ۔۔ بلکل پرسکون رہو ۔۔ اور ایک آنسو بھی تمہاری آنکھ سے نا نکلے ۔۔ روتی رہو گی تو سر مزید درد کرے گا ۔۔ میں یہیں ہوں ۔۔ چلوں سو جاؤ ۔۔”
وہ اس کا سر ہلکا ہلکا دباتا اس بار لہجے میں نرمی اور محبت لیے بول رہا تھا بلاشبہ معصومہ کا اس طرف رونا اسے تکلیف دے رہا تھا
” ان کا یہ جنون کیا صرف میرے لیے تھا یا اگر میری جگہ کوئی اور لڑکی ان کی بیوی ہوتی تو اس کے لیے بھی اسی طرح کرتے ۔۔؟؟”
” یہ بات مجھے خود نہیں معلوم کہ یہ خاص جذبات تمہارے لیے تھے یا پھر اگر کوئی بھی لڑکی میری بیوی ہوتی تو ایسے اس کے لیے بھی کرتا میں ۔۔ ہاں مگر اتنا جانتا ہوں ۔۔ شوہر ہی اپنی بیوی کی عزت لوگوں سے کرواتا ہے اور یہ تب ممکن ہے جب وہ خود اپنی بیوی کو عزت اور تحفظ دے ۔۔ تم میری بیوی ہو میری ذمہ داری ہو اور مجھے اپنی بیوی کے ساتھ ہوئے ہر سلوک کا خدا کے آگے جواب دینا ہے ۔۔ آج کے بعد کوئی بھی تم سے سخت لہجے میں بات تک نہیں کرے گا دیکھنا تم ۔۔”
معصومہ نہیں جانتی کہ اس نے یہ بات دل میں سوچی تھی یا بلند آواز میں بڑبڑائی تھی جوکہ باذِل نے سن لیا تھا اور محبت سے اس کا سر دباتا ہوا ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا جبکہ وہ اپنی آنکھیں موند کر خاموشی سے اس کی باتیں سن رہی تھی پھر معصومہ نے اپنے ماتھے پر موجود اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے اپنے ساتھ لیٹنے کا اشارہ کیا جبکہ معصومہ کا اشارہ سمجھتے ہوئے بے ساختہ ہی بازل کے لب مسکرائے پھر وہ اس کے ساتھ لیٹ کر ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کر کے دوسرے ہاتھ سے اس کا سر دبا رہا تھا جبکہ معصومہ نے اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا تھا جبکہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے بالوں پر باذل کے دہکتے لبوں کا لمس محسوس کر رہی تھی پھر کب وہ پر سکون ہو کر نیند کی وادیوں میں گم ہوئی اسے خود بھی خبر نہ ہوئی
جبکہ باذل کافی دیر اس کا سر دباتا رہا اور پھر جب اسے یقین ہو گیا کہ معصومہ سو گئی ہے تو وہ آہستہ سے اس کا سر تکیے پر رکھتا ہوا بیڈ سے اترا اور جیب سے موبائل نکال کر باسط اور قائم کے نمبر پر ایک جگہ کا ایڈریس سینڈ کر کے آدھے گھنٹے میں وہاں پہنچنے کا حکم دیا اور خود ہاتھ میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھا جہاں گھڑی کی سوئیاں رات کے ڈھائی بجا رہیں تھیں پھر معصومہ کو ایک نظر دیکھتا بنا آہٹ کیے کمرے سے نکل گیا
////////////////////////////
وہ جب اس عام سے غیر آباد مکان میں داخل ہوا تو ایک بلب کی روشنی میں اسے سامنے ہی تین کرسیاں ایک میز کے گرد پڑی نظر آئیں جن پر ایک پہ باسط اور دوسری پر قائم بیٹھا لیپ ٹاپ پر جھکے ہوئے تھے باذل تیز تیز قدم چلتا ان تک آیا اور خالی کرسی پر براجمان ہو گیا اور پھر کافی دیر وہ تینوں اپنا پلین ڈسکس کرتے رہے جبکہ باسط بار بار منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائیاں روک رہا تھا اس کی سرخ آنکھیں اور بیزار چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بہت مشکل سے اپنا بستر چھوڑ کر آیا تھا
” باسط یہ سب تم نے کرنا ہے اور تمہارا بلکل دھیان ہی نہیں ہے ۔۔ غور سے سنو میری بات غلطی کی گنجائش قطعی نہیں ہے ۔۔ اس لیے اپنا دماغ یہاں رکھو۔۔ “
باذِل سخت نگاہوں سے باسط کو دیکھتا ہوا دبی دبی آواز میں غرایا جبکہ باسط نے بیچارا سا چہرہ بنا کر باذل کو دیکھا اور پھر قائم کے سنجیدہ چہرے کو اور پھر خود بھی بمشکل سنجیدہ چہرہ بناتا باذل کو سننے لگا
” باسط کل شام سات بجے تمہیں شیرازی ہاؤس یہ سب کام نبٹا کر پہنچنا ہے ۔۔ باقی تمہیں سب معلوم ہے کہ تمہیں کیا کرنا ہے ۔۔ “
باذِل اب کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور جیب سے سگریٹ نکال کر سلگا کر لبوں سے لگا لی اور سرد انداز میں باسط کو دیکھتا بولا جبکہ باذِل کی بات جب باسط کی سماعتوں تک پہنچی تو اب اس کی ساری نیند اتر چکی تھی اور وہ اپنی آنکھیں پھاڑے کبھی باذل کو اور کبھی قائم کو دیکھنے لگا
” مگر یہ سب تو ہمیں مشن کے بعد کرنا تھا نا تو پھر اتنی جلدی کیوں ۔۔؟”
وہ خاصے جھنجھلائے ہوئے انداز میں باذل سے بولا تھا جو ایک ہاتھ میں سگریٹ تھامے کش لے رہا تھا جبکہ نگاہیں سیل فون پر جمائے ہوئے تھا پھر باسط نے بےبسی سے قائم کو دیکھا تو قائم نے باذل کی جانب اشارہ کر کے اپنے کاندھے اچکا دیے جبکہ باسط نے پھر باذل کو بے بسی سے دیکھا مطلب اس کی بات کو کوئی سن ہی نہیں رہا تھا
” میں باقی سارے کام کر لوں گا لیکن شیرازی ہاؤس نہیں جا سکتا ۔۔ اور ویسے بھی یہ کام تو آپ کرنا تھا یہی طے ہوا تھا ۔۔ “
باسط اس بار اپنی بات پر زور دیتے ہوئے خاصی بلند آواز میں بولا تھا آخری بات اس نے قائم کو دیکھ کر بولی تھی
” باسط یہ کام تم ہی کرو گے ۔۔ اب بھی کوئی مسئلہ ہے تمہیں تو بتا دو ۔۔ میں تمہارے سارے مسئلے ابھی حل کر دیتا ہوں ۔۔!!”
باسط کی جھنجھلاہٹ دیکھتے ہوئے اس بار باذل اسے غصے سے گھورتے ہوئے سرد مہری سے گویا ہوا
” کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔ ہو جائے گا کام ۔۔ “
باسط اس بار بےحد سنجیدگی سے بولا تھا اسے سنجیدہ دیکھ کر باذل اٹھ کھڑا ہوا اور باسط کے شانے کو ہلکا سا دباؤ ڈال کر تھپتھپایا اور ہاتھ میں تھاما ہوا سیل فون جیب میں رکھتا تیز تیز قدم بڑھاتا چلا گیا
” انہیں اتنی جلدی کس بات کی ہے ۔۔ ؟”
باذِل کے جاتے ہی باسط جھنجھلائے ہوئے انداز میں قائم سے بولا
” اس بحث کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے باسط ۔۔ اس نے کل شام کہا ہے تو اتنا ہی وقت دے گا وہ تمہیں ۔۔ اس لیے اپنا وقت ضائع مت کرو ۔۔”
قائم اسے ہاتھ میں بندھی گھڑی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا
” آپ کہاں جا رہے ہیں اب ۔۔؟”
قائم کو میز پر پڑے چند کاغذ سمیٹتے دیکھ کر باسط نے پوچھا
” صبح کی فلائٹ ہے میری لاہور کی اس سے پہلے مجھے گھر بھی جانا ہے ۔۔ “
قائم اب اپنا موبائل نکال کر چیک کرتے ہوئے بولا
” کیوں خیریت ۔۔؟؟”
” اس کے باپ نے کہا ہے میں صبح لے جاؤ اسے ۔۔ “
موبائل پر نگاہیں جمائے وہ بے تاثر انداز میں بولا
” تو آپ شیرازی ہاؤس لے کر جائیں گے انہیں ؟”
باسط اس کی بات سمجھتا سر ہلاکر اگلا سوال کرتے ہوئے قائم کا سنجیدہ چہرہ دیکھتا گویا ہوا
” ہاں ظاہر ہے ۔۔!”
قائم نے سرسری سے انداز میں جواب دیا
” کوئی ملاقات ہوئی ابھی تک ان سے یا شرافت لیے پھر رہیں ہیں ۔۔؟”
باسط بظاہر سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا مگر اس کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی قائم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور ہنوز موبائل پر نگاہیں جمائے رہا
” یار بتائیں تو ۔۔؟؟”
باسط تھوڑا آگے کی جانب بڑھ کر اپنی مسکراہٹ دبائے شرارت سے پوچھ رہا تھا
” نہیں ہوئی ملاقات ۔۔ محض اس کے باپ سے ملتا ہوں جب جاتا ہوں ۔۔”
قائم نے ہنوز سنجیدگی سے کہا اسے معلوم تھا جب تک باسط کی بات کا جواب نہ دے گا وہ پیچھا نہیں چھوڑے گا
” عجیب ہیں یار آپ ۔۔ !! اپنی بیوی سے ہی نہیں ملتے ۔۔ اب بندہ اتنا بھی شریف نہ ہو ۔۔ اگر وہ آپ کی پسند پر پوری نہ اتری تو ۔۔ ؟؟ ان دو ماہ میں کم از کم آپ کو ان سے رابطہ رکھنا چاہیے تھا بیشک کال پر ہی رکھتے ۔۔ “
باسط قائم کی بات پر اپنا ماتھا پیٹتا اسے گھورتا ہوا بول رہا تھا
” تم ان باتوں پر دھیان نہ دو ۔۔ اور اپنے کام پہ لگو ۔۔ وقت بہت کم ہے تمہارے پاس ۔۔ “
قائم اس بات نظرانداز کرتا ہوا مصنوعی غصے سے اسے گھورتا ہوا بولا
” چلیں اب لا جو رہیں ہیں اپنے ساتھ تو جی بھر کے مل لیجئے گا اپنی بیگم سے ۔۔”
باسط ، قائم کو آنکھ مارتا ہوا قہقہہ لگا کر بولا جبکہ قائم اس کی بات پر غصے سے اس کا نام لیتے ہوئے دھاڑا
” باسط ۔۔ !!”
” ارے کچھ ان سے ہی سیکھ لیں ۔۔ اپنی بیوی سے کیا کال پہ رومینس بھاڑتے ہیں ۔۔ اففف ۔۔ ہاہاہاہا “
باسط کی بات کا اشارہ باذل کی جانب تھا جبکہ یہاں قائم سے اور برداشت نہ ہوا اور اٹھ کر ایک مکہ باسط کی کمر پر رسید کرتا اپنی چیزیں لے کر چلا گیا جبکہ اس کے جاتے باسط کے مسکراتے لب سکڑ گئے اور چہرے پر بے حد سنجیدگی چھا گئی آنکھیں بے تحاشہ سرخ ہو رہیں تھیں لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے وہ چند لمحے پہلے والا باسط بلکل نہیں لگ رہا تھا بلکہ اب تو اس کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی تھی
///////////////////////////
قسط کے بارے میں اپنی رائے دینا مت بھولیے گا کوشش کرو گی اگلی قسط جتنا جلدی ہو پوسٹ کر دوں
