Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 20
سارا دن آج ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ گزارا تھا باذل نے آج اپنے بچپن کی بہت سی باتیں اس کے ساتھ کیں تھیں معصومہ نے بھی یونیورسٹی اور اپنے بچپن کی باتیں اس کے ساتھ بانٹی تھیں اس نے باذل کو اس لڑکے کے بارے میں بھی بتایا جو اسے یونیورسٹی میں ملا تھا جو بقول معصومہ کے کافی حد تک باذل کا ہمشکل تھا اس کی یہ بات سن کر باذل نے نا محسوس انداز میں بات بدل دی تھی جبکہ معصومہ نے پھر بہت اشتیاق سے اسے کہا کہ وہ کبھی اس کی یونیورسٹی آئے تو وہ اسے وہ لڑکا ضرور دیکھائے گی تو باذل نے مسکرا ہر ہامی بھر لی
ساجد صاحب دوپہر میں ہی گھر آ چکے تھے مگر وہ باذل کی شیرازی ہاؤس میں موجودگی کے باعث اپنے کمرے سے نہیں نکلے تھے انہوں نے گذشتہ رات بھی ہمیشہ کی طرح مہ خانے میں شراب نوشی کرتے گزاری تھی وہ گذشتہ رات ہوئے واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال ماجد صاحب اور عابد صاحب سے سن چکے تھے اور باذل کے مزاج سے وہ خود بھی بہت اچھی طرح واقف تھے کہ باذل اب کچھ کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا ماجد صاحب کی تاکید پر وہ باذل کے سامنے نہیں گئے تھے بلکہ ماجد صاحب اور عابد صاحب بھی آج گھر پر موجود تھے جبکہ باذل نے بھی انہیں نظرانداز کیا ہوا تھا وہ بھی شام کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ جو سرپرائز اس نے اپنے باپ چچا کو دینا تھا وہ ان تینوں کے لیے خاصا جھٹکا تھا اور وہ بھی طوفان سے پہلے کی خاموشی سے لطف اندوز ہو رہا تھا
شام اپنے سائے ہر سو پھیلا رہی تھی باذل نے شام کی چائے دادا جان کے ساتھ پی تھی وقت آہستہ آہستہ سرک رہا تھا اس کے سیل فون پر کوئی میسج آیا تھا جسے پڑھ کر اس کے سنجیدہ چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ آئی تھی اب وہ دادا جان کے ساتھ لاؤنج میں آ بیٹھا تھا ایک دن میں ہی لاؤنج کی خوبصورتی پہلے جیسی تو نہیں ہو پائی تھی مگر خاصی بہتر ضرور تھی نیا ایل ای ڈی بھی دیوار میں نصب تھا
ٹی وی آن کرکے نیوز چینل لگا دیا تھا اور والیم خاصا بلند کر دیا تھا تاکہ دادا جان کے علاوہ لاؤنج کے باہر تک آواز جائے
ایل ای ڈی کی سکرین پر نگاہ پڑتے ہی پھر اس کے سنجیدہ چہرے پر زہریلی مسکراہٹ آئی تھی کیونکہ اس کے سرپرائز کا آغاز ہو چکا تھا نیوز رپورٹر کی بلند اور تیز آواز لاؤنج میں گونج رہی تھی جب دادا جان اپنا چشمہ لگاتے ہوئے سکرین کی جانب متوجہ ہوئے
” ناظرین یہاں ہم آپ کو ایک اہم خبر سے آگاہ کرتے چلیں ۔۔ ملک کے مشہور جیولر ‘ شیرازی جیولرز ‘ کے مالک اور مشہور سیاست دان شیرازی برادران کی بھیانک حقیقت سامنے آ گئی ۔۔ !! جی ہاں ناظرین ۔۔ شرافت کے لبادے میں چھپے برے روپ ۔۔ !! جوا ، شراب نوشی ، سمگلنگ جیسے برے کاموں کے ساتھ ساتھ شیرازی برادران نازیبا جگہوں پر بھی پائے جاتے دیکھائی دیے ہیں ۔۔ جی ہاں ناظرین ۔۔ مشہور سیاست دان ساجد شیرازی گذشتہ شب اپنی عمر سے دگنی کم عمر لڑکی کے ساتھ ایک ہوٹل کے کمرے میں پائے گئے تھے ۔۔ جی ہاں ناظرین ۔۔ مزید آپ کو آگاہ کرتے چلیں کہ شیرازی برادران اسلحے کے علاوہ انسانی جسم کی سمگلنگ جیسے سنگین جرم میں بھی ملوث ہیں ۔۔ اس کے علاوہ شیرازی برادران کی بیرونی ممالک میں موجود پراپرٹی کے کیس میں نیب نے انہیں فوری طلب ہونے کا نوٹس جاری کر دیا ۔۔ طلب نہ ہونے کی صورت میں شیرازی برادران کی ساری ملکی اور غیر ملکی جائیداد ضبط کر لی جائے گی ۔۔ جی ہاں ناظرین ۔۔ !! یہاں ہم آپ کو بریکنگ نیوز دیتے چلیں ۔۔ شیرازی برادران کی بھیانک حقیقت ۔۔!! جی ہاں ناظرین ۔۔ “
////////////////////////////
وہ ہانیہ کے ساتھ باتیں کرتی ہوئی سیڑھیاں اتر رہی تھی جب اسے لاؤنج سے دادا جان کے چلانے کے ساتھ ٹی وی کی بلند آوازیں آ رہیں تھی تقریباً شیرازی ہاؤس کے تمام مکین لاؤنج کی جانب بڑھ رہے تھے وہ بھی ہانیہ کے ساتھ چلتی ہوئی لاؤنج میں داخل ہوئی تھی
لاؤنج میں اس وقت سب موجود تھے ماجد صاحب، ساجد صاحب اور عابد صاحب کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور دوسرا جا رہا تھا اے سی کی خنکی کے باوجود ان کی پیشانی پر پسینہ بہہ رہا رھا جبکہ ان کی نگاہیں سکرین کی جانب تھیں جہاں ان تینوں کی تصاویر بار بار دیکھائی جا رہیں تھی
مظفر صاحب اپنے تینوں بیٹوں پر دھاڑ رہے تھے
تمام خواتین بھی ایک طرف کھڑیں حیرت سے ٹیلیوژن سکرین کو دیکھ رہیں تھی
جبکہ اس سارے ماحول میں باذل شیرازی بلکل پر سکون انداز میں صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھا تھا جیسے اسے اس ساری صورتحال سے کوئی خاص فرق نہ پڑا ہو
اسی اثنا میں قائم ایک لڑکی کے ساتھ لاؤنج میں داخل ہوا تھا تو لاؤنج میں موجود تمام نفوس ان دونوں کی جانب متوجہ ہوئے
قائم کے پہلو میں ایک لڑکی کو دیکھ کر دادی جان نے فی الوقت صورت حال کے پیش نظر ملازمہ سے کہہ کر اس لڑکی کو قائم کے کمرے میں لے جانے کا حکم دیا جبکہ اب ماجد صاحب قائم کو خونخوار انداز میں گھور رہے تھے
” یہ سب تم نے کیا ہے نا قائم ۔۔ ؟؟ تمہیں شرم نہیں آئی اپنے باپ ، تایا کی عزت کا جنازہ نکالتے ہوئے ۔۔ ؟؟”
ماجد صاحب کی چنگھاڑتی آواز لاؤنج میں گونج رہی تھی جبکہ دادا جان سمیت سب اب قائم کی جانب متوجہ تھے جو چہرے پر بلا کی بیزاریت لیے تھکا تھکا سا کھڑا تھا ماجد صاحب کی بات پر اس کے لب ہلکے سے مسکرائے
” کاش یہ نیک کام میرے ہاتھوں ہوتا ۔۔ !! بہرحال مجھے اس بات کا افسوس تو ساری زندگی رہے گا ۔۔!”
قائم چہرے پر بے حد افسردگی لیے بول رہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر ساجد صاحب، ماجد صاحب اور عابد صاحب کو تو جیسے آگ لگ گئی جبکہ باذل کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ در آئی تھی
” بکواس بند کرو قائم ۔۔ تمہارے علاوہ یہ کون کر سکتا ہے ۔۔ ؟؟ تم ہی وہ دو ٹکے کی نوکری کرتے ہو ۔۔ اپنے ہی باپ کو دنیا کے سامنے ذلیل و خوار کر دیا ہے تم نے ۔۔ “
ساجد صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنا ہی بیٹے کو شوٹ کر دیں جبکہ قائم کے چہرے پر اپنے باپ ، تایا اور چچا کے فق چہرے دیکھ کر دلی اطمینان ہو رہا تھا
لاؤنج میں نیوز اینکر کی تیز آوازیں بھی ساتھ ساتھ گونج رہیں تھیں ہر نیوز چینل پر شیرازی برادران کا اسکینڈل شہ سرخیوں میں شامل تھا ساتھ ساتھ شیرازی برادران کی تصاویر ٹیلیوژن سکرین پر دیکھائی جا رہیں تھیں
” باذل کیا یہ سب تم نے کیا ہے ۔۔؟؟ تمہیں شرم آنی چاہیے یہ حرکت کرتے ہوئے ۔۔ ہم کچھ لگتے ہیں تمہارے ۔۔ ذرا خیال نہیں آیا تمہیں ہمارا تباہ کر دیا تم نے ہمیں ۔۔ !”
اس بار عابد صاحب صوفے پر اطمینان سے بیٹھے باذل کو مخاطب کرتے ہوئے چلائے تھے
” شرم ۔۔ ؟؟ شرم کسے کرنی چاہیے یہ ساری دنیا کو معلوم ہو چکا ہے ۔۔ اور جہاں تک میرے شرم کرنے کی بات ہے تو واقعی آپ لوگوں کے ساتھ رشتہ داری پر مجھے شرمندگی کے ساتھ افسوس بھی ہو رہا ہے ۔۔ چونکہ اللہ کے کرم سے بہت عزت اور اپنی پہچان ہے ہماری دنیا میں ۔۔ اس لیے آپ تینوں کے کارناموں سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا مجھے ۔۔ اور آخری بات ۔۔ مجھے بھی افسوس رہے گا یہ سب میرے ہاتھوں کیوں نہیں ہوا ۔۔ “
باذل چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ لیے دل جلانے والے انداز میں بول رہا تھا جبکہ دادا جان سمیت شیرازی برادران بھی اب مزید پریشان ہو گئے کہ اگر قائم اور باذل نے یہ سب نہیں کیا تو وہ تیسرا کون ہے اتنا تو وہ سب جانتے تھے کہ قائم اور باذل نے اگر یہ سب کیا ہوتا تو وہ دونوں دھڑلے سے مان جاتے اگر وہ دونوں انکار کر رہے ہیں تو اور کون یہ سب کر سکتا ہے
” پھر اور کون یہ سب کر سکتا ہے ۔۔ ؟؟”
ماجد صاحب کے چہرے سے بے حد پریشانی کے آثار نمایاں تھے جبکہ باقی سب کے ذہنوں میں بھی یہی سوال گردش کر رہا تھا
” سوچیں تایا جی ۔۔ شاید ماضی کا کوئی کیا گیا ظلم آج آپ کے سامنے آ گیا ہو ۔۔ “
قائم کی بھاری آواز لاؤنج میں گونجی تھی جبکہ اس کا انداز اس قدر سرد تھا کہ ماجد صاحب ایک پل کو ڈر سے گئے
” کیا بکواس ہے یہ ۔۔ ؟؟ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔ “
قائم کی بات سن کر ماجد صاحب دھاڑے تھے
” قائم تم تو پتا لگوا سکتے ہو یہ کس نے کیا ہے میرے بچے ۔۔؟؟”
مظفر صاحب اس بار قائم کو پریشان نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولے
” دادا جان ۔۔ یہ کسی سیکرٹ آفیسر نے کیا ہے ۔۔ یہ ساری انفارمیشن اس نے نیب تک پہنچائی ہے ۔۔ “
قائم اس بار سنجیدگی سے دادا جان کو دیکھتا ہوا گویا ہوا
” آخر اس کو ہمارے سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے ۔۔ کیوں دشمنی نکالی اس نے ہمارے ساتھ ۔۔ ؟ قائم نام بتاؤ اس کا ہمیں ۔۔”
عابد صاحب بھی لہجے میں نفرت و غصہ لیے چلائے تھے جبکہ ان کی بات پر قائم اور باذل نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ان دونوں کے چہرے پر ہی شاطرانہ مسکراہٹ در آئی تھی اسی اثنا میں بھاری قدموں کی آہٹ کی آواز سب کو لاؤنج کے قریب آتی سنائی دی تھی لاؤنج میں خاموشی چھا گئی تھی شیرازی ہاؤس کے تمام مکین کی توجہ لاؤنج میں داخل ہوتے جوان کی جانب مبذول ہوئی
وہ کوئی چوبیس سال کا بلند قد و قامت والا جوان تھا جینز پر نیوی بلو کلر کی شرٹ پہنے ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں پھنسائے دوسرا ہاتھ اپنے بھورے بالوں میں پھیرتا قدم قدم چلتا وہ لاؤنج کے وسط میں آ کھڑا ہوا تھا معصومہ سمیت وہاں موجود تمام نفوس یک ٹک اے دیکھ رہے تھے باسط نے ایک اچٹی نگاہ ان سب کے حیران پریشان چہروں پر ڈالی
” گڈ ایوننگ ایوری ون ۔۔ !!”
وہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے بلند آواز میں بولا تھا جبکہ اس نے ایک مسکراتی نظر معصومہ کے حیران چہرے پر خاص طور پر ڈالی تھی معصومہ اسے اپنی جانب تکتا پا کر سٹپٹا گئی اور نگاہوں کا مرکز باذل کی جانب کیا جو پرسکون بیٹھا اسی لڑکے کو دیکھ رہا تھا
پھر باسط آہستہ آہستہ چلتا وہاں پریشان کھڑے ماجد صاحب اور ساجد صاحب کے سامنے جا کھڑا ہوا
” آپ لوگوں کے اڑے ہوئے چہروں سے لگ رہا ہے کہ دھچکا لگ چکا ہے آپ سب کو ۔۔ !!”
ساجد صاحب کو دیکھتا وہ کاٹ دار انداز گویا ہوا تھا جبکہ اس کی بات کو سمجھتے تینوں بھائیوں نے بوکھلا کر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر باسط کو
” کون ہو تم ۔۔ ؟”
ماجد صاحب کی آواز حلق سے بمشکل ہی نکل پائی تھی جانے کیوں انہیں لگ رہا تھا کچھ بہت ہی برا ہو چکا ہے سامنے کھڑا جوان انہیں باذل سے کافی مشابہ لگا تھا
” باسط ۔۔ !! باسط ماجد شیرازی ۔۔ !!”
وہ بلند آواز میں بولا تھا کہ لاؤنج میں موجود تمام نفوس اپنی جگہ ساکت ہو گئے بے یقینی کے عالم میں ہر کوئی اس لڑکے کو دیکھ رہا تھا مظفر صاحب کے کانوں میں سامنے کھڑے نوجوان کے الفاظ گونج رہے تھے جبکہ معصومہ نے ایک بار پھر باذل کو دیکھا تھا جو پر سکون انداز میں اپنی داڈھی پر ہاتھ پھیرتا اپنے باپ کے فق چہرے کو دیکھ رہا تھا
” ییی یہ کیا بکواس ہے ؟؟ ۔۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے ۔۔ باذل ماجد شیرازی ۔۔ !! “
ماجد صاحب کی آواز میں کپکپاہٹ واضح تھی ان کے دل میں آئے خیال انہیں بےحد بے چین کر رہے تھے
” مجھے بھی آپ کے نام کی قطعی ضرورت نہیں ہے !!کیونکہ الحمداللہ باسط شیرازی نے اپنی پہچان خود بنا لی ہے ۔۔ “
جواباً باسط ان کی پسینے سے تر پیشانی کو دیکھتا خاصی بلند آواز میں گویا ہوا تھا
” تت تم اپنی اوقات میں رہو لڑکے ۔۔ میں تمہاری کوئی بات نہیں مانتا ۔۔!! “
ماجد صاحب پہلے ہی بہت بری طرح مسئلوں میں گھیرے ہوئے تھے اب باسط کی صورت میں مزید خود کو قصوروار کیسے مان سکتے تھے
” اس بات کا جواب میں آپ کو ضرور دیتا مگر ۔۔ میری ماں اور بھائی کی تربیت مجھے آپ سے بد تمیزی کرنے کی اجازت نہیں دیتی ۔۔ !!”
باسط بے حد سرد مہری سے گویا ہوا
پھر کسی کے کچھ بھی بولنے سے پہلے باذل صوفے سے اٹھا اور اپنی قمیض کی آستینیں کہنیوں تک موڑتا وہ قدم قدم چلتا باسط کے ساتھ اور اپنے باپ اور چچا کے سامنے جا کھڑا ہوا
” میری ماں یاد ہیں آپ کو شیرازی صاحب ۔۔ ؟؟”
پشت پر ہاتھ باندھے باذل سرد انداز میں ماجد صاحب سے پوچھ رہا تھا جبکہ اس کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی تھی مظفر صاحب کی نگاہیں ایک ساتھ کھڑے باذل اور باسط کی سمت ٹکی ہوئیں تھیں
” باذل یہ کیسا سوال ہے ۔۔ ؟؟”
ماجد صاحب باذل کے سوال پر سٹپٹا گئے تھے پیشانی کا پسینہ صاف کرتے ہوئے باذل کے بےحد سنجیدہ چہرے کو تکتے ہوئے بولے
” کیوں کیا کوئی عجیب بات پوچھ لی میں نے ۔۔؟؟ “
باذل ان کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا
” نن نہیں ۔۔ !! “
ماجد صاحب بھی باذل کی سرخ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گویا ہوئے
” میری ماں کو کس حالت میں گھر سے نکالا تھا کچھ یاد ہے ۔۔ ؟؟”
باذل کی بلند آواز لاؤنج میں گونجی تھی جبکہ اس کا انداز بے حد سرد تھا باسط بھی اپنے باپ کو سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
” کیا کہہ رہے ہو باذل ۔۔ ؟؟”
مظفر صاحب نے اپنی خاموشی کو توڑا تھا اور باذل اور باسط کے قریب جا کر باذل سے پوچھا جبکہ ان کی نگاہیں باسط کے چہرے پر تھیں جہاں محض سرد تاثر تھا
” دادا جان اپنے بیٹے سے پوچھیں ۔۔ ؟؟ میری ماں کو کیوں دربدر کیا تھا انہوں نے ۔۔؟ کس جرم کی سزا دی تھیں انہیں ؟؟ جبکہ وہ تو ان کے سارے ظلم و ستم بہت صبر سے برداشت کرتی تھیں زبان سے اک حرف شکایت نا نکالتی تھیں ۔۔ مجھ سے جدا کر دیا انہیں ۔۔ صرف وجہ یہ تھی کہ آپ کے عیاش بیٹے کا ان سے دل بھر گیا تھا ۔۔ !!”
باذل کی کرخت آواز میں کس قدر اذیت تھی یہ وہاں موجود لوگ با آسانی محسوس کر سکتے تھے اس کی ضبط کا اندازہ اس کی سختی سے بند مٹھیاں اور بے تحاشہ سرخ آنکھوں سے لگایا جا سکتا تھا جبکہ باسط کا کچھ یہی حال تھا وہ دونوں سگے بھائی تھے یہ وہاں موجود ہر شخص یقین سے کہہ سکتا تھا معصومہ کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں
” حد سے بڑھ رہے ہو تم باذل ۔۔ یاد رکھو تم میرے باپ نہیں ۔۔ میں تمہارا باپ ہوں ۔۔ !!”
ماجد صاحب باذل کی باتیں سمجھتے ہوئے خاصی بلند آواز میں بولے تھے
” یہی تو افسوس ہے کہ آپ باپ ہیں میرے ۔۔ جو آپ نے میری ماں اور بھائی کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں نا اس پر اگر کوئی اور ہوتا تو ابھی اپنی ٹانگوں پر سلامت نہ کھڑا ہوتا ۔۔ بہرحال بخشوں گا تو میں ابھی بھی نہیں آپ کو ۔۔ آپ تینوں اب اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ۔۔ صرف اپنی ماں کا ہی نہیں ۔۔بلکہ شیرازی ہاؤس میں موجود ہر عورت پہ ہوئے ظلم کا حساب دینے کا وقت آ چکا ہے ملک چھوڑ کر بھاگنے کی غلطی تو ہرگز مت کیجئے گا آپ تینوں کیونکہ اب آپ تینوں بچ نہیں سکتے۔۔ ڈیئر شیرازی برادرز ۔۔”
باذل بے حد سرد مہری سے بول رہا تھا جبکہ اس کی بات سچ ہی تو تھی وہ پوری طرح تو تباہ کر چکا تھا ان تینوں کو اب صرف گرفتاری رہ گئی تھی اور یہ بات ساجد صاحب سمیت ماجد صاحب اور عابد صاحب بھی خوب جانتے تھے کہ باذل انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے کروا کر دم لے گا
سب کی کاٹ دار نگاہیں ان تینوں پر تھیں مزید ان تینوں کا وہاں رہنا محال ہو گیا اسی لیے فوراً نگاہیں چرائے وہ تینوں لاؤنج سے نکل گئے
ان کے جانے کے بعد سب کی سوالیہ نگاہیں باذل کہ جانب تھیں باذل سب کی سوالیہ نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے انہیں سب حقیقت بتانے لگا کہ ماجد صاحب نے جب اس کی ماں کو شیرازی ہاؤس سے نکالا تھا تو اس وقت وہ امید سے تھیں کوئی ٹھکانا نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے دارالامان میں پناہ لی وہیں باسط پیدا ہوا کئی دفعہ وہ باسط کو لے کر شیرازی ہاؤس آئیں مگر انہیں ماجد صاحب کے حکم پر دروازے سے ہی لوٹا دیا جاتا تھا
کچھ سمجھدار اور بڑے ہونے پر باذل نے ہر جگہ اپنی ماں کی تلاش جاری رکھی اسی دوران جب وہ انیس سال کا تھا تو اتفاقاً باذل اس وقت شیرازی ہاؤس میں داخل ہو رہا تھا تب اس کی ملاقات روتی ہوئی بیمار ماں سے ہوئی باذل انہیں لے کر شیرازی ہاؤس سے چلا گیا اور پھر کسی سے اس بات کا ذکر نہ کیا کئی سال وہ اپنی ماں کو مناتا رہا کہ شیرازی ہاؤس میں رہنے کا ان کا حق ہے مگر وہ یہ کہہ کر ٹال دیتیں کہ انہیں ان کے دونوں بیٹوں کے علاوہ کچھ نہیں چاہئے
چار سال پہلے ان کا انتقال ہو چکا تھا مگر باذل ٹھان چکا تھا کہ اپنی ماں کے ساتھ ساتھ شیرازی ہاؤس میں موجود ہر عورت کے ساتھ ہوئے ظلم کا حساب ضرور لے گا وہ آج وہ دن آ گیا تھا
باذل خاموش ہوا تو ابھی بھی کئی پل کوئی بھی زبان سے الفاظ نہ نکال سکا جبکہ باسط کا چہرہ بے تاثر تھا وہ ان سارے حالات سے گزرا تھا سب کی نگاہیں کبھی باذل پر تو کبھی باسط پر تھیں
” ییی یہ ہمارا پوتا ہے مرشد صاحب ۔۔؟؟”
دادی جان قدم قدم چلتی باسط کی سمت بڑھیں تھی وہ بھیگی آواز میں مظفر صاحب سے مخاطب تھیں اور باسط کو سر پر بوسہ دینے لگیں
” باذل تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا یہ سب ۔۔؟؟”
مظفر صاحب کی آواز جیسے کسی کھائی میں سے آئی تھی وہ بے حد رنجیدہ دیکھائی دے رہے تھے
” دادا جان باسط یہاں نہیں آنا چاہتا تھا ۔۔ !!”
باذل نے مختصر جواب دیا جبکہ مظفر صاحب اب باسط کی جانب بڑھے تھے انہیں بے حد بےچینی نے آن گھیرا تھا کہ مظفر شیرازی کے پوتے نے جانے کس حال میں اپنا بچپن گزارا ہے آگے بڑھ کر انہوں نے باسط کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا کئی پل سرکے تھے جب باسط خود نرمی اور احترام سے ان سے جدا ہوا تھا مگر باسط کا چہرہ بے تاثر تھا جیسے اسے کسی بات سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا
” بھائی اب میں چلتا ہوں ۔۔ !”
باسط ، باذل کو تکتا ہوا کہنے لگا تو سب نے حیرت سے اسے دیکھا
” یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا ۔۔ ؟ اب تم کہیں نہیں جاؤ گے ۔۔ یہی تمہارا گھر ہے ۔۔ میں کہیں نہیں جانے دوں گی تمہیں باذل تم کہو اسے اب کہیں نہیں جائے گا ہمارا پوتا ۔۔”
باسط کی بات پر دادی جان فوراً باسط کے بازو کو تھام کر اخر میں باذل سے مخاطب ہوئیں
” بھائی پلیز میں آپ کو پہلے ہی کہہ چکا تھا میں یہاں نہیں رہوں گا ۔۔ “
باذل کے کچھ بھی کہنے سے پہلے باسط باذل کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے گویا ہوا
” ٹھیک ہے ۔۔ دادی جان آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ باسط آتا جاتا رہے گا ۔۔ “
باذل نے دادی جان کو کہا تو مظفر صاحب نے دادی جان کو اشرے سے خاموش کرایا
پھر باسط جس طرح آیا تھا اسی طرح شیرازی ہاؤس سے چلا گیا
/////////////////////////////
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیا کریں
