Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
ناول : تو رنگ دے
از قلم: فاطمہ
قسط نمبر 10
وہ ایک ضروری کال آنے پر بیٹھک سے ہی دادا جان کو کسی ضروری کام کا کہہ کر نکل گیا تھا اسے جلد از جلد ہوٹل میں پہنچنا تھا جہاں آج اسے کسی سے ملاقات کرنی تھی مگر ابھی اس نے گاڑی تھوڑی ہی آگے بڑھائی تھی کہ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے اسے ہوٹل جانے سے پہلے اپنے آفس جانا تھا مگر اب احتیاط کے طور پر اس نے اپنا ارادہ ملتوی کردیا اور رمشا کو میسیج کر دیا کہ آج وہ نہیں آئے گا ایک طرف اس کا دل کیا کہ وہ میجر شاہ زیب کو آج ملنے سے منع کر دے مگر آج اس کا ان سے ملنا بھی ضروری تھا
جب وہ ہوٹل پہنچا تو اس وقت رات کی تاریکی مکمل طور پر آسمان پر چھا چکی تھی گاڑی لاک کر کے اس نے بیک سیٹ پر رکھا ایک چھوٹا سا بیگ نکالا وہ ادھر ادھر دیکھے بغیر ہوٹل کے اندر داخل ہو گیا وہ جانتا تھا کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن وہ اسے چوکنا نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے بظاہر اپنے دھیان میں وہ قدم قدم چلتا جا رہا تھا
اس نے داخلی دروازے سے ہی میجر کو دیکھ لیا تھا وہ انہیں پیچھے آنے کا اشارہ کرتا آگے بڑھ گیا مگر اچانک اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا تھا وہ تقریبا لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا پھر خود کو کمپوز کرتا وہ آگے بڑھنے لگا
میجر اس کا اشارہ سمجھ چکا تھا کہ باذِل احتیاط کے طور پر ہوٹل کی پچھلی طرف جا رہا تھا اسی لیے وہ باذِل سے فاصلہ رکھتے ہوئے چل رہا تھا کہ کوئی انہیں ساتھ نہ دیکھ لے یقینا آج ضروری نہ ہوتا تو وہ دونوں ملنے کا ارادہ ملتوی کر دیتے
باذِل مضبوط قدم اٹھاتا چل رہا تھا کہ ایک بار پھر اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا تھا اس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑا کر گرتا کہ اچانک کسی نے اسے سہارا دیا تھا اسے اپنے کاندھے پر نرم لمس محسوس ہوا تو فوراً اپنی نیند سے بوجھل سرخ آنکھیں زور زور سے جھپکا کر فوراً کھولی
اور یہی لمحہ تھا جب ان دونوں کی تصویر کسی نے اپنے کیمرے میں قید کر لی
باذِل کسی لڑکی کو اپنے اوپر جھکا دیکھ کر جیسے ہوش میں آیا تھا اس نے فوراً اپنے کاندھے سے اس لڑکی کے نازک ہاتھ جھٹکے تھے اور اپنے قدم پیچھے کرتے ہوئے فاصلہ قائم کیا تھا
” آپ ٹھیک ہیں مسٹر ۔۔”
وہ لڑکی باذِل کے سرد انداز پر واقعی سہم گئی تھی چہرے پر فکرمندی کے آثار لائے وہ پوچھنے لگی
” یس ایم اوکے ۔۔ “
وہ لڑکی پھر سے باذِل کے قریب آنے لگی تھی جب باذل نے اسے ہاتھ کے اشارے سے دور رہنے کا کہا
” آئی تھنک آپ ٹھیک نہیں ہیں ۔۔ اگر آپ کہیں تو میں آپ کی ہیلپ کر دوں ۔۔ “
وہ لڑکی باذِل کی بے حد سرخ آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی
حقیقتاً اسے ان آنکھوں سے اور باذِل کے سپاٹ چہرے سے خوف آ رہا تھا مگر اپنے ڈر پر قابو پاتی ہوئی نارملی بولی
” نو ۔۔ تھینکس ۔۔”
باذِل اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا سرد انداز میں کہتا اس لڑکی کو بغیر دیکھے آگے بڑھ گیا
پیچھے وہ لڑکی اس مغرور شخص کو دور جاتا دیکھ کر دانت پیس کے رہ گئی
وہ ایک کونے کی میز پر آ بیٹھا تھا دونوں کہنیاں میز پر ٹکا کر اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنا سر ہلکا ہلکا دبا رہا تھا وہ اپنی حالت سمجھنے سے قاصر تھا اس کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آ رہا تھا
” ایک تو آپ لمبے چوڑے ، گورے چٹے ، داڑھی موچھوں والے خوبرو جوان اوپر سے یہ خالص جاگیرداروں والا حلیہ بنا کر باہر نکلو گے تو ایسے ہی خوبصورت نوجوان لڑکیاں جان بوجھ کر ٹکرائیں گی ۔۔”
وہ باذِل کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے بولے
باذِل نے ان کی آواز پر ان کی جانب دیکھا وہ دیکھنے میں چالیس بیالیس سال کے اچھے خاصے نین نقش والے قدرے صحت مند سے مرد تھے ان کی بات پر باذِل کے سپاٹ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی
” خوبرو جوان جاگیردار تو میں ہوں میجر صاحب مگر یہ آپ کے ذوق کو کیا ہو گیا آپ اس لڑکی کو خوبصورت کہہ رہے ہیں ؟؟۔۔”
باذِل ان کی معنی خیز بات کو سمجھ چکا تھا اس کے سامنے وہ آدھے ڈھکے چھپے نیم برہنہ لباس والی میک اپ سے لبریز لڑکی کا عکس ابھرا تھا
” ہاں وہی لڑکی جو کچھ دیر پہلے موقع پاتے ہی آپ کے قریب آئی تھی ۔۔ اور بھئی اب میں اتنا بھی بڈھا نہیں ہوا جو میرے ذوق پر چوٹ کر رہے تو تم ۔۔”
وہ بظاہر سنجیدہ دکھنے والے میجر شاہ زیب خاصے شوخ انداز میں کہہ رہے تھے
” ہمم مگر آپ یہ غلط بول رہے ہیں کہ وہ لڑکی خوبصورت تھی ۔۔میجر صاحب عورت کی خوبصورتی اس کی شرم و حیا ہوتی ہے پھر چاہے وہ شکل و صورت سے عام نقش والی اور سانولی ہی کیوں نا ہو ۔۔”
باذِل نے ایک ہاتھ سے اپنی کنپٹی مسلتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا جبکہ باذِل کی بات پر ان کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
” اس لڑکی پر تنقید کر رہے ہو ۔۔ یا میری بات پر طنز ۔۔؟؟”
اپنی بھویں اچکا کر انہوں نے پوچھا جبکہ ان کی آنکھیں اور لب مسکرا رہے تھے
” میں کسی بھی لڑکی پر تنقید کرنے کا حق نہیں رکھتا ۔۔ اس کی مرضی وہ جو چاہے پہنے اوڑھے ۔۔ اور آپ پر طنز نہیں کر رہا یہ سوچ رہا ہوں اتنی خوش اخلاق اور قابل بیوی کے ہوتے ہوئے آپ کی نگاہیں کیوں بھٹک رہیں ہیں ۔۔؟”
اب کے باذِل ان کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا سنجیدگی سے کہہ رہا تھا
” ہاہاہا ۔۔ واہ کیا بات ہے ۔۔ میں ہمیشہ کی طرح اس ملاقات میں بھی تم سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ۔۔”
وہ قہقہہ لگا کر ایک انگلی باذِل کے سامنے لہرا کر بولے
” اس بیگ میں سارے ڈاکیومینٹس ہیں ۔۔ “
ان کی بات پر باذِل نے سر کو زرا سا خم دیا اور وہ چھوٹا سا بیگ ان کی جانب بڑھایا
” ہممم ٹھیک ہے ۔۔ “
بیگ تھام کر اب وہ بھی سنجیدہ ہو چکے تھے
پھر کچھ دیر وہ کام کے متعلق دھیمی آواز میں باتیں کرتے رہے اور پھر باذِل کے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھ کر باتوں کو سمیٹا
” اب ہمیں چلنا چاہیے ۔۔ اپنا روٹ چینج کر کے جائیے گا ۔۔”
وہ اپنی کنپٹی مسلتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا وہ زرا سا ان کی جانب جھک کر آہستگی سے بول
” ہممم لیکن اگر تم کہو تو میں تمہیں ڈراپ کر دوں جہاں تم کہو ۔۔ “
وہ باذِل کو بار بار اپنی سرخ آنکھیں اور کنپٹی مسلتے دیکھ کر پوچھنے لگے
” نہیں میں چلا جاؤں گا ۔۔ آپ کا شکریہ ۔۔”
باذِل نے انہیں سہولت سے انکار کیا تھا اس کی بات پر شاہ زیب صاحب نے اثبات میں سر ہلایا
گاڑی میں بیٹھنے کے بعد وہ اسٹیئرنگ پر ہاتھ جمائے آج سارا دن ہونے والے واقعات پر غور کر رہا دراصل اسے اپنی حالت سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر بار بار اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا کیوں آ رہا تھا اب اس سچیوشن میں وہ گاڑی کیسے ڈرائیور کرتا
” حماد یا ساحر کو بلا لیتا ہوں ۔۔”
” نہیں ۔۔ اگر کوئی مجھے ٹریپ کر رہا ہے تو حماد یا ساحر کا میرے ساتھ ہونا ٹھیک نہیں ہے ۔۔ “
اپنی سوچ کی خود ہی نفی کرتا اب وہ ایک ہاتھ سے قمیض کی جیب سے موبائل نکال رہا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ کی کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھ رہا تھا
گھڑی کی سوئیاں رات کے گیارہ بجا رہیں تھیں جبکہ اب وہ جیب سے موبائل نکال کر چیک کرنے لگا جو کہ اس نے سائلینٹ موڈ پر لگایا ہوا تھا لیکن معصومہ کے نمبر سے آئی مس کال دیکھ کر اس کو یکدم پریشانی ہوئی پھر اسے آج دوپہر کو معصومہ سے ہوئی اپنی گفتگو یاد آئی
” کیا وہ میرا انتظار کر رہی ہے ۔۔؟”
اس کے دل سے آواز آئی تھی معصومہ کے خیال پر اس کے چہرے پر تبسم بکھرا تھا
“کال بیک کروں۔؟؟۔ “
” نہیں خود جاتا ہوں ۔۔”
دل میں سوچتے ہوئے اس نے گہرے گہرے سانس لے کر خود کو کمپوز کیا اور اللہ کا نام لے کر گاڑی سٹارٹ کر دی
وہ آج جلدی گھر پہنچنا چاہتا تھا مگر اتنی ہی اسے دیر ہو گئی تھی
آہستہ رفتار سے ڈرائیور کرتے ہوئے وہ جب شیرازی ہاوس پہنچا تو رات کے بارہ بج رہے تھے شیرازی ہاوس کی تقریباً ساری بتیاں بجھ چکیں تھیں وہ ریلنگ کا سہارا لے کر زینے طے کر رہا تھا اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے ایک لمبا سانس لیا اور کمرے میں داخل ہو گیا
وہ کتنی ہی دیر باذِل کا انتظار کرتی رہی تھی کمرے میں چکر کاٹتے جب اس کے پاؤں دکھنے لگے تو کچھ سوچ کر اس نے اپنا موبائل ہاتھ میں لیا اور باذِل کو کال ملائی مگر ایک بیل دو بیل تین بیل مگر باذِل کال نہیں اٹھا رہا تھا اور معصومہ کا دل بیٹھنے لگا موبائل میز پر پٹخ کر وہ اپنی ہر سوچ کو دماغ سے جھٹکتی بیڈ پر دراز ہو گئی پھر جانے کب وہ نیند کی وادیوں میں اتری اسے خبر نہ ہوئی
وہ جو شاید کچی ہی نیند میں تھی دروازہ کھلنے کی آہٹ سے بوکھلا کر اٹھی دروازہ لاک کرتے باذِل کو دیکھ کر جیسے اس کے حواس پوری طرح بیدار ہو گئے وہ بے اختیار ہی بیڈ سے اٹھی اور باذِل کی جانب بڑھی اس کے دل کے کسی کونے میں سکون سا ہوا تھا باذِل کو سامنے دیکھ کر اس کی جان میں جیسے جان آئی تھی اتنی دیر تک باذِل کا انتظار کرنے کے بعد اب اسے امید نہیں رہی تھی کہ باذِل آج گھر آئے گا اور اس میسیج کرنے والے کی بات سچ ثابت ہو جائے گی
” تم جاگ رہی ہو ابھی ۔۔؟؟”
باذِل اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر مسکرا کر پوچھنے لگا
باذِل کے مڑ کر پوچھنے پر معصومہ کی نگاہیں اس پر پڑیں اس کی حالت دیکھ کر معصومہ کے قدم وہیں زمین پر جم گئے
بے تحاشہ سرخ آنکھیں ، بکھرے بال ، لڑکھڑاتے قدم معصومہ کو لگا جیسے اس خوبصورت ہر آرائش سے سجے کمرے کی چھت اُس کے سر پر گر گئی ہو وہ نا محسوس انداز میں دو قدم پیچھے ہوئی تھی آنکھیں تو جیسے پتھر سی ہو گئیں تھیں
” یہ باذِل کی آنکھیں ہر وقت اتنی سرخ رہتی ہیں جیسے پتہ نہیں کون سے نشے کرتا ہے “
اسے اپنے ہی الفاظ اپنے کانوں میں گونجتے ہوئے محسوس ہوئے
” تمہارا شوہر ہر رات کی طرح آج رات بھی میرے ساتھ گزارے گا ۔۔ تم بے کار میں اس کا انتظار مت کرنا معصومہ ۔۔”
اس میسیج کی تحریر آنکھوں کے سامنے بار بار آ رہی تھی
” تم سوئی نہیں جاناں ۔۔؟؟”
جب وہ کچھ نا بولی اور ہنوز ایک ہی سمت میں کھڑی رہی تو باذِل اس کے قریب آتا ہوا پوچھنے لگا
باذِل کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹی اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کے لیے زور زور سے اپنی آنکھیں جھپکائیں
” نن نہیں میں تو سو گئی تھی ۔۔۔۔۔ بس ابھی آنکھ کھلی ہے ۔۔ “
باذِل کو قریب آتے دیکھ کر وہ پھر دو قدم پیچھے ہوئی تھی اور خود کو نارمل ظاہر کرتی آہستگی سے بولی
” ہممم “
ایک بار پھر باذِل کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا تھا کہ آنکھیں میچ کر اس نے اپنے سر کو زور سے دبایا تھا اور باذِل کی یہ حرکت دیکھ معصومہ کی آنکھ سے موتی گرنے لگے تھے دل کے جس کونے میں سکون اترا تھا اب وہاں تیر پیوست ہو گئے تھے
جبکہ باذِل اب الماری کی جانب بڑھا تھا معصومہ اپنی کانپتی ٹانگوں کو بمشکل سمبھالتی بیڈ تک آئی اور لرزتی پلکوں کی باڑ سے باذِل کو الماری بند کر کے اپنا ایک ٹراؤزر ہاتھ میں تھامے واشروم کی جانب بڑھتے دیکھ رہی تھی
” میں اس محل نما قبرستان کی عورتوں کی طرح تمہارے آگے بلکل نہیں جھکوں گی باذِل ۔۔”
شادی سے پہلے باذِل کو بولے گئے اس کے اپنے الفاظ اس کے کان میں گونج رہے تھے
” اتنے بڑے بڑے بول مت بولو معصومہ بی بی ۔۔ ایسا نہ ہو کہ منہ کی کھانی پڑے ۔۔ “
یہ باذِل کے الفاظ تھے جو اب اس کے کان میں گونج رہے تھے اسے کو اس وقت اس بات سے فرق نہیں پڑا تھا مگر آج یہ بات اسے کانٹوں کی طرح لگ رہی تھیں
” کیا یہ اوقات ہے معصومہ تمہاری۔۔؟؟ تمہارا شوہر کسی اور لڑکی ۔۔!!! ۔”
اور اس سے آگے سوچتے ہوئے اب اس کی سسکیاں بندھ چکیں تھیں
واشروم سے پانی گرنے کی آواز کے ساتھ اور بہت سی آوازیں اس کے کانوں میں گونج رہیں تھیں
وہ ان سب آوازوں سے بچنے کی غرض سے سخت گرمی میں بھی بیڈ سے بلنکٹ لے کر اپنے سر سے پاؤں تک اوڑھ کر لیٹ گئی اور پھر منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اپنی سسکیاں دبانے کے لیے اس نے اپنے دونوں لب آپس میں سختی سے بھینچ لیے
وہ فریش ہونے کی غرض سے شاور لینے کے بعد جب واشروم سے باہر نکلا تو اب خاصا بہتر محسوس کر رہا تھا گرے کلر کا ٹراؤزر پہنے وہ شرٹ سے بے نیاز تھا
تولیہ صوفے پر پھینکتے ہوئے بے ساختہ اس کی نظر سر سے پاؤں تک بلنکٹ اوڑھے لیٹی معصومہ پر پڑی اور اس کو دیکھ کر باذِل کو حیرت ہوئی کچھ سوچتے ہوئے اس نے اے سی آن کیا اور لائٹ آف کر کے نائٹ بلب آن کیا اور پھر موبائل اٹھا کر بیڈ کی خالی جگہ پر آ کر لیٹ گیا
” معصومہ ۔۔ !!”
اب وہ اپنے اوپر بھی بلنکٹ اوڑھ رہا تھا جبکہ سرخی مائل آنکھیں معصومہ کے چھپے وجود پر تھیں
جبکہ معصومہ سختی سے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیاں روک رہی تھی جو باذِل کی خمار آلود آواز پر نکلنے لگی تھی بے اختیار اسے باذِل سے گھن آئی تھی
” معصومہ سو گئی ہو کیا جاناں ۔۔؟؟”
معصومہ کے بلنکٹ میں چھپے وجود میں کوئی حرکت محسوس نہ کرتے ہوئے اس نے پھر پوچھا مگر کوئی جواب نہیں آیا تو اس نے بھی اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں موند لیں
ابھی چند پل ہی گزرے تھے جب موبائل کی بیل سے اس کمرے کی خاموشی میں اشتعال پیدا ہوا
موبائل کے بجنے کی آواز پر جہاں باذِل نے اپنی بوجھل آنکھیں کھولیں وہی معصومہ نے بھی اپنی بھیگی آنکھیں فوراً کھولیں
” ہاں بولو رمشا ۔۔؟؟”
سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا کر باذِل نے کان سے لگایا اور آنکھیں موندے ہی بولا جبکہ کسی لڑکی کا نام سن کر معصومہ کی تکلیف میں اور اضافہ ہوا تھا ایک اور تیر اس کے سینے میں پیوست ہوا تھا
” ہاں ٹھیک ہے ۔۔ کل آؤں گا میں تب اس بارے میں بات کروں گا ۔۔”
اپنی بات کہہ کر اور رمشا کی بات سنے بغیر باذِل نے کال کاٹی اور موبائل سائیڈ ٹیبل پر پٹخ دیا
اور آنکھیں کھول کر معصومہ کو دیکھا جو ہنوز بلنکٹ میں چھپی ہوئی تھی ہاتھ بڑھا کر اس نے معصومہ کے اوپر سے آہستہ سے بلنکٹ کھسکایا
نائٹ بلب کی روشنی میں وہ اسے اپنی بے تحاشہ سرخ آنکھوں سے دیکھنے لگا
معصومہ کا چہرہ اس کے سیاہ ریشم بالوں نے ڈھکا ہوا تھا باذِل کے نرمی سے معصومہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کیا اور اپنے سینے میں بھینچ کیا
معصومہ جو کہ بہت غور سے باذِل کی کال پر ہونے والی گفتگو سن رہی تھی پھر موبائل پٹخنے کی آواز کے بعد باذِل کا اس کی طرف کا بلنکٹ ہٹانا اسے کانپنے پر مجبور کر گیا پھر باذِل کی انگلیوں کا لمس اسے اپنی کمر پر محسوس ہوا اور پھر باذِل نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور یہیں معصومہ کی ہمت جواب دے گئی تھی اس کا دل کیا باذِل کو خود سے دور کرے اور اس کا گریبان پکڑ کر پوچھے کہ دھوکہ کیوں دے رہے ہو یہ ڈرامہ کیوں کر رہے ہو
مگر وہ اتنی کمزور نہیں تھی جو خود پر قابو نہ پا سکتی تھی وہ باذل سے سوال کرنا چاہتی تھی مگر بار بار اس کے ذہن میں یہ بات آرہی تھی کہ شاید جو دیکھائی دے رہا ہے ویسا نہیں ہے اور اگر وہ جذبات اور غصے میں آ کر باذِل سے صفائی مانگے گی اور بات زیادہ بڑھ گئی تو ہمیشہ کی طرح وہ قصور وار ٹھہرائی جائے گی کیونکہ باذل تو دادا جان کا لاڑلا پوتا تھا اسے تو غلط کرنے پر بھی کوئی باز پرس نہیں کرتا تھا اور دادا جان سب سے پہلا طعنہ اسے اس کی ماما کا دیں گے اور یہیں وہ کمزور پڑ گئی
اس کا وجود ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا اس کے لب اور پلکوں کے باڑ لرز رہے تھے
” معصومہ تم ٹھیک ہو جاناں ۔۔”
باذِل کو اس کا کپکپاتا وجود پریشانی میں مبتلا کر رہا تھا
وہ اس کے بالوں پر لب رکھتا فکر مندی سے پوچھنے لگا مگر معصومہ نے کوئی جواب نہ دیا اور سینے میں منہ چھپائے لیٹی رہی تو باذل نے پھر اپنی آنکھیں موند لیں وہ خود بھی اس وقت نیند چاہتا تھا کیونکہ اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا مگر نیند کی وادی میں اترنے سے پہلے اس کے ذہن میں جو چائے اس نے بیٹھک میں پی تھی اس کا خیال آیا تھا
جب کہ معصومہ کو باذِل کی قربت برداشت کرنا مشکل ہو رہی تھی باذِل نے پوری طرح اسے اپنے ساتھ سختی سے لگایا ہوا تھا باذِل کے چوڑے سینے کا لمس معصومہ کا تنفس بگاڑ رہا تھا مزید باذل کے شرٹ کے بغیر ہونے پر معصومہ دل میں اسے کئی صلواتیں سنا چکی تھی پہلی بار باذِل کی اس قدر قربت اسے صحیح معنوں میں بے حال کر رہی تھی کئی بار اس نے کبھی آہستہ سے اور کبھی اپنی پوری طاقت لگا کر اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی مگر اس کی ساری کوششیں بے سود ہو گئیں
ٹپ ٹپ آنسو بہاتی کب وہ بھی نیند کی وادیوں میں اتری اسے خبر نہ ہوئی
/////////////////////////////
” صاحب کام ہو گیا ہے لیکن ۔۔”
اس نے ڈرتے ڈرتے بات کو ادھورا چھوڑ دیا
” لیکن ۔۔ ؟؟ لیکن کیا۔۔؟؟ کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں کر دی تم لوگوں نے ۔۔؟”
اس کے صاحب کی غصے سے بھری آواز فون پر ابھری تھی
” آدھا کام ہوا ہے صاحب ۔۔”
اس نے پھر ادھوری بات کی جس پر اس کا صاحب بھڑک اٹھا
” جلدی بتاؤ مجھے ۔۔ کیا کیا ہے تم لوگوں نے ۔۔ کہیں اس لڑکی نے کچھ گڑبڑ تو نہیں کر دی ۔۔”
اسے اپنے آدمیوں پر شدید غصہ آ رہا تھا ایک کام ڈھنگ کا نہیں کر سکتے یہ لوگ
” نہیں صاحب ۔۔ وہ بات یہ ہے کہ ۔۔ مرشد صاحب پر اس دوا کا اثر زیادہ نہیں ہوا ۔۔ وہ تو ایسے ظاہر کر رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے ۔۔۔ “
وہ خود حیران تھا کہ باذِل پر اثر کیوں نہیں ہوا اس دوا کا
” کیا بک رہے ہو یہ تم۔۔ میں نے تمہیں کہا بھی تھا وہ مضبوط اعصاب کا مالک ہے اسے زیادہ مقدار میں دوا دینا ۔۔”
اپنے کمرے میں غصے سے چکر کاٹتے ہوئے وہ غرایا
” صاحب میں نے کافی گولیاں ڈالی تھیں ۔۔ مگر انہیں کچھ خاص اثر ہی نہیں ہوا ۔۔”
اس نے جلدی سے اپنی صفائی پیش کی تھی
” اس کا مطلب تم لوگ کام نہیں کر سکے ۔۔”
اپنے آدمی کی بات سن کر وہ چیخ اٹھے
” صاحب بس تصویر لی ہے ان کی ۔۔ اس سے زیادہ وہ لڑکی کچھ نہیں کر پائی ۔۔ کیونکہ مرشد صاحب پورے ہوش و حواس میں تھے ۔۔”
اس نے مزید ان کی معلومات میں اضافہ کیا
” تصویر کوئی کام کی لی ہے یا وہ بھی ۔۔؟”
اب کے وہ ٹھہر کر بولے تھے
” جی صاحب تصویر تو اس طرح لی ہے کہ لڑکی مرشد صاحب کے بے حد قریب ہے اس لڑکی کے لباس سے ظاہر ہو رہا ہے جیسے وہ دونوں ۔۔ ہاہاہاہا “
وہ آخر میں معنی خیزی سے کہتا بات ادھوری چھوڑ کر کمینگی سے ہنسنے لگا جبکہ اس کی بات سمجھ کر اس کے صاحب کے چہرے پر بھی شاطرانہ مسکراہٹ بکھری
” ہممم اور تصویر بھیجی اس کی بیوی کو ۔۔؟؟ کوئی رپلائے آیا اس کا آگے سے۔۔؟؟”
اسے کچھ سکون ہوا تھا کہ پلین پورا خراب نہیں ہوا تھا
” جی صاحب بھیج دی ہے لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا ۔۔”
” ہمم ٹھیک ہے ۔۔ اب اس لڑکی کو غائب کروا دو ایسا نہ ہو وہ اپنا منہ کھول دے “
اس نے اپنا اگلا حکم دے کر فون بند کر دیا
////////////////////////////////
دن کے بارہ بجے بھی کمرے میں نیم تاریکی چھائی ہوئی تھی کہ رات کا گمان ہو رہا تھا وہ بیڈ پر بلنکٹ اوڑھے آڑے ترچھے انداز میں لیٹا خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا اے سی کی کولنگ کی وجہ سے کمرے کا ماحول کافی ٹھنڈا تھا
موبائل بجنے کی آواز سے اس کی نیند میں خلل پیدا ہو رہا تھا مگر وہ جان بوجھ کر نظر انداز کرتا تکیہ کانوں پر رکھ کر پھر سے سونے لگا ایک بار پھر موبائل بجا تو تکیہ ہٹا کر بمشکل اپنی آنکھیں کھول کر سکرین پر چمکتا نام دیکھا تو داداجان کا نام دیکھ کر اس نے موبائل کان سے لگایا
” السلام علیکم دادا جان ۔۔”
اس کی بوجھل آواز کمرے میں گونجی
” نہیں دادا جان میں گھر پر ہی ہوں ۔۔ “
” جی ۔۔ ٹھیک ہے نہیں جاؤں گا ۔۔ جی جی ۔۔”
کال کاٹ کر موبائل سائیڈ پر رکھتے ہوئے اسے یاد آیا کہ آج شیرازی ہاوس میں دعوت تھی شیرین صاحبہ نے اسے ماجد صاحب کا پیغام بھی دیا تھا
اب وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اس کے حواس مکمل طور پر بیدار ہو چکے تھے وہ کافی دنوں کے بعد اتنی نیند لے پایا تھا نہیں تو مسلسل کام کی وجہ سے بمشکل چار گھنٹے سو پاتا تھا اب وہ گزرے ہوئے دن کے بارے میں سوچنے لگا
کل کچھ تو غلط ہوا تھا جس سے وہ بے خبر تھا پہلے وہ بلکل ٹھیک تھا مگر چائے پینے کے بعد اس کا سر بھاری ہوا تھا اور پھر شدید درد کرنے لگا تھا
” اس چائے میں کچھ ضرور تھا ۔۔ جس کے بعد آنکھوں کے آگے اندھیرا آ جاتا تھا “
“۔۔ یہ جرات کون کر سکتا ہے باذل شیرازی کے ساتھ ۔۔”
” کوئی مجھ پر نظر بھی رکھے ہوئے تھا کل ۔۔ لیکن کون ۔۔؟۔۔ “
” آج میرا گھر پر رہنا بہتر ہو گا کیا پتہ آج پھر کوئی مجھے ٹریپ کرے ۔۔ ابھی میں کوئی مسئلہ افورڈ نہیں کر سکتا ۔۔”
” معصومہ لگتا ہے یونیورسٹی چلی گئی ہے ۔۔ “
معصومہ کی تلاش میں اس نے کمرے میں ادھر ادھر نظر دوڑائی مگر اسے وہ نا دیکھی
اور پھر وہ اپنے آگے کے پلین کو اپنے دماغ میں ترتیب دینے لگا
کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور کپڑے لے کر واشروم میں گھس گیا
//////////////////////////
آج وہ کافی دنوں بعد اس وقت گھر پر موجود تھا زیادہ وقت اس نے دادا جان کے ساتھ گزارا
دادا جان کافی خوش تھے اسی دوران قائم بھی آ گیا تھا باذِل جب گھڑی میں وقت دیکھتا معصومہ کو لینے جانے کے لیے اٹھا تو قائم نے اسے کہا کہ وہ معصومہ کو لینے جانا چاہتا ہے تاکہ وہ اسے اچانک دیکھ کر خوش ہو
شام کی تقریب کے لیے جب وہ تیار ہونے کمرے میں گیا تو معصومہ کمرے میں نہیں تھی پہلے اس کا دل کیا کہ نوری کو کہہ کر معصومہ کو بلوائے کیونکہ رات سے اس نے معصومہ کو نہیں دیکھا تھا
مگر سامنے بیڈ پر سفید رنگ کی شلوار قمیض اور کالی رنگ کی واسکٹ دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ معصومہ نے اس کے لیے نکالے ہیں اسے اچھا لگا تھا کہ معصومہ یہ رشتہ قبول کر رہی ہے
وہ مصروفیت کی بنا پر زیادہ وقت گھر سے دور رہتا تھا مگر آج اس نے اپنے موبائل کو سائلنٹ موڈ پر لگا دیا تھا آج وہ معصومہ کے ساتھ کچھ حسین لمحے گزارنا چاہتا تھا اس نے اپنے باپ اور چچا کی جیولری شاپ سے ہی ایک نہایت قیمتی موتیوں کے چھوٹے چھوٹے ایئرنگز آرڈر کے تھے جو وہ آج معصومہ کو دینا چاہتا تھا اپنے باپ کی شاپ سے لینے کا یہ مقصد بھی تھا کہ وہ جانتا تھا اس کی اس حرکت سے اس کے باپ اور چاچو کو تپ چڑھے گی اور وہ یہی تو چاہتا تھا
تقریب کے دوران اسے دو تین بار معصومہ کی صرف جھلک دیکھی تھی اسے محسوس ہوا تھا جیسے معصومہ جان بوجھ کر اس سے دور بھاگ رہی ہے معصومہ کی اس حرکت کو وہ اس کی شرم سمجھ کر مسکرا دیتا
اس دوران وہ ہر مسئلے کو ذہن سے جھٹک چکا تھا یہاں تک کہ موبائل کو تو اس نے شام سے چیک ہی نہیں کیا تھا وہ جانتا تھا اگر موبائل چیک کیا تو کتنے ہی کام نکل آئیں گے اور پھر اسے سب چھوڑ کر جانا ہوگا تقریب کے اختتام پر وہ کچھ دیر سب کے ساتھ ہال میں بیٹھا رہا جہاں سب مرد تھے گھر کی خواتین کمروں میں جا چکیں تھیں کچھ دیر بعد دادا جان اٹھ کر آرام کی غرض سے اپنے کمرے میں گئے تو وہ بھی اپنے کمرے کی جانب بڑھا مگر رات کے دس بجے کمرے میں معصومہ کی غیر موجودگی دیکھ کر ایک پل کو اسے غصہ آیا مگر اپنا غصہ دباتے ہوئے اس نے نوری کو معصومہ کو بلانے کا کہا اور خود اے سی آن کر کے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر صوفے پر براجمان ہو گیا
//////////////////////////////////////
وہ صبح بیدار ہونے پر بمشکل باذِل کی گرفت سے نکلنے کے بعد دوپٹہ سمبھالتی کمرے سے ہی نکل گئی تھی یونیورسٹی میں اس نے بجھے دل کے ساتھ وقت گزارا تھا مگر اچانک قائم کو دیکھ کر وہ قدرے بہتر ہو گئی تھی مگر بار بار اس کا ذہن اس میسیج ، تصویر اور پھر باذِل کی حالت پر جا رہا تھا لیکن اسے پزل نہیں ہونا تھا اسے بہت سمجھداری سے اس معاملے کو حل کرنا تھا اسی لیے رات کو اس نے بازل سے کچھ نہیں پوچھا تھا وہ جانتی تھی رات میں باذِل کو اس حالت میں دیکھ کر اسے غصہ آیا ہوا تھا اور غصے میں وہ کچھ بھی بےوقوفی نہیں کرنا چاہتی تھی اگر وہ اس وقت باذل سے کچھ پوچھتی تو جانے غصے میں وہ کیا کیا الٹا سیدھا اسے بول دیتی بیشک وہ باذل سے ہر حساب برابر کتنا چاہتی تھی مگر اپنے طریقے سے اور اپنے انداز میں کہ لاٹھی بھی جل جائے اور بل بھی نہ آئے کیونکہ وہ معصومہ شیرازی تھی جس کی سوچ مختلف تھی اور یہ اس کا عمل ظاہر کرتا تھا
گھر آ کر بھی وہ باذل کے سامنے نہیں گئی تھی تقریب میں شرکت کرنے کا اس کا بلکل بھی جی نہیں چاہ رہا تھا مگر خصوصی طور پر دادی جان کی جانب سے آئے گئے جوڑے کو دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کا جانا ضروری ہے مگر وہ کم سے کم باذل کے سامنے گئی تھی لیکن اس نے باذل کو پلر کی اوٹ سے چند پل ٹھہر کر ضرور دیکھا تھا
کسرتی جسامت پر سفید شلوار قمیض پر کالی واسکٹ پہنے صاف رنگت پر بھورے بال اور بھوری داڑھی موچھیں کتنی جچتی تھیں اس پہ ۔۔۔ ہلکی سرخی مائل آنکھیں جن کا رنگ بھی براؤن تھا ۔۔ وہ جو بھرپور سنجیدگی کے ساتھ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا تھا اس کی اس حرکت پر معصومہ کی دھڑکن تیز ہوتی تھی وہ آج پہلی بار اسے اتنے غور سے دیکھ رہی تھی بلاشبہ وہ ایک بہت وجیہہ شخصیت کا مالک تھا جس کو ایک نظر دیکھ کر کوئی بھی اپنا دل ہار بیٹھے
” مگر درحقیقت خوبصورت مرد وہ ہوتا ہے جس کا کردار مضبوط ہوتا ہے جس کی نگاہ پاک ہوتی ہے “
اور معصومہ نے یہ سوچتے ہوئے کرب سے آنکھیں میچ لیں
تقریب کے اختتام کے بعد اس نے سوچا کہ اپنے کمرے میں ہی اپنے کپڑے بدل کر ہاتھ منہ دھو کر وہ باذِل اور اپنے کمرے میں جائے گی اسی سوچ پر عمل کرتے ہوئے ابھی اس نے اپنے کمرے میں آ کر دروازہ لاک ہی کیا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی
” دادی جان آپ ۔؟ آپ مجھے بلوا لیتی ۔۔؟”
دروازہ کھولنے پر دادی جان کو سامنے دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا کہ اب اس کی کلاس پکی ہے
” تم رات کے اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔؟ جبکہ تمہارا شوہر کمرے میں جا چکا ہے ۔۔ !!”
کمرے میں داخل ہو کر دادی جان اس کی بات نظر انداز کرتی قدرے سخت انداز میں پوچھنے لگیں
” دادی جان میں صرف ڈریس چینج کرنے آئی تھی ۔۔ چینج کر کے جانے ہی لگی تھی ۔۔لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی ہر بات پر نظر کیوں رکھی جا رہی ہے میرے پہ۔۔”
روہانسی انداز میں کہتی وہ آخر میں جھنجھلا گئی تھی
شادی کے بعد تو ہر بات پر اسے ٹوکا جانے لگا تھا تو کیا اب وہ اپنے کمرے میں بھی نہیں آ سکتی
” اب تم شادی شدہ ہو معصومہ ۔۔ بچی نہیں رہی جو تمہیں ہر بات صاف صاف سمجھانی پڑے ۔۔ لیکن چلو تمہیں صاف ہی کہہ دیتی ہوں ۔۔ “
وہ دو قدم اس کے قریب آئیں تھیں اور پھر سے بولنے لگیں
” باذِل کے پاس جاؤ ۔۔ اس کے ساتھ وقت گزارو ۔۔ وہ شوہر ہے تمہارا اس کی خدمت کرو ، اس کی ہر بات مانو ۔۔ کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے اسے تم سے ۔۔ سمجھ رہی ہو میری بات یا اور تفصیل سے سمجھاؤں “
وہ لفظ چبا چبا کر ادا کرتیں سرد انداز میں بول رہیں تھیں جبکہ ان کی باتوں پر جانے کیوں معصومہ نے سر جھکا لیا
” جی ۔۔!!”
وہ مزید کچھ سننا نہیں چاہتی تھی اس لیے محض’ جی ‘ بولنے پر اکتفا کیا مزید دادی کی ڈھکی چھپی باتوں پر اس نے سر جھکا لیا
” میری پوتی ہو تم ۔۔ بہت پیاری ہو تم مجھے ۔۔ کوئی غلط بات تھوڑی سمجھا سکتی ہوں میں تمہیں ۔۔ حقیقتاً مجھے باذل کو تمہارے ساتھ خوش اور آباد دیکھنے کی خواہش ہے۔۔ “
اب کے وہ دھیمی آواز میں کہہ رہیں تھیں جبکہ معصومہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا
“سلام بی بی ۔۔ وہ جی چھوٹی بی بی کو مرشد صاحب بلا رہے ہیں ۔۔ “
دروازے پر کھڑی نوری نے دستک دے کر وہیں کھڑے کھڑے ادب سے سلام کے بعد باذل کا پیغام دیا اور سر جھکا گئی
” ہمم ۔۔ نوری اپنی چھوٹی بی بی کو دروازے تک چھوڑ کر آؤ۔۔ “
دادی جان یہ کہہ کر چلی گئیں جبکہ معصومہ ایک لمبا سانس لیتی نوری کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی
” مرشد باذِل شیرازی تم ابھی مجھے جانتے نہیں ہو ۔۔ معصومہ شیرازی نام ہے میرا ۔۔تم شاید شیرازی ہاؤس کے مردوں کی طرح ہو مگر ۔۔ مجھے یہاں موجود عورتوں کی طرح مت سمجھنا ۔۔ جو لفظ ‘ بیوی ‘ کا لیبل ماتھے پر سجا کر دن رات غلامی کی زندگی گزار رہیں ہیں ۔۔ میں تمہارا کھیلونا ہرگز نہیں بنوں گی ۔۔ “
کمرے کے دروازے کے سامنے رک کر اس نے نوری کو جانے کا اشارہ کیا اور تصور میں باذل سے مخاطب ہوئی اس کا شفاف چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا مگر اس کا ارادہ پختہ تھا سر پر لیے دوپٹے پر اپنی گرفت مضبوط کرتی اپنے زور زور سے دھڑکتے دل کو قابو کرتی نازک گلابی لبوں کو سختی سے پیوست کیے اس نے اپنا کپکپاتا ہاتھ ہینڈل پر رکھ کر گھمایا اور دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہو گئی
///////////////////////////////////
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
