Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 24

رات کو قائم نے پھر اس سے کوئی بات نہیں کی تھی مگر اس کے دل میں اب قائم کے لیے بہت عزت بڑھ گئی تھی بلاشبہ وہ بہت باوقار شخصیت کا مالک تھا ماہین نے دل میں پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ اب وہ ہر ممکنہ کوشش کرے گی جس سے قائم اور اس کے رشتے پر مثبت اثرات مرتب ہوں صبح اس نے مسکرا کر قائم کو گڈ مارننگ کہنے کے ساتھ اس کے کپڑے بھی خود الماری سے نکال کر دیے پھر خود تیار ہو کر قائم کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکلی تھی قائم اس کی چھوٹی چھوٹی کوششوں سے دل میں ہی خودبخود مسکرایا تھا یقیناً ماہین اس کے لیے بہترین ہمسفر ثابت ہو گی چند پل میں ہی اس نے ماہین کی عادات و اطوار سے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ ایک سمجھدار ، خوش اخلاق اور تھوڑی سی جذباتی اور حساس لڑکی ہے جیسی عموماً لڑکیاں ہوتی ہیں
قائم کے جانے کے بعد وہ تائی ماں اور چچی جان کے ساتھ کافی دیر بیٹھی رہی تھی معصومہ بھی یونیورسٹی جانے سے پہلے خاص طور پر مسکرا کر اسے خدا حافظ کہہ کر گئی تھی پھر جانے کیوں پورا دن یونیورسٹی سے آنے کے بعد اپنے کمرے میں بند رہی تھی رات کے کھانے پر بھی وہ نیچے نہیں آئی تھی ایک ملازمہ سے معصومہ کے کمرے کا پوچھ کر جب وہ زینے چڑھ رہی تھی تو باذل اسے جوس کا گلاس لیے معصومہ کے کمرے میں جاتا دیکھائی دیا اسے کچھ حیرت سی ہوئی تھی پھر وہ اس کے کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کر کے کچن میں گئی تو چچی جان سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ معصومہ شادی شدہ ہے اور اسی گھر میں اس کی شادی ہوئی ہے اسے حیرت ہوئی تھی کہ معصومہ اسے کہیں سے بھی شادی شدہ نہیں لگی تھی بلکہ وہ اسے کم عمر لگی تھی
بہرحال وہ انہیں سوچوں میں گم اپنے کمرے میں چلی گئیں تھی رات کو نو بجے کے قریب قائم کمرے میں داخل ہوا تو وہ ٹیرس میں کھڑی نیچے لان کو دیکھ رہی تھی وہ گلاس ڈور کھول کر اس کے ساتھ جا کھڑا ہوا تو ماہین کو اپنے برابر میں اس کی موجودگی کا احساس ہوا جبکہ قائم ایک بازو اس کی کمر کے گرد حمائل کر چکا تھا ماہین اس کا دہکتا لمس اپنی کمر پر محسوس کرتی بمشکل خود کو سنبھالے کھڑی تھی

” کیسا رہا دن ۔۔؟ بور تو نہیں ہوئیں آپ ۔۔؟؟ “
قائم اس کے بلکل قریب کھڑا آہستگی سے پوچھ رہا تھا جبکہ اس کی گرم سانسیں ماہین کو اپنے چہرے پر محسوس ہو رہیں تھیں

” جی نہیں ہوئی بور ۔۔ آ آپ کا دن کیسا رہا ۔۔؟؟”
ماہین ریلنگ کو سختی سے تھامے کھڑی بمشکل بول پائی تھی جبکہ قائم اس کی قربت سے اپنے دل کی دھڑکن کو بے ترتیب ہوتا محسوس کر رہا تھا

” اچھا رہا ۔۔ اور آپ نے کھانا کھایا ۔۔؟؟”
وہ اب ماہین کو شانوں سے تھام کر اپنے سامنے کرتا پوچھ رہا تھا جبکہ ماہین نے فقط نفی میں سر ہلایا تھا

” اوکے چلیں پھر ڈائننگ ٹیبل پر ہی ڈنر کرتے ہیں ۔۔”
قائم اس کی کلائی تھامے ہلکا سا مسکرا کر بولا تھا جبکہ اب وہ دونوں کمرے سے نکلتے ڈائننگ ہال میں داخل ہو رہے تھے ملازمہ نے ان دونوں کو دیکھ کر فوراً کھانا لگایا تھا کھانے دوران قائم نے ماہین سے ہلکی پھلکی باتیں کیں جس کا جواب وہ نگاہیں جھکا کر دیتی رہی پھر کھانے کے بعد دونوں کمرے کی جانب بڑھ گئے جبکہ تائی ماں اور چچی جان نے لاؤنج سے نکلتے ہوئے قائم اور ماہین کو دیکھ کر دل میں دعائیں دیں تھیں

” بھابھی شکر ہے خدا کا قائم کی بیوی اچھی لڑکی نکلی ہے نہیں تو دل بڑا گھبرا رہا تھا آخر کو اتنا اچھا بچہ ہے قائم ۔۔ اگر ماہین اچھی نہ ہوتی تو کتنا برا ہوتا نا اس کے ساتھ ۔۔ “
ان دونوں کو ساتھ خوش دیکھ کر چچی جان نے تائی ماں سے کہا

” صحیح کہہ رہی ہو تم صدف ۔۔ مجھے بھی بڑی فکر تھی قائم کی طرف سے اور ماشااللہ ماہین کے نیک قدم پڑے ہیں شیرازی ہاؤس میں کہ برائی کے بادل چھٹ گئے ہیں ۔۔”
شیرین صاحبہ کے چہرے پر اذیت کے رنگ تھے ان کی باتوں کا رخ شیرازی برادرز کی طرف تھا

” تائی ماں یہ ماہین کے قدم نہیں بلکہ آپ سب کا صبر کا پھل ہے ۔۔ آپ لوگوں نے صبر کیا ہے بہت ۔۔ اور خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہوتا ہے ۔۔ چونکہ ہر چیز کا وقت مقرر ہے اس لیے اس گھر میں ہونے والی برائی کے اختتام کا یہی وقت مقرر تھا ۔۔ “
قائم جوکہ ماہین کو کمرے میں چھوڑ کر دادا جان کے کمرے میں جا رہا تھا شیرین صاحبہ کی بات سن کر رک گیا اور ان کے قریب آتا دھیمے انداز میں بول رہا تھا جبکہ شیرین صاحبہ نے مسکرا کر سر ہلاتے ہوئے اس کی بات کی تائید کی

” آپ دونوں ٹھیک ہیں ۔۔ ؟؟”
قائم ان دونوں کے احترام میں سر جھکائے پوچھ رہا تھا پھر حال احوال پوچھنے کے بعد وہ دادا جان کے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا جبکہ پیچھے تائی ماں اور چچی جان اسے ڈھیر ساری دعائیں دیتیں اپنے اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئیں

//////////////////////////////

وہ ہنوز فرش پر بیٹھی رو رہی تھی جب باذل پھر سے کمرے میں داخل ہوا تھا اس بار اس کے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا معصومہ نے ایک نظر اسے دیکھنا گوارا نہ کیا تھا بلکہ اپنے آنسو بےدردی سے صاف کیے جبکہ باذل جوس کا گلاس میز پر رکھتا معصومہ کی جانب بڑھا تھا فرش پر معصومہ کے قریب بیٹھ کر اس نے اسے سہارا دیا اور بیڈ پر بیٹھایا تو معصومہ بغیر مزاحمت کیے بیٹھ گئی اب باذل جوس کا گلاس لا کر اس کے لبوں سے لگا چکا تھا جبکہ معصومہ نے دو گھونٹ بھر کر باذل کا ہاتھ پیچھے کر دیا تھا تو باذل نے بھی گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا

” پلیز معصومہ اب مجھے بتاؤ کس نے یہ سب کہا ہے تم سے ۔۔ پلیز بتاؤ ۔۔!!”
معصومہ کے بے تاثر چہرے پر نگاہیں گاڑے وہ اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتا نرمی سے پوچھ رہا تھا جبکہ معصومہ نے جواباً اسے اپنی آنسوؤں سے لبالب ہوئی آنکھوں سے دیکھا

” جس کے باپ بھائی کا قتل کیا ہے آپ نے ۔۔ “
وہ اس قدر سرد مہری سے ایک ایک لفظ چبا کر بولی تھی کہ باذل اس کا بھیگا چہرہ دیکھتا رہ گیا

” نام بتاؤ ۔۔ ؟؟”
وہ اس کے پاؤں میں پڑے دوپٹے کو اٹھا کر بیڈ پر رکھتا پوچھنے لگا تھا باذل کو حقیقتاً پریشانی ہو رہی تھی آخر معصومہ ایسے کیوں بول رہی تھی جبکہ معصومہ کے لیے باس کی حقیقت معلوم ہونا خطرے سے خالی نہ تھا

” کیوں اسے بھی بے رحمی سے مار دینا چاہتے ہیں ۔۔ ؟؟”
معصومہ سفاکیت سے باذل کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی جبکہ اس کی بات پر غصہ ضبط کرنے کی غرض سے باذل نے مٹھیاں سختی سے بھینچی تھیں

” معصومہ کیا ہمارا رشتہ اتنا کمزور ہے کہ تم مجھ پر یقین کرنے کے بجائے کسی دوسرے کی باتوں میں آ رہی ہو ۔۔ پلیز یقین کرو میں نے کسی مظلوم کو نہیں مارا ۔۔ “
باذل بےحد نرم لہجے میں بولا تھا جبکہ اس کے چہرے پر معصومہ کو چٹانوں جیسی سختی دیکھائی دی تھی

” ایک بار کہہ دیں کہ جو سوال میں نے پوچھے ہیں آپ سے وہ سارے غلط تھے ۔۔ بس ایک بار کہہ دیں باس کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ۔۔ جو میں پوچھ رہی ہوں وہ حقیقت نہیں ہے تو خدا کی قسم آپ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگوں گی اور ساری زندگی ایسی کوئی بات نہیں پوچھوں گی فقط ایک بار کہہ دیں کہ ثمرہ کے باپ اور بھائی کو آپ نے نہیں قتل کیا ۔۔ بس ایک بار کہہ دیں کہ میں غلط فہمی کا شکار ہوں ۔۔ خدا کے لیے ایک بار کہہ دیں ۔۔ !”
معصومہ باذل کا ہاتھ اپنے دونوں نازک ہاتھوں میں مقیم کیے لہجے میں آس اور امید لیے بول رہی تھی جبکہ باذل تو معصومہ کے منہ سے نام ‘ثمرہ ‘ سن کر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا تھا اسے ایسا کوئی نام یاد نہیں آ رہا تھا جس سے اس کا کبھی سامنا ہوا ہو

” بولیں نا پلیز ۔۔ کہہ دیں کہ میرے سارے کیے گئے سوال بے معنی ہیں ۔۔ باس نہیں ہیں آپ ۔۔ آپ ظالم نہیں ہیں ۔۔ آپ کسی کو بے رحمی سے قتل نہیں کر سکتے ۔۔ پلیز ایک مرتبہ کہہ دیں ۔۔ کہ مجھے غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔ پلیز پھر میں کبھی ایسی کوئی بات اپنی زبان سے نہیں نکالوں گی بس ایک بار یقین دلا دیں مجھے پلیز ۔۔ ساری حقیقت بتا دیں مجھے ۔۔”
وہ باذل کو خاموش پا کر پھر سے پوچھ رہی تھی جبکہ باذل کا ہاتھ وہ ہنوز اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی

” جاناں میں تمہیں وقت آنے پر سب کچھ بتا دوں گا مگر پلیز اس وقت مجھ پر یقین رکھو ۔۔ “
باذل نے معصومہ کے ہاتھ لبوں سے لگاتے ہوئے مضبوط انداز میں کہا جبکہ معصومہ نے فوراً اپنے ہاتھ باذل کی گرفت سے ایک جھٹکے سے جدا کیے تھے اور فاصلہ قائم کر کے بیٹھ گئی

” مجھے میرا جواب مل گیا ہے ۔۔ اب پلیز آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں ورنہ میں خود کمرے سے چلی جاتی ہوں ۔۔ “
معصومہ مزید بیڈ پر سمٹتی ہوئی بولی تھی جبکہ اس کا انداز بے حد سرد مہری لیے ہوئے تھے جبکہ باذل نے اس کی دھمکی سن کر ایک پل کو آنکھیں سختی سے میچی تھیں پھر وا کر کے معصومہ کی روئی ہوئی آنکھوں میں جھانکا جہاں امید کے دیپ بجھ رہے تھے

” پلیز جاناں غلط مت سمجھو مجھے ۔۔ “
باذل فاصلہ مٹاتے ہوئے اس کے قریب ہوا تھا اور دھیمی نرم انداز میں اپیل کے انداز میں بولا تھا

” حقیقت سننا چاہتی ہوں میں ۔۔ لیکن آپ کچھ بھی بتانے سے گریز کر رہے ہیں ۔۔ پلیز مجھے بتائیں ۔۔ آپ نے خود کہا تھا ہمیں کسی تیسری بات کی وجہ سے اپنی میرڈ لائف کو نقصان نہیں پہنچانا ۔۔ اور اب خود یہی کر رہے ہیں ۔۔ ایٹلیسٹ مجھے اتنا بتا دیں کہ آپ کئی کئی دن اور راتیں کہاں گزارتے ہیں ۔۔اتنا پوچھنے کا تو حق ہے نا میرا ۔۔ جب شوہر بیوی کے ہر پل کا حساب مانگ سکتا ہے تو کیا بیوی باز پرس نہیں کر سکتی شوہر سے ۔۔ مجھے ابھی ہر رات کا حساب چاہیے جو آپ نے گھر سے باہر گزاریں ۔۔”
معصومہ قدرے دھیمی آواز میں بول رہی تھی مگر اس کی آواز اور آنکھیں بھیگی ہوئیں تھیں

” شک کر رہی ہو مجھ پہ ۔۔؟؟”
باذل نے اس کے بے حد سخت الفاظ بہت مشکل سے برداشت کیے تھے اور اس کی ساری سخت باتیں نظرانداز کرتا سرد آواز میں پوچھ رہا تھا

” حساب مانگ رہی ہوں جو کہ جاننا حق ہے میرا ۔۔ “
معصومہ اس کی بات کی نفی کرتی سرد مہری سے بولی تھی

” اگر میں نہ بتاؤ تو ۔۔ ؟؟”
باذل نے معصومہ کے چہرے کے تاثرات کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اگلا سوال داغا

” آپ کی مرضی ۔۔ مگر یاد رکھئے گا مرشد صاحب پھر معصومہ شیرازی آپ کی دسترس میں نہیں رہے گی ۔۔ کیونکہ اگر آپ اس سب سوالوں کا جواب نہیں دیں گے تو یقیناً میں یہ سب سچ سمجھوں گی ۔۔ اور پھر میں ایک ظالم اور سفاک شخص کے ساتھ رہنے سے زیادہ موت کو ترجیح دوں گی ۔۔ “
معصومہ باذل کی آنکھوں میں دیکھتی اپنی بات مضبوط انداز میں کہتی خاموش ہو کر باذل کے بے حد سنجیدہ چہرے کو تکنے لگی تھی

” وقت آنے پر سب بتا دوں گا جاناں ۔۔ “
باذل نے بھی معصومہ کی آنکھوں میں اپنی بے تحاشہ سرخ آنکھیں گاڑے مختصر جواب دیا جبکہ اس کے جواب نے معصومہ کو ایک پل میں آسمان سے زمین پر پٹخا تھا اس کا مان اور اس کا یقین ٹوڑا تھا وہ جو اب تک دل میں دعائیں کر رہی تھی کہ ثمرہ کو غلط فہمی ہوئی ہو کیونکہ اس کا شوہر تو اتنا ہمدرد ، احساس کرنے والا ، خیال رکھنے والا ، عزت کرنے والا تھا کہ وہ تو کبھی کسی کی جان نہیں لے سکتا تھا مگر باذل کے جواب نے معصومہ کے سارے یقین پر مٹی ڈال دی تھی

” اا اکیلا چھوڑ دیں مجھے ۔۔”
معصومہ اپنا رخ موڑتی دھیمی آواز میں بمشکل اپنے آنسو روکتی بولی تھی جبکہ باذل نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے معصومہ کو دیکھا اور پھر سپاٹ انداز میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کمرے سے نکل گیا جبکہ معصومہ سرعت سے بیڈ سے اٹھی اور دروازہ لاک کر کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ایک تو پہلے ہی اس کی طبیعت بوجھل سی تھی پھر مزید رونے نے اس کی حالت بگاڑ دی تھی کافی دیر کمرے میں اس کی سسکیاں گونجتی رہیں تھیں اس دوران دروازے پر دو تین مرتبہ دستک ہوئی تھی یقیناً نوری تھی جو اس کے لیے کھانا لائی تھی مگر معصومہ نے دروازہ نہ کھولا اور یوں ہی بیٹھی سسکتی رہی پھر اچانک اسے متلی محسوس ہوئی تھی ہمت کر کے واشروم گئی تو کافی دیر بعد وہ دیوار کا سہارا لے کر چلتی ہوئی باہر آئی تو چہرے سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ابکائیوں نے تھوڑی دیر میں ہی اس کو نڈھال کر دیا تھا بیڈ پر آڑے ترچھے انداز میں ڈھے کے وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھیں
اور پھر دوپہر سے رات ہو گئی کئی مرتبہ دروازے پر دستک ہوئی مگر وہ دروازہ چاہ کر بھی نہ کھول سکی تھی وہ جانتی تھی باذل نہیں تھا کیونکہ اگر باذل ہوتا تو وہ دروازہ بجانے کے بجائے چابی سے لاک کھول لیتا
ساری رات تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ متلی کرتی رہی تھی حالت اس کی اس قدر بری ہو گئی تھی کہ اب تو چلنے کی بھی ہمت و طاقت اس میں نہ رہی تھی سر بری طرح درد کر رہا تھا آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا آ رہا تھا ساری رات اس نے اسی طرح گزاری تھی

//////////////////////////////

وہ تیز رفتار میں گاڑی چلا رہا تھا معصومہ کی باتیں اس کے کانوں میں گونج رہیں تھیں کس قدر سخت الفاظ تھے معصومہ کے ۔۔ کیا ان دونوں کا رشتہ اتنا کمزور تھا کہ معصومہ اس پر یقین نہیں کر سکتی تھی بلکہ کسی دوسرے کی باتوں پر یقین کر بیٹھی تھی وہ ہر بار اپنے الفاظ سے اسے تکلیف دیتی تھی اسے احساس ہی نہ تھا کہ وہ کس طرح باذل کے دل کے ٹکڑے چند لمحوں میں اپنے الفاظ اور انداز سے کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی
اس کی انگارے ہوئی آنکھیں اس کے کمال ضبط کا ثبوت دیں رہیں تھیں وہ کبھی بھی معصومہ پر غصہ نہیں نکال سکتا تھا اگر وہ عورت پر اپنا غصہ نکالتا تو اس میں اور اس کے باپ چچا میں کیا فرق رہ جاتا جس چیز کو وہ دوسروں میں دیکھ کر نا پسندیدگی کا اظہار کرتا تھا وہی عمل خود کیسے سر انجام دے سکتا تھا تبھی برداشت ختم ہونے پر گھر سے نکل آیا تھا مگر وہ اس بات کو پس پشت بھی نہیں ڈال سکتا تھا نہ یہ معاملہ اتنا معمولی تھا کہ ایک دو دن بعد معصومہ کا غصہ کم ہونے پر وہ ٹھیک ہو جاتی اور وہ خود یہ سب اب اسے کیسے بتا سکتا تھا اس طرح تو وہ اپنی نوکری کے ساتھ بے ایمانی کرتا
گاڑی اس وسیع اور خوبصورت بنگلے کے اندر داخل کر کے وہ گاڑی سے اترا اور تیز تیز قدم اٹھاتا بنگلے کے اندرونی حصے کی سمت بڑھا خوبصورت لاؤنج میں سے گزرتے ہوئے دو ملازم فوراً اس کے پاس آئے تھے مگر باذل نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا اور زینے چڑھتا ہوا ایک کمرے کے دروازے کے سامنے رک گیا بلاشبہ یہ بنگلہ اس قدر خوبصورت تھا کہ کوئی بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکتا تھا کمرے کے دروازے کو زور سے بجاتا وہ موبائل پر نمبر ڈائل کرتا مسلسل دروازہ بجا رہا تھا چند بار دستک پر ہی باسط آنکھیں ملتا ہوا رف سے حلیے میں دروازہ کھول کر نیند میں خلل ڈالنے والے پر دھاڑنے ہی والا تھا کہ خطرناک تیور لیے کھڑے باذل کو دیکھ کر فوراً اس کے حواس بحال ہوئے تھے اور سلام کیا جبکہ باذل نے سر ہلا کر اس کے سلام کا جواب دیا

” بب بھائی آپ ۔۔ ؟ اس وقت ۔۔۔ ؟؟”
جانے کیوں باذل کو غصے میں دیکھ کر اسے کچھ غلط ہونے کا خدشہ ہوا تھا فوراً دروازہ پورا کھولتا بولا تھا

” کیوں اپنے گھر آنے کے لیے مجھے باسط شیرازی صاحب کی اجازت درکار ہے ۔۔؟؟”
موبائل پر نگاہیں جمائے وہ سرد انداز میں بولا تھا

” نہیں ۔۔ آپ مجھے اپنے کمرے میں بلا لیتے ۔۔ “
باسط لہجے میں احترام لیے بولا تھا جبکہ باذل اس کی بوجھل آواز اور آنکھوں میں دیکھتا اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ کافی گہری نیند سے جاگا تھا

” اس سے فرق نہیں پڑتا میں تمہارے پاس آؤں یا تم میرے ۔۔ فی الحال مجھے تم سے بات کرنی ہے پانچ منٹ میں فریش ہو کر لاؤنج میں آؤ ۔۔ “
باذل سنجیدگی سے کہتا ہوا اب لاؤنج کی جانب بڑھا تھا جبکہ باسط سرعت سے فریش ہونے کی غرض سے واشروم کی جانب بڑھا

ٹھیک پانچ منٹ میں وہ لاؤنج میں داخل ہوا تو باذل چائے کا کپ لبوں سے لگائے صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ میں مگن تھا باسط کو فریش دیکھ کر دوبارہ لیپ ٹاپ کی سکرین کی جانب متوجہ ہو گیا

” کھانا کھا کر سوئے تھے تم ۔۔؟؟”
باسط کو صوفے پر بیٹھتا دیکھ کر باذل نے کپ میز پر رکھتے ہوئے سرسری سا پوچھا

” جی بھائی ۔۔ اور آپ نے کھا لیا ۔۔ ؟؟”
باسط صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتا پوچھنے لگا

” ہمم ۔۔”
باذل نے محض ہنکار بھرا اب وہ باسط کو کیا بتاتا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھانا چاہتا تھا مگر اس کی بیوی تو اس کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی

” ثمرہ کون ہے ۔۔ ؟؟”
باذل اپنی مخصوص بھاری سرد آواز میں بولا تھا جبکہ نگاہیں ابھی بھی لیپ ٹاپ سکرین پر جمی ہوئیں تھیں

” کون ثمرہ ۔۔ ؟؟”
باسط الرٹ ہو کر بیٹھا تھا جبکہ اس کے لہجے میں ناسمجھی تھی

” خان اور اس کا بیٹا یاد ہے تمہیں ۔۔ ؟؟”
باذل نے اگلا سوال کیا

” وہ خان ۔۔؟؟ جس کی گینگ کا خاتمہ ہم نے کچھ ماہ پہلے کیا تھا ۔۔ ؟ “
باسط کو پہلا خیال جو آیا اس کا اظہار فوراً کرتا ہوا بولا جبکہ باذل نے لیپ ٹاپ کی سکرین کا رخ باسط کی جانب کیا تو باسط نے فوراً آگے کو جھک کر اپنی نظریں لیپ ٹاپ پر جما لیں جیسے جیسے وہ پڑھتا جا رہا تھا اس کے ماتھے پر بلوں میں اضافہ ہو رہا تھا

” مگر ایسے کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ میں نے خود خان کے متعلق پتہ کیا تھا اس کی صرف ایک بیٹی تھی سولہ سال کی جسے آپ کے کہنے پر میں نے ملک سے باہر سکالر شپ کروا کر بھجوا دیا تھا ۔۔ تو یہ دوسری بیٹی کہاں سے آ گئی ۔۔ ؟؟ اور وہ بھی معصومہ بھابھی کی کلاس میں ۔۔”
باسط حیرانگی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں بولا تھا جبکہ باذل اب جیب سے سگریٹ نکال کر سلگا کر انگلیوں میں دبا کر لبوں سے لگا رہا تھا

” یہ لڑکی باس کی حقیقت جانتی ہے ۔۔ اور معصومہ کو بھی بتا چکی ہے ۔۔ “
باذل منہ سے دھواں خارج کرتا باسط کی معلومات میں اضافہ کرتا بولا تھا

” کب ۔۔ ؟؟ صبح تک تو بلکل ٹھیک موڈ تھا ان کا ۔۔ اور اس لڑکی کو باس کی حقیقت کیسے معلوم ہوئی کیونکہ یہ بات ہر کوئی تو نہیں جان سکتا “
باسط حیرت سے بول رہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر باذل کو ساری بات سمجھ میں آ گئی کہ ثمرہ نے باسط کو معصومہ کے ساتھ دیکھ کر ہی پہچان لیا ہو گا

” میں نے تمہیں کہا تھا کہ معصومہ کی یونیورسٹی میں کسی سے دوستی نہیں ہونی چاہیے تو پھر یہ لڑکی اس کی دوست کیسے بن گئی ۔۔؟؟”
باذل اس کی بات نظرانداز کرتا اپنے مخصوص سنجیدہ انداز میں پوچھا

” اور کسی سے بھی دوستی نہیں ہونے دی میں نے ان کی ۔۔ لیکن بھابھی بیچاری بلکل اکیلی رہتی تھیں پھر یہ لڑکی ڈری سہمی سی رہتی تھی اس سے بہادر تو معصومہ بھابھی تھیں جو اکثر اسے سٹوڈنٹس کے مذاق سے بچاتی تھیں مجھے لگا اس لڑکی سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا مگر ۔۔ یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ لڑکی باس کی حقیقت کیسے جانتی ہے ۔۔ “
باسط کو حیرت ہو رہی تھیں آخر وہ ڈری سہمی سی لڑکی اتنا بڑا مسئلہ کیسے کھڑا کر سکتی ہے ان کے لیے

” یہ تو وہ لڑکی خود بتائے گی کہ کیا کیا جانتی ہے ہمارے بارے میں ۔۔ اور دوسری بات اگر باس کی حقیقت وہ جانتی ہے تو باسط تف ہے تم پر ۔۔ تمہاری کوتاہی کے باعث ہوا ہے یہ سب ۔۔ تمہاری معلومات کے مطابق خان کی ایک بیٹی تھی جبکہ میری تازہ معلومات کے مطابق یہ لڑکی’ ثمرہ ‘ خان کی بڑی بیٹی ہے جو دوسرے شہر سے یہاں آئی ہے اور یہ میرے بارے میں کافی کچھ جان گئی ہے اور میری بیوی کو بھی بتا چکی ہے ۔۔ اب اس لڑکی کو میں خود ہینڈل کروں گا ۔۔ مگر تمہاری غلطی معافی کے قابل نہیں ہے باسط اور اس کی سزا تمہاری یہ ہے کہ تم مجھے ایک مہینے تک اپنی شکل مت دیکھانا ۔۔ “
باذل اپنے لیپ ٹاپ کا رخ اپنی جانب کرتا مستحکم انداز میں بولا تھا یقیناً باسط کی لاپرواہی سے باذل کو دلی دکھ پہنچا تھا کیونکہ ٹیم میں سب سے زیادہ وقت باذل نے باسط کو دیا تھا اور خود تربیت کی تھی اس کی ۔۔ یہی وجہ تھی کہ وہ باسط کے بھائی ہونے کے باوجود بھی اس کی کوئی غلطی نظرانداز نہیں کرتا تھا اور باسط جانتا تھا یہ سزا بھی باذل نے یقیناً کسی مصلحت کے تحت منتخب کی ہو گی ۔۔

” اوکے بھائی ۔۔ “
باسط جانتا تھا معافی مانگنا بےکار ہے اسی لیے تابیدار سے سر ہلاتا لاؤنج سے چلا گیا

//////////////////////////
جاری ہے