Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ناول: تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 12
جانے کون سے احساس کے تحت اس کی آنکھ کھلی تھی کمرے میں مدھم سی روشنی تھی وہ بائیں طرف کروٹ کے بل لیٹی ہوئی تھی چند پل وہ سامنے دیوار کو دیکھتی رہی جب اسے محسوس ہوا کہ وہ ابھی بھی مکمل باذِل کی گرفت میں مقید تھی کہ اس کی پشت باذِل کے سینے سے لگی ہوئی تھی اور باذِل کے دونوں بازؤوں نے اسے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا باذِل کی جانب اس کی پشت تھی مگر وہ باذِل کی گرم سانسیں اپنی گردن کے پیچھے محسوس کر رہی تھی اس نے آہستہ سے اپنے پیٹ کے گرد حمائل باذِل کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور لیمپ کی مدھم روشنی میں اس کے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھنے لگی پھر اپنے سیدھے ہاتھ کی انگشت شہادت سے اس کی ہتھیلی پر آہستگی سے کچھ لکھنے لگی
جبکہ باذِل اپنی بازو اور ہتھیلی پر نرم لمس محسوس کرتا بیدار ہو چکا تھا ایک پل کو بوجھل آنکھیں کھول کر دیکھا تو معصومہ کی اس کی جانب پشت تھی مگر وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ جاگ چکی ہے پھر وہ معصومہ کی انگلی کا لمس اپنی ہتھیلی پر پوری توجہ سے محسوس کر رہا تھا یقیناً وہ کچھ لکھ رہی تھی اس کی اس حرکت پر باذِل کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری وہ اب سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ آخر کیا لکھ رہی تھی
” م ع ص و م ہ۔۔۔۔ معصومہ “
وہ بار بار یہی الفاظ لکھ رہی تھی جبکہ اس کی انگلیوں کی حرکت سمجھتے ہوئے باذِل کی مسکراہٹ گہری ہوئی
” میرے ہاتھوں کی لکیروں پر پہلے ہی تمہارا نام ہے ۔۔ جاناں ۔۔”
وہ اس کے بالوں کی خوشبو اپنی سانسوں میں اتارتا بوجھل آواز میں بولا جبکہ باذِل کی خمار آلود آواز سنتے ہی معصومہ نے اس کا بازو چھوڑ دیا اور اپنی آنکھیں اور ہونٹ میچ لیے
” حسین رات کے بعد ایک خوبصورت صبح مبارک ہو جاناں ۔۔”
وہ اس کے کان سے اپنے لب مس کرتا آنکھیں موند کر بوجھل آواز میں بولا
اس کی بات سن کر معصومہ نے اپنی بند آنکھیں اور سختی سے میچ لیں جبکہ اس کی سانسوں میں ارتعاش پیدا ہو رہا تھا اس کے حواس مکمل بیدار ہو چکے تھے کل رات کے منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگے اور اب وہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ پر بے آواز رونے لگی
اسے بلکل باذِل کی سمجھ نہیں آ رہی تھی اتنی محبت ، اس قدر چاہت ، اس کے ہر انداز میں سچائی تھی کہ اب معصومہ کو مکمل طور پر وہ میسیج اور پکچر جھوٹے لگنے لگے تھے اسے صرف باذل کی باتیں ، اس کے جذبات ، اور وہ خود سچا لگ رہا تھا باقی باتوں کو وہ اس کے پیار میں شاید بھول چکی تھی یقیناً باذِل شیرازی پورے استحقاق سے معصومہ کو اپنے سحر میں جکڑ چکا تھا
جبکہ اس کی ہچکیاں اور سسکیاں سن کر باذِل چونکا اور اور حیرت زدہ ہو کر معصومہ کے ہچکولے کھاتے وجود کو دیکھا ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اس نے معصومہ کا رخ اپنی جانب کیا
معصومہ کا چہرے پر ہاتھ رکھ کر بے آواز رونا دیکھ کر اسے شدید غصہ آیا تھا اس نے کتنا سمجھایا ، کتنا یقین دلایا تھا ، ہر انداز سے کہ وہ اس کے لیے کیا ہے مگر معصومہ اتنی بری طرح رو رہی تھی جیسے جانے کون سا ظلم کر دیا اس نے اس کے ساتھ
” آخر اب کیا مسئلہ ہو گیا ہے معصومہ ۔۔ اتنی بری طرح کیوں رو رہی ہو ۔۔ ؟”
اس کے دونوں ہاتھوں کو اس کے چہرے سے ہٹا کر وہ اس کے آنسوؤں سے تر پلکوں کو اپنی انگلیوں سے نرمی سے صاف کرتا دھیمی آواز میں پوچھنے لگا
” آ آپ وعدہ کریں پہلے کہ میری بات مانیں گے ۔۔!!”
وہ اپنا ایک ہاتھ باذل سے چھڑوا کر اپنے چہرے کو صاف کرتی بھرائی آواز میں بولی
” حد ہے یار ۔۔ اب کون سی بات ہے آخر ۔۔ ساری رات تو وعدے لیتی رہی ہو اب کیا رہ گیا ہے ۔۔ اچھا سنو ۔۔ اِن شارٹ ۔۔ میں کسی گناہ میں نہیں پڑوں گا ۔۔ اب پلیز کوئی اور بات کرو ان وعدوں کے علاوہ ۔۔”
وہ جھنجھلائے ہوئے انداز میں بولا تھا اتنا سمجھانے کے باوجود معصومہ بی بی کی سوئی ابھی وہیں اٹکی تھی اب تو حد ہو گئی تھی یار مطلب یہ لڑکی تو کچھ نہ کر کے بھی چند دنوں میں ہی اسے اپنی انگلیوں پر چلا رہی تھی اول تو باذِل صاحب کی بات کوئی رد نہیں کرتا تھا اور جو کبھی غلطی سے کر دیتا تھا تو اس کو باذِل صاحب ایسی سزا دیتے تھے کہ وہ اگلی بار کی توبہ کر لیتا تھا اور ایک یہ معصومہ بی بی ہے جو کل رات سے حد سے زیادہ بے تکا اور فضول بولی جا رہی تھی مگر تف ہے باذل تم پر ۔۔ اس کو بچوں کی طرح بہلا رہا تھا
” ہممم بس آخری بار ایک وعدہ کریں پلیز کہ ۔۔ آپ کبھی بھی کسی بھی لڑکی سے غلط تعلقات نہیں رکھیں گے نا۔۔؟؟”
معصومہ اس کی داڑھی پر ہاتھ پھیرتی ہوئی اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
جبکہ اس کی بات سن کر باذِل نے اسے سخت تنبیہی نگاہوں سے دیکھا تو اس کے اس طرح دیکھنے سے معصومہ نے فوراً اپنی نگاہیں جھکا لیں اور اس کی داڑھی پر ہاتھ پھیرتی رہی جبکہ معصومہ کی یہ کاروائی باذل کو جاندار قہقہہ لگانے پر مجبور کر گئی باذل کے قہقہے پر معصومہ نے خفت سے سر اسی کے سینے میں چھپا لیا
” چلو جاؤ فریش ہو کر آؤ ۔۔۔۔ “
باذِل اس کا چہرہ بلند کر کے دیکھتے ہوئے مستحکم انداز میں گویا ہوا تو معصومہ نے اثبات میں سر ہلایا اور بلنکٹ ہٹاتی اٹھ کھڑی ہوئی
الماری سے اپنے کپڑے نکال کر واشروم میں گھس گئی جب تک وہ واپس آئی باذل بیڈ پر کروٹ لیے لیٹا اس کا انتظار کرتا رہا اسے آتا دیکھ وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا اور واشروم میں گھس گیا معصومہ فجر کی نماز ادا کر کے دعا مانگ رہی تھی جب باذل نے اس کے برابر مصلہ بچھایا اور نماز ادا کرنے لگا باذِل کو اپنے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھ کر کئی آنسو معصومہ کی آنکھوں سے بہہ کر دوپٹے میں جذب ہونے لگے
//////////////////////////
وہ اپنے بالوں میں برش کر رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی باذل اس وقت ڈریسنگ روم میں چینج کر رہا تھا معصومہ نے برش ہاتھ میں پکڑے ہی آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو نوری کھڑی تھی
” سلام بی بی ۔۔ وہ مرشد صاحب کا ناشتے پر انتظار ہو رہا ہے ۔۔”
معصومہ کا گلاب کی طرح کھلا نکھرا نکھرا چہرہ دیکھ کر نوری نے اسے سر سے پاؤں تک معنی خیزی سے دیکھا اور اپنا دوپٹہ دانتوں میں دبا لیا اور مسکراہٹ دباتے بولی
” ہمم چلو تم ۔۔ وہ آ رہے ہیں ۔۔”
معصومہ اس کی معنی خیز مسکراہٹ پر جھینپ کر بولتی فوراً دروازہ اس کے منہ پر بند کر گئی اور خود کو نارمل کرتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بالوں کو کیچر میں مقید کر رہی تھی وہ تقریباً یونی کے لیے تیار ہو چکی تھی جب باذل اس کی پیچھے آ کھڑا ہوا اور اس کا اسکارف اتار کر کانوں میں چھوٹے چھوٹے آویزے پہنانے لگا معصومہ اس کا لمس اپنے کانوں پر محسوس کرتی آنکھیں موند گئی جب باذِل نے اسے دونوں کاندھوں سے تھاما تو معصومہ آنکھیں کھول کر ان بے حد خوبصورت ایئرنز کو دیکھنے لگی
” کیسے لگے ۔۔؟؟”
اس کا رخ اپنی جانب کر کے وہ اس کے دونوں ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا
” بہت اچھے ۔۔ شکریہ ۔۔”
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی
“چلو ۔۔ نیچے چلتے ہیں دادا جان ناشتے کے لئے انتظار کر رہے ہوں گے ہمارا۔۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامے دروازے کی جانب بڑھنے لگا جب معصومہ کے مسکراتے لب اس کی بات سن کر سکڑ گئے اور قدم وہیں جم گئے اس کا رنگ یکدم زرد پڑا
” وہ باذل۔۔!!’
وہ نگاہیں جھکا کر بولتے ہوئے ہچکچائی
” کیا ہوا جاناں ؟ ۔۔”
باذِل کی پیشانی پر ایک لکیر ابھری تھی وہ پریشانی سے پوچھنے لگا
” و وہ مجھے آج سب کے ساتھ ناشتہ نہیں کرنا پلیز ۔۔ میں گل بی بی سے یہیں منگوا لیتی ہوں پلیز “
وہ التجائیہ انداز میں بولی تھی جبکہ باذِل کو اس کا چہرہ دیکھ کر پریشانی نے آن گھیرا جہاں ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا
” کیاہو ہے ۔۔؟؟”
ماتھے پر بل ڈالے سرد انداز میں اس نے پوچھا
” کچھ بھی نہیں۔۔ پلیز آپ جائیں ناشتہ کریں ۔۔ “
وہ اپنے ہاتھ آہستہ سے اس سے چھڑوا کر پیچھے ہوئی
اتنا تو وہ جانتا تھا کہ معصومہ کو اگر دادا جان نے یا کسی اور نے کچھ بھی کہا ہو تب بھی وہ بزدلوں کی طرح پیچھے تو نہیں ہٹے گی بلکہ مزید ان لوگوں کو زچ کرنے کے لیے وہی ڈائننگ ٹیبل پر ان سب کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھائے گی پھر آخر ایسا کیا ہو گیا جو وہ ہچکچا رہی تھی
” کیا مسئلہ ہے سب کے ساتھ کھانے میں ؟؟۔۔”
اس بار اس کے لہجے میں سختی تھی جو معصومہ نے باخوبی محسوس کی اور اپنا سر جھکا لیا
” وو وہ ۔۔ وہ مجھے شرم آ رہی ہے ۔۔”
وہ سر جھکائے اس انداز میں بولی کہ جیسے کوئی مجرم اپنی صفائی دیتا ہے
” مگر کس سے ۔۔؟ اور کیوں ۔۔؟؟”
وہ بلکل بھی نہیں سمجھ سکا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے
” باذِل آپ نہیں سمجھیں گے ۔۔ “
وہ اس کی نا سمجھی پر خفت سے رخ موڑ گئی
” معصومہ ۔۔۔!!”
باذِل کی کرخت آواز میں پکار پر فوراً معصومہ نے رخ اس کی جانب کیا
” وو وہ ابھی نن نوری آئی تھی ۔۔ پپ پتہ نہیں کیوں مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔ پلیز مجھے نہیں جانا نیچے ۔۔ “
وہ سر جھکا کر آہستگی سے بولی تھی جبکہ اس کی بات سمجھ کر باذِل کے سنجیدہ چہرے پر جاندار مسکراہٹ بکھری تھی
” کوئی بات نہیں جاناں اس میں تمہاری غلطی تھوڑی ہے جو تم چھپ رہی ہو ۔۔ یہ پورانی عورتیں ہیں ۔۔ ان کی نظریں بہت تیز ہوتی ہیں ۔۔ “
وہ مسکراہٹ دباتا اس کا دوپٹہ سر پر درست کرتا اس کا ہاتھ تھام کر چلنے لگا تو ناچار معصومہ کو بھی اس کے ساتھ قدم ملانے پڑے
//////////////////////////
وہ ڈائننگ ہال میں داخل ہوئے تو سب ان دونوں کی جانب متوجہ ہوئے باذِل ایک نظر سب کو دیکھتا تھوڑی بلند آواز میں سلام کر کے کرسی پر براجمان ہو گیا جبکہ معصومہ دھیمی آواز میں سلام کرتی بغیر کسی سے نگاہیں ملائے سر جھکا کر کرسی پر ٹک گئی مگر قائم پر نظر پڑتے ہی باذل کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ فوراً کھینچ لیا معصومہ کی اس حرکت پر جہاں باذِل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ آئی وہیں قائم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھری ان دونوں کو ایک ساتھ خوش دیکھ کر قائم کے دل کو سکون پہنچا تھا نہیں تو اسے معصومہ کی کافی فکر تھی
“دادی جان آپ بھی بیٹھ کر ناشتہ کریں دادا جان کو اگر کچھ چاہیے ہو گا تو دے دیجئے گا اور آپ دونوں بھی پلیز جسے جو چاہیے ہو گا وہ خود لے گا۔۔”
باذِل کی بھاری آواز ڈائننگ ہال میں گونجی آخر میں اس نے شیرین صاحبہ اور چچی کو دیکھتے ہوئے کہا تو سب اس کی جانب متوجہ ہوئے ماسوائے دادا جان کے کیونکہ وہ بظاہر مصروف سے ناشتہ کر رہے تھے
دادی جان نے انہیں متوجہ نہ پا کر پھر سے باذل کو پریشان نگاہوں سے دیکھا تو اس نے معصومہ کے ساتھ والی کرسی کی جانب اشارہ کیا دادا جان کا کوئی ردعمل نہ پا کر نا چار انہیں بیٹھنا پڑا دادی جان کے بعد شیرین صاحبہ اور چچی بھی ان کے ساتھ کرسیوں پر براجمان ہو گئی مگر وہاں موجود ماجد صاحب اور عابد صاحب کو یہ کاروائی کچھ خاص پسند نا آئی کہ معصومہ کے بعد اب باقی عورتیں بھی ان کے برابر میں بیٹھیں گی مگر حیرت ان سب کو دادا جان کے سارے معاملے میں لاتعلقی ظاہر کرنے پر ہو رہی تھی
جبکہ باذِل نے بے ساختہ معصومہ کی جانب نگاہیں کیں جو پلیٹ پر جھکی ترچھی نگاہوں سے سب دیکھ رہی تھی
” آج تمہارے باعث سب بدلنے کی شروعات ہو گئی جاناں ۔۔”
باذِل نے تھوڑا معصومہ کی سمت کھسک کر اس کے کان میں سرگوشی کی اور اس کے لیے گلاس میں جوس انڈیل کر اس کے ہاتھ میں تھمایا
“اس بات کا مطلب ۔۔؟؟ کیونکہ اگر آپ یہ پہلے بھی کرتے تو آپ کی بات کون سا دادا جان نے ٹالنی تھی ۔۔ پھر میرے باعث کیوں۔۔؟؟”
معصومہ نے بھی ناسمجھی سے دھیمی آواز میں نگاہیں پلیٹ پر جمائے باذل سے پوچھا جبکہ اس نئی تبدیلی کے باعث سب ہی اپنی اپنی سوچوں میں گم پلیٹوں پر جھکے ہوئے تھے تبھی معصومہ کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ نہ پا کر اب اپنی شرم کو بھول چکی تھی
” اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے ۔۔ جاناں۔۔”
وہ آہستگی سے کہتا ہوا چائے کا کپ لبوں سے لگا گیا جبکہ معصومہ نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائے
” پھر کبھی بتاؤں گا ۔۔ ابھی چلو تمہیں دیر ہو رہی ہے ۔۔”
وہ دھیمی آواز میں کہتا چائے پینے لگا جبکہ اس کی بات پر معصومہ نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا
///////////////////////////////
یونیورسٹی کے آگے گاڑی روک کر وہ معصومہ کو مسکرا کر گیٹ کے اندر جاتا دیکھ رہا تھا جب وہ اندر چلی گئی تو باذِل کے مسکراتے لب سکڑ گئے اور چہرے پر چٹانوں کی سی سختی در آئی اسٹیئرنگ پر دونوں ہاتھوں کی گرفت سخت ہوگئی کئی باتیں اس کے دماغ میں گردش کر رہین تھیں
کل پورا دن اس نے اپنی فیملی کے ساتھ گزارا تھا مگر وہ باقی مسئلوں کو کیسے پس پشت ڈال سکتا تھا بہت سی باتیں اس کے دماغ میں چل رہیں تھیں جن میں سر فہرست وہ چائے والا معاملہ تھا جسے وہ بلکل فراموش نہیں کر سکتا تھا پرسوں سے سائلینٹ موڈ پر لگا موبائل جیب سے نکال کر دیکھنے لگا جہاں بے تحاشہ میسیجز ، کالز ، ای میلز اور نوٹیفکیشنز تھے
وہ ایک ایک کر کے سارے پڑھنے لگا رمشا کے کافی ٹکسٹ تھے کہ اسے بہت ضروری بات کرنی ہے ، باسط اور ویشال کے بھی ٹیکسٹ تھے مگر ایک نوٹیفکیشن پر باذِل ٹھٹھک گیا
اس نے معصومہ کے موبائل میں چپ اور ٹریسر فٹ کی ہوئی تھی جو اس کے اپنے موبائل کے ساتھ کنکٹ تھی اس نوٹیفکیشن میں لکھا تھا کہ کسی نے معصومہ کے موبائل کو ہیک کیا ہے جبکہ اس انکشاف پر باذِل کے ماتھے پر شکن ابھرے کیونکہ معصومہ کا موبائل اس کے خود کے اور باسط یا رمشا کے علاوہ اور کوئی بھی ہیک نہیں کر سکتا تھا پھر آخر کون ہوسکتا ہے جب اس نے یہ چیک کیا کہ کس نے ہیک کیا ہے تو رمشا کا نام آیا
ایک لمحے سے پہلے باذِل نے گاڑی سٹارٹ کی اور اپنے آفس کی بلڈنگ کی طرف دوڑا لی
تیز تیز قدم اٹھاتا وہ آفس میں داخل ہوا ہال میں اس وقت رمشا ، حماد اور ساحر اپنے اپنے لیپ ٹاپ پر جھکے کام میں مصروف تھے باذل کو ہال میں داخل ہوتے دیکھ کر تینوں فوراً اپنی کرسیوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور سلام کیا
” رمشا تم نے معصومہ کا موبائل ہیک کیوں کیا ۔۔؟؟”
سپاٹ انداز میں سلام کا جواب دیتا وہ رمشا کے سامنے پہنچ کر سرد انداز میں پوچھنے لگا جبکہ رمشا اس کے کرخت انداز پر سہم گئی
” و وہ باس ۔۔ میں آپ کو میسج بھی اسی لیے کر رہی تھی ۔۔ اسی بارے میں بتانا تھا آپ کو ۔۔ “
وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی جلدی سے بولی
” کیا بتانا تھا ۔۔ ؟”
اس کی بات مکمل ہونے پر وہ فوراً پوچھنے لگا
” وو وہ باس میم کے موبائل پر کسی ان نون پرسن کے میسیجز آئے تھے پرسوں ۔۔ آئی تھنک آپ نے ای میل چیک نہیں کی تھی کل تک ۔۔ تو اسی لیے باسط نے آپ کو مصروف سمجھ کر وہ ای میل چیک کی ۔۔ آ آپ نے کہا تھا کہ اگر ایسی کوئی سچیوشن ہو تو میں یا باسط میم کے موبائل کو ہیک کر سکتے ہیں اسی لیے ہم نے پہلے آپ کو کال بھی کیں میسیجز بھی بٹ آپ کا رسپانس نہیں آیا تو باسط نے مجھے کہا کہ میں چیک کروں ہیک کرکے بٹ سر وہ۔۔۔۔”
باذِل کے تنے ہوئے چہرے کو دیکھ کر رمشا اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کر کے جلدی جلدی ساری تفصیل بتا رہی تھی جب آخر میں بات کرتے ہوئے خاموش ہو گئی
” ہاں تو پھر کیا ہوا ۔۔ ؟؟ کیا ہیک ۔۔؟ پتہ چلا کس کے میسیجز تھے ۔۔؟؟”
رمشا کی باتیں سن کر اسے باخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ایک دن کی چھٹی اسے کافی مہنگی پڑ گئی ہے
” بٹ سر ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے اور آپ کی پرمیشن کے بغیر ہم ریکور کیسے کر سکتے تھے اس لیے کل سے مسلسل میسیجز کر رہے تھے ہم لوگ آپ کو۔۔”
رمشا نے جلدی سے اپنی بات مکمل کی اور باذل کے سپاٹ چہرے کو دیکھنے لگی
” ہمممم”
” آئی ہوپ سر کہ سب ٹھیک ہو ۔۔؟؟
باذِل کو پر سوچ انداز میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا دیکھ کر دھیمی آواز میں پوچھنے لگی
” باسط کہاں ہے ۔۔؟”
اس نے رمشا کو دیکھتے ہوئے پوچھا ابھی اس نے باسط کا پوچھا ہی تھا کہ باسط ، ویشال کے ساتھ ہال میں داخل ہوا اور باذِل کو دیکھ کر دونوں نے سلام کیا
” باسط پانچ منٹ کے اندر معصومہ کے موبائل کا ڈیٹا ریکور کرو ۔۔ ہری اپ ۔۔”
ان دونوں کے سلام کا جواب دیتا وہ فوراً باسط سے مخاطب ہوا
” اوکے باس ۔۔!!”
اس کا حکم سنتے ہی باسط نے اپنے ہاتھ میں تھامے بیگ سے لیپ ٹاپ نکالا اور اپنی میز کرسی کی جانب بڑھا جبکہ باذِل سمیت سب کا دھیان باسط کے لیپ ٹاپ کی جانب تھا
” ہو گیا ۔۔”
ٹھیک پانچ منٹ میں باسط نے پاس کھڑے باذل کو مطلع کیا
” اوپن اِٹ ۔۔”
باذِل نے سکرین پر نگاہیں مرکوز کرتے ہوئے اگلا حکم دیا
مگر جیسے ہی باسط نے کلک کیا سامنے ایک تحریر اور تصویر دیکھ کر سب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور پھر باسط سمیت سب نے ہی اپنا سر اور نگاہیں جھکا لیں جبکہ باذِل ہنوز سکرین کو تکے جا رہا تھا اس کے ماتھے پر بلوں میں اضافہ ہوا تھا اس نے ضبط کرتے ہوئے جبڑے سختی سے بھینچ لیے
” کیا بکواس ہے یہ ۔۔؟؟”
وہ دھاڑا تھا کہ اس کی آواز پورے ہال میں گونجی تھی
” کس نے ۔۔ کس نے بھیجا ہے یہ ؟؟۔۔”
وہ باسط کو اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھتا ہوا غرایا
” اس نمبر سے ۔۔!!”
اس کے خطر ناک تیور دیکھ کر باسط نے فوراً کلک کر کے نمبر سامنے کیا
” ساحر دس منٹ کے اندر پتہ کرو یہ کس کا نمبر ہے ۔۔!!”
اب وہ کچھ فاصلے پر کھڑے ساحر سے مخاطب ہوا وہ اوکے کرتا فورا اپنے کام پر لگ گیا
” باس یہ کسی عروج نیازی نام کی لڑکی کا نمبر ہے ۔۔”
دس منٹ کے اندر ہی ساحر نے اسے مطلع کیا تو باذل نے اپنے موبائل سے نگاہیں ہٹا کر اسے دیکھا
” ایڈریس نکالو اس کا ۔۔!! تصویر دیکھاؤ مجھے اس کی !!”
باذِل کا اگلا حکم سنتے ہی ساحر نے لیپ ٹاپ کی سکرین اس کے سامنے کی اور سکرین پر موجود لڑکی وہی لڑکی تھی جو تصویر میں اور اس ہوٹل میں باذل سے ٹکرائی تھی آہستہ آہستہ باذل کو ساری باتیں سمجھ آ رہیں تھیں چائے پینے کے بعد سر چکرانا اور نیند آنا ، اس لڑکی کا ٹکرانا ، اس کے قریب آنا ، معصومہ کا اچانک اس حد تک بد گمان ہونا کہ بات رشتہ ختم کرنے تک پہنچ گئی ، معصومہ کی بے اعتباری ، یہ کچھ بھی اتفاق نہیں تھا بلکہ سازش تھی
” حماد ایک گھنٹہ ۔۔!! اونلی ون آئر ۔۔مجھے یہ لڑکی یہاں چاہیے ۔۔!!”
وہ کرخت انداز میں کہتا اپنی کرسی پر براجمان ہو گیا جبکہ رمشا نے آنکھوں سے باسط کو اشارہ کیا کہ شیخ والی خبر کیسے بتائیں اب باس کو ۔۔جبکہ باسط نے لاپرواہی سے کاندھے اچکا دیے اس کی لاپرواہی پر رمشا دانت پیس کر رہ گئی
/////////////////////////////
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
