Tu Rang De By Fatima Readelle50075 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ
قسط نمبر 29
سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
معصومہ روتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تو سامنے باسط ، رمشا اور ویشال بھی پریشان کھڑے تھے معصومہ نے لگاتار بہتے اپنے آنسوؤں کو ایک بار پھر سختی سے ہاتھوں کی پشت سے صاف کیا اور چادر کو سر پر درست کرنے لگی
” بھابھی پلیز آپ روئیں نہیں ۔۔ اور یہاں بیٹھیں پلیز ۔۔ “
باسط ، معصومہ کے رونے کے باعث سرخ ہوئے چہرے کو دیکھ کر ایک کرسی کی جانب اشارہ کرتا ہوا اصرار کر رہا تھا جبکہ معصومہ رمشا اور ویشال کو ایک نظر دیکھتی خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی پھر باسط نے رمشا کو اشارہ کیا تو وہ ہال سے باہر کسی کام کی غرض سے باہر نکل گئی باسط کافی حد تک معاملہ سمجھ چکا تھا مگر بولا کچھ نہیں
” میم پلیز ٹیک اٹ ۔۔”
تھوڑی دیر بعد ہی رمشا جوس کا گلاس تھامے معصومہ کے سامنے کرتی مسکرا کر بولی تو معصومہ نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے رمشا کے ہاتھوں میں پکڑے گلاس کو دیکھا اور پھر باسط کو دیکھا
” پلیز جوس پیئں آپ اور روئیں نہیں بھائی کا غصہ ایسا ہی ہے ۔۔ “
باسط ، رمشا کے ہاتھ سے گلاس لے کر خود معصومہ کے سامنے کرتا گویا ہوا تو معصومہ نے اس کی بات کا جواب دیئے بغیر گلاس تھام لیا اور لبوں سے لگا لیا چند گھونٹ پینے کے بعد اس نے گلاس میز پر رکھ دیا مگر اب معصومہ کی آنکھیں بلکل خشک ہو گئیں تھیں وہ اب بلکل گم صم سی بیٹھی غیر مرئی نقطے کو تکے جا رہی تھی باسط نے ایک سرد آہ بھر کر ایک نظر معصومہ کی پتھرائی ہوئی آنکھوں پر ڈالی اور دوسری نگاہ اس بند کمرے کے دروازے پر جہاں باذل تھا باسط سمجھ سکتا تھا کہ وہ دونوں ہی اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن حالات کچھ ایسے ہیں کہ دونوں آج اس اذیت سے گزر رہے تھے
معصومہ کے آنسو تو رک چکے تھے مگر دل میں ملال بڑھتا جا رہا تھا اس نے ہمیشہ غصے میں باذل کو اپنی زبان سے تکلیف دی تھی وہ کتنا خیال کرتا تھا مان اور عزت دیتا تھا اسے مگر ہر بار وہ اس پر شک کرتی تھی وجہ یہ بھی تھی کہ بچپن سے ہی باذل دادا جان کے قریب رہا تھا اور معصومہ کو باذل سے ہمیشہ سے اسی لیے چڑ ہوتی تھی کہ دادا جان بس اسی سے پیار کرتے ہیں پھر شادی کے وقت بھی باذل کو لے کر اس کے دل میں کتنے وہم ، شک اور بد گمانیاں تھیں باذل ہمیشہ عزت اور محبت دے کر اسے احساس تو دلاتا تھا مگر پھر بھی حالات ہمیشہ باذل کے خلاف رہے تھے وہ باذل کی بیوی تھی اور کون سی بیوی اپنے شوہر کا بغیر بتائے دن رات گھر سے باہر رہنا برداشت کرتی ہے ہاں مگر اس نے باذل سے بہت بار تلخ کلامی کی تھی جس کا اسے ہمیشہ افسوس ہوتا تھا مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ ان دونوں کے مزاج میں غصہ اور ضد تھی اور ہمیشہ باذل اپنا غصہ ضبط کرتا تھا جبکہ وہ خود تو زبان کے ذریعے غصہ باذل پر نکال دیتی تھی مگر باذل کئی مرتبہ تحمل کا مظاہرہ کر چکا تھا اس بار اگر معصومہ کی غلطی بڑی تھی تو باذل بھی قصوروار تھا
زیادہ تکلیف معصومہ کو یہ بات دے رہی تھی کہ وہ اپنی ضد میں آ کر باذل کو تین ماہ تک اتنی بڑی خوشخبری نہیں بتا سکی تھی
دو سے تین گھنٹے گزر گئے تھے معصومہ کو ایک ہی سمت کرسی پر بیٹھے ہوئے جسم اس کا اکڑ گیا تھا مگر وہ گم صم سی بیٹھی اسی کمرے کے بند دروازے کو دیکھے جا رہی تھی اب تو اندھیرا بھی پھیل رہا تھا مگر باذل کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا ایک طرف لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے باسط بے بس سا بیٹھا ہوا تھا بار بار معصومہ کا افسردہ چہرہ دیکھ کر اسے تکلیف ہو رہی تھی مگر تسلی دینے کے سوا وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا
دروازہ کھلنے کی آہٹ پر ہال میں موجود چاروں نفوس کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی باذل اپنے بھورے بالوں کو ہاتھ کی انگلیوں سے سیٹ کرتا معصومہ کی جانب بڑھ رہا تھا معصومہ بھی پوری توجہ سے اسے دیکھ رہی تھی سیاہ پینٹ شرٹ پہنے دائیں ہاتھ پر رومال بندھا ہوا تھا یقیناً یہ خون روکنے کی کوشش کی گئی تھی چہرے پر چٹانوں جیسی سختی ، اور آنکھیں بےتحاشہ سرخ ہو رہیں تھی معصومہ کو جانے کیوں ایک بار پھر شدت سے رونا آیا جبکہ ہال میں موجود باسط ، رمشا اور ویشال ، باذل کو دیکھتے ہی احترماً کھڑے ہو گئے باذل اپنی نگاہیں معصومہ پر جمائے اس کی جانب بڑھا تو معصومہ سہم گئی
” رات ہو گئی ہے ۔۔ اب چلیں جاناں ۔۔؟”
معصومہ کے نزدیک پہنچ کر اپنے بائیں ہاتھ سے معصومہ کا دایاں ہاتھ تھامتا وہ اپنی سرخی مائل آنکھوں سے معصومہ کی آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھیں دیکھتا وہ بے حد محبت سے بولا تھا جبکہ باذل کے انداز پر معصومہ سمیت سب نے حیران کن تاثرات لیے باذل کو دیکھا
” رمشا ۔۔ ابھی میں گھر جا رہا ہوں ۔۔ کل اسی ٹائم میٹنگ رکھتے ہیں سب کو بتا دینا ۔۔ بائِے ۔۔ “
معصومہ کی حیرت سے پھیلی آنکھوں کو نظرانداز کرتا وہ اس کا ہاتھ تھامے چلنے لگا تھا اور پھر رمشا کو بغیر دیکھے کہتے ہوئے وہ معصومہ کو لیے ہال سے نکل گیا
پیچھے رمشا اور ویشال نے پہلے حیرت سے باذل اور معصومہ کی پشت کو دیکھا اور پھر باسط کو
” شی از سچ آ لکی گرل ۔۔ !”
معصومہ اور باذل کے نکلنے کے بعد ویشال معصومہ پر رشک کرتی ہوئی بولی تو باسط اور رمشا کا بھی سکتہ ٹوٹا
ان تینوں کو ہی اتنا سب ہونے کے بعد باذل کے اتنے جلدی ٹھنڈے ہو جانے پر خوشگوار حیرت ہو رہی تھی
” سر عشق کرتے ہیں میم سے ۔۔ ایم ہنڈرڈ پرسنٹ شوئر”
رمشا مسکرا کر یقین سے بولی تھی جبکہ باسط اور ویشال نے مسکرا کر اس کی تائید میں سر ہلایا
///////////////////////////
باذل نے معصومہ کو گاڑی کا دروازہ کھول کر آرام سے بیٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کردی معصومہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ترچھی نگاہوں سے باذل کے سپاٹ چہرے کو دیکھتی تھی مگر باذل کو مخاطب کرنے کی ہمت ہی نہیں کر پا رہی تھی باذل بھی خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا ایک نظر بھی وہ معصومہ پر ڈالنا گوارا نہیں کر رہا تھا
اس دوران باذل نے جیب سے موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا اور کان سے لگا لیا وہ کال پر کسی سے اچھی گائنی ڈاکٹر کا پوچھ رہا تھا پھر تھوڑی دیر بعد گاڑی ایک بہت بڑے ہاسپٹل کے آگے رکی باذل پہلے خود باہر نکلا پھر خود معصومہ کا ہاتھ تھام کر باہر نکالا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا آگے بڑھنے لگا جبکہ معصومہ بھی اس کی تقلید میں چلتی آگے بڑھنے لگی ڈاکٹر سے چیک اپ کے بعد وہ پھر گاڑی میں آ بیٹھے تھے
مگر معصومہ باذل کے ہاتھ پر بندھے رومال کو بار بار دیکھ رہی تھی اس میں باذل کو اپنے ہاتھ کی بینڈیج کروانے کا کہنے کی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی معصومہ کی بار بار اپنے ہاتھ پر اٹھتی نظروں کو باذل باخوبی سمجھ رہا تھا
” یو ڈونٹ وری جاناں ۔۔ میں خود بینڈیج کر لوں گا ۔۔”
وہ ایک نظر معصومہ کے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھتا دھیمی آواز مگر سرد انداز میں بولا تو معصومہ سٹپٹا گئی اور فوراً نگاہیں چرا گئی جبکہ باذل نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا
باذل ہاسپٹل پہنچنے سے پہلے ہی شیرین صاحبہ کو معصومہ کی پریگننسی کی خبر دے چکا تھا اور جلد گھر آنے کا بھی بتا چکا تھا وہ دونوں جب گھر پہنچے تو شیرازی ہاؤس میں جشن کا سما تھا جانے باذل نے سب سے کیا کہا تھا جس باعث کسی نے معصومہ کو مبارکباد کے سوا مزید کوئی سوال نہ پوچھا
دادا جان اور دادی جان کئی بکرے معصومہ کے صدقے کے دے چکے تھے ہر کوئی معصومہ کی توقع سے زیادہ خوش نظر آ رہا تھا ان سب کو اتنا خوش دیکھ کر معصومہ کو بےحد شرمندگی ہو رہی تھی کہ وہ اتنی بڑی بات ان سب سے کیوں چھپائے ہوئے تھی
کچھ دیر میں کھانا کھانے کے بعد باذل اسے لے کر کمرے میں آ گیا تھا مگر بیڈ پر بیٹھانے کے بعد وہ خود اپنے کپڑے لے کر واشروم میں چلا گیا جبکہ معصومہ کے رکے آنسو پھر سے بہنے لگے تھے جب باذل فریش ہو کر باہر نکلا تو معصومہ بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی بند آنکھوں سے بھی اس کے آنسو چہرے پر بہہ رہے تھے
باذل تولیہ رکھتے ہوئے معصومہ کی جانب بڑھا اور بیڈ کی دوسری سمت آ کر معصومہ کے قریب لیٹ گیا تو معصومہ نے فوراً اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا وہ شرٹ سے بے نیاز سیاہ ٹراؤزر پہنے اس کے بلکل قریب تھا
” جاناں رونا بند کرو پلیز ۔۔ !”
باذل معصومہ کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا نرم مگر مستحکم انداز میں بولا اب معصومہ اپنا ضبط کھو بیٹھی تھی اور باذل کے شانے پر سر رکھے دونوں ہاتھ اس کے نم سینے پر جمائے شدت سے رونے لگی
باذل اب نرمی سے اس کے بال سہلا رہا تھا کئی لمحے یوں ہی وہ اس کے کاندھے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی تھی پھر باذل اسے خود سے جدا کرتا اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر دیکھنے لگا آنکھیں اور ناک رونے کے باعث شدید سرخ ہو رہے تھے جبکہ اب وہ سر اور نگاہیں جھکائے بے آواز رو رہی تھی
” جاناں پلیز ۔۔ “
اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی پوروں سے معصومہ کے بہتے آنسو صاف کرتا وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتا محبت سے بولا
” پپ پلیز مم مجھے مم معاف ۔۔ “
وہ باذل کی آنکھوں میں دیکھتی لڑکھڑاتی آواز میں بول رہی تھی مگر بات مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ پھر سے شدت سے رونے لگی
” جاناں تم معافی کیوں مانگ رہی ہو ۔۔ ؟ تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے ۔۔ ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے ۔۔ اسی طرح میرے عمل کا ردعمل دیا تم نے ۔۔ معافی مجھے مانگنی چاہیے ۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو میں نے بہت غصے میں بات کی تم سے ۔۔ جبکہ تمہاری کوئی غلطی نہیں تھی تمہاری جگہ اگر میں ہوتا تو شاید اس سے بہت زیادہ برا ردعمل دیتا ۔۔ پلیز رو مت پلیز جاناں ۔۔ “
باذل اب معصومہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگا کر دھیمی آواز میں کہہ رہا تھا جبکہ معصومہ اسے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی
” ہم دونوں ہمسفر ہیں ہم راز ہیں مگر میں نے اپنی ہم راز سے ہی اپنا راز چھپایا ۔۔ ایک مصلحت کے تحت کیا تھا مگر بہرحال تم شرمندہ مت ہو اور نہ معافی مانگو کیونکہ غلطی تمہاری نہیں تھی ۔۔ ہاں بہت بول جاتی ہو تم مگر غلط نہیں ہو تم ۔۔ ایکچولی ہم دونوں میں ایک جیسی عادات ہیں اس لیے تضاد رہتا ہے بہرحال آج میں میجر باذل شیرازی ۔۔ اپنی بیوی معصومہ شیرازی سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کچھ بھی ہو جائے مگر کبھی بھی اپنی جاناں سے سخت انداز میں بات نہیں کروں گا ۔۔ “
معصومہ کے چہرے کو اپنے چہرے کے قریب کرتا وہ نرمی سے مضبوط انداز میں کہہ رہا تھا
” آ آپ بہت اچھے ہیں ۔۔ “
معصومہ سرشار ہوتی نگاہیں جھکائے بولی
” نہیں جاناں ۔۔ تم نے ۔۔ تمہارے ساتھ نے مجھے ایسا بنایا ہے ۔۔ ورنہ تو میں اتنا بھی اچھا نہیں تھا ۔۔ جانتی ہو ۔۔ ؟ امی کے بعد تم وہ عورت ہو جس کے لیے میرے دل میں دن بہ دن احترام بڑھتا گیا ۔۔ اچھی تم ہو ۔۔ بلکہ بہت اچھی ہو ۔۔ اگر تم اپنی زبان سے سخت الفاظ بولتی تھی تو میں نے بھی تمہیں تکلیف دی ہے ۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔ اور یاد رکھنا باذل شیرازی نے اگر وعدہ کیا ہے تو مرتے دم تک اپنا وعدہ نبھائے گا ۔۔ “
وہ معصومہ کے ناک سے اپنے ناک کو مس کرتا بولا تھا اب معصومہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو باذل کے چہرے پر ٹکا کر اس کی بے شکن پیشانی پر محبت سے مہر ثبت کی معصومہ کی کاروائی پر باذل کے چہرے پر تبسم بکھرا جبکہ اب معصومہ ایک ہاتھ باذل کے سینے پر رکھتی اپنا چہرہ اس کے کاندھے پر ٹکا گئی
” مم مجھے اتنی بڑی بات اتنے دنوں تک نہیں چھپانی چاہیے آپ سے ۔۔ آپ کو بہت برا لگا نا ۔۔ ؟”
وہ لہجے میں شرمندگی لیے بولی تھی جبکہ باذل ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد حائل کیے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا
” جو میں نے چھپایا وہ بھی بہت بڑی بات تھی ۔۔ مجھے تو چند پل اذیت پہنچی مگر تم نے پانچ ماہ اذیت میں گزارے ہیں ۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں کیسے کیسے خیال اور بدگمانی میرے متعلق تمہارے دل میں آئی ہو گی ۔۔ اس حساب سے زیادہ غلطی میری تھی بہرحال ۔۔ اب یہ باتیں مت سوچو ۔۔ اور اپنے دماغ کو ہر ٹینشن سے دور رکھو ۔۔ “
باذل اس کے بالوں پر لب رکھتا محبت سے چور انداز میں گویا ہوا
” جاناں ۔۔ باپ بننے کا احساس کتنا خوبصورت ہے یہ آج معلوم ہوا مجھے ۔۔ میں اپنے بچے کو بہت پیار دوں گا ۔۔ اتنا کہ جتنا مجھے میرے باپ نے نہ دیا ۔۔ دنیا کی ہر خوشی دوں گا ۔۔ اور میرے بےبی کی ماما کا بہت شکریہ جس نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی ۔۔ “
معصومہ کے پیٹ پر ہاتھ رکھتا وہ مسکرا کر بول رہا تھا معصومہ کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے
” آپ خوش ہیں نا ۔۔ ؟”
معصومہ جھجکتے ہوئے پوچھ رہی تھی
” لفظ میری خوشی بیان ہی نہیں کر سکتے ۔۔ آج اس خوبصورت احساس نے چند پل میں ہی میرے دل میں مزید تمہاری عزت بڑھا دی ہے ۔۔ بے صبری سے مجھے اس وقت کا انتظار ہے جب میں اپنی اولاد کو اپنے سینے سے لگاؤں گا ۔۔ “
باذل کھوئے کھوئے انداز میں بول رہا تھا
” جانتی ہو معصومہ ۔۔ تین سال پہلے میں اپنے مشن کی وجہ سے فارن جیل میں رہ کر آیا ہوں ۔۔ وہاں میں تقریباً دو ماہ تک رہا تھا ۔۔ وہ کوئی عام قید نہیں تھی ۔۔ وہاں سے بچ کر آنا ناممکنات میں سے تھا ۔۔ میں نے وہاں اس قدر اذیت سہی تھی کہ میرے اندر سے ہر خواہش مر گئی تھی کوئی خوشی ،خوشی لگتی ہی نہیں تھی ۔۔ ان دو ماہ کی مشقت بھری قید نے مجھے اتنا سخت بنا دیا کہ مجھ پر ہر وقت بےحسی رہنے لگی ۔۔ تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی آج میں وہ اذیت بھول نہیں سکا ۔۔ میری شخصیت بدل دی تھی اس قید نے ۔۔ آج بھی میرے مزاج میں اس اذیت اور تکلیف کی آمیزش ہے ۔۔ مگر پھر جب بھی تم مجھ سے ٹکراتی تھی میرے آگے ڈٹ کر کھڑی ہو جاتی تھی میں آہستہ آہستہ تمہارے بارے میں سوچنے لگا ۔۔ معصومہ شیرازی وہ واحد لڑکی ہے جو باذل شیرازی کے حواسوں پر سوار رہتی تھی ۔۔ پھر میں نے بہت سوچ سمجھ کر تم سے شادی کا فیصلہ کیا ۔۔ میں جانتا ہوں تمہارے ساتھ زبردستی ہوئی تھی اس معاملے میں ۔۔ مگر میں بےبس تھا ۔۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے تم سے بہت محبت تھی ہاں مگر اب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنی جاناں کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتا ۔۔ وہ جو میرے دل سے ہر خواہش مر گئی تھی نا وہ تمہارے ساتھ نے پھر سے جگا دی ہے ۔۔ اور یہ بات میں پورے دل سے مانتا ہوں کہ عورت چاہے تو کیا نہیں کر سکتی ۔۔ تم نے بغیر کسی کوشش کے اپنے عمل سے ایک سخت گیر باذل شیرازی کو بدل دیا معصومہ ۔۔ تم نے میری زندگی میں رنگ بھر دیے ۔۔ “
باذل اس کے دونوں رخسار اپنی انگلی کی پوروں سے سہلاتا دھیمی آواز میں کہہ رہا تھا معصومہ کو باذل کے الفاظ اپنے دل میں اترتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے
” آپ میری زندگی ہیں ۔۔ آپ نے مجھے سکھایا کہ محبت محض الفاظ کی صورت میں اظہار کر کے نہیں کی جاتی ۔۔ بلکہ انسان اپنے عمل سے بھی اظہار کر سکتا ہے ۔۔ آپ نے مجھے اتنی عزت اور مان دیا کہ مجھے اپنی خوش بختی پر خود ہی رشک آ رہا ہے ۔۔ معصومہ شیرازی اس بات کا آج دل سے اعتراف کرتی ہے کہ مرد اگر عزت و احترام کرنے پر آئیں تو عورت کے لیے یہ دنیا ہی جنت بن جاتی ہے ۔۔ میں معصومہ باذل شیرازی آج یہ کہتی ہوں کہ مجھے محبت کرنا آپ نے سیکھایا ہے میجر صاحب ۔۔ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں مرشد صاحب اور اپنی آخری سانس تک آپ سے محبت کروں گی ۔۔ آپ کی عزت کروں گی ۔۔ اور خدا کی ذات کے بعد آپ پر بھروسہ کروں گی ۔۔”
باذل کے ہاتھ اپنے نازک ہاتھوں میں لیتی وہ مدھم آواز میں کہہ رہی تھی آخر میں وہ باذل کے ہاتھوں پر بوسہ دیتی مسکرا گئی جبکہ باذل نے جواباً اس کے لبوں پر بوسہ دیا تھا
” ایک بات کہوں ۔۔ ؟؟”
چند لمحوں بعد کمرے کی خاموشی میں معصومہ کی مدھم آواز نے اشتعال برپا کیا تھا
” بلکل جاناں ۔۔ “
باذل اس کی آنکھوں میں دیکھتا کہنے لگا تو معصومہ نے بھی اپنی پلکوں کے باڑ سے اسے دیکھا
” مم میں چاہتی ہوں خدا ہمیں بیٹا دے ۔۔ اور وہ بلکل اپنے بابا جیسا ہو ۔۔ “
معصومہ کی شرماتی ہوئی آواز پر باذل کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی
” خدا بیٹا دے یا بیٹی یہ اس پاک ذات کی مرضی ۔۔ بس نیک ، صالح اور صحت مند اولاد دے ۔۔ اور ہمیں اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنے کی توفیق دے ۔۔”
باذل ہنوز مسکراتے ہوئے گویا ہوا تھا جبکہ معصومہ نے اس کی بات پر آمین کہا تھا
” ویسے میری خواہش ہے کہ خدا ہمیں بیٹی دے ۔۔ جسے میں اتنی محبت سے پالوں گا کہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والے لوگ بھی تجسس میں مبتلا ہو جائیں کہ بیٹیاں کیا واقعی سکون ہوتی ہیں جو باذل شیرازی کے چہرے پر دیکھ رہا ہے ۔۔”
باذل پھر سے لہجے میں محبت لیے گویا ہوا تھا جبکہ معصومہ نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ لیا تھا
ایک خوبصورت رات ان دونوں کو ایک دوسرے کی قربت میں سرشار کر رہی تھی
//////////////////////////////
” ماہین آپ اکیلے اکیلے کیوں بیٹھی مسکرا رہیں ہیں ۔۔ ؟؟”
قائم جب کمرے میں داخل ہوا تو ماہین ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی خودبخود مسکرا رہی تھی قائم کی بات پر وہ چونکی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی معصومہ کی ایکسپیکٹ کرنے کی خبر انہیں ملی تھی اور وہ دونوں ہی بہت خوش نظر آ رہے تھے
” کچھ نہیں معصومہ کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔ سب لوگ کتنے خوش تھے نا گھر میں ۔۔ باذل بھائی بھی بہت خوش دیکھائی دے رہے تھے ۔۔ خبر ہی ایسی ہے ۔۔ “
ماہین ، قائم کی سمت رخ کرتی ہوئی اشتیاق سے بول رہی تھی
” ہاں ماشااللہ بہت عرصے بعد ایسی خوش خبری آئی ہے شیرازی ہاؤس میں ۔۔ “
” آپ بھی بہت خوش نظر آ رہے ہیں ۔۔ “
قائم کے مسکراتے چہرے پر نگاہیں جمائے وہ مسکرا کر بولی خوشی ان دونوں کے چہروں سے عیاں تھی
” ماموں بننے والا ہوں میں خوش کیوں نہ ہوں گا ۔۔ ؟ “
قائم ماہین کے دلکش سراپے کو دیکھتا کہہ رہا
” یہ بات تو ہے ۔۔ “
ماہین نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
” اب آپ یہ خبر کب دے رہیں ہیں مجھے ۔۔؟؟”
ماہین کی کمر کے گرد دونوں بازو حمائل کرتا وہ اسے قریب تر کرتا شوخ انداز میں پوچھا رہا تھا جبکہ ماہین اس کے اچانک ذومعنی انداز پر بوکھلا گئی اور شرماتی ہوئی بے اختیار نگاہیں جھکا گئی
” آئی لو یو ماہین ۔۔ “
ماہین کے کان میں سر گوشی کرتا وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا
///////////////////////////
” یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہیں آپ ۔۔ ؟ “
آج سب کے بہت اصرار پر باسط شیرازی ہاؤس ہی رکا تھا بلاشبہ باذل نے سچ کہا تھا وہ ان سب کی محبتوں سے اب خود کھچا چلا آتا تھا اور آج تو وہ ویسے بھی بہت خوش تھا کہ وہ چاچو بننے والا تھا اپنے کمرے کے ٹیرس پر کھڑا وہ سرسری سا آس پاس جائزہ لے رہا تھا جب لان میں کھڑی ہانیہ اسے دیکھائی دی وہ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اپنے کمرے سے نکلا اور لان میں پہنچا تھا جبکہ اس کی آواز پر ہانیہ چونکی تھی
” وہ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔ “
ان چند ماہ میں اب وہ تھوڑی مگر بات کر لیتی تھی باسط سے
” مجھے اس خوشی میں نیند نہیں آ رہی کہ میں چاچو بننے والا ہوں مگر ہانیہ آپ کو نیند کیوں نہیں آ رہی ۔۔ ؟”
ہانیہ سے تھوڑا فاصلہ رکھتا وہ مسکرا کر پوچھ رہا تھا
” مجھے ڈبل خوشی ہے کیونکہ میرا ڈبل رشتہ ہے ۔۔ میں تو خالہ بھی بننے والی ہوں اور پھوپھو بھی ۔۔ “
ہانیہ بھی اپنے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ سجائے شوخ انداز میں بولی
” ابھی آپ کو ٹرپل خوشی بھی ہوگی ۔۔ “
باسط نے بھر پور سنجیدگی سے کہا مگر اس کی آنکھیں شرارت کا پتہ دے رہیں تھیں
” کیا مطلب ۔۔ ؟”
ہانیہ نے ناسمجھی سے باسط کو دیکھتے ہوئے پوچھا
” مطلب ٹرپل رشتہ ٹرپل خوشی ۔۔ خالہ اور پھوپھو تو آپ پہلے ہی بننے والی ہیں میں تو آپ کو چچی کے رتبے پر بھی فائز کرنا چاہتا ہوں ۔۔”
باسط آس پاس دیکھتا اپنی مسکراہٹ دبا کر بولا جبکہ ہانیہ نے اسے گھور کر دیکھا اب وہاں رکنا ہانیہ کے لیے محال تھا اس لیے ایک لمحے سے پہلے اپنے کمرے کی جانب بھاگی پیچھے کھڑے باسط کا جاندار قہقہہ فضا میں بلند ہوا
/////////////////////////
آج ناول کے بارے میں تفصیلی رائے دیجئے گا آپ سب لوگ ۔۔ ایٹس مائی ہمبل ریکوئسٹ ☺☺❤❤
