Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 16

” یہ کیا کیا ہے تم نے ساجد ۔۔ ؟؟ ہاتھ کیوں اٹھایا ہے تم نے اس پہ ۔۔؟؟ “
معصومہ کے وہاں سے جانے کے بعد سب سے پہلے مظفر صاحب کا سکتہ ٹوٹا تھا غضب ناک تاثرات لیے وہ لاؤنج میں داخل ہوئے اور ساجد صاحب کی جانب بڑھے

” ابا جان دیکھا نہیں آپ نے کس طرح زبان چل رہی تھی اس کی ۔۔؟؟ باپ ہوں میں اس کا ۔۔ اگر بدتمیزی کرے گی تو ایسے ہی کروں گا میں ۔۔”
ساجد صاحب تو غصے سے پاگل ہو رہے تھے مظفر صاحب کو دیکھتے طیش میں کہنے لگے

” بکواس بند کرو اپنی ۔۔ یہ جو تم نے کیا ہے نا اس کے بعد جانتے ہو قائم اور باذِل کیا کریں گے تمہارے ساتھ ۔۔؟؟ اپنے بیٹوں کو تو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو نا ۔۔!!”
مظفر صاحب کی گرجدار آواز لاؤنج میں گونج رہی تھی جبکہ ان کی آواز سنتے ہی سب خواتین وہاں سے دبے پاؤں نکلیں تھیں اب لاؤنج میں صرف مظفر صاحب اور ان کے تینوں بیٹے تھے

” ابا جان پہلے بیٹی ہے وہ میری اور پھر کسی کی بہن اور بیوی ہے ۔۔ !!”
ساجد صاحب ماتھے پر بل ڈالے روعب دار آواز میں بولے

” ہممم یہ بات اپنے بیٹے کے سامنے بولنا تو مانو میں تمہیں ۔۔ پھر وہ تمہیں بتائے گا اس کا جواب اور پھر کیا باذِل کو نہیں جانتے تم ۔۔!! اگر اس لڑکی نے بتا دیا تو وہ دونوں آسمان سر پر اٹھا لیں گے ۔۔”
مظفر صاحب بیٹے کو آئینہ دیکھاتے غرائے تھے جبکہ انہیں حقیقتاً پریشانی ہو رہی تھی کہ اگر باذِل اور قائم کو یہ ہنگامہ معلوم ہوا تو جانے وہ دونوں کیا کر گزریں

” ابا جان آپ اپنے پوتوں کے آگے اپنے بیٹوں کو تو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں آپ کی شہ پر وہ دونوں باپ کو باپ سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔۔ ساجد نے جو بھی کیا بلکل ٹھیک کیا ہے وہ لڑکی اسی قابل تھی اس کا دماغ اس کے بھائی نے تو خراب کیا ہی ہوا تھا اب باذِل صاحب نے بھی مزید سر پر چڑھا دیا ہے اس کل کی لڑکی کو ۔۔ عابد کی بیٹیاں بھی تو ہیں ان کی تو جرآت نہیں ہوتی کسی کے سامنے زبان کھولنے کی مگر وہ لڑکی ۔۔ !!”
ماجد صاحب تو پہلے ہی تلملائے ہوئے تھے مزید مظفر صاحب کی اس لڑکی کی طرف داری کرنا انہیں سخت ناگوار گزرا تھا چہرے پر ناگواریت لیے بولے

“تم لوگ اس قابل بھی ہو کہ کسی لائق سمجھا جائے تم لوگوں کو ؟؟ سوائے عیاشی کے کیا کیا ہے ساری زندگی تم تینوں نے ۔۔؟؟ آج اگر میں ہاتھ کھینچ لوں تم تینوں سے تو سڑک پہ آ جاؤ گے تم لوگ۔۔”
مظفر صاحب بے حد ہتک آمیز انداز میں دھاڑے تھے وہ خود چاہے معصومہ کو سخت ناپسند کرتے تھے مگر ان کے دونوں پوتوں کے لیے وہ بہت اہم تھیں اگر آج ان کی موجودگی میں معصومہ کے ساتھ یہ سب ہوا تھا تو یہ طے تھا کہ ان کے پوتے سب سے پہلے ان سے باز پرس کریں گے

” اور آپ کے پوتے !! وہ تو جیسے آپ کا نام پوری دنیا میں روشن کر رہے ہیں ۔۔ ارے وہ باذل جانے کن کن غنڈے اور خطرناک قسم کے گروہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جانے دن رات کہاں آوارہ گردی کرتا پھرتا ہے۔۔ وہ کیا سمجھتا ہے میں کچھ نہیں جانتا ۔۔؟ اور قائم وہ دو ٹکے کی سرکاری نوکری کر رہا ہے ایف آئی اے کا معمولی آفیسر ۔۔ مشہور سیاست دان مظفر شیرازی کے دونوں پوتوں کی حقیقت ہے یہ اور ہم تینوں !!جو آپ کی نظر میں کچھ نہیں ہیں وہ ملک کے سب سے بڑے جیولر ، شیرازی جیولر کے مالک ہیں ہم تینوں ۔۔ “
ماجد صاحب تو آج پھٹ ہی پڑے تھے وہ تینوں بیٹے جو ہمیشہ باپ کے سامنے کچھ نہیں بولتے تھے آج ان کی برداشت ختم ہو گئی تھی

” بکواس بند کرو جیسے میں تو کچھ جانتا ہی نہیں ہوں رات و رات اتنا کام کیسے چل گیا تم لوگوں کا ۔۔ ابھی چند سال پہلے کی بات ہے ۔۔ میرے سامنے ہاتھ پھیلاتے تھے پیسوں کے لیے ۔۔اور اب !!! گوڈے گوڈے حرام میں ڈوبے ہوئے ہو تم لوگ ۔۔ اور وہ جن میں سے ایک کو آوارہ سمجھتے ہو نا تم اور دوسرے کو معمولی آفسر ۔۔!! وہ دونوں کیا ہیں ایک دن تم تینوں کو معلوم ہو جائے گا ساری اکڑ ختم ہو جائے گی تم تینوں کی ۔۔”
مظفر صاحب اپنے تینوں بیٹوں کو سرخ انگارے آنکھوں سے دیکھتے اپنی بھاری روعب دار آواز میں دھاڑ رہے تھے

جبکہ مظفر صاحب کی بات سن کر ان تینوں کو ہی پچھلی بار باذِل کی کاروائی یاد آئی تھی کس طرح چند گھنٹوں میں ہی ان کی کئی شاپس سیل کر دی گئیں تھی

” بھائی صاحب ، ابا جان بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ کو ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا اس لڑکی پر۔۔ “
عابد صاحب خاصے شاطر آدمی تھے معاملے کی نزاکت سمجھتے ہوئے اپنے تئیں پینترا بدلا تھا اور باپ کی پیروی کرتے ہوئے بولے

” ساری زندگی گزر گئی تم لوگوں کی مگر عقل نہیں آئی تم لوگوں کو۔۔ جانے کس گناہ کی سزا مل رہی ہے تم تینوں کی صورت میں مجھے ۔۔”
مظفر صاحب ایک سخت نگاہ ان تینوں کے پریشان چہروں پر ڈالتے ایک بار پھر غرائے تھے

” ابا جان غلطی ہو گئی ساجد سے ۔۔ مگر یہ بات باذِل اور قائم تک نہیں پہنچنی چاہیے ۔۔ مجھے امید ہے آپ بات کو سمبھال لیں گے!! ۔۔”
ماجد صاحب کا غصہ اترا تو وہ بھی معاملے کی سنگینی سمجھنے کے قابل ہوئے وہ اپنے بیٹے کو تو اچھی طرح جانتے تھے وہ کبھی بھی کسی کو بخشتا نہیں تھا

” یہ سب پہلے سوچنا تھا کہ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے ۔۔ اس وقت تو غصے میں پاگل ہو گئے تھے تم بھی ۔۔ روک نہیں سکتے تھے ساجد کو ۔۔ ؟؟”
مظفر صاحب نفی میں سر ہلاتے لہجے میں ناگواریت لیے خاصا بلند آواز میں گویا ہوئے

” ابا جان میں معصومہ کو سمجھا لوں گا وہ ۔۔ قائم اور باذِل کو کچھ نہیں بتائے گی ۔۔”
ساجد صاحب کو بھی اب احساس ہو رہا تھا کہ وہ غصے میں کچھ زیادہ ہی کر گئے مظفر صاحب کو دیکھتے انہوں نے خود کو تسلی دی تھی پریشانی وہاں موجود چاروں نفوس کے چہروں سے عیاں تھی

” تم تو رہنے دو ۔۔ میں خود دیکھ لوں گا اس لڑکی کو ۔۔ “
مظفر صاحب ایک خائف نگاہ اپنے تینوں بیٹوں کے پریشان چہرے پر ڈالتے وہاں سے چلے گئے

” پچھلی بار اس نے ہمارا کروڑوں کا نقصان کروایا تھا ۔۔ ! جانے اس بار وہ کیا کرے گا ۔۔؟؟”
باپ کے جاتے ہی ساجد صاحب پریشانی سے اپنی پیشانی ہاتھوں سے مسلتے بولے

” یہ پہلے سوچتے تم ۔۔!! اگر مزید نقصان ہوا کاروبار میں تو ابا جان کا کہا سچ ہو جائے گا سڑک پر آ جائیں گے ہم تینوں ۔۔اور اس بار تو ابا جان بھی ساتھ نہیں دیں گے ہمارا ۔۔”
ماجد صاحب لاؤنج میں پریشانی سے چکر کاٹتے ہوئے ساجد صاحب کو غصے سے دیکھتے غرائے

” بھائی اس وقت غصہ آ گیا تھا مجھے !!۔۔ “
ساجد صاحب بھرپور سنجیدگی سے گویا ہوئے تھے وہ تینوں اب حقیقتاً بےحد پریشان تھے

///////////////////////////

وہ کتنی مضبوطی سے سب کے سامنے جواب دے کر آ گئی تھی مگر کمرے میں آ کر دروازہ بند کر کے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر جیسے ہی فرش پر بیٹھی تو گھٹ گھٹ کر بے آواز رونے لگی تھی
کیا ایسے ہوتے ہیں باپ ؟؟
کیا باپ گھنے درخت کی مانند نہیں ہوتے اولاد کے لیے ؟؟
دنیا کی سرد و گرم سے بچاتے ہیں باپ تو !!
اس کا باپ کیسا تھا جس نے کبھی شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر نہیں رکھا تھا !!
اس کی ماں چھین لی اس سے !!
تڑپا تڑپا کر مار دیا اس کی ماں کو ۔۔!!
کسی کو معاف نہیں کروں گی میں ۔۔ سب برے ہیں ۔۔ اور سب سے برا وہ ہے ۔
جس نے میرے دل میں اپنی محبت کا بیج بویا ہے ۔۔ ہاں وہ سب سے برا ہے ۔۔ وہ نہیں آیا آج ۔۔
آج بھی سب کے سامنے اس کے باپ نے اسے کس جرم کی سزا دی تھی وہ نہیں جانتی تھی!!
لیکن اس گھر میں یہی تو ہوتا تھا ۔۔ تو مجھے اتنا دکھ کیوں ہو رہا ہے۔۔؟؟

” ماما آپ بہت یاد آتی ہیں مجھے ۔۔!! کیوں چھوڑ کر چلیں گئیں مجھے ۔۔ آپ کو پتہ ہے بابا نے کبھی پیار نہیں کیا مجھے ۔۔ اور بھیا !! بھیا بھی نہیں تھے آج ۔۔ اور وہ ۔۔!! وہ بھی نہیں آیا ۔۔ کیوں ؟؟
وہ کیوں نہیں آیا آج ؟؟ اس نے تو کہا تھا کہ جب میں کہوں گی وہ تب ضرور آئے گا ۔۔ پھر کیوں ؟؟
کیوں نہیں آیا آج وہ ۔۔ ؟
وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا ۔۔ ہاں وہ محبت نہیں کرتا مجھ سے ۔۔ اس نے صرف میری انا توڑنے کے لیے شادی کی ہے ۔۔ اور صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ۔۔!!
اور وہ کامیاب ہو گیا اپنے مقصد میں ۔۔
اگر وہ مجھ سے محبت کرتا ہوتا تو کبھی اظہار تو کرتا مگر نہیں ۔۔ اس نے تو آج تک کبھی نہیں کہا کہ محبت کرتا ہے مجھ سے !!
مجھے آج وہ کیوں یاد آ رہا ہے ۔۔ ؟؟
مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ اس کی بھی نہیں ۔۔ “

معصومہ اپنا بے تحاشہ دُکھتا سر ہاتھوں میں گرائے گھٹی گھٹی آواز میں رو رہی تھی اسے اپنی ماما ، اپنا بھیا اور باذِل شدت سے یاد آ رہے تھے

مگر اسے سب سے زیادہ شکوے باذل سے ہو رہے تھے اور وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اسے اس وقت باذل کی اتنی شدت سے یاد کیوں آ رہی تھی آج دوپہر جب اس کی باذل سے میسج پر بات ہو رہی تھی تو اسے لگا تھا وہ آج اس کے کہنے پر ضرور آئے گا مگر وہ نہیں آیا تھا

اسے روتے ہوئے دوپہر سے رات ہو گئی تھی اس کا سر بہت بری طرح درد کر رہا تھا وقفے وقفے سے دروازے پر دستک ہو رہی تھی مگر وہ نظر انداز کر رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی پھوپھو یا ہانیہ ہو گی جو اسے تسلی دینے کی غرض سے آئیں ہوں گی مگر وہ معصومہ شیرازی تھی اسے کسی کی ہمدردی کی ضرورت درپیش نہیں تھی وہ خود کو سمبھالنا اچھے سے جانتی تھی اسے ہمت کبھی نہیں ہارنی تھی

اپنے بے تحاشہ درد کرتے سر کو نظر انداز کرتی وہ اٹھی اور واشروم کی جانب بڑھی چند لمحوں میں فریش ہو کر باہر نکلی اور ڈریسنگ ٹیبل کے آگے جا کھڑی ہوئی اور خود کا شیشے میں جائزہ لینے لگی
دایاں رخسار بائیں رخسار کی نسبت خاصا سوجا ہوا تھا اور انگلیوں کے نشان واضح طور پر نظر آ رہے تھے آنکھوں کے ڈورے رونے کے باعث بےحد سرخ ہو رہے تھے خود کو دیکھ کر اس نے ایک گہرا سانس لیا اور نیلے رنگ کا دوپٹہ کاندھے سے اٹھا کر سر پر اچھی طرح اوڑھ لیا
سامنے میز پر پڑا اپنا موبائل اٹھاتے وقت اس کے دل نے دعا کی تھی کہ باذل کا رپلائے آیا ہو مگر اسے افسوس ہوا تھا کہ باذِل کا رپلائے ابھی تک نہیں آیا تھا
موبائل ہاتھ میں لے کر وہ دروازے کی جانب بڑھی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی ابھی بھی اس کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا مگر اپنا درد نظر انداز کرتی وہ زینے اترنے لگی جب نوری اسے حیران پریشان سی سامنے سے آتی دیکھائی دی

” چھوٹی بی بی آپ کو کچھ چاہیے تھا ۔۔ ؟؟ حکم کریں جی ۔۔؟؟”
معصومہ تک پہنچ کر نوری اس کا سوجا چہرہ دیکھتی پریشانی سے پوچھنے لگی

” نہیں کچھ نہیں ۔۔! “
وہ عام سے انداز میں نوری کو جواب دیتی آگے بڑھ رہی تھی جب نوری مؤدب سی اس کے پیچھے چلنے لگی

” بی بی جی ۔۔حکم کریں میں کھانا لے آؤں آپ کے لیے ۔۔؟؟”
نوری معصومہ کے پیچھے چلتی ادب سے پوچھنے لگی تو معصومہ آخری سیڑھی پر رک کر اس کی جانب مڑی

” کہاں ۔۔؟”
معصومہ نے اپنی پیشانی پر بل ڈالے پوچھا

” جی جہاں آپ کہیں ۔۔!! آپ کے کمرے میں ۔۔؟؟”
نوری اس کے سوال پر بوکھلا گئی جلدی سے وضاحت پیش کرنے لگی

” کیوں میں نے تو نہیں کہا یہ تم سے ۔۔ مجھے تو سب کے ساتھ کھانا کھانا ہے ۔۔”
نوری کو دیکھتی وہ جواب دے کر آگے بڑھ گئی جبکہ پیچھے نوری بے یقینی سے اس کی پشت کو تکتی رہ گئی

//////////////////////////

وہ آہستگی سے مگر مضبوط قدم اٹھاتی ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی تو دادا جان اپنی سربراہی کرسی پر براجمان تھے ان کے دائیں جانب ساجد صاحب اور ان کے ساتھ ماجد صاحب براجمان تھے جبکہ دادا جان کی بائیں والی کرسی پر عابد صاحب براجمان تھے جبکہ باقی خواتین وہیں کھڑی تھی یہ دیکھ کر معصومہ نے ایک گہرا سانس لیا اور خود کو کمپوز کیا

” السلام علیکم ۔۔!!”

ڈائننگ ہال میں داخل ہو کر اس نے سب کو دیکھتے ہلکا سا مسکرا کر تھوڑی بلند آواز میں سلام کیا جبکہ معصومہ کی آواز پر مظفر صاحب سمیت سب نے اسے چونک کر دیکھا یقیناً دوپہر کو ہوئے واقعہ کے بعد اس کی یہاں موجودگی غیر متوقع تھی اسی حیرت کے باعث کسی نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا تو وہ کسی پر بھی دوسری نظر نہ ڈالتے ہوئے قدم قدم چلتی عابد صاحب کے پاس آکر رکی

” چچا جی یہ میرے شوہر کی جگہ ہے ۔۔ یہاں بیٹھنے کا حق میرا ہے ۔۔ آپ کسی دوسری جگہ پر بیٹھ جائیں ۔۔ !!”
عابد صاحب کی آنکھوں میں دیکھتی وہ دل جلانے والی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اتنی بلند آواز میں بولی کہ ہال میں موجود ملازمین نے بھی اس کو چونک کر دیکھا جبکہ باقی گھر والی کی طرح مظفر صاحب بھی معصومہ کو حیرت اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت لیے دیکھ رہے تھے

” مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے مہربانی کرکے ذرا جلدی اٹھ جائیں ۔۔ “
عابد صاحب کو ہنوز خاموشی سے اپنی جانب تکتا پا کر وہ لہجے میں بھرپور جھنجھلاہٹ لیے بولی تو وہ ہوش کی دنیا میں آئے اور جب حواس بیدار ہوئے تو اپنی بے عزتی کا شدت سے احساس ہوا چہرے کا رنگ یکدم غصے کے باعث سرخ پڑا خونخوار نگاہوں سے معصومہ کو گھورا لیکن وہ اس وقت کچھ نہیں کر سکتے تھے پہلے کا معاملہ ابھی سلجھا نہیں تھا مزید وہ معصومہ کو کچھ کہہ کر اور معاملہ بگاڑنا نہیں چاہتے تھے اسی لیے شرمندگی سے سر جھکائے اٹھے اور ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے لگے

” یہاں نہیں چچا جی ۔۔ یہاں میرے ساتھ تائی ماں بیٹھیں گیں ۔۔ آپ کسی اور کرسی پر بیٹھ جائیں ۔۔”
عابد صاحب کو ساتھ والی کرسی پر بتا دیکھ کر وہ پھر سےاٹل انداز میں ان کو دیکھتہ گویا ہوئے تو عابد صاحب دانت پیس کر دو کرسی چھوڑ کر بیٹھ گئے جبکہ معصومہ نے وہاں ساکت کھڑیں شیرین صاحبہ کو ہاتھ سے پکڑ کر کرسی پر بیٹھایا اور خود باذِل کی کرسی پر بیٹھ گئی جبکہ مظفر صاحب لاتعلق بنے اپنی پلیٹ پر جھکے کھانا کھا رہے تھے

” ارے بابا کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔۔؟؟ دادی جان ماں ہیں آپ کی اور آپ کی ماں کھڑی ہیں اور آپ آرام سے بیٹھے کھانا کھا رہےہیں چلیں جگہ دیں دادی جان کو آج بھیا کی جگہ پر بیٹھیں گی وہ ۔۔”
معصومہ کرسی پر بیٹھتے ہی سامنے بیٹھے اپنے باپ کو دیکھتی عام سے انداز میں بولی
تو ساجد صاحب نے پھٹی آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھا اور پھر مظفر صاحب کو دیکھا جنہوں نے آنکھوں کے اشارے سے اٹھنے کا کہا تو ناچار انہیں بھی وہ جگہ خالی کرنا پڑی جبکہ معصومہ نے مسکرا کر دادی جان کو دیکھا اور کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا دادی جان کے بیٹھنے کے بعد اس نے چچی اور پھوپھو کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا جو ساکت کھڑی ساری کاروائی دیکھ رہیں تھیں اور پھر معصومہ پرسکون ہو کر کھانا کھانے لگی جبکہ مظفر صاحب نے کئی بار معصومہ کو مخاطب کرنے کی کوشش کی مگر جانے کیا ہوا کہ ان جیسے روعب دار شخص میں ہمت ہی نہ ہوئی کہ وہ معصومہ سے آج دوپہر ہوئے واقعہ کا ذکر قائم اور باذل سے کرنے سے منع کرتے یہاں تک کہ وہ جس طرح سر بلند کر کے مضبوط قدموں سے آئی تھی اسی طرح کھانا کھا کر چلی بھی گئی مگر وہ اس بسے باتت نہ کر سکے جبکہ ساجد ، عابد اور ماجد صاحب نے سوالیہ نگاہوں سے باپ کو دیکھا جن میں یہ سوال واضح تھا کہ معصومہ سے بات کیوں نہیں کی۔۔

/////////////////////////

معصومہ کے اٹھ کر جانے کے بعد مظفر صاحب بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے اور پھر پے در پے ماجد صاحب ، ساجد صاحب اور عابد صاحب بھی وہاں سے چل دیے اب ہال میں صرف گھر کی خواتین موجود تھیں

” اماں یہ سب ٹھیک نہیں ہوا ۔۔ !!”
نوشین صاحبہ کی بھرائی ہوئی آواز نے ڈائننگ ہال کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا تھا وہ گم صم بیٹھی دادی جان کو دیکھتی ہوئی بولیں تھیں جب پر دادی جان نے چونک کر نا سمجھی سے انہیں دیکھا

” کیا ٹھیک نہیں ہوا ۔۔؟؟”
دادی جان نے ماتھے پر بل ڈالے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے پوچھا

” معصومہ کی بات کر رہی ہوں میں ۔۔ “
نوشین صاحبہ نےبے بسی سے کہا

” ہمم ۔۔!!”
دادی جان نے ایک ٹھنڈی آہ بھری تھی

” اگر وہ بچی زبان سے اپنی تکلیف بیان نہیں کرتی اور سب کے سامنے آنسو نہیں بہاتی تو اس کا مطلب یہ تو نہ ہوا کہ اسے کبھی دُکھ نہیں ہوتا ۔۔ دیکھا آپ نے کیسا چہرہ سوجا ہوا تھا اس کا اور آنکھیں کتنی سرخ ہو رہیں تھیں ۔۔ !!”
نوشین صاحبہ اپنے دوپٹے سے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھتی ہوئی بھرائی ہوئی آواز میں بولیں تھیں جبکہ ان کی بات پر تائی جان اور چچی جان کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں تھیں

” ہمم مجھے بھی وہ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی ۔۔ تم ایسا کرنا تھوڑی دیر اس کے پاس چلی جاؤ ۔۔ اور چہرے پر گرم کپڑے سے سکائی کردینا ۔۔ دودھ دے کر سلا دینا اسے ۔۔”
دادی جان کی آنکھوں کے سامنے معصومہ کا اداس چہرہ آیا تھا کچھ دن پہلے والی شادابی اور خوشی اس کے چہرے پر چند گھنٹوں میں ہی پھیکی پڑ گئی تھی

” اماں جان میں گئی تھی مگر اس وقت اس نے دروازہ نہیں کھولا تھا میرے خیال سے اسے ابھی اکیلے چھوڑ دینا چاہیے وہ صبح تک ٹھیک ہو جائے گی ۔۔”
وہ معصومہ کو اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ اس وقت اکیلا رہنا چاہتی ہے وہ کسی کی بھی ہمدردی لینے کی قائل کبھی نہیں رہی تھی اسے خود کو سنبھالنا آتا تھا اسی لیے دادی جان کی بات کی نفی کرتے ہوئے بولیں

” ہمم ٹھیک ہے ۔۔سوہنا رب کچھ رحم ڈالے اس گھر کے مردوں پر ۔۔”
دادی جان نے چہرہ بلند کرکے خدا سے التجا کی

” اتنے سالوں میں تو آیا نہیں رحم اب کیا آئے گا اماں جی ۔۔ آج معصومہ کو دیکھ کر اس کی ماں کی یاد آ گئی ۔۔ وہ بھی ایسے ہی ڈٹ کر کھڑی ہو جاتی تھی ظلم کے خلاف ۔۔”
شیرین صاحبہ بھیگی ہوئی آواز میں بولیں تھیں

” مگر کیا آپ کو یاد نہیں بھابھی جان ۔۔؟؟ آخر میں کیا ہوتا تھا ان کے ساتھ ۔۔ “
چچی جان کچھ سوچتے ہوئے بولیں تھی

” ختم کرو یہ باتیں اور جا کر اپنا اپنا کام کرو سب ۔۔ “
دادی جان نے ان کی بات نظرانداز کرکے اس بار سختی سے سب کو حکم دیا تو وہ سب وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں

//////////////////////////

معصومہ کمرے میں آنے سے پہلے فرسٹ ایڈ باکس سے نیند کی گولی لے کر آئی تھی اور آتے ہی کھا کر لائٹ آف کر کے اپنا موبائل لے کر بیڈ پر لیٹ گئی ایک بار پھر ایک امید سے موبائل اٹھایا کہ شاید باذل کا کوئی رپلائے آیا ہو مگر ایک مرتبہ پھر اسے مایوسی ہوئی تھی یہ دیکھ کر کہ باذل کا کوئی جواب نہیں آیا
جانے کیوں اسے ایک بار پھر شدت سے رونا آیا تھا بے تحاشہ درد کرتے سر کو اپنے ہاتھوں سے دباتی وہ سسک رہی تھی اس خوبصورت کمرے کا ماحول آج بہت افسردہ سا ہو رہا تھا
آج وہاں معصومہ کی دبی دبی سسکیاں گونج رہیں تھیں جو ماحول کو سوگوار بنا رہیں تھیں بار بار وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے سختی سے اپنے گالوں کو بھیگوتے آنسو صاف کر رہی تھی جس کی وجہ سے اسے اپنے دائیں رخسار پر بے حد درد کا احساس ہوتا تھا
مگر فی الحال اسے شدت سے باذِل کی یاد آ رہی وہ اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی کہ آخر وہ اتنی بےچین کیوں ہو رہی تھی

” جب تمہیں نہیں آنا تھا تو کہہ دیتے مجھے ۔۔ !! میں ہی پاگل ہوں جو سمجھ رہی تھی تم آج ضرور آؤ گے ۔۔ تم نے ٹھیک کہا تھا ہمیں ایک دوسرے سے اتنی امیدیں نہیں رکھنی چاہیے کہ اگر ایک شخص امید پر پورا نہ اترا تو دوسرے کو افسوس ہو ۔۔ “
وہ روتی سسکتی جانے کب نیند کی وادیوں میں اتری کہ اسے خبر ہی نہ ہوئی

//////////////////////////

دوپہر میں جب وہ تھوڑا فارغ ہوا تھا اور گھڑی میں وقت دیکھ کر اندازہ لگایا تھا کہ اس وقت معصومہ یونیورسٹی سے آ چکی ہوگی اسی اندازے کی بنا پر اس نے معصومہ کو میسج کیا تھا اور چند لمحوں بعد معصومہ کا جواب دیکھ کر اس کے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ کھلی تھی مگر معصومہ کے زیادہ بات نہ کرنے سے اسے اندازہ تھا کہ وہ اس سے خفا ہے
وہ چاہ کر بھی اتنے دن گھر نہیں جا سکا تھا مگر جب معصومہ نے کہا کہ آج ہی آ جاؤں تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آج ہی شیرازی ہاؤس جائے گا اسے اپنی ‘ جاناں ‘ کی بے قراری خاصی پسند آئی تھی وہ خود بھی جانے کیوں اس کی جانب کھچتا چلا جا رہا تھا ابھی بھی وہ کچھ ضروری کام نبٹا کر جلد از جلد شیرازی ہاوس جانے کا ارادہ رکھتا تھا اسی لیے اس نےمیسج پر معصومہ کو نہیں بتایا تھا بلکہ وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا جلدی سب کام کرنے کے باوجود اسے خاصی دیر ہو گئی تھی
جب اس نے شیرازی ہاؤس میں اپنے قدم رکھے تو اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے ہر سو خاموشی نے اپنا ڈیرہ جما رکھا تھا وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا لاؤنج میں داخل ہوا تھا اس وقت شیرازی ہاؤس کی تمام بتیاں بجھ چکیں تھیں زینے چڑھنے کے بعد وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا کمرے کے سامنے رک کر دروازے کا ہینڈل گھمانے پر بھی جب دروازہ نہ کھلا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ معصومہ دروازہ لاک کرکے سو چکی ہے اپنی بلیک لیدر کی جیکٹ کی اندر کی جیب سے ایک چابی نکالی اور لاک میں گھمائی تو دروازہ کھل گیا
دروازہ کھول کے جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو کمرے میں بلکل اندھیرا تھا اسے کافی حیرت ہوئی تھی کیونکہ معصومہ کو تو نائٹ بلب آن کر کے سونے کی عادت تھی فوراً اس نے اپنے موبائل کی ٹارچ آن کی اور سوئچ بورڈ سے نائٹ بلب آن کیا
وہ اسے سر سے پاؤں تک چادر میں لپٹی ہوئی بیڈ پر سمٹی ہوئی لیٹی نظر آئی
معصومہ کو اس طرح لیٹے دیکھ کر جانے کیوں اسے کچھ عجیب سا احساس ہوا تھا

” ایسے کیوں لیٹی ہوئی ہے یہ ۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا اس کی ۔۔؟”
وہ پریشانی کے عالم میں معصومہ کی جانب بڑھا تھا

//////////////////////////

اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں اور پلیز شارٹ مت کہیے گا کیونکہ اتنی ہی لکھ سکی ❤