Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ناول : تو رنگ دے
از قلم : فاطمہ

قسط نمبر 7

وہ تیز تیز زینے طے کرتی ہانپ سی گئی تھی

” نوری رکو ۔۔ !!”
گہرے گہرے سانس لیتی وہ نوری کے سر پر پہنچ کر بولی تھی جو ٹرے تھامے بس دروازے پر دستک دینے ہی لگی تھی

” جی حکم کریں چھوٹی بی بی ۔۔؟؟”
نوری کا ہاتھ خلا میں ہی ملحق رہ گیا وہ ہانپتی ہوئی گہرا سانس لیتی معصومہ کو دیکھ کر کچھ پریشانی سے مگر ادب سے بولی

” یہ مجھے دو ۔۔ اور تم جاؤ یہاں سے ۔۔”
معصومہ اس کے ہاتھ سے ٹرے لے کر مستحکم انداز میں گویا ہوئی

” چھوٹی بی بی جی ۔۔ آپ ایسے نہ کہیں جی ۔۔ یہ میرا کام ہے ۔۔ میں کر دیتی ہوں ۔۔”
نوری معصومہ کے شفاف چہرے کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی تھی اسے معصومہ ہمیشہ سے ہی بہت پیاری اور اچھی لگتی تھی جو بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی اب تو اسے اور بھی اچھی لگنے لگی تھی آخر کو اب وہ اس کے مُرشد صاحب کی بیوی جو تھی

” نہیں ۔۔ میں نے کہا نا میں لے جاؤں گی ۔۔ تم جاؤ ۔۔”
معصومہ اب تھوڑی آنکھوں میں سختی لیے بولی تھی

” چھوٹی بی بی جی مرشد صاحب غصہ ہوں گے ۔۔ کوئی بھی کام اگر ان کے کہے کے مطابق نہ ہو تو جی وہ غصہ کرتے ہیں ۔۔ انہوں نے مجھے کہا ہے تو اگر آپ لے کر گئیں چائے تو وہ مجھ پر غصہ کریں گے ۔۔”
اب نوری کے لہجے میں حقیقتاً فکرمندی اور پریشانی تھی وہ کئی سالوں سے باذِل کی خدمت گزار تھی باذِل کے دھوپ چھاؤں جیسے مزاج سے اچھی طرح واقف تھی

” نوری میں نے کہا نا تم جاؤ ۔۔ کچھ نہیں کہیں گے وہ تمہیں ۔۔”
معصومہ اس کی بات پر کان نہ دھرتے ہوئے نرمی سے مگر سرد انداز میں بولی

” جج جی ۔۔”
نوری بے بسی سے اسے دیکھتی وہاں سے چلی گئی

” ہاں یہ موقع ٹھیک ہے ۔۔ ابھی بات کر لیتی ہوں ۔۔ کیونکہ باذِل سے ہی بات کرنی ہو گی ۔۔ اور کوئی راستہ نہیں ہے میرے پاس ۔۔ ابھی جو ہوا اس کے بعد دادا جان تو منع کر دیں گے ۔۔ اور بھیا بھی پتہ نہیں کب آئیں گے ۔۔ کل پہلی کلاس ہے میری ۔۔ پہلے دن ہی نہ گئی تو ۔۔!!”
” ہاں باذِل منع نہیں کرے گا ۔۔ وہ اتنا بھی برا نہیں ہے جتنا لگتا تھا ۔۔ بھائی صحیح کہتے تھے اس کے بارے میں ۔۔ ظاہر ہے بھیا نے اگر اسے میرے لیے چُنا ہے تو کچھ سوچ کے ہی کیا ہے ۔۔ “
پُر سوچ انداز میں ہی اس نے دروازے پر دستک دی

چند ساعتوں بعد باذِل نے اجازت دی تھی تو وہ اپنے خشک لبوں کو زبان سے تر کرتی دروازہ گھسیٹی اندر داخل ہوئی مگر سگریٹ کی بو نے اسے ناک پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیا باذِل صوفے پر بیٹھا سیگریٹ کے کش لے رہا تھا کہ اس کی نگاہ معصومہ پر پڑی معصومہ کو دیکھتے ہی اس کے ماتھے پر شکن ابھرے ، آنکھیں سرخی مائل ہوئیں
جبکہ معصومہ ٹرے میز پر رکھتی ایک طرف کھڑی ہو گئی جبکہ ایک ہاتھ ہنوز ناک پر تھا

” تم کیوں لے کر آئی ہو چائے ۔۔؟؟ میں نے نوری کو کہا تھا ۔۔”
وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بول رہا تھا اس کی گردن کی تنی رگیں اور آنکھوں کی سرخی ، اس بات کی گواہ تھی کہ وہ کافی ضبط کر رہا تھا معصومہ اس کو دیکھتی نا محسوس انداز میں دو قدم پیچھے ہوئی اس کے انداز پر جانے کیوں وہ سٹپٹا گئی تھی جبکہ باذِل اب سگریٹ ایش ٹرے میں مسل چکا تھا

” وو وہ میں نے نوری کو منع کر دیا ۔۔ میں روم میں آ رہی تھی تو سوچا خود لے آؤں ۔۔ “
معصومہ حلق تر کرتے ہوئے انگلیاں آپس میں مروڑتی آہستگی سے بولی

” ہممم ٹھیک ہے اب جاؤ ۔۔!!۔۔”
باذِل کی بھاری سرد آواز کمرے میں گونجی
جبکہ معصومہ کو اس کا اندازہ عجیب لگا

” ممم میں کیوں جاؤں ۔۔؟؟ مطلب یہ میرا بھی کمرہ ہے ۔۔ آپ مجھے ایسے جانے کے لیے نہیں کہہ سکتے ۔۔ اگر آپ کو تنہائی چاہیے تو آپ چلے جائیں روم سے۔۔”
معصومہ سارے لحاظ بلائے طاق رکھتی ہوئی دبی دبی آواز میں غرائی اسے باذِل کا سرد انداز پتہ نہیں کیوں برا لگا تھا یکدم اسے غصہ آیا تھا

جبکہ اس کی اونچی آواز سن کر باذِل نے ٹیبل پر رکھے اپنے پاؤں اٹھائے اور غضب ناک تاثرات لیے اس تک پہنچا اور سختی سے اس کے بازو اپنے شکنجے میں لے لیے وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ معصومہ کو اس کی سانسوں سے سگریٹ کی مہک محسوس ہوئی

” خبردار تمہاری آواز ذرا سی بھی بلند ہوئی ۔۔ یا اس کمرے سے باہر گئی تو زبان کھنچ لوں گا تمہاری ۔۔ “
اس کی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑے وہ اس کے نازک بازؤوں سے دبوچے ہوئے دھاڑا جبکہ پکڑ کافی حد تک سخت تھی بے ساختہ معصومہ کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی

” چچچ چھوڑیں مجھے ۔۔ یہ ٹھیک نہیں کر رہے آپ ۔۔”
معصومہ درد برداشت کرتی بمشکل بول سکی جبکہ اس کی آنکھیں من من پانی سے بھر گئیں

” میں نے کیا کہا تھا ۔۔؟؟ تمیز سے بات کیا کرو ۔۔ سمجھ نہیں آئی تھی تمہیں میری بات ۔۔ ؟؟”
اب اس نے معصومہ کے دونوں بازو اس کی پشت پر لے جا کر جکڑے اور معصومہ کو اپنے مزید قریب کیا جبکہ اس کا لہجہ مزید سخت ہوا تھا

” آآ آپ ایسا سلوک نہیں کر سکتے میرے ساتھ ۔۔ ییی یہ میرا بھی کمرہ ہے ۔۔ آپ مجھے یوں نکل جانے کا کہیں گے تو میں ایسے ہی بولوں گی ۔۔”
وہ اس کی گرفت میں مچل رہی تھی مزید باذِل کے وجود سے آنے والی پرفیوم اور سگریٹ کی بو اس کے حواسوں پر سوار ہو رہی تھی مگر اپنی کانپتی ٹانگوں پر قابو پاتی وہ نگاہیں جمھکا کر بمشکل بول پا رہی تھی

” بحث کر کے مزید غصہ دلا رہی ہو تم مجھے ۔۔”
جذبات سے عاری انداز اپنائے ہوئے وہ اس کے بے داغ چہرے کو دیکھتے ہوئے غرایا

” مم میں بحث نہیں کر رہی ۔۔ “
وہ اب مدھم آواز میں بولی تھی اپنی طرف سے باذِل کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر کے اب وہ واقعی ہانپ گئی تھی اس کے بازو شدید دکھ رہے تھے جیسے خون جم گیا ہو اس لئے اب اس نے مزاحمت کرنا چھوڑ دی

” تو پھر کیا کر رہی ہو ۔۔؟؟”
سپاٹ لہجے کے ساتھ اس نے اگلا سوال داغا

” بات کر رہی ہوں ۔۔”
وہ بس منمنائی تھی جبکہ اب اس کو شدت سے رونا آیا تھا وہ کیا کرنے آئی تھی اور کیا ہو گیا تھا

جبکہ باذِل نے اب اس کے بازؤں پر اپنی گرفت ڈھیلی کر لی اور اس کی تھوڑی کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ کر چہرہ بلند کیا اور اس کے چہرے پر تھوڑا جھک گیا

” آئندہ آواز نیچی رکھ کر بات کرنا مجھ سے ۔۔ نہیں تو بہت بری طرح پیش آؤں گا میں ۔۔ “
اس کے ناک کو اپنے ناک سے مس کرتا وہ سفاکیت سے بولا

” جج جی ۔۔!!”
وہ اتنی دھیمی آواز میں بولی تھی کہ باذل نزدیک ہونے کی وجہ سے بھی بمشکل سن سکا
اور پھر اس نے معصومہ کو آرام سے خود سے دور کیا اور تیز ترین قدم بڑھاتا کمرے سے باہر نکل گیا

جبکہ معصومہ کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا
وہ بمشکل خود کو سنبھالتی بیڈ تک آئی اور بیڈ پر بیٹھ کر شدت سے رونے لگی

” وحشی ۔۔۔ جنگلی آدمی ۔۔ “
اپنے سفید بازؤوں پر باذِل کی انگلیوں کے سرخ نشان دیکھ کر وہ سخت غصے میں اونچی آواز میں بڑبڑانے لگی جبکہ آنسو اس کا چہرہ بھیگو رہے تھے اس کی ناک اور آنکھوں کے ڈورے بے حد سرخ ہو گئے تھے

کافی دیر تک رونے کے بعد وہ کچھ سوچتی ہوئی بیڈ سے اٹھی اور واشروم کی جانب بڑھی منہ ہاتھ دھو کر آئی اور میز کی سمت بڑھی جہاں وہ موبائل ابھی بھی پڑا تھا جو باذِل اسے دے کر گیا تھا باکس میں سے موبائل نکال کر ہاتھوں میں لے کر وہیں صوفے پر بیٹھ گئی کچھ دیر آئی فون سے سر کھپاتی رہی پھر جب کافی سمجھ آ گیا تو اپنی جگہ سے اٹھی وہ اب کافی حد تک نارمل ہو چکی تھی بیڈ سے اپنا دوپٹہ لے کر اوڑھتی ہوئی ہاتھ میں موبائل تھام کر کمرے سے باہر نکلی
زینے اترتے ہوئے اس کا سامنا نوری سے ہوا جو ہاتھ میں کپڑے لیے زینے چڑھ رہی تھی نوری اسے سلام کرتی جلدی جلدی آگے بڑھ گئی

” اسے کیا ہوا ہے ۔۔ ؟؟ اوہ لگتا ہے باذِل نے اس کی بھی کلاس لی ہے “
نوری کی جلد بازی دیکھتی وہ دھیمی آواز میں بڑبڑاتی ہوئی کندھے اچکا کر آگے بڑھ گئی

قائم کے کمرے میں آ کر اس کے سٹڈی روم میں سے کانٹیکسٹس کی ڈائری لے کر قائم کا نمبر لیا اپنے موبائل میں ڈائل کر کے کان سے لگایا مگر وہ بند تھا پھر مایوسی سے وہاں سے نکلی اور پھر اپنے اور باذِل کے مشترکہ کمرے میں آ گئی

” باذِل تمہاری فطرت کبھی نہیں بدل سکتی ۔۔ تم بہت برے ہو ۔۔ تم عزت کے لائق ہی نہیں ہو ۔۔ اتنی سی بات پر اتنا زور سے بازو دبایا ہے میرا ۔۔ وحشی آدمی ۔۔ اپنا وحشی پن مجھ پہ ہی دیکھا کر ٹھیک نہیں کیا تم نے ۔۔ تھوڑا بہت اچھا سمجھ رہی تھی میں تمہیں مگر نہیں ۔۔ تم بہت برے ہو ۔۔ بات کرنا چاہ رہی تھی میں تم سے ۔۔ مگر تم اس لائق ہی نہیں ہو ۔۔ !!”
بیڈ پر دراز ہو کر وہ بلند آواز میں بڑبڑاتے ہوئے رونے لگی تھی مگر پھر بھی اسے باذِل کا انتظار تھا نا چاہتے ہوئے بھی اسے کل یونیورسٹی جانے کے لیے باذِل کی اجازت درکار تھی
کمرے میں بیٹھ کر کافی دیر وہ باذِل کا انتظار کرتی رہی مگر صبح سے دوپہر اور دوپہر سے رات ہو گئی مگر وہ گھر ہی نہیں آیا اس دوران رانی اور گل بی بی اسے کھانے کا کہنے آئیں مگر اس نے انہیں سختی سے منع کر دیا تھا مگر پھر رات کو نو بجے کمرے سے نکلی اور کچن کی جانب بڑھی اپنے لیے کھانا گرم کر کے کھایا اور پھر کمرے میں آ کر سو گئی
//////////////////////////

” کون ہے یہ باس ۔۔؟؟ ہاں کون ہے ۔۔؟؟ جس نے جینا حرام کیا ہوا ہے ہمارا ۔۔ ؟ “
وہ بپھرے ہوئے شیر کی طرح اِدھر سے اُدھر چکر کاٹ رہا تھا آس پاس اس کے آدمی سر جھکائے کھڑے تھے

” بھائی اسے کسی نے آج تک نہیں دیکھا ۔۔ مگر اس کی دہشت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے ۔۔ وہ ہمارے سارے منصوبے ناکام بنا رہا ہے ۔۔ ملک کی سب سے بڑی گینگ کو اس نے جس طرح برباد کیا ہے اسے دیکھ اور سن کر لوگ اب اس کے نام سے بھی کانپتے ہیں ۔۔ “
اس کا ایک وفادار ڈرتے ڈرتے باس کے کارنامے بتانے لگا

” ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی نہ جانتا ہو اسے اور وہ سب کے کرتوت جانتا ہے ۔۔ میں تم سب کتوں کو کس لیے پال رہا ہوں ۔۔ ہاں ۔۔؟؟ اگر اپنی خیر چاہتے ہو تو پتہ لگاؤ اُس باس کا ۔۔ اور ابھی دفع ہو جاؤ تم سب ۔۔”
ایک زہریلی نگاہ سب پر ڈالتے ہوئے وہ دھاڑا تو اس کی آواز پر سب وہاں سے نکل گئے

” اشرف کسی بھی طرح اس باس کو تلاش کرو ۔۔ کوئی تو اس کے آدمی ہوں گے ۔۔ جو اس کا ساتھ دے رہے ہیں ۔۔ ان سب کا پتہ لگاؤ ۔۔ “
اب وہ اپنے بھائی کی سمت بڑھا جو کرسی پر آرام سے بیٹھا شراب اپنے اندر انڈیل رہا تھا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا

” تم فکر مت کرو مشرف بہت جلد اس باس کو زندہ یا مردہ تمہارے سامنے پیش کروں گا ۔۔”
وہ گلاس اپنے لبوں سے ہٹاتا شاطرانہ انداز میں بولا اس کی تسلی پر مشرف نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا

//////////////////////////////

وہ جب اپنا ضروری کام نبٹا کر اس بنگلے میں داخل ہوا تو دور سے ہی اس نے گلاس وال سے اندر ہونے والی کاروائی دیکھی ایک پل کو اس کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی مگر جب وہ آہستہ سے شیشے کا دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا تو اپنے چہرے کو پھر سے سپاٹ کر لیا
جبکہ اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مگن ان چھ لوگوں کو معلوم بھی نہیں ہوا کہ ان کا باس آ چکا ہے یقیناً ان سب کی باس کی جانب پشت تھی
باذِل دروازہ آرام سے بند کرتا وہیں شیشے کے دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا

” ساحر پہلی فرصت میں تم اپنا نام چینج کرو ۔۔ آئی ڈونٹ لائک یوور نیک ۔۔ “
ویشال پیزے کا ایک پیس اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے ساحر سے سنجیدگی سے مخاطب ہوئی جبکہ اس کی آنکھوں میں شرارت سب دیکھ چکے تھے

” کیوں تمہیں میرے نام سے کیوں مسئلہ ہے ۔۔؟ اپنے نام پر کبھی غور کیا ہے تم نے ۔۔ ؟ ویشال۔۔!!! لڑکوں کا نام ہوتا ہے ویشال ۔۔۔ ویسے تم حلیے سے کسی لڑکے سے کم نہیں لگتی ۔۔”
ساحر اس کی جینز اور شرٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا وہ خود اچھا خاصا چڑا تھا ویشال کی بات پر اور اب ویشال کو چڑا رہا تھا جبکہ باقی سب ان دونوں کی نوک جھونک پر مسکرا رہے تھے

” او ہیلو ۔۔ زیادہ ساحر لودھی بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ زہر لگتا ہے مجھے وہ ۔۔”
ویشال اپنے خوبصورت چہرے پر غصہ لائے بولی

” یار بس کرو تم دونوں ۔۔ اور ختم کرو یہ پارٹی وارٹی ۔۔ سمیٹو سب چیزیں۔۔ باس آ گئے نا تو اس کو سانپ سونگھ جانا ہے “
حماد میز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا جہاں پیزا ، زنگر برگر اور کولڈرنک پڑیں تھیں

” ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تم اتنے ڈرتے ہو باس سے پھر بھی اتنے ٹائم سے ان کے ساتھ کیسے ہو ۔۔؟؟۔ “
باسط کولڈرنک گلاس میں انڈیلتے ہوئے تمسخرانہ بولا
جبکہ اس کی بات پر حماد نے اسے گھورا

“جسٹ کیڈنگ یار ۔۔ چِل کرو ۔۔ ویسے بھی باس کی نئی نئی شادی ہوئی ہے وہ سیدھا اپنے گھر جائیں گے یہاں ہماری پارٹی انجوائے کرنے تھوڑی آئیں گے ۔۔”
باسط کولڈرنک کے سپ لیتے ہوئے رمشا کو آنکھ مارتا ہوا مسکرا کر بولا جبکہ اس کی بات پر سب مسکرانے لگے

” باسط تم نہیں سدھر سکتے ۔۔”
رمشا جو کے باسط کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی اس کی کمر پر چپت رسید کرتی ہوئی مسکرا کر بولی

” یار آج انجوائے کر لو سب جی بھر کے ۔۔ کل سے پھر باس آ جائیں گے اور پھر ان کے حکم شروع “
باسط مسکراتا ہوا بولا

جبکہ رمشا اور حماد جو کہ میز پر پڑے باکس سمیٹ رہے تھے یکدم مڑے اور دروازے کے ساتھ پشت پر ہاتھ باندھے کھڑے باذل کو دیکھ کر وہیں جم گئے
ان سب میں سے کسی کے بھی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ باذِل آج آئے گا جبکہ باذِل کے چہرے پر ناگواریت سے وہ باخوبی اندازہ لگا سکتے تھے کہ وہ کافی دیر سے یہاں موجود تھا

” بب باسس ۔۔”
رمشا نے باذِل کو ہکلاتے ہوئے پکارنا چاہا مگر باذِل نے اسے ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کو کہا

” تم دونوں کیوں اٹھ رہے ہو بیٹھو یار ۔۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ۔۔ “
باسط، حماد اور رمشا سے مخاطب ہوا جو اٹھ گئے تھے

جبکہ ان دونوں کو ایک ہی سمت میں کھڑے دیکھ کر ویشال اور ساحر بھی مڑے وہاں باذِل کو کھڑے دیکھ کر وہ دونوں بھی اپنی کرسیوں سے اٹھ گئے

” یار تم لوگوں کو کیا ہو گگگ !!”
جب کوئی نہ بولا تو باسط بھی پیچھے کو مڑا مگر باذِل کو سامنے دیکھ کر باقی الفاظ حلق میں ہی دم توڑ گئے اور کرسی کو گھسیٹا فوراً اٹھ گیا

” وو وہ باس آپ اس وقت۔۔؟ ۔۔”

” کیوں نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔ ؟؟ اب مجھے کہیں بھی آنے جانے کے لیے تمہاری اجازت لینی ہو گی باسط صاحب ۔۔؟”
باذِل، باسط کی سمت بڑھتے ہوئے سرد انداز میں بولا

” نن نہیں باس ۔۔ آپ کی مرضی آپ کا آفس ۔۔ آپ جب مرضی آئیں ۔۔ ہمیں لگا تھا آج آپ گھر جائیں گے ۔۔”
باسط سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا تھا جبکہ لہجہ ابھی بھی شرارت بھرا تھا

” ہممم یہ سب صاف کرو جلدی ۔۔”
میز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ بولا اس کی بات پر باسط سمیت سب میز کی جانب مڑے تھے

” صرف باسط صاف کرے گا ۔۔”
باذِل کی بھاری آواز پر سب اپنی جگہ کھڑے ہو گئے جبکہ باسط منہ بسورتا ہوا صفائی پر لگ گیا

////////////////////////////

اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں