No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
💖💖💖💖💖💖آیت تم سائن نہی کرو گی…..آیت جو روتے ہوئے پیپر پر سائن کرنے ہی والی تھی ایک جانی پہچانی آواز سن کر اسکا چلتا ہوا ہاتھ ایک دم سے رکا تھا اسنے نظریں اٹھا سامنے دیکھا….
..سامنے آذان کو کھڑا دیکھ کر اسکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا…
…جبھی دلاور اور بشر نے بھی چونک کر سامنے دیکھا تھا…اور آذان کو یہاں دیکھ کر دلاور کا خون کھول اٹھا تھا….
..تم یہاں کیا کر رہے ہو…دلاور خان غصّے سے آذان کیطرف دیکھتے ہوئے بولا تھا اسکو آذان کو یہاں دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی …..
….مجھے یہاں دیکھ کر تمھیں حیرانی ہوئی ہے نہ تو زیادہ حیران مت ہو مجھے تمہاری پل پل کی خبر تھی..
…آذان اسکا غصّہ مزید بڑھاتے ہوئے بولا تھا …
…..چلو اب تم نے میرا کام آسان کر ڈی ہے یہاں آکر اب میرے دو کام ایک ساتھ ہو جائے گے تجھ سے اپنا بدلہ بھی لے لوں گا اور اپنی ساری دولت بھی حاصل کر لوں گا….
…دلاور نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجہتے ہوئے بشر کو اشارہ کیا تھا…
….بشر اسکا اشارہ سمجھتے ہی ازان کہ طرف بڑہا تھا پر آذان نے ایک ہی جھٹکے میں اسکو خود سے دور کرکے …
لگاتار تین چار پنچ اسکے منہ پر مارے تھے جس سے بشر بلبلا اٹھا اور درد سے تڑپتا ہوا زمین پر ڈھیر ہو گیا تھا….
……خبردار آگے مت بڑھنا ورنہ تمہیں بعد میں پچھتاوا ہوگا کی اسکی موت کی وجہ تم تھے..
…دلاور نے آذان کو اپنے قریب بڑھتا ہوا دیکھا تو اسنے ایک جھٹکے سے آیت کا بازو تھام کر اسکو پکڑا اور اسکے سر پر گن تان کر بولا تھا….
….دلاور کی اس حرقت سے آذان کے اسکی طرف بڑھتے قدم رک گئے تھے..
…دیکھو تمہاری دشمنی مجھ سے ہے تو آیت کو چھوڑ دو تم ..آذان آیت کو اسکی پکڑ میں مچلتا ہوا دیکھ کر تھوڑے آرام سے بولا تھا کیونکہ وہ دلاور کے نشانے پر تھی اسکو آیت کی جان کی فکر ہوئی تھی….
…میری تو تم دونوں سے ہی دشمنی ہے اور آج میں ایک ساتھ اپنے دونوں دشمنوں سے بدلہ لے لوں گا تم دونوں نے ملکر مجھے برباد کیا تھا نہ آج اپنی سزا کے لئے بھی تیار ہو جاؤ…..
…تو جلدی سے اس پیپر پر سائن کر ورنہ تیری وجہ سے یہ مر جائے گا…..
….اب کی بار دلاور نے آیت کو
اپنی پکڑ سے آزاد کیا اور گن آذان کی طرف کرتے ہوئے آیت کو کہا تھا…..
….نہی آیت تم سائن نہی کروگی ویسے بھی یہ ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتا ہے….آذان غصے سے بولا اور آیت کو منع کیا جو دلاور کی دھمکی سن کر سائن کرنے کے لئے جھکی تھی…
…..شاید تجھے اپنی زندگی عزیز نہی ہے موت تیرے سر پر ہے اور پھر بھی تو اسکو منا کرا رہا ہے…..دلاور ایک دو قدم چلتا اسکے پاس آتے ہوئے بولا تھا اسنے گن ابھی بھی آذان پر تان رکھی تھی…..
…ہاں تجھ جیسے لوگوں کو ہرانے کے لئے مجھے اپنی زندگی کی کوئی فکر نہی ہے …ازان بےخوفی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تھا…..
…ہاہاہا ہا ……دلاور کا کہکا فضا میں گونجا تھا….
…..جبکی آیت بس ڈری سہمی سے کھڑی آذان کو اسکے نشانے پر دیکھ رہی تھی….
…. اگر تجھے اپنی زندگی پیاری نہی ہے تو ٹھیک ہے پھر پہلے تیری ہی جان لے لیتا ہوں ویسے بھی دوسرا کام آرام سے کر سکتا ہوں دلاور نے کہتے کے ساتھ ہی ٹریگر پر دباو ڈالا تھا….
…..آذان……گولی کی آواز کے ساتھ ساتھ فضہ میں آیت کی چیخ کی آواز بھی گونجی تھی💖💖💖💖💖💖
………..
………..
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٥ سال بعد۔۔۔
💖💖💖💖💖💖ردا تم یہاں بیٹھی ہو اور وہاں تمہارے بیٹے نے رو رو کر بیچارے حارث بھائی کی حالت خراب کر رکھی ہے….
….حیا ازلان کے روم میں داخل ہوتے ہی ردا کو اسکے چار سالہ بیٹے حدید کے بارے میں بتاتے ہوئے ہنس پڑی تھی….
…..اففف یہ حدید بھی نہ مجھے تھوڑی دیر کے لئے بھی آرام سے کہیں بیٹھنے نہی دیتا ہے….
…ردا جو دلہن بنی آیت کے پاس بیٹھی تھی حیا کی بات سنکر جھنجھولا کر بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولی تھی…
….جاؤ تم نیچے جاکر اسے دیکھو میں بیٹھ جاتی ہوں آیت کے پاس اب جبتک ازلان نہی آ جاتا حیا نے ردا کو کہا اور آخری بات پر آیت کی طرف شرارت سے دیکھا تھا…
….حیا کی شرارت بھری مسکراہٹ دیکھ کر آیت شرما کر سر نیچے جھکا گئی تھی….
….آج آیت اور ازلان کا نکاح ہوا تھا سب بہت خوش تھے سبسے زیادہ بی جان انہونے آج اپنے سارے بچّو کی شادی جو کر دی تھی …اب وہ مطمعین تھی سب کو خوش دیکھ کر….
….اب کسی کو یہاں رہنے کی ضرورت نہی ہے کیونکہ اب میں جو آ گیا ..
…تبھی ازلان بھی اپنے روم میں داخل ہوتے ہوئے بولا تھا اور اسکی بات سنکر حیا اور ردا دونوں ہی مسکرا دی تھی…
….ہاں ہاں ہم لوگ تو ویسے بھی جا ہی رہے تھے ہمیں شوق نہی ہے دو پیار کرنے والوں کے بیچ میں آنے کا حیا منہ بناتے ہوئے بولی تھی اسکے منہ بنانے سے ردا کھل کر ہنسی تھی…
… ویسے بھی آپکے شوہر کافی ہیں ہم لوگوں کے بیچ آنے کے لئے آپ نہ ہی ہو تو بہت اچھا ہے میرے لئے …ازلان بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا وہ بہ بھی حیا کی طرح ہی منہ بناتے ہوئے بولا….
… ازلان کی بات سن کر اب حیا اور ردا دونوں کا قہقا پورے کمرے میں گونجا تھا…
…تمھیں تو میں بعد میں دیکھتا ہوں پہلے ان لوگوں سے نیپٹ لوں ازلان انکی باتوں پر مسکراتی ہوئی آیات کی طرف دیکھ کر بولا تھا….
….حیا اور ردا اسکی باتوں میں چھپا اسکا درد اچھے سے جانتے تھے جب ازلان نے آذان سے اپنے اور آیت کی شادی کے بارے میں بات کی تو آذان نے صاف لفظوں میں اسکو منع کر دیا تھا اسکا کہنا تھا کی وہ پہلے کچھ بن کر دیکہائے تب وہ راضی ہوگا کیونکہ آیت انکی زممداری تھی اور وہ پہلے ازلان کو زممداری سمبھالنے والا بنانا چاہتا تھا..
… اور بس پھر جب تک ازلان اس لایق نہی بنا آذان کی نہ ہاں میں نہی بدلی تھی اور آج وہ دن آ گیا تھا جب اذان خود راضی ہوا تھا اسکی محنت اور لگن دیکھ کر….
….اگر آپ لوگوں کا ہنسنہ ہو گیا ہو تو پلز میرا روم خالی کر دیں ازلان انکی ہنسی دیکھ کر جلتے ہوئے بولا تھا…
….اچھا ٹھیک ہے ناراض مت ہو ہم تو جا ہی رہے ہیں اب ہمارا مزید تمہیں پریشان کرنے کا ارادہ نہی ہے تم خوش رہو ہم تو چلے حیا اور ردا روم کے باہر جاتے ہوئے ہوئے بولی اور مڑ کر ازلان کی طرف دیکھا جو انہیں کو دیکھس کر مسکرا رہا تھا ….تو وہ بھی مسکراتی ہوئی روم سے چلی گئی تھی…….
….تمھیں بہت ہنسی آ رہی تھی انکی باتوں پر اب دیکھو کیسے میں تمہاری ہنسی غایب کرتا ہوں ازلان روم کا دروازہ لاک کر کے بیڈ پر بیٹھی آیت کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اور پھر اسنے بیڈ کی طرف قدم بڑھا دئے تھے….
….جبکی آیت جو اسکی طرف دیکھ رہی تھی اسکی بات کا مطلب سمجھ کر نظریں جھکا گئی تھی💖💖💖💖💖
………….
………….
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤……………
💖💖💖💖💖💖میری جان آپ یہاں بیٹھی ہو اور میں آپکو پورے گھر میں ڈھونڈھتا پھر رہا ہوں …..
….آذان اپنی تین سالہ بیٹی نور کے پاس آتے ہوئے بولا جس میں اسکی اور حیا کی جان تھی…
…وہ کافی دیر سے کام میں بیزی تھا اسکو دیکھنے کے لئے جب وہ حدید کے پاس گیا تو وہ اسکو اسکے ساتھ بھی کہیں نظر نہی آئ کیونکہ وہ حدید کے ساتھ ہی کھیلتی رہتی تھی پر اسکے ساتھ نہ دیکھ کر وہ پریشان سا نور کو ڈھونڈھ رہا تھا جب وہ لان میں بیٹھی ہوئی نظر آئ تھی…..
….بابا مما مجھسے پیار نہی کرتی ہے آذان کے جواب میں وہ معصوميت سے بولی تھی…
….کیوں بیٹا آپکو ایسا کیوں لگتا ہے آپکی مما آپکو مجھ سے بھی زیادہ پیار کرتی ہیں آذان نے اسکے دونوں گالوں پر پیار کرتے ہوئے کہا اور پھر اسکی طرف دیکھنے لگا وہ بلکل حیا جیسی تھی اسی کی طرح خوبصورت اور معصوم…
…نہی بابا وہ نہی کرتی اتنی دیر ہو گئی ہے وہ اب تک میرے پاس بھی نہی آئ ہے میں انکو کتنا مس کر رہی ہوں نور اسکی بات کو رد کرتے ہوئے بولی تھی….
…آذان نے مسکرا کر اپنی چھوٹی سی بیٹی کو دیکھا جو اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے لگی تھی…..
….جب بھی وہ نور کو دیکھتا تو بس ایک بات اسکے خیال میں آتی تھی کی اس دن اگر حارث سہی وقت پر نہ پہونچتا تو آج وہ شاید زندہ نہ ہوتا…
…آج سے پانچ سال پہلے نور کے مجرم کو وہ سزا ملی تھی جو اسکو ملنی چاہئے تھی اس دن حارث وقت پر پولیس کو لیکر وہاں پہوچا تھا اور دلاور پولیس کی گولی لگنے سے وہیں ختم ہو گیا تھا جبکی بشر کو حراست میں لے لیا گیا تھا…
….وہ سب لوگ آیت سے بہت ناراض ہوئے تھے کیونکہ اسکی بےوقوفی کی وجہ سے ان دونوں کی جان خطرے میں تھی اور اسکو ان لوگوں کو سب بتا دینا چاہئے تھا پر آیت نے رو رو کر سب سے معافی مانگی تھی اور پھر سب نے اسے معاف کیا تھا کیونکہ وہ کم امر تھی اور اسمے اتنی عقل بھی نہی تھی وہ بس اس سے ناراض ہوئے تھے اور پھر یہ ناراضگی بھی کچھ دنوں کی ہی تھی اور اب بھی بی جان کو ان لوگوں نے کچھ خبر نہی ہونے دی تھی….سب اب بہت خوش تھے اپنی زندگی میں اور اب کسی کو کسی بھی چیز کا کوئی ڈر نہی تھا….حارث بھی ایک بیٹے کا باپ بن چکا تھا وہ لوگ بہت خوش ہوئے تھے .اور جب آذان کو پتا چلا کی وہ بھی باپ بننے والا ہے تو اسکی خوشی ڈبل ہو گئی تھی…
.. اور اسنے پہلے ہی حیا کو بول دیا تھا کی اگر انکے بیٹی ہوئی تو وہ اسکا نام نور رکھے گا اور بھلا حیا کو کیا عتراض ہوتا اس بات سے بلکی وہ بھی خوش ہوئی تھی سن کر….
..بابا میں آپسے بات کر رہی ہوں اور آپ بھی نہی سن رہے ہے نور نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے آذان کا چہرہ چھو کر کہا….
….بیٹا میں سوچ رہا ہوں کی میری بیٹی کو اگنور کرنے کے جرم میں آپکی مما کو ڈانٹ تو پڑنی ہی چاہئے آذان اپنی سوچوں سے باہر آیا تھا اور نور کی چھوٹی سی ناک دبا کر کہا تھا….
….نہیں بابا آپ مما کو مت ڈانٹنہ میں اب ناراض نہی ہوں ان سے نور ایک دم آذان کی بات سن کر بولی تھی..اسکو ڈر ہوا کی اسکی وجہ سے اسکی مما کو اگر ڈانٹ پڑی تو وہ اس سے ناراض ہو جائے گی….
….وہ بلکل آذان کی طرح ہی تھی اسکو بھی پسند نہیں تھا کی حیا ذرا بھی اسکو اگنور کرے اور آذان کی طرح ہی وہ بھی اسکی ناراضگی برداشت نہی کر سکتی تھی….
….اچھا ٹھیک ہے بیٹا میں کچھ نہی کہ رہا ہوں اپکی مما کو بس چلو اب ہم اندر چلتے ہیں باہر ٹھنڈ ہو رہی ہے ورنہ آپ بیمار پڑ جاؤ گی آذان اسکو اپنی گود میں اٹھاتے ہوئے بولا اور اندر کی طرف چل دیا تھا….
….اور نور بھی جیسے سمجھ گئی تھی کی وہ اب اسکی مما سے کچھ نہی کہے گا اور اسنے مطمعین ہو کر آذان کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا تھا … 💖💖💖💖💖💖…
……….
………
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤…
…………
💖💖💖💖💖نور کہا ہے……اسکو آج سونا نہی ہے کیا….حیا جیسے ہی روم میں داخل ہوئی تو نور کو اپنی جگہ پر نہ دیکھ کر آذان سے مخاطب ہوئی تھی جو صوفہ پر بیٹھا کوئی بک پڑھ رہا تھا….
……آپکی معلومات کے لئے بتا دوں کی ہماری بیٹی آج آپ سے ناراض ہے اور اس لئے وہ آج بی جان کے پاس سو گئی ہے….آذان بک سائیڈ پر رکھ کر حیا کے پاس آتے ہوئے بولا اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو خود سے قریب کیا تھا….
…مجھ سے کیوں ناراض ہے اور آپنے اسے وہاں کیوں سونے دیا آپ اچھے سے جانتے ہے کی مجھے اسکے بغیر نیند نہی آتی ہے …حیا آذان کی طرف دیکھتے ہوئے اداسی سے بولی تھی….
…..آج تم نے سارا دن اسکو اگنور جو کیا ہے اور اس لئے وہ آج تم سے ناراض تھی….آذان نے حیا کے چہرے پر آۓ بالوں کان کی پیچھا کیا…. ماں بننے کے بعد بھی وہ آذان کو اور خوبصورت لگنے لگی تھی……
آپکو تو پتا ہی ہے کی شادی کی تیاری میں بہت بیزی تھی اس وجہ سے میں اسکو وقت نہیں دے پائی….
…اور اس بات کا احساس مجھے ہے آذان ….حیا نے آذان کو دیکھتے ہوئے کہا جو محبت بھری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا..
….دیکھ لو میں اور میری بیٹی تم سے کتنا پیار کرتے ہے کی تمہارا اگنور کرنا ہم دونوں سے ہی برداشت نہیں ہوتا ہے…. …..آذان نے بہت ہی نرمی سے اسکے ہونٹھوں کو چھوا تھا جس سے حیا شرم سے سرخ ہو گئی تھی ……
..اتنے سال ہو گئے ہے ہماری شادی کو لیکن تم ابھی بھی میری ذرا سی نزديکی سے ایسے ہی شرماتی ہو جیسے پہلے شرماتی تھی۔۔۔
….آذان اسکے چہرے پر جھک کر اپنے پیار کی موہر لگا رہا تھا ….
آذان کیا کر رہے ہے….حیا نے شرماتے ہوئے خود کو اسکی پکڑ سے آزاد کروانا چاہا تھا لقین آذان نے اسکی کمر پر اپنی پکڑ اور بھی مضبوط کر دی تھی …..
….کچھ نہی میری جان میں تو بس تمہیں یہ بتا رہا ہوں کی میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں …..آذان کی شرارتیں بڑھتی ہی جا رہی تھی ……
…آذان مجھے پتا ہے اپ مجھسے کتنا پیار کرتے ہے لیکن فلحال مجھے اپنی بیٹی کے پاس جانا ہے …..
…..حیا شرماتی ہوئی اس سے اپنا آپ چھوڑاتی ہوئی بولی تھی ….
..واسے تم تو نور کے آنے پر ہی مجھے اتنا اگنور کر رہی ہو جب ہمارے تین چار بےبی اور ہو جائےگے تم تو مجھے شاید بھول ہی جاوگی ….
…آذان نے پھر سے اسکو اپنی پناہ میں لیتے ہوئے کہا …..
…جبکی اسکی تین چار بےبی کی بات سن کر حیا کی تو ہوائیا ہی اڑ گئی تھی …..
..ہاہاہاہا میری جان گھبرا کیوں رہی ہو میں پھر بھی اپنے لئے تمہارا وقت نکل لیا کروں گا…
….آذان پھر سے اسکے اپر جھکا تھا ….لقین اسکے کوئی گستاخی کرنے سے پہلے ہی حیا نے مسکراتے ہوئے اسکو خود سے پیچھے کیا تھا ….
میں نور کو لے کر آتی ہوں ….حیا شرماتے ہوئے جلدی سے کمرے سے نکلتی چلی گئی تھی جبکی اسکے ایسا کرنے سے آذان ایک بار پھر سے کھل کر مسکورا دیا تھا اور اسکے واپس آنے کا انتظار کرنے لگا تھا…..جو اسکی زندگی اسکی خوشی سب کچھ تھی….
….وہ بہت خوش تھا اسنے سب کچھ حاصل کر لیا تھا اپنی زندگی میں اسکی بہن کے مجرم کو بھی سزا مل گئی تھی اب وہ مطمعین تھا کیونکہ انکی زندگی میں اب بس پیار تھا اور خوشیاں تھی….💖💖💖💖💖💖ختم……
……………
