No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
……………
💖💖💖💖💖💖آیت تم نے یہ فائل کیوں لوٹا دی یہ تمہاری امانت ہے تمھیں اسکو سمبھال کر رکھنا ہے….آذان نے آیت کو فائل واپس لوٹاتے ہوئے کہا تھا….
….میں جانتی ہوں یہ میری امانت ہے پر میں ابھی اس لایق نہی ہوں کی اتنی بڑی زممداری سمبھال سکوں آیت نے فائل اسکے ہاتھ سے لے کر ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا تھا…
…اسکی بہت سن کر آذان نے حارث کی طرف دیکھا تھا ووہ سچ ہی تو کہ رہی تھی وہ اتنی بڑی کہاں تھی جو اتنی بڑی کمپنی کو سمبھال سکتی….
…وہ لوگ اس وقت لاؤنج میں بیٹھے تھے آذان نے اسکو ساری پیپر دے دئے تھے اب دلاور سے ساری پراپرٹی اسی کے پاس آ گئی تھی پر آیت اتنی بڑی زممداری سے گھبرا رہی تھی..
….تم فکر مت کرو آیت تم سب سمبھال سکتی ہو میں ہوں حارث ہے تمہارے ساتھ تم اکیلی نہی ہو اب یہ سب تمھیں ہی تو سمبھالنا ہے آذان اسکو سمجھا رہا تھا…
…میں جانتی ہوں پر میں ابھی یہ سب سمبھالنے کی پوزیشن میں نہی ہوں آیت نے رونی صورت بنا کر کہا تھا …
اسکو شروع سے ہی ان سب میں دلچسپی نہی تھی اور ایک کمپنی کو چلانا آسان نہی تھی…
….پلز جب تک میں اس قبل نہی بن جاتی تب تک یہ سب آپ دیکھ لیں…
…اور ویسے بھی آپ لوگوں کے علاوہ میں کسی اور پر بھروسہ بھی نہی کر سکتی ہوں….آیت نے ان لوگوں سے التجا کی تھی…
..اسکی شقل دیکھ کر حارث اور آذان کو اس پر ترس آیا تھا وہ اس پوری دنیا میں بلکل تنہا تھی اور انکے علاوہ یہاں کسی کو جانتی بھی نہی تھی ٹھیک سے…
…ٹھیک ہے فلحال کے لئے میں حارث کو بول دیتا ہوں پر آگے چل کر سب تمھیں ہی دیکھنا ہے آذان اسکی بات مانتے ہوئے بولا تھا پر آخر میں اپنا فیصلہ بھی سنایا تھا…
…جی ٹھیک ہے فلحال کے لئے اتنا کافی ہے میرے لئے آیت خوش ہوتے ہوئے بولی تھی جبکی اسکا خوشی سے کھلتا چہرہ دیکھ کر آذان حارث بھی مسکرا دئے تھے…..💖💖💖💖💖💖
…………..
…………..
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖………………
💖💖💖💖💖💖💖میں ردا کو پسند کرتا ہوں تمھیں ایسا لگا تھا…..
……آذان حیا کے ایکدم پیچھے آکر کھڑا ہو کر بولا تھا…..جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی…
….وہ بہت دیر سے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا پر وہ اسکو اکیلی مل ہی نہی رہی تھی ابھی وہ اسکو ڈھونڈھ ہی رہا تھا جب وہ اسکو روم میں مل گئی تھی….
….حیا اسکی آواز سن کر مڑی تھی پر اسکی بات نہی سمجھ پائی تھی اس لئے نہ سمجھی سے اسکو دیکھنے لگی تھی….
….میں ردا کو پسند کرتا ہوں تمھیں ایسا لگا تھا نہ آذان نے اپنا سوال پھر سے دوہرایا تھا…
….اسکی بات سمجھ کر حیا حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی…وہ اس بارے میں کیسے جانتا ہے حیا من میں سوچ کر ہی رہ گئی تھی….
….مجھے اس بارے میں کیسے پتا چلا یہ ہی سوچ رہی ہو نہ…آذان اسکے حیران چہرے کو دیکھ کر بولا وہ اسکی آنکھوں میں موجود سوال پڑھ چکا تھا…
…جس طرح تم نے کبھی ردا کی بات سن لی تھی آج میں نے بھی انجانے میں تمہاری اور ردا کی بات سن لی تھی….آذان نے اسکی حیرانگی دور کرتے ہوئے کہا تھا ….وہ یہ سن کر بہت حیران ہوا تھا کی ردا اسکے بارے میں ایسا سوچتی ہے جبکی اس نے آجتک ردا کو صرف اپنی بہن ہی سمجھا تھا….اور اب حارث کے لئے ہاں سن کر اسکو بھی خوشی ہوئی تھی..
…آپکو غلط لگا تھا مجھے تو کبھی ایسا کچھ نہی لگا اسکی ساری بات سمجھ کر حیا آذان سے نظریں چوراتے ہوئے بولی تھی…
…..مجھے غلط نہی لگا کچھ بھی تم اچھے سے جانتی ہو آذان نے اب حیا کا بازو پکڑ کر اسکو خود سے قریب کیا تھا….
…اذان کی اس حرقت سے حیا بوکھلا گئی تھی …
….اس بار آپکو غلط لگا ہے حیا اس سے اپنا بازو آزاد کروانے لگی تھی پر اسکے اس طرح سے کرنے پر آذان نے اپنی گرفت سخت کی تھی اور اسکو خود سے مزید قریب کیا ….
….اگر مجھے غلط لگ رہا ہے تو اس دن کیوں پوچھ رہی تھی کی مجھے کسی سے پیار ہوا ہے یا نہی اس دن ردا کی بات سن کر تمھیں لگا تھا کی شاید میں بھی اسکو پسند کرتا ہوں آذان نے اسکا چہرہ اپر کر کے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا….اس نے اسکو کچھ دن پہلے والی بات یاد کروائی تھی….
….ایسا کچھ نہی ہے وہ تو میں نے ایسے ہی پوچھا تھا …بس جاننا تھا کی آپکو کوئی آجتک پسند آئ ہے یا نہی حیا نے بات بناتے ہوئے کہا تھا ..
…اسکے اتنے قریب ہونے کی وجہ سے حیا سے بولا بھی نہی جا رہا تھا ایک تو اذان کی گرم سانسیں اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی اپر سے اسکے بازو پر اسکی پکڑ سے حیا کی دھڑکنے تیز ہو رہی تھی ….
……اچھا اگر ایسا ہے تو تب تو میں نے سہی سے جواب نہی دیا تھا آج میں تمھیں بتاتا ہوں کی مجھے کون پسند ہے اور میں اسکو کتنا چاہتا ہوں آذان نے حیا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو اپنے اور قریب کر کے باقی کا فاصلہ بھی ختم کر دیا تھا ….
……آذان آپ یہ کیا کر رہے ہیں پلیز چھوڑے مجھے حیا نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور کرنا چاہا تھا ..
…وہ اسکی اس حرکت سے بوکھلا گئی تھی اسکے چہرہ ایک دم ٹماٹر کی طرح لال ہوا تھا….
….ابھی تو میں تمھیں بتاؤں گا کی اس وقت میری باہوں میں جو لڑکی ہے اسے میں پسند کرتا ہوں اور کس قدر اسکو چاہنے لگا ہوں اسکی شاید اسکو بھی خبر نہی ہے….
….آذان نے کہتے کے ساتھ ہی اپنے لب حیا کے گال پر رکھ دئے تھے …..
….آذان چھوڑے مجھے یہ کیا کر رہے ہیں آپ …آذان کی بڑھتی جوسارت سے حیا پوری جان سے کانپ اٹھی تھی….
….کیوں چھوڑ دوں ابھی تو میں نے بتانا شروع ہی کیا ہے کی کتنا چاہتا ہوں میں اس لڑکی کو آذان نے اسکے شرم سے پڑتے لال چہرے کو دیکھ کر کہا…اور ساتھ ہی اسکے دوسرے گال کو بھی چوم لیا تھا….
..آذان…..جانے دیں نہ……حیا اس بار صرف سرگوشی میں آواز نکلی تھی….
…..بلکل بھی نہی آج مجھے بتانے دو تم ورنہ تم جو مجھسے دور دور بھاگتی رہتی ہو نہ اس سے مجھے بتانے کا موقع نہی ملتا آج ملا ہے تو میں تمھیں ایسے ہی جانے نہیں دوں گا … ….آذان نے ایک ہاتھ سے اسکے بالوں کو پیچھے کیا اور پھر سے اس پر جھکا ہی تھا کی ایکدم دروازہ نوک ہوا تھا…..
….بڑی بیگم آپکو بی جان نیچے بلا رہیں ہے باہر سے رانی کی آواز سنائی دی تھی جو بی جان کا پیغام لے کر آئ تھی….
…رانی کی آواز سن کر آذان بدمزہ ہوا تھا اور حیا کو اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا..
…جبکی دوسری طرف حیا نے شکر کا سانس لیا تھا ورنہ آذان تو آج اسکی جان نکالنے کی در پے تھا…..
…آذان کی باہوں سے آزاد ہوتے ہی وہ ایک دم روم سے بھاگی تھی حیا کو ڈر تھا کی وہ کہیں اسکو دوبارہ پکڑ نہ لے…..
….بھاگ لو حیا جتنا بھاگنا ہے آگے میں تمھیں بھاگنے کا موقع نہی دوں گا آذان اسکو جلدی جلدی روم سے جاتے ہوئے دیکھ کر مسکرایا تھا اور اپنے من میں اسی سے ہی مخاطب تھا…..
…..آ جاؤ آذان بیٹا میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے…وہ کچھ دیر بعد خود بھی نیچے آیا تھا اور اسکو آتا دیکھ کر بی جان بولی تھی اس وقت وہ سبھی لوگ ساتھ بیٹھے تھے بس ایک ردا وہاں موجود نہی تھی وجہ حارث کی موجودگی اس وقت اسکو حارث کے سامنے آنے پر شرم آ رہی تھی….
….جی بی جان بولے وہ کہتا ہوا ان کے برابر میں بیٹھ گیا تھا جب کی بی جان کی دوسری سائیڈ حیا بیٹھی تھی….
…بیٹا میں تو پریشان ہو گئی ہوں تم نے اتنی جلدی شادی رکھ دی ہے یہ سب اتنی جلدی کیسے ہوگا بی جان نے اسکو اپنی پریشانی بتائی تھی…
…بی جان آپ فکر کیوں کر رہی ہے سب کچھ آرام سے اور اچھے سے ہوگا ہم سب ہے نہ آپ بےوجہ کی فکر نہ کریں…..آذان انکو سمجھا رہا تھا…
….تم ٹھیک کہ رہے ہو بیٹا ویسے بھی اب میری حیا بیٹی ہے میرے پاس وہ سب کچھ سمبھال لے گی یہاں رہ کر بی جان نے اپنے پاس بیٹھی حیا کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا……
….جب کی بی جان کی بات کا مطلب سمجھ کر حیا نے فورن ہی ازان کی طرف دیکھا تھا…
….آذان بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے کہ رہا ہو میں نے کہا تھا نہ …
…بس میں نے سوچ لیا ہے حیا میرے پاس ہی رہیگی اب اور شادی کی ساری زمیداری اسی کو دیکھنی ہے بی جان نے اپنا فیصلہ سنایا تھا….
..دوسری طرف آذان اسکو اشارے سے نہ بول رہا تھا حیا پریشان ہو گئی تھی کی کیا کرے بی جان کو انکار کرنا اسکے لئے آسان نہی تھا اور آذان کے غصّے کا بھی اسکو ڈر تھا…
….کیوں حیا میں ٹھیک کہ رہی ہوں نہ اب بی جان اسی سے مخاطب تھی اور وہ کیا کہ سکتی تھی نظریں نیچے کر کے صرف گردن ہلا کر رہ گئی تھی کیونکہ جانتی تھی آذان اسی کو گھور رہا تھا……….💖💖💖💖💖
……….
……….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖ـ
……….
💖💖💖💖💖💖آذان تم اس یہاں کیا کر رہے ہو اور صوفہ پر کیوں لیٹے ہو اپنے روم میں جاؤ وہاں آرام کرو …
….حارث جو کچن میں پانی پینے جا رہا تھا آذان کو لاؤنج میں صوفہ پر لیٹا دیکھا تو اسکے پاس آکر بولا تھا….
….کیونکہ آج کل وہ بہت بیزی رہنے لگا تھا اپنے ساتھ ساتھ آیت کی کمپنی کی بھی دیکھ بھال کر رہا تھا …
… اور سارا دن کام کی وجہ سے تھکن ہو جاتی ہوگی اس لئے وہ اسکے آرام کے خیال سے بھی بولا تھا…..
….مجھے نیند نہی آ رہی تھی تو اس لئے میں یہاں آکر لیٹ گیا آذان اٹھتے ہوئے بولا تھا..
…اب وہ اسکو کیا بتاتا کی پچھلے چار دنوں سے وہ یہیں سو رہا تھا اسکو حیا کے بغیر اپنے روم میں نیند ہی نہی آتی تھی…
….آج حیا کو وہاں پر گئے ہوئے چار دن ہو گئے تھے اور ان چار دنوں میں اس نے حیا کو دیکھنا تو دور اسکی اس سے بات بھی نہی ہوئی تھی وہ اتنا بیزی ہو گیا تھا کی وہ تھوڑا سا وقت نکال کر اس سے مل ہی آتا پر ایسا نہی ہوتا تھا …
…جبکی حارث کے ایک دو چکّر وہاں کے لگ چکے تھے…..
… اور جب بھی فون کرتا تو وہ کسی کام میں بیزی ہوتی یا گھر پر موجود ہی نہی ہوتی تھی….
…اسکو کبھی کبھی تو بہت غصّہ آتا تھا کی اس نے بی جان کو نہ کیوں نہی کی پر اس سے ہر بات کا حساب لے لیگا یہ سوچ کر وہ مسکرا دیتا تھا…
….نیند نہ آنے کی وجہ حیا تو نہی ہے مجھے ایسا لگ رہا ہے کی تم حیا کی یاد میں ہی یہاں سوتے ہو..حارث شرارت سے کہتا اسکے پاس آ بیٹھا تھا…
….یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے شادی تمہاری ہے اور میری بیوی کو مجھ سے دور کر دیا گیا تھا آذان منہ بنا کر بولا….
….کر لو برداشت ایک دو دن کی تو بات ہے پھر تو دیدار اے یار ہو ہی جائے گا….حارث مسکرایا تھا…
..اسکو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی تھی کی اسکے اور حیا کے بیچ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے اسنے خدا کا شکر ادا کیا تھا ورنہ اسکو حیا اور آذان کی بہت فکر رہتی تھی..
…..بس یہ ایک دو دن ہی ایک دو ہفتوں کی طرح لگ رہے ہے مجھے آذان بیچارہ سا منہ بنا کر بولا تو اسکی شقل دیکھ کر حارث کی ہنسی چھوٹ گئی تھی…
…ہاں ہاں ہنس لو جب تمہارے ساتھ ہوگا نہ ایسا تب دیکھوں گا تمہاری حالت میں آذان اسکی ہنسی سے چیڑ گیا تھا..
……ایسا مت بول یار تیری حالت میں دیکھ رہا ہوں میرا ایسا حال میں سوچ بھی نہی سکتا حارث ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے بولا….
…اس بار اسکی شقل دیکھ کر آذان کو بھی ہنسی آ گئی تھی دونوں کافی دیر بیٹھے یوں ہی ہنستے رہے تھے…..
…..تم نے اس دلاور پر نظر رکھی ہوئی ہے نہ آذان نے کچھ یاد آنے پر حارث سے پوچھا تھا…..
….ہاں تم بےفکر رہو میرے آدمی اس پر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہے وہ اپنے خاص ملازم بشر کے ساتھ رہ رہا ہے اس پر پل پل نظر رہتی ہے انکی ….حارث نے اسکی بات کا جواب دیا اور سیدھا ہو کر بیٹھا تھا….
….یاد رہے اس بار بھی اسکو کوئی شق نہی ہونا چاہئے….
..تم بے فکر رہو آذان اس بار بھی کوئی پروبلم نہی ہوگی حارث نے اسکو یقین دلایا تھا …..
….حارث کی بات سن کر آذان کچھ مطمعین ہوا تھا وہ حارث اور اسکے کام پر پورا بھروسہ کرتا تھا اور اگر حارث نے بولا ہے تو اسکو اب کوئی فکر نہی تھی💖💖💖💖💖💖
…………..
…………..
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖……………..
💖💖💖💖💖یہ دیکھو حیا میں نے یہ سوٹ خاص بارات کے لئے لئے بنوایا ہے…
….بی جان نے اسکی طرف ایک سوٹ بڑھاتے ہوئے کہا تھا…وہ لوگ اس وقت بیٹھی کل بارات میں پہننے کا سوٹ سلیکٹ کر رہیں تھی جب بی جان اس سے مخاطب ہوئی تھی..
…بی جان جانتی تھی کی وہ شادی کی تیاریوں میں اتنی مصروف تھی کی اسنے خود کے لئے اب تک کچھ نہی خریدا تھا…اس لئے اسکے لئے انہونے ہی سب تیاری کی تھی اسکا ہر فنکشن کا سوٹ تیار کروایا تھا….
..بی جان یہ تو بہت ہی خوبصورت ہے آپکا بہت شکریہ بی جان سوٹ کو دیکھ کر حیا خوش ہوتے ہوئے بولی تھی…
…ہاں بی جان بہت خوبصورت ہے یہ تو پاس بیٹھی ردا بھی سوٹ کو دیکھ کر بولی تھی …
…میری بیٹی اتنی خوبصورت ہے تو اسکے لئے ہر چیز بھی خوبصورت ہونی چاہئے نہ بی جان نے محبت بھری نظروں سے اسکو دیکھتے ہوئے کہا تھا…..
…انکو آذان کی پسند پر فخر ہوا تھا جب سے وہ یہاں تھی اس نے سری زممداری سمبھال رکھی تھی ردا کی ساری شوپنگ بھی اسی نے کی تھی ہر کام اسکی نگرانی میں ہو رہا تھا …..
…اچھا ہوا آذان نے تمھیں یہاں چھوڑ دیا تم نے سب کام اتنے اچھے سے سمبھالا ہے کی مجھے تو فکر ہی نہی ہے اب بی جان نے پھر سے اسکی تعریف کی تھی جسکی وہ واقعی میں حقدار بھی تھی….
….بی جان کے منہ سے اس آذان کا نام سن کر اسکی آنکھوں میں ایک دم سے اسکا چہرہ آ گیا تھا ….
…ایک ہفتہ ہو گیا تھا اسکو اس دشمن جاں کو دیکھ ہوئے ……
اس بیچ نہ وہ آیا تھا اور نہ ہی اسکی اس سے بات ہو پائی تھی کئی بار اسنے فون کرنے کے بارے میں سوچا تھا پر اسکی مصروفیت کا سوچ کر رک جاتی تھی…
…پر اسکا دل ہر وقت بچین رہتا تھا تو وہ خود کو کام میں مصروف کر لیتی تھی …
…کل مایو کے فنکشن میں وہ اسکا بہت بےصبری سے انتظار کر رہی تھی پر اسکا انتظار تب ختم ہوا تھا جب حارث نے بتایا کی وہ میٹنگ کی وجہ سے شہر سے باہر گیا ہوا ہے اور بس بارات والے دن ہی اسکی واپسی ہوگی یہ سب سن کر حیا بہت اداس ہو گئی تھی پھر پورا فنکشن میں وہ بوجھی بوجھی ہی رہی تھی…
…جاؤ بیٹا یہ سب اپنے روم میں رکھ آؤ بی جان اسکو خاموش دیکھ کر بولی تھی …
…انکی بات سن کر حیا اپنے روم کی طرف چل دی تھی وہ لوگ اس وقت ردا کے روم میں ہی تھے اور ردا کا روم بھی اپر ہی تھا…
….اس نے اپنے روم کا دروازہ کھولنے کے لئے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا تھا اسکے روم کا دروازہ خد ہی کھلا اور اسکا بڑھا ہوا ہاتھ کسی نے پکڑ کر اسکو روم میں اسکو کھینچا تھا….💖💖💖💖💖….جاری ہے …..
