Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

💖💖💖💖💖..گھر میں اتنے سارے لوگوں کے موجود ہونے کے بعد بھی تم اکیلے کیوں بیٹھی ہو یا تمھیں اکیلے رہنے کا شوق ہے وہ لان میں لگے پودہو کو دیکھتی کسی گہری سوچ میں گم تھی جب اسے اپنے پیچھے سے کسی کی آواز آئ اسنے پلٹ کر دیکھا تو حارث کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا..
..نہی ایسی بات نہی ہے بس کبھی کبھی انسان کا اکیلے رہنے کا دل کرتا ورنہ اپنوں کو چھوڑ کر کون اکیلا رہنا پسند کرتا ہے..اسنے حارث کی بات کا جواب دے کر گردن پھر سے موڈ کر پودہو کو دیکھنے لگی تھی شام کا وقت تھا اور اس وقت ہرا بھرا لان بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا..
..اور اگر کوئ آپکے اکیلےپن کا ساتھی بننا چاہے اور آپکے اس کبھی کبھی کے اکیلے پن کو بھی دور کر دے پھر آپکو کبھی اکیلاپن محسوس ہی نا ہونے دے تو..
… اس بار حارث اسکے سامنے آکر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا…
..اسکی بات سن کر ردا نے ایک پل کے لیے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا اور اسکو کیا کچھ نہی نظر آیا تھا ان آنکھوں میں اپنے لیے پیار اذّت اور ہر وہ چیز جو وہ آذان کی آنکھوں میں اپنے لئے دیکھنا چاہتی تھی …
جب کوئ انسان اندر سے ہی اکیلا ہو تو کسی کی موجودگی بھی اسکا اکیلاپن دور نہی کر سکتی وہ اسکی آنکھوں میں زیادہ دیر دیکھ ہی نہی سکی تھی…اسلئے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی تھی..
..تم نے میری بات سمجھی نہی شاید اگر کوئ تمہارے اکیلےپن کا ساتھی بننا چاہے نہ کی تمہارے اکیلے پن کو دور کرے اس بار حارث نے اپنی بات پر زور دیتے ہوے کہا تھا آج وہ سوچ کر آیا تھا کی ردا سے اپنی دل کی بات ضرور کہ دیگا کی وہ اسکو کتنا چاہتا ہے اور ابھی بھی وہ ایک چھوٹی سی کوشش کر رہا تھا اپنے دل کی بات اس تک پہوچانے کی جب کی وہ اسکی سننے کو تیار ہی نہی تھی اور حارث آج ہار نہی ماننا چاہتا تھا..
…ردا نے حارث کی بات سن کر اسکی طرف دیکھا تھا اسے حارث کی باتوں میں سچائ لگی تھی اسکی آنکھیں جھوٹ نہی بول رہی تھی پر وہ بھی مجبور تھی اس لئے اسکی بات کا جواب نہ دے کر خاموشی سے اندر جانے لگی تھی جب حارث کی آواز پر اسکے قدم رکے تھے..
جب کوئ آپسے بات کرتا ہوا ہو تو اسکی بات کا بنا کوئ جواب دیے نہی جانا چاہیے..وہ اسکو جاتا ہوا دیکھ کر بولا تھا حارث کو اسکا یوں جانا اچھا نہی لگا تھا ..
..جن باتوں کا جواب ہمارے پاس نہ ہو اس میں خاموشی ہی اختیار کر لینی چاہیے ردا کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی تھی اور پھر اس نے پھر سے اپنے قدم بڑہا دیے تھے..
..جس بات کا جواب ہم دینا نہی چاہتے اور خاموش ہو جاتے ہے اسے میری نظر میں بات سے بھاگنا بھی کہتے ہے اس نے اسکے جانے پر طنز کیا تھا…
..مجھے بی جان بلا رہیں ہے وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتی وہا سے بھاگی تھی وہ ٹھیک ہی تو کہ رہا تھا وہ اس سے بھاگ ہی تو رہی تھی..
..اسکے اس طرح بھاگنے سے حارث مسکرایا تھا کیوں کی وہ جان گیا تھا کی جو بات وہ اس کو بتانے آیا تھا وہ بات اس تک پہونچ گئ تھی اور وہ دن بھی جلد آےگا جب وہ اسکو اپنے پیار کا یقین بھی دلا دیگا 💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖ہمیشہ کی طرح آج پھر اس روم میں رونے کی آواز گنج رہی تھی لیقیں آج وجود بدل گیا تھا جو نور کو پچھلے دو مہینو سے اس کمرے میں روتا ہوا دیکھتا تھا آج وہ خود اسکے جانے کے غم میں رو رہا تھا..
…دادا جان کی طرح آج نور بھی اسکو چھوڑ کر چلی گئ تھی اسکے دادا جان تو نور کے غم میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے اور آج نور بھی اپنا غم برداشت کرتی کرتی اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی…
…اسکو آج لگ رہا تھا کی اسکا اس سے سب کچھ چھینتا جا رہا ہے جب وہ دس سال کا تھا تو ماں باپ کا سہارا انکے سر سے اٹھ گیا تھا اور پھر دادا جان اور بی جان نے ان تینو کو سمبھالا تھا وہ لوگ اتنے امیر بھی نہی تھے دادا جان نے ان لوگو کو پالا تھا وہ انکو کسی کمی کا احساس بھی نہی ہونے دیتے تھے…دادا جان کے چلے جانے کے بعد وہ بلکل ٹوٹ چکا تھا لیقیں اسکو سمبھالنا پڑا تھا اپنی نور کے لیے لیقیں وہ بھی آج اسکو اکیلا چھوڑ کر چلی گئ تھی اور آج اس پندرہ سالہ بچچے کو لگ رہا تھی کی وہ آج بڑا ہو گیا ہے…
…تم کمزور مت بننا جیسے ہم تھے تم اتنے طاقتور بننا کی کوئ تمہارے ساتھ برا کرنے کا سوچے بھی نہ اور تم بدلہ لینا اپنی بہن کا جسنے تمہاری بہن کے ساتھ اتنا برا کیا ہے تم اسکو سزا دینا اسکو برباد کر دینا سب کچھ چھین لینا اسکا..
..ایک دم اسکے کانو میں نور کے آخری الفاظ گنجے تھے وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا تھا..
…میں وعدہ کرتا ہوں نور تمہارے مجرم کو سزا دونگا میں اسکے پاس اسکا کچھ بھی نہی رہنے دونگا وہ بھی ایسے ہی تڑپےگا جیسے تم تڑپتی تھی یہ میرا وداع ہے تمسے نور اس وہ وقت پندرہ سال کا بچچہ کہیں سے بھی نہی لگ رہا تھا اسکی آنکھوں میں بدلے کی آگ تھی جس میں وہ سب کچھ جلا دینا چاہتا تھا…💖💖💖💖

💖💖💖💖💖وہ جب روم میں آئ تو آذان کو اپنی جگہ پر لیٹا پایا تھا وہ کوئ کتاب پڑھ رہا تھا اور وہ اس لئے جان کر لیٹ آئ تھی اسنے سوچا آذان سو گیا ہوگا لیکن اسکو جاگتا دیکھ کر حیا ایک پل کے لیے رکی تھی پھر خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے ڈریسنگ روم میں گھس گئ وہا سے کافی ٹائم بعد نکلی تو بھی وہ جاگ رہا تھا وہ پھر اسکو نظر انداز کرتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی ہو کر چیزے ادھر ادھر کرتی رہی…
… کچھ دیر ایسا کرنے کے بعد صوفہ پر بیٹھ کر معگزین دیکھنے لگی اور آذان کے سونے کا انتظار کرنے لگی تھی..
..جبکی آذان بظاہر تو بک پڑھ رہا تھا مگر اسکا سارا دھیان حیا کی حرکت پر تھا وہ جان بوجھ کر کتاب لے کر لیٹا رہا..
.. اگر نیند نہی آ رہی ہے تو اپنی پیکنگ کر لو ہم کل واپس جا رہے ہیں کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اسکو آذان کی آواز سنائی دی تھی اسکی آواز سن کر حیا نے چونک کر سامنے دیکھا تو وہ اسی کو دیکھ رہا تھا حیا کو لگا تھا اب تک وہ سو چکا ہوگا کیوں کی اسکو نیند آ رہی تھی پر اسکی بات سن کر اب نیند اڑ گئ تھی..وہ ایسے ہی بیٹھی رہی جیسے اسنے اذان کی بات سنی ہی نا ہو…
..میں نے کیا بولا ہے اپنی پیکنگ کر لو کل ہم جا رہے ہے اسکو ایسے ہی بیٹھا دیکھ کر وہ پھر سے بولا تھا اسنے پہلے ہی اپنی پیکنگ رانی سے کروا لی تھی اب اسکو حقم دے رہا تھا..
..میں تمہارے ساتھ کہیں نہی جا رہی ہوں اسنے بنا اسکی طرف دیکھ جواب دیا تھا اور ایسے بیٹھی رہی جیسے وہ یھا ہو ہی نہی..
..اسکا جواب سن کر آذان کے ماتھے پر بل پڑ گیے تھے بک ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے اٹھ کر بیٹھا تھا..
تم شاید بھول گئ ہو مجھے اپنی بات دوہرانے کی عادت نہی ہے جو بولا ہے وہ کرو جا کر اس بار اس کی آواز میں سختی تھی..
..میں بول رہی ہوں میں تمہارے ساتھ نہی جاؤنگی میں یھا بی جان کے پاس رہنا چاہتی ہوں مجھے یہیں رہنے دیں حیا کو اسکی سختی سے کی گئ بات سے ڈر تو لگا تھا مگر وہ اسکے ساتھ جانا نہی چاہتی تھی اس لئے بولنا اسکی مجبوری تھی..
..اسکو پھر سے ضد کرتے دیکھ کر آذان کو اپنے غصّے پر کنٹرول کرنا مشقل ہو گیا تھا وہ ایک دم سے بیڈ سے اٹھا اور ایک ہی جست میں اسکے پاس جاکر اسکا بازو سختی سے اپنی گرفت میں لے کر اسکو اپنے مقابل کھڑا کیا تھا..
..حیا پہلے کی طرح اب بھی اس حملے کے لئے تیار نہی تھی اسکی سخت پکڑ سے وہ ڈر گئ تھی..
..تمھیں میری بات ایک بار میں کیوں سمجھ نہیں آتی کیوں تم میری بات نا مان کر مجھے زبردستی کرنے پر مجبور کرتی ہو بولو کیوں آذان اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا اس نے حیا کا دوسرا بازو بھی اپنی سخت گرفت میں لے لیا تھا..
..اسکی سخت گرفت اور آنکھوں میں غصّہ دیکھ کر اس میں بولنے کی ہمّت ہی نہیں ہو رہی تھی آج تک اس سے کسی نے اس طرح بات نہی کی تھی یا اسکی زندگی ماں باپ کے علاوہ کوئی تھا ہی نہی جو اس طرح بات کرے اسکی زندگی میں اتنا کچھ ہو گیا تھا لیکن پھر بھی اسکو عادت نہی ہوئی تھی ان سب کی اور آذان کو ایسے دیکھ کر تو اسکو آذان سے اور ڈر لگنے لگا جاتا تھا..
..اپر سے اسکا خاموش رہنا اور اسکی بات نہ ماننا آذان کو اور غصّہ دلا جاتا تھا جب کی اسی کے ڈر کی وجہ سے حیا کی بولتی بند ہو جاتی تھی اور آذان سوچتا تھا کی وہ ضد میں ایسا کرتی ہے…
..جبکی شاید وہ یہ بھی بھول چکا ہے کی وہ اسکے ساتھ کتنا بڑا ظلم کر چکا ہے اگر حیا اسکے ساتھ ایسا کرتی ہے تو کچھ غلط نہی تھا اگر وہ اپنی غلطی سمجھتا تو حیا کا اسکی بات نا ماننا یا اسکی بات کا جواب نا دینا برا نہی لگتا..
..میں کیا بول رہا ہوں سنائی نہی دیا تمھیں اسکا خاموش رہنا آذان کو اور غصّہ دلا رہا تھا..
..مجھے بی جان کے پاس رہنا ہے وہ ڈرتے ڈرتے اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی آذان کے ڈر سے اسکے بولتے ہوئے ہونٹھ بھی کانپ رہے تھے..آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے جو گرنے کو بےتاب تھے..اور اسکی پھر سے سخت آواز پر وہ رکے ہوئے آنسو بہ نے لگے تھے..
..جبھی ..آذان کی نظر اسکی آنکھ سے گرتے آنسو پر پڑی آنسو کے سفر کے ساتھ ساتھ آذان کی آنکھیں بھی سفر کر رہی تھی اسکو یہ منظر بہت ہی خوبصورت لگا تھا اسکا آنسو تو ٹوٹ کر زمیں پر گر گیا تھا پر آذان کی نظریں اسکے کانپتے ہونٹھوں پر رکی تھی آذان نے حیا کو مزید اپنے قریب کیا تھا اتنا کی دونوں کے بیچ بہت ہی کم فاصلہ رہ گیا تھا..
حیا اسکی اس حرکت سے بوکھلا گئ اس نے خود کو دور کرنا چاہا پر آذان کی گرفت اب سخت نہی پر مضبوط تھی..
..آذان نے ایک ہاتھ سے آیت کے چہرے پر آے بال پیچھے کیے اور پھر سے نظریں اسکے ہونٹھوں پر کی جیسے ہی وہ اس پر جھکنے لگا تھا حیا نے موقے کا فایدہ اٹھایا تھا اور ایک جھٹکے سے خود کو اس سے آزاد کرا کر دور ہوئی تھی…
…آذان کو اسکا اس طرح کرنا بلکل اچھا نہی لگا تھا پر خود پر ضبط کر گیا گیا تھا..
..جب میرے غصّے کو برداشت نہی کر سکتی تو میری بات ایک بار میں ہی ماں لیا کرو اب جاؤ اور اپنی پکنگ کرو جاکر میں اب دوبارہ نہی کہونگا وہ ایک نظر اسکو دیکھتا بیڈ پر آکر لیٹ گیا تھا اور حیا اپنے آنسو پتی پکنگ کرنے چلی گئ تھی جانتی تھی اب وہ اسکو لے جا کر ہی رہیگا اور ھر بار کی طرح وہ اب بھی کچھ نہی کر سکے گی 💖💖💖💖💖