Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

💖💖💖💖💖یہ ازلان کہاں ہے جب سے یونی سے آیا ہے نظر ہی نہی آیا ہے بی جان نے ردا سے پوچھا جو انکے پاس صوفہ پر ہی بیٹھی ٹیوی دیکھ رہی تھی…
..بی جان سو رھا ہے جب سے یونی سے آیا ہے میں کتنی بہار جا چکی ہوں اسکے روم میں اٹھانے کے لیے پر نہی اٹھا ردا نے ٹیوی بند کرتے ہوے کہا تھا…
…اچھا تم رانی کو بولو کی وہ اٹھا کر آیے ورنہ رات میں اسکو نیند نہی آےگی اگر ایسے ہی سوتا رہا تو بی جان نے فکر مندی سے کہا تھا..
..ٹھیک ہے بی جان وہ اتنا کہ کر جانے لگی تھی جب فون کی گھنٹی پر اسکو رکنا پڑا تھا..
..ہیلو اسنے جیسے ہی بولا اسکی آواز پہچان کر حارث کو خوشی سی محسوس ہوئ تھی اسنے تو سوچا بھی نہی تھا کی وہ اسکی کال پک کریگی..
..السلام عليكم کیسے ہیں آپ حارث نے اسکو جواب میں سلام کیا تھا اور اسکی خیریت معلوم کی تھی…
…وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں اسکی آواز سن کر ایک پل کے لئے ردا گھبرا گئ تھی…
…کچھ کام تھا آپکو ردا نے اسکے فون کر نے کا مقصد پوچھا تھا وہ جلد سے جلد فون رکھنا چاہتی تھی اسنے گردن موڑ کر دیکھا تو بی جان کوئ کتاب پڑھنے میں مگن تھی…
…ہاں میں کب سے ازلان کو فون کڑ رہا ہوں پر وہ پک نہی کر رہا ہے اس لیے میں نے سوچا گھر پر کر کے پوچھ لوں کہاں ہے وہ حارث نے اپنی بات تفصیل سے بتائی تھی سچ تو یہ تھا جس پریشانی میں وہ ازلان کو فون کر رہا تھا ردا کی آواز سن کر وہ اپنی پریشانی جیسے بھول ہی گیا تھا..
..جی وہ اپنے روم میں سو رہے ہیں میں ابھی جا کر اسکو اٹھا تی ہوں اور آپکے کال کا بتاتی ہوں ردا جلدی جلدی بات ختم کار کے فون رکھنا چہ رہی تھی..
..اچھا ٹھیک ہیں اور…اسکی پوری بات سن نے پہلے ہی ردا نے فون رکھ دیا تھا اور اسکا اس طرح سے کرنا حارث کو اس پریشانی میں بھی مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا…
..کیوں کرتی ھو تم میرے ساتھ ایسا وہ اپنی سوچ میں ردا سے مخاطب تھا..
..کیا ہوا بیٹا کس کا فون تھا اسکے فون رکھنے کے بعد بی جان نے اس سے پوچھا تھا..
..بی جان حارث کا فون تھا وہ ازلان سے بات کرنا چہ رہے تھے ردا نے بی جان کی طرف دیکھتے ہوے کہا تھا…
…اچھا آذان کے بارے میں کچھ نہی کہا اسنے انہونے اس سے ایک اور سوال پوچھا تھا..
..نہی بی جان بس ازلان سے بات کرنی تھی انکو وہ خود بھی آذان کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی پر ایسا کر نہی سکتی تھی آذان روز ہی بی جان کے پاس کال کرتا تھا اور ان سے ہی اسکو آذان کی خیریت کے بارے میں پتا چل جاتا تھا جو اسکے لئے کافی تھا…
…جاؤ جاکر تم ہی اسکو اٹھا کار آ جاؤ کیا پتا حارث کو کوئ ضرور بات کرنی ہو بی جان اسکو وہیں کھڑا دیکھ کر بولی تھی انکی بات سن کر ردا اپنی سوچوں سے باہر نکلی تھی اور پھر ازلان کے روم کی طرف چل دی تھی..💖💖💖💖💖
..
💖💖💖💖💖اور چند لوگوں کی موجودگی میں اسکا نکاح ہوا وہ حیا احمد سے حیا آذان شاہ ہو گئ تھی کتنا کچھ ہو گیا تھا اسکے ساتھ وہ روئی چیخی خود کو بچانے کی کوشش کی پر کہتے ہے نہ جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہی کر سکتا ….
…وہ اسی کمرے میں بیٹھی اپنی اب تک زندگی میں آ چکی مشقلوں کے بارے میں سوچ رہی تھی اس وقت اسنے ریڈ کلر کا بہت ہی خوبصورت سا سوٹ پہنا ہوا تھا آخر وہ آذان شاہ کی بیوی بن چکی تھی کھانا اسکے سامنے ایسے ہی رکھا ٹھنڈا ہو رہا تھا…
..اور وہ کھاتے بھی کیسے جب انسان کا دل ہی اٹھ جائے ہر چیز سے تو بھوک بھی محسوس نہی ہوتی ہے وہ اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھی کی اسکو اپنے اپر جمی آذان کی نظریں بھی محسوس نہی ہوئی تھی…
…یہ تمہارے کھانے کے لیے بھیجا تھا اسکو دیکھنے کے لیے نہیں وہ کب سے دروازے میں کھڑا حیا کو دیکھ رہا تھا وہ خوبصورت تو تھی ہی پہلی بار اسکو دیکھتے ہی اسکے دل نے عتراف کیا تھا اپنی تیس سالہ زندگی میں اسکے دل نے اگر کسی کے لیے اپنی بیٹ مس کی تھی تو وہ ہی تھی اگر وہ اسکو کہیں اور ملتی تو حالات کچھ اور ہوتے اسنے اس سے شادی اپنی غلطی سدھارنے کے لیے کی تھی اور اسکے ذریے وہ دلاور کی بیٹی تک آسانی سے پہونچ سکتا تھا..
..مجھے بھوک نہی ہے اور تم اس میں بھی مجھ سے زبردستی نہیں کر سکتے ہو وہ بےرخی سے کہتی ہوئی رخ موڑ گئ تھی..اور ایک بار پھر آنکھیں نمکن پانی سے باہر گئی تھی …
..تم چاہتی ہو میں اس میں بھی تم سے زبردستی کروں وہ قدم قدم چلتا اسکے پاس آ رہا تھا اسکو پاس آتے دیکھ حیا کو گھبراہٹ ہونے لگی کچھ دیر پہلے بندھے زبردستی کے بندھن کا احساس ہوا تھا اسکو..
..مجھے جب بھوک ہوگی میں کھانا کھا لونگی اسکو اپنے قریب آتا دیکھ وہ گھبرا کر بولی تھی وہ اسکی گھبراہٹ صاف محسوس کر سکتا..
چلو میں جب تک یہیں بیٹھا ہوں جب تک تمھیں بھوک نہی لگتی وہ اسکے برابر ہی آکر بیٹھ گیا تھا اسکے پاس بیٹھ تے ہی وہ تھوڑا دور خسک گئ تھی..
…کچھ دیر تو وہ اسکے جانے کا انتظار کرنے لگی جو اسکو ایک ٹک بس دیکھ ہی جا رہا تھا حیا کی ہتھیلی پسینے سے گلی ہونے لگی تھی …اسکو آذان کا بٹھانا عجیب لگ رہا تھا..
..جبکی دوسری طرف آذان کو اس بات سے کوئ فرک ہی نہی پڑ رہا تھا وہ تو ایسے بیٹھا تھا جیسے انکے بیچ سب نارمل ہو…
.. کچھ دیر تو وہ اسکے جانے کا انتظار کرتی رہی اور جب اسکو لگا کی وہ نہیں جاےگا تو اسکی نظروں سے بچنے کے لئے جلدی سے حیا نے پلیٹ ہاتھ میں لے کر کھانا کھانے لگی تھی اسکی جلد بازی پر ایک پل کے لیے آذان کے ہونٹھوں پر مسکراہٹ آئ تھی وہ بھی بس ایک پل کے لئے جسکو حیا دیکھ نہی سکی تھی..
..اسنے جلدی جلدی اپنا کھانا ختم کیا اس نے اتنے دن میں پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا اور یہ بات آذان جانتا تھا اس لیے وہ جان بوجھکر اسکے پاس بیٹھ گیا تھا ورنہ وہ ایسے ہی بیٹھی رہتی اسکے کھانا ختم کرتے ہی وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی اٹھ کر چلا گیا تھا..
..یہ ناٹک کی کیا ضرورت تھی کی تمھیں میری بہت فکر ہے بلکی حقیقت تو یہ ہے کی تم جیسے لوگ جو صرف بدلہ لینا چاہتے ہیں انکو لوگوں کے احساسات کی کوئ فکر نہی ہوتی ہے اسنے غصّے سے آذان کے بارے میں سوچا اور پھر اپنے آنسو صف کے جو اپنی بےبسی پر آ رہے
تھے….💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖ازلان میری بات سن نا زرہ ازلان باہر جا رہا تھا جب بی جان کی آواز سن کر انکے پاس چلا آیا اور انکے ساتھ ہی صوفہ پر آکر بیٹھ گیا تھا
..تم کہاں جا رہے ہو اس وقت کہیں نہیں بی جان بس ذرا اپنے دوستوں کے پاس جا رہا تھا آپکو کچھ کام تھا کیا..اسنے بی جان کو بتایا ساتھ ہی انسے اسکو روکنے کی وجہ بھی پوچھ لی تھی..
..کام تو نہی تھا بس مجھے تم سے اور آذان سے ایک بات کرنی تھی آذان تو اب پتا نہی کب آےگا اور وہ بات میں تم دونوں کے سامنے کرنا چاہتی ہوں بی جان بولی..
..تو آپ ایسا کریں کی آپ ابھی بھائی سے فون پر کر لیں اس طرح مجھے بھی پتا چل جاےگی آپکی بات اس نے بی جان کو مسلے کا حل بتایا تھا..
..نہی ازلان وہ بات فون پار کرنے والی نہیں ہے میں اس کے سامنے کرنا چاہتی ہوں بی جان سنجیدہ تھی..
..کوئ پرشانی والی بات ہے کیا بی جان انکی بات سن کر ازلان اس بار تھوڑا پریشان ہوا تھا..
..ارے نہی بیٹا کوئ پرشانی والی بات نہی ہے بس کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کی انکو فون پر نہی کیا جاتا بی جان اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوے بولی تھی..
..آپنے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا انکی بات سن کر وہ کچھ پرسکون ہوا تھا..
..اس سے پہلے کی بی جان اسکی بات کا جواب دیتی کی بی جان کا موبائل بجنے لگا تھا سکرین پر آذان کا نمبر دیکھ کر مسکرا دی تھی جبکی ازلان انکی مسکراہٹ کو دیکھ کر سمجھ گیا تھا کی کس کی کال ہے..
..السلام عليكم بی جان کسی ہیں آپ کال ریسیو کرتے ہی آذان نے سلام کیا تھا..
..وعلیکم السلام میری جان میں ٹھیک ہوں اور ابھی ازلان سے میں تمہاری ہی بات کر رہی تھی بی جان ہمیشہ ہی اسکی آواز سن کر خوش ہو جاتی تھی..
..میری بات کیوں آپکو پھر سے کوئ شکایات ہے مجھ سے آذان انکی بات سن کر بولا تھا..
..نہی بیٹا میں آذان کو بول رہی تھی کی پتا نہی آذان اب کتنے دن میں آےگا بیٹا پہلے کی طرح زیادہ دن مت لگانا وہ فکرمندی سے بولی تھی..
..نہی بی جان میں نے اس لیے ہی آپکو کال کی تھی میں کل آ رہا ہوں آپکو کسی سے ملوانا ہے مجھے آذان نے جلدی سے اپنی بات کہی تھی..
..تم سچ کہ رہے ہو کل آ رہے ہو تم بی جان کو یقین نہی آیا تھا کی وہ اتنی جلدی آنے کا کہ رہا ہے ورنہ وہ دس یا پندرہ دن میں صرف ایک دن کے لیے آتا تھا..
..جی بی جان کل آ رہا ہوں میں اور باقی باتیں کل ہوگی انشاللہ اب میں فون رکھتا ہوں آپ آرام کریں اور اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ اسنے جلدی سے کہ کڑ فون رکھ دیا تھا اسکو لگا تھا بی جان یہ نہ پوچھ لے کی وہ کس سے مل وانے کی بات کر رہا ہے ..
چلو کل بھائی آ رہے ہیں تو آپ کل ہی وہ بات کر لینا بی جان ازلان بھی خوش ہوا تھا اسکا آنے کا سن کر ..
..ہاں تم ٹھیک کہ رہے ہو اب کل ہی میں اس سے بات کرونگی بی جان مسکرا کر بولی تھی اس بات سے بے خبر کی کل جو وہ سوچ رہی ہے کل اس سے بلکل الگ ہونے والا تھا