Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

💖💖💖💖💖کیسے ہو میری جان تم تو ہمیں بھول ہی گئی ہو اسلئے ہمنے سوچا کیوں نا ہم خود ہی مل لے تم سے آکر وہ اسکول سے گھر واپس آ رہی تھی جب فرقان اسکا راستہ روک کر کمینگی مسکراہٹ کے ساتھ اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا …حیا جو جلدی جلدی میں گھر جا رہی تھی اسکا اس طرح راستہ روکنے سے گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی تھی ..
ارے میری جان ہم سے کیسا شرمانا ..اس نے ایک آنکہ دباتے ہوئے کہا اسکا لہزہ اور آنکہ دبانے سے وہ اور بھی ڈر گئی تھی ..اور ایسا ہمیشہ ہوتا تھا فرقان اسی طرح سے اسکے ساتھ ایسی حرکتے کرتا تھا کبھی اسکا راستہ روک کر تو کبھی کوئ غلط بات بول کر اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہی کر پاتی تھی کئی بار اسنے اپنے بابا سے اسکے بارے میں بات کرنے کی کوشس کی تھی پر انکی بیماری کی وجہ سے چپ رہی تھی اور اسکا چپ رہنا ہی اسکو نکسان دے سکتا تھا اور اسکو اس بات کی خبر نہی تھی …بہت افسوس ہوا تمہارے باپ کے بارے میں سن کر پر تم پریشان مت ہو تم اکیلی نہی ہو اب میں ہوں نہ تمہارے ساتھ وہ ایک بار پھر بولا تھا اور ..اس نے کہنے کے ساتھ ساتھ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا تھا…
..میرا راستہ چھوڑو مجھے جانے دو پلز وہ اسکا ارادہ بھانپ کر اس سے دو قدم اور دور ہوتے ہوئے بولی تھی اسکی نظرے ادھر ادھر کسی کو اپنی مدد کے لئے تلاش کر رہی تھی پر اس وقت گلی سنسان ہونے کی وجہ سے کوئی اسکو اپنی مدد کے لئے نظر نہی آ رہا تھا…
….کیسے چھوڑ دوں میری جان ابھی تو راستے صاف ہوئے ہے میری جان ویسے اچھا ہوا جو تمہارا باپ جلدی ہی ختم ہو گیا کیوں کی اب مجھ سے اور انتظار نہی ہوتا اسکا جملہ ابھی پورا بھی نہی ہوا تھا کی ایک تھپڑ کی آواز گونجی تھی اور اسکی چلتی زبان رک گئی تھی…
…تمہاری …ہمّت …کیسے …ہوئی ..میرے ..بابا ..کے …بارے ..میں ایسا ..بولنے ..کی …اس نے ڈرتے ڈرتے اسکی طرف دیکھا جو اسکو خوںخار نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ..اپنے بابا کے بارے میں ایسی بات سن کر اسمے اتنی ہمّت کہا سے آ گئی تھی یہ وہ خد بھی نہیں جانتی تھی ..جبکی وہ اب اس سے ڈری ہوئی تھی ..
تیری اتنی ہمّت سالی کی تونے مجھے پر ہاتھ اٹھایا ..فرقان نے اسکو بالوں سے پکڑا اور دہاڈتے ہوئے کہا …
مو..مجھے …جا …جانے.. دو …پلز ..حیا نے روتے ہوئے اپنے بالوں کو چھڑوا نے کی کوشش کی لیکن اسکی پکڑ مضبوط تھی …
جانےدو تجھے ہاں تجھے تو اب میں بتاؤنگا ..تیرا تو میں وہ حال کرونگا کی تو کیا تیری تو روح بھی مجھسے پناہ مانگیں گی اور اپنے اس تھپڑ کی وجہ سے بہت پچھتےگی ..اسنے اسکو ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا اور اسکے چھوڑنے سے حیا بنا اسکی طرف دیکھے اپنے گھر کی طرف بھاگی تھی ….اب تجھے مجھسے کوئی نہی بچا سکتا میری جان وہ اسکی پیٹہ دیکھتے ہوئے بولا تھا اور شیطانی مسکراہٹ اسکے ہونٹھوں پر تھی 💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖پلیز مجھے جانے دو میرے بابا پریشان ہو رہے ہونگے پلیز میں تم سے معافی مانگتی ہوں انکو معاف کر دو مجھے جانے دو وہ جیسے ہی روم میں آیا وہ اسکے سامنے آکر اس سے ہاتھ جوڑ کر فریاد کرنے لگی تھی..
اسکا غصّہ دیکھ کر وہ اس سے ڈرنے لگی تھی اور اسکو یہ ہی بہتر لگا کی وہ اس گناہ کی معافی مانگ لے جو اسنے کیا ہی نہی ہے ..
..میرے سامنے یہ ناٹک کرنے کی کوئ ضرورت نہی ہے تم جتنی معصوم بن رہی ہو نہ اتنی معصوم ہو نہی تم گھٹیا باپ کی گھٹیا اولاد ہو اور تمہارا باپ ایک گرا ہوا انسان ہے اسکے جیسا کمینا انسان میں نے آج تک نہی دیکھا آذان کو اسکی یہ ساری باتیں ناٹک لگی تھی اور اسکا اپنے باپ کے لئے مافی مگنے سے اسکا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا..
بس چپ ہو جاؤ گھٹیا وہ نہیں تم ہو تم نے ایک لڑکی کو زبردستی اپنے گھر میں بند کر کے رکھا ہے اور اس سے بڑی گھٹیا حرکت اور کیا ہوگی اور بابا نے جو تمہارے ساتھ کیا ہے نہ بہت ساہی کیا ہے تم اسی لایق ہو .اس بار وہ بھی اپنی ہمّت جمع کرکے بولی تھی…ایک تو وہ اس سے معافی مانگ رہی تھی منّت کر رہی تھی اس سے پر وہ تھا اسکے بابا کے لیے غلط الفاظ استمال کر رہا تھا
وہ اور بھی کچھ بولتی کی..
چٹاخ کی آواز پورے کمرے میں گنجی تھی اور اسکی چلتی زبان ایک تھپڑ نے بند کر دی تھی..
..تمہاری اتنی ہمّت کی تم میرے سامنے زبان چلاؤ گی..اسنے دہاڈتے ہوئے کہا …
ہاں چلاونگی زبان تم جسے مرد اپنی ہوس مٹانے کے لئے معصوم لڑکیوں کو اٹھاتے ہو اور ..اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتی اذان کا ہاتھ ایک بار پھر اسکے گال پر اپنے نشان چھوڑ گیا تھا ..
کیا کہا تم نے ہوس میٹانے کے لئے میں تمہیں یہاں لے کر آیا ہوں …اذان نے اسکو بالو سے پکڑ کر کھڑا کیا جو اسکے تھپڑ کی وجہہ سے نیچے گر گئی تھی ..
حوس کہا نہ تم نے تو حوس ہی سہی اور اب جو تمہارے ساتھ ہوگا وہ بھی ساہی ہوگا تم اسی لایق ہو اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو بیڈ پر گرا دیا تھا اس اچانک آفت کے لیے وہ بلکل تیار نہی تھی اسنے اٹھنا چاہا پر آذان اس کے اپر جھکا اور اسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا..
..یہ..یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے پلیز ایسا مت کرو آذان کی اس حرکت سے آیت کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی …
..تم نے حوس کہا تھا نہ مجھے اب میں تمہیں بتاتا ہوں کی ہوس ہوتی کیا ہے..آیت کی باتیں سن کر اسکا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا..
..وہ خود کو اس سے آزاد کرا نے کوشش کر رہی تھی لیکن اسکی مضبوط پکڑ کے آگے وہ کچھ نہ کر سکی تھی
..مو..مجھے معاف کر دو پلیز ایسا مت کرو تم ٹھیک نہی کر رہیں ہو بہت پچھتاؤ گے تم رک جاؤ خدا کے لیے جب اسکی پکڑ سے خود کو آزاد نہ کرا سکی تو وہ اس سے روتے ہوئے گزارش کر رہی تھی لیکن سامنے والے کو اس سے کوئ فرک نہی پڑ رہا تھا وہ روتی رہی فریاد کرتی رہیں لیکن آذان نے اسکی ایک نہ سنی تھی..
آیت کی بات سن کر اسکا غصہ مزید بڑھ گیا تھا وہ اس وقت سب کچھ بھول گیا تھا اسکو تو بس اتنا یاد تھا کی وہ گنہگار کی بیٹی ہے اور اسکے کیے کی سزا وہ اسکو دے رہا تھا اور وہ اپنے غصے میں سہی اور گلت سب بھول گیا تھا … 💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖💖آج پتا نہیں کیوں بی جان کا من بہت گھبرا رہا تھا اور پتا نہیں کیوں کچھ بیچینی سی تھی انکے اندر جو وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی انکو بس اذان کی فکر ہو رہی تھی اس ہی فکر میں وہ چلتی ہوئی اذان کے روم میں جیسے ہی ای تو وہ چوک گئی ..
تم یہاں کیا کر رہی ہو..ردا اس وقت آذان کے کمرے میں اسکے بیڈ پر بیٹھی اسکی خوشبو کو محسوس کر رہی تھی اسکا روز کا معمول تھا کالج سے آکر وہ کچھ دیر اسکے روم میں بیٹھ کر وقت بیتا تی تھی اور آج بھی وہ اسکے کمرے میں تھی جب بی جان کی آواز سن کر گھبرا کر بیڈ سے کھڑی ہو گئی..
کچھ نہی بی جان میں دیکھ نے آئ تھی کی اس کمرے کی صفائی ہوئی ہے یا نہی وہ اپنی گھبراہٹ پر کابو پاتے ہوے بولی تھی …
..اسکی بات سن کر بی جان مسکرا دی اور پھر چلتے ہوئے اسکے پاس آئ اور اسکو لیکر بیڈ پر بیٹھ گئ..
..تم پوری دنیا سے چھپا سکتی ہو لیکن اپنی بی جان سے نہیں بچپن سے جانتی ہوں تمہیں کیا لگتا ہے تمہری آنکھیں نہی پڑھی میں نے وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولی تھی..انکی یہ خواہش تو ہمیشہ سے تھی.
..انکی بات سن کر ردا کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا تھا بی جان ایسا کچھ نہی ہے آپ غلط سوچ رہیں ہے وہ اپنی شرم اور گھبراہٹ پر کابو پاتے ہوئے بولی..
..میں نے ابھی تم سے کیا کہا کی تم سب سے چھپا سکتی ہی ہو مگر اپنی بی جان سے نہیں آنے دو آذان کو اس بار بات کرونگی اس سے کی اب مجھے اسکی جلد سے جلد شادی کرنی ہے لڑکی تو میں کب کی دیکھ چکی ہوں بی جان شرارت سے بولی تو وہ اپنا ہاتھ بی جان سے چھوڑا کر بھاگتی ہوئی وہا سے چلی گئی تھی اور پیچھے بی جان اسکو آواز ہی دیتی رہ گئی تھی… بی جان ردا سے بات کرنے کے بعد اپنی پریشانی بھول گئی تھی اور ایک خوشی تھی جو وہ اپنے اندر محسوس کر رہی تھی..اذان اور ردا کے لئے…💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖وہ نیچے زمین پر گھٹنو میں سر دیے بیٹھی تھی رو رو کر اسکے اب آنسوں بھی سکھ چکے تھے اسکی ذات پوری طرح بکھر کر رہ گئی تھی کتنا روئی تھی کتنا تڑپی تھی وہ اس ظالم شخص کے سامنے پر اسنے اسکی ایک نہ سنی تھی اسکو اس غلطی اس گناہ کی سزہ دے گیا تھا جو اسنے کیا ہی نہیں تھا اسکا درد تھا جو کم ہونے میں ہی نہیں لے رہا تھا..
..آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا میں نے کیا بگاڑا تھا کسی کا میری کیا غلطی تھی جسکی سزہ مجھے ملی ہے جب سے اسکو ہوش آیا تھا بس وہ خود سے ایک یہ ہی سوال کیے جا رہی تھی رونے کی وجہ سے اسکی آنکھیں بھی سوج چکی تھی ایک عزت ہی تو تھی اسکے پاس جو اب اسکے پاس نہیں رہی تھی اس ستمگر نے اسکا سب کچھ اس سے چھین لیا تھا لیکن وہ کچھ نہیں کر پائی تھی اسکو اس ہی حالت میں بیٹھے نہ جانے کتنا وقت بیت گیا تھا یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی جب کچھ سمجھ نہی آیا تو وہ پھر سے زور زور سے رونے لگی تھی….