Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

💖💖💖💖💖پورے شاہ ہاؤس کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا چاروں طرف روشنی ہی روشنی تھی کم وقت میں بہت ہی اچھی تیاری کی گئ تھی آذان کے مطابق بہت ہی کم لوگوں کو انوائٹ کیا گیا تھا…اسلئے دوات کا انتظام لان میں کیا تھا..
…بی جان کچھ مہمانو سے بات کر رہی تھی جب انکی نظر آذان پر پڑی وہ آذان کی خوشی میں بہت خوش تھی آخر انکا پوتا آج زندگی میں آگے بڑھ گیا ہے ورنہ انکو ہمیشہ ہی اسکی فکر رہتی تھی اب وہ مطمعین تھی کی کوئ تو ہوگا جو آذان کے اکیلےپن میں اسکے ساتھ ہوگا…
…تبھی انکی نظر سامنے سے حیا کے ساتھ آتی ردا پڑ پڑی تھی تو انکی یہ خوشی ایک پل میں کم ہوئی تھی انکے لئے اپنے تینو بچچے ہی پیارے تھے اور وہ جب سب خوش ہو ایک نہی تو انکے لئے یہ بہت ہی دکھ کی بات تھی انہونے افسوس بھری نظروں سے ردا کی طرف دیکھا تھا …
..جب وہ ردا کی ہمراہی اسٹیج تک آئ تو حارث اور ازلان سے بات کرتے آذان کی نظر اس پر پڑی تو آذان کو اس پر سے نظریں ہٹا نہ مشقل ہو گیا تھا ریڈ اور گولڈن کلر کی خوبصورت سی ڈریس میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی لگ رہی تھی وہ خور بھی بلیک ڈنر سوٹ میں پوری محفل پر چھایا ہوا تھا…
…صبر رکھے بھائی وہ آپ ہی کے پاس آےنگی ازلان شرارت بھری آواز اسکو ہوش کی دنیا میں واپس لائی تھی..
..اس نے گھور کر ازلان کی طرف دیکھا جو اسی کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا…
..تم آج کل کچھ زیادہ ہی بکواس کرنے لگے ہو میری خاموشی کا غلط فایدہ اٹھا رہے ہو آذان اپنی چوری پکڑے جانے پر سنجیدگی سے بولا تھا…جبکی اسکی بات سن کر حارث اور ازلان دونو ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیے تھے…
..بھائ آپ ہمیشہ ایسے کیوں رہتے ہے کبھی کبھی تو موقع ملتا ہے آپکو تنگ کرنے کا ازلان اسکا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر منہ بسورتے بولا تھا..
… اور جبھی حارث کی نظریں حیا کے ساتھ آتی ردا پر گئ تھی حارث کو وہ آج اور دنوں سے بلکل الگ لگی تھی…
..اس سے پہلے کی آذان اسکی بات کا جواب دیتا ردا نے حیا کو لاکر آذان کے برابر بیٹھا دیا تھا..
..اسکے بیٹھنے کے بعد آذان نے حارث اور ازلان کو آنکھ کے اشارے سے کچھ بھی کہنے سے مانا کیا تھا جسکا مطلب سمجھتے ہی وہ دونو وہا سے ہٹ گیے تھے ..
ردا کو حیا نے اپنے پاس روکا ہوا تھا پر وہ کچھ دیر تو کھڑی رہی پھر کچھ دیر بعد ان دونو کے پاس سے چلی گئ تھی اسکو وہاں اپنی موجودگی اچھی نہی لگ رہی تھی..
..حیا کو آذان کے پاس بٹھانے کے بعد ہر کسی نے انکی جوڑی کی تعریف کی تھی اور یہ سچ بھی تھا دونو اس وقت لگ بھی بہت اچھے رہے تھے ایک ساتھ بی جان نے جاکر ان دونو کی نظر اتاری تھی…
…ردا دور کھڑی ان دونوں کی جوڑی کو دیکھ رہی تھی انکو دیکھ کر کوئ بھی کہ سکتا ہے کی وہ ایک دوسرے کے لیے ہی بنے تھے اسکو اپنے خوابوں کے ٹوٹ جانے کا بہت دکھ تھا لیکن وہ کسی کو کیا کہتی غلطی تو اسکی تھی نا محبت تو اسنے کی تھی اس میں آذان یا حیا کا کیا قصور تھا..
..دونوں ساتھ اچھے لگ رہی ہے اسکے اپنے بلکل پاس سے حارث کی آواز سنائی دی تو اسنے گردن موڑ کر دیکھا تو وہ اسی کو دیکھ رہا تھا..
..بہت ہی خوش قسمت ہے حیا اسکو آذان جیسا اتنا پیار کرنے والا شخص ملا..اسکے لہزے میں حسد تھی..جسکو حارث محسوس کر سکتا تھا..
..اسکی بات سن کر وہ خاموش ہو گیا اب وہ اسکو کیا بتا تا..کی دونو اچھے تو لگ رہے تھے پر حیا خوش قسمت ہے یا نہی یہ وہ نہی کہ سکتا تھا..
..سب کی زندگی میں ایسا کوئی ضرور ہوتا ہے جو اسکو پیار کرتا ہے بس سامنے والے کو اسکے پیار کو سمجھنے اور پہچانے کی کوشش کرنی چاہیے حارث نے اسکی طرف دیکھ کر دو معنی بات کہی تھی…
..اسکی بات سن کار ردا خاموش ہو گئ تھی اور ایسے ہی کھڑی ان دونو کی دیکھتی رہی تھی…
.. کچھ وقت تو وہ اسکا بولنے کا انتظار کرتا رہا تھا پر جب وہ کچھ بولی نہی تو حارث مایوس ہو کر جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا تھا..
…اور میں وہ پیار سمجھنا نہی چاہتی ہوں اور نا ہی پہچاننا چاہتی ہوں وہ حارث کو دور جاتا ہوا دیکھتے ہوے سوچ رہی تھی..
…جب مجھے تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے محبت نظر آ گئ حارث تو پھر آذان تم کیوں میری آنکھوں میں اپنے لیے پیار کیوں نہی دیکھ سکے اسنے بہت ہی دکھی ھو کر سوچا تھا وہ شروع سے ہی جانتی تھی کی حارث اسکو پسند کرتا ہے پر اسکے دل میں تو آذان تھا تو وہ کیسے اسکی محبت کا جواب محبت سے دے دیتی اور اس لئے وہ اس سے بچتی رہتی تھی..💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖فنکشن کافی دیر تک چلا پھر بی نے حیا کو کمرے میں بھجوا دیا تھا روم میں آتے ہی اسنے سب سے پہلے اپنے سارے زیور اتراے تھے پھر ڈریسنگ روم میں جاکر ہلکا سا سوٹ پہن کر نکلی اپنا سارا میکپ اتار کر وہ سونے کے لیے لیٹ گئ کیوں کی اسنے سوچا تھا کل کی طرح آذان آج بھی نہی آیگا کچھ وہ تھک بھی گئ تھی لیٹتے ہی سو گئ تھی..
…آج اسکو اپنے روم میں جاتے ہوے کچھ الگ ہی احساس ہو رہا تھا اسنے دروازہ کھول کر بند کیا روم میں نائٹ بلب کی روشنی پھیلی ہوئی تھی اسنے جیسا سوچا تھا بلکل ویسا ہی ہوا تھا وہ ڈریسنگ روم میں گیا اور چینج کر کے واپس آیا اور سیدھا آکر بیڈ کے دوسری سائیڈ لیٹ گیا تھا ہلکی روشنی میں وہ حیا کو آرام سے دیکھ سکتا تھا وہ کروٹ لیے ہوے سو رہی تھی آذان اسکی طرف کی کروٹ کے بل لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لی..
..اسکی آنکھ کسی کی موجودگی کے احساس سے کھلی تھی نیند میں ہونے کی وجہ سے پہلے تو اسکو کچھ سمجھ نہی آیا پر جب اپنے برابر میں آذان کو لیٹے دیکھا وہ اسکی طرف ہی کروٹ کے بل لیٹا تھا اسکو دیکھتے ہی وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور بیڈ سے اترنے لگی…
..اس روم سے جانے کے بارے میں سوچنا بھی مت اسنے ایک جھٹکے سے حیا کی کلائی کو تھام کر سرد آواز میں کہا تھا…وہ سویا ہوا نہی تھا بس ایسے ہی آنکھیں بند کر کے لیٹا ہوا تھا…
…اسکی سرد آواز اور اپنی کلائی اسکے مضبوط ہاتھوں میں دیکھ کر حیا کو ایک پل کے لیے کچھ سمجھ نہی آیا تھا کی وہ کیا کرے وہ تو سوچ رہی تھی کی آذان سو رہا ہے اور اسکے تو وہم گمان میں بھی نہی تھا کی وہ اس روم میں آ جایگا اور آکر آرام سے لیٹ بھی جایگا…
…تم یہاں کیا کر رہے ہو وہ آذان کی طرف بنا دیکھ بولی تھی اور اس میں اتنی بھی ہمّت نہی تھی کی وہ اپنی کلائی اس سے آزاد کروا لے…
…شاید تم بھول گئی ہو یہ گھر اور یہ روم بھی میرا ہے اور یہ روم میرا ہے تو مجھے اس وقت اپنے روم میں ہی ہونا چاہیے آذان اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا وہ ابھی بھی اسکی کلائی تھامے لیٹا ہوا تھا…
…آذان کی بات سن کر حیا نے ایک نظر اسکو دیکھا پر بولی کچھ نہی تھی وہ ٹھیک ہی تو کہ رہا تھا وہ اب کیا کریگی وہ یہ ہی سوچ رہی تھی جب اسکی نظر سامنے رکھے صوفہ پر پڑی تھی…اسکو اپنی مشقل کا ھل مل گیا تھا…
….وہاں جانا بھی بھول جاؤ کیوں کی وہ تمہارے لئے بھی چھوٹا ہے آذان اسکی نظرو کا مطلب سمجھتے ہوئے اسکی کلائی چھوڑتے ہوئے بولا تھا…
…اسکی بات سن کر حیا ایک پل کے لئے حیران ہوئی تھی وہ کیسے سمجھ گیا کی وہ وہاں جانا چہ رہی تھی پھر اسنے سامنے رکھے صوفہ کو دیکھا وہ ٹھیک کہ رہا تھا وہ واقعی اتنا بڑا نہی تھا اسکو مایوسی ہوئی تھی اور خود پر ترس بھی آ رہا تھا کتنا ظالم تھا یہ شخص اسکو یہاں سے جانے بھی نہی دے رہا تھا اب وہ کرے تو کیا کرے وہ اسی سوچ میں بیٹھی رہی تھی….
..اب پوری رات ایسے ہی بیٹھی رہنے کا ارادہ ہو تو وہا بیٹھ سکتی ہو اسنے صوفہ کی طرف اشارہ کیا تھا اور اگر سونا ہے تو لیٹ جاؤ اور یہی لیٹنے کی عادت بھی ڈال لو وہ اسکو حقم دیتا سیدھا ہو کر لیٹا تھا..
…حیا کو اسکا اس طرح حقم چلانا بلکل بھی پسند نہی آیا تھا پر کیا کر سکتی تھی …
..وہ کچھ دیر تو بیٹھی رہی جب کوئ اور راستہ نہی ملا تو بلکل کونے میں کروٹ سے لیٹ گئ تھی…اسکی موجودگی میں اسکو اب نیند تو نہی آنے والی تھی وہ پھر بھی آنکھیں بند کیے لیٹی رہی..
..اسکے اس طرح سے کرنے پل آذان کے ماتھے پر بل پڑ گیے تھے پر برداشت کر کے لیٹا رہا..
..تم لندن کتنے سال رہی تھی کچھ دیر بعد اسکے کانوں میں آذان کی آواز آئ تھی وہ جانتا تھا کی وہ کتنے وقت تک وہاں رہی تھی پر وہ پھر بھی اس سے پوچھ رہا تھا…
.. پر حیا نے جواب دینا ضروری نہی سمجھا تھا وہ ایسے ہی لیٹی رہی تھی..
..کچھ دیر تو وہ اسکے جواب کا انتظار کرتا رہا کیوں کی وہ جانتا تھا کی وہ سوئی نہی ہے جب اسنے جواب نہی دیا تو آذان نے غصّے سے اسکا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا..
…حیا اس حملے کے لیے تیار نہی تھی اسکے ایسا کرنے سے وہ اسکے بلکل پاس ہی آ گئ تھی..
…تمھیں سنائی نہی دیا میں نے کیا پوچھا ہے آذان نے اسکے بازو پر اپنی گرفت سخت کی تھی جسکی وجہ سے حیا کے منہ سے کرہ نکلی تھی..
…آذان اسکی صبح والی بات نہی بھولا تھا جب اور اب بھی اسکی بات کا اگنور کرنا اسکو مزید غصّہ دلا گیا تھا…..
..دو سال تکلف کی وجہ سے وہ صرف اتنا ہی بول پایی تھی اور اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کروانے لگی..
..میری بات ابھی ختم نہی ہوئی ہے اسکو ایسا کرتے دیکھ آذان نے مزید بازو سے اسکو قریب کیا تھا اب وہ اتنے قریب تھے کی دونو کی سانسیں ایک دوسرے کے چہرے کو چھو رہی تھی..
..مجھے نیند آ رہی ہے حیا ابھی بھی اس سے اپنا بازو چھڈوا رہی تھی پر اسکی گرفت سخت سے سخت ہوتی جا رہی تھی جس سے اسکو بہت تقلف ہو رہی ..
.. آذان نے اسکی بات کا کوئ جواب نہی دیا ایسے ہی لیٹا اسکی کاروائی دیکھ رہا تھا اور وہ اپنی پوری کوشش کر رہی تھی اس سے خود کو آزاد کرانے میں جب تقلف برداشت سے باہر ہو گئ تو اسکی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے تھے پر اسنے اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہی کہا تھا..
.اور بس یہ ہی وہ لمحہ تھا جب آذان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئ تھی اسنے آیت کا بازو چھوڑ دیا تھا اور کروٹ بدل کر لیٹ گیا تھا کل اور آج حیا نے جس طرح اسکی بات کو اگنور کیا تھا یہ اسی کا غصّہ تھا جو اب وہ اس پر نکل رہا تھا پر اسکے آنسو دیکھ کر اسکو اپنی سختی کا احساس ہوا تھا وہ اسکو سزہ دیکر بے سکوں کرنا چاہتا تھا پر اب خود بے سکوں ہو گیا تھا..
آیت بہت دیر تک لیٹی بے آواز روتی رہی تھی اسکی اس حرکت سے وہ اور بدغمان ہو گئ تھی..وہ ہر بار اسکو نیا درد دیتا تھا جو آیت کے لئے برداشت کرنا مشقل ہوتا تھا..اور آج بھی بنا کسی وجہ اور بنا کسی غلطی کے وہ اسکو سزا دے گیا تھا .. 💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو سب سے پہلے اسنے اپنے برابر میں دیکھا تو وہ جگہ خالی تھی وہ اسکے جاگنے سے پہلے ہی روم سے چلی گئ تھی وہ اٹھ بیٹھا اور رات والی بات یاد کرنے لگا تھا وہ اس پر سختی نہی کرنا چاہتا تھا پر اسکی ضد اور اسکی بات کا جواب نہ دینا آذان کے لیے نا قبل برداشت تھا وہ آذان شاہ تھا لوگ اس سے بات کرنے اسکے ساتھ کام کرنے کے لیے ترستے تھے اور ایک وہ تھی جو ہر بار اسکی بات کا جواب دینا بھی پسند نہی کرتی تھی جو اسکے غصّے کو مزید بڑھا دیتی تھی ابھی وہ اسی کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا جب اسکا موبائل بجا حارث کی کال تھی..
..آذان تمھیں ایک بہت ہی ضروری چیز دکھانی ہے تم آ سکتے ہو آج یھا حارث نے اسکے کال پک کرتے ہی اپنی بات شروع کی تھی..حارث آذان کی غیرموجودگی میں اسکا کام سمبھال لیتا تھا جس وجہ سے اسکو رات ہی واپس جانا پڑا تھا..
..اگر زیادہ ضروری ہے تو تم خود آ جاؤ بی جان مجھے جانے نہی دینگی تم تو جانتے ہی ہو..
..ٹھیک ہے میں شام میں آ جاؤنگا آذان کی بات سن کر وہ بولا تھا بی جان کو وہ بھی اچھی طرح سے جانتا تھا کل ہی تو آذان کا ولیمہ ہوا تھا اور آج واپس جانا اسکے لیے ممکن نہی تھا…
..حارث سے بات کرنے کے بعد وہ فریش ہونے کے لیے گیا اور کچھ دیر بعد واپس آکر نیچے چلا گیا تھا نیچے آکر وہ سیدھا لاونج میں آیا تھا اسکی سوچ کے متبِک سب اسکو اس وقت وہیں میل تھے ازلان سنگل صوفہ پر بیٹھا تھا جبکی بی جان کے پاس حیا بیٹھی تھی وہ دونوں ازلان کی کسی بات پر مسکرا رہی تھی..
..حیا کی نظر اس پر پڑی تو اسکے مسکراتے ہونٹھ ایکدم سکڑ گیے تھے اسکے ایسا کرنے سے آذان کو اچھا نہی لگا تھا..
..بھائی آپ وہا کیوں کھڑے ہے یہاں آے نا ازلان کی اس پر نظر پڑی تو وہ بولا تھا..
..بیٹا تم اٹھ گیے میں ابھی حیا کو تمھیں اٹھانے کے لئے بھیجنے ہی والی تھی بی جان کی بات سن کر آذان نے حیا کی طرف دیکھا تھا جو بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی..
..بس بی جان ابھی ہی اٹھا ہوں اور بہت تیز بھوک لگی ہے ناشتہ لگوا دیں وہ بات بی جان سے کر رہا تھا پر اسکی نظریں حیا کو ہی دیکھ رہیں تھی جو اسکو ایسے اگنور کر رہی تھی جیسے وہ یھا ہو نہی نہی..
..ہاں روکو میں رانی سے کہتی ہوں کی تمہارے لیے ناشتہ لگوا دیں انہونے رانی کو آواز دی اور اسکے لیے ناشتہ لگانے کا حقم دیا تھا..
…حیا آذان کی نظریں خود پر جمی محسوس کر رہی تھی پر وہ اسکی طرف دیکھنا نہی چاہتی تھی…
..آپ لوگ نہی کر رہے ہے اس بار اسنے سبکی طرف دیکھا
تھا…
..ہم نے آج اپنے بھابھی کے ساتھ ناشتہ کر لیا ہے اور ردا نے اپنے روم میں تو بس اب آپ اکیلے رہ گیے ہے اس بار جواب ازلان کی طرف سے آیا تھا اتنے میں رانی نے آکر ناشتے کے لیے اسکو بلایا تو وہ اٹھا اور ایک نظر اس پر ڈالتا چلا گیا تھا وہ جانتا تھا رات والی بات کی وجہ سے وہ ایسا کر رہی ہے اور آذان کو اس بار اسکا ایسا کرنا برا نہی لگا تھا … 💖💖💖💖💖