Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

💖💖💖💖💖💖وہ اپر اپنے اور آذان کے روم میں آئ تو اسکو آذان روم میں کہیں نظر نہی آیا واشروم کا دروازہ بند تھا وہ سمجھ گئ تھی کی وہ اندر ہی ہے حیا اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی تھی…
اگر بی جان اسکو نا بولتی تو وہ اسکو بلانے کے لئے نہی آتی…
….وہ اس وقت ڈریسنگ کے سامنے کھڑی چیزو کو ادھر ادھر کر رہی تھی وہ اس وقت اتنی مگن تھی کی اسکو پتا ہی نہی چلا کی کب آذان فریش سا باتھروم سے نکالا تھا…..
…حیا کو یہاں دیکھ کر ایک پل کے لیے آذان حیران ہوا تھا اسکے گھر سے جانے والی بات کے بعد سے وہ اسکے سامنے کم ہی آتی تھی بات تو وہ اس سے پہلے بھی کم ہی کرتی تھی پر اب تو بلکل ہی بند کی ہوئی تھی آذان وجہ جاننے کے بعد بھی انجن بنا ہوا تھا پر اسکو ایک بات کی اسکی اچھی لگی تھی کی اسنے اسکے بدلے میں اسکا ساتھ دیا تھا اسکی مدد کی تھی…
…کچھ کام تھا تمھیں اسکو ایسے ہی کھڑا دیکھ کر آذان بولا تھا آذان کو یقین تھا کی وہ ضرور کسی کام کے لیے ہی کھڑی ہے ورنہ اسکی موجودگی میں وہ کبھی روم میں آتی بھی نہی تھی….
حیا جو اپنے دھیان میں اتنی ہی مگن تھی آذان کی آواز سن کر ایک دم مڑی تھی…
پر مڑتے ہی جیسے اسکی آذان پر نظر پڑی تو حیا نے اپنی نظرے ہی نہیں سر بھی جھکا لیا تھا …..
جبکی ازان نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا پھر بات سمجھ آنے پر اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی اور ایسا بہت ہی وقت بعد ہوا تھا کی وہ کسی کے لئے اتنے دل سے مسکرایا تھا..
….اس وقت وہ صرف جینس میں تھا اور حیا کو اسکو دیکھ کر ایسے نظریں جھکا دینا آذان کو بہت پسند آیا تھا…
…..ازان چلتا ہوا ڈریسنگ کے پاس آیا اور اپنے بال بنانے کے ساتھ ساتھ اسکے بولنے کا بھی انتظار کرنے لگا تھا…
حیا اسکے پاس آ جانے سے تھوڑا دور ہوئ تھی اور سر جھکانے کے ساتھ اب وہ اپنی انگلیاں بھی چٹکھا رہی تھی تھی….
…بی جان بلا رہی ہیں نیچے کھانے کے لیے وہ اپنی نظریں نیچے کیے ہوئے وہ اتنا کہ کر جانے لگی تھی..کیوں کی حیا کے لئے اب وہاں رکنا مشقل ہو رہا تھا ….
….تم نے میری مدد کیوں کی اگر حارث تمھیں سچ نہ بتاتا تو تب بھی تم مدد کرتی آذان نے اسکو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا تھا وہ یہ تو جانتا تھا کی اسنے سب سچ جاننے کے بعد اسکا ساتھ دیا ہے پر پھر بھی وہ اسکے منہ سے سننا چاہتا تھا….حیا نے جب سے اس سے بات نہی کی تھی اور وہ چاہتا تھا کی وہ اس سے بات کرے…
…میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں اور ہر بار کی طرح تم اس بار بھی بنا میری بات کا جواب دیے بنا نہی جا سکتی..
…حیا اسکی بات کو اگنور کر کے جا رہی تھی جب آذان نے ایک جھٹکے میں اسکی کلائی تھام کر اسکو روکا کر خود سے بہت قریب کیا تھا….
..آپکو کیا لگتا ہے میں نے آپکی مدد کی نہی یہ آپکی بہت بڑی غلطفہمی ہے…
…میں نے اس لڑکی کی مدد کی جسکے ساتھ ظلم ہوا ہے اور میں اسکو انصاف دلانا چاہتی تھی…کیوں کی میں اپنے لئے تو کچھ نہی کر سکی تھی پر نور کے گنہگار کو تو سزا دلا سکتی ہوں نا…
اور رہی بات سچ جاننے کی تو ہاں اگر مجھے سچ پتا نہی چلتا تو میں آپکی مدد نہی کرتی حیا تلخی سے بولی تھی اور اپنی کلائی اس سے چھوڑانے لگی تھی ایک تو آذان کی نزدیکی اپر سے اسکا ہولیا اسکی گھبراہٹ میں مزید اضافہ کر رہا تھا….
…اسکی بات سن کر آذان نے ایک دم سے اسکی کلائی چھوڑی تھی اسکو حیا سے اسی جواب کی امید ہی تھی اپنی کلائی آزاد ہوتے ہی حیا وہاں سے بنا اسکی طرف دیکھ وہاں سے ایک دم بھاگی تھی….
…وہ ٹھیک ہی تو کہ رہی تھی پر آذان کو لگتا تھا کی اگر اسنے حیا کے ساتھ غلط کیا ہے پر وہ دلاور نہی بنا تھا اسنے حیا کو اپنا نام دیا تھا اس سے شادی کر کے پر ایک بات تھی جو حیا اس سے چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کی وہ اس سے کم سے کم اپنے گناہ کی معافی تو مانگے پر وہ سمجھنے کے لئے تیار ہی نہی تھا یا پھر وہ ابھی سہی وقت کا انتظار کر رہا تھا…..کس کے دل میں کیا تھا یہ دونوں ہی نہی جانتے تھے 💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖آذان بیٹا بریانی تو لو آج میں نے رداک سے کہ کر خاص تمہارے لئے بنوائی ہے…
…وہ سب لوگ اس وقت کھانا کھا رہے تھے جب بی جان نے آذان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا …
..بی جان کی بات سن کر حیا نے سر اٹھا کر سامنے بیٹھی ردا کی طرف دیکھا جو اب مسکراتے ہوئے ازان کی پلیٹ میں بریانی اتار رہی تھی …..
ردا آذان کے برابر میں ہی بیٹھی تھی اور وہ خود آیت اور ازلان کے ساتھ بیٹھی تھی جبکی حارث بھی ردا کی برابر میں ہی بیٹھا ہوا تھا…
………ایک جلن سی حیا کو اپنے اندر محسوس ہوئ تھی
اسکو پہلی بار یہ محسوس ہوا تھا کی سامنے بیٹھا شخص پر صرف اسی کا حق ہے..اگر وہ ردا کے دل کی بات نا جانتی تو اسکو اس وقت اتنا برا نہی لگتا اور آذان کے دل میں کیا ہے یہ بھی اسکو نہی پتا تھا اور وہ ایسا کیوں سوچ رہی تھی وہ خود بھی نہی جانتی تھی اپنی اس بدلتی کیفیت سے وہ خود بھی پریشان تھی….
….حیا اپنی سوچوں میں گم بس آذان کو دیکھے ہی جا رہی تھی ہر بات سے بے فکر ہو کر کی اس وقت وہ کہاں بیٹھی ہے…
…آذان جو کھانا کھانے میں مصروف تھا اپنے اپر کسی کی نظروں کو محسوس کر کے اسنے جیسے ہی سامنے دیکھا تو حیا کو خود سکو دیکھتے ہوئے پایا تھا ایک پل کے لئے ووہ حیران ہوا تھا پر اسکے اس طرح دیکھنے سے اسکے دل میں خوشی سی ہوئی تھی …
…جب حیا نے آذان کو خود کو دیکھتے ہوے دیکھا تو حیا نے اپنی نظریں ایکدم سے نیچے کر لی تھی اور اسکا اس طرح سے کرنا آذان کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا..
…جبکی ردا کے دل میں ایسا کچھ تھا نہی اور ویسے بھی اس نے اب اذان کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا تھا وہ سمجھ چکی تھی کی ان سب سے بس اسکو ہی تقلیف ہونی تھی…
..آیات تم بھی تو کچھ لو نا یوں ایسے ہی کیوں بیٹھی ہو جب سب اپنے اپنے کھانے میں مصروف تھے تو سبکے کانوں میں ازلان کی آئ تھی….
…جبکی آیت اسکو دیکھنے لگی کیوں کی اسکی پلیٹ خالی نہی تھی اور سب نے بھی ایک ساتھ آیت کی طرف دیکھا تھا….
….ازلان کی شرارت سمجھ کر سب اب اسکی طرف دیکھنے لگے تھے…
…آیت اس گھر کی مہمان ہے اور اسکو کوئ پوچھ ہی نہی رہا تھا تو میں نے سوچا یہ فرض کیوں نا میں پورا کر لوں ازلان نے سب کو اپنی طرف دیکھتا پا کر شرارت سے کہا تھا اسکی بات سن کر وہاں موجود سب کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئ تھی..
…کیوں کی سب اچھی طرح سے جانتے تھے ازلان کی شرارتو کو وہ صرف آیت کو تنگ کرنے کے لئے بولا تھا …
….آیت بیٹا تم آرام سے کھانا کھاؤ یہ تو بس اسکی عادت ہے سب کو پریشان کرنے کی اس بار بی جان آیت کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی انکی بات سن کر آیت صرف مسکرا دی تھی…
….سب کو اس طرح ایک ساتھ ہاستا مسکراتا دیکھ کر بی جان نے دل ہی دل میں سب کی نظر اتری تھی آج کتنے وقت بعد وہ سب کو ایک ساتھ اور اتنا خوش دیکھ رہی تھی …
اور انہونے سب کے اسی طرح ہمیشہ خوش رہنے کی دعا بھی کی تھی💖💖💖💖💖💖

…..

…..
💖💖💖💖💖میں اس وقت کا انتظار کر رہا ہوں جب کوئ خاص میرے لئے صرف میری پسند کا کھانا بنایے …
…ردا اس وقت کچن میں کھڑی سب کے لئے کوفی بنا رہی تھی جب اسکو اپنے پیچھےسے حارث کی آواز سنائی دی تھی اسکی آواز سن کر وہ مڑی نہی تھی ایسے ہی کھڑی رہی تھی…
….اپنی بات کہ کر حارث اسکی پیٹہ دیکھنے لگا تھا جو اسکو ایسے نظر انداز کیے کھڑی تھی جیسے وہ یہاں ہو ہی نا….
…میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے ردا جب وہ نہی بولی تو حارث پھر سے بولا تھا اور آج اس نے سوچ لیا تھا کی وہ اپنے دل کی بات کہ کر ہی جایے گا…
….میرے پاس آپکے اس سوال کا کوئ جواب نہیں ہے اس بار ردا اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی اسکو دکھ تھا کی وہ کسی کا دل دکھا رہی ہے اور جب کسی کا دل دکھتا ہے اسکا درد کتنا ہوتا ہے یہ اس سے بہتر کون جان سکتا تھا…
…تمہارے پاس میرے ہر سوال کا جواب ہے ردا بس تم دینا نہی چاہتی ہو تم کیوں نہی سمجھتی ہو کی میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں پیار کے ساتھ ساتھ میں تمہری عزت کرتا ہوں تم سمجھتی کیوں نہی ہو بولو آج حارث نے سیدھی طرح سے اپنے پیار کا اظہر کر دیا تھا جو وہ سوچ کر آیا تھا اس نے وہ سب بول دیا تھا….
…..آج حارث کے منہ سے اظہر اے محبت سن کر ردا بلکل خاموش ہو گئ تھی اس نے سوچا بھی نہی تھا کی یوں اچانک حارث اس سے اپنے دل کی بات کہ دیگا ردا کو جو ہمیشہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا تھا آج وہ اسکی زبان پر تھا …..
….کچھ تو بولو ردا یوں خاموش مت رہو حارث اسکو خاموش دیکھ کر اسکے اور قریب آتے ہوئے بولا تھا….
..پر میں اپسے محبت نہی کرتی ہوں ….اسکو اپنے قریب آتا دیکھ کر ردا اور پیچھے ہوئی تھی..
…ردا نے اسکو وہ بولا تھا جو اسکے دل میں تھا وہ نہی چاہتی تھی کی اسکی خاموشی کا وہ کچھ اور مطلب سمجھے اتنی جلدی وہ اپنی محبت بھول جاتی یہ اسکے لئے آسان نہی کچھ وقت لگتا سب بھولنے میں اور اسکو لگتا تھا کی حارث اسکا اتنے وقت انتظار نا بھی کرے …..
….کوئ بات نہی ردا میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں کی وہ ہم دونوں کے لئے کافی ہوگی اور مجھے یقین ہے کی تمھیں میری محبت سے ہی محبت ہو جایے گی حارث پورے یقین سے بولا تھا اسکی آنکھوں میں ردہ کے لئے بے پناہ محبت تھی جو ردا بھی محسوس کر سکتی تھی…
…آج حارث بس بولے ہی جا رہا تھا ووہ آج بس اسکو اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا تھا اس بات سے انجن کی کوئ اور بھی انکی یہ باتیں سن چکا ہے…..اور جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس بھی چلا گیا تھا…
…اسکی بات سن کر ردا پھر سے خاموش ھو گئ تھی وہ کہتی بھی کیا اسکے پاس کچھ بچا ہی نہی تھا کہنے کے لئے….
….میں کچھ ہی دنو میں ایک فیصلہ کرنے والا ہوں اور مجھے امید ہے کی اس بار تم انکار نہی کروگی حارث اتنا کہ کر وہاں روکا نہی تھا اور اسکے جانے کے بعد ردا سوچ میں پڑ گئ تھی کی وہ کیا کرنے والا ہے 💖💖💖💖💖

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
…
💖💖💖💖💖💖وہ اس وقت اپنے بیڈ پر لیٹی حارث اور ردا کے بارے میں سوچ رہی تھی …….
…..جب ردا کافی بنانے کے لئے گئی تھی تو حیا اسکی مدد کرنے کے لئے کچن میں جا ہی رہی تھی جب اسکو کچن سے حارث کی آواز سنائی دی تو وہ دروازے پر ہی رک گئ تھی پھر جو اسنے سنا وہ سب سن کر حیا خوش بھی ہوئی تھی اور دکھی بھی ……..
……خوش وہ ردا کے لئے ہوئی تھی کی اسکو بھی کوئی اتنا چاہتا ہے ……
پر دکھی وہ حارث کے لئے تھی کیوں کی وہ ردا کے دل کا حال جانتی تھی ….
…میں دیکھ رہا ہوں ..جب سے تم یہاں آئ ہو کچھ چپ چپ سی ہو کیا بات ہے آذان بہت دیر سے اسکو چپ چاپ لیٹا ہوا دیکھ رہا تھا جو کسی گہری سوچ میں گم تھی….
….وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب آذان کی آواز سے ہوش میں آئ تھی اس نے گردن موڑ کر اذان کی طرف دیکھا….
….آپسے ایک بات پوچھوں اس نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا…
…حیا کی بات سن کر آذان نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا تھا آج اس نے دوسری بار اسکو حیران کیا تھا اسکے لئے یہ خوشی کی بات تھی کی آج وہ خود اس سے بات کر رہی تھی……
….ہاں پوچھو ….آذان نے کہا ……
اپ کو کبھی کسی سے پیار ہوا ہے …..پتا نہی کیوں حیا یہ بات جاننا چاہتی تھی کی آذان کے دل میں کوئ ہے یا نہی شاید حارث اور ردا کی آج بات سن لینے کے بعد وہ جاننا چاہتی تھی..کی کہیں آذان بھی ردا کی طرح اسکو چاہتا ہو..اور اسنے جان کر ردا کا نام نہیں لیا تھا اگر وہ اسکا نام لے لیتی تو آذان اس پر غصہ ہو جاتا اور شاید اس سے اس ٹوپک پر بات بھی نہ کرتا …….
… آج پتا نہی یہ سوچ اسکے دل میں بار بار آ رہی تھی اور انہی سوچوں سے پیچھا چھوڑا نے کے لئے وہ بےساختہ اس سے پوچھ بیٹھی تھی…
….نہی مجھے کبھی کسی سے پیار نہی ہوا کیوں کی میرے پاس ان سب باتوں کے لئے وقت نہی تھا ….
…میرے لئے میرا بدلہ سب سے زیادہ ضروری تھا اور جو میں پورا کر بھی رہا ہوں ….اس نے نرمی سے اسکو جواب دیا تھا ازان کو آج اچھا لگ رہا تھا کی حیا اس سے اسکے بارے میں بات کر رہی تھی…
….ہاں تمھرے لئے تو اپنا بدلہ ہی سب سے زیادہ ضروری ہے اور اس بدلے کی وجہ سے چاہے کسی کا سب کچھ چھن جائے تم کو تو اس سے کوئ فرک ہی نہی پڑتا ہے حیا اسکی بات سن کر تلخی سے بولی اور اسکی طرف سے اپنا رخ بدل کر لیٹ گئ تھی…
….تم یہ کیسے کہ سکتی ہو کی مجھے کوئ فرک نہی پڑتا اور اس طرح سے بات کو بیچ میں چھوڑ دینے کا کیا مطلب ہے….حیا کو بات بیچ میں چھوڑ کر اور اسکی طرف سے رخ موڑ کر لیٹنا آذان کو اچھا نہی لگا تھا اسنے ایک جھٹکے سے اسکا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا…
..وہ اسکے اتنے نزدیک تھا کی آذان کی گرم سانسیں حیا کے چہرے کو جھولسا رہی تھی …..
…مجھے درد ہو رہا ہے آذان …
… جب حیا اس سے اپنا بازو نہ چھوڑا سکی تو بے بسی سے بولی کیوں کی آذان نے اسکے بازو کو بہت سختی سے پکڑ رکھا تھا جس سے حیا کو بہت تکلف ہو رہی تھی ……
درد اور جو تم مجھے درد پہوچاتی ہو اسکا کیا…
… اس بار آذان کے لہزے میں ہی نہیں بلکی اسکے بازو پر بھی پکڑ سخت ہوئی تھی ……
میں نے کیا درد پھوچایا ہے آپکو حیا نے روتے ہوئے پوچھا کیوں کی اسکے بازو میں بہت درد ہو رہا تھا جو آذان کی ساخت گرفت میں تھا …..
جبکی اسکی انکھو میں آنسو دیکھ کر آذان کی پکڑ اسکے بازو پر ڈھیلی پڑ گئی تھی ………
سو جاو ….آذان اسکو چھوڑتا اپنا فون لیکر روم سے بہار چلا گیا تھا …..
..حیا اسکی بات سن کر اپنے آنسو صاف کرتی خود بھی دوسری طرف رخ کرتی لیٹ گئی تھی ….
….پتا نہیں کیوں لیکن اسکو یہ جان کر سکون محسوس ہوا تھا کی آذان کے دل میں کوئ نہیں ہے…کھانے کے وقت ردا کا آذان کو ہس کر دیکھنا حیا کو برا لگا تھا اسکو ردا سے ایک پل کے لئے جلن سی محسوس ہوئی تھی پر جب حارث اور ردا کی باتیں سن کر اور اب آذان کا جواب سن کر اب وہ جلن بھی ختم ہو گئ تھی ….
…حیا تم مجھے درد پوھچاتی ہو تم بار بار مجھے وہ گناہ یاد کرواتی ہو جو میں بھولنا چاہتا ہوں ….
…..اور میں تمہیں بھی یہ سب بھولانا چاہتا ہوں…
….میں چاہتا ہوں تم اب کبھی بھی وہ لمحے نہ یاد کرو .. ….جب بھی میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں تم کچھ ایسا بول دیتی ہو کی مجھے تمہارے ساتھ سختی کرنی پڑ جاتی ہے جس سے تمھیں تقلیف ہوتی ہے اور برا مجھے بھی لگتا ہے…
…اسکو بار بار آج حیا کی آج والی باتیں یاد آ رہی تھی کبھی تو وہ اسکو خود سے بہت قریب لگتی ہے تو کبھی وہ اسکو میلو کے فاصلے پر ..
…اذان صوفہ پر بیٹھا حیا کے بارے میں ہی سوچے جا رہا تھا اور نیند اسکی آنکھوں سے قوصو دور تھی….💖💖💖💖💖جاری ہے …