Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

💖💖💖💖💖وہ صوفہ پر بیٹھی ہوئ کوئ بک پڑہ رہی تھی جب فون کی گھنٹی سے وہ ڈسٹرب ہوئ تھی اسنے سوچا کوئ ملاذمہ آکر اٹھا لیگی اس لیے وہ پھر سے اپنے کام میں لگ گئ تھی جب بہت دیر تک کوئ ملازمہ نہی آئ تو مجبورن اسکو اٹھنا پڑا تھا..
..اسنے ٹائم دیکھا پانچ بج رہے تھے اسکو یقین ہو گیا تھا کی یہ ضرور ازلان ہی ہوگا کیوں کی اس وقت اسکو کافی پینے کی عادت تھی..اور وہ اپنے روم میں منگواتا تھا..
..ہان جلدی بولو اچھا خاصا ڈسٹرب کر دیا تم نے مجھے وہ اپنی بک کو بیچ میں چھوڑ کر آنے کا غصّہ اس پر نکال رہی تھی..
…کیا سہی میں آپ میری وجہ سے ڈسٹرب ہونے لگی ہے حارث کی شوق بھری آواز اسکے کانوں میں ٹکرائ تھی..
فون پر حارث کی آواز سن کر وہ ایک دم گھبرا گئ تھی اسکی اپنی جلدبازی پر جی بھر کر غصّہ بھی آیا تھا کم سے کم اسکو نمبر دیکھ تو لینا چاہیے تھا..
..وہ میں آپ کو نہی بول رہی تھی مجھے لگا ازلان ہوگا ردا خود پر قابو پاتے ہوے بولی تھی..
..جانتا ہوں آپ ہم سے کہاں کچھ کہتی ہے حارث نے ایک ٹھنڈی آہ بھری تھی وہ اس لڑکی کے لیے پاگل تھا اسکو سمجھنا چاہتا تھا بتانا چاہتا تھا پر وہ اسکی سنتی ہی نہی تھی اتنا تو وہ جان گیا تھا کی ردا کو اسکے جذبات کی خبر اور وہ کھل کر اسکو اپنی فیلنگس بتانا چاہتا تھا پر ردا ہمیشہ ہی کوئ نہ کوئ بہانہ کر کے بھگ جاتی تھی..
…آپکو کچھ کام تھا کیا حارث کی بات کو وہ نظر انداز کر کے بولی تھی..
..ہاں کام تو ہے پر جس سے ہے وہ میری سنتا ہی نہی ہے آج حارث شکوہ کرنے کے موڈ میں تھا..
… آپ جسے سنانا چاہتے ہو اگر وہ سننا ہی نہی چاہے تو آج ردا نے بول ہ دیا تھا وہ اسکو بتانا چاہتی تھی تھی کی جو وہ سوچ رہا ہے وہ ممکن نہی ہیں..
..اسکو سننا ہوگا اور مجھے یقین ہے جو میں اسے سنانا چاہتا ہوں وہ سب سن کر وہ میری کہی ہر بات پر یقین بھی کرےگی حارث کے لہزے میں ایسا کچھ تھا کی کچھ پل کے لیے ردا کچھ بول ہی نہی سکی تھی اسکی آنکھیں اسکی باتیں سن کر پتا نہی اسکو ایک دم ردا کو کیا ہونے لگا تھا جتنا وہ اس سے دور جانا چاہتی تھی وہ اتنا ہی اسکی سوچوں پر سوار ہو رہا تھا…
..تو میں اس خاموشی کو کیا سمجھوں وہ سنے گی میری بات ردا کے خاموش رہنے پر وہ پھر سے بولا تھا اس بار اسنے بہت ہی پیار سے اس سے پوچھا تھا..
..پتا نہی ردا کی کچھ سمجھ نہی آیا تھا کیا بولے اسنے جلدی سے کہ کر فون رکھ دیا تھا اور صوفہ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئ تھی اسکے کانوں میں بار بار حارث کی آواز گونج رہی تھی ردا نے گھبرا کر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا..
..تمھیں پتا ہو یا نہی لیقن مجھے پتا ہے تمہیں اس بار وہ سننا ہوگا جو میں تم سے کہنا چاہتا ہوں حارث اپنی سوچوں میں اس سے مخاطب تھا 💖💖💖💖💖
……………………………………………………….
.
.💖💖💖💖💖کیا بکواس کر رہے ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے دلاور غصّے سے اپنے خاص ملازم بشر کی طرف دیکھتے ہوے بولا تھا…
…خان میں سچ کہ رہا ہوں آذان شاہ نور شاہ کا بھائی ہے وہ ڈرتے ڈرتے بولا تھا…
… بشر کی بات سن کر دلاور خان کو کیا کچھ نہں یاد آیا تھا..
پندرہ سال پہلے کیا اپنا گناہ یاد آیا تھا ..
…جب اسکی نظر پہلی بار نور پر پڑی تھی تو وہ اس پر فدا ہو گیا تھا..
…اور پھر جب اسکو پتا چلا کی نور کا اسکے دادا دادی اور دو چھوٹے بھائی کے علاوہ اور کوئ نھی ہے تو اسکے شیطانی دماغ میں ایک غلط سوچ آئ تھی اور اسی سوچ کو سچ کرنے کے لئے اسنے نور کو اپنے آدمی کے ہاتھوں اٹھوہ لیا تھا..
.. اور پھر اسکے بعد اسنے ایک معصوم لڑکی سے اسکی عزت اسکا سب کچھ چھین لیا تھا
.. اس وقت وہ یہ بھی بھول گیا تھا کی وہ ایک بیوی اور ایک پانچ سال کی بیٹی کا باپ ہے…
دلاور خان نے سوچا تھا وہ غریب لڑکی اسکا کچھ نہی بگاڑ سکےگی اور ایسا ہی ہوا تھا…
…انہونے بہت کوشش کی نور کو انصاف دلانے کی پر وہ کچھ نہی کر سکے دلاور خان جیسے بڑے آدمی کے سامنے وہ کچھ نہی تھے
…نور کو اسکے مالی حالت سے کمزور دادا جان اور بی جان انصاف نہی دلا سکے تھے اور ایسا تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کمزور کے ساتھ کوئ انکی مدد نہی کرتا …
…دلاور خان خوش تھا جیسا اسنے سوچا تھا ویسا ہی ہوا تھا کوئ اسکا کچھ نہی بگاڑ سکا تھا وہ گناہ کر کے بھی آرام سے جی رہا تھا پر وہ یہ بھول گیا تھا کی کوئ دیکھے یا نہ دیکھ اللہ سب دیکھتا ہے اور وہ ہی ہے انصاف کرنے والا اور کمزور کی مدد کرنے والا…
…اور اللہ کی ہی مدد سے آج آذان اتنا بڑا آدمی بن گیا تھا کی وہ آج اپنی بہن کے ساتھ برا کرنے والے کو سزا دے رہا تھا…
…خان اب کیا کرنا ہے بشر اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا جو کسی گہری سوچ میں گم تھا…
…بشر کی آواز سن کر وہ جو ماضی میں کھویا ہوا تھا حال میں واپس لوٹا تھا…
…اسکو یقین نہی آ رہا تھا کی اذان شاہ نور شاہ کا بھائی ہے اسنے تو کبھی سوچا بھی نہی تھا کی ایک دن ماضی یوں اسکے سامنے آکر کھڑا ہو جایگا…اب اسکو سب سمجھ آ رہا تھا آذان کا اسکے بزنس میں نکسن کروانا اور اسکی بیٹی کو کڈنیپ کروانا وہ یہ سب اس سے بدلہ لینے کے لئے کر رہا تھا..
…بشر تم اب سے آذان پر ہر وقت نظر رکھنا مجھے حیا کسی بھی حال میں چاہیے اب اسکا یھا ہونا بہت ضروری ہے تم سمجھ رہے ہو نہ میری بات اسنے کچھ سوچتے ہوئے بشر کو کہا تھا..
…ٹھیک ہے خان بشر نے اپنے مالک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا…اور وہا سے چلا گیا 💖💖💖

……………………………………………………….

💖💖💖💖💖یہ لو آذان کل کی ٹکٹ تمہاری اور حیا کی صبح تم دونو کو نکلنا ہے میں ن باقی سب انتظام بھی کروا دیا ہے تم لوگوں کے لیے وہ اس وقت اپنی اسٹڈی روم میں بیٹھا کوئ فائل دیکھ رہا تھا جب حارث اسکے پاس آیا تھا..
..تم نہی چل رہے ہو ساتھ اسکی پوری بات سن کر آذان بولا تھا مگر اسکی نظریں فائل پر ہی تھی..
..نہیں کل ایک بہت ضروری میٹنگ ہے تم یہاں نہی ہونگے تو مجھے ہی سب سمبھالنا ہوگا اس لیے میں نہی جا رہا ہوں..
..ہان یہ بھی ٹھیک ہے اور یاد رہے اس بات کی کسی کو خبر نا ہو اس نے یاد دلانا ضروری سمجھا تھا..
..ایسا ہی ہوگا تم آرام سے وہا جا کر اپنا کام کرو حارث نے اسکو یقین دلایا تھا..
اور اس کام کا کیا ہوا وہ ہو گیا آذان نے کچھ یاد آنے پر پوچھا تھا..
..ہاں جیسا تم نے بولا تھا ویسا ہی کیا ہے سب انفارمیشن دلاور تک پھونچ چکی ہے…
…دلاور خان سوچتا تھا کی آذان کو کچھ خبر نہی ہے پر یہ اسکی بھول تھی جو خبر اب تک اس تک پہونچ رہی ہے سب آذان کے کہنے پر ہی ہو رہا تھا..
…آذان تمھیں کیا لگتا ہے جب حیا کو پتا چلےگا ہم وہاں کیوں جا رہے ہے تو حیا جانے کے لیے مان جاےگی حارث کو یقین تھا وہ نہی مانے گی پر وہ آذان کی راۓ جاننا چاہتا تھا..
..وہ اگر نہی بھی جانا چاہےگی تو بھی اسے جانا ہوگا حارث اور تم جانتے ہو ی کام میرے لیے مشقل نہی آذان اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور حارث کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا..
..میں جانتا ہوں یہ تمہارے لیے مشقل نہی ہے پر میں بس اتنا کہونگا جو کرنا آرام سے کرنا اور اپنے غصّے پر قابو کرنا حارث اسکو سمجھا رہا تھا وہ اچھے سے جانتا تھا کی اسکے انکار سے آذان کو یقینن غصّہ آ جایگا..
…جو حیا کے لیے اچھا نہی تھا..
..میں اچھے سے جانتا ہوں حارث کیسے کرنا ہے اور کیسے نہی تم بس اپنی کل کی میٹنگ کی تیاری کرو..
..اسکی بات آذان سمجھ گیا تھا اپنے غصّے پر قابو کرنا اسکے لیے آسان نہی تھا اس لیے وہ اس بارے میں بات نہی کرنا چاہتا تھا..
…ہاں میں ایک فائل لینے آیا تھا اور مجھے تم سے ایک پروجیکٹ کے بارے میں بات بھی کرنی تھی حارث اسکے ساتھ کچھ کام کی باتیں کرنے لگا تھا اسکو جو آذان سے کہنا تھا اسنے کہ دیا تھا مقصد صرف حیا کو آذان کے غصّے سے بچانے کا تھا 💖💖💖💖💖