Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

💖💖💖💖💖وہ کب سے بس ڈورتی ہی جا رہی رہی تھی اور بھاگتے بھاگتے اسکے پیر بھی دکھنے لگے تھے اسکی سمجھ نہی آ رہا تھا کی وہ کہاں جاۓ یہ ایک سن سان جگہ تھی دور دور تک کوئ گھر یا سڈک نہی دکھائ دے رہی تھی اور کچھ رات کا وقت ہونے کی وجہ سے اسکو راستہ بھی سمجھ نہی آ رہا تھا پر وہ ان لوگوں کی پہنچ سے دور جانا چاہتی تھی اپنی اذّت کو وہ کیسے بچا کر آئ ہے یہ بس وہی جانتی تھی اب بھاگتے بھاگتے اسکی ساس بھی پھولنے لگی تھی پر اسکو بھاگنا تھا وہ جیسے ہی تھوڑا ساس لینے کے لیے رکی تو اسکو قدموں کی آواز قریب آتی سنائی دی تو وہ پھر سے اپنی جان کے لیے بھاگنے لگی اور اپنی اذّت کی حفاظت کی دعا کرنے لگی اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کی کیا کرے کہاں جایے بس وہ بھاگتی ہی جا رہی تھی اسکے پیر سے خوں بھی نکلنے لگا تھا پھر اچانک بھاگتے بھاگتے اسکو سڑک نظر آ ہی گئ وہ اللہ کا شکر ادا کرنے لگی اسکو یقین تھا یہا سے کچھ مدد ضرور ملیگی وہ سڑک پر آتے ہی زور زور سے بھاگنے لگی اور پیچھے دیکھنے کی اسنے ہمت بھی نہی کی تھی اور وہ اپنی دھن میں بھاگتی ہی جا رہی تھی کی سامنے سے آتی کار سے وہ بری طرح ٹکرا گئ اور ٹکرا کر زمین پر گر گئ اسکے سر سے خوں نکل رہا تھا کچھ تو پر کے زخم کا درد اور کچھ سر کی چوٹ کا درد اسمے اب ہمّت نہی بچی تھی کی وہ خود کو ہوش میں رکھ سکے اسکی آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہوتی چلی گئ ایک آخری احساس جو ہوا تھا اسکو دو ہاتھوں کے اٹھانے کا تھا💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖اسکی انگلیاں کیبوڈ پر تیزی سے چل رہی تھی کل اسکی بہت امپورٹنٹ میٹنگ تھی جسکے لیے اسے یہ فائل تیار کرنی تھی ویسے تو اسکا کام یہ کام کرنے کے لیے بہت سے ملازم تھے پر وہ اپنا یہ کام خود کرنا چاہتا تھا کل کیوں کی اسے اپنے کام میں کوئی غلطی پسند نہی ہے ویسے اسے اتنا تو اندازہ تھا کی کل کی ہونے والی ڈیل اسے ہی ملیگی کیوں کی وہ آذان شاہ تھا اور آج اسکے ساتھ ہر کوئ بزنس کرنا چاہتا تھا کیوں کی جس طرح اسنے اتنے کم وقت میں اپنا بزنس کو بڈھایا ہے کسی کے لیے بھی آسان نہی تھا اسکا نام شہر کے مشعور بزنس معن میں شمار ہوتا تھا..
موبائل کی آواز پر اسکے چلتے ہاتھوں کو بریک لگا تھا سکرین پر ازلان شاہ کا نمبر دیکھ کر وہ ہولے سے مسکرایا تھا اور ایسا بہت کم ہوتا تھا جب وہ مسکراتا تھا اسکی کمپنی کے ورکرس بھی یہی بولتے تھے کی انکے بوس نے مسکرانا سکھا ہی نہی ہے..
..السلام عليكم بھائ کیسے ہیں آپ اور آج سارا دن کہاں بیزی تھے میں نے آپکو کتنی بار کال کی پر آپنے کوئ جواب ہی نہی دیا..
..اسکے کال ریسیو کرتے ہی ازلان نون اسٹاپ شروع ہو چکا تھا کون یقین کر سکتا تھا کی سبکی بولتی بند کر دینے والے آذان شاہ کو اسکا چھوٹا بھائ چپ کروا سکتا ہے..
میں بلکل ٹھیک ہو چھوٹے ہاں آج تھوڑا بیزی تھا اس لیے ٹائم نہی ملا تم سے بات کرنے کا آذان نے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور اسکو سائیڈ پر رکھ دیا..
..بھائ آپ ہمیشہ بیزی ہی رہتے ہو آپکو کتنے دن ہو گیے ہے آے ہوے اور بی جان بھی آپکا پوچھ چکی ہے کتنی بار آپ کب آ رہے ہو..
..تم جانتے ہو آذان جب مجھے وقت نہی ملتا تب ہی ایسا ہوتا ہے کی میں آ نہیں پاتا تم بی جان کو سمجھا دینا کی میں جلد ہی آؤنگا ان سے ملنے اس بار اسکا لہزہ سنجیدہ تھا..
ٹھیک ہے بھائ آپ فکر نہ کرے میں بی جان کو سمجھا دونگا بس آپ اپنا خیال رکھیں ازلان اسکے لہزے کی سنجیدگی کو محسوس کرکے بولا وہ بہت اچھے سے جانتا تھا کی اسکو بھائ کیوں دن رات محنت کرتا ہے اور کیوں ایک ہی شہر میں رہنے کے با وجود خود ان لوگوں سے دور اکیلا اس بڑے سے گھر میں رہتا ہے وہ اسکا درد باٹنا چاہتا ہے پر آذان شاہ اسکے اس پاس غم تو دور ایک پریشانی بھی برداشت نہی کر سکتا اس لیے اسنے ان لوگوں کو اپنے سے دور رکھا ہوا تھا ..
..اور تم اپنا اور بکی سب کا خیال رکھنا آذان اسکو اور ہدایت دیتا فون رکھ کر پھر سے اپنے کام میں لگ گیا تھا لیکن اس بار اسکا سارا دھیان اپنے کام پر نہیں تھا.💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖بی جان آپ یہاں کیا کر رہیں ہیں میں آپکو پورے گھر میں تلاش کر رہیں تھی پھر رانی نے بتایا آپ یہاں ہو ردا بی جان کے پاس آتے ہوے بولی جو لوں میں رکھی کرسی پر بیٹھی تھی..
ردا کی آواز سن کر بی جان نے مڈ کر اسکی طرف دیکھا اور اسکا ہاتھ تھام کر اسکو اپنے برابر ہی کرسی پر بیٹھا دیا اور مسکراتے ہوے اسکا چہرہ دیکھنے لگی انکی آنکھوں میں اسکے لیے پیار ہی پیار تھا..
..کیا ہوا بی جان آپ چپ کیوں ہے آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ انکے چپ رہنے پر ردا پریشانی سے دوبارہ پوچھنے لگی..
..میں ٹھیک ہوں میری جان بس اپنے لیے تمہاری فکر مندی دیکھ رہی تھی وہ خوش ہوتے ہوے بولی تو ردا کو کچھ سکوں ملا ورنہ انکی چوپی سے وہ پریشان ہو گئ تھی..
..آپکے لیے ہونگی تو اور کس کے لیے ہونگی بی جان آپ تو میری جان ہے اور آپکے علاوہ میرا ہے …..جاری ہے