Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

💖💖💖💖💖…وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی رو رو کر اب اسکے آنسو بھی سوکھ چکے تھے …
کی اچانک اسکو اپنا نام سنائی دیا تھا اسکو ایسا لگا کی کوئ اسکو پکار رہا ہے ….
…پہلی بار تو حیا کو اپنا وہم لگا تھا …
.. مگر جب دوسری تیسری بار آواز آئ تو وہ آواز اسکو جانی پہچانی لگی تھی..
…ایک بار پھر جب آواز سنائی دی تو اس بار اسکو یہ آواز پہچانے میں دیر نہی لگی تھی ہاں یہ ازان کی آواز تھی…
…. حیا کو یقین نہی آیا تھا کیوں کی..
.. وہ اس وقت اسکو ہی یاد کر رہی تھی کتنی اجیب بات تھی نہ وہ اس سے لڑ کر آئ تھی اور اسی کا انتظار بھی کر رہی تھی ….
کیوں کی حیا کو کہیں نا کہیں یہ یقین ضرور تھا کی صرف ایک وہ ہی ہے جو اسکی حفاظت کر سکتا ہے اور یہ خیال اسکے دل میں کیوں آیا تھا وہ خود بھی نہی جانتی تھی…
…وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور وہا سے چل کر سڑک پر آئ ..
..اس وقت سڑک کافی سنسان تھی آذان اسکا دوپٹہ ہاتھ میں لے کر حیا کو بار بار پکار رہا تھا وہ چلتے چلتے کافی دور آ چکا تھا آذان کا دل کہ رہا تھا کی حیا اسکو یہیں کہیں ہیں….
… حیا جیسے ہی سڑک پر آئ تو اسکو کافی دوری پر آذان کھڑا دکھائی دیا تھا…
… وہ اس سے کافی دور تھی پر اسکو پہچان سکتی تھی اسکو اپنی آنکھوں پر یقین نہی آیا تھا اسکو لگا تھا جیسے تپتی دھوپ میں اسکو چھاوں مل گئ ہو…
….آذان …حیا آذان کو دیکھ کر بےساختہ زور سے اسکو آواز دے بیٹھی تھی…
..آذان چاروں طرف دیکھ رہا تھا کی اسکی حیا اسکو نظر آ جائے کی جبھی ایک آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ تھی اسنے آواز پر گردن موڈ کر دیکھا تو اسکو لگا اسکی ساری دنیا ایک دم سے مل گئ..وہ بھی حیا کو دور سے پہچان گیا تھا…
… وہ ایک دم سے کدم بڑھاتا اسکی طرف چلا تھا..
…اسکو اپنی طرف آتا دیکھ کر حیا بھی بھاگنے کے انداز میں اس کی طرف بھڑی تھی حیا کی آنکھوں میں اسکو دیکھ کر پھر سے آنسو شروع ہو گئے تھے ..
..جو جو وہ اسکے پاس جا رہا تھا اسکو لگا رہا تھا کی اسکی زندگی اسکے پاس آ رہی ہو…
..آذان کو ایسا لگ رہا تھا کی یہ چند کدم کی دوری میلو کی بن گئ ہو…
… حیا کے پاس آتے ہی اسنے حیا کو اپنی باہوں میں بھر لیا تھا اور اپنی گرفت اتنی سخت کر لی تھی اسکو لگ رہا تھا کی اگر وہ اسکو چھوڑ دیگا تو وہ پھر سے اسکو چھوڑ کر چلی جاےگی..
..حیا بھی آذان کی باہوں میں خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی اسکو لگ رہا تھا کی یہ ہی اسکی جگہ ہے جہاں وہ ہمیشہ محفوظ رہیگی ..
..آذان سے دور جانے کے بعد وہ خود اپنی کیفیت سمجھ نہی پا رہی تھی کی اسکو ایسا کیوں لگ رہا ہے شاید یہ نکاح کے دو بولوں کا ہی اسر تھا..
…کتنا ہی وقت ایسے ہی بیت گیا تھا ان دونوں کو ایسے کھڑے ایک دوسرے کو محسوس کرتے کرتے ..
…کی جبھی حیا کو اپنی حالت کا خیال آیا اور وہ ایک جھٹکے میں اس سے دور ہوئ تھی..
..حیا کا خود سے اس طرح دور جانا آذان کو اچھا نہی لگا تھا پر وہ اسکی حالت کو دیکھ کر چپ رہا..
.. آذان نے اپنے ہاتھ میں پکڑا دوپٹہ اسکی طرف بڑھایا تھا جسکو حیا نے خاموشی سے تھام کر اپنے گرد اوڑہ لیا تھا…
…تم یہاں جنگلے میں کیا کر رہی ہو اور کس کی اجازت سے تم گھر سے باہر نکلی تھی آذان اس سے سوال پوچھنا تو نہی چاہتا تھا پر اسکی حالت دیکھ کر اس سے روکا نہی گیا تھا…
..آپ نے ہی تو بولا تھا کی میں چلی جاؤں آپکی نظروں کے سامنے سے تو میں شاہ ہاؤس بی جان کے پاس جا رہی تھی جب راستے میں کچھ لڑکے پیچھے پڑ گیے تو…
…اتنا کہ کر وہ چپ ہو گئ تھی..جب سے آذان نے اسکو وارن کیا تھا وہ اسکو آپ کہ کر ہی مخاطب کرتی تھی جب اسکی آذان سے لڑائی ہوئی تھی تو وہ تب بھی یہ بات نہی بھولی تھی..
…حیا کی بات سن کر آذان کی غصّے سے رگے تن گئ تھی اسکے لیے یہ برداشت کرنا مشقل تھا کی اسکی حیا کو کوئ بھی بری نظر سے دیکھ..
..میں نے تمہیں گھر سے جانے کے لیے نہی بولا تھا…آذان سرد آواز میں بولا تھا…
…اسکی بات سن کر ایک دم سے حیا نے آذان کی طرف دیکھا تھا جیسے وہ اسکی بات سمجھی ہی نا ہو…
..پر آپنے ہی تو بولا تھا کی میں آپکی نظروں کے سامنے سے ہٹ جاؤں حیا نے کچھ ڈرتے ہوئے کہا..
…نظروں کے سامنے سے ہٹ جانے کے لئے بولا تھا گھر سے نکلنے کے لئے نہی اور
آج تو تم نے یہ حرکت کر لی آئندہ نا ھو وہ اسکو پھر سے وارن کرتے ہوے بولا تھا…
… اسکی بات سن کر حیا چپ ہی رہی تھی اسکے لیے تو یہ ہی بہت تھا کی وہ اس مشقل سے باہر نکل گئ تھی..
…وہ اسکے جواب کا انتظار کرتا اسکی طرف دیکھنے لگا جب اسکی نظر حیا کے ہونٹھ پر اپنے دیے ہوئے زخم پر پڑی تھی جہاں اب خون رک کر سوکھ چکا تھا اسکو خود پر بہت غصّہ آیا تھا….کی اسکو حیا کے ساتھ ایسا نہی کرنا چاہیے تھا اور اسکی وجہ سے آج حیا پھر سے مشقل میں پڑ گئ تھی..
…آذان نے بےساختہ ہاتھ بڑہیا تھا اور اپنی انگلی سے اسکے ہونٹھ کے زخم کو چھونے لگا تھا ایسے جیسے اپنے لمس سے اسکا زخم ٹھیک کر دیگا..
…اسکی اس حرکت سے حیا ایک دم گھبرا گئ تھی اسکی سمجھ نہی آ رہا تھا کی وہ کیا کرے..آذان کا لمس اسکی نظریں حیا کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی…
…اس سے پہلے کی حیا کچھ کرتی آذان اس پر جھکا تھا اور اسکے زخمی لب کو چھوا تھا…
….حیا جو پہلے ہی گھبرا رہی تھی آذان کی اس حرقت سے اسکو کھڑا رہنا مشقل لگ رہا تھا حیا نے ہمت کر کے آذان کو خود سے دور کیا تھا…
…آذان جو حیا کی قربت میں اتنا کھویا ہوا تھا حیا کے ایسا کر نے سے ہوش میں آیا تھا ..اس سے پہلے کی وہ حیا سے اس حرکت کے لئے کچھ کہتا پر اسنے جب حیا کی طرف دیکھا …
جو کانپ رہی تھی اور اسکی طرف دیکھ بھی نہی رہی تھی آذان کو اس وقت اس پر رحم آیا تھا اس لئے اسنے اسکو کچھ نہی کہا تھا…

…چلو آؤ کار تھوڑی دور ہی ہے وہ اسکو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا ہوا چل دیا تھا تو اسکی بات سن کر حیا بھی اسکے پیچھے چل دی تھی💖💖💖💖💖

……..

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖 مجھے یقین نہی ہو رہا ہے حارث بھائی ایسا بھی کر سکتے ہیں جو بھی ہو حارث حیا کو سچ پتا ہو یا نہی پر فر بھی آذان بھائی کو حیا بھابھی کے ساتھ اتنا برا برطاو نہی کرنا چاہیے تھا…
..اللّه نہ کرے اگر آج بھابھی ہمیں نا ملتی اور اگر رات کے اس پھر انکے ساتھ کچھ غلط ہو جاتا تو کیا بھائی خود کو کبھی معاف کار پاتے حارث کی پوری بات سن کر اس بار ازلان کو اپنے بڑے بھائی پر بہت غصّہ آیا تھا…
…رات ازلان سے بات کرنے کے بعد کچھ ہی دیر بعد آذان نے حارث کو فون کر کے بتا دیا تھا کی حیا اسکو مل گئ ہے اور یہ خبر سن کر حارث نے سکھ کا سانس لیا تھا آذان سے بات کر نے کے بعد اسنے ازلان کو آنے سے منا کر دیا تھا اور یہ خوشخبری بھی اسکو سنا دی تھی…
..پر حارث پوری بات جاننا چاہتا تھا جس پر حارث نے صبح بتانے کا وعدہ کیا تھا اور اپنے وعدے کے متابِک وہ صبح ازلان کے پاس موجود تھا…وہ لوگ اس وقت لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے…
..حارث نے ازلان کو آذان اور حیا کی لڑائی والی ساری بات بتائی تھی پر ایک بات تھی جو اسنے ازلان کو بتانا ضروری نہی سمجھی تھی وہ نہی چاہتا تھا کی ازلان کبھی بھی اپنے بھائی کے بارے میں غلط سوچے…
..تم بلکل ٹھیک کہ رہے ہو ازلان پر مجھے لگتا ہے اس میں آذان کی بھی کوئ غلطی نہی حیا نے جو کچھ بھی اسکو کہا کسی کو بھی وہ سن کر غصّہ آ سکتا ہے…ہم اچھے سے جانتے ہے آذان کے بارے میں پر حیا نہی اس بار حارث نے اپنے دوست کی سائیڈ لی تھی…
…تو حارث تم حیا بھابھی کو بتاؤ نا کی بھائی کا کیا مقصد ہے دلاور سے بدلہ لینے کا اگر انکو پتا نہی چلےگا تو وہ کیسے سمجھے گی بھائی کو اور ویسے بھی ان دونو کی شادی ہو چکی ہے اگر یہ ایسے ہی غلطفہمی رہی دونوں میں تو کیسے چلےگا ازلان نے اس بار سمجھداری والی بات کی تھی…
..تم بلکل سہی کہ رہے ہو ازلان میں کوشش کرتا ہوں جبکی مجھے بہت پہلے ہی یہ بات سوچ لینی چاہیے تھی حارث کو بھی اسکی بات بلکل ٹھیک لگی تھی…
…اتنی دیر لگتی ہے کیا تمھیں دو کپ کافی بنانے میں جبھی ازلان کی نظر سامنے سے آتی ردا پر پڑی تھی وہ اسکو چھڑنے کے لئے بولا تھا جو ہاتھ میں ٹرے لئے آ رہی تھی…
…ازلان کی بات سن کر حارث نے گردن موڑ کر دیکھا تو اسکو دشمنع جاں آتی دکھائی دی…پر حارث کو وہ اس بار کچھ بجھی بجھی سی لگی تھی..
…اتنا ٹائم کہاں ابھی تو رانی آئ تھی تمہاری فرمائش لے کر ردا ازلان کی بات پر ماتھے پر بل ڈال کر بولی تھی اسے پتا تھا وہ اسے پریشان کر رہا ہے مگر حارث کے سامنے بھی ایسا کچھ بول دیگا اس نے سوچا نہی تھا اگر حارث وہا موجود نا ہوتا تو اب تک وہ اپنا ہاتھ اس پر صاف کر چکی ہوتی…
…جبکی حارث تو بس اسی کو دیکھ جا رہا تھا..جو بھی تھا وہ اس سے بات کرے یا نہ کرے پر اسکو دیکھ کر ہی حارث کا دل خوش ہو جاتا تھا…
…ردا جو ازلان کو کپ تھما کر اب اسکی طرف آ رہی تھی اسکی نظریں جھکی ہوئی تھی لیقین وہ خود پر جمی حارث کی نظریں محسوس کر سکتی تھی …ردا جانے کیوں اسکی نظروں سے گھبرانے لگی تھی اسنے جلدی سے حارث کو کپ تھمایا اور وہا سے ایکدم سے ہٹ گئ تھی..
…اسکے ایسے کرنے سے حارث کے ہونٹھں پر مسکراہٹ آ گئ تھی جسکو ردا تو نہی ازلان نے اچھی طرح دیکھی تھی اسکو مسکراتا دیکھ کر وہ بھی کھل کر مسکرایا تھا…
….تو پھر بات بنی یا نہی ابھی تک اس بار ازلان شرارت سے بولا تھا اور اسکی بات سمجھ کر حارث مسکرایا تھا..
…تمہاری ہی بہن ہے اتنی جلدی کیسے بات بن جایے گی حارث نے ایک ٹھنڈی آہ بھری تھی…
…پھر میں دعا کرتا ہوں کی تمہری بات بن ہی جایں ازلان اس بار سیریس ہو کر بولا تھا جبکی اسکی آنکھوں میں شرارت تھی..

…بن جایں گی تم دیکھ لینا اس بار حارث پورے یقین سے بولا تھا اور ازلان نے اس بار اپنے دوست کے لیے سچچے دل سے دعا کی تھی 💖💖💖💖💖

……..

💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖وہ اس وقت لان میں بیٹھی شام کا وقت تھا موسم بھی کافی ٹھنڈا ہونے لگا تھا…
…اس وقت لان کافی خوبصورت لگ رہا تھا لیقیں وہ تو یہاں موجود ہی نہی تھی ووہ تو بس کل ہوئ ایک ایک بات کو یاد کر رہی تھی…ہر منظر بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا…
…اسکو رہ رہ کر خود پر بھی بہت غصّہ ا رہا تھا کی وہ کیسے بےخودی میں آذان کے گلے لگ گئ تھی…
…اور پھر اسکے بعد آذان کی حرکت حیا کو کیا کچھ نہی یاد ایا تھا آذان کا لمس محسوس کار کے حیا کو اچانک وہ رات یاد آ گئ تھی جب آذان نے کتنی بری طرح اسکی عزت کو داغدار کیا تھا اور اسنے اب تک اپنے اس گناہ کی اس سے معافی بھی نہی مانگی تھی..
.. اور یہ سب یاد آتے ہی حیا نے آذان کو ایک جھٹکے میں خود سے دور کیا تھا…
…واپسی پر بھی دونوں میں خاموش ہی رہے تھے اور گھر آتے ہی حیا آذان کے روم میں نہی گئ تھی اور آذان نے بھی اسکو مجبور نہی کیا تھا وہ اسکی حالت سمجھ رہا تھا…صبح بھی وہ جلدی آفس چلا گیا تھا …حیا اسکے جانے کے بعد روم سے نکلے تھی..
…تم کل کہاں چلی گئ تھی پتا ہے ہم کتنا پریشان ہو گئے تھے تمہارے لئے وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب حارث کی آواز پر چوکی تھی..
..میں خود نہی گئ تھی مجبور کیا تھا مجھے یہاں سے جانے کے لیے حیا تلخی سے بولی تھی…
…اور کیوں کیا تھا تم یہ بھی اچھی طرح جانتی ہو حارث کو حیا کی بات پسند نہی آئ تھی…
…جب انسان میں سچ سننے کی طاقت نہی ہوتی نا تو وہ سامنے والے کو اسی طرح خاموش کرواتا ہے آج حیا چپ نہی رہنا چاہتی تھی..
…اور جب سامنے والا ہی غلط ہو تو اسکا خاموش رہنا ہی بہتر ہوتا ہے…
…تمہارا کہنے کا مطلب ہے میں غلط ہوں تمہارے دوست نے جو میرے ساتھ کیا وہ غلط نہی ہے اور تم جانتے ہی کیا ہو کیا کچھ نہی کیا تمہارے دوست نے میرے ساتھ اس بار حیا کی آواز تیز ہو گئ تھی اور آج ایسا پہلی بار ہوا تھا…
…میں تمھیں غلط نہی کہ رہا ہوں تم اپنی جگہ بلکل سہی ہو اور آذان بھی اپنی جگہ سہی ہے…اور میں سب جانتا ہوں کل آذان نے جو بھی کچھ تمہارے ساتھ کیا جسکا مجھے بہت افسوس ہے پر اسکو تم نے مجبور کیا تھا یہ سب کرنے کے لیے..تم دونوں غلط نہی ہو حارث اسکو سمجھا رہا تھا…
….میں تو بھول ہی گئ تھی تمھیں تو اپنا بھائی جیسا دوست تو کبھی غلط نہی لگے گا چاہے وہ کتنا ہی غلط نا کر لے…حیا اس بار اور تلخی سے بولی تھی..جبکی آنکھیں اسکی آنسو سے بھیگی ہوئ تھی…
…تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو حیا میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں تم کچھ نہی جانتی ہو جب تمھیں سب معلوم ہو جایگا تو شاید تمھیں اپنے کہے الفاظ پر افسوس ہوگا میں کل بھی تمھیں روکنا چاہتا تھا پر اس وقت مجھے تمہارے اور آذان کے بیچ آنا ٹھیک نہی لگا تھا حارث اسکو سب سچ بتانا چاہتا تھا اور جو بھی وہ آذان کے بارے میں غلط سوچتی ہے اسکو دور کرنا چاہتا تھا…
…میں سب جانتی ہوں سب وہ ایک….
….نہی حیا تم کچھ نہی جانتی ہو کچھ بھی نہی اس بار حارث کی آواز بھی تیز ہوئ تھی اور حیا کے الفاظ منہ میں ہی رہ گیے تھے…
…تم جانتی کیا ہو کچھ بھی نہی میں مانتا ہوں آذان نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے پر یہ سب غلطی سے ہوا ہے یہ تم بھی جانتی ہو اور یہ سب کرنے کے پیچھے کیا مقصد ہے تم وہ نہی جانتی…حارث جب بولا تو بولتا ہی چلا گیا تھا اور حیا کو نور اور آذان کے بدلے کے بارے میں سب بتاتا چلا گیا تھا