No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
💖💖💖💖💖وہ کب سے بس ڈورتی ہی جا رہی رہی تھی اور
بھاگتے بھاگتے اسکے پیر بھی دکھنے لگے تھے اسکو سمجھ نہی آ رہا تھا کی وہ کہاں جاۓ یہ ایک سن سان جگہ تھی دور دور تک کوئ گھر یا سڈک نہی دکھائ دے رہی تھی اور کچھ رات کا وقت ہونے کی وجہ سے اسکو راستہ بھی سمجھ نہی آ رہا تھا پر وہ ان لوگوں کی پہنچ سے دور جانا چاہتی تھی اپنی اذّت کو وہ کیسے بچا کر آئ ہے یہ بس وہی جانتی تھی اب بھاگتے بھاگتے اسکی ساس بھی پھولنے لگی تھی پر اسکو بھاگنا تھا وہ جیسے ہی تھوڑا ساس لینے کے لیے رکی تو اسکو قدموں کی آواز قریب آتی سنائی دی وہ پھر سے اپنی عزت بچانے کے لیے پھر سے بھاگنے لگی اور اپنی اذّت کی حفاظت کی دعا کرنے لگی اسکو سمجھ نہیں آ رہا تھا کی کیا کرے کہاں جایے بس وہ بھاگتی ہی جا رہی تھی اسکے پیر سے خوں بھی نکلنے لگا تھا پھر اچانک بھاگتے بھاگتے اسکو سڑک نظر آ ہی گئ وہ اللہ کا شکر ادا کرنے لگی اسکو یقین تھا یہا سے کچھ مدد ضرور ملیگی وہ سڑک پر آتے ہی زور زور سے بھاگنے لگی اور پیچھے دیکھنے کی اسنے ہمت بھی نہی کی تھی اور وہ اپنی دھن میں بھاگتی ہی جا رہی تھی کی سامنے سے آتی کار سے وہ بری طرح ٹکرا گئ اور ٹکرا کر زمین پر گر گئ اسکے سر سے خوں نکل رہا تھا کچھ تو زخم کا درد اور کچھ سر کی چوٹ کا درد اسمے اب ہمّت نہی بچی تھی کی وہ خود کو ہوش میں رکھ سکے اسکی آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہوتی چلی گئ ایک آخری احساس جو ہوا تھا اسکو دو ہاتھوں کے اٹھانے کا تھا…💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖ردا تمھیں حارث کیسا لگتا ہے وہ دونو اس وقت لاونج میں بیٹھے کافی پی رہے تھے دوپہر کا وقت تھا بی جان اس وقت اپنے کمرے میں آرام کر رہیں تھی اور سبھی ملازم اپنے اپنے کام میں بیزی تھے
..یہ تم تمھیں اچانک حارث کیوں یاد آ گیا اور ویسے بھی حارث تمہارے اور آذان کے اچھے دوست ہیں تو ظاہر ہے اچھے ہے اسے سمجھ نہی آیا تھا کی وہ اس سے حارث کے بارے میں کیوں پوچھ رہا تھا..
..ہاں یہ تو پتا ہے وہ میرا دوست ہے پر وہ تمہیں کیسا لگتا ہے تمہری کیا راے ہے اسکے بارے میں..
..حارث اچھے انسان ہے جتنا تم سے سنا ہے انکے بارے میں اور جتنا میں جانتی ہو تو اس لحاظ سے وہ ایک اچھے انسان ہے اور بی جان بھی انکو بہت پسند کرتی ہے اسنے کھلے دل سے اسکی تعریف کی تھی جو سچ تھی..ویسے تم کیوں پوچھ رہے ہو اسنے آخر اپنے من میں آیا سوال پوچھ ہی لیا تھا..
..ارے نہی بس ایسے ہی کوئ خاص وجہ نہی تھی اسکے اچانک پوچھنے پر وہ تھوڑا گڑبڑا گیا تھا اگر حارث کو پتا چل جاتا اسکی اس حرکت کے بارے میں تو وہ اچھی خاصی اسکی کلاس لے لیتا..
..اچھاا ردا تمھیں میں کیسا لگتا ہوں اس بار اسنے شرارت سے اسکی طرف دیکھ تے ہوے پوچھا تھا..
..تم مجھے بلکل فالتو لگتے ہو میرا دماغ خراب کر دیا ہے سوال پوچھ پوچھ کر اگر اپنے بارے میں جاننے کا اتنا ہی شوک ہے تو اپنی یونی کی لڑکیوں سے پوچھو جاکر اس بار وہ اسکے سوال جواب سے چڑ کر بولی تھی..
..میری یونی کی ساری ہی لڑکیاں میری دیوانی ہے مجھے انسے پوچھنے کی ضرورت نہی ہے تم اپنے بارے میں سوچو جسکو کوئی پوچھتا ہی نہی ہے وہ اسکا مذاک بناتے ہوئے بولا تھا ..اور یہ بات سچ بھی تھی اسکی یونی کی لڑکیا اس پر مارتی تھی ..کیوں کی وہ دیکھنے میں بلکل اذان جیسا ہینڈسم تھا ..
اب تم نہی بچوگے مجھسے ازلان کے بچچے کبسے بول بول کر میرے سر میں درد کر دیا ہے تم نے ..اسکی بات سن کر ردا نے ایک کوشن اٹھایا اور پھر اس سے زور زور سے ازلان کی پٹائ کرنے لگی تھی وہ بھی بہت تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور باہر لوں کی طرف بھگا تھا تو وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پیچھے بھاگی تھی..وہ دونو ایسے ہی تھے ان دونو میں عمر کا زیاد فارک نہیں تھا وہ ازلان سے صرف تین سال چوٹی تھی …جس وجہ سے انکی بہت بنتی تھی ..💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖یا اللّه میری مدد فرماہ میں کیسے یہاں سے نکلو یہ کیسی آزمائش ہے میں کیا کروں کچھ سمجھ نہی آ رہا ہے میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا یہ سب ہونے سے پہلے میں مر کیوں نہی گئ جب میں اپنی اذّت کو بچا ہی نہ سکی بابا ماما آپ کیوں چلے گیے مجھے اس دنیا میں تنہا چھوڑ کر کاش میں بھی آپ کے ساتھ مر گئی ہوتی دیکھ نہ اپنی اذّت بچانے کے لیے میں کہاں سے کہاں ا گئی لیکن پھر بھی اپنی اذّت کی حفاظت نہ کار سکی اسکا رو رو کر برا حال تھا اسنے دو دن سے کچھ نہی کہایا تھا اور پھر بھوک ہی کیسے تھی اپنی عزت اور اپنا سب کچھ کھونے کے بعد پر اب اسکی ہمّت جواب دینے لگی تھی..
..جب اذان نے سنا کی اسنے دو دن سے کچھ نہیں کہایا ہے تو وہ اسکے پاس آ رہا تھا پر اسکی آواز سن کر دروازے میں ہی روک گیا تھا اور پھر اسنے جو سنا اسکو لگا کی اسکے پاس کسی نے دھماکہ کیا ہوا اسکو یقین نہی آیا تھا کی جو اسنے سنا وہ سچ تھا …
..کون ہو تم وہ اپنی حالت پر قابو پاتے ہی ایک دم اندر آیا اور چہرے پر غصّہ لیے اس سے پوچھ رہا تھا..
..اسکی آواز سن کر وہ ایکدم ڈر کر کھڑی ہوئی تھی اسکو دیکھ کر ہی اسکے سارے زخم پھر سے ہرے ہو گیے تھے..
..میں نے پوچھا کون ہو تم اور اس آدمی کی بیٹی کی جگہ پر کیوں تھی اس بار اسنے سختی سے اسکا بازو اپنی گرفت میں لیا تھا اور اتنی سختی سے پکڑا تھا کی درد سے اسکی آنکھوں میں آنسوں بہ نکلے تھے..
.. مے…میں آ …آیت …ہو … ہوں اسکی سخت پکڑ سے خود کو آزاد کراتے ہوئے وہ کانپتی آواز میں بولی تھی..
..مجھے جہوٹ بلکل پسند نہی ہے سچ سننا ہے مجھے ایک زوردار تھپڑ اسکے گال پر رسید کرتے ہوئے وہ بولا تھا اور تھپڑ اتنی زور کا تھا کی وہ زمین پر گر پڑی تھی..
..سنا نہی کیا کہا میں نے اسنے اس بار اسکو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا..درد سے اسکی چیخ نکل گئی تھی اسکی آواز سنکر حارث بھی اندر آ گیا تھا جو اذان کو آیت کے روم میں جاتا ہوا دیکھ کر اسکے پیچھے آیا تھا ..
اذان یہ کیا کر رہے ہو اسکو درد ہو رہا ہوگا .. اسنے آذان کو روکنا چاہا پر اذان نے اشارے سے اسکو منا کر دیا تھا..
..اسکی نظروں کا اشارہ سمجھتے ہی حارث اپنی جگہ پر رک گیا تھا اس وقت آذان کی نظروں میں جنوں سوار تھا غصّے سے اسکی آنکھیں بھی لال ہو رہی تھی وہ اسکو چاہ کر بھی روک نہی سکا تھا ایک نظر اسکی پکڑ میں مچلتی آیت کو دیکھا اور وہی دروازے پر کھڑا ہو گیا تھا..
سنا نہی تم نے کیا کہا میں نے کون ہو تم سچ سچ بتاؤ ورنہ تمہارے لیے اچھا نہی ہوگا اس بار اسکی آواز پہلے سے بھی زیدہ تیز ہوئی تھی ایک پل کے لیے تو حارث بھی ڈر گیا تھا اور اسکی گرفت میں موضود آیت اب کانپنے لگی تھی..
مے …میں ..اگر اب جھوٹ بولا تو وہ حال کرونگا کی تم زندگی بھر یاد رکھوگی …اس سے پہلے آیت کچھ کہتی اذان نے اسکا منہ دبوچتے ہوئے کہا ..
..مے.میں …ح..حیا..احم.احمد…ہو.. ہوں میں.. دلاور… خان …کی… بیٹی.. نہی.. ہوں …پر ..قسم… سے ..میں.. نے ..کچھ ..غلط …نہی… کیا… ہے پلیز… مجھے… جانے… دو.. میں… کچھ.. نہی ..جانتی.. ہوں.. بےقصور ہوں.. میں ..وہ روتے ہوے اس سے خود کو چھوڑا رہی تھی حارث کو اسکی حالت پر رحم آ رہا تھا پر وہ کچھ نہی کر سکتا تھا…
..آذان چھوڑ دو اسے وہ جھوٹ نہی بول رہی ہے اسکی حالت نہی دیکھی تم نے آخر کار اسکو بولنا ہی پڑا تھا حارث کی بات سن کر اسنے آیت کو آزاد کیا اور ایک نظر اس پر ڈالتا روم سے باہر چلا گیا تھا…
…حارث نے نیچے بیٹھی آیت کو اٹھایا اور بیڈ پر بیٹھا دیا پھر اسکے لیے پانی کا گلاس لایا اسکو دیا..
..آیت نے اسکے ہاتھ سے گلاس لیا اور ایک ہی سانس میں پورا گلاس ختم کر گئی تھی..وہ اس وقت بہت بری تارہ کاپ رہی تھی حارث کو اسکی حالت دیکھ کر بہت ترس آ رہا تھا ..کی وہ اپنے بدلے لینے کے وجہ سے ایک معصوم کی ساتھ بہت گلت کر چکے تھے …
دیکھو تم مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دو ہو سکتا ہے میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں ہمری تم سے کچھ دشمنی نہی ہے تمھیں کوئی نکسن نہی پھوچیگا حارث اس سے نرمی سے بات کر رہا تھا اور اسکی بات سنتے ہی حیا اور بھی شدّت سے رو پڑی تھی.
دیکھو میری بات سنو میں وعدہ کرتا ہوں تمہارے ساتھ اب کچھ غلط نہی ہوگا بس تم سب سچ بتا دو میری بات کا یقین کرو حارث کو اس وقت اس پر بہت ترس ا رہا تھا وہ اس معصوم سی لڑکی کا درد کم کرنا چاہتا تھا..
..حارث کی بات سن کر ایک پل کے لیے آیت نے اسکی طرف دیکھا اور پھر جب بولی تو اسکی آواز میں بہت درد تھا ..حیا نے اس سے کچھ نہیں چھپایا تھا اس نے اسکو سب سچ سچ بتا دیا تھا ..وہ ایک بار پھر کسی انجن پر بھروسہ کر رہی تھی..جبکی حارث کے دل میں اسکے لئے ہمدردی اور بھی بڑھ گئی تھی
