Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

💖💖💖💖💖کون ہے آخر اور اب تک سامنے کیوں نہیں آیا ہے دلاور خان کا سوچ سوچ کر برا حال تھا اور اسکو ڈر بھی تھا کی حیا اپنے منہ سے سچ نہ اگل دے ویسے بھی اب سب کو پتا چل چکا تھا کی وہ دلاور خان کی بیٹی ہے اور وہ نہی چاہتا تھا کی اسکا بنا بنایا پلان خراب ہو سب کچھ سہی چل رہا تھا پھر سب اچانک سب کچھ غلط ہوتا جا رہا تھا اب تک وہ حیا کا پتا بھی نہی لگا پایا تھا فون کی آواز نے اسکے سوچوں کا سیلسلا توڑا تھا..
..سوچ لو جتنا سوچنا ہے تو کبھی پتا نہی لگا سکتا کی میں کون ہوں اور تیری پیاری بیٹی کہاں ہے اسنے پیاری پر زور ڈالتے ہوے کہا تھا…
..تو خود کو اتنا سمارٹ سمجھتا ہے تو سامنے کیوں نہی آ جاتا یوں چھپ کر رہنے کا مطلب خان اب اس کھیل سے تانگ آ چکا تھا..
…تو فکر مت کر خان آؤنگا ایک دن تیرے سامنے اور وہ دن تیری بربادی کا دن ہوگا اور وہ دن بہت جلد آنے والا ہے اتنا کہ کر آذان زور سے حسا ہسا تھا…
..یہ تیری بھول ہے کی تو دلاور خان کو برباد کر سکتا ہے تو دلاور خان کو چھو بھی نہی سکتا ہے برباد کرنا تو دور کی بات ہے دلاور نے جیسے اسکی بات کا مذاک بنایا تھا پر آذان پر اسکا کوئ اثر نہی ہوا تھا…
..میں کیا کر سکتا ہوں اور کیا کر چکا ہوں جلد ہی تجھے پتا چل جایگا اور یہ تیری بھول ہے کی میں تجھے برباد نہی کر سکتا تیری یہ غلطفہمی جلدی دور ہو جاےگی..آذان نے اسکو یاد دلانا ضروری سمجھا تھا ..اور فون کٹ کر دیا تھا آذان کی بات سن کر دلاور کا ایک بار پھر غصّے سے برا حال تھا پر ایک بات کا اطمینان ضرور تھا کی حیا نے اپنا مہ نہی کھولا تھا اب اسکو جلد سے جلد حیا تک پھوچنا تھا اس سے پہلے کی اسکا بنا بنایا پلان خارب ہو جائے اب اسکو آگے کیا کرنا ہے وہ اس بارے میں سوچنے لگا تھا 💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖تم نے کیوں نہی بتا یا کی تم سب کچھ جان چکے ہو اسکی بات ختم ہونے پر حارث نے اس سے سوال کیا تھا..جو اسکے پیچھے ہی کھڑا اسکی ساری باتیں سن رہا تھا اسکی سمجھ نہی آیا تھا کی اسنے دلاور کو کیوں نہیں بتایا کی وہ حیا کے بارے میں سب جان چکا ہے آخر وہ اب کرنا کیا چاہتا ہے..
..کیوں کی میں چاہتا ہوں کی وہ سوچتا رہے کی وہ جیت رہا اور ہم یھا اسکی بیٹی تک پہونچ جاینگے اور اس بار کوئ غلطی نہی ہوگی وہ حارث کی طرف دیکھتے ہوے بولا اور اپنا لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا تھا…
..اور تم نے اس معصوم کے بارے میں کیا سوچا ہے جس پر نہ حق ہم ظلم کر بیٹھے ہے وہ کب تک یوں قید رہیگی جب کی ہم سب اسکے بارے میں جان چکے ہے اور اب اسکو اس طرح رکھ کر ہم اس پر اور ظلم کرینگے اس معصوم کے ساتھ حارث آذان کی طرف دیکھتے ہوے بولا تھا جاب کی آذان کی نظریں ابھی بھی لیپ ٹاپ پر ہی جمی ہوئی تھی…
..میں تم سے ہی بات کر رہا ہوں اذان جب سب کلیر ہو چکا ہے تو جانے دو اس معصوم کو حارث کچھ دیر آذان کے جواب کا انتظار کرتا رہا پر جب وہ کچھ نہ بولا تو اسکو دوبارہ پھر بولنا پڑا تھا…
..حارث کی بات سن کر اسکی لیپ ٹاپ پر تیزی سے چلتی انگلیاں رک گئی تھی اچانک اسکی آنکھوں کے سامنے اسکا روتا ہوا چہرہ آیا تھا اور کانو میں اسکے کہے الفاظ گنج رہے تھے ایک پل کے لیے اسکو افسوس ہوا تھا کی انجانے میں غلط تو ہو گیا تھا اس سے..
..نہیں وہ کہیں نہی جاۓگی تم اچھی طرح جانتے ہو حارث کی اسکے یہاں رہنے سے ہمیں ہی فایدہ ہوگا وہ بار وہ حارث کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا اسکے لہزہ سے لگ رہا تھا جیسے اسے حیا سے کچھ ہمدردی ہیں نہی تھی جبکی اسکے اندر کیا چل رہا ہے کوئی نہی جانتا تھا..
…پر آذان یہ تو اسکے ساتھ غلط ہوگا نہ ہم ایسے کیسے اسکو یہاں رکھ سکتے ہیں آذان کی بات سن کر حارث سمجھ نہی پا رہا تھا کی آذان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے..
..حارث ایک کام کرو سب سے پہلے جا کر نکاح خواہ کو لے آؤ اور ایک دو گواہ کی بھی ضرورت ہے جتنی جلدی ہو یہ کام کرو ابھی اور اسی وقت اسنے ایک فیصلہ کرتے ہوے حارث کو حقم دیا تھا..
..یہ کیا کہ رہے ہو تم آذان کی بات سن کر حارث کو جیسے شاق لگا تھا اسکی خیال میں بھی نہی تھا کی آذان ایسی بات کریگا…
…تم نے جو سنا ہے میں نے وہ ہی کہا ہے جاؤ جا کر جلدی سے سارے انتظام کرو آذان اس بار کھڑے ہوتے ہوئے بولا تھا..
..آذان تم غلط کر رہے ہو اسکے ساتھ اپنے بدلے میں تم اسکی زندگی خراب کر دوگے حارث کو حیا کی فکر ہوئی تھی..
..حارث میں کسی کی زندگی خراب نہی کر رہا ہوں بس تم یہ سمجھ لو یہ کرنا میرے لئے بہت ضروری ہے حیا سے شادی کرنے کی دوسری وجہ وہ حارث کو نہی بتانا چاہتا تھا…
… پر وہ ماں جاےگی حارث نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا حارث پہلے تو حیران ہوا تھا اسکی بات سن کر پر وہ اتنا تو جانتا تھا کی آذان کسی بے گناہ کے ساتھ کبھی غلط نہی کر سکتا ہے اس لیے اسکی بات مانتے ہوئے بولا تھا پر وہ نہی جانتا تھا کی اسکی سوچ غلط سبط ہو چکی ہے..
..یہ میں دیکھ لونگا تم جا کر سب انتظام کرو وہ روم سے باہر جاتے ہوئے بولا تھا اسکا رخ اب حیا کے روم کی طرف تھا جبکی حارث وہیں کھڑا آذان کے بارے میں سوچتا رہا تھا💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖میں یہ نکاح نہی کرونگی اور کتنی بار بولوں میں.. اس بار وہ حلق کے بل چللہ کر بولی تھی اور اسکی اس حرکت سے آذان کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے وہ کب سے اسکو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا پر وہ سن نے کو تیار ہی نہی تھی اور نہ ہی اسنے حیا سے اپنی غلطی کی معافی اب تک نہی مانگی تھی.اور شاید اسنے ضروری بھی نہی سمجھا تھا..اسکی نظر میں حیا سے نکاح کرنا اپنی غلطی سدھارنہ تھا
..میں تم سے آخری بار کہ رہا ہوں کچھ ہی دیر میں نکاح خواہ آنے والے ہے اور مجھے اپنی ایک بات بار بار دوھرانا پسند نہی ہے آئ بات سمجھ آذان نے اس بار اسکا بازو سختی سے اپنی گرفت میں لیا تھا…
..اور میں بھی آخری بار کہ رہی ہو مجھے یھا نہی رہنا ہے مجھے آزاد کر دو تم ..وہ اپنا بازو اس سے آزاد کرانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی کیوں کی آذان کی پکڑ بہت مضبوط تھی..
..اگر تم سیدھی طرح نہیں منی تو میں تمہارے ساتھ بہت برا کرونگا ..آذان نے ایک جھٹکے سے اسکو خود سے بہت قریب کیا تھا ..
جتنا برا تم میرے ساتھ کر چکے ہو وہ کافی نہیں ہے کیا جو اب تم میرے ساتھ اور برا کرنے جا رہے ہو …حیا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا …
اس سب میں میری کوئی غلطی نہیں تھی غلطی صرف تمہاری تھی اگر تم مجھے بتا دیتی تم کون ہو تو وہ سب نہ ہوتا …اذان نے بہت اطمینان سے سارا الزام اسکے اپر ڈال دیا تھا ..
… اسکی بات سن کر حیا نے زخمی نظرو سے اسکی طرف دیکھا …اس شخص نے کتنی آرام سے اپنا گناہ اسکے سر پر ڈال دیا ..اسکو ذرا سے بھی ندامت نہیں تھی اپنے کیے پر …
کتنے برے ہو تم لیکن شاید ہی کوئ تم جیسا ہوگا اب میں اپنے ساتھ اور برا نہی ہونے دونگی میں یہ نکاح نہی کرونگی سمجھے تم وہ اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کرواتی اور اس سے تھوڑا دور ہوتی بولی تھی ..حیا کی انکھو میں آنسو لڑیوں کی طرح بہ رہے تھے اسکو اذان سے ڈر بھی لگ رہا تھا جو اسکو خوخار نظرو سے گھر رہا تھا …
..کہاں جاؤگی یہاں سے نکل کر پھر سے اس شخص کے پاس جاؤگی وہ پھر سے تمھیں استمال کریگا اگر وہاں نہی تو کہاں جاؤگی بولو..وہ اسکے تھوڑا قریب ہوا..اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا.. اور اسکی بات سن کر حیا نے بھی اسکی طرف دیکھا تھا دونو بہت ہی قریب کھڑے تھے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے..
..تمھیں اس سے کوئ مطلب نہی ہے میں کہیں بھی جاؤں وہ اس سے نظرے فہرتی ہوئی بولی تھی ایک تو اسکو اس سے ڈر لگ رہا تھا اوپر سے وہ اسکے بہت قریب کھڑا تھا ..
.. کتنا ظالم تھا یہ شخص ظلم کر کے پھر سے اس پر ظلم کرنے جا رہا تھا..اور وہ سہی بھی تو کہ رہا تھا اسکا اس بڑی دنیا میں تھا ہی کون وہ کہاں جاتی اسکو بھی نہی پتا تھا..
..تھوڑی دیر میں تمہاری ضرورت کی ساری چیزے آ جایں گی اور تمہارے کپڑے بھی تم تیار ہو کر نیچے آ جانا اور اس بار میں نہ نہی سنوگا اور اگر تم نے کوئ حرکت کی تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا وہ اسکو وارن کرتا ایک نظر اسکی طرف دیکھتا چلا گیا تھا..
..تم سے برا کوئ ہے بھی نہی اور کوئ ہوگا بھی نہی آذان شاہ وہ اسکی پیٹہ کو دیکھتے ہوے بولی تھی جبکی باہر جاتے آذان نے اسکا یہ جملہ سن لیا تھا 💖💖💖💖💖
See translation