No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
💖💖💖💖💖وہ کب سے بس چلتی ہی جا رہی تھی اسکو کہاں جانا تھا وہ نہی جانتی تھی وہ اس وقت جہاں تھی وہ جگہ بلکل سنسان تھی…
.. جب آذان نے اسکو روم سے جانے کے لئے کہا تھا تو وہ بنا سوچے سمجھے اسکے روم سے تو کیا اسکے گھر سے روتی ہوئ نکل گئ تھی اس بات سے بے خبر کی آذان نے اسکو صرف اپنی نظروں سے دور جانے کے لئے بولا تھا..
..اور وہ بس آنکھوں میں آنسو لیے چلتی جا رہی تھی اسکا حلیا بھی بکھرا ہوا تھا اسکے نچلے ہونٹھ سے نکلا خون اب جم چکا تھا اسکے بال بھی بکھرے ہوئے تھے پر اسکو اس بات کی کوئ فکر ہی نہی تھی..
…وہ چلتے چلتے یہ سوچ رہی تھی کی وہ اب کہاں جاے گی کی کون ہے اسکا اس دنیا میں..
.. جبھی اسکے دماغ میں بی جان کا خیال آیا تھا اور اسنے ایک بار پھر راستہ دیکھا تو وہ اس وقت بی جان یانی شاہ ہاؤس جانے والے راستے پر تھی اسکا مطلب تھا اسکے قدم خود با خود ہی اس راستے پر آ گیے تھے..اور ویسے بھی
..اسکو بس آذان سے دور جانا تھا اور وہا رہ کر بھی وہ اس سے دور رہ سکتی تھی…
… آج حیا کو بار بار اپنے ساتھ کیے ازاں کے ظلم یاد آ رہے تھے اور پھر یہ سب یاد کرکے اسکے رکے آنسو پھر سے بہنے نکلے تھے…
…کہاں چلی جانم وہ اپنی سوچوں اور اپنے دکھ میں اس قدر گم تھی کی اسکو پتا بھی نا چلا کی کب کوئ اسکے برابر میں چلتے ہوئے بولا تھا…
..کسی کی آواز اپنے بہت ہی قریب سے سن کر حیا نے گھبرا کر دیکھا تو ایک شخص کو خود کو گھورتے ہوئے پایا تھا اسکی لڑکڑاہٹ اور آنکھوں سے ٹپکتی وہشت کو دیکھ کر حیا کے دل میں خوف سا اترا تھا اور اس نے اپنی رفتار مزید تیز کر دی تھی…
…اتنی بھی کیا جلدی ہے جانے کی کچھ دیر تو رک جاؤ اس بار اس شخص نے حیا کی کلائی تھام لی تھی اور اسکی اس حرکت سے حیا کے خوف میں اضافہ ہوا تھا…
…چھوڑو میرا ہاتھ وہ اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کرواتے ہوئے بولی تھی حیا خود کو اس وقت بے بس محسوس کر رہی تھی اور آذان پر بھی اسکو بہت غصّہ آیا تھا اگر وہ اسکے ساتھ ایسا نا کرتا تو وہ اس وقت یہاں نہی ہوتی…
..ایسے کیسے چھوڑ دیں ابھی تو ملی ہو وہ کمینگی سے بولا تھا اور حیا کا دوسرا ہاتھ پکڑنے کے لئے اسنے ہاتھ بڑھیا تھا..
…میں نے کہا چھوڑو میرا ہاتھ اس بار حیا نے ہمّت کر کے زور سے اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کروایا تھا اور اسکو پیچھے کی طرف دھکا دیا تھا وہ شخص اس حالت میں تھا ہی نہی کی اسکے دھکے کو برداشت کر پاتا زور سے پیچھے کی طرف زمین پر گرا تھا…
..اسکو زمین پر گرتا دیکھ کر حیا نے موقے کا فایدہ اٹھایا تھا اور بہت ہی تیز رفتار سے بھاگنا شروع کر دیا تھا اسنے پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی ضروری نہی سمجھا تھا اسکو بس اس شخص کی پهچ سے دور جانا تھا..
…وہ بس بھاگتی ہی جا رہی تھی بھاگتے بھاگتے اسکا دوپٹہ بھی اسکے کندھے سے فسل کر زمین پر گر گیا تھا پر اسکو تو کچھ ہوش ہی نہی تھا وہ تو بس اس سے دور جانا چاہتی تھی اور اپنی منزل تک پھچنا چاہتی تھی.💖💖💖💖💖
….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
…..
💖💖💖💖💖ہاں بولو حارث تم نے اس وقت فون کیا سب خیریت تو ہے نہ..
.. ازلان نے حارث کی کال ریسیو کرتے ہی پوچھا تھا کیوں کی ایسا بہت ہی کم ہوتا تھا جب حارث اسکو رات کو لیٹ فون کرتا تھا یا پھر جب کچھ ضروری بات کرنی ہو تو ہی وہ کال کرتا تھا…
..نہی کچھ ٹھیک نہی ہے ازلان تم میری بات غور سے سنو اور پلز بیچ میں کچھ مت بولنا …
…حارث اسکی بات سنتے ہی بولا تھا کوئ اور بات ہوتی تو وہ کبھی ازلان کو نہی بتاتا پر اس وقت بات حیا کی تھی اور وہ اسکے لئے بہت پریشان تھا…
…ازلان حیا پتا نہی کہاں چلی گئ ہے ….
..کہاں چلی گئ ہیں بھابھی وہ بھی اس وقت ایسا کیا ہوا ہے حارث ازلان اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ کر پریشانی سے بولا تھا حیا اسکو بھی بہت عزیز تھی…
…ازلان میں نے بولا نا پہلے میری پوری بات سن لو پھر بولنا تم حارث اس بار غصّے سے بولا تھا اسکے پاس اتنا وقت نہی تھا کی ووہ اسکو بتا تا کی کیا ہوا اور حیا کیوں گھر چھوڑ کر چلی گئ ہے..
میں اور آذان اسکو ڈھونڈھ رہیں ہیں پر اسکا اب تک کچھ پتا نہی چلا ہے تم ایک کام کرو گھر پر بنا کسی کو بتا کر آؤ میرے پاس دونو ساتھ مل کر ڈھونڈھتے ہے حارث نے اپنی بات مکمل کی تھی…
….ٹھیک ہے تم فکر مت کرو میں آ رہا ہوں تمہارے پاس اور تمھیں مجھے پوری بات بتانی ہوگی کی ایسا کیا ہوا کی بھابھی گھر سے چلی گئ ہیں ازلان کو بھی جاننا تھا …
…ٹھیک ہے تمھیں مل کر میں سب بتا دونگا تم بس جلدی آؤ..
…حارث حیا بھابھی مل تو جائے گی نا اس بار ازلان پریشانی سے بولا تھا…
…ہاں ازلان وہ ضرور مل جایگی اگر ہم نا ڈھونڈھ سکے تو مجھے یقین ہے آذان اسکو ضرور ڈھونڈھ لیگا حارث نے یقین سے کہا تھا…
انشاءلله حارث میں چاہتا ہوں ہم سے پہلے بھائی ہی ڈھونڈھ لے بھابھی کو ازلان نے دل سے دعا کی تھی..
…ایسا ہی ہوگا تم دیکھنا اور جلدی کرو میں ویٹ کر رہا ہوں تمہارا حارث نے اتنا کہ کر فون رکھ دیا تھا 💖💖💖💖
…
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
…
💖💖💖💖💖وہ کب سے اس پیڑ کے پیچھے بیٹھی بیٹھی رو رہی تھی نہ جانے کتنا وقت بیت گیا تھا اسکو خبر نہی تھی وہ اس وقت وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کی اسمے اتنی ہمّت نہی ہو رہی کی وہ اٹھ کر دیکھ لے یا کسی کو اپنی مدد کے لئے بلا سکے…
… جب وہ بھاگتے بھاگتے تھک گئ تو سڑک کی دوسری سائیڈ موجود جنگل میں ایک پیڈ کے پیچھے چپ کر بیٹھ گئ تھی کوئ اور وقت ہوتا تو اس جگہ کبھی نا جاتی پر جب بات اپنی اذّت پر آ جائے تو انسان کچھ بھی کر سکتا ہے اپنے اذّت بچانے کے لیے …
..وہ جب سے بیٹھی خدا سے اپنی حفاظت کی دعا مانگ رہی تھی اور کہیں نہ کہیں آذان کا خیال اسکے دل میں آ رہا تھا کی کاش آذان آ جائے اور یہ خیال اسکے من میں کیوں آیا وہ خود بھی نہی جانتی تھی یا پھر وہ جان کر بھی انجن رہنا چاہتی تھی…
…وہ مشقل میں تھی اور بار بار بس اسکو ازاں کا ہی خیال آ رہا تھا کی کاش وہ ہی کہیں سے آ جائے اسکو اس وقت ایسا لگ رہا تھا کی صرف آذان ہی ہے جو اسکو اس مشقل سے نکال سکتا ہے…
اور یہ سب سوچتے ہوئے وہ یہ بھول گئ تھی کی کچھ وقت پہلے وہ اسکو اپنی اس حالت کا زممدار مان رہی تھی کی اگر وہ اسکو اپنی نظروں کے سامنے سے نا جانے کو کہتا تو وہ کبھی اسکے گھر سے باہر بھی نہی نکلتی ویسے بھی وہ ایک کمزور دل کی مالک تھی…
…یا اللّه میری مدد فرما مجھے اس مشقل سے نکال وہ بس دل میں بار بار اللّه سے اپنی لئے مدد مانگ رہی تھی رات ہونے کی وجہ سے ٹھنڈ بھی کافی بڑھ چکی تھی اور اسکو بیٹھے بیٹھے سردی بھی محسوس ہو رہی تھی اس وقت اسکی حالت قبل رحم ہو رہی تھی…
…وہ کچھ دیر تو ایسے ہی بیٹھی رہی تھی پھر اپنے پیچھے پیڑ سے ٹیک لگا کر بیٹھی گئی تھی کچھ تو ٹھنڈ اپر سے بھاگنے کی وجہ سے اسکو اتنی تھکن ہو رہی تھی کی اسکی آنکھیں خود بے خود بند ہوتی چلی گئ تھی💖💖💖💖💖
….
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
…..
💖💖💖💖💖اسکی گاڑی شاہ ہاؤس جانے والی سڑک پر تھی اسکو یقین تھا کی وہ ضرور بی جان کے پاس گئ ہوگی…
…ویسے بھی اسکا اس دنیا میں تھا ہی کون اور دلاور کے پاس وہ گئ نہی ہوگی اتنا یقین اسکو بھی تھا…
.. لیقن اگر وہ وہا ہوتی تو اب تک بی جان کا فون آ چکا ہوتا پتا ایک اور بات تھی جو اسکو بار بر پریشان کر رہی تھی..
اور اسکا دل تھا جو بار بار یہ ہی گواہی دے رہا تھا کی وہ اسکو یہیں ملے گی …..
….اسکو رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا اور خود سے زیاد غصہ اسکو حیا پر آ رہا تھا جو اسکی بات کا مطلب جانے بنا گھر سے ہی چلی گئی تھی ..
….اسنے حیا کو روم سے اس لئے جانے کے لئے کہا تھا کی وہ اس وقت بہت ہی زیادہ غصّے میں تھا اور اگر حیا ایک اور لفظ اسکے خلاف بول دیتی تو وہ نہ جانے حیا کے ساتھ کتنا برا کر بیٹھتا جسکا افسوس اسکو بعد میں ہوتا…
…اور آج اسکے جانے کے بعد آذان کو ایسا لگ رہا تھا کی اگر حیا اسکو نہ ملی تو …
…اور اس سے آگے وہ سوچنا ہی نہی چاہ رہا تھا…
…کار ڈرائیو کرتے ہوئے وہ حیا کے بارے میں سوچ رہا تھا اسکی کار کی سپیڈ اس وقت بہت ہی کم تھی
..آذان کی نظریں سڑک پر ہی تھی سرڈ سنسان تھی تو وہ آرام سے ہر جگہ کو دیکھ پا رہا تھا ..
..کی جبھی اسکی نظر راستے میں پڑی ایک چیز پر پڑی آذان نے ایک جھٹکے سے اپنی کار روکی تھی…
.. اور وہ کار سے نکل کر اس چیز تک آیا تھا اتنا اندھیرہ بھی نہی تھا کی وہ پاس پڑی چیز کو نا پہچان پتا وہ حیا کا دوپٹہ تھا اور وہ کیسے اس سے جڑی چیز کو نہ پہچان پاتا…
..آذان نے دوپٹہ زمین سے اٹھا کر اپنے ہاتھ میں لیا تھا اسکو حیا کے ساتھ کچھ برا ہونے کا ڈر لگا تھا..اس وقت سڑک کی بیچ اسکا دوپٹہ ملنا اذان کو حیا کے ساتھ کچھ غلط ہونے کا پتا دے رہا تھا …
..اسکی حیا کے دوپٹے پر پکڑ سخت ہو گئ تھی آذان کے لئے یہ بات برداشت سے باہر تھی کی اگر حیا کے ساتھ کچھ غلط ہوا اور وہ بھی صرف اسکی وجہ سے تو وہ خود کو کبھی معاف نہی کریگا….
..نہیں حیا میں تمھیں کچھ نہی ہونے دونگا…
… ڈھونڈھ لونگا میں تمھیں کہیں سے بھی وہ اسکے دوپٹے کی خوشبوں اپنے اندر اتار تے ہوے بولا تھا..
…حیا کہاں ہو تم حیا ….حیا …..
…ایک دم جوش میں آکر وہ حیا کو پکارنے لگا تھا اسکو ایسا لگ رہا تھا کی ہر ایک گزرتا لمحہ اسکو حیا سے اور دور لے جا رہا تھا…..💖💖💖💖 💖💖جاری ہے….💖💖
