Sitamgar Hi Humsafar Tha By Iqra Sheikh Readelle50204

Sitamgar Hi Humsafar Tha By Iqra Sheikh Readelle50204 Last updated: 30 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

SitamGar Hi Humsafar Tha

By Iqra Sheikh

💖💖💖💖💖

..گھر میں اتنے سارے لوگوں کے موجود ہونے کے بعد بھی تم اکیلے کیوں بیٹھی ہو یا تمھیں اکیلے رہنے کا شوق ہے وہ لان میں لگے پودہو کو دیکھتی کسی گہری سوچ میں گم تھی جب اسے اپنے پیچھے سے کسی کی آواز آئ اسنے پلٹ کر دیکھا تو حارث کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا.. ..نہی ایسی بات نہی ہے بس کبھی کبھی انسان کا اکیلے رہنے کا دل کرتا ورنہ اپنوں کو چھوڑ کر کون اکیلا رہنا پسند کرتا ہے..اسنے حارث کی بات کا جواب دے کر گردن پھر سے موڈ کر پودہو کو دیکھنے لگی تھی شام کا وقت تھا اور اس وقت ہرا بھرا لان بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا.. ..اور اگر کوئ آپکے اکیلےپن کا ساتھی بننا چاہے اور آپکے اس کبھی کبھی کے اکیلے پن کو بھی دور کر دے پھر آپکو کبھی اکیلاپن محسوس ہی نا ہونے دے تو.. ... اس بار حارث اسکے سامنے آکر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا... ..اسکی بات سن کر ردا نے ایک پل کے لیے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا اور اسکو کیا کچھ نہی نظر آیا تھا ان آنکھوں میں اپنے لیے پیار اذّت اور ہر وہ چیز جو وہ آذان کی آنکھوں میں اپنے لئے دیکھنا چاہتی تھی ... جب کوئ انسان اندر سے ہی اکیلا ہو تو کسی کی موجودگی بھی اسکا اکیلاپن دور نہی کر سکتی وہ اسکی آنکھوں میں زیادہ دیر دیکھ ہی نہی سکی تھی...اسلئے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی تھی.. ..تم نے میری بات سمجھی نہی شاید اگر کوئ تمہارے اکیلےپن کا ساتھی بننا چاہے نہ کی تمہارے اکیلے پن کو دور کرے اس بار حارث نے اپنی بات پر زور دیتے ہوے کہا تھا آج وہ سوچ کر آیا تھا کی ردا سے اپنی دل کی بات ضرور کہ دیگا کی وہ اسکو کتنا چاہتا ہے اور ابھی بھی وہ ایک چھوٹی سی کوشش کر رہا تھا اپنے دل کی بات اس تک پہوچانے کی جب کی وہ اسکی سننے کو تیار ہی نہی تھی اور حارث آج ہار نہی ماننا چاہتا تھا.. ...ردا نے حارث کی بات سن کر اسکی طرف دیکھا تھا اسے حارث کی باتوں میں سچائ لگی تھی اسکی آنکھیں جھوٹ نہی بول رہی تھی پر وہ بھی مجبور تھی اس لئے اسکی بات کا جواب نہ دے کر خاموشی سے اندر جانے لگی تھی جب حارث کی آواز پر اسکے قدم رکے تھے.. جب کوئ آپسے بات کرتا ہوا ہو تو اسکی بات کا بنا کوئ جواب دیے نہی جانا چاہیے..وہ اسکو جاتا ہوا دیکھ کر بولا تھا حارث کو اسکا یوں جانا اچھا نہی لگا تھا .. ..جن باتوں کا جواب ہمارے پاس نہ ہو اس میں خاموشی ہی اختیار کر لینی چاہیے ردا کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی تھی اور پھر اس نے پھر سے اپنے قدم بڑہا دیے تھے.. ..جس بات کا جواب ہم دینا نہی چاہتے اور خاموش ہو جاتے ہے اسے میری نظر میں بات سے بھاگنا بھی کہتے ہے اس نے اسکے جانے پر طنز کیا تھا... ..مجھے بی جان بلا رہیں ہے وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتی وہا سے بھاگی تھی وہ ٹھیک ہی تو کہ رہا تھا وہ اس سے بھاگ ہی تو رہی تھی.. ..اسکے اس طرح بھاگنے سے حارث مسکرایا تھا کیوں کی وہ جان گیا تھا کی جو بات وہ اس کو بتانے آیا تھا وہ بات اس تک پہونچ گئ تھی اور وہ دن بھی جلد آےگا جب وہ اسکو اپنے پیار کا یقین بھی دلا دیگا