Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

💖💖💖💖تم تیار ہو آذان ہم پارٹی کے لیے لیٹ ہو رہے ہیں حارث اسکے کمرے میں آتے بولا اور اسکو دیکھ کر وہ ایک پل کے لیے روک گیا وہ اس وقت اتنا ہینڈسم لگ رہا تھا اسنے دل میں ہی اپنی دوست کی نظر اتری تھی..انچا لمبا کد گورا رنگ کالی آنکھیں جو اسکی خوبصورتی کو مزید بڑھاتی تھی اور بلیک تہری پیس سوٹ میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک اچھا لگ رہا تھا..
..ہاں میں تیار ہوں ویسے بھی جو پارٹی صرف میرے لیے رکھی ہو اسمے میں لیٹ نہی ہونا چاہتا ظفر صاحب جو آذان کے اچھے دوست تھے انہونے صرف آذان کے لیے یہ پارٹی رکھی تھی اور یقینن اس پارٹی میں خان بھی انوائٹ تھا تو وہ وہاں جانے میں دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اسکو یقین تھا وہ ضرور آےگا کیوں کی وہ کی سی کو یہ نہی دکھانا چاہتا ہے کی وہ اپنی ہار کی وجہ سے نہی آیا اور بس آذان کو بس اسکا چہرہ دیکھنے کی جلدی تھی …
چلیں پھر وہ خود کو آئنے میں دیکھتا بولا اور حارث سے پہلے ہی اپنے کمرے سے باہر چل دیا اسکے پیچھے حارث بھی چل دیا💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖یہ ایک بہت ہی بڑا ہول تھا جسکو بڑی ہی خوبصورتی سے سجا یا گیا تھا اسنے جیسے ہی اندر قدم رکھا ہر کسی کی نظرے اس پر اٹھ رہی تھی پر وہ شان بےنیاضی سے چلتا ہوا ظفر صاحب کے پاس آکر رک گیا اسکو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے تھے وہ بھی انہی لوگوں میں سے تھے جو آذان شاہ کے ساتھ بزنس کرنا چاہتے تھے..
..پارٹی بہت ہی اچھی چل رہی تھی پر اسکو ابھی تک خان نظر نہی آیا تھا حارث سے اسکو پتا چلا تھا کی وہ آےگا پر وہ ابھی تک نہی آیا تھا آذان جانتا تھا وہ اسکو پسند نہی کرتا ہے وجہ اسکی ہار جو وہ اسکو ھر دن دے رہا ہے..
..اسنے جیسے ہی سامنے دیکھا اسکو دلاور خان آتے نظر آیا اسکے ہونٹھں پر فتحنہ مسکراہٹ تھی وہ لوگوں سے ملتا آگے بڑھا کی اسکے پیچھے سے جو چہرہ نظر آیا اسکو دیکھ کر ایک پل کے لیے تو آذان کے مسکراتے ہونٹھ وہیں روک گیے اتنا مکمل حسن اسنے شید پہلی بار دیکھا تھا وہ پوری پارٹی میں آذان شاہ کو سب سے الگ لگی تھی اور سب سے خوبصورت یہ اسنے دل میں عتراف کیا تھا آذان شاہ کے دل نے پہلی بار بیٹ مس کی تھی وہ ظفر صاحب کے پاس ان سے کچھ ہی فاصلے پر آکر روکا تھا اور وہ بھی دھیرے دھیرے پاس ہی آ رہی تھی..
..خان صاحب آپ نے کافی دیر کر دی آنے میں ظفر صاحب انکے پاس آتے ہی بولے پاس ہونے کی وجہ سے آذان شاہ اور حارث انکی بات آسانی سے سن سکتے تھے..
..ہاں ظفر صاحب بس کچھ کام تھا تو دیر ہو گئی آیت بیٹی ادھر آؤ انکل سے ملو..ظفر یہ ہے میری بیٹی آیت دلاور خان ابھی کچھ ہی وقت ہوا ہے لندن سے آیے ہوے خان نے پاس آتی آیت کو بولا..
..اسکی بات سنکر جہاں حارث پریشان ہوا تھا وہیں آذان کو زور کا جھٹکا لگا تھا حارث سکو نہی پتا تھا کی خان اپنی بیٹی کو اس پارٹی میں لانے والا ہے اور اب آذان کی شقل دیکھتے ہوے بولا..آذان مجھے اگر خبر ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتا تا خان کے آنے کی خبر ملی تہی بس مجھے..
آگے سے خیال رکھنا غلطی دوبارہ نہ ہو آذان خود کو سمبھال چکا تھا ابی کچھ دیر پہلے جو لڑکی اسکو سب سے اچھی لگ رہی تھی اب وہ دنیا کی سب سے بری لڑکی لگی اسکو..
بہت مبارک ڈیل کے لیے خان آذان کے پاس آتے بولا وہ اس پارٹی میں آیا ہی اس لیے تھا کی کوئی یہ نہ سوچے کی اسکو اپنی ہار سے فرک پڑتا ہے..یہ پارٹی تھی ہی آذان کی جیت کی..
.بہت شکریہ خان صاحب مجھے بہت خوشی ہوئی کی آپ آے ہار جیت تو چلتی ہی رہتی ہے آذان نے خان سے ہاتھ ملایا پر اسکی نظریں آیت پر تھی..
..آیت کا دھیان اس پارٹی میں تھا ہی نہیں پر سامنے والے کی آواز سن کر اسنے جیسے ہی آذان کی طرف دیکھ تو وہ ایک پل کے لیے اسکو دیکھتی ہی رہ گئ پر آذان کی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا کی وہ زیادہ دیر دیکھ نہ سکی اور ادھر اودھر دیکھنے لگی..
..تم نے سہی کہا یہ سب چہوٹی بات ہیں میرے لئے اور دلاور خان کو ان چھوٹی باتوں سے کوئ فرک نہی پڑتا ہے خان نے آیت کا ہاتھ تھاما اور اسکو لیکر آگے بڑھ گیا..
..یہ چھوٹی ہار ہی ایک دن بڑی ہار ہوگی دیکھ لینا تم خان آذان شاہ نے نفرت سے ان دونو کی پیٹہ دیکھتے ہوے سوچا تھا..
حارث میں کل جا رہا ہو بی جان کے پاس وہاں مجھے ایک دو دن لگ سکتے ہے اتنے میں آؤں تو کام ہو جانا چاہیے اس بار وہ حارث سے مخاطب تھا اسکی بات سنکر حارث نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا 💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖وہ اپنے بیڈ پر لیٹی تھی نیند اسکی آنکھوں سے قوسوں دور تھی وہ جب سے یھاں آئ تھی اسکو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا ایک عجیب سی بیچینی تھی اسکی اسکی کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا آج وہ پارٹی میں بھی نہیں جانا چاہتی تھی پر بابا کی وجہ سے جانا پڑا تھا پوری پارٹی میں اسکو ایسا لگتا رہا تھا کو وہ کسی کی نظروں کے حصر میں ہے پر آس پاس دیکھنے کی بعد اسکو کوئ نظر نہی آتا تھا اور ایسا تو جب سے وہ آئ تھی تب سے لگ رہا تھا اپر سے زید کی نگاہیں اسکو پریشان کر رہی تھی وہ اسکے بابا کے دوست کا بیٹا تھا اور نہ چاہتے ہوے بھی اسکو اس سے بات کرنی پڑی تھی..
جب وہ سوچ سوچ کر تھک گئی تو اسنے اپنی آنکھیں بند کی اور سونے کی کوشش کرنے لگی پر آنکھیں بند کرتے ہی ایک چہرہ اسکی بند آنکھوں کے سامنے آ گیا تھا اسنے گھبرا کر اپنی آنکھیں کھول لی تھی..
یا اللہ یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے میں کیوں آئ یہاں اس سے اچھا تو میں لندن ہی ٹھیک تھی وہ پریشان سی پھر سے آنکھیں بند کرکے لیٹ گئی اور اس بار تھوڑی ہی دیر میں نیند کی دیوی اس پر مہربان ہو گئی تھی💖💖💖💖💖جاری ہے ….