Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

💖💖💖💖💖ردا بیٹا میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں کی تم آؤ میرے پاس پر تم نہی آئ تو میں نے سوچا میں خود ہی جاکر اپنی بیٹی سی مل لیتی ہوں کل کے بعد سے تم نیچے ہی نہی آئ ہو بی جان ردا کے روم میں آکر اس سے شکایت کر رہی تھی جب سے آذان کی شادی کا پتا چلا تھا وہ کم ہی روم سے باہر نکلتی تھی..
..بی جان میں آنے ہی والی تھی مجھے لگا آپ بھی تھکی ہوئی ہونگی اس لیے سوچا آپکو تھوڑا آرام کرنے دوں وہ بی جان کا ہاتھ پکڑ کر انکو بیڈ پر بیٹھایا اور انکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بیٹھ گئ تھی..
…جبکی بی جان اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی اسکی آنکھیں دیکھ کر وہ سمجھ گئ تھی کی وہ رات کو روتی رہی ہے….
..بس میں آ گئ میں نے سوچا اپنی بیٹی سے اس بہانے معافی بھی مانگ لونگی میں تمہارا خواب پورا نہی کر سکی میری بیٹی مجھے معاف کر دینا بی جان باقیدہ رونے لگی تھی..
…بی جان آپ روے مت اور آپ معافی کیوں مانگ رہی ہے اس میں آپکی تو کوئی غلطی نہی تھی بلکی اس میں تو کسی کی بھی کوئ غلطی نہی ہے آذان میرے نصیب میں نہی تھا بی جان تو اسمے کسی کی کیا غلطی بلکی غلط تو میں تھی جس نے بنا سوچے سمجھے آذان کے خواب دیکھ اس وقت ردا کی آواز میں گہرا دکھ تھا ..
..میری بچچی غلطی تو کسی کی نہی ہے بس وقت اور حالات غلط ہے تم خود کو سمبھالو دیکھنا تمھیں بہت ہی چاہنے والا شوہر ملیگا انشااللہ بی جان نے اسکو اپنی باہوں میں بھر لیا تھا..
..بی جان میں سمبھل جاؤنگی بس تھوڑا وقت لگےگا آپ میری فکر نہ کرے اور اپنی صحت کا خیال رکھے میرے لیے بس یھی ضروری ہے..اور اگر آپ چاہتی ہے کی میں خوش رہو تو میرے لیے دعا کرے کی میں خود کو سمبھال سکو آنسو اسکے چہرے کو بھگو رہے تھے..
فکر کیوں نا کروں میری جان ماں بن کر پلا ہے تمھیں میں نے اور جب ماں کے بچچے ہی خوش نہ ہو تو فکر تو ہوگی ہی..بی جان نے اسکے آنسو صاف کیے تھے..
..سب خوش ہیں بی جان اور رہی میری بات تو میں بھی بہت خوش ہوں کیوں کی آذان خوش ہے جس طرح انہونے اب تک ہم سب کو سمبھالا ہے خود کی زندگی کو بھول کر ہم سب کا خیال کیا ہے اب انکا حق تو بنتا ہے نا خوشیوں پر میری دعا ہے بی جان وہ ہمیشہ ایسے ہی خوش رہے ردا کی آواز میں دکھ تھا کچھ کھونے کا جسکو باہر کھڑی حیا نے بہت اچھے سے محسوس کیا تھا وہ صبح سے ردا سے نہی ملی تھی تو اس سے ملنے کا سوچ کر وہ اسکے روم کی طرف آئ تھی پر اندر سے آتی بی جان کی آواز سن کر اسکو وہیں روکنا پڑا تھا اسکو یہ جان کر بہت دکھ ہوا تھا انجانے میں وہ کسی کے خوابوں کو توڑ چکی ہے وہ چپ چاپ وہا سے اپنے روم میں آ گئ تھی اسکے اندر آگے اور کچھ سن نے کی ہمّت ہی نہی تھی…
خوش رہنے کا حق تو سبکو ہی ہوتا ہے میری جان تمھیں بھی ہے اور دیکھنا اللّه نے تمہارے لیے کچھ بہتر ہی سوچ کر رکھا ہوگا اور تم دیکھنا ایک دن تم بھی آذان کی طرح خوشی سے رہوگی اپنے ہمسفر کے ستہ بی جان نے اسکے لیے دعا کی تھی ہر بی جان کی بات سن کر ردا ہلکے سے مسکرا دی تھی اب وہ اور بی جان کو رو رو کر پریشان نہی کرنا چاہتی تھی اسکے چہرے پر مسکان دیکھ کر بی جان کو کچھ سکوں ملا تھا وہ خود کو اسکا گناہگر مان رہی تھی انکو پہلے آذان سے بات کرنی چاہیے تھی پر وہ نہی کر سکی تھی اگر انکو پتا ہوتا تو وہ ردا کو امید کی روشنی نا دکھاتی پر کیا کر سکتے ہے کبھی کبھی انسان کے ہاتھ میں کچھ نہی ہوتا اور ووہ بس بےبس ہو کر رہ جاتا ہے💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ حیا سے شادی کیسے کر سکتا ہے یہ سب کر کے آخر کیا سبط کرنا چاہتا ہے اور میں اتنی بڑی غلطی کیسے کر گیا وہ میری نظروں کے سامنے رہا اور میں اسکو پہچان نہی سکا..
..اسکے ہاتھ میں حیا اور آذان کے ولیمہ کے فنکشن کی تصویر تھی جو آج ہی اسکے آدمی نے لاکر دی تھی جنکو اس نے اس کام کے لیے لگا رکھا تھا..
..میری سمجھ نہی آ رہا ہے آخر یہ آذان شاہ مجھسے چاہتا کیا ہے اسکو جب رانگ کال آتی تھی تو وہ یہ ہی سمجھتا تھا کی کوئی پیسو کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور جب اس نے اسکی بیٹی کو اٹھانے کی بات کی تھی تو پہلی بار اسنے اس کال کے بارے میں غور کیا تھا اور یہ بھی ایک وجہ تھی حیا کو اپنی بیٹی بنا کر دنیا کے سامنے لانے کی پر آذان شاہ کو اس سے کیا چاہیے یہ بات وہ سمجھ نہی پا رہا تھا..
..اسکو آذان شاہ تو شروع سے ہی پسند نہی تھا آج آذان کی وجہ سے اسکی کتنی ہی ڈیل ہاتھ سے نکل گئ تھی وہ یہ بھی جانتا تھا کی آذان جان بوجھکر بھی ایسا کرتا تھا پر وہ اسکی بیٹی کو بیچ میں کیوں لایا اور آخر وہ اس سے چاہتا کیا ہے اب یہ سب اسکی برداشت سے باہر تھا اور پولیس میں جانا نہی چاہتا تھا اسکو سب سے بڑھ کر اپنی اذّت پیاری تھی..
…جتنی جلدی ہو سکے مجھے حیا کو اس کے پاس سے آزاد کرانا ہوگا اگر اسنے سچ اسکے سامنے اگل دیا کی وہ آیت نہیں حیا ہے تو میرا سارا بنا بنایا پلان خراب ہو جایگا اور اس کام کے لیے میرے پاس وقت بھی بہت کم ہے..دلاور خان کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا…💖💖💖💖💖
💖💖💖💖💖تمھیں پککا یقین ہے یہ فائل غلط نہی ہے تم اچھے سے جانتے ہو کی میں اپنے کام میں غلطی پسند نہی کرتا ہوں آذان اپنے ہاتھ میں موجود فائل کو دیکھتے ہوئے بولا تھا..
..ہاں میرے آدمی کبھی غلط کام نہی کرتے ہے اور یہ رئیل فائل کی ایک کاپی ہے اس فائل کو حاصل کرنا اتنا آسان نہی تھا پر تم تو جانتے ہو تمہارا حقم میرے لیے سرآنکھوں پر ہوتا ہے حارث سنجیدہ سا چہرہ بناتے ہوے بولا پر اسکی آنکھوں میں شرارت تھی..
..میں مذاک کے موڈ میں نہی ہوں حارث اور تم جانتے ہو یہ سب مذاک نہی ہے وہ سنجیدگی سے بولا تھا…
..میں جانتا ہوں یہ سب مذاک نہی ہے اور اس فائل میں جو ہے بلکل سچ ہے اس بار کوئ غلطی نہی ہوئ ہے میرا یقین کرو حارث اسکو یقین دلاتے ہوئے بولا تھا اسکی بات سن کر آذان خاموش ہو گیا تھا..
..جتنا جلدی ہو سکے ہمے لندن جانا ہوگا ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو یہ ہماری سب سے بڑی جیت ہوگی کیوں کی اس کے بعد دلاور خان بلکل برباد ہو جایں گا فائل کو ریڈ کرنے کے بعد آذان بولا تھا اسکو یقین تھا یہ ہار دلاور خان کی آخری ہار ہوگی..
..ہاں اور تم یہ بھی جانتے ہو کی اس کام کے لئے ہمیں حیا بھابھی کو بھی اپنے ساتھ لے جانا ہوگا حارث نے اسکو یہ بات بھی بتانا ضروری سمجھا تھا..
..ہاں میں جانتا ہوں اور اسکو ہمارے ساتھ جانا ہی ہوگا کیوں کی انکار کی کوئ گنجائش نہی ہے اسکے لہزے میں سختی تھی جسے حارث نے باخوبی محسوس کیا تھا..
..آذان میری ایک بات مانوگے حارث کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا
..میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا حارث تم میرے دوست ہی نہی میرے بھائی بھی ھو تم مجھسے کچھ بھی کہ سکتے ہو آذان کی بات سن کر حارث مسکرا دیا تھا..
..اگر بھائی سمجھتے ہو ٹو میری ایک بات ماننا حیا بھابی بہت معصوم اور بہت ہی اچھی لڑکی ہے اسے کبھی دکھ اور تقلف مت دینا اس نے بہت کچھ سہا ہے زندگی میں حارث کے لہزے میں حیا کے لئے فکر تھی..
..تم جانتے ہو حارث میں بنا وجہ کسی کو کوئ تقلف نہی دیتا ہوں آگے وہ خود سمجھدار ہے اسنے اتنا کہ کر بات ختم کر دی تھی اور حارث اسکی بات کا مطلب سمجھ کر چپ ہو گیا تھا
..تو پھر کب سوچا ہے جانے کا حارث نے اس سے حیا کے بارے میں اور بات کرنا مناصب نہی سمجھا تھا شید وقت کے ستہ وہ خود ہی بدل جائے اسکے ساتھ..
..بی جان اجازت دے تو ایک دو دن میں نکلتے ہے پھر..اور ہان جو میں نے بولا تھا وہ کام ہو گیا..آذان نے کچھ یاد آنے پر پوچھا..
..ہاں میں نے فوٹو اپنے ایک آدمی کے ہاتھ اسکے آدمیوں تک پہونچا دیے تھے اب تک تو وہ دیکھ بھی چکا ہوگا ..
..دیکھنے دو اور تھوڑا دماغ لگانے دو اسکو وہ سوچتا رہیگا کی مجھ سے اسکی کیا دشمنی ہے اور میں وہا اسکو ہار کے اور قریب لے جاؤنگا آذان کے لہزے میں پھر سے نفرت اور غصّہ آ گیا تھا…
..ٹھیک ہے میں پھر بی جان سے مل لوں اسکے بعد جلا جاؤنگا اور مجھے خبر کر دینا میں تیاری رکھوں گا حارث اس سے اجازت لیتا نیچے چلا گیا تھا وہ پھر سے فائل کو دیکھنے لگا..
..میں نے کہا تھا نہ خان وہ دن بہت جلد آےگا دیکھ لو وہ دن بس آنے ہی والا ہے جب میں اپنا کہا پورا کر کے دکھاونگا وہ اپنی سوچ میں خان سے مخاطب تھا 💖💖💖💖💖